Hazrat Younis (A.S) Ka Mukamil Qissa | Machhli Ke Pet Mein Dua Aur Nijaat | By Qadir Kalhoro
Hazrat Younis (A.S) Allah ke barguzida Nabi thay jinhein apni qaum ki rehnumai ke liye bheja gaya. Jab qaum ne inkaar kiya to aap gusse mein wahan se rawana ho gaye, lekin Allah ke hukm se machhli ke pet mein chalay gaye. Wahan andheron mein ki gayi dua ne Allah ki rehmat ko josh dilaya aur aap ko nijaat mili.
Is mukamil qissay mein bayan kiya gaya hai:
Hazrat Younis (A.S) ka paighaam
Qaum se judaai ka waqia
Machhli ke pet ka imtihaan
Dua, tauba aur nijaat
Qaum ki tauba aur rehmat
Yeh qissa humein sikhata hai ke tauba aur Allah ko yaad karna har mushkil ka hal hai.
🎙️ Bayan: Qadir Kalhoro
#HazratYounis #YounisAS #IslamicStories #AnbiyaQissay #Dua #Tauba #IslamicHistory #QadirKalhoro
Hazrat Younis (A.S) Allah ke barguzida Nabi thay jinhein apni qaum ki rehnumai ke liye bheja gaya. Jab qaum ne inkaar kiya to aap gusse mein wahan se rawana ho gaye, lekin Allah ke hukm se machhli ke pet mein chalay gaye. Wahan andheron mein ki gayi dua ne Allah ki rehmat ko josh dilaya aur aap ko nijaat mili.
Is mukamil qissay mein bayan kiya gaya hai:
Hazrat Younis (A.S) ka paighaam
Qaum se judaai ka waqia
Machhli ke pet ka imtihaan
Dua, tauba aur nijaat
Qaum ki tauba aur rehmat
Yeh qissa humein sikhata hai ke tauba aur Allah ko yaad karna har mushkil ka hal hai.
🎙️ Bayan: Qadir Kalhoro
#HazratYounis #YounisAS #IslamicStories #AnbiyaQissay #Dua #Tauba #IslamicHistory #QadirKalhoro
Category
📚
LearningTranscript
00:00بسم الله الرحمن الرحيم
00:01السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
00:04ناظرین ہم امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہوں گے
00:07ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کو صدا آفیت کے سائے میں رکھے
00:11زندگی میں کبھی بھی کوئی غم، دکھ، پریشانی یا تکلیف
00:15آپ کی زندگی کے قریب سے بھی نہ گزریں
00:18اللہ تعالیٰ آپ تمام بھائیوں اور میری محترم بہنوں کے رزق حلال میں برکت نصیب فرمائے
00:24آمین
00:25ناظرین قصص الانبیاء کا یہ سلسلہ جاری ہے
00:28پہلے بھی ہم کئی ویڈیوز قصص الانبیاء کی پلیلسٹ میں اپلوڈ کر چکے ہیں
00:32امید کرتے ہیں کہ آج کی ویڈیو بھی آپ ضرور دیکھیں گے اور مکمل دیکھیں گے
00:38آج کی اس ویڈیو میں ہم ایک جلیل القدر پیغمبر کا قصہ بیان کریں گے
00:42جن پر اندھیرے مسلط کر دینے والی آزمائش آئی
00:45اور انہوں نے گھپ اندھیرے میں اپنے اللہ پر توقع رکھا
00:49اور اسی سے مدد مانگی اور پھر اللہ نے اس کی دعا قبول فرمائی
00:53یہ حضرت یونس علیہ السلام تھے
00:56ناظرین قرآن عزیز میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر چھ سورتوں میں کیا گیا ہے
01:02سورت انعام، سورت النساء، سورہ یونس، الصافات، انبیاء، القلم
01:08ان میں سے چار پہلی سورتوں میں نام مذکور ہیں
01:11اور دو آخری سورتوں میں ظلنون اور صاحب الحود مچھلی والا کہہ کر صفت کا اظہار کیا ہے
01:18ناظرین مورخین اور مفسرین کا یہ کہنا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام اسرائیلی نبی تھے
01:24لیکن انہیں نینوہ شہر کے باشندوں کی ہدایت کے لیے مبعوس کیا گیا تھا
01:29اور نینوہ شہر میں اس وقت آشوری عرب آباد تھے
01:33جن کا مرکزی شہر نینوہ تھا اور موجودہ شہر موسل بھی اسی علمداری میں شامل تھا
01:40حضرت یونس علیہ السلام کے حالات تفصیل کے ساتھ بیان کرنے سے پہلے یہ دیکھتے ہیں
01:45کہ آشوری قوم کون تھی جس کی طرف حضرت یونس علیہ السلام کو مبعوس کیا گیا تھا
01:51جہاں تک قوم آشوریا آشوریوں کا تعلق ہے تو یہ بنیادی طور پر عرب تھے
01:56مورخین انہیں سامی گروہ میں شامل کرتے ہیں
01:59قدیم دور میں زمانہ قبل مسیح کے دوران عربیوں کے مختلف قبائل اور گروہ
02:04سہرہ عرب سے اٹھ کر شمال کی آباد زمینوں میں جا کر بستے رہے
02:09اور وہاں انہوں نے ایسی شاندار ترقی کی اپنی ایسی سلطنتیں قائم کی
02:14کہ ان سلطنتوں کی طاقت و قوت کو انہوں نے بام عروج پر پہنچا دیا
02:19بقول مورخین یہ سامی نسل سے تعلق رکھتے تھے
02:22اور دوسری سامی اقوام کی طرح یہ بھی عرب کے دشتزاروں سے اٹھ کر شمال کی طرف بڑھے
02:28کچھ عرصے تک ان لوگوں نے قدیم دو اقوام
02:32یعنی اکادیوں اور سمیریوں کے پاس قیام کیا
02:35اس لیے کہ اس دور میں اکادی اور سمیری عزت اور عظمت اور طاقت کے لحاظ سے
02:41اپنے عروج پر تھے
02:43کچھ عرصہ ان طاقتور قوموں کے پاس قیام کرنے کے بعد آشوری پھر حرکت میں آئے
02:48اور ان دونوں بڑی طاقتوں کو چھوڑ کر پھر آگے بڑھے
02:51یہ لوگ بابل کے آس پاس عارضی طور پر آباد ہو کر گزر بسر کرنے لگے
02:56آخر یہ لوگ بابل سے بھی ترک وطن کر کے دریائے فرات کے آس پاس کے علاقوں میں آباد ہو گئے
03:03یا انہوں نے ایک چھوٹی سی ریاست قائم کر لی جو آشور کے نام سے موسم ہوئی
03:08ان کا پایہ تخت شروع میں آشور شہری تھا
03:11آشور کے بعد انہوں نے ایک دوسرے شہر کالاج کو اپنا مرکزی شہر بنایا
03:16کچھ عرصہ یہیں شہر آشور قوم کا پایہ تخت بنا رہا
03:21آخر یہ کالاج شہر بھی اپنی مرکزیت کو بیٹھا کیونکہ تجارت اور دیگر امور کے لحاظ سے
03:27نینوہ شہر باقی سارے شہروں سے بازی لے گیا تھا
03:31لہذا اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے آشوریوں نے اپنی سلطنت کا مرکز شہر نینوہ کو قرار دیا
03:38نینوہ آشوری شروع میں ذرائط پیشا تھے لیکن اسی نئی مملکت میں قابل کاشت زمین بہت کم تھی
03:45اور جو سرزمین بابل کی طرح سرسبز اور شاداب تھی
03:49اس لیے انہوں نے لوٹ مار کو اپنا پیشا بنایا
03:52ہر سال موسم بہار میں وہم سایہ ممالک میں یہ لوگ قتل و غارت گری کرتے
03:57تخت و تاراج اور ترک تاز اور یل غار کرتے
04:01اور جو لوگ ان کے ہاتھوں اسیر ہوتے انہیں غلام بنا لیتے
04:05ان سے محنت و مشکت کا کام لیتے
04:07یہ آشوری انتائی طاقتور تھے
04:09اور شروع میں بے رحم اور شقی القلب بھی تھے
04:13قتل و غارت کو خدا کی منشاہ کے مطابق سمجھتے تھے
04:16آس پاس کی دوسری قوموں پر شب خون مار کر لوٹ مار کا کام کرتے تھے
04:21کچھ عرصے کے بعد اس قوم میں وہ دور آیا
04:25کہ ان کے سرداروں نے جن کے نام اس کی دادان اور شماش رامن تھا
04:30آشوری قوم کو متحد کر کے ایک بڑی طاقتور جماعت بنانے کی کوشش کی تھی
04:35یہ دونوں سردار باب بیٹا تھے
04:37اسمی دادان باب تھا اور شماش رامن اس کا بیٹا تھا
04:43یہ کسی حد تک قوم آشور کو مرکزیت دے کر
04:47اسے ایک طاقت اور قوت بنانے میں کامیاب ہو گئے
04:50لیکن ان دونوں کے بعد آنے والے لوگوں نے
04:53اس طرف کوئی دھیان نہ دیا
04:55اور یہ قوم پہلے کی طرح اپنے اپنے سرداروں کے ماتحت
04:58کام سر انجام دینے لگی
05:00اس کے بعد آشوری قوم نے پھر لوٹ مار کر لی
05:04اور ان میں سے ایک ہوں کمران اٹھا
05:05اس کا نام شاہ پلاسر تھا
05:08اس نے حیرت انگیز طور پر اس قوم کو پھر متحد کیا
05:12تاریخ میں اس کو نگلت پلاسار کے نام سے بھی موسم کیا جاتا ہے
05:16یہ شخص انتہائی جرتمند جری اور دلیر شخص تھا
05:20بہرحال ناظرین ان کا یہ آشوریوں کا سلسلہ
05:23اسی طرح سے جاری و ساری رہا
05:26ناظرین اب بات کرتے ہیں حضرت یونس علیہ السلام کے نصب نامے کی
05:30نصب نامے کا تعلق ہے جہاں تک
05:31تو مورخین اسلام اور اہل کتاب اس پر متفق ہیں
05:35کہ حضرت یونس علیہ السلام کے نصب سے متعلق
05:38اس سے زیادہ اور کوئی بات ثابت نہیں
05:40کہ ان کے والد کا نام متی تھا
05:42اور بعض لوگوں نے کہا ہے
05:44کہ متی حضرت یونس علیہ السلام کی والدہ کا نام ہے
05:48مگر یہ بڑی غلطی ہے
05:49اس لیے کہ بخاری کی ایک روایت میں
05:52حضرت عبداللہ بن عباس سے بس سراحت مذکور ہے
05:55کہ متی والد کا نام ہے
05:57اور اہل کتاب حضرت یونس علیہ السلام کا نام
06:00یونہ اور ان کے والد کا نام متی بناتے ہیں
06:03لہٰذا یونس بن امتی اور یونہ بن امتی میں
06:07کوئی نمائیں اختلاف نہیں ہے
06:09بلکہ یہ عربی اور عبرانی زبانوں کی لفظی تعبیر کا فرق ہے
06:14ناظرین حضرت یونس علیہ السلام دجلہ کے بائیں کنارے پر
06:17آباد عراقی شہر مسل میں پیدا ہوئے
06:20آپ علیہ السلام حضرت حود علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے
06:23مسل کے مقابل نینوہ شہر تھا
06:26جو اس زمانے میں اپنے اروج پر تھا
06:28اور وہاں قوم سمود آباد تھی
06:31نینوہ کی آبادی ایک لاکھ سے زیادہ تھی
06:34جیسا کہ قرآن پاک میں ہے
06:36اور ان یعنی یونس علیہ السلام کو لاکھ
06:40یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا
06:43حضرت یونس علیہ السلام کی عمر اٹھائیس سال تھی
06:46جب اللہ تعالی نے انہیں نینوہ کی رشد و ہدایت پر معمور فرمایا
06:51مفسرین کے مطابق حضرت یونس علیہ السلام کا عہد
06:55سات سو اکتالیس تا سات سو اکاسی قبل مسیح ہے
06:58آپ علیہ السلام کا قرآن کریم کی چھ سورہ مبارکہ میں ذکر آیا ہے
07:04جس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں
07:06حضرت یونس علیہ السلام ایک عرصے تک نینوہ کے لوگوں کو
07:10توحید کی دعوت اور بت پرستی سے روکتے رہے
07:13مگر قوم نے ان کی دعوت قبول کرنے سے صاف منع کر دیا
07:18صرف یہی نہیں غرور و تکبر میں مبتلا قوم
07:21دیگر نافرمان ناقوام کی طرح
07:24آپ علیہ السلام کی دعوت کا مزاق بھی اڑاتی رہی
07:27جب ان کی سرکشی اور نافرمانی انتہا کو پہنچ گئی
07:31تو اللہ تعالی نے حضرت یونس علیہ السلام کو حکم دیا
07:34کہ لوگوں کو آگاہ کر دو
07:36کہ تین دن کے اندر اندر ان پر عذابِ الہی آنے والا ہے
07:41آپ علیہ السلام نے قوم میں اس کا اعلان کر دیا
07:44یہ سن کر قوم یونس علیہ السلام نے آپس میں مشورہ کیا
07:47تو اس بات پر ان سب کا اتفاق ہوا
07:50کہ یونس علیہ السلام کو کبھی جھوٹ بولتے نہیں دیکھا
07:54لہٰذا ان کی بات نظرانداز نہیں کرنی چاہیے
07:57مشورے میں یہ بھی تیہ ہوا کہ دیکھا جائے
08:00کہ اگر یونس علیہ السلام رات بستی کے اندر
08:02اپنے گھر میں مقیم رہتے ہیں
08:04تو سمجھ لو کہ کچھ نہیں ہوگا
08:06اور اگر وہ یہاں سے کہیں اور چلے جاتے ہیں
08:09تو یقین کر لو کہ صبح عذاب ضرور آئے گا
08:12قصہ مختصر کہ حضرت یونس علیہ السلام
08:14رات کو اس بستی سے نکل گئے
08:16صبح ہوئی تو عذابِ الہی
08:18ایک سیاہ دھوئے اور بادل کی شکل میں
08:21بستی والوں کے سروں پر منڈلانے لگا
08:24ان کے قریب ہونے لگا تو لوگوں کو یقین ہو گیا
08:27کہ اب وہ سب ہلاک ہونے والے ہیں
08:30یہ دیکھ کر حضرت یونس علیہ السلام کو تلاش کیا گیا
08:33کہ ان کے ہاتھ پر ایمان لے آئیں اور توبہ کر لیں
08:37مگر آپ علیہ السلام کو نہ پایا
08:39تو خود ہی اخلاصِ نیت کے ساتھ
08:42توبہ و استغفار میں لگ گئے
08:44اور اپنے گھروں سے ایک میدان میں نکل آئے
08:47عورتیں بچے اور جانور
08:49سب اس میدان میں جمع کر دئیے گئے
08:52تمام بستی والے ٹاٹ کے کپڑے پہن کر
08:55عجز و انکساری کے ساتھ توبہ کرنے
08:58اور عذاب سے پناہ مانگنے میں
09:00اس طرح سے مشغول ہوئے
09:02کہ پورا میدان آہ و بکا سے گونجنے لگا
09:05اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمالی
09:07اور عذاب ان سے ہٹا دیا
09:10روایت میں ہے کہ یہ آشورہ
09:12یعنی دسویں محرم کا دن تھا
09:15ادھر حضرت یونس علیہ السلام بستی سے باہر
09:18اس انتظار میں تھے
09:19کہ اب اس قوم پر عذاب نازل ہوگا
09:22ان کے توبہ استغفار کا حال انہیں معلوم نہیں تھا
09:25جب عذاب ٹل گیا
09:27تو انہیں فکر ہوئی
09:28کہ اب تو قوم مجھے جھوٹا قرار دے دے گی
09:31کیونکہ میں نے اعلان کیا تھا
09:33کہ تین دن کے اندر عذاب آ جائے گا
09:35اس قوم کا اس وقت یہ قانون تھا
09:38کہ جس شخص کا جھوٹ معلوم ہو
09:40اور وہ اپنے کلام پر کوئی شہادت پیش نہ کر سکے
09:44تو اسے قتل کر دیا جاتا تھا
09:46حضرت یونس علیہ السلام کو اب فکر ہوئی
09:49کہ انہیں بھی جھوٹا قرار دے کر قتل کر دیا جائے گا
09:52اس رنج و غم اور پریشانی کے عالم میں
09:55اس شہر سے نکل جانے کا ارادہ کر کے چل دیئے
09:58یہاں تک کہ بحیرہ روم کے کنارے پہنچ گئے
10:02وہاں ایک کشتی دیکھی
10:03جس میں لوگ سوار تھے
10:05حضرت یونس علیہ السلام کو ان لوگوں نے پہچان لیا
10:08اور قرائے کے بغیر کشتی میں سوار کر لیا
10:12کشتی روانہ ہو کر جب وسط میں پہنچی تو دفعہ تن ٹھہر گئی
10:17آگے بڑھتے ہیں اور نہ ہی پیچھے ہٹتے ہیں
10:19کشتی والوں نے منا دی کی
10:21کہ ہماری اس کشتی میں کوئی ظالم گناہگار
10:25یا بھاگا ہوا غلام سوار ہو جاتا ہے
10:28تو یہ کشتی خود بخود رک جاتی ہے
10:31ایسے آدمی کو چاہیے کہ وہ خود کو ظاہر کر دے
10:34تاکہ اس کی وجہ سے سب پر مصیبت نہ آئے
10:36اس پر حضرت یونس صلی اللہ علیہ السلام بول اٹھے
10:39کہ وہ بھاگا ہوا غلام گناہگار میں ہی ہوں
10:44کیونکہ اپنے شہر سے نکل کر کشتی میں سوار ہونا
10:46ایک طبعی خوف کی وجہ سے تھا
10:48با اذنِ الہی نہ تھا
10:50اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر
10:52یوں ہی چلے آنے کو حضرت یونس صلی اللہ علیہ السلام کی
10:55پیغمبرانہ شان نے ایک گناہ قرار دیا
10:58کہ یہ پیغمبر کی کوئی نقل و حرکت
11:01بلا آزنِ الہی نہیں ہونی چاہیے تھی
11:06کہ مجھے دریا میں ڈال دو تو تم سب اس عذاب سے بچ جاؤ گے
11:11مگر کشتی والے اس پر تیار نہ ہوئے
11:13بلکہ انہوں نے قرآن دازی کی
11:15تاکہ جس کا نام نکلے اسے دریا میں ڈالا جائے
11:19لیکن قرآن دازی میں بھی آپ علیہ السلام ہی کا نام نکل آیا
11:23لوگوں کو اس پر تعجب ہوا
11:25تو کئی مرتبہ قرآن دازی کی گئے
11:27اور ہر مرتبہ آپ علیہ السلام ہی کا نام آتا رہا
11:31قرآن کریم کی صورتِ صافات کی آیت نمبر 141 میں
11:35اس قرآن دازی اور حضرت یونس علیہ السلام کا نام نکلنے کا ذکر موجود ہے
11:41ایک طرف قرآن دازی میں نام نکلنے پر آپ علیہ السلام کو دریا میں ڈالے جانے کا سامان ہو رہا تھا
11:47اور دوسری طرف ایک بہت بڑی مچھلی
11:51اللہ تعالیٰ کے حکم پر کشتی کے قریب موں کھول کر موجود تھی
11:56کہ آپ علیہ السلام کو اپنے پیٹ میں جگہ دے
11:59حضرت یونس علیہ السلام جیسے ہی پانی میں گئے
12:02مچھلی نے فوراً انہیں اپنے پیٹ میں لے لیا
12:05حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہو فرمایا کرتے ہیں
12:10کہ حضرت یونس علیہ السلام اس مچھلی کے پیٹ میں چالیس روز تک رہے
12:15یہ انہیں زمین کی تہہ تک لے جاتی
12:18اور دور دراز کی مسافتوں میں پھراتی رہی
12:21بعض افراد نے سات
12:23بعض نے پانچ دن
12:25اور کئی ایک نے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدد
12:29بس چند گھنٹے لکھی ہے
12:30حقیقت حال تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے
12:33اس حالت میں حضرت یونس علیہ السلام نے دعا کی
12:37لا الہ الا انت سبحانک انی کنتم من الظالمین
12:41تو اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی
12:43اور مچھلی نے آپ علیہ السلام کو بالکل صحیح سالم حالت میں کنارے پر ڈال دیا
12:49مچھلی کے پیٹ کی گرمی سے ان کے بدن پر کوئی بال نہ رہا تھا
12:54اللہ تعالیٰ نے ان کے قریب ایک درخت اگا دیا
12:57جس کے پتوں کا سایہ آپ علیہ السلام کے لیے راحت کا سبب بن گیا
13:02نیز ایک جنگلی بکری اللہ تعالیٰ کے حکم سے صبح و شام آپ علیہ السلام کے پاس آگ کھڑی ہوتی
13:09اور آپ علیہ السلام اس کا دودھ پی لیتے تھے
13:12اس قصے کے جتنے اجزاء قرآن پاک میں مذکور ہیں
13:15یا حدیث مبارکہ سے ثابت ہیں وہ تو یقینی ہیں
13:19باقی اجزاء محض تاریخی روایات پر مشتمل ہیں
13:23جن پر کسی شرعی مسئلے کا مدار نہیں رکھا جا سکتا
13:27حضرت ابو حریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے
13:30کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
13:33کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو
13:37مچھلی کے پیٹ میں قید کرنے کا ارادہ فرمایا
13:39تو مچھلی کو حکم دیا کہ ان کو لے لو
13:42لیکن ان کے گوشت پر تیرا تصرف نہیں
13:45کیونکہ یہ تیری غزہ نہیں ہے
13:48جب مچھلی آپ علیہ السلام کو لے کر
13:50سمندر کی انتہائی نچلی ستہ میں پہنچی
13:53تو آپ علیہ السلام نے کچھ آہیں سنی
13:55اس پر اللہ تعالیٰ نے وحیح فرمائی
13:58یہ سمندری جانوروں کی تسبیح ہے
14:00اس موقع پر حضرت یونس علیہ السلام نے بھی تسبیح کی
14:05جب فرشتوں نے آپ علیہ السلام کی تسبیح سنی
14:08تو بارگاہ خداوندی میں عرض کرنے لگے
14:10اے ہمارے پروردگار
14:12ہم ایک نحیف اور کمزور سی آواز
14:16کسی اجنبی زمین سے سن رہے ہیں
14:18اللہ تعالیٰ نے فرمایا
14:20یہ میرا بندہ یونس ہے
14:22فرشتوں نے عرض کیا
14:23تو وہ نیک بندے ہیں
14:25اور ان کی طرف سے ہر شب و روز
14:27آپ کے پاس نیک عمل پہنچتا ہے
14:30اللہ تعالیٰ نے فرمایا
14:31ہاں یہ میری بہت اچھی تسبیح کرتے ہیں
14:35پھر فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور
14:37حضرت یونس علیہ السلام کی سفارش کی
14:40اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا
14:42اور اس نے آپ علیہ السلام کو
14:44سمندر کے کنارے ڈال دیا
14:46قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
14:48کہ پھر ہم نے ان کو
14:50جبکہ وہ بیمار تھے
14:52فراخ میدان میں ڈال دیا
14:54اور ان پر ایک بیلدار درخت ہوگا دیا
14:57آپ علیہ السلام کا بدن
14:58مچھلی کے پیٹ میں رہنے سے
15:00انتہائی لاغر اور کمزور ہو چکا تھا
15:02ابن مسعود فرماتے ہیں
15:04کہ آپ علیہ السلام ایسے ہو گئے تھے
15:07جیسے چوزہ جس پر ابھی پر بھی نہ آئے ہوں
15:10ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہو
15:12زید رضی اللہ تعالیٰ عنہو
15:14یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں
15:16کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے
15:18اس وقت کے بچے کی طرح
15:20آپ علیہ السلام کی حالت تھی
15:21اور بالکل دھنی ہوئی روئی کی طرح
15:24نرم و نازک تھے
15:26اور بدن پر کچھ نہ تھا
15:28روایات میں ہے کہ جب آپ علیہ السلام
15:30مچھلی کے پیٹ میں ٹھہر گئے
15:32تو گمان کیا
15:33کہ شاید وفات پا گئے ہیں
15:35اس پر آپ علیہ السلام نے
15:37اپنے آزا کو جنبش دی
15:39تو ان میں حرکت ہوئی
15:41تو فوراں سجدہ ریز ہو گئے
15:43اور بارگاہ رب العزت میں عرض کی
15:45اے میرے پروردگار
15:47میں تیرے لیے ایسی جگہ
15:49مسجد بناتا ہوں
15:50جہاں کسی دوسرے نے
15:52تیری عبادت نہ کی ہوگی
15:54قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
15:57پھر اگر وہ
15:58اللہ کی پاکی بیان نہ کرتے
16:00تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک
16:03اس کے
16:04یعنی مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے
16:06تفسیر ابن جریر میں
16:08حضرت سعید بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہو سے روایت ہے
16:11کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:15کو فرماتے ہوئے سنا
16:16کہ اللہ کو اس نام سے پکارا جائے
16:19تو دعا قبول ہوتی ہے
16:21اور جو مانگا جائے
16:22اللہ عطا فرماتا ہے
16:24یعنی حضرت یونس علیہ السلام
16:27کی دعا کے ساتھ
16:28راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس تفسار کیا
16:31کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:34یہ حضرت یونس علیہ السلام
16:36کے لئے خاص ہے
16:37یا تمام مسلمانوں کے لئے ہے
16:39آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:41نے فرمایا کہ یہ حضرت
16:43یونس علیہ السلام کے لئے خاص ہے
16:46اور مومنین کے لئے
16:47عام جب بھی وہ اس کے ساتھ
16:50دعا کیا کریں
16:50کیا تم نے اللہ کے فرمان کو نہیں سنا
16:53پھر یونس علیہ السلام نے اپنے رب
16:55کو تاریخیوں میں پکارا
16:57لا الله الا انت السبحانك
17:00انی كنت من الظالمين
17:02تیرے سوا کوئی معبود نہیں
17:04تو پاک ہے
17:05بے شک میں ہی قصوروار ہوں
17:07تو ہم نے اس کی دعا قبول کی
17:09اور اس کو غم سے نجات دی
17:12اور ہم مومنین کو اس طرح سے
17:14نجات دیتے ہیں
17:15ناظرین حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ
17:18سے روایت ہے کہ رسول اکرم
17:19صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:21نے فرمایا کہ جس نے حضرت
17:23یونس علیہ السلام کی دعا کے ساتھ
17:26دعا کی اس کی دعا
17:28ضرور قبول ہوگی
17:29ناظرین پچھلی اقوام میں قوم یونس
17:31علیہ السلام کی مثال سب سے منفرد
17:34ہے کہ جس نے عذاب کے
17:35وقو پذیر ہونے سے پہلے ہی
17:37صدق دل کے ساتھ
17:39آجزی اور آہوزاری کرتے
17:42ہوئے توباز تغفار کیا
17:43اور اللہ تعالی نے اس قوم سے
17:45اپنا عذاب ہٹا دیا
17:47جبکہ قوم نوح علیہ السلام
17:49قوم حود علیہ السلام قوم صالح علیہ السلام
17:52اور قوم لوت علیہ السلام وغیرہ
17:54عذاب سے ڈرانے اور بار بار
17:57تنبیہ کے باوجود
17:58شرک و کفر پر
18:00ڈھٹائی سے جمی رہیں اور
18:02عذاب کی بات کو مزاق سمجھتی رہیں
18:04چنانچہ عذاب الہی کا شکار
18:06ہو کر ہمیشہ کے لیے
18:08نیست و نابود ہو گئیں
18:10قرآن کریم فرقہ نے حمید میں
18:12اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے
18:14پس کوئی بستی ایسی
18:16کیوں نہ ہوئی کہ ایمان
18:18لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع
18:20دیتا سوائے یونس
18:22علیہ السلام کی قوم کے جب
18:24وہ ایمان لائے تو ہم نے
18:26دنوی زندگی میں ان سے
18:28رسوائی کا عذاب دور کر دیا
18:30اور ایک مدت تک ان کو
18:32دنوی فوائد سے
18:34بہرامند رکھا سورہ
18:36یوسف آیت نمبر اٹھانوے
18:38ناظرین اس تفسیر کا حاصل
18:40یہ ہے کہ دنیا کا عذاب
18:42سامنے آ جائے پھر بھی
18:43توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوتا
18:45بلکہ توبہ قبول ہو سکتی ہے
18:48البتہ آخرت کا عذاب سامنے آ جانے
18:50کے وقت توبہ قبول
18:52نہیں ہوتی اور عذاب آخرت
18:54کا سامنے آنا قیامت
18:56کے دنوں کا یا موت
18:58کے وقت جامع ترمیزی
19:00کی ایک حدیث ہے کہ حضور
19:01نبی کریم صلی اللہ علیہ وآری
19:03وسلم نے فرمایا اللہ تعالی
19:05بندے کی توبہ قبول فرماتا ہے
19:08جب تک وہ غرغرہ کی حالت
19:10میں نہ پہنچ جائے غرغرہ
19:12کی حالت سے مراد موت
19:13کا وہ وقت ہے جب نزع
19:16کے وقت فرشتے سامنے آ جاتے ہیں
19:18اس وقت دنیا کی زندگی
19:20ختم ہو کر آخرت کے
19:21احکام شروع ہو جاتے ہیں
19:23اس لیے اس وقت کا کوئی عمل
19:26قابل قبول نہیں ہوگا
19:28بہرحال ناظرین
19:29حضرت یونس علیہ السلام جب
19:31صحتیاب ہو گئے تو اب دوبارہ
19:33حکم خداوندی ہوا
19:35کہ وہ نئے نوا جائیں اور قوم
19:37میں رہ کر ان کی رہنمائی فرمائیں
19:39تاکہ خدا کی اس قدر کثیر
19:41مخلوق ان کے فیض سے
19:43محروم نہ رہے چنانچہ حضرت
19:45یونس علیہ السلام نے اس حکم کو
19:47قبول کیا اور نینوا میں
19:49واپس تشریف لے آئے قوم نے
19:51جب ان کو دیکھا تو بے حد مسررت
19:53اور خوشی کا اظہار کرنے لگے
19:55اور ان کی رہنمائی میں
19:57دین اور دنیا کی کامرانی
19:59حاصل کرتے رہے
20:01عبدالوحاب نجار کہتے ہیں کہ
20:03فلسطین کے علاقے میں جو مشہور شہر
20:05خلیل ہے اس کے قریب ایک بستی
20:07حلخول کے نام سے معروف ہے
20:09اس میں ایک قبر ہے
20:11جس کو حضرت یونس علیہ السلام
20:13کی قبر بتایا جاتا ہے اور
20:15اسی قبر کے قریب دوسری قبر
20:17ہے اس کے متعلق یہ کہا جاتا
20:20ہے کہ یہ حضرت یونس علیہ السلام
20:21کے والد مطی کی قبر
20:24ہے ہمارے خیال میں شاہ صاحب
20:25کا قول صحیح ہے اس لیے کہ حضرت
20:27یونس علیہ السلام کے متعلق
20:29جس قدر واقعات بھی بہم پہنچ
20:31سکے ہیں وہ سب متفق ہیں
20:33کہ یونس علیہ السلام دوبارہ
20:35نینوا واپس تشریف لے گئے تھے
20:37اور انہوں نے اپنی قوم کے اندر
20:39ہی زندگی گزاری ناظرین یہ
20:41تھی ہماری آج کی ویڈیو ہم امید
20:43کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری آج کی ویڈیو
20:45آخر تک ضرور دیکھی ہوگی
20:47اور اگر ہاں آخر تک دیکھی ہے
20:49تو ہماری حوصلہ افسائی ضرور
20:51کیجئے گا اور نیچے دیئے گئے کمنٹ
20:53سیکشن میں کمنٹ کر کے بتائیے گا
20:55کہ ہاں آپ نے مکمل
20:57ویڈیو دیکھی ہے تاکہ ہماری حوصلہ
20:59افسائی ہو سکے اب آنے والی
21:01ویڈیو تک آپ کا اپنا میزبان
21:03قادر بخش کا لوڑو آپ سے اجازت
21:05چاہتا ہے فی امان اللہ
21:08السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Be the first to comment