Skip to playerSkip to main content
Hazrat Yousuf (A.S) Ka Mukamil Waqia | Sabr, Husn Aur Kamyabi Ki Kahani | By Qadir Kalhoro

Hazrat Yousuf (A.S) Allah ke azeem Nabi thay jin ki zindagi sabr, pakdaman aur husn ki be-misaal misaal hai. Bachpan mein bhaiyon ki hasad, kunway mein phenkay jana, phir ghulami, qaid, aur aakhirkaar misr ki badshahat tak ka safar — yeh sab Allah ke azeem mansuba bandi ka hissa tha.

Is mukamil waqia mein bayan kiya gaya hai:

Hazrat Yousuf (A.S) ka khwab aur bachpan

Bhaiyon ki sazish aur judaai

Qaid se badshahat tak ka safar

Maafi, sabr aur Allah par poora bharosa

Yeh waqia humein sikhata hai ke sabr ke baad kamyabi aur maafi ke baad rehmat zaroor aati hai.

🎙️ Bayan: Qadir Kalhoro

#HazratYousuf #YousufAS #IslamicStories #AnbiyaQissay #Sabr #QuranStories #IslamicHistory #QadirKalhoro

Category

📚
Learning
Transcript
00:00بسم الله الرحمن الرحيم
00:01السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
00:04ایک اور نئی ویڈیو کے ساتھ
00:06آپ کا اپنا ميزبان قادر بخش
00:08کلھوڑو آپ کی خدمت میں حاضر ہے
00:10ہم امید کرتے ہیں
00:12کہ آپ خیریت سے ہوں گے
00:13ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کو
00:15خیر و آفیت کے صدا سائے میں رکھے
00:17زندگی میں کبھی بھی کوئی غم
00:19کوئی دکھ تکلیف یا پریشانی
00:22آپ کی زندگی کے قریب سے
00:24بھی نہ گزرے اللہ تبارک وطالع
00:26آپ تمام بھائیوں اور میری بہینوں کو
00:29اپنی حفظ و امان میں رکھے
00:30آپ کے اور ہمارے رزق حلال میں
00:32برکت نصیب فرمائے آمین
00:35دوستو قصص الانبیاء کا
00:37سلسلہ جاری ہے آج کی
00:38اس ویڈیو میں ہم حضرت یوسف
00:40علیہ السلام کا قصہ بیان کریں گے
00:43پہلے بھی ہم انبیاء قرآن
00:45کے کافی سارے قصے
00:46آپ کے لئے بیان کر چکے ہیں
00:48جو اسی پلی لسٹ میں اپلوڈ
00:50کیے جا چکے ہیں آگے بھی انشاءاللہ
00:53اس سلسلے کو ہم برقرار رکھیں گے
00:55آج کا قصہ جیسا کہ
00:57میں نے آپ کو بتایا کہ حضرت
00:58یوسف علیہ السلام کا مکمل قصہ ہے
01:01لہٰذا آپ سے گزارش
01:03بس یہ ہے کہ اس ویڈیو
01:05کو مکمل دیکھئے کا
01:06اس کپ ہرگز مت کیجے کا
01:08تو چلتے ہیں آج کی قصے کی جانب
01:11ناظرین حضرت یوسف علیہ السلام
01:13حضرت یعقوب علیہ السلام
01:15کے بیٹے حضرت
01:17اسحاق علیہ السلام کے پوتے
01:19اور حضرت ابراہیم علیہ السلام
01:21کے پڑ پوتے ہیں
01:22والدہ راحیل حضرت یوسف علیہ السلام
01:25کے چھوٹے بھائی یامین کی پیدائش
01:27کے وقت انتقال کر گئی تھی
01:29یوں تو اللہ تعالی نے حضرت
01:30یعقوب علیہ السلام کو بارہ بیٹوں
01:33سے نوازا تھا لیکن راحیل
01:35کے بطن سے دو بیٹے
01:36حضرت یوسف علیہ السلام
01:38اور بن یامین ہی ہوئے
01:40حضرت یوسف علیہ السلام بھی اپنی
01:42والدہ کی طرح حسن و جمال
01:44میں لا آسانی تھے
01:46والد کو ان سے بے حد محبت تھی
01:48اور وہ انہیں خود سے جدہ
01:51نہیں کرتے تھے روایت میں
01:52ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام
01:54کی چہیتی بیوی راحیل
01:56نے بھی ان کے لیے خصوصی
01:58وسیعت کی تھی اب یہ بن
02:00ماں کے بھی تھے اور دس سو
02:02تیلے بھائیوں سے چھوٹے بھی تھے
02:04پھر شدید قربت اور محبت
02:06کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ
02:08حضرت یعقوب علیہ السلام نے
02:10حضرت یوسف علیہ السلام کی پیشانی
02:12پر چمکتے نور نبوت
02:14کا مشاہدہ بھی کر لیا تھا
02:16اللہ عزو جل نے قرآن کریم
02:18کی ایک سو گیارہ آیات پر
02:20مجتمل پوری ایک سورت
02:22سورہ یوسف میں حضرت
02:24یوسف علیہ السلام کے واقعے
02:26کو بیان فرمایا ہے اس سورہ
02:28میں بیان کردہ واقعے کو
02:30احسن القصص یعنی بہترین
02:32واقعہ کہا گیا ہے دراصل
02:34اس سبقاموز واقعے میں حسد
02:36و عنات کا انجام نفس
02:38امارہ کی شورشیں عبرتیں
02:41حکمتیں مععز و نصاح
02:43انسانی عوارض اور
02:45حوادث بشری لقزشیں
02:47سبر و استقامت اور
02:49رضا و تسلیم کے ساتھ
02:50اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف
02:52اور رحم و کرم کی کرشما سازیاں
02:54جس دلچسپ اور خوبصورت
02:56انداز میں پیش کی گئی ہیں
02:58وہ رہتی دنیا تک کے لیے
03:01انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے
03:03ناظرین قرآن پاک میں
03:05حضرت یوسف علیہ السلام کا
03:06نام مبارک چھبیس مرتبہ آیا ہے
03:09جن میں سے چوبیس بار
03:11سورہ یوسف میں جبکہ
03:12سورت انعام اور سورت غافر
03:15میں ایک ایک بار آپ
03:17علیہ السلام کا ذکر کیا گیا ہے
03:19روایات میں ہے کہ جب
03:21حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:24مکہ معظمہ میں
03:25تشریف فرما تھے اور آپ
03:27صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خبر
03:29مدینہ طیبہ پہنچی
03:31تو وہاں کے یہودیوں نے اپنے
03:33چند آدمی اس کام کے لیے
03:35مکہ معظمہ بھیجے کہ وہ جا کر
03:37آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:39کی آزمائش کریں انہوں نے
03:41مبہم انداز میں سوال کیا
03:43کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:46سچے نبی ہیں
03:47تو ذرا یہ بتلائیے
03:49کہ وہ کون سے پیغمبر تھے
03:51جن کا ایک بیٹا ملک شام سے
03:53مصر لے جایا گیا
03:55اور باپ ان کے غم میں
03:57روتے روتے نابی نہ ہو گئے
03:58دراصل یہ سوال یہودیوں نے اس لیے
04:01منتخب کیا تھا کہ اس کی
04:03کوئی عام شہرت نہ تھی
04:05اور نہ مکہ میں کوئی اس واقع سے
04:07واقف تھا کیونکہ اس وقت
04:09مکہ میں اہل کتاب میں سے
04:11کوئی نہ تھا جس سے
04:13بحوالہ تورات اور انجیل
04:15اس قصے کا کوئی جز
04:17معلوم ہو سکتا ہو
04:18ان کے سوال پر پوری صورت
04:20یوسف نازل ہوئی
04:22جس میں حضرت یعقوب
04:23علیہ السلام اور حضرت
04:25یوسف علیہ السلام کا
04:26پورا واقعہ مذکور ہے
04:28اور اتنی تفصیل کے ساتھ
04:30مذکور ہے کہ تورات اور
04:32انجیل میں بھی اتنی تفصیل
04:34نہیں
04:35اس لیے اس کا بیان کرنا
04:37حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
04:39کا کھلا موجزہ تھا
04:41ناظرین حضرت یوسف علیہ السلام
04:44ابھی سن بلوغت کو بھی
04:45نہ پہنچے تھے
04:46کہ انہوں نے ایک خواب دیکھا
04:48جس کا اپنے والد سے
04:50یوں ذکر کیا
04:51اے اباجان
04:52میں نے گیارہ ستاروں
04:54سورج اور چاند کو دیکھا
04:56کہ وہ سب مجھے سجدہ کر رہے ہیں
04:58حضرت یعقوب علیہ السلام
05:00نے جب بیٹے کا خواب سنا
05:02تو سمجھ گئے
05:03کہ یہ بڑے ہو کر
05:04اللہ تعالیٰ کی جانب سے
05:05ایک عظیم منصب پر فائز ہوں کے
05:08اس لئے انہیں اندیشہ ہوا
05:10کہ یوسف علیہ السلام کے
05:11سوتیلے بھائی
05:12ان کی عظمت کا اندازہ لگا کر
05:15شیطان کے بہکاوے میں آ کر
05:17ان کے دشمن نہ ہو جائیں
05:19اور انہیں کوئی نقصان نہ پہنچائیں
05:21چنانچہ انہوں نے کہا
05:23کہ پیارے بیٹے
05:24اپنے اس خواب کا ذکر
05:26اپنے بھائیوں سے نہ کرنا
05:27ایسا نہ ہو
05:28کہ وہ تمہارے ساتھ
05:30کوئی فریب کاری کریں
05:31کچھ شک نہیں
05:32کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
05:35بعض مفسرین نے لکھا ہے
05:37کہ جس وقت حضرت یوسف علیہ السلام
05:39اپنے والد کو خواب سنا رہے تھے
05:41تو سوتیلی ماں
05:43دروازے کی آڑ سے
05:44یہ باتیں سن رہی تھیں
05:45جب سوتیلے بیٹے گھر آئے
05:47تو اس نے یہ بات
05:49ان کے گوشت گزار کر دی
05:50وہ ویسے بھی
05:51حضرت یوسف علیہ السلام سے
05:53حسد کرتے تھے
05:54لہٰذا اس واقعے نے
05:56جلتی پر تیل کا کام کیا
05:58انہیں یہ کسی طور گوارہ نہ تھا
06:00کہ ان کا سوتیلہ چھوٹا بھائی شان و رتبے میں
06:03ان سے آگے بڑھ جائے
06:05لہٰذا ان سب نے حضرت یوسف علیہ السلام کو
06:08والد سے جدا کرنے کا فیصلہ کر لیا
06:11انہوں نے آپس میں کہا
06:12کہ یوسف کو
06:13یا تو جان سے مار ڈالو
06:15یا اسے کسی ملک میں پھینکاؤ
06:18پھر اببا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہو جائے گی
06:21اور اس کے بعد
06:22تم اچھی حالت میں ہو جاؤ گے
06:24ان میں سے ایک نے کہا
06:26کہ یوسف کو قتل تو نہ کرو
06:28بلکہ کسی اندھے کوئے کی تہہ میں ڈالاؤ
06:31تاکہ کوئی آتا جاتا قافلہ
06:33اسے نکال کر لے جائے
06:35اگر تم کو کچھ کرنا ہی ہے
06:37تو یوں کرو
06:38مفسرین لکھتے ہیں
06:39کہ کوئے میں ڈالنے کی تجویز
06:41بڑے سوتیلے بھائی یہودہ نے دی تھی
06:44اگلے دن دسوں بھائی
06:46والد کی خدمت میں حاضر ہوئے
06:48اور کہا
06:48ابباجان
06:49اخر آپ یوسف کے بارے میں
06:51ہم پر اعتماد کیوں نہیں کرتے
06:53ہم تو ان کے خیر خواہ ہیں
06:55کل آپ اسے ضرور ہمارے ساتھ بھیج دیجئے
06:58کہ خوب کھائے پیے
07:00اور کھیلے
07:01اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں
07:03حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہا
07:05کہ یہ عمر مجھے غمناک کیے دیتا ہے
07:08کہ تم اسے لے جاؤ
07:10اور یہ بھی خوف ہے
07:11کہ تم کھیل میں اسے غافل ہو جاؤ
07:14اور اسے بھیڑیا کھا جائے
07:15انہوں نے جواب دیا
07:16کہ ہم جیسی طاقتور جماعت کی موجودگی میں بھی
07:20اگر انہیں بھیڑیا کھا جائے
07:23ہی ہوئے اگلی صبح روانگی سے قبل
07:26حضرت یعقوب علیہ السلام نے
07:28پھر ان دسوں بیٹوں کو
07:29یوسف علیہ السلام کی حفاظت کی
07:31یاد دہانی کروائی
07:32حضرت یعقوب علیہ السلام کافی دور تک
07:35ان کے ساتھ گئے جب تک والد ساتھ رہے
07:38وہ بھائی کو گود میں اٹھائے رہے
07:40لیکن جیسے ہی وہ نظروں سے دور ہوئے
07:43انہوں نے یوسف علیہ السلام کو
07:45گود سے نیچے پھینک کر
07:47مار پیٹ شروع کر دی
07:49ان سب کے دل پتھر ہو چکے تھے
07:51ایسے میں ایک بار پھر بڑے بھائی
07:53یہودہ کے دل میں رحم آیا
07:55اس نے کہا کہ اس طرح
07:57اس بچے کو ضائع نہ کرو
07:58یہاں قریب ہی ایک کونہ ہے
08:00اس میں ڈال دو
08:01اگر کسی سامپ وغیرہ نے ڈس لیا
08:03تو یہ مر جائے گا
08:05اور اگر یہ زندہ رہا
08:06تو شاید کوئی بھولا بسرا قافلہ
08:09یہاں آ جائے اور اسے اپنے ساتھ لے جائے
08:11اس طرح تمہارا مقصد پورا ہو جائے گا
08:14یہودہ کی بات سے سب نے اتفاق کیا
08:17قرآن پاک میں اس طرح بیان کیا گیا ہے
08:20پھر جب وہ اس کو لے کر چلے
08:21اور سب نے مل کر ٹھان لیا
08:24کہ اسے غیر آباد گہرے کوئیں کی تہہ میں پھینک دیں
08:27تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی
08:30کہ یقیناً ایک وقت ایسا آئے گا
08:33کہ تم ان کو ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے
08:36اور وہ تجھے نہ پہچانے گے
08:39روایت میں ہے
08:40کہ اس وقت حضرت یوسف علیہ السلام کی عمر
08:43سات سال تھی
08:44امام قرتبی رحمت اللہ علیہ کا فرمان بھی یہی ہے
08:48کہ جس وقت یوسف علیہ السلام کو کوئیں میں ڈالا گیا
08:51وہ نابالق بچے تھے
08:53تاہم تفسیر ابن کثیر میں سترہ سال
08:56جبکہ کچھ مفسرین نے عمر بارہ سال بھی تحریر کیا ہے
09:01واللہ عالم
09:02امام قرتبی رحمت اللہ علیہ اور دیگر مفسرین نے
09:06حضرت یوسف علیہ السلام کو کوئیں میں ڈالنے کا واقعہ
09:09یوں بیان کیا ہے
09:10کہ جب وہ انہیں ڈالنے لگے
09:12تو وہ کوئیں کی مڈیر سے چمٹ گئے
09:14بھائیوں نے ان کے ہاتھ باندھیے
09:17حضرت یوسف علیہ السلام نے بھائیوں سے رحم کی درخواست کی
09:21مگر جواب ملا
09:22کہ جو گیارہ ستارے تجھے سجدہ کرتے ہیں
09:25ان کو بلا
09:26وہ تیری مدد کریں گے
09:28پھر انہیں ایک ڈال میں رکھ کر کوئیں میں لٹکا دیا
09:31جب نصف تک پہنچے
09:33تو ڈال کی رسی ہی کاٹ دی
09:35اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کی حفاظت فرمائی
09:39پانی میں گرنے کی وجہ سے انہیں کوئی چوٹ نہ لگی
09:43انہیں قریب ہی ایک پتھر کی چٹان نظر آئی
09:46اور وہ اس پر بیٹھ گئے
09:48بعض روایات میں ہے
09:50کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا
09:53اور انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو
09:56اس چٹان پر بٹھا دیا
09:58آپ علیہ السلام تین روز تک اس کوئے میں رہے
10:01بھائی یہودہ دوسرے بھائیوں سے چھپ چھپ کر
10:04روزانہ ان کے لئے کھانا پانی لاتا
10:07اور ڈول کے ذریعے ان تک پہنچا دیتا تھا
10:10بحوالہ معارف القرآن
10:12حضرت یوسف علیہ السلام کو کوئے میں ڈالنے کے بعد
10:15انہیں فکر ہوئی
10:16کہ اب والد کو کیا جواب دیں گے
10:18چنانچہ انہوں نے ایک بکری زباہ کی
10:21اور اس کا خون حضرت یوسف علیہ السلام کے کرتے پر لگا کر
10:26عشاء کے وقت آہو بکا کرتے ہوئے
10:29والد کے پاس پہنچے
10:30اور کہنے لگے
10:32اباجان ہم سب تو دوڑنے میں لگ گئے
10:35اور یوسف علیہ السلام کو ہم نے سامان کے پاس بٹھا دیا تھا
10:39ایک بھیڑیا انہیں کھا گیا
10:41اور آپ ہمارا کیوں یقین کرنے لگے
10:44اگرچہ ہم کتنے ہی سچے ہوں
10:46ناظرین مفسرین لکھتے ہیں
10:48کہ انہوں نے قمیز کو خون میں لطپت تو کر دیا تھا
10:52لیکن وہ یہ بھول گئے
10:53کہ اگر بھیڑیا یوسف علیہ السلام کو کھاتا
10:56تو قمیز کیسے سلامت رہ جاتی
10:58حضرت عقوب علیہ السلام نے قمیز دیکھ کر اندازہ لگا لیا تھا
11:03کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں
11:05آپ علیہ السلام نے فرمایا
11:07کہ میرے بیٹو یہ کیا حکیم اور عقل مند بھیڑیا تھا
11:11کہ یوسف کو اس طرح کھایا
11:13کہ کرتا کہیں سے بھی نہ پھٹا
11:16اور صحیح سالم رہا
11:17آپ علیہ السلام نے فرمایا
11:19حقیقت یوں نہیں ہے
11:21بلکہ تم اپنے دل سے یہ بات بنا کر لائے ہو
11:24بس میرے لئے صبر ہی بہتر ہے
11:27اور جو تم بیان کرتے ہو
11:28اس کے بارے میں اللہ ہی سے مدد مطلوب ہے
11:32ناظرین تفسیر قرتبی رحمت اللہ علیہ میں ہے
11:35کہ ایک تجارتی قافلہ
11:37جو ملک شام سے مصر جا رہا تھا
11:39راستہ بھول کر اس غیر آباد جنگل میں پہنچ گیا
11:43قافلے کے لوگ پانی کی تلاش میں سرگردان تھے
11:46کہ ایک شخص مالک بن دبر
11:49اس کوئیں تک پہنچ گیا
11:50اس نے پانی لینے کے لئے ڈول ڈالا
11:53حضرت یوسف علیہ السلام نے
11:55ڈول کی رسی پکڑ لی
11:56مالک بن دبر نے
11:58ڈول کو بھاری دیکھ کر اوپر کھینچا
12:01لیکن جب اس نے ڈول کے ساتھ
12:03ایک نو عمر بچے کو دیکھا
12:05تو خوشی سے پکار اٹھا
12:07ارے بڑی خوشی کی بات ہے
12:09یہ تو بڑا اچھا لڑکا نکل آیا
12:11صحیح مسلم میں شب مہراج کی حدیث میں ہے
12:15کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
12:19کہ میں یوسف علیہ السلام سے ملا
12:21تو دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے
12:23پورے عالم کے حسن و جمال میں سے
12:26آدھا ان کو عطا فرمایا ہے
12:28اور باقی آدھا سارے جہان میں تقسیم ہوا ہے
12:31بحوالہ معارف القرآن
12:34ناظرین مفسرین لکھتے ہیں
12:35کہ سوتیلہ بھائی روزانہ کھانا لیا کرتا تھا
12:39اس روز جب وہ کوئن پر آیا
12:40اور یوسف علیہ السلام کو نہ پایا
12:43تو بھائیوں کو بھلا لیا
12:44سب یوسف علیہ السلام کو تلاش کرتے قافلے والوں کے پاس جا پہنچے
12:49اور ان سے کہا
12:51کہ تمہارے پاس جو لڑکا ہے
12:52وہ ہمارا غلام ہے
12:54ہم سے بھاگ آیا ہے
12:55اب یہ ہمارے لئے بیکار ہے
12:57تم چاہو تو اسے خرید لو
12:59قافلے والے ایک اجنبی جگہ پر تھے
13:02سو ان دس بھائیوں کے خوف سے
13:05انہیں خریدنے پر آمادہ ہو گئے
13:07حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس
13:10رضی اللہ تعالیٰ عنہو فرماتے ہیں
13:12کہ ان بھائیوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو
13:15بیس درہم میں فروخت کر کے
13:17آپس میں دو دو درہم تقسیم کر لیے
13:21بحوالہ ابن کثیر
13:23ناظرین تفسیر امام مجاہد رحمت اللہ علیہ کی روایت کے مطابق
13:28بھائی قافلہ روانہ ہونے تک وہاں رہے
13:31کچھ دور ان کے ساتھ بھی چلے
13:33اور ان لوگوں سے کہا
13:34کہ اسے باندھ کر رکھیں
13:36ایسا نہ ہو کہ پھر بھاگ جائے
13:38انہیں ڈر تھا
13:39کہ کہیں وہ بھاگ کر والد کے پاس نہ پہنچ جائے
13:42قافلے والوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو
13:45مصر کے بازار میں فروخت کر دیا
13:48تفسیر قرتبی رحمت اللہ علیہ میں ہے
13:50کہ لوگوں نے بڑھ چڑھ کر قیمتیں لگانا شروع کی
13:54یہاں تک کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے
13:56وزن کے برابر سونے
13:59وزن کے برابر مشک
14:01اور وزن کے برابر ریشمی کپڑے میں فروخت کر دئیے گئے
14:05حضرت یوسف علیہ السلام کو خریدنے والا شخص
14:08عزیز مصر یعنی وزیر مملکت تھا
14:11جو خزانہ اور امور سلطنت پر حاوی تھا
14:15ابن سحاق فرماتے ہیں
14:16کہ اس کا نام عطفیر بن رحب
14:19اور اس کی بیوی کا نام رعیل بنت رمابیل تھا
14:24ان دنوں ریان بن ولید مصر کا بادشاہ تھا
14:27بحوالہ ابن کثیر
14:29تاہم اکثر مفسرین نے
14:31عزیز مصر کی بیوی کا نام زلیخہ لکھا ہے
14:35عزیز مصر حضرت یوسف علیہ السلام کو خوش خوش اپنے گھر لے آیا
14:39اور بیوی کو نصیحت کی
14:41کہ اسے بہت پیار اور محبت سے رکھو
14:44قرآن پاک میں ارشاد باری طالع ہے
14:46مصر والوں میں سے جس نے اسے
14:49یعنی حضرت یوسف علیہ السلام کو خریدا تھا
14:52اس نے اپنی بیوی سے کہا
14:54کہ اسے بہت عزت و احترام کے ساتھ رکھو
14:57بہت ممکن ہے کہ ہمیں فائدہ پہنچائے
15:00یا اسے ہم اپنا بیٹا ہی بنا لیں
15:02یوں ہم نے مصر کی سرزمین میں یوسف کے قدم جمع دیئے
15:07بحوالہ سورہ یوسف آیت نمبر 21
15:10حضرت یوسف علیہ السلام محل میں
15:13بڑے سکون اور اتمینان کے ساتھ رہ رہے تھے
15:16عزیز مصر آپ علیہ السلام کی دیانت
15:19شرافت پاکیزگی سچائی اور بردباری سے
15:23بے حد متاثر تھا
15:24لیکن ابھی اللہ تعالیٰ کو حضرت یوسف علیہ السلام
15:28کو مزید امتحانات سے گزارنا تھا
15:30کچھ ہی عرصہ گزرا تھا
15:32کہ آپ علیہ السلام سن شباب پر پہنچ گئے
15:35عزیز مصر کی بیوی زلیخہ
15:37آپ علیہ السلام کے حسن سے بہت متاثر تھی
15:41وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ
15:43اس کی نیت بدلنے لگی
15:44اور اس نے آپ پر دورے ڈالنے شروع کر دیئے
15:48قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد ہے
15:51اور جس عورت کے گھر میں تھا
15:53وہ اسے فسلانے لگی
15:54اور دروازے بند کر لئے
15:56اور کہنے لگی
15:57لو آؤ اس یعنی حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا
16:02اللہ کی پناہ
16:03وہ یعنی تیرے میاں تو میرا آقا ہے
16:06جس نے مجھے عزت سے رکھا ہے
16:08میں ایسا ظلم نہیں کر سکتا
16:10بے شک ظالم نجات نہیں پاتے
16:13جب حضرت یوسف علیہ السلام نے دیکھا
16:16کہ یہ عورت شیطان کے چنگل میں پھنس کر
16:19دعوتِ گناہ پر مسر ہے
16:21تو باہر نکلنے کے لئے دروازے کی جانب بھاگے
16:24زلیخان پکڑنے کے لئے ان کے پیچھے دوڑی
16:27ان کی قمیز کا پچھلا دامن
16:30اس کے ہاتھ میں آ گیا
16:31جسے اس نے اپنی طرف کھینچا
16:33تو وہ پھٹ گیا
16:34حضرت یوسف علیہ السلام باہر نکلے
16:37تو سامنے عزیزِ مصر کھڑا تھا
16:40پیچھے زلیخان بھی باہر آ گئی
16:42اس نے شوہر کو دروازے پر کھڑا دیکھا
16:44تو ماسوم بن گئی
16:45اور حضرت یوسف علیہ السلام پر
16:47الزام لگاتے ہوئے گویا ہوئی
16:49کہ جو شخص تیری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے
16:52تو بس اس کی سزا یہی ہے
16:54کہ اسے قید کر دیا جائے
16:56اور اسے کوئی دردناک سزا دی جائے
16:59حضرت یوسف علیہ السلام نے جب دیکھا
17:01کہ اس عورت نے الزام انہی پر لگا دیا ہے
17:04تو صورتحال واضح کر دی
17:06بولے یہی مجھے اپنی نفسانی خواہش پورا کرنے پر مجبور کر رہی تھی
17:11عزیزِ مصر کے سامنے ایک طرف بیوی تھی
17:14جو حضرت یوسف علیہ السلام پر بدکاری کا الزام لگا رہی تھی
17:18تو دوسری طرف حضرت یوسف علیہ السلام تھے
17:22کہ جن کی شرافت پاکیزگی صداقت اور سچائی مسلمہ تھی
17:26وہ سوچ رہا تھا
17:28کہ ان میں سے کون سچا ہے
17:29قرآن پاک میں ارشاد باریتالہ ہے
17:32عورت کے گھر والوں میں سے
17:34ایک گواہ نے گواہی دی
17:36کہ اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹا ہوا ہے
17:39تو عورت سچی ہے
17:40اور وہ جھوٹا ہے
17:42اور اگر اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے
17:44تو یہ جھوٹی ہے
17:46اور وہ سچا ہے
17:47جب اس یعنی یوسف علیہ السلام کا کرتہ دیکھا
17:51تو وہ پیچھے سے پھٹا تھا
17:53تب اس نے زلیخہ سے کہا
17:55کہ یہ تمہارا فریب ہے
17:56اور کچھ شک نہیں
17:58کہ تم عورتوں کے فریب بڑے ہوتے ہیں
18:01پھر اس نے کہا
18:02یوسف اس بات کا خیال نہ کرو
18:05اور زلیخہ
18:06تو اپنے گناہ کی بخشش مانگ
18:08بے شک خطہ تیری ہی ہے
18:10ناظرین تفسیر ابن کثیر
18:12اور معارف القرآن میں
18:14ایک دودھ پیتے بچے کا ذکر ہے
18:16کہ جسے اللہ تعالی نے گویائی عطا فرمائی
18:20اور اس نے عزیز مصر کو
18:22یہ حکیمہ نام شورا دیا
18:23جس میں حضرت یوسف علیہ السلام کی
18:26بے گناہی ثابت ہوئی
18:28یہ واقعہ دربار خاص سے ہوتا ہوا
18:30شہر کی خواتین میں عام ہو گیا
18:33انہوں نے زلیخہ کو بدنام
18:35اور اسے لانتان کرنا شروع کر دیا
18:37جس کا قرآن کریم میں یوں ذکر کیا گیا ہے
18:41ارشاد باری تعالی ہے
18:42اور عورتوں نے شہر میں چرچا کیا
18:45کہ عزیز کی عورت اپنے غلام کو چاہتی ہے
18:48اس کی محبت میں فریفتہ ہو گئی ہے
18:51ہم تو اسے سریح غلطی پر دیکھتے ہیں
18:54ناظرین جب زلیخہ
18:55ان عورتوں کی دنز سے تنگ آ چکی
18:58تو اس نے ان عورتوں کو
19:00اپنے گھر کھانے پر مدعو کر لیا
19:02پھر جب سب خواتین کھانے کی دعوت پر آ گئیں
19:05تو اس نے ان میں سے ہر ایک کو
19:07پھل تراشنے کے لیے
19:09ایک ایک چھوری دی
19:10اور پھر یوسف علیہ السلام سے کہا
19:13کہ ان کے سامنے چلے آؤ
19:14ان عورتوں نے جب حضرت یوسف علیہ السلام
19:17کے خسن جمال کو دیکھا
19:19تو ایسی مدہوش ہوئیں
19:21کہ پھل تراشنے کی بجائے
19:23اپنے ہاتھ کٹ لئے
19:24اور بے اختیار بول اٹھیں
19:26سبحان اللہ یہ انسان
19:29ہرگز نہیں یہ تو یقیناً
19:30کوئی بہت بزرگ فرشتہ ہے
19:33جب زلیخہ نے دیکھا
19:34کہ یہ عورتیں تو یوسف علیہ السلام
19:37کے جلوہ حسن سے
19:38مبہوت اور مدہوش ہو گئی ہیں
19:40تو اس نے کہا کہ یہی وہ غلام ہے
19:43جس کے بارے میں تم مجھ پر
19:45لعنت ملامت کر رہی تھی
19:46میں نے ہر چند اس سے اپنا
19:48مطلب حاصل کرنا چاہا
19:50لیکن اس نے اپنے آپ کو روک لیا
19:52اور جو کچھ میں کہہ رہی ہوں
19:54اگر یہ وہ کام نہ کرے گا
19:56تو قید کر دیا جائے گا
19:58اور رسوہ ہوگا
19:59مفسرین لکھتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد
20:02وہ عورتیں بھی
20:04زلیخہ کی ہم نواہ ہو گئیں
20:06اور اس کی تائید اور حمایت کرنے لگیں
20:08جس کی بنا پر زلیخہ مزید ندر ہو گئی
20:11تو آپ علیہ السلام نے
20:13اپنے رب سے التجا کی
20:14اے میرے پروردکار
20:16جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں
20:18اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے
20:21اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا
20:24تو میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا
20:26اور نادانوں میں داخل ہو جاؤں گا
20:29حدیث میں ہے کہ سات آدمیوں کو
20:31اللہ تعالیٰ اپنے عرش کا سایہ عطا فرمائے گا
20:35ان میں سے ایک وہ شخص ہے
20:36جسے کوئی ایسی عورت دعوت گناہ دے
20:39جو حسین و جمیل ہو
20:41اور جاہو منصب کی بھی حامل ہو
20:44لیکن وہ اس کے جواب میں یہ کہہ دے
20:47کہ میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں
20:49ناظرین جب زلیخہ کے دعو پیچ ناکام ہو گئے
20:52تو حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانے میں ڈالنے کا تہیہ کر لیا
20:57اس نے اپنے شوہر کو مجبور کیا
20:59کہ اس کی جس قدر رسوائی اور بدنامی ہو چکی ہے
21:03اس کے توڑ کے لیے یوسف علیہ السلام کو قید خانے میں ڈال دیا جائے
21:08تاکہ لوگوں کو معلوم ہو
21:10کہ زلیخہ بے قصور ہے
21:12حضرت یوسف علیہ السلام کی عفت و پاک دامنی ثابت ہونے کے باوجود
21:16عزیز مصر نے انہیں حوالہ زندان کر دیا
21:20یوں اللہ تعالی نے جائل جانے کی دعا قبول فرما کر
21:24ایک طرف تو انہیں عورتوں کی چال بازیوں سے بچا لیا
21:27تو دوسری طرف شاہ مصر کے قرب اور حکومت میں شامل ہونے کے مواقع فراہم کر دیے
21:34آپ علیہ السلام قیدیوں کی خبرگیری کرتے
21:37اور ان سے پیار و محبت سے پیش آتے
21:40چنانچہ بہت جلد قیدیوں میں مقبول ہو گئے
21:43محل کے دو خاص آدمی بادشاہ کو زہر دینے کے الزام میں گرفتار کر کے قید خانے لائے گئے
21:50ان میں سے ایک شاہی ساقی
21:52یعنی بادشاہ کو مشروبات پلانے والا اور دوسرا باورچی تھا
21:56ایک رات ان دونوں نے عجیب و غریب خواب دیکھے
21:59جس کی تعبیر کے لیے حضرت یوسف علیہ السلام سے رجوع کیا گیا
22:03ایک نے خواب میں خود کو شراب نچوڑتے دیکھا
22:07اور دوسرے نے دیکھا کہ وہ اپنے سر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہیں
22:11جسے پرندے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں
22:14آپ علیہ السلام نے فرمایا
22:16اے میرے قید خانے کے رفیقو
22:19تم دونوں میں سے ایک تو بادشاہ کو شراب پلانے پر مقرر ہو جائے گا
22:24لیکن دوسرا سولی پر چڑھایا جائے گا
22:27اور پرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھائیں گے
22:30آپ علیہ السلام نے دونوں اشخاص میں سے جس کی نسبت خیال کیا
22:35کہ وہ رہائی پائے گا
22:37اس نے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا
22:40لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا
22:45اور آپ علیہ السلام کئی برس تک جیل خانے میں رہے
22:49آپ علیہ السلام سات سال جیل میں رہے
22:51پھر اللہ رب العزت نے اپنے محبوب نبی کی باعزت رہائی کا بندوبست فرما دیا
22:58ہوا کچھ یوں کہ مصر کے بادشاہ نے ایک ایسا حیران کن اور پریشان کن خواب دیکھا
23:04کہ درباری اور مساحبین بھی اس کی تعبیر نہ بتا سکے
23:08قرآن پاک میں اسے یوں بیان کیا گیا ہے
23:11اور بادشاہ نے کہا میں خواب دیکھتا ہوں
23:14کہ سات موٹی گائے ہیں جنہیں سات دبلی گائیں کھاتی ہیں
23:19اور سات سبز خوشے ہیں اور سات خوشک
23:22اے دربار والو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتلاو
23:25اگر تم خواب کی تعبیر دینے والے ہو
23:28انہوں نے کہا یہ خیالی خواب ہیں
23:31اور ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے
23:33اس وقت دربار میں وہ شاہی ساقی بھی موجود تھا
23:37اسے جیل میں قید حضرت یوسف علیہ السلام کی یاد آگئی
23:41اس نے بادشاہ سے کہا
23:43کہ اگر مجھے جیل خانے جانے کی اجازت عنایت فرما دیں
23:47تو میں اس خواب کی تعبیر آپ کو لا دوں گا
23:49بادشاہ نے اسے اجازت دے دی
23:51تو وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس آیا
23:54قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
23:57جب وہ یوسف کے پاس آیا
23:59تو کہنے لگا
24:00اے یوسف آپ بڑے سچے ہیں
24:02آپ ہمیں اس خواب کی تعبیر بتلائیے
24:05کہ سات موٹی تازی گائے ہیں
24:07جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں
24:10اور سات سبز خوشے ہیں
24:12اور سات ہی خوشک
24:13تاکہ میں ان لوگوں کے پاس واپس جا کر
24:16تعبیر بتاؤں
24:17عجب نہیں کہ وہ تمہاری قدر جانے
24:19یوسف علیہ السلام نے کہا
24:21تم لوگ سات سال تک متواتر کھیتی کرتے رہوگے
24:25تو جو غلہ کٹو
24:26تو تھوڑے سے غلے کے سوا
24:28جو کھانے میں آئے
24:30باقی خوشوں ہی میں رہنے دینا
24:32اس کے بعد سات سال نہایت سخت قہد کے آئیں گے
24:35وہ اس غلے کو کھا جائیں گے
24:38جو تم نے ان کے لئے زخیرہ رکھ چھوڑا تھا
24:40صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا
24:43جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے
24:45پھر اس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا
24:47کہ خوب میہ برسے گا
24:49اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے
24:52حضرت یوسف علیہ السلام نے
24:54نہ صرف خواب کی تعبیر بیان فرمائی
24:57بلکہ اناج کو کیڑے سے محفوظ رکھنے کے لئے
25:00ہمدردہ نام مشورے بھی دے دیئے
25:02شاہی ساقی نے بادشاہ کے دربار میں
25:05حاضر ہو کر خواب کی تعبیر بیان کی
25:07تو بادشاہ بہت حیران ہوا
25:10اس نے حکم جاری کیا
25:11کہ تعبیر بتانے والے کو دربار میں پیش کیا جائے
25:15قاصد فوری طور پر حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا
25:19اور دربار میں چلنے کی درخواست کی
25:21آپ علیہ السلام نے فوری طور پر جانا پسند نہ فرمایا
25:25اور قاصد سے کہا
25:27کہ اپنے بادشاہ کے پاس جا کر پوچھو
25:29کہ ان عورتوں کا حقیقی واقعہ کیا ہے
25:32جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے
25:34اس پر بادشاہ نے عورتوں کو طلب کیا
25:37اور پوچھا
25:38اے عورتو کیا ہوا تھا
25:40جب تم نے یوسف علیہ السلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا
25:44سب نے یک زبان ہو کر کہا
25:46حاشا للہ ہم نے ان میں کوئی برائی نہیں دیکھی
25:50عورتوں نے جب حضرت یوسف علیہ السلام کی پاک دامنی کی گواہی دے دی
25:55تو زلے خان شرم سے پانی پانی ہو گئی
25:58وہ بولی
25:59اب سچی بات تو ظاہر ہوئی گئی ہے
26:01اصل یہی ہے
26:02کہ میں نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا
26:06اور وہ بے شک سچے ہیں
26:07دراصل حضرت یوسف علیہ السلام نے رہائی سے قبل ضروری سمجھا
26:12کہ اس معاملے کی اصل حقیقت کھل کر واضح ہو جائے
26:16جس کی بنا پر وہ کئی برس جائل میں رہے ہیں
26:19حضرت یوسف علیہ السلام کو دربار میں لائیا گیا
26:22تو بادشاہ نے بڑا پرت تپاک خیر مقدم کیا
26:26اور آپ علیہ السلام سے خواب کی تمام تفصیلات اور ان کا حل دریافت کیا
26:32بادشاہ آپ علیہ السلام کی فہم و فراست اور ذہانت سے بے حد متاثر ہوا
26:37حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا
26:40کہ مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجئے
26:43کیونکہ میں حفاظت کر سکتا ہوں
26:45اور اس کام سے واقف بھی ہوں
26:47بادشاہ مصر ایک جہان دیدہ تجربے کار اور چہرہ شناس شخص تھا
26:53اس نے آپ علیہ السلام کو خزان سمیت امور مملکت میں مختار کل بنا دیا
26:59شاہ مصر کے خواب کے مطابق شروع کے سات سال خوشحالی کے تھے
27:04آپ علیہ السلام نے بہترین حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے
27:08تین اہم کام کیے
27:10نمبر ایک اناج کی پیداوار میں بڑے پیمانے پر اضافہ
27:14بنجر زمینوں پر کاشت کا خصوصی انتظام
27:18نمبر دو اناج کے استعمال میں احتیاط اور کفایت شعاری
27:23نمبر تین اناج کی زیادہ سے زیادہ زخیرہ اندوزی
27:27خوشحالی کے دنوں میں آپ علیہ السلام نے ایک وقت کھانے کا حکم فرمایا
27:32اور خود بھی اس پر سختی سے عمل پیرا ہوئے
27:35سات برس گزر گئے قہد کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے
27:40آپ علیہ السلام نے عوام کو تعقید کر دی تھی
27:43کہ جس قدر ممکن ہو اپنے گھروں میں غلات جمع کر لیں
27:47ایک برس بعد آپ علیہ السلام نے اعلان کروا دیا
27:51کہ اناج کی تقسیم صرف دربار شاہی سے ہوگی
27:54لہٰذا لوگ اناج کے حصول کے لیے وہاں کا رخ کرنے لگے
27:58جہاں حضرت یوسف علیہ السلام کی نگرانی میں اناج تقسیم کیا جاتا تھا
28:04آپ علیہ السلام نے غلے کی فروخت کا ایک خاص پیمانہ بنایا تھا
28:09کسی کو بھی ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ غلہ نہیں ملتا تھا
28:14قہد نے مصر کے علاوہ شام اور فلسطین سمیت پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا
28:21اس کے ساتھ ہی حضرت یوسف علیہ السلام کی فیاضی اور رحم دلی کی شورت بھی دور دور تک پھیل چکی تھی
28:29لوگ جوک در جوک آتے اور اناج خرید کر چلے جاتے
28:33حضرت یعقوب علیہ السلام کا خاندان فلسطین میں تھا
28:37اور جب آپ علیہ السلام کو عزیز مصر یعنی حضرت یوسف علیہ السلام کی فیاضی کا علم ہوا
28:44تو بیٹوں سے کہا کہ تم بھی مصر جا کر اس رحم دل حکمران سے غلہ لے آؤ
28:51بن یامین کے علاوہ دسوں بھائی شاہی دربار میں غلہ لینے پہنچ گئے
28:56جہاں حضرت یوسف علیہ السلام شان و شوقت کے ساتھ جلوہ آفروز تھے
29:01بھائی تو انہیں نہ پہچان سکے لیکن انہوں نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا
29:06حضرت یوسف علیہ السلام سات برس کی عمر میں ان سے جدا ہوئے تھے اور اب چالیس سال کے ہو چکے تھے
29:13آپ علیہ السلام نے مزید اتمنان کے لیے ان سے سوالات کیے اور فرمایا
29:17تم مصری معلوم نہیں ہوتے تمہاری زبان بھی عبرانی ہے کہیں کسی دشمن ملک کے جاسوس تو نہیں ہو
29:25ان سوالات کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنے حالات کے بارے میں سب کچھ بتا دیں
29:31سوتیلے بھائیوں میں سے ایک نے بتایا کہ وہ نبی زادے ہیں اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ہیں
29:38ہم بارہ بھائی تھے ایک بھائی کو بچپن میں بھیڑیا کھا گیا جس کے غم میں ہمارے والد نابی نہ ہو چکے ہیں
29:45ایک چھوٹا بھائی ہے جسے والد کی دیکھ بھال کے لیے چھوڑ آئے ہیں
29:49حضرت یوسف علیہ السلام نے انہیں شاہی مہمان خانے میں رکھا جاتے ہوئے پورا اناج دیا
29:56اور کہا کہ آئندہ اپنے چھوٹے بھائی کو بھی ساتھ لانا اگر تم اسے لے کر نہیں آئے
30:02تو غلہ ملے گا اور نہ ہی خاطر مدارت ہوگی
30:06اس کے ساتھ ہی آپ علیہ السلام نے خفیہ طور پر ان کے اناج کی رقم بھی ان کی بوریوں میں رکھوا تھی
30:13بھائی خوشی خوشی اناج لے کر کنعان واپس آئے
30:17تو والد کو عزیز مصر کے حسن سلوک اور فیاضی اور رحم دلی کے واقعات سنائے گئے
30:23ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ انہوں نے حکم دیا ہے
30:27کہ اگر آئندہ اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ نہ لائے
30:30تو اناج نہیں ملے گا
30:31لہٰذا بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ ہم پھر غلہ لائیں
30:36ہم اس کی نگہبانی کریں گے
30:38حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہا
30:40کہ مجھے تو اس کی بابت تمہارا بس ویسا ہی ععتبار ہے
30:44جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں تھا
30:47سو اللہ ہی بہتر نگہبان اور سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
30:52ناظرین اناج ختم ہونے لگا
30:54تو انہوں نے دوبارہ مصر جانے کا قصد کیا
30:57اور بن یامین کو ساتھ لے جانے کے لیے والد مخترم کی خدمت میں حاضر ہوئے
31:03حضرت یعقوب علیہ السلام سابقہ تجربے کی بنا پر
31:07بن یامین کو ساتھ بھیجنے پر آمادہ نہ تھے
31:10لہذا انہوں نے کہا
31:12کہ میں تو اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا
31:15جب تک کہ تم اللہ کو بیچ میں ڈال کر
31:18مجھے قول و اقرار نہ دے دو
31:20کہ اسے میرے پاس صحیح سالم لے آوگے
31:23سوائے اس ایک صورت کے
31:25کہ تم سب گرفتار کیے جاؤ
31:27یعنی تمہیں کوئی اجتماعی مصیبت پیش آ جائے
31:31یا تم سب ہلاک ہو جاؤ
31:33جب انہوں نے عہد کر لیا
31:35تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے انہیں ہدایت کی
31:38کہ اے میرے بیٹو
31:39تم سب ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا
31:43بلکہ جدہ جدہ دروازوں سے داخل ہونا
31:45اور میں اللہ کی تقدیر تو تم سے نہیں روک سکتا
31:49بے شک حکم اسی کا ہے
31:51میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں
31:53اور اہل توقل کو اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیے
31:57یہ گیارہ تندرست اور توانہ اور جوان بھائی تھے
32:00لہٰذا ان سب کے ایک ہی دروازے سے داخل ہونے کی صورت میں
32:05نظرِ بد کا احتمال تھا
32:06اسی لئے حضرت یعقوب علیہ السلام نے
32:09انہیں الگ الگ دروازوں سے داخل ہونے کا حکم دیا
32:12نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے
32:16کہ نظر کا لگ جانا حق ہے
32:19آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نظرِ بد سے بچنے کے لیے
32:23دعایا کلمات بھی بتلائے
32:25مثلا فرمایا کہ جب تمہیں کوئی چیز اچھی لگے
32:29تو بارک اللہ کہو
32:30سورہ فلک اور سورة الناس کو نظرِ بد کے لیے
32:34بطورِ دم پڑنا چاہیے
32:36بحوالہ جامع ترمزی
32:38اسی طرح سے ماشاءاللہ
32:40لا حول ولا قوت الا باللہ پڑنا
32:43قرآن پاک سے ثابت ہے
32:44یہ سب بھائی بن یامین کو ساتھ لے کر عزیز مصر کے دربار میں پہنچ گئے
32:50ناظرین حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائی کو پہچان لیا
32:54آپ علیہ السلام نے دو دو بھائیوں کو ایک کمرے میں ٹھہرایا
32:58اس طرح بن یامین تنہ رہ گیا
33:00تو انہیں الگ کمرے میں رکھا
33:02اور پھر خلوت میں انہیں بتا دیا
33:05کہ وہ ان کے حقیقی بھائی
33:07یوسف علیہ السلام ہیں
33:09حضرت یوسف علیہ السلام نے بن یامین سمیت سب بھائیوں کا اناج
33:14ان کے اونٹوں پر لدوا دیا
33:16اور وہ خوشی خوشی روانہ ہو گئے
33:18قرآن پاک میں ارشاد باری طالع ہے
33:20پھر جب انہیں ان کا سامان ٹھیک ٹھیک کر کے دیا
33:24تو اپنے بھائی کے سامان میں پانی پینے کا پیالہ رکھ دیا
33:28پھر ایک آواز دینے والے نے پکار کر کہا
33:31اے قافلے والو تم لوگ تو چور ہو
33:33وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے
33:36تمہاری کیا چیز چوری ہوئی ہے وہ بولا
33:39بادشاہ کا پیالہ کھویا ہے
33:41اور جو شخص اس کو لے آئے
33:44اس کے لیے ایک اونٹ کے بوجھ کا غلہ انام ملے گا
33:48اور میں اس کا زامن ہوں
33:50وہ کہنے لگے کہ اللہ کی قسم
33:52تم کو معلوم ہے کہ ہم اس ملک میں اس لیے نہیں آئے
33:56کہ خرابی کریں اور نہ ہم چور ہیں
33:58انہوں نے کہا اچھا
34:00اگر تمہارے سامان بھی وہ پیالہ مل گیا
34:02تو پھر اس کی سزا کیا ہوگی
34:05بھائیوں نے جواب دیا
34:06یعقوب علیہ السلام کی شریعت میں
34:08اس کی سزا یہی ہے
34:10کہ چور کو اس شخص کے سپرد کیا جاتا ہے
34:13سب کو معاہ السامان
34:15حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا گیا
34:19وہاں سب بھائیوں کے سامان کی تلاشی ہوئی
34:21اور آخر میں بنیامین کے سامان کی تلاشی کے دوران
34:25وہ پیالہ ان کے سامان سے برامد ہو گیا
34:28اب جرم ثابت ہونے پر بنیامین کو جانے کی اجازت نہیں ملی
34:32یہ صورت حال ان بھائیوں کے لیے نہایت ہی حیران اور پریشان کن تھی
34:38انہوں نے کہا کہ اگر اس نے چوری کی تو کوئی تاجب کی بات نہیں
34:42اس کا بھائی بھی پہلے چوری کر چکا ہے
34:45دراصل حضرت یوسف علیہ السلام کی پرورش ان کی پھپھی کیا کرتی تھی
34:50جو انہیں بہت چاہتی تھی
34:52جب آپ علیہ السلام ذرا بڑے ہوئے
34:55تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے انہیں لینا چاہا
34:58پھپھی انہیں روکنا چاہتی تھی
35:00اس لیے ان کی کمر میں ایک پٹکا کپڑوں کے اندر باندھ کر
35:05مشہور کر دیا کہ پٹکا گم ہو گیا ہے
35:08اور سب کی تلاشی لی
35:10تو وہ ان کی کمر سے بندھا نکلا
35:13لہذا اس شریعت کے قانون کے مطابق انہیں پھپھی کے پاس رہنا پڑا
35:19یہاں تک کہ انہوں نے وفات پائی
35:21تو پھر حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد کے پاس آ گئے
35:26بحوالہ معارف القرآن
35:28بھائیوں کو فکر تھی کہ والد کو کیا جواب دیں گے
35:31انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام سے درخواست کی
35:34کہ بن یامین کے والد بہت بڑے ہیں
35:36اس کی جگہ آپ ہم میں سے کسی کو روک لیں
35:39حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا
35:42یہ ممکن نہیں
35:43جس کے سامان سے مال برامد ہوا ہو
35:46وہی سزا کا مستحق ہے
35:48بھائی بڑے مایوس ہوئے
35:49اور آپس میں بیٹھ کر مشورہ کرنے لگے
35:52سب سے بڑے بھائی نے کہا
35:53کہ کیا تمہیں یاد نہیں
35:55کہ اپنے والد سے بن یامین کو واپس لانے کا پختہ عہد کیا تھا
36:00ہم سب اس سے پہلے
36:01یوسف علیہ السلام کے معاملے میں بھی کوتا ہی کر چکے ہیں
36:05تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں
36:08میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں
36:10یہ بڑا بھائی یہودہ تھا
36:12باقی نو بھائی مصر سے روانہ ہوئے
36:14اور کنعان پہنچ کر والد کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا
36:19ساتھ ہی اپنی صفائی بیان کرتے ہوئے گویا ہوئے
36:22کہ اگر آپ علیہ السلام کو ہماری باتوں کا یقین نہیں
36:25تو آپ علیہ السلام اس بستی کے لوگوں سے پوچھ لیں
36:29جہاں ہم مقیم تھے
36:30حضرت عقوب علیہ السلام نے فرمایا
36:33میں تو اپنی پریشانی اور رنج و غم کی فریاد
36:36اپنے اللہ ہی سے کر رہا ہوں
36:39مجھے اللہ کی طرف سے وہ باتیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے
36:43میرے بیٹو تم جاؤ اور یوسف علیہ السلام
36:47اور اس کے بھائی کو پوری طرح تلاش کرو
36:50اور اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو
36:53بے شک اللہ کی رحمت سے ناؤمید وہی ہوتے ہیں جو کافر ہیں
36:57اب یہ سب بھائی حضرت عقوب علیہ السلام کے اسرار پر دوبارہ عزیز مصر کے دربار میں گئے
37:04اور نہایت آجزی اور انکساری سے بھائی کی رہائی کی اپیل کی
37:09ساتھ ہی باپ کے بڑھا پہ زعف اور دوسرے بیٹے کی جدائی کے صدمے کا بھی ذکر کیا
37:16حضرت یوسف علیہ السلام کا دل بھرایا آنکھیں نمناک ہو گئیں
37:20روایت ہے کہ حضرت عقوب علیہ السلام نے عزیز مصر کے نام ایک خط بھی لکھ کر دیا تھا
37:27حضرت یوسف علیہ السلام نے خط پڑا تو بے اختیار رونے لگے
37:31اور پھر اپنے راز کو ظاہر کر دیا
37:34تعرف کی تمہید کے طور پر بھائیوں سے سوال کیا
37:37تم کو کچھ یاد بھی ہے کہ یوسف علیہ السلام اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا برتاؤ کیا تھا
37:43بھائیوں نے جب عزیز مصر کی زبان سے اپنے بھائی یوسف علیہ السلام کا تذکرہ سنا
37:50تو حیران رہ گئے
37:51گھبرا کر بولے کیا سچ مچ تم ہی یوسف ہو
37:54حضرت یوسف علیہ السلام نے جواب دیا
37:57ہاں میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے
38:01اللہ نے ہم پر فضل و کرم کیا جو شخص اللہ سے ڈرتا اور سبر کرتا ہے
38:07تو اللہ نیک و کاروں کا عجر ضائع نہیں کرتا
38:10بھائیوں نے جب حضرت یوسف علیہ السلام کی یہ شان دیکھی
38:14تو اپنی غلطیوں اور اپنی کوتائیوں کا اعتراف کر لیا
38:18آپ علیہ السلام نے بھی پیغمبرانہ عفو درگزر سے کام لیتے ہوئے انہیں معاف کر دیا
38:24حضرت یوسف علیہ السلام نے بھائیوں کو بہت سا اناج دیتے ہوئے کہا
38:29کہ میرا یہ کرتہ لے جاؤ اسے والد صاحب کے موں پر ڈال دینا
38:34ان کی بینائی واپس آ جائے گی اور تم سب اپنے اہل و عیال کے ساتھ میرے پاس آ جاؤ
38:40قافلہ قمیس لے کر چلا ہی تھا
38:43کہ دھائی سو میل دور کنعان میں حضرت یعقوب علیہ السلام نے آس پاس کے لوگوں سے کہنا شروع کر دیا
38:51کہ اگر تم لوگ مجھ کو یہ نہ کہو کہ بڑھا بہ گیا ہے
38:55تو مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے
38:58بھائی واپس کنعان پہنچے اور والد کے چہرے پر کرتہ ڈالا جس سے ان کی بینائی بحال ہو گئی
39:05آپ علیہ السلام نے بیٹوں سے فرمایا
39:07کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
39:15کچھ دنوں کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام اہل خانہ کے ہمراہ مصر روانہ ہو گئے
39:21حضرت یوسف علیہ السلام نے ایک بڑی سپاہ کے ساتھ شہر سے باہر والد اور خاندان والوں کا استقبال کیا
39:30چالیس سال بعد ہونے والی اس ملاقات نے باپ بیٹے
39:34یعنی اللہ کے دو پاکیزہ اور برگزیدہ ہستیوں کو عابدیدہ کر دیا
39:40دونوں دیر تک ایک دوسرے کے گلے لکے رہے
39:43آپ علیہ السلام نے والد اور سوتیلی والدہ کو تخت شاہی پر بٹھایا
39:48پھر خود تخت شاہی پر جلوہ فروز ہوئے
39:51تو شاہی آداب کے مطابق تمام درباریوں نے سجدہ کیا
39:56یہ صورتحال دیکھ کر خاندان یوسف نے بھی ایسا ہی کیا
40:01مولانا اشرف علی تھانوی صاحب تفسیر سورہ یوسف میں فرماتے ہیں
40:06کہ یہ سجدہ تحیت تھا جو امم سابقہ میں جائز تھا
40:11حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنا بچپن کا خواب یاد آ گیا
40:15انہوں نے کہا اے اباجان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے
40:19جو میں نے بچپن میں دیکھا تھا اور جس کو میرے رب نے سچا کر دکھایا
40:24بادشاہ حضرت یوسف علیہ السلام پر ایمان لے آیا تھا
40:28اور اس نے امور سلطنت آپ علیہ السلام کے سپرت کر دیئے تھے
40:33حضرت یوسف علیہ السلام کے خاندان نے مصر ہی میں مستقل سکونت اختیار کر لی تھی
40:39اور اس طرح بنی اسرائیل سرزمین مصر میں آباد ہو گئے
40:44حضرت یوسف علیہ السلام کا انتقال ایک سو بیس سال کی عمر میں ہوا
40:49اور دریائے نیل کے کنارے مدفون ہوئے
40:52روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مصر چھوڑنے کا حکم دیتے ہوئے
40:58حضرت یوسف علیہ السلام کی میت بھی اپنے ساتھ لے جانے کی ہدایت کی
41:03جس پر وہ ان کا تابوت فلسطین لے گئے
41:07اور حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے برابر دفن کر دیا
41:13اللہ تعالیٰ کی ان پر کروڑہا رحمتیں ہوں
41:16ناظرین ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری آج کی ویڈیو آپ کا ایمان تازہ کرنے کے لیے
41:22اچھی ثابت ہوئی ہوگی
41:24اگر ویڈیو آپ نے مکمل دیکھی ہے
41:26تو خدارہ کمنٹ سیکشن میں مجھے ضرور بتائیے گا
41:31کہ ہاں آپ نے ویڈیو کمپلیٹ دیکھی
41:33یا مکمل دیکھی
41:35کیونکہ اس سے ہماری حوصلہ افسائی ہوگی
41:37اور ہم اس واقعے کی بکیا قسطیں بھی
41:40اچھی طرح سے آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کریں گے
41:45اگر ویڈیو اچھی لگی ہو تو دوسرے لوگوں کا ایمان تازہ کرنے کے لیے
41:49اپنے وارٹس ایپ کے گروپس میں
41:51فیس بک پر یا جو بھی سوشل میڈیا آپ یوز کرتے ہیں
41:55اس پر شیئر ضرور کیجئے
41:57آنے والی ویڈیو تک اپنے میزبان
41:59قادر بخش کلھڑو کو اجازت دیجئے
42:02اللہ حافظ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended