00:00کبو جال کو لے لیں
00:01دماغ میں شاکت آلا کہ حضور میں کوئی شاک نہیں
00:04ایک دن آکے کہنے لگا کہ بتائیے میری مٹھی میں کیا ہے
00:08نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
00:13اگر میں نے بتا دیا
00:14کہنے لگر آپ نے بتا دیا تو میں کلمہ پڑھ لوں گا
00:17حضور نے فرمایا میں نے بتا دینا
00:19پر تو نے کوئی نہیں پڑھنا
00:20بتا دینا
00:22کہ بتائیے تو حضور نے فرمایا
00:24چل سودہ کر لیتے ہیں
00:26اگر جو تیری مٹھی میں ہے وہی بتا دے
00:28پھر تیرا کیا خیال ہے
00:31تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا
00:33کیا بھئی ابو جال کی مٹھی میں
00:35تو اس کی مٹھی میں کنکر تھے
00:37کنکروں نے کلمہ پڑھنا شروع کر دی
00:39جب کنکروں نے کلمہ پڑھا
00:41پتھر تھے وہ انہوں نے کلمہ پڑھا
00:43ابو جال نے وہ کنکر زمین پہ پھینکے کہنا لگا
00:47اخو تیرا جادو تو پتھروں پہاڑوں پہ بھی چلتا ہے
00:50اب جملہ کہنے لگا ہوں سمجھ لینا
00:53ابو جال گوشت کا آدمی تھا
00:55کنکر پتھر تھے پتھر کلمہ پڑھ گئے
00:59گوشت پوشت کا آدمی تھا پر کلمہ
01:01کیونکہ یہاں کیا تھا شاک
01:04اس نے آگے نہیں بڑھنے دی
01:06گوشت پوشت کا شخص ہو کے
01:08پتھروں سے آگے نکل گئے
01:10نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا
01:13بلکہ وہ جو یہودی والی روایت ہے
01:16اس کے پاس منظر میں بھی بعض محدثین نے لکھا ہے
01:19اس کو بھی اسی نے بھیجا کرنے لگا جاؤ
01:21نبی پاک سے جا کے کہو
01:22اگر وہ درخت آپ کا کلمہ پڑھے تو میں بھی پڑھ لوں گا
01:27درخت
01:27اب درخت ہوتے تو جاندار ہیں
01:30پر کلمہ تو کوئی نہیں نہ پڑھتے
01:31درخت سے بھی تو انسانوں سے کلمہ پڑھنے کی بات
01:35اگر درخت پڑھے تو میں پڑھ لوں گا
01:37نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم دور بیٹھے تھے
01:39درخت دور تھا
01:40اور امام سجوتی علی رحمہ نے لکھا ہے
01:43درخت بھی کی کر کا تھا
01:45نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
01:47اسے یہ ہوتی سے کہ
01:48تو جا کے درخت کو کہہ کہ تجھے نبی پاک بلاتے ہیں
01:51فرمایا میں گیا تو پھر تم نے کہنا
01:53جادو کر کے بلا ہے
01:54احتیاط بھی کی
01:57ہر چیز آنکھوں کے سامنے رکھی
01:59تو جا کے کہہ کہ تجھے بلاتے ہیں
02:02وہ بندہ گیا
02:03جا کے کہنے لگا
02:04اور امام سجوتی نے اس کو لکھا ہے
02:07کہنے لگے اس نے نبی پاک کا نام بھی نہیں لیا
02:09کیونکہ ابو جا الینڈ کمپنی کو بتا تھا
02:12کہ مصطفیٰ کے نام میں بھی بڑی برکت
02:14خالی نام بھی نہیں لیا
02:17کہنے لگا
02:18درخت
02:18وہ جو سامنے بیٹھے ہیں
02:21وہ تجھے بلا رہے ہیں
02:22نام نہیں لیا حضور کا
02:24وہ جو سامنے بیٹھے ہیں
02:25جاعت لدعوتہل اشجارو ساجدتا
02:29امام بوسیری کہتے ہیں
02:31درخت آیا
02:32اور سجدہ کرتا ہوا
02:35زمین چیرتا ہوا آیا
02:37کس طرح آیا
02:38پہلے آگے جھکا
02:39پھر پیچھے جھکا
02:40دائیں جھکا
02:41بائیں جھکا
02:42یہاں بھی لکھ رہے ہیں
02:43وعدوں نے لکھا ہے
02:44کہ وہ نہ درخت
02:45اپنی جڑیں اکھیڑ رہا تھا
02:47جب چلنا تھا نا
02:48اس نے حضور کی طرف آنا تھا
02:50تو آگے دائیں بائیں ہوا
02:51جڑیں اکھیڑ رہا تھا
02:53لیکن ہمارے استاد
02:54جب ہمیں یہ روایت پڑھایا کرتے تھے
02:55تو کہتے تھے
02:56جڑیں نہیں اکھیڑ رہا تھا
02:57جب اس نے سنا
02:58مجھے نبی پاک نے بلایا
02:59تو اسے وجد ہو گیا تھا
03:01وہ جھونے لگ گیا تھا
03:03جھوم رہا تھا
03:04حضور نے مجھے بلا لیا
03:05جہاں اتنے دعوت
03:06اِلْ اَشْجَارُ سَاجِدَ
03:08تو درخت آیا
03:09اس نے آکے نبی پاک کو سجدہ کیا
03:11لکڑی کا بنا وہ درخت ہے
03:13سجدہ کیا
03:16سجدہ کرنے کے بعد درخت اٹھا
03:19اور اٹھ کے اس نے نبی پاک کا کلمہ پڑھا
03:21وہ جس کو ابو جال نے بھیجتا ہے نا
03:24یہودی
03:25وہ درخت کی حالت ہے
03:28کہ کلمہ پڑھ گیا
03:28وہ کلمہ پڑھ گیا
03:31لیکن یہی بہیمان کہنے لگا
03:33ان کا تو درختوں پہ بھی جادو چلتا ہے
03:36لارہی وفی شک قرآن پاک میں
03:39لیکن اگر بندے کے دماغ میں ہو
03:42اس کا علاج ہے کوئی
03:43کدھر ہی شک بیٹھ جائے
03:46بسادی مثال دیتا ہوں
03:48کہ سامنے دیوار صاف ہو
03:49لیکن گرد اگر آئینے پہ پڑی ہو
03:51دیوار صاف کرنی چاہیے
03:53کہ اینک کا شیشہ صاف کرنا چاہیے
03:55ساری زندگی لوگ دیوار صاف کرتے
03:57گزار دیتے ہیں
03:58ساری زندگی تراش خراش
04:01کرتے گزار اپنی مرضی کی
04:03پینٹنگ کرتے گزار دیتے ہیں
04:05پھر اپنی آنکھ کی پتلی
04:07صاف نہیں کرتے
04:08آنکھ کی پتلی صاف نہیں کرتے
04:11کسی نے حضرت رومی سے کہا تھا
04:13حضور دنیا میں کوئی اچھا ملتا نہیں
04:15فرمانے لگے تھوڑا رونا شروع کر
04:17تاکہ تیری پتلیاں وضو کر لیں
04:23صاف ستھرے لوگ دنیا میں پائے جاتے ہیں
04:25ابو جال پھیرا گیا
04:26کہنے لگا
04:28اگر آپ چاند کے دو ٹکڑے کرنے
04:31تو میں کلمہ پڑھنے کو تیار
04:32اچھا یہاں بھی بڑی مزے کی بات ہے
04:37اللہ نے پہلے کہہ دیا
04:38نبی پاک کو کہ
04:39محبوب یہ جن کی قسمت میں
04:48کفر ہے نا آپ انہیں ڈرائیں چاہے نہ ڈرائیں
04:51یہ ایمان نہیں لائیں گے
04:52کنکروں نے بھی کلمہ پڑھ لیا
04:56درختوں نے بھی پڑھ لیا
04:57سارا کچھ ہو گیا
04:58اور اللہ نے بھی کہہ دیا
04:59کہ محبوب اس بھی ماننے کلمہ
05:01نہیں پڑھنا پر
05:03حضور نے فرمایا
05:04یہ پڑے نہ پڑے
05:05ہم نے میدان نہیں چھوڑنا
05:06جتنی دفعہ آئے گا نا
05:08ہم اسے ضرور موجزہ دکھائیں
05:10جتنی دفعہ آئے گا
05:12ہم کیوں میدان چھوڑیں
05:13آگے کہنے لگا
05:14یہ اگر چاند کے دو ٹکڑے کر دے
05:16تو اقتربت الساعت والشکل کمر
05:18تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
05:21نے انگلی کا اشارہ کیا
05:23چاند دو عصوں میں بٹا
05:26کوہ صفائق پہاڑی تھی مکہ میں
05:28آدھا ٹکڑا پہاڑی
05:30کی اس جانب ہوا
05:31آدھا اس جانب
05:32یعنی وضاحت کی
05:34اللہ کریم نے کہ ایسے نہ ہو
05:36کہ یہ کہہ دی
05:37وہ تو ایسے بالکل شاک ہوا
05:38تو مل گیا
05:39پتہ نہیں میری آنکھوں پہ جادو ہو گیا
05:41ملا ہے کہ نہیں ملا
05:42جب ٹوٹا تو حدیث پاک میں آتا ہے
05:44کہ آدھا چاند کوہ صفائق
05:47ادھر گیا
05:47اور آدھا
05:48تو پہاڑی تھی
05:49چاند نیچے آیا
05:51پہاڑی کے گرد گھوما
05:52آگے جا کے ملا
05:53یعنی وقفہ دیا گیا
05:54بقاعدہ دیکھنے کا سمجھ نہیں
05:56پوری دنیا میں جتنے لوگ
05:58اس وقت چاند در ایک دیکھ رہتے
05:59ہندوستان تک
06:01روایتوں میں ملتا ہے
06:02کہ لوگوں نے گوائی دی
06:03کہ ہم نے چاند ٹوٹتے
06:05دیکھا ہے
06:06زمانہ مان گیا
06:08لوگوں کی چیخیں نکل گئیں
06:09لوگ قدموں میں گر گئے
06:11پر وہ جس کے دماغ میں شاک تھا نا
06:14وہ نہیں مانا
06:16شجر و حجر بہچان گئے
06:17پر انسان کی نظروں میں
06:19شاک ہی رہا
06:21دنیا میں سب سے مجبور
06:24کمزور
06:25بزدل
06:27کم فہم بندہ وہ ہے
06:29جس کے دماغ میں شاک ہے
06:31سب سے کم فہم آگا
06:34اس کی فراست روحانیہ
06:36زیرو ہے
06:37وہ ایک ناکام شخص ہے
06:40اس کو کسی پہ بھی شاک پڑ جائے
06:42کسی پہ بھی
06:43ہم نے دیکھا ہے
06:45جو عورت اپنے مرد پہ شاک کرنے لگ جاتی ہے
06:48اس گھر کا کوئی علاج ہی نہیں ہوتا
06:52جو شکوا کرتی ہے
06:54روٹی کا پیسوں کا
06:56وہ کسی دور میں مسئلہ اس کا حل ہو جاتا ہے
06:58جو نافرمان ہوتی ہے
07:00اس کا بھی مسئلہ کسی نہ کسی زمانے میں حل ہوئی جاتا ہے
07:04یہ جس کو شک پڑ جاتا ہے نہ شک
07:06اس کا مسئلہ قیامت کی صبح تاکال نہیں ہوتا
07:09اگر مرد کو شک پڑ جائے
07:12اس کا مسئلہ بھی
07:13کبھی زندگی میں دوبارہ حال
07:15یاد رکھے
07:17یہ جو شکوک و شباہت ہے نا
07:18قرآن پورا شکوک و شباہت کا اضالہ کرتا ہے
07:22کافر کے سوال کا جواب دیتا ہے
07:26منافق کے سوال کا جواب دیتا ہے
07:28قرآن مجید ہر ایک کی تسلی کراتا ہے
07:31لیکن شروع میں بتا دیا کہ لا رعی و فی
07:34شاک والی گنجائش اس میں
07:36لوگ آج تک شک کر رہے ہیں
07:38کہ اللہ کا کلام ہے
07:39کہ نہیں آج تک لوگ ہیں
07:40تو میرے بھائی
07:41شکوک والی زندگی کمزور ہوتی ہے
07:44شکوک والی
07:46اکل مند لوگوں کی زندگی کمزور زندگی ہے
07:49صحابہ اکرام عمل والے لوگ تھے
07:52وہ بحثوں میں الجے رہتے تو عمل نہ کر پاتے
07:54ہمارے ہاں نہ بیعث ہوتی ہے
07:56جس مسئلے کا کوئی تعلق ہی نہیں
07:58الجنوں سے نکل آئیں
08:00عمل کا رستہ بیعث جو ہوتی ہے
08:02یہ عمل کا رستہ رکھتی ہے
08:04اکل مند نہ بنیں
08:06فرما بردار بنیں
08:07میرے بھائی
08:08شکوک و شبہات والی جو لائف ہے
08:10دیکھیں نا
08:12امبیاء کرام علیہ السلام کے بارے میں
08:14شکوک و شبہات ہیں
08:16اولیاء عزام کے بارے میں
08:17اب ایک نیا شک پیدا ہو گیا ہے
08:19کہ فیض ملتا ہے کہ نہیں ملتا ہے
08:21ہم نے فلانے ولی کو دیکھا نہیں
08:23ساری زندگی اس کا نام لیا
08:25فیض ملے گا کہ نہیں
08:26غوث پاک کو دیکھا نہیں
08:28ساری زندگی کی قادری کہلائیا
08:30فیض ملے گا کہ نہیں
08:31خاجہ اجمہر کو دیکھا نہیں
08:32چشتی کہلائیا
08:33فیض ملا کہ نہیں
08:34سابر پیا کو دیکھا نہیں
08:35سابری کہلائیا
08:36فیض ملا کہ نہیں
08:38اوہ خدا کے بندے
08:39فیض وہ چیز ہے جو نظر نہیں آتی
08:42پر محسوس سب سے زیادہ ہوتی ہے
08:44ملے تو عدرت ویس کرنی بھی نہیں تھے
08:51ملاقات تو ان کی بھی نہیں ہوئی
08:53کیا کہو گے
08:54ملاقات نہیں ہوئی
08:57لیکن فیوز و برکات کا یہ عالم ہے
08:59کہ میرے معبوب نے فرمایا وہ دعا کرے گا
09:02تو اللہ میری امت کی بخشش فرمائے گا
09:04تو ہمارے صوفیہ میں ایک سلسلہ اویسیہ ہے
09:08سلسلہ اویسیہ میں اکثر ملاقات نہیں ہوتی
09:12اکثر نہیں ملاقات ہوتی
09:15بغیر ملاقات
09:16دیکھیں نا
09:17آپ جب کسی کا نام جبتے ہیں
09:20جب کسی کا نام لیتے ہیں
09:21جب اسی کا ذکر کرتے ہیں
09:23جب اسی کے تذکرے میں رہتے ہیں
09:24تو اللہ تبارک و تعالیٰ
09:27کہ یہ جو کامل لوگ ہوتے ہیں
09:28یہ متوجہ ہو جاتے ہیں
09:29ان کی توجہ ہوتی ہے
09:32اور خود سرکار نے فرمایا
09:33دو آپس میں محبت کرنے والے
09:35ایک مشرق میں ایک مغرب میں
09:36قیامت کے دن اللہ دونوں کو
09:38جنت میں اکٹھا فرما دے گا
09:39یہ کیا بات ہوئی
09:41کہ ہر بات میں شک کرنا
09:43کہ جی وہ فلانے سے ملاقات ہی نہیں ہوئی
09:45تو کس طرح بھئی ملاقات
09:47ایک الگ چیز کا نام ہے
09:48ملاقات ایک الگ شئے کا نام ہے
09:51اور فیوز و برکات ہے
09:53کہ اللہ سے ملاقات ہوئی ہے
09:55رزق دیتا ہے کے نہیں
09:57زندگی دیتا ہے
09:59سارے چیزیں دیتا ہے
10:00تو ملاقات تو کوئی نہیں کرتا
10:01تو اس لیے ہر چیز کو ٹھیک ہے
10:04وہ جو جگہ ہے
10:06جس جگہ پہ جو بات ہے
10:07اس کو وہاں رہنا چاہیے
10:09لیکن یہ شکوک ہیں
10:10ان سے باہر نکلیں
10:11ان سے باہر آئیں
10:12اولیاء اللہ کا جو فیضان ہے
10:14ان کی جو محبت ہے
10:16ان کے جو طریق
10:16حضرت سلمان بن بشار
10:18رحمت اللہ لیکن بزرگ گزرے ہیں
10:21وہ کہتے ہیں میرے پاس
10:22میں بڑا خوبصورت تھا جوانی میں
10:24دین کی تھوڑی سے خدمت کرتا تھا
10:26تو ایک عورت آگئی
10:27اس عورت نے میرے ساتھ
10:30کچھ مجھ سے مانگا
10:31مطالبہ کیا
10:32تو میں نے کہاں کوئی بھکارن ہے
10:34میں نے جب اس نے نکاب ہڑا ہوا تھا
10:36جب میں نے اس کی طرف
10:37پیسے دینے کے لیے
10:39خیرات دینے کے لیے
10:40کوئی چیز بڑھائی
10:41تو اس نے چہرے سے کپڑا ہٹایا
10:42میں نے نظر جھکا لی
10:44کہنے لگی
10:44سلمان میرا رنگ روح تو دے
10:46میں کتنے خوبصورت ہوں
10:48میں تیری محبت میں گرفتار ہو گئی
10:51خدا رہا
10:52میں اپنے آپ کو تیرے حوالے کرتی ہوں
10:54آپ فرماتے ہیں
10:56جب اس کے نیت اور ارادے میں
10:58اور لفظوں میں میں نے فطور دیکھا
11:00تو میں استغفر اللہ پڑھتا
11:01وہاں سے بھاگ گیا
11:02اتنا دھوڑا
11:04اتنا دھوڑا
11:05کہ میں بسرہ سے باہر نکل گیا
11:07شہر سے ہی باہر آگا
11:09عورت سے دھوڑ رہا ہے
11:10مرد نوجوان خوبصورت
11:12فرماتے ہیں
11:13عشاء کی ادانیں ہو رہی تھی
11:14نماز پڑھ کے
11:15میں مسجد میں سو گیا
11:16تو مجھے حضرت یوسف علیہ السلام کا دیدار ہو
11:18جنابی یوسف
11:21کہتے ہیں
11:22میں غزور کا غلام
11:23اور غلاموں کا غلام
11:24اور سنی عباد کا غلام
11:25تو جنابی یوسف علیہ السلام
11:27میری خواب میں آئے
11:28اور کہنے لگے
11:29اوٹھ جوان میرے سینے سلام
11:30یار تو نے تو
11:32نبی پاک کا امتی ہو کے
11:33وہ کام کیا ہے
11:34جو میں نے نبی ہو کے کیا تھا
11:36اب کام حضرت یوسف علیہ السلام کیا تھا
11:38تو صدیوں اور سالہ اور مہینوں کا
11:41فاصلہ فاصلہ بن سکا
11:43تو وہاں گئے
11:44مسئلہ یہ ہے
11:45کہ شکوک و شبہات والی زندگی نقصان دیتی ہے
Comments