- 5 months ago
ایک شرابی بیٹے اور ماں کے تعلق کے بارے میں چند جملے:
1. شرابی بیٹا اپنی ماں کے دل کا سب سے بڑا دکھ ہوتا ہے۔
2. ماں دعا میں اپنے بیٹے کو نیک راہ پر آنے کی فریاد کرتی ہے۔
3. بیٹے کی بُری عادتیں ماں کے دل کو توڑ دیتی ہیں لیکن ماں پھر بھی اس کے لیے محبت اور ہدایت مانگتی رہتی ہے۔
4. ماں کے آنسو بیٹے کی اصلاح کے لیے سب سے بڑی دعا ہوتے ہیں۔
5. ماں چاہتی ہے کہ اس کا بیٹا برائی چھوڑ کر عزت اور سکون کی زندگی گزارے۔
Category
📚
LearningTranscript
00:00یہ غور کریں اور یاد رکھیں اس بات کو
00:02امام مالک بن دینار رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
00:06مجھ سے کہنے لگا پیسے آئے تو میں عیاش ہو گیا
00:08حمزان کا مہینہ تاثر کے بعد میری اممہ افطاری کی تیاری کر رہی تھی
00:13میں گیا میں نے کہا شراب پی ہوئی اممہ روٹی دے
00:15تو اممہ کہنے لگی شرم کر
00:16شرم کر
00:19روزہ رکھا نہیں تو جنہوں نے رکھا ہے ان کا تو خیال کر
00:22کہتے ہیں اممہ کی بات کا مجھے غصہ لگا
00:25میں کہا کرتا ہوں بد نصیب ہے وہ بیٹا
00:28جس کا باپ اس سے بات کرتے ہوئے ڈرتا ہے
00:31کہ پتہ نہیں کہاں سے بولے گا
00:33بد نصیب نہیں وہ بیٹا جس کی ماں اس سے بات کرتے ہوئے
00:37سہم جاتی ہے کہ پتہ نہیں کون سی بولی بولے گا
00:39بد نصیب نہیں
00:40کہ ماں باپ بھی جس سے کھل کے بات نہ کر سکے
00:44حضرت مالک بن دینار سے کہنے لگا
00:47اممہ نے جب کہا نا شرم کر تو مجھے غصہ آیا
00:50میں نے ماں کو تھپڑ مارا
00:51اور میری ماں جلتے ہوئے تندور میں گیری
00:55لوگوں نے مجھے پکڑ کے اندر بند کر دیا
00:58کمرے میں
01:00ساری رات میں شور سنتا رہا
01:03پر نشے میں دھوت رہا
01:04سویرے آنکھ کھلی تو میری بیوی بیگ باندھ رہی تھی
01:08میں نے کہا کہاں جا رہی ہو
01:09کہنے لگی جو ماں کا نہیں بنا میرا کیسے بنے گا
01:12وہ میں نے کہا میری اممہ
01:15کہا وہ تو لوگوں نے رات کوئی دفن کر دی جنازہ پڑھ گئی
01:18تڑپ کے کہنے لگا مجھے کیوں نہیں بتایا
01:21تو کہتے ہیں لوگ کہنے لگے
01:23تیری مرتی ہوئی ماں کہ گئی تھی
01:25اسے میرا مو نہ دیکھنے دینا
01:27میرے جنازے کے قریب نہ آئے
01:30حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں
01:32جب اس نے یہ بات سنائی
01:33تو میں نے بھی اس کے موہ پہ تھپڑ مارا
01:35میں نے کہا تو اس ہی قابل ہے
01:37کہتے ہیں وہ رونے لگا
01:39حضور دعا کرے اللہ مجھ مجھ سے راضی ہو جائے
01:42کہنے لگا جب ماں
01:43کہ انتقال کی خبر ملی
01:45تو میں نے کلاری لے کے وہ ہاتھ کاٹ دیا
01:47جس سے ماں کو مارا تھا
01:48میں نے ساری جہدادیں خیرات کر دی
01:51چوبیس سال ہو گئے
01:53چوبیس سال
01:54ساری رات نماز پڑھتا ہوں
01:57روزہ رکھتا ہوں
01:59حج کرتا ہوں
02:00پر ہر سال کوئی آکے کہتا ہے
02:02جا دھوڑ جا تیرا کوئی نہیں قبول ہوا
02:04حضور دعا کرے مالک راضی ہو جائے
02:07فرماتے ہیں میں تھپڑ مار کے آ گیا
02:09میں نے کہا تجھ سے راضی ہو جائے
02:13فرماتے ہیں رات کو آکے سویا تو مجھے خواب میں
02:16رسول پاک کا دیدار ہوا
02:17تو نبی پاک علیہ السلام نے فرمایا
02:20مالک تو اسے مایوس کیوں کر رہا ہے
02:22اللہ تو بڑا مہربان ہے
02:24کہا حضور مانک کے نافرمان کو
02:27معافی کیسے ملے گی
02:28تو امام مالک فرمانے لگے نبی کریم نے فرمایا
02:31جاو شجا کے بتا دے
02:32تجھے قیامت میں تیری مانک کی وجہ سے
02:35بخش دیا جائے گا
02:36کہا حضور مانک کی وجہ سے کس طرح
02:39تو معبو فرمانے لگے اس کی ماں قیامت میں
02:42اس کے خلاف مقدمہ دائر کرے گی
02:44رب کریم کی عدالت میں
02:47اے اللہ میں نے نو ماں پیٹ میں رکھا
02:49درد سہ کے اسے جنا
02:51جگر کا خون پلا کے پالا
02:54اور اسی نے مجھے قتل کیا
02:56رب کریم اس کی ماں کا مقدمہ سن کے کہہ گا
03:00اٹھاؤ اس کو
03:01دوزک میں پھینکو
03:03اس نے ماں جلائی تھی اسے بھی جلاؤ
03:05معبو فرمانے لگے جب
03:07پکڑ کر کے مالک
03:10اس کو محمد بن حرون کو لوگ لے جائیں گے
03:12نا جہنم کی طرف
03:13ابھی فرشتے گھسیٹیں گئی
03:17تو پلٹ کے پھر اماں کی طرف دیکھے گا
03:20اور دوسری دفعہ پھر گھسیٹیں گے
03:23تو پلٹ کے دیکھے گا
03:24اور تیسری دفعہ
03:26پھر پلٹ کے کہہ گا
03:28اماں یہ مجھے جلانے لگے
03:31اماں یہ جہنم میں پھینکنے لگے
03:34میرے عبیب فرمانے لگے
03:36وہ جل کے مرنے والی ماں وہاں بھی بول پڑے گی
03:38کہے گی
03:39یا اللہ
03:40چل میں نے معاف کیا
03:41تو بھی معاف کر دے
03:42اے اللہ میں نے معاف کیا
03:45تو بھی معاف کر دے
03:46اللہ تُو معاف کر دے
03:47اسے
03:47اللہ تو اس سے درگزر فرما
03:53اسے معاف کر دے
03:55میرے محبوب پاک علیہ السلام
03:57فرماتے ہیں
03:57رب کریم کہے گا
03:58اس نے تجھے جلایا
03:59تو کہے گی
04:00اللہ یہ تو بیٹا تھا
04:01اس نے جلا دیا
04:02میں ماں ہوں
04:03ہوں میرے سامنے جلے
04:05تو میں کیسے برداشت کر سکتی
04:06فرمائے اس نے جلا کے مارا
04:09تھا پر اسی ماں کی وجہ سے
04:11رب کریم اسے جنت عطا فرمائے گا
04:13پلٹا
04:14پلٹا جا جا کے ماں کے
04:17پیروں میں بیٹھ
04:18جا صویرے انپڑ باپ سے دعا
04:21کرایا کر جا
04:22بلکل انگوٹھا چھاب باپ
04:25سے صبح دعا کرایا کر
04:26دیکھ رب کریم تیرے لیے رحمتوں کے
04:29دروازے کھول دے گا
04:30عزیز دوستو
04:31قرآن مجید نے کہا ہے
04:33وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا
04:35اپنے والدین کے ساتھ
04:39احسان کرو
04:40اپنے والدین کے ساتھ
04:43احسان والا نیکی والا
04:45رویہ اختیار کرو
04:46اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
04:49سفید بالوں کی عزت اسی طرح ہے
04:51جس طرح تم نے اپنے اللہ کی عزت کی ہے
04:52یہ بخاری مسلم کی حدیث ہے
04:55فٹا فٹ کھڑے ہو جو جی پیر صاحب آگے تھے
04:57کیوں یہ کام کرتے ہیں
05:01کچھ بھی نہیں ہوتا
05:02جو عزت کرتا ہے اس کا پتہ ہوتا ہے دل سے کر رہا ہے
05:04بیٹھا رہنے دے لوگوں کو
05:05یہ بڑی خوبصورتی پیدا کریں
05:08آپ محول کو صحیح کریں
05:09آپ کے جل سے کئی گناہ زیادہ بڑے ہو جائیں گے
05:11اور میری آخری گزارش
05:14تمہیدی بات کرنا وہ یہ ہے
05:16کہ محفلوں کی ترتیب لگائیں
05:17جو کاری صاحب نے شاہ کے فوراً بعد تلاوت کی
05:21انہوں نے بھی قرآن ہی پڑھاتا
05:22وہ بے قائدہ کیوں تھی
05:24پھر جو دوبارہ ڈیڑھ گھنٹے کے بعد
05:27باقائدہ شروع ہو گئی
05:28تو وہ قرآن پاک نہیں تھا
05:30انہوں نے باقائدہ شروع ہونے لگی ہے
05:32کیا مطلب ہے اس کا
05:33باقائدہ محفل عشاء کے بعد شروع کریں
05:36ٹائم دیں
05:37ناتکہ کو وقت دیں
05:39اور دعا کا ٹائم لکھیں
05:41آپ میرے پاس کبھی ہیں
05:43ہزاروں کا جلسہ ہوتا ہے ہمارا
05:45لیکن ہم
05:47ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ محفل کرنا
05:49مناسب ہی نہیں سمجھتے
05:50اس لیے کہ اگر فجر صویرے تانگ ہو جائے
05:53تو ساری دعا جلسے کا مقصد کیا ہوا
05:55اور مختصر بات کریں گے
05:57خیر القلامِ ماں کلنا ودلنا
05:59تو وہ بڑی بہترین رہے گی
06:01سنجیدگی لائیں
06:02تاکہ جس آدمی نے صویرے کام پہ جانا ہے
06:04اداس کے آوے آکے میں چلا
06:06اٹھ ہو جی محفل شروع ہونی ہے
06:07لوگ پونے داس میں تو اڑکول ہوں مانگا انشاءاللہ
06:09تاکہ باقی کا کام بھی کر لیں
06:11یہ ماحول یہ میں گزار اشاد کروں
06:13اپیل کر رہا ہوں
06:15چلے اللہ کرے میں بے عمل آدمی ہوں
06:17میری زبان سے نکلی بات کسی پہ اثر کر جائے
06:19یہ آپ سنجیدگی پیدا کر کے دیکھیں
06:22انشاءاللہ یہ راش زیادہ ہو جائے گا آپ کے پاس
06:24اور برکت ہوگی اس بات کی
06:26اب الوالدین احسانہ
06:28والدین کے ساتھ احسان کرو
06:31علامہ سیجد محمود علیہ السیعندلسی رحمت اللہ علیہ
06:34صحیح بے تفسیر روح المعانی فرماتے ہیں
06:36آپ فرماتے ہیں
06:38اللہ کریم نے کہا والدین کے ساتھ احسان کرو
06:40اس کا ترجمہ کیا ہے
06:42آپ فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے
06:44کہ جتنی کوئی بندہ نیکی کرے
06:47اگر اس کے مطابق نیکی کر دی جائے
06:48تو وہ بدلہ ہوتی ہے
06:49اور اگر تھوڑی بڑھا کے کی جائے
06:52تو وہ احسان ہوتی ہے
06:53فرمایا رب کریم فرماتے ہیں
06:56اس طرح کرو
06:57ذرا سوچ لو بچپن سے لے کر آخر تک
07:00جہاں تک تم موجود ہو
07:01تمہارے ماں باپ نے تمہارے ساتھ کیا کیا ہے
07:04اگر اس سے بڑھا کے کرو گے
07:06تو اس کا مطلب ہے
07:07تم نے احسان کیا ہے
07:08ماں باپ جو ہوتے ہیں نا
07:10تھنڈی چھاؤں
07:11میٹھی زندگی
07:13ماں انپڑ بھی ہونا
07:15تو کم اس کم جنیورسٹی ہوتی ہے
07:17اور باپ
07:19باپ اگر
07:21بل کو لنگوٹھا چھاب بھی ہونا
07:23کسی
07:24کالج میں
07:25مدرسے میں
07:26ادارے میں
07:26نہ پڑھا ہو
07:27تو بیٹے کے حق میں
07:29جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے
07:31وہ ساری اللہ باپ کو
07:32عطا کر کے بیجتا ہے
07:33ماں باپ کو
07:35کچھ علم لدنی اللہ دیتا ہے
07:37کہ بچوں کے لیے
07:39کیسے آگے بڑھنا ہے
07:40ماں باپ
07:41ایک حسن ہے معاشرے کا
07:42رب تبارک و تعالیٰ کی
07:45دیکھے نا
07:46اللہ اکبر
07:48دنیا میں کسی کی محبت
07:50جانچ نہیں ہونا
07:51تو محبت کی تمثیل دی جاتی ہے
07:53وَتِلْقَ الْأَمْثَالُ نَدْرِ بُحَالِ الْنَّاسِ
07:57اللہ لوگوں کے سمجھنے کے لیے
08:00مثالیں بیان فرماتا ہے
08:01اللہ تبارک و تعالیٰ نے
08:03جب اپنا آپ سمجھانا چاہا
08:05توجہ ہے میری بات پر
08:07جب مالک نے
08:08اپنا آپ سمجھانا چاہا
08:10تو میرے رب نے
08:11ماں باپ کی مثال بیان فرمائی
08:12رب برحمہما
08:15کما رب بیانی
08:16صغیرہ
08:18یا اللہ ان دونوں پر رحم فرما
08:19اور یہ لفظ
08:21رب یہاں دو معنی میں آیا ہے
08:23علماء بیٹھیں
08:23رب کا معنی ہوتا ہے
08:25تدریجن پالنا
08:26کہا یا اللہ ان دونوں پر رحم فرما
08:29جنہوں نے مجھے رب بن کے پالا
08:31یعنی مطلب کیا
08:32یہاں ربوبیت کا معنی پالنے کے معنی میں
08:35تدریجن پالنا
08:36میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
08:38اللہ
08:39تم سے ستر ماہوں سے زیادہ محبت فرماتا ہے
08:43یہ امام سیوتی نے در منصور میں روایت لکھی ہے
08:47اچھا بھائی
08:48اللہ نے بھی مثال ماں کی بیان فرمائی
08:51فرمایا گھار جا کے اپنی امام کو دیکھ لو
08:54امام تم سے کتنا پیار کرتی
08:56بس اس پیار کو تولنا شروع کرتو
08:59ستر ماہوں سے بھی زیادہ رب تم سے محبت فرمانے والا ہے
09:02ماں کے سینے میں
09:04دیکھیں نا
09:05ایک بچی ہوتی ہے
09:07بیئے وہ اس نے کر لیا
09:08اس کی امام روز کہتی ہے
09:09بیٹے سویرے اٹھا کر
09:10ساس کے پاس جائے گی
09:13تو وہ کہے گی
09:13کہ اس کی امام نے سویرے اٹھنا سکھایا ہی نہیں
09:15اب بیٹی کہتی ہے
09:17امام جدو جاں وانگی بیکھی جائے گی
09:20اچھا اس کی شادی ہو گئی
09:22اس کی ساس نے آہستہ آہستہ شکوے شروع کر دی
09:24یہ خامن سے کہنے لگی
09:25تو اس کو اٹھاتے ہی نہیں سویرے
09:27وہ بھی کہتا ہے کمرے میں جا کے
09:29امام شکوہ کرتی ہے
09:30تو اٹھتی نہیں
09:31اب بچی لادلی تھی
09:33وہ نہیں تھی اٹھتی ٹائم پہ
09:34زندگی کے بائیس سال تہیس سال
09:38وہ سویرے نہیں اٹھی
09:39وقت پہ نہیں اٹھی
09:41مثال دے رہا ہو
09:42پھر اسی بیٹی کو
09:44اللہ نے ایک بیٹا عطا کر دیا
09:46صبح سو آواز اس کی اممہ دیتی تھی
09:50پر اس کی آنکھ نہیں کلتی تھی
09:51لیکن اسی بیٹی کا بیٹا
09:54سہر ہی کے وقت
09:56ہلکا سا روتا ہے
09:57ساری دنیا سوئی ہے
09:59پر اممہ اس کی فٹا فٹ جاگتی ہے
10:01فٹا فٹ جاگتی ہے
10:04ایک آدمی تھا تو
10:07اس کی بیوی انتقال کر گئی ہے
10:09اس نے طلاق دے دی
10:10دس گیارہ سال کا
10:14اس کا بیٹا تھا
10:15اس نے دوسری شادی کر لی
10:17ایک دن اپنے بیٹے سے کہنے لگا
10:20بیٹے وہ سگی اممہ ٹھیک تھی
10:22یا یہ والی ٹھیک ہے
10:23تو بیٹے کہنے لگا
10:25اببا جی
10:26یہ ٹھیک ہے
10:28وہ سگی اممی جھوٹ بڑے بولتی تھی
10:29سگی اممی جھوٹ بڑے بولتی تھی
10:32جھوٹی تھی
10:33یہ سچی ہے
10:33اس نے کہا
10:35بے وکوف تیری ماں جھوٹی تھی
10:36اس نے کہا اببا بڑی
10:37کہا کس طرح
10:39کہنے لگا
10:40اببا جی میں نا
10:42کبھی آپ کو پتہ
10:43میں شرارتی ہوں
10:44کبھی میں شرارت کرتا تھا
10:45نہ کوئی برتن توڑ دیتا تھا
10:47تو میری سگی امم
10:48مجھے تھپڑ مار کے بار نکالتی تھی
10:49کہتی تھی
10:51میں تالہ لگاؤں گی
10:52بورچی خانے کو
10:52تجھے ساری رات روٹی نہیں دینی
10:54تو آج بھوکا ہی رہے گا
10:57بالکل نہیں دینا
10:58ساری رات نہیں دینا
10:59بڑے دعوے کرتی تھی
11:01کس میں اٹھاتی تھی
11:02پر بڑی جھوٹی تھی
11:03آدھا گھنٹہ بھی نہیں گزرتا تھا
11:06تو گلیوں میں مجھے ڈھونڈنے لگ جاتی تھی
11:07ڈھونڈ کے لاتی تھی
11:11ڈھونڈ کے
11:11اور لا کے نا
11:13تو گلتی میری ہوتی تھی
11:15رونا میری اممہ شروع کر دیتی تھی
11:17وے اوہ میں نناس تایا کر
11:18وے کترا
11:19پھر میری مرضی کا کھانا
11:21مجھے پکا کے دیتی تھی
11:22میری مرضی کا
11:23اور پھر میری اممہ
11:25مجھے توفہ بھی دیتی تھی
11:26اببا جی وہ جھوٹی تھی
11:29پہلے کہہ رہی تھی
11:30ساری رات نہیں دینا
11:31اب آدھا گھنٹہ
11:32یہ بڑی سچی ہے جواب بھائی ہے
11:34میں شرارت کرتا ہوں
11:36تو تھپڑ مار کے نکال دیتی ہے
11:38کہتی ہے روٹی نہیں دینی
11:40پھر میں ساری رات
11:42رو کے گزارتا ہوں پر نہیں دیتی
11:44یہ سچی ہے وہ جھوٹی تھی
11:47تو ماں کے درد کو کیا سمجھے
11:49بچے تو کہتے ہیں
11:50اممہ نے ہمیں قید کر دی
11:51اممہ کہتی ہے میری مرضی سے کھاؤ
11:53اور تجھے نہیں پتا
11:54اس نے قید نہیں کیا
11:55وہ تم سے پیار بڑا سچا کرتی
11:56اور بڑا سچا پیار کرتی ہے تیرے ساتھ
11:59بڑا سچا
12:00بیٹا برگر کھا کے آ جاتا ہے
12:02اممہ کہتی ہے روٹی کھا لے
12:04کہتا ہے نہیں
12:05آپ نے بینگن پکائے ہوئے
12:06میں نے نہیں کھانے
12:07تو اممہ منتیں کرتی ہے
12:09کہتی ہے چلتوں دس کی کھانے ہیں
12:11تینہ سیمیہ نہ بنا دیا
12:13فٹا فٹ دال پک جائے گی
12:15کیا کھائے گا
12:17وہ اببا جی میری طرح قریب سے کہتے ہیں
12:18چھڑ پر آپ کوک لگے گی
12:20تو آپ ہی کھا لے گا
12:20لیکن اممہ کہتی ہے
12:22اس نے روٹی نہ نہ کھائی
12:23تو مجھے نیند نہیں آئے گی
12:24تو اس درد کو سمجھنا
12:26میں غلام ہوئے کاس تانے کا
12:28اور میں سمجھتا ہوں
12:30جو کسی کا مرید ہی نہیں
12:31اس پر تو سایہ ہی نہیں
12:33اسے چاہیے کسی بزرگ کا سایہ حاصل کرے
12:36لیکن بھائی یہ بات بھی بڑی سچی ہے
12:38کہ میرے جیسے پیر کے ہاتھ میں
12:40پانچ ہزار پیان نظران نہ دو
12:42پیر صاحب دعا کرنا
12:43تو پیر صاحب نے دعا پکی
12:44یاد کی ہوئی ہے سب کے لیے
12:45رٹی رٹائی
12:46اللہ خیر کرے
12:47اللہ پلا کرے
12:48وہ سب کے لیے رٹا رگایا ہوا ہے
12:50اور اممہ کو بیٹا
12:52ویسے ہی کہہ جائے
12:53ویسے ہی
12:54اممہ میں انٹریو دینے جا رہا ہوں
12:56ذرا دعا کرنا
12:58وہ بیبیاں مگا کے
13:06وہ بھائی بڑا
13:06ویل ڈریس بیٹا ہوتا ہے
13:08ویل ڈریس نوجوان
13:09وہ ٹھارہ ہزار کا جوڑا پہنتا ہے
13:13سات ہزار کا جوتا خریدتا ہے
13:16وہ
13:17قیمتی قسم کی
13:19گھڑی استعمال کرتا ہے
13:21لیکن اسی بچے کے جب
13:23اپنے بچے ہوتے ہیں نا
13:25تو بی بی کو کہتا ہے
13:26یہ لے دس ہزار روپے آ
13:27بچوں کے کپڑے خرید لے
13:29میرے صحیح ہیں
13:30ابھی کال بھی تو خریدے تھے
13:32باپ
13:33تو سمجھیں نہیں
13:34یار تیس سال
13:35باپ نے جوانی ساری سعودی عرب کو دے دی
13:38لیکن تیرا خیال رکھا
13:40میں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں
13:42جنہوں نے تیس تیس سال
13:43پردیس میں کمبل نہیں بدلا
13:45وہ جہاں گئے تھے
13:47تو ایک کمبل خریدہ تھا
13:48پھر بدلا نہیں
13:49تو ماں باپ کے بارے میں
13:51اور یہاں بچے ہی شعب کرتے پھرتے ہیں
13:53بج تو انہوں پچھلے میں
13:55نبی پانچ دار دیتا ہی
13:56تو اسی پیسے نہ کر دے کی ہی ہو
13:58ماں باپ سے ہی شعب کرتے ہیں تو
14:00تیرمیزی شریف کے لفظ ہیں
14:02ایک صحابی نے آ کر
14:04کہ یا رسول اللہ پیسے
14:05وراست کے نہیں
14:06میرے اببا جی نے نہیں دیئے مجھے
14:09اور میں نے خود محنت کر کے کمائے
14:11اب میرا اببا مجھ سے پیسے مانگتا ہے
14:13تو کیا کروں
14:14اور میرے ہیں
14:15میں نے کمائے ہیں
14:16اببا جی نے نہیں دیئے
14:17وراست نہیں
14:18سانی ملا
14:18حضور میرا اببا مانگتا ہے
14:21تو میرے لئے حکم کیا ہے
14:23تو نبی پاک نے فرما
14:24کیا کہا تم نے
14:24پیسے تیرے ہیں
14:26کہا حضور ہاں
14:28تو فرمایا اببا کس کا ہے
14:30کہا یا رسول اللہ میرا
14:32تو فرمایا
14:32اگر تو اپنے والد کا ہے
14:34تو تیری ہر شاہ تیرے والد کی ہے
14:36تو بھی تیرے والد کا ہے
14:39تو تیرا مال بھی تیرے
14:40ماں اور باپ
14:42یہ تو حسن ہے زندگی کا
14:44یہ تو وقار ہے انسان کا
14:46جب تک ماں باپ کا ہاتھ پکڑ کے چلو گے نا
14:49رستے سیدھے رہیں گے
14:51اور جس دن انگلی چھوڑ کے
14:54سڑک پہ نکلنا پڑا نا
14:55سر چکرانے لگے گا
14:56یاد رکھنا
14:58یہ بڑا مشکل کام ہوتا ہے
15:00لوگوں کا تو روخ ہی
15:01اس دن واردے ہوتا ہے
15:02جس دن آدمی سائے سے محروم ہوتا ہے
15:04امہ تو کمرے میں پڑی ہو نا
15:06اورنگ زیب آلمگیر کی
15:07ماں فوت ہو گئی
15:09ساڑھے تین سو کمرہ تھا
15:11محل کا
15:12اور امہ بارہ سال
15:15ٹانگوں سے معذور رہی
15:16اورنگ زیب آلمگیر کی
15:21آتی واشروم تھا
15:22یا جو بھی اس دور میں طریقہ تھا
15:24اورنگ زیب
15:25جب محل میں آتے تھے
15:26تو پھر بھی سیدھے امہ کے پاس جاتے تھے
15:28اور جب واپس نکلتے تھے
15:30پھر بھی امہ کے ساتھ
15:31اورنگ زیب کی ماں کا جنازہ اٹھا
15:33تو اورنگ زیب نے رونا شروع کیا
15:36پھر سالوں بیٹ گئے
15:39پر اس کے آنسوں خوشک نہیں ہوتے تھے
15:41ایک شخص نے کہا
15:42تیری کوئی نوکھی مر گئی ہے
15:43ساری دنیا کی مرتی ہیں
15:46اس نے کہا میں بادشاہ ہوں
15:48چوبیس گھنٹے لوگوں کا آنا جانا ہے
15:51بڑے دب دبے ہیں
15:53بڑے دیرے داریاں ہیں
15:54بڑی بینسے
15:55بڑی گائیں
15:56بڑے کھانے والے
15:57بڑے لانگری
15:57میری ماں بوڑی تھی
16:00ایک کونے میں پڑی رہتی تھی
16:01پر جب سے وہ گئی ہے
16:03یہ مجھے محل نہیں لگتا
16:05مجھے قبرستان لگتا ہے
16:07مجھے لگتا یہ قبرستان ہے
16:09ماں اور باپ تو تیری نعمت ہیں بھائی
16:12ہم بچے
16:13ہمارے آج کھل کے بچوں نے ایک مسئلہ بڑا پکا یاد کر لیا
16:16کہتے ہیں مولانا
16:18پیر صاحب پسند کی شادی کرنا جائز نہیں
16:21میں کہتوں صاحب اور بھی بڑی چیزیں جائز ہیں
16:24پھر ایک ہی شئے جائز رہ گئی ہے
16:26رسول پاک
16:29صلی اللہ علیہ وسلم
16:30سوائے اللہ کے کسی کے پابند نہیں
16:32کسی کے پابند نہیں
16:35پہ جناب سیدہ ختیجہ تلکبرہ رضی اللہ تعالیٰ نے پیغامیں نکا دیا
16:40یا رسول اللہ میں شادی کرنا چاہتی ہوں
16:42حضور کسی کے پابند نہیں
16:44پر میرے معبوب نے فرمایا
16:46میرا چچا میرے والد کی جگہ ہے
16:48میں اپنے چاچا سے پوچھ کے تمہیں جواب دوں گا
16:52یہ ہے پسند کی شادی جو میرے نبی نے بیان فرمائی ہے
16:56تو سارا کچھ کراس کر کر کے گزر جاتا ہے
16:59یہاں تو حال یہ ہے کہ پالنے والا کوئی
17:03اور سائے میں بیٹھنے والا
17:05باغ تیرے دی کر کر راکھی
17:08میں ساری عمر گزاری
17:10تجدوں میں پھال پکن تھے آیا
17:13تھے لے گئے ہور بپاری
17:14اور بیٹا گزرتا ہے
17:16اممہ کے دروازے کے آگے سے
17:18اممہ کے دروازے کے آگے
17:20بیٹا عمرود لے کے آیا ہے
17:22چھے کلو
17:22توجہ ہے میری بات پر
17:24ادھر دیکھیں دی چھوڑیں
17:25تھوڑی دیرے ماری سنیں
17:26وہ عمرود لے کے آیا ہے
17:28پانچھے کلو
17:29تو عمرود لے کے قریب سے گزر گیا رات کو
17:31تو کمائی کھانے کا ٹائم آیا
17:35تو گزر گیا
17:37تو وہ
17:37وزیر آزم سے ڈرتا ہے
17:39تو جا کے بی بی سے کہتا ہے
17:42بی بی کے ایک حوق دینا بھی
17:43رسول اللہ کی سنت ہے
17:44لیکن یہ کیا بات ہوئی
17:47تُو نے بی بی اور ماں کا
17:48مقابلہ شروع کرا دیئے
17:49سمجھ تو صحیح
17:51یہ تیرے لیے
17:53کعبے کی جگہ ہے
17:54اور تُو بی بی کے لیے
17:56کعبے کی جگہ ہے
17:57اسے بھی سمجھنا چاہیے
17:59غور کرنا چاہیے
18:00پانچ کلو عمرود لے کے
18:02تو ماں کے کمرے کے قریب سے گزر گیا ہے
18:04بی بی کو جا کے کہتا ہے
18:07چالادہ کلو
18:07ماں کو بھی دےیا
18:08اس کے کون سے دانت ہے
18:09تو پلیٹ میں ڈال کے وہ لائی ہے
18:12تُو سمجھا ہی نہیں
18:13تُو نے غور ہی نہیں کیا
18:15بندہ تو وہ ٹھیک نہیں تھا
18:18نپولین
18:19پر کسی نے اس سے پوچھا تھا
18:22بتا زندگی میں پیسے لینے کا مزہ کب آیا
18:24اس نے کہا
18:27کہ مجھے مزہ تاب آتا تھا
18:28کہ میں اپنی ساری کمائی لا کے
18:29اپنی اممہ کے آت پر رکھتا تھا
18:31اور پھر جب میں اپنی ماں سے
18:34تھوڑا تھوڑا خرچہ لیتا تھا
18:35تھوڑا تھوڑا
18:36سمجھو ہے میری بات پہ
18:37اممہ جی داس روے دیا آجے
18:39کہتا جب میں تھوڑا تھوڑا خرچہ لیتا تھا
18:41تو مجھے یوں لگتا تھا
18:43جیسے میں بادشاہ وقت کے سامنے کھڑا ہوں
18:45اور وہ خزانے کا مو کھول کھول
18:48کے مجھے دیتا جا رہا ہے
18:49تو اس ذائقے کو سمجھ تو صحیح بھائی
18:52تو اس کو سمجھ تو صحیح
18:54بھائی یاد رکھیں
18:55اور غور کریں
18:56ماں اور باپ
18:58اب یہ بھی سوڑ لیں
19:00نبی پاک
19:02صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
19:05ماں باپ کے لیے فرمایا
19:07ہما جنتکا و نارک
19:08یہی تیری جنت ہے
19:11اور یہی تیرے لیے جنم ہے
19:12اگر یہ راضی ہو گئے
19:14تو تیرے لیے جنت ہے
19:16ناراض ہو گئے تو
19:18چاہے تو ایک سو پیر کے مزار پہ آذری دےیا
19:21لیکن جب تک ابا راضی نہیں
19:24اتنی دیر تک
19:24اللہ راضی
19:25یہ حدیث پاک ہے
19:27غزور نے فرما
19:27جس کے والد راضی
19:28اس کا اللہ راضی
19:29اور جس کا باپ نراض
19:31اس کا اللہ
19:32ہاں بے شک
19:33اب یہ حدیث ہے نا
19:34تو سارے ولی ایک طرح بیٹھ جائیں
19:36کہیں یا اللہ بخش دے مرید کو
19:38لیکن اگر ابا کہیں
19:40یا اللہ نام آف کرنا
19:41تو اللہ انہا علیاء کی نہیں مانتا
19:44والد کی مانتا ہے
19:45اس لئے بلے شاہ سمانی
19:47اوڈدیاں پڑنا ہے
19:49لیڑا کار بیٹھا
19:50انہوں پڑے آئی نہیں
19:51بھائی یاد رکھو
19:53ماں باپ سے پیار کرو
19:55ان کی خدمت کرو
19:56ان کے پاس بیٹھا کرو
19:57اور ماں باپ کو ٹائم دیں
19:59وقت دیں
20:01چند گھڑیاں ان کے پاس بیٹھیں
20:03آپ یقین کریں اب بعد جسے آپ مشورہ کر لیں
20:06صرف مشورہ
20:07مرضی بشاک آپ نہیں کریں
20:09لیکن اس مشورے میں آپ کو اتنا سایہ ملے گا
20:13کہ زندگی میں کبھی ناکامی نہیں ہوگی
20:15پھر اسی سجند ہی مننی
20:17ابے دی نہیں مننی
20:18پھٹے پہ جو نلائے کماری طرح کا بیٹھا ہے
20:21اس سے مشورہ لینا ہے
20:22والد سے نہیں لینا
20:23باپ کے پاس بیٹھیں
20:25اس سے مشورہ لیں
20:26میرے ابا جی کسان تھے
20:29میں نے اپنی زندگی میں
20:32دھیروں چیزیں اپنے باپ سے سیکھیں
20:34درجنوں چیزیں سیکھیں
20:37میرے والد
20:39بڑے خوددار تھے
20:41مزاج میں عجیب سی خودداری تھی
20:43کوئی بندہ کبھی حال پوچھ لیتا تھا نا
20:46کہ حالات کس طرح کے ہیں
20:47تو فرماتے تھے بھئی اگر بتانا ہوا
20:49تو اپنے اللہ کو بتاؤں گا
20:50الحمدللہ بڑا فضل ہے
20:53میں نے ان کے آتوں پہ ہمیشہ چھالے دیکھے
20:55ہمیشہ چھالے
20:58لیکن ان کا ہاتھ کبھی کسی دنیا دار کے سامنے
21:01پھیلتا ہوا نہیں دیکھا
21:02لوگ مجھے کہتے ہیں آپ کس پیر سے
21:31مجھے پی انتaal مجھے پی strategی
21:33ہمیشہ چھلے
21:35ہمیشہ چاہتے ہیں
21:36ہم کسید کے سامنے
21:40لیکن بہت کرنے
21:40ہم کسید کے سامنے
21:40حل رجزیز عژی بندہ
21:42مبا مش کہتے ہیں
21:44لیکن جا وش راقını
21:45میں راہ بادیا
21:47سايدہ
21:47�ٹھم
21:49مجھے پیدنے
21:50ہم کرنے
21:50دخوارے
21:51سایغیر
21:52ب��es
21:53ساید
21:55موسیقا
22:25موسیقا
22:55موسیقا
23:25موسیقا
Be the first to comment