00:30کوئی سوال کا جواب نہ دینا چاہتے تو خموش ہو جاتے لیکن اس نے بار بار اسرار کیا نا یہ مجموع زواید میں حدیث موجود ہے راوی ہے مولا علی شہرِ خدا دیکھیں حضور کا نور دینے کا شوق کتنا ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے جب اس اعرابی نے بار بار سوال کیا نا تو پھر حضور خود فرمانے لگے چل پھر مانگ تو کیا مانگتا ہے مولا علی فرماتے ہیں ہمیں بڑا رشت آیا ہمیں بڑا ناز آیا ہم نے کہا کیا بات ہے
00:58حضور نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے اب یہ نبی پاک سے جنت مانگے گا اور دنیا میں بیٹھے بیٹھے اپنے لیے جنت کی ٹکٹ بوک کرا لے گا اپنے لیے یہ جنت کے اندر بہترین محل اپنے لیے الارٹ کرا لے گا لیکن بڑا ہی بولا تھا میں کیا کروں آج بھی اس طرح کے بولے بیش مار ہیں
01:17عقیدت سے جاتے ہیں کامل شیخ کے پاس جاتے ہیں مانگتے کہیں جا کے دنیا کی دولت یعنی کاروبار نہیں چلتا یہ تو بات کسی سیڑ سے بھی کر لیتے تو اچھے کاروبار کا مشورہ دے دیتے ہیں
01:30تم کسی درویش کے پاس گئے تھے تو اسے مصطفیٰ کی نظر کرم مانگنی تھی اسے اللہ کی رحمت کا سوال کرنا
01:37اس سے کہنا تھا کہ ایک خیر کی نظر ڈالیں امزور نہ یہ کہنا چاہیے تھا یہاں کیا انداز آمدان برسر مطلب مولا علی شیر خدا فرماتے ہیں
01:46مارا خیال تھا جنت مانگے گا اور بڑا بھولا آدمی تھا کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے سفر کرنا ہے مجھے سواری کے لیے ایک اونٹ دے دے
01:55فضلت علی فرماتے ہیں ہمیں اس نے سوال تو کیا پر جو ہماری طبیعت تھی اس مطابق اس نے نہیں کیا
02:04یعنی جس طرح کا دروازہ تھا اس طرح کی بھیک نہیں مانگی
02:07اس نے اونٹ مانگا حضور نے فرمایا چل دیا تجھے گویا حضور نہ دے رہے دور کرنا چاہ رہے ہیں اس کے
02:13فرمایا چل اونٹ دے دیا اب تو کچھ اور بھی مانگو
02:16حضرت علی کہنے لگے لو بڑے نصیب والا ایک چانس اور ملا
02:20تو کہنے لگا حضور اس طرح کریں جو اونٹ پر کجاوہ باندھا جاتا ہے وہ بھی دے دے
02:25تو حضرت علی شہرِ خدا فرمانے لگے ہم نے کہا تیرا اللہ بھلا کرے
02:30تو کہاں اڑ گیا ہے حضور نے نا مسکران کے ایک تیسرا موقع دیا
02:34فرمایا چل تجھے کجاوہ بھی دیا کچھ اور مانگ لے
02:38کہنے لگے حضور صور بڑا لمبے آنے جانے کا خرچہ بھی دے دے
02:41تو سرکار دعالم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے
02:45فرمایا جا تجھے دیا پھر حضور نے ایک مثال بیان کی
02:48اور فرمایا تجھ سے تو بنی اسرائیل کی وہ بوڑی ہی اچھی تھی
02:53یا رسول اللہ کون سی
02:55فرمایا حضرت موسیٰ علیہ السلام دے وہ اپنے وطن سے ہجرت کر رہے تھے
03:00گھوڑوں پر بیٹھے
03:01اونٹوں پر بیٹھے لیکن اونٹ گھوڑے جاتے نہیں تھے واپس لوٹتے تھے
03:05تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی
03:07اللہ یہ جاتے کیوں نہیں
03:08تو رب کریم نے فرمایا اس لیے نہیں جاتے
03:11کہ جہاں سے آپ ہجرت کر رہے ہیں نا
03:13وہاں ایک جگہ پہ حضرت یوسف علیہ السلام کا تابوت دفن ہے
03:17جناب یوسف علیہ السلام کی قبر مبارک ہے
03:20آپ وہ تابوت بھی نکال کے ساتھ لے جائیں
03:23یہ اگر رب نے بتا دیا
03:25تو اللہ یہ بھی تو بتا سکتا ہے نا
03:27کہ قبر کہاں ہے
03:28یہ بتا دیا تابوت کہاں یہ نہیں بتایا
03:30تابوت لے جائے یہ نہیں بتایا کہاں ہے
03:33یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام
03:35آپ خود تلاش کریں گے تو
03:36حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے لوگوں سے پوچھا
03:39کہ وہ کہاں ہیں تابوت
03:41حضرت یوسف کا تو وہ کرنے لگے
03:43ہمیں تو نہیں پتا ہے کہ بوڑی اممہ پرانی
03:45اسے پتا ہے
03:47حضرت موسیٰ علیہ السلام اس بوڑی سے ملے
03:50تو فرمایا بتا دے گی وہ تابوت کہاں ہے
03:53حضرت یوسف کی قبر کہاں ہے
03:55آج لوگ کہتے ہیں مزاروں پہ نہیں جانا چاہیے
03:57تو پڑھو نا یہ عدیث کھول کے
03:59نبی پاک
04:00نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں
04:05کہ دیکھو قبر کا رستہ
04:07مزار کا رستہ بتانے کا
04:09وہ عورت قیمت مانگ رہی ہے
04:10حضرت موسیٰ کی ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا
04:12مط میں پتا ہے جناب یوسف کا مزار کہاں ہیں
04:14قبر کہاں ہیں کہنے لگی پتا ہے
04:17آپ نے فرمایا بتا دے کہنے لگی
04:19مفت کیسے بتا دو
04:20ابھی تو لوگوں کو مزاروں پہ جانے کی
04:24بلیل نہیں مل رہی
04:25اور یہاں وہ بوڑی کہتی اور بیان کر رہے ہیں
04:28میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
04:29اور بوڑی کہنے لگی مفت نہیں بتاؤں گی
04:32تو حضرت موسیٰ فرمانے لگی
04:33قیمت لے لے
04:34کہنے لگی بلکل آپ قیمت دیں گے
04:35تو بتاؤں گی
04:36فرمایا قیمت کیا ہے
04:37کہنے لگی قیمت یہ ہے
04:39کہ جنت میں مجھے بھی اس محلے میں مکان چاہیے
04:42جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مکان ہو
04:44اس محلے میں مجھے بھی مکان چاہیے
04:47اسی درجے میں آپ کے ساتھ
04:50حضرت موسیٰ فرمانے لگی
04:51اممہ چل تو جنت کا مکان مانگ
04:53تو انہیں تو بہت بڑی سوسائٹی بھی پلارٹ مانگ لیا ہے
Be the first to comment