- 1 year ago
Hazrat Ali (RA) ki bahaduri ki misaal poori duniya mein di jati hai.
Aap ne hamesha haq aur insaaf ke liye talwar uthai.
Har jang mein aap sab se aage nikal kar dushman ka muqabla karte.
Khaibar ke qile ko fatah karna aap ki shujaat ka sab se bara saboot hai.
Aap ki talwar “Zulfiqar” adal aur himmat ki nishani ban gayi.
Hazrat Ali (RA) ki bahaduri sirf jang tak mehdood nahi thi, balke aap haq ki raksha karte hue hamesha be-darr kharay rahe
Aap ne hamesha haq aur insaaf ke liye talwar uthai.
Har jang mein aap sab se aage nikal kar dushman ka muqabla karte.
Khaibar ke qile ko fatah karna aap ki shujaat ka sab se bara saboot hai.
Aap ki talwar “Zulfiqar” adal aur himmat ki nishani ban gayi.
Hazrat Ali (RA) ki bahaduri sirf jang tak mehdood nahi thi, balke aap haq ki raksha karte hue hamesha be-darr kharay rahe
Category
📚
LearningTranscript
00:00ایک موقع پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ حضرت علی کو اپنا نائب بنا کے مدینہ منورہ میں چھوڑ کے جایا جائے
00:08محبوب کریم علیہ السلام جب بھی تشریف لے جاتے تھے تو کسی ایک کو نائب بنا کر مدینہ منورہ میں چھوڑ جاتے
00:16حضرت عبداللہ ابن مختوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی ایک دفعہ حضور چھوڑ کے گئے
00:21تو ایک جنگ کے موقع پر محبوب نے حضرت علی شہر خدا سے کہا کہ آپ کو میں اپنا نائب بنا کے یہاں چھوڑ کے جاتا ہوں
00:29یہاں لوگ جان چھوڑاتے ہیں کام کا جب وقت آتا ہے میدان میں نکلنے کا وقت آتا ہے تو جان چھوڑاتے ہیں
00:36اور وہ کہتے ہیں کہ باقی سارے کام لے لو جب وقت مشکل آئے تو پھر ہمیں کام نہ بتاؤ
00:42اب مشکل وقت ہے جہاد میں جانا ہے
00:45حضرت مولا علی شہر خدا کررم اللہ تعالیٰ وجہہ القریم کو حضور نے فرمایا کہ اس دفعہ میرا ارادہ بنا ہے کہ تمہیں چھوڑ کے جاؤں
00:52تو حضرت علی کو چھوڑ کے جایا جا رہا ہے ان کو مدینے میں رہنا ہے میدان میں نہیں جانا
00:58عام آدمی کتنا پسند کرتا ہے کہ میں آرام سے رہوں گا لیکن حضرت علی کو اتنا شوق تھا میدان جہاد کا
01:04اتنی تڑپ تھی ان کے دل کے اندر
01:08کہ عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
01:11رو پڑے کرنے لگے حضور ساری دنیا میدان میں جہاد کرے گی اور میں یہاں عورت اور بچوں کے پاس رہوں گا
01:18میں یہاں عورت اور بچوں کے بیچ وقت گزان حضور مجھے لے کے جائیں
01:23تو وہاں بھی حضور نے محبت کی بات سمجھائی فرمایا
01:27علی جب حضرت موسیٰ کو حیطور پہ گئے تھے تو اپنے بھائی جناب حارون کو چھوڑ گئے تھے
01:33تو تم بھی تو میرے لئے اسی طرح ہونا جس طرح موسیٰ کے لئے حارون تھے
01:38لیکن فرمایا یہ یاد رکھنا میرے بعد نبی کوئی نہیں
01:41حضرت موسیٰ بھی نبی ہے اور جناب حارون بھی نبی ہیں علیہ السلام
01:46لیکن وہ انہیں چھوڑ کے گئے تھے میں تمہیں چھوڑ کے جا رہا ہوں
01:49کہ ایک بات اپنے ذہن کے اندر بٹھانا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا
01:56ایک شخص تھا عمر بن عبد ودھ نوے سال کا بڑا
02:00لیکن جب تلوار لے کے میدان میں آتا تھا تو ایک ہزار آدمی کے مقابلے میں لڑتا تھا
02:06اور لوگ جگہ جگہ یہ کہتے تھے
02:09تو تو اس طرح ہے جس طرح عمر بن عبد ودھ لوگوں کو دھراتا ہے
02:13تو تو اس طرح ہو گیا
02:14یہ اس کے ارد گرد کے لوگ اس کی مثالیں دیتے تھے
02:17جنگ خندق جب ہو رہی تھی تو یہ مقابلے میں آ گیا
02:20تو حضرت علی المرتضی شیر خدا کررم اللہ تعالی و جہوالکریم بھی تشریف فرماتے
02:25اب پورے عرب کے اندر اس کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا
02:29کہ اس سے نہ لڑو وہ تو خونخار ہے وہ تو درندہ ہے
02:32وہ تو جنگلی شیر کی طرح آتا ہے
02:34وہ تو کاٹ کھانے کو دھوڑتا ہے
02:36اسے کون لڑے
02:37ایک خیال تھا
02:40اور وہ پراپوگنڈا بعض اوقات اتنا زیادہ کسی کے بارے میں ہوتا ہے
02:44کہ میں بچے لوگ آتے ہیں نا بچہ دم کرانے کے لیے
02:47تو کہتے ہیں پینچا بڑا زدی ہے
02:49کسی کی بات نہیں مانتا
02:50باقی بچے ٹھیک تھے
02:52یہ تو بڑا ہی نلائق نکل آیا ہے
02:53تو میں کہتا ہوں کہ آپ اس کے سامنے یہ والی باتیں نہ کریں
02:57یہ پکا ہو جائے گا کہ میں زدی ہوں
02:59تو آپ ذہن بنا رہے ہیں اس کا کہ تو اس طرح کہے
03:01ذہن بنا دیا لوگوں نے
03:03کہ امر ابن عبدعود کے مقابلے میں کوئی نہیں آ سکتا
03:05خندق میں یہ آیا
03:06اس نے للکارہ مسلمانوں کو
03:09آؤ وہ تمہاری جنت کدھر ہے
03:11جس کے بارے میں تم کہتے ہو کہ ہم چہید ہوں گے
03:13تو آؤ میرے مقابلے میں نکلو
03:15جب اس نے پہلی دفعہ للکارہ
03:18تو ابھی بات ختم نہیں ہوئی تھی
03:21کہ مولا علی تلوار لے کے
03:22اللہ اکبر کہتے کھڑے ہو گئے
03:24حضور نے فرمایا بیٹھ جاؤ
03:27حضرت علی پھر بیٹھ کے
03:28وہ پھر پکارا
03:30اٹھو کوئی میرے مقابلے میں
03:32تو مولا علی شہر خدا پھر کھڑے ہو گئے
03:35پھر کھڑے ہو گئے
03:38حضور نے فرمایا بیٹھ جاؤ
03:39ایک شخص نے کہا علی
03:40یہ امر بن عبدعود ہیں
03:42فرمایا مجھے پتہ ہے
03:43نہیں سمجھے آپ بات
03:45میں آپ کو سمجھا کے لائے ہوں پیچھے سے
03:47کہ پرابوگنڈا کرتے ہیں
03:49لوگ آگے نہ جانا
03:50یہاں کرنٹ بڑا زیادہ ہے
03:51مولٹیج بڑے سخت ہیں
03:53تو آگے نہ بڑھنا
03:54بھئی کیا ہو جائے
03:55اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے
03:57پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے
03:59حضرت علی تیسری دفعہ
04:01اس نے کہا نا
04:02ہے کوئی تو حضرت علی پھر اٹھے
04:04اب تو رسول پاک
04:07صلی اللہ علیہ وسلم نے تھب کی دی
04:10بعض جگہ یہ ہے
04:12کہ غزور نے خود تلوار تھمائی
04:14سر پہ امامہ باندھا
04:16اور غزور نے فتح یابی
04:19کی دعا فرمائی
04:20حضرت علی گوڑے پہ بیٹھے
04:22نکلے
04:23اور جب اس کے سامنے گئے
04:24تو جا کے کہنے لگا میرا پتہ ہے
04:26حضرت علی فرمانے لگے
04:28تو اپنا چھوڑ میرا پتہ ہے تجھے
04:30مجھے تو جانتا ہے
04:33کہنے لگا
04:34میں ایک ہزار کے مقابلے میں
04:36اکیلا لڑتا ہوں
04:38حضرت علی شیر خدا فرمانے لگے
04:40پتہ نہیں تو کن سے لڑتا رہا ہے
04:42جانے وہ کون ہے جن سے
04:44تُو لڑتا رہے وہ کون ہزار تھے
04:46جو تیرے مقابلے میں آتے تھے
04:48پتہ نہیں تو کنے لگا میرا نام
04:50میری ماں نے عمر بن عبدعود رکھا ہے
04:52فرمائے چھوڑ توں
04:53میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے
04:56کہنے لگا تیری عمر چھوٹی ہے
04:59کوئی بڑا اللہ فرمانے لگے
05:00یہ تو جب ہنجے میں پنجا ملے گا
05:02تو پتہ چلے گا عمر کس کے چھوٹی ہے
05:04ابھی تُو کانیوں سے متاثر کرنا چاہتا ہے
05:07تُو چاہتا ہے کہ تُو پریشر ڈال لے
05:09اور میں تیری بات سنو
05:10تُو مقابلے میں آ دینگے نہ مار
05:12کانیاں نہ سنا دیواریں ہلتی رہتی ہیں
05:14اور درکاں بجاتا ہے
05:16علی کا نام سن کے اب بھی خیبر کان بجاتا ہے
05:19تُو مقابلے میں آ تُو باتیں بنا رہا ہے
05:22کانیاں سنا رہا ہے
05:24وہ کہنے لگا تُو بچہ ہے
05:26میں چاہتا ہے نہیں تیرا خون باہوں
05:28تو حضرت علی کہنے لگے
05:29میں بڑے دن سے پریشان لوں کہ
05:32کسی بھی ایمان کا خون باہیا کیوں نہیں
05:34میرا بڑا دل کر لے تیرا خون باہوں
05:37اس نے بڑی زوردار
05:39زرب لگائی
05:40غصے میں اتنا پاگل ہوا
05:42کیونکہ اس کے بارے میں معروف تھا
05:44کہ وحشی مزاج آدمی
05:46اتنا سخت پاگل ہوا غصے میں
05:48کہ اس نے اپنے گھوڑے کے پیر
05:51کٹ ڈالے
05:51پہلے تلوار گھوڑے کو دے ماری
05:54اس کو کٹ کے دھوڑا
05:56یہ کیوں کرتے تھے لوگ
05:58عرب کے لوگ اس وقت یہ کام کرتے تھے
06:00کہ ہم نے گھوڑا ہی مار ڈالا ہے تاکہ ہم بھاگنا سکیں
06:03کہتے ہیں نا کشتیاں جلا دیئیں
06:05کہ اب واپس جانے کا رستہ ہی بند ہو جائیں
06:07گھوڑے کے پیر کٹ ڈالے کے بھاگنا نہیں
06:09اور بڑی زور سے اس نے ضرب لگائی
06:11حضرت علی پر
06:12حضرت علی نے جب روکی تو وہ دھال ٹوٹ گئی
06:15حضرت مولا علی
06:16اور آپ کے ایک امامے کو اس کی تلوار بھی لگی
06:19آپ نے فرمایا دکھا لیا تو انہیں زور
06:21اب میری باری ہے
06:23حضرت مولا علی شیر خدا کا قد بظاہر چھوٹا تھا
06:28صحابہ کہتے ہیں ہم دور سے دیکھ رہے تھے
06:30اللہ خواکبر کہہ
06:31کہ تھوڑا سا زمین سے وہ اٹھے
06:33تھوڑا سا اٹھے
06:36اور پھر دوبارہ نہیں انہیں تلوار چلانی پڑی
06:40ایک ہی ضرب لگائی
06:41اور اس کے دو ٹکڑے کر کے
06:43اسے زمین پہ بھینک دیئے
06:44تو عزیز دوست آپ یاد رکھیں گے
06:47اس بات کو کہ اپنی زندگی کے اندر
06:49مروب ہو نہ چھوڑ دیں
06:51روب میں تاتاریوں نے مسلمانوں کو مروب کر لیا تھا
06:54روب ڈال لیا تھا
06:56کہ ہم بہت بڑے لوگ ہیں
06:57یہی آج ہمارے ساتھ بہت سارے لوگ کرتے ہیں
06:59دلوں میں روب آ جاتا ہے
07:00امیر رشتے دار کا فلانے کا فلانے کا
07:03پھر وہ جو مرضی کرتا ہے
07:05تاتاریوں کی ایک بی بی
07:07وہ کیا کرتی
07:10وہ نو دس مسلمان نوجوانوں کو
07:12سڑک پہ کھڑا کر جاتی
07:13کہتی ادھر کھڑے ہونا میرے آنے دا کھلنا نا
07:16جوان ہیں لیکن روب ہے نا کہ یہ بڑے ویشی ہیں
07:19اکیلی بھی بھی اندر جاتی
07:21تلوار لے آتی
07:22اور وہ کھڑے ہیں وہ بھاگے بھی نہیں
07:24اتنا ڈرگ ہیں ٹانگیں کام رہی ہیں
07:25بھاگنے کی بھی جورت نہیں کر رہے ہیں
07:27تسلی سے گئی ہے تلوار لے کے آئی ہے
07:29اور اس نے نو جوان مسلمانوں کے گلے کٹ دی
07:32اس روب سے نکلیں باہر
07:36نوجوانوں سے کہتو نکلو
07:38اور جن لوگوں نے دنیا میں انقلاب برپا کیا
07:40وہ غریب گھروں کے تھے
07:43وہ لوگ تھے کہ جو
07:44بظاہر کسی بڑے قبیلے سے نہیں تھے
07:46آپ میند کریں تعلیم آسل کریں
07:48جد و جہد کریں مشکت کریں
07:50اپنی زندگی میں
07:51کچھ مقاصد کے غصول کے لیے آگے بڑھیں
07:55اور اگر آپ کہیں
07:56کہ دائیں بائیں میرے فلاں فلاں آدمی
07:58مجھے یہ مشورہ دے رہا ہے تو کچھ لوگ دنیا میں
08:00باتیں کرنے آئیں انہوں نے باتیں کرنی ہیں
08:02اور بڑا فیدہ ہوتا ہے
08:04ان کو باتیں کر لینے دیں
08:05ان کو کرتے رہنے دیں
08:07کام کرنے والا بندہ کام کرتا ہے
08:10اور کرتا ہی جلا
08:11جاتا ہے وہ منظر در کون جاتا ہے
08:13تو حضرت علی کے مزاج میں دلیری ہے
08:15عمت ہے ایک بات اور دوسری بات
08:18دانائی
08:18حکمت
08:20کہ جو ہمارے فیصلے ہیں نا جذباتی
08:24اور
08:26جناب آج فلانے نے یہ کہہ دیا
08:29تو میرا پروگرام یہ بن گیا
08:31تو پھر کل کسی نے اور کچھ کہہ دیا
08:32تو میرا پلان اور بن گیا
08:34میں سب سے زیادہ
08:36ان لوگوں کے حق میں پریشان ہوتا ہوں
08:38جو سویرے کچھ اور کہتے ہیں
08:40دوپیر کو کچھ اور کہتے ہیں
08:41شام کو کچھ اور کہتے ہیں
08:42بھئی آپ کا کوئی نظریہ ہونا چاہیے
08:44کوئی ویزن ہونا چاہیے زندگی میں
08:46آپ کے اندر کوئی حکمت اور دانائی ہونی چاہیے
08:50اس کے لیے کیا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے
08:52اس کے لیے ضرورت ہوتی ہے
08:53کہ آپ کا ذہن ایک طرف ہو
08:54میرے حصہ فرمایا کرتے تھے
08:57زندگی میں ایک کام کر لو
08:58پر صحیح کر کے کر لو
08:59ہم نے تو سارے کام کرنے ہیں
09:02آج کل ہر بندہ صحافی ہے
09:04ہر بندہ تجزیہ نگار ہے
09:06ہر بندہ سیاستدان ہے
09:07ہر بندہ ہی مفتی ہے
09:08ہر بندہ ہی جناب وائز ہے
09:11ہر بندے کے پاس ہی کچھ مسئلے
09:12اس کا نقصان یہ ہے
09:14کہ کسی کے پاس بھی کچھ نہیں
09:15وہ کسی درویش نے کہا تھا
09:18کہ جب سب لیڈر ہوں
09:19تو سمجھو کوئی لیڈر نہیں
09:20کیونکہ سارے جو لیڈر ہو گئے
09:22میرے عزیز
09:23ایک طرف ذہن کو رکھیں
09:25اور اپنے اس کام میں
09:27کمال پیدا کریں
09:28حضرت مولا علی شہرِ خدا
09:30کو اللہ نے حکمت دی تھی
09:31نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی
09:33حضرت عبداللہ بن مسعود
09:35رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں
09:36امام ابو نیہم نے لکھا ہے
09:38کہ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں
09:40نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
09:42اگر حکمت کے دس حصے کیا جائیں
09:44دانائی کے دس حصے کیا جائیں
09:48تو اس میں سے نو حصے
09:49اللہ تعالیٰ نے حضرت علی کو عطا فرمائے
09:52اور ایک قصہ باقی لوگوں کو ملا ہے
09:55دانا تھے
09:56معاملہ فین
09:57کچھ بندے بڑے منافق قسم کے تھے
10:00تو حضرت علی آزان ہو گئی
10:02تو وہ
10:05حضرت مولا علی شہرِ خدا کے پاس آگئے
10:08آزان ہو گئی
10:08حضرت علی نے جماعت کرانی
10:09ان کا خیال تھا
10:10کہ آدم نے جماعت لیٹ کرانی
10:12یا کسی طریقے سے
10:13ہم چونکہ زیادہ باتیں
10:15میں دوستوں سے کہتا ہوں
10:17بہت زیادہ خبریں نہ دیکھا کرو
10:18بہت زیادہ بھی چیزیں نہ سنا کرو
10:20آپ تو میرے بھائی موبائل کے اندر چلے جائیں گے
10:23برد بار کی دنیا تو اور ہے
10:24تو تھوڑا بار بھی نکلیں تصویروں سے
10:28تھوڑا باہر بھی آئیں
10:29دیگر معاملات بھی دیکھیں
10:31ہمیں بڑے بڑے اچھے لوگ زندگی میں مل جائیں گے
10:34لیکن ہم ان کے قریب نہیں جاتے
10:42حضرت علی چونکہ بڑے دھانا تھے
10:44مسلح پہ بڑھ رہے ہیں جماعت کڑی کرنی
10:46اللہ وہ اکبر کہہ رہے ہیں
10:48بندوں کا خیال تھا نماز لیٹ کرانی
10:50نفٹہ پھٹ حضرت علی سے کہا
10:53کہ حضور ذرا وہ جانور تو بتائیے گا
10:54کتنے ہیں جو انڈے دیتے ہیں
10:56اور ذرا وہ بھی بتائیے گا جو بچے دیتے ہیں
10:59یہ ذرا
11:00کتنے کو مندہ جانور گنے آہستہ آہستہ
11:02بندہ شمار کرے
11:03بکری جو ہے وہ بچا دیتی ہے
11:06مرگی انڈا دیتی ہے
11:07اور گائیں جو ہے وہ بچا دیتی ہے
11:10اور بتخ جو ہے وہ انڈا دیتی ہے
11:12بندہ تو یہ گننے لگ جائے
11:13تو حضرت علی شہرِ خدا یہاں ہاتھ ہیں
11:15فرمانے لگے گھر جا کے گھن لینا
11:18موٹی سی بات بتاتا ہوں
11:20جن جانوروں کے کان باہر ہوتے ہیں
11:22وہ بچے دیتے ہیں
11:23جن کے اندر ہوتے ہیں وہ انڈے دیتے ہیں
11:24اللہ اکبر
11:25نماز کی نیت باندی
11:27تم گھننا گھر جا کے
11:28موٹی سی بات بتا دیتا ہوں
11:30وہ صاحب کہتے ہیں
11:32میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ
11:33انہوں کو جانے آیا تھا
11:35میں خود بڑا علج گیا
11:36یہ کیا مہجرہ ہے
11:37کیا محمہ ہے
11:38کہ دو فکروں میں
11:40انہوں نے بات کو سمیتہ اور کمال کر دی
11:43کہنے لگے گھر جا کے گھننا
11:45یہاں ٹائم نہیں نماز کا وقت ہے
11:46بھر جن کے کان اندر ہے نا
11:48وہ انڈے دیتے ہیں
11:50اور جن کے باہر ہیں وہ
11:51جا جا کے حساب کرنا
11:53آپ ڈھونڈ لیں
11:54تلاش کر لیں
11:55چلے جائیں ماہرین کے پاس
11:57پرشیر خدا شیری ہے
11:59حضرت مولا علی کے جملوں میں کمال ہے
12:03ان کی دہنائی
12:04ان کا تدبر
12:05ان کی حکمت
12:06ان کا فہم
12:07ان کی فراست
12:08ان کا کمال
12:10ایک شخص بڑی دور سے آیا
12:13اس نے کہا
12:14حضور مجھے نہ لمبی باتیں یاد نہیں رہتی
12:17دو باتیں بس بتاتے میں عمل کروں
12:19تو زندگی بن جائے دو باتیں
12:21تو حضرت علی فرمانے لگے
12:23لمبی امیدیں نہ لگانا
12:24لمبی امیدیں نہ لگانا
12:28موت کا پتہ نہیں کب آ جائے
12:30منصوبہ بندی ضرور کرنا
12:32آنے والی نسلوں کے لیے
12:33اپنی اپنی ذات کے لیے
12:35لمبی امیدیں نہ باندھنا
12:36یہ بھی کر لوں گا
12:37یہ بھی کر لوں گا
12:38ہم ریٹائر نہیں ہوتے زندگی بار
12:40پلان پہ پلان پہ پلان
12:43تو اگر ہم پلان کر رہے ہوتے ہیں
12:45تو جو ہمارے نیچے ہوتے ہیں
12:46وہ ہمیں ریٹائر کرنے کا پلان کر رہے ہوتے ہیں
12:49اولاد نے تک
12:50والدین کو کمزور کرنے کے در پہ ہوتی ہیں
12:52کہ اب یہ ہٹے تو ہماری باری آئے
12:54حضرت علی فرمانے لگے دو کام
12:57ایک تو لمبی امید نہ باندھنا
12:59اور دوسرا فرمائے
13:01اپنے نفس کی خواہش کی پیروی سے بچنا
13:04دنیا میں رسوا وہ لوگ ہو جاتے ہیں
13:07جو اپنے نفس کی خواہش کی پیروی کرتے ہیں
13:10وہ بزدل ہو جاتے ہیں
13:12جو خواہشاتیں نفسانی کے پیچھے باگتے ہیں
13:14یہ کام نہ کرنا
13:15امام رازی کہتے ہیں
13:16کہ سیدہ فاطمہ تزہرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دونوں شہزادے حسنین کریمین بیمار ہو گئے
13:21تو سیدہ نے منت مانگی
13:23کہ بچوں کو شفاہ ہوگی تو تین روزے رکھوں گی
13:25شفاہ ہوگئی
13:27روزے بھی رکھ لئے
13:28اور جب مولا علی شہر خدا روزہ رکھنے کے لئے بیدار ہوئے
13:32سیدہ فاطمہ تزہرہ بیدار ہوئیں
13:34تو امام حسن اور حسین بھی اٹھ گئے
13:35سات آٹھ سال کی عمر ہے
13:37امام جی آمنے بھی رکھنا ہے
13:38صبح خجور اور دودھ سے روزہ رکھ لیا گیا
13:42این افطاری کے وقت
13:45مولا علی کہتے ہیں
13:47فاکے چل رہے تھے
13:48کہیں سے میں جاؤں لائے تھوڑے سے
13:50سیدہ فاطمہ تزہرہ نے پیس کا روٹیاں پکائیں
13:54وہ وقت جو بڑا مشکل ہوتا ہے
13:57افطار کا
13:58کہتے ہیں اس وقت جب
14:00کھانے کے لئے
14:03بلکل ہاتھ آگے بڑھنے لگے
14:05اور امید تھی
14:06کہ ابھی سیدنا بلال اللہ اکبر
14:08کہیں گے تو روزہ کھلے گا
14:09لیکن ابھی چند ہی منٹ رہتے تھے
14:13کہ دروازے پر ایک فقیر نے صدا دی
14:15کہنے لگا سارے مدینے کے دروازے
14:18کھٹ کھٹا آیا ہوں
14:19کہت ہے فاکہ ہے
14:21اے رسول اللہ کے خاندان والو
14:24میں یتیم ہوں
14:25کسی نے بتایا ہے
14:27کہ اور کوئی دروازہ کھلے نہ کھلے
14:29سیدہ کا دروازہ تیرے لئے ضرور کھلے گا
14:32کیا یتیم کو روٹی ملے گی
14:34تو حضرت مولا علی نے بچوں کی طرف دیکھا ہی تھا
14:37کہ امام حسن ساری روٹیاں جا کے دروازے پہ دے آئے
14:40خجور اور پانی سے افطار ہو گیا
14:43صبح پھر خجور اور دودھ سے روزہ رکھا
14:45امام رازی کہتے ہیں
14:47این وہ وقت
14:48جب افطار کا ٹائم آیا
14:50تو پھر دروازے پہ کسی نے صدا دی
14:52کہا ہے رسول اللہ کے خاندان والو
14:55میں مسکین ہوں
14:56رات سے روٹی کھائی ہے
14:58نہ صبح کھا سکا نہ دوپہل
15:01کسی نے بتایا ہے کہ اس دروازے سے خالی کوئی نہیں جاتا
15:04امام حسن نے پھر سارا لنگر اٹھایا
15:07اور پھر جا کے دے دیا
15:09تیسرا دن پھر ہوا
15:10مجھے یوں لگتا ہے
15:12جب افطار کا ٹائم آیا ہوگا
15:15تو یہ خود ہی سارے دروازے پہ دیکھتے ہوں گے
15:18یہ کوئی آیا نہیں لینے والا ابھی تک
15:20لگتا ہے کہ نظریں دروازے پہ تھی
15:22این افطار کے وقت
15:24تین روٹیاں جب جاؤں کی پک کے آئی
15:26تو ایک بھکاری نے صدا دی
15:29کہنے لگا میں قیدی ہوں
15:31آج ہی قید سے رہائی ملی ہے
15:33پہلے دن کسی کے دروازے پہ صدا ملی ہے
15:37دی ہے روٹی ملے گی
15:38امام حسن وہ کھانا دے کے
15:41واپس لوٹے
15:41خجور اور پانی سے افطار ہوا
15:44اور جیسے ہی مسجد نبی میں
15:46تینوں باپ بیٹا نماز پڑھنے گئے
15:48تو مولا علی کہتے ہیں مجھے بتانا نہیں پڑا
15:50رسول کریم نے میری طرح دیکھ کے فرمائے
15:53علی تیرہ
15:54فاطمہ کا حسن اور حسین کا
15:57تینوں دن والا عمل
15:58خدا کو بھی بڑا پسند آیا ہے
16:01اور محمد مصطفیٰ کو بھی بڑا پسند آیا ہے
16:03بڑا پسندیدہ عمل
16:05میں کہتا ہوں کہ حضرت فاطمہ نے
16:07ان کی تربیت پہلے ہی کر دی تھی
16:09تین تین دن بغیر افطار کے روضہ رکھنے
16:12وہ ٹریننگ گھر سے ہو چکی تھی
16:14اب میدان کربلا میں
16:16تین دن بھوکا پیاسا رہنا
16:17ان کے لئے مشکل نہیں تھا
16:20حضرت جناب سیدہ
16:23زینب بنت ابی رافع کہتی ہیں
16:25کہ سیدہ فاطمہ تظہرانہ
16:28ایک دن اپنے دونوں شہزادوں کو لے کے
16:30جب حضور کی طبیعت مبارک
16:31بظاہر علیل تھی جس میں حضور کا
16:33وصال ہوا دونوں شہزادے لے کے
16:35سیدہ فاطمہ نبی کریم کی بارگاہ میں
16:37گئی کہنے لگے یا رسول اللہ
16:39میرے بچوں کو کچھ دیجئے
16:41سیدہ پار تو حضور اٹھ کے
16:43بیٹھ گئے
16:45اس کندے سے امام حسن کو لگایا
16:47اور اس سے امام حسین کو لگایا
16:49فاطمہ یہ جو میرا حسن ہے
16:52اس کو میں اپنی حیبت اور سرداری
16:54دیتا ہوں
16:55اور فرمایا یہ جو میرا حسین ہے
16:57حسین کو میں اپنی جررت اور سخاوت
17:00دیتا ہوں
17:00میرا حسین جررت مند ہوگا اور سخی ہوگا
17:04داتا گانج بکش علی حجویری
17:05امام الولیاء
17:07سید الاسفیاء
17:09داتا صاحب کشف الماجوب میں فرماتے ہیں
17:12ایک دن امام حسین کے پاس ایک شخص آیا
17:14بڑی دور سے کچھ مانگنے
17:15کا حضور کچھ دیجئے
17:17وہ شخص کہتا ہے کہ میرا ظرف یہ تھا
17:20کہ چار پانچ دینار ملیں گے
17:21تو امام حسین فرمانے لگے تھوڑی دیر بیٹھ جا
17:24رزق آ رہا ہے
17:25تو امام حسین کو حکومت وقت کی طرف سے
17:29پانچ تھیلیاں ملیں
17:30جس میں ایک تھیلی میں پانچ پانچ سو اشرفیاں تھی
17:33پانچ تھیلیاں آئیں
17:36لیکن اس کو آنے میں نظرہ دیر ہو گئی
17:38وہ پانچ تھیلیاں جب آئی نا
17:40تو امام حسین اس کی طرف پانچوں تھیلیاں بڑھا کے نا
17:44ذرا دیکھنا میری طرف گوھر سے
17:45پانچوں تھیلیاں بڑھا کے نا
17:48تو فرمانے لگے
17:49میاں
17:50جتنا تجھے انتظار کر رہا ہے نا
17:52اتنی ہم تیری حاجت پوری نہیں کر سکے
17:54تو یہ نہ ماسوس کرنا
17:56کہ حسین کے دروازے پہ بیٹھا بھی رہا ہوں
17:58تو ملا کیا ہے
17:59یہ نہ ماسوس کرنا
18:01وہ شخص کہتا ہے جب میں نے وہ تھیلیاں کھولی
18:03اور پھر میری نظر
18:06امام حسین پہ پڑھی
18:07تو میرے اندر سے آواز آئی
18:08اگر حسین ابن علی اتنے سخی ہیں
18:11تو محمد عربی کتنے سخی ہو
18:13اگر یہ میار ان کا ہے
18:16ان کا یہ میار ہے
18:18اور خود بھیک دیں
18:19خود ہی کہیں منگتے کا بھلا ہو
18:21خود کہنے لگے
18:22جتنا انتظار کرایا ہے
18:24اتنی تیری مدد کر سکے
18:25یہ سخاوت کا میار تھا
18:27یہ طریقہ تھا
18:28ایک دفعہ سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ
18:31کہ گھر کے اندر نا پانچ ہزار دینار آئے
18:36مسجد میں تھے آپ کو پانچ ہزار دینار ملے
18:40تو امام زہن العابدین کہتے ہیں
18:41کہ مسجد سے لے کر گھر آنے تک
18:44امام حسین نے پانچ کے پانچ ہزار
18:47اللہ کے رستے میں خیرات کر دی
18:49حرماتے ہیں میں نے کہا
18:51با جی پانچ دینار کی گھر میں ضرورت تھی
18:53مالان والے سخی نہیں اندے
18:57تے سخیاں کل مال نہیں اندہ
19:00اتھے اتھے دومی جہانی
19:02سخی کنگال نہیں اندہ
19:03کعبہ جی پانچ دینار کی گھر میں ضرورت تھی
19:06تو کہتے ہیں مجھے فرمانے لے کے
19:08بیٹا یہ جن کو میں نے دیا ہے نا
19:09یہ گھر کے لیے ہی دیا ہے
19:10یہ گھر کے لیے ہی دیا ہے
19:13جن کو دیا ہے
19:13تمہارا کیا خیال ہے
19:14یہ باہر خرچ ہوا ہے
19:15یہ گھر کے لیے ہی ہے
19:17اس لیے کہ جب انسان دوسروں پر شفقت کرتا ہے
19:20تو اللہ اس کے گھر پر رحمت فرماتا ہے
19:22امام حسین کے مزاج میں
19:24پہلی بات میں نے ذوق عبادت کی ارز کی
19:27دوسری بات ارز کر رہا ہوں
19:29کہ صحابہ حضرت عسامہ بن زید
19:31بڑے پیارے ہیں میرے نبی کریم کے
19:34بڑے پیارے
19:35حضرت عسامہ بن زید کے بارے میں
19:38سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہے
19:40ان کے ناک سے اگر ریٹھ نکلتی تھی
19:41تو اللہ کے رسول اپنے دست مبارک سے
19:43اضاف کر دیتے تھے
19:45اور سرکار فرماتے تھے
19:46کہ اگر عسامہ لڑکی ہوتا
19:48ان کے غلام کے بیٹے تھے
19:50اگر یہ لڑکی ہوتا
19:52میں اسے زیور پہناتا
19:53بڑے پیارے تھے
19:55لیکن دم ان کا آخری وقت آیا
19:57تو ساٹھ ہزار دینار کا کرزہ تھا
20:01رشتہ داروں سے کہا
20:02دوستوں سے کہا
20:03یاروں سے کہا
20:04پر کرز ادا نہیں ہو رہا تھا
20:08حضرت عسامہ بن زید کہتے ہیں
20:09بڑا پریشان تھا
20:10جب حد ہو گئی نا
20:12تو حضرت عسامہ بن زید فرمانے لگے
20:16جاؤ کوئی حسین ابن علی کو خبر کرو
20:18ان سے کہو
20:20میں نا غلام ہو آپ کے نانا کا
20:22مکروز دنیا سے چلا گیا
20:25تو کیا بنے گا
20:26امام حسین کو خبر ملی
20:28تو دوڑے آئے
20:29لاجپال اس پیر کو نہیں کہتے
20:31جو تگڑا نظرانہ لے کے
20:33تو ماتھا چوم لے
20:34لاجپال تو اس کو کہتے ہیں
20:36کہ جب ضرورت پڑے
20:38تو وہ سر پہ موجود ہو
20:39حضرت سیدنا امام حسین تشریف لائے
20:43تو جناب عسامہ بن زید رو پڑے
20:46کہنے لگے
20:47حضور میں نے نا غلامی کی ہے آپ کے نانا کی
20:50اور اس غلامی پہ ناز ہے
20:53اب ساٹھ ہزار دنار کا کرزہ لے کے
20:55دنیا سے جاؤں گا
20:57تو میری قبر پہ بوجھ رہے گا
20:59امام حسین خادم کو بھی کہہ سکتے تھے
21:01جاؤ گھر پیسے پڑے ہیں لے آؤ
21:03امام حسین خود گئے
21:05چادر روڑ کے
21:07تو اس کی اوٹ میں
21:08بکل میں
21:09ساٹھ ہزار دنار چھپا کے لائے
21:12اور جناب عسامہ بن زید کے سامنے رکھ کے
21:15کہنے لگے عسامہ
21:17یار پیسے رات کوئی آئے تھے
21:19میں سوچ رہا تھا مجھے تو ضرورت نہیں
21:21اللہ نے کس کا نصیب میرے گھر میں بیج دیا ہے
21:24مجھے تو حاجت ہی نہیں تھی
21:25اب پتا چلا پیسے تیرے تھے
21:27اللہ نے حسین کی ڈیوٹی لگائی ہے
21:29کہ جا جا کے دے آ
21:30حضرت عسامہ بن زید رو پڑے
21:33فرمانے لگے
21:34اللہ آپ کو بہترین صلح عطا فرمائے
21:36امام بڑا ہی پیار کرتے تھے
21:39گھوڑے پہ جا رہے تھے
21:40کچھ فقیر غریب لوگ بیٹھ کے روٹی کھا رہے تھے
21:43کھا کھا رہے تھے
21:44سڑک کے کنارے
21:45تو امام زین اللہ عبد دین فرماتے ہیں
21:49کہ جب امام حسین گزرے
21:50تو انہوں نے آواز دی
21:51حضور دل کرتا ہے
21:52ہمارے ساتھ بیٹھ کے روٹی کھائیں
21:54کائنات کے مالک و مختار کے نواسے
21:57اور دنیا کے
22:00سب سے بڑے شہزادے
22:02گھوڑے سے اترے
22:04اور غریبوں کے سار سڑک بھی بیٹھ گئے
22:06روٹی کھانے لگے
22:08اور دیر تک کھاتے رہے
22:09اور جب فارغ ہو گئے
22:10تو فرمانے لگے
22:11کھانے کی ضرورت بھی نہیں تھی
22:13حاجت بھی نہیں تھی
22:14پر تم نے آواز دی
22:15تو دل رکھنے کو بیٹھ گیا تھا
22:17اگر اجازت دے تو چلا جاؤں
22:19یہ مزاج تھا
22:21یہ طبیعت تھی
22:22آپ کے ایک بھائی ہیں چھوٹے
22:23حضرت محمد بن حنفیہ نام ہے
22:25حضرت مولا علی شہر خدا
22:27رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دوسری بیوی سے
22:29ایک دن حضرت امام حسین
22:32ان کے گھر میں بیٹھے تھے
22:33تو کسی بات میں نہ
22:33اختلاف رائے ہو گیا
22:34تو امام علی مقام نراز ہو گئے
22:36فرمانے آج کے بعد تیرے گھر نہیں آؤں گا
22:38رومال اٹھایا چلے گئے
22:41لوگوں نے حضرت محمد بن حنفیہ
22:44رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا
22:45حسین تو نراز ہو گئے
22:46کبھی نہیں آئیں گے
22:47آپ فرمانے لگے
22:48بھائی تمہارا ہے کہ میرا
22:49کہ جی بھائی تو آپ کے ہیں
22:53فرمایا اگر کہو
22:54تو چند منٹوں میں حسین واپس آئے
22:56کہا جناب نرازگی ہو گئی ہے
22:59فرمایا نرازگی ہوئی ہے
23:00پر میں اس کے دل کی نرمی کو تو جانتا ہوں
23:02اس کے مزاج کے اندر جو محبت ہے
23:05اس سے تو ابھی آئے
23:07کہا جناب وہ کیسے
23:08فرمانے لگے دیکھنا ذرا
23:10تو امام حسین نے خط لکھ
23:13حضرت محمد بن انفیہ نے رکھا لکھا
23:15کہنے لگے حسین
23:16میرے باپ کا نام بھی علی ہے
23:18اور آپ کے باپ کا نام بھی علی ہے
23:20پر ایک فضیلت
23:21ایسی ہے جس میں میں آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا
23:24وہ یہ ہے کہ آپ سیدہ فاطمہ
23:26ات الزہرہ کے لال ہے
23:27اب محمد مصطفیٰ علیہ السلام کے نواسے ہیں
23:30کہنے لگے
23:32بھائی جان آپ نے نانا جان کی
23:34وہ عدیث تو سنی ہوگی
23:35کہ دو لوگ نراز ہو جائیں
23:37تو جو سلحہ پہلے کرے
23:38جنت میں پہلے جائے گا
23:39فرمانے لگے
23:40دل میرا کر رہا تھا
23:42کہ پہلے سلحہ کر لوں
23:43لیکن پھر بڑے بھائی کو
23:45پوچھت کروں گا جنت میں جاتے ہوئے
23:46یہ بھی تو بید بھی ہے نا
23:49اب خط میں نے لکھ دیا ہے
23:50آپ کا جو ارادہ ہو
23:51امام حسین نے خط پڑا
23:53تو آنکھوں میں آنسو آگیا
23:55پھر سے رمال اٹھایا
23:57بچے پوچھنے لگے
23:59کہاں جا رہے ہیں
23:59کہ آپ بھائی کے گھر جا رہا
24:00کہ آپ تو نراز تھے
24:08طبیعت میں سوز
24:09لہجے میں گداز
24:10حضرت امیر معاویہ
24:13رضی اللہ تعالیٰ عنہوں نے
24:15ایک شخص کو بھیجا
24:16مدینہ منورہ
24:17شام سے
24:19تو اس نے کہا
24:20میں نے امام حسین سے ملنا ہے
24:22تعارف کیا ہے
24:23جناب امیر معاویہ فرمانے لگے
24:26مسجد نبی میں جانا
24:27جس کے گرد لوگ
24:29سب سے زیادہ عدب سے بیٹے ہوں
24:30اور جس کی باتیں
24:32سب سے زیادہ میٹھی ہوں
24:34اور جس کی نظریں
24:36سب سے زیادہ جھکی ہوں
24:37اور جس کے چہرے پر
24:39تمہیں سب سے زیادہ وقار نظر آئے
24:41وہی علی کے بیٹے حسین ہوں گے
24:43جو سب سے زیادہ
24:45تمہیں وہاں
24:46ماحول کے اندر
24:47جو شخص نظر آئے
24:48پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی
24:50تو شخص کہتا
24:51میں مدینہ آیا
24:51تو میں نے واقعی ایک شخص کو دیکھا
24:53ششہد کے گرد
24:55مکھیوں کا اتنا حجوم نہیں ہوتا
24:57اتنا امام حسین کے گرد
24:59رسول اللہ کے غلاموں کا حجوم تھا
25:02لیکن نظریں چھکی ہوئی
25:03باتیں میٹھیں
25:05لہجہ گداز گداز
25:07لفظوں میں رانائی
25:08اور لوگ کئی باتیں پوچھتے
25:10تو علی کے صاحب زیادے
25:12ایک کا جملہ بولتے
25:13تو لگتا یہ
25:14کہ وہ جملہ سیدھا
25:15دل میں اترتا چلا جاتا ہے
25:16امام علی مقام کے کردار میں
25:18کچھ باتیں بڑی زیادہ تھیں
25:20بہت زیادہ تھیں
25:22بڑا حسن تھا
25:23ایک بات تو یہ تھی
25:24امام حسین رضی اللہ تعالیٰ
25:26نو کا علم و فضل
25:28بڑا کمال کا تھا
25:29ایک دفعہ صحابہ میں
25:30مسئلہ بن گیا
25:31کہ بچہ پیدا ہوتا ہے
25:33تو اس کا وظیفہ کیسے لگانا ہے
25:35امام حسین کا علم و فضل بتا رہا ہوں
25:37علم و فضل
25:38تو بات بڑی پیچیدہ ہو گئی
25:42حضرت عبداللہ ابن زبیر کے پاس
25:45لوگ آئے کہنے لگے
25:46کہ آپ
25:46بڑے صاحب علم و فضل ہیں
25:49آپ نے حضور علیہ السلام کے ساتھ
25:51وقت گزارا ہے
25:52تو مسئلے کو حال کریں
25:53کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد
25:55حکومت اگر وظیفہ لگائے گی
25:56تو کب لگائے گا
25:57جب بحث طول پکڑ گئی
25:59مسئلہ حال نہیں ہوتا تھا
26:00تو حضرت عبداللہ ابن زبیر
26:02کہنے لگے
26:02ہم سے نہیں حال ہوگا
26:03ایک بندہ ہے
26:04جس کے سینے میں
26:07رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
26:09کے نورِ نبوت کا فیضان ہے
26:11وہ یہ مسئلہ حال کریں گے
26:13تو کہا وہ کون سے
26:14آپ فرمانے لگے
26:15جب ہم سے مسائل حال نہیں ہوتے
26:17تو ہم ان کے علم سے فائدہ اٹھاتے ہیں
26:20کہا کون ہے
26:21کہ جناب امام حسین
26:22تو لوگ حضرت امام حسین کے پاس گئے
26:26کہ حضرت یہ ایک مسئلہ
26:27علج گیا ہے
26:27کہ بچہ پیدا ہو
26:28تو وظیفہ کب لگانا ہے
26:29فرمایا
26:30علجنے والی بات ہی کوئی نہیں
26:31پیدا ہونے کے بعد
26:33جب وہ پہلی دفعہ
26:34آواز نکالے
26:35تو اس کا وظیفہ لگا دو
26:36اس کا مطلب یہ ہے
26:37کہ وہ دنیا میں آ گیا ہے
26:39اس نے اپنے آنے کا اظہار
26:41کر دیا ہے
26:42اعلان کر دیا ہے
26:43اب اس کا وظیفہ لگا دو
26:44تو اس پر پھر شہابہ
26:45کا اتفاق ہوگی
26:46امام حسین کے علم سے
26:49فضل سے لوگ
26:49فیض اٹھاتے تھے
26:50حضرت سیدنا
26:52امام حسین کی شہادت کے بعد
26:54حضرت عبداللہ
26:54ابن زبیر
26:55رضی اللہ تعالیٰ
26:56انہوں نے
26:56قاتلان حسین سے خطاب کیا
26:58اور فرمانے لگے
26:59اللہ کی قسم
27:01تم نے اس شخص کو شہید کیا ہے
27:04جو راتوں کو
27:05لمبے لمبے قیام کرتا تھا
27:06اور تم نے اس شخص کو شہید کیا ہے
27:09جس سے میں دن میں جب بھی ملتا تھا
27:11تو وہ روزے سے ہوتا تھا
27:13تم نے اس شخص کو شہید کیا
27:15جو قائم اللیل تھا
27:16سائم الدہر تھا
27:18اس شخص کو تم نے شہید کیا
27:20آپ کو پتہ ہے
27:20کہ میدانِ کربلا میں
27:23جب نو محرم کو
27:26ابن سعج نے
27:27امام حسین سے کہا
27:28کہ جنگ کرو
27:29اگر یزید کی بیعت نہیں کرنی
27:31تو امام حسین نے فرمایا
27:32ایک رات کی محلت دے دو
27:33ایک رات کی محلت دے دو
27:38حضرت امام زہن اللہ عبدین
27:41کہتا ہے
27:42میں نے اپنے والدِ گرامی سے ارز کی
27:43کہ اببہ جی
27:44آپ جہاد سے دور جانے والے
27:47تو ہیں نہیں
27:48آپ تو جہاد سے پیار کرنے والے
27:51اور یہ بھی پتہ ہے
27:53مجھے کہ یہ جنگ اب ہو کے رہے گی
27:55تو ایک رات کی مہدل لینے کا معنی کیا ہے
27:57بھئی کل بھی لڑنا ہے
27:59اور رات بھی لڑنا ہے
28:01اببہ جی ایک رات کی محلت
28:03تو سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی
28:06انہوں فرمانے لگے
28:07بیٹا
28:07رات کی محلت اس لئے لی ہے
28:09کہ میں آج رات کھل کے
28:10اپنے رب کی عبادت کرلوں
28:11میں استغفار کرلوں
28:14میں لمبے سجدے کروں
28:16اور کہا
28:17زین العبدین
28:17تو جانتا ہے نا
28:19کہ مجھے نماز سے
28:20تلاوت سے
28:21دعا سے
28:22اور استغفار سے
28:23بڑا پیار ہے
28:23رسول کریم علیہ السلام نے فرمایا
28:26جامع ترمیزی میں موجود ہے
28:27فرمایا
28:28میں جا رہا ہوں
28:29پر تمہیں دو بڑی بھاری
28:30بڑی وزنی چیزیں دے کے جا رہا ہوں
28:32سہا ستہ کی روایہ
28:35دو وزنی چیزیں
28:37تمہارے بیٹ چھوڑ کے جا رہا ہوں
28:39اگر ان کو تھام کے رہو گے
28:40تو کبھی گمراہ ہی
28:41تمہارے پاس نہیں آئے گی
28:43یا رسول اللہ
28:44وہ کون کون سی
28:45فرمایا
28:46ایک اللہ کی کتاب دے کے جا رہا ہوں
28:48اور دوسرا
28:48اپنا خاندان دے کے جا رہا ہوں
28:50اگر اہلِ بیعتِ نبوت
28:52کو تھامے رہو گے
28:53ہمارے بزرگوں نے لکھا ہے
28:55کہ یہ جو حضور نے کتاب اللہ
28:56اور پھر اپنی اہلِ بیعت کا تذکرہ فرمایا
28:59تو اس کا مطلب یہ ہے
29:00کہ تھیوری دیکھنی ہوئی تو
29:02قرآن دیکھنا
29:03اور پریکٹیکل دیکھنا ہوا
29:05تو علی اور فاطمہ کو دیکھنا
29:07حسن اور حسین کو دیکھنا
29:09ان کو دیکھنا
29:10نبی کریم علیہ السلام کے
29:12اہلِ بیعت
29:13منارہِ نور ہیں
29:15ان کی محبت
29:17ان کا پیار کیوں بھلا
29:19اس لیے
29:19کہ یہ وہ خوبصورت لوگ ہیں
29:22جن کو خود میرے نبی پاک نے تراشا ہے
29:24ان کی صیرت میں جتنے رنگ ہیں
29:27وہ رسولِ قریب میں خود بھرے ہیں
29:28ان کی ایک ایک بات کا خیال
29:32نبی پاک نے رکھا ہے
29:33حضور نے از خود انہیں اپنی صحبت عطا کی ہے
29:36زیادہ دور نہیں تھا
29:37سیدہ فاطمہ کا گھر
29:38مسجد نبی کے ساتھ تھا
29:40اللہ کے رسول دن میں دو دفعہ جایا کرتے تھے
29:43پھر بھی کبھی کبھی فرماتے
29:45فاطمہ میرا دل کرتا ہے
29:46آج میں رات تیرے گھر میں قیام کروں
29:48تو سیدہ فاطمہ تظہرہ فرماتی ہیں
29:50کہ آمنہ کے لال اس طرح بھی میرے گھر میں قیام کرتے تھے
29:53کہ حضور چار پائی پہ لیٹتے تھے
29:56تو ایک کندے پہ امام حسن کا سار ہوتا تھا
29:58اور دوسرے پہ امام حسین کا سار اکدس ہوتا تھا
30:02اور فرماتی ہیں رات کو
30:04کبھی حسنین کری میں دودھ مانگتے
30:06تو میں اٹھتی دودھ دینے کے لیے
30:08تو حضور فرماتے ہیں لیٹ جاؤ آج میرے ساتھ سوئے ہیں
30:11تو دودھ بھی میں ہی پلاؤں گا
30:12تو محبوب اٹھتے ان کے لیے دودھ لاتے برطن سے نکال کے
30:16حضور نے انہیں وقت دیا
30:18اور پھر ان کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خیال رکھا
30:20صحیح بخاری میں موجود ہے
30:22تربیت پر توجہ دی
30:24امام حسین تشریف لائے
30:25ابھی عمر مبارک سات سال کے قریب تھی
30:27مسجد نبی میں صدقے کی خجوروں کا ڈھیر لگا ہوا تھا
30:32چھوٹا بچہ جو ہوتا ہے
30:35نابالگ اس پر شریعت کے احکامات نہیں آتے
30:37صدقے کی خجوروں کا ڈھیر تھا مسجد نبی میں
30:41یہ تربیت ہے
30:42یہ ٹریننگ ہے جو اللہ کے محبوب نے خود انہیں عطا فرمائی
30:46صدقے کی خجوروں کا ڈھیر تھا
30:48امام حسین وزور کے ساتھ آئے
30:50تو امام علی مقام نے نہ کوئی خجور اٹھا کے موں میں رکھ لی
30:54شارحین نے لکھا ہے
30:56لگتا یہ ہے کہ کئی دنوں کی بھوک تھی
30:58کیونکہ یہ فاقہ اہلِ بیعت کا بڑا محبوب ہے
31:02مجبور نہیں تھے وہ تو خزانوں کے مالک تھے
31:05پر غریبوں سے محبت کی وجہ سے فاقہ کیا کرتے تھے
31:09یہ ان کی پسند ہے فاقہ کرنا
31:11لیکن خجور امام علی مقام نے رکھ لی
31:13تو اللہ کے رسول نے گلے میں انگلی ڈال کے نکال دی
31:16فرمائے حسین یہ صدقہ ہے
31:18یہ میری اہلِ بیعت کے لیے درست نہیں ہے
31:21حضور نے خود تربیت کی
31:23اور پھر سیدہ فاطمتہ زہرہ نے نا
31:26اپنے بچوں کو تراشا
31:27ان پر محنت کی
31:29میں اکثر گزارش کرتا ہوں دوستوں سے
31:32میں کہتا ہوں کربلا کا واقعہ
31:33کوئی حادثاتی نہیں ہے
31:35اس کے پیچھے پوری ایک لاجک ہے
31:36اس کے پیچھے پورا ایک فلسفہ ہے
31:39ایسے ہی کوئی آدمی تین دن بھوکا پیاسا رہ سکتا ہے
31:43کسی آدمی کو
31:44صبح اس نے کھانا کھایا اور شام تک کھانا نہ ملے
31:47تو ٹانگیں کامتی ہیں
31:48رمضان المبارک میں عبادت کی نیجر سے روزہ رکھنے والے
31:52بھی شام کو بڑے پریشان ہو جاتے ہیں
31:54اور مسلسل تین دن کھانا نہ کھایا جائے
31:57اور پانی نہ پیا جائے
31:58اور حال یہ ہے کہ وہی آدمی تلوار لے کے میدان میں نکلے
32:02اور اس کی حالت یہ ہو
32:04کہ لوگ اس کی آگے دوڑنا شروع کر دیں
32:06ہزاروں کی فوجیں تاب نہ لاسکے
32:08علی کا گھر بھی وہ گھر ہے
32:10کہ جس گھر کا ہر ایک بچہ
32:11جسے دیکھو وہی شیر خدا معلوم ہوتا ہے
32:15جنب اس حال با بیٹھے تھی فرمایا
32:16فلان کو بلا کے لاؤ جب بلانے گئے
32:18تو رستے میں عورت پہ نظر پڑی
32:19پہلی نظر تو معاف ہے لیکن دوبارہ بیکھ بیٹھے
32:22دوبارہ نظر پڑی تو پریشان ہو گئے
32:25خیال آیا میں نے تو خیانت کیا
32:28اپنے نبی پاک سے
32:29حضور نے تو منع کیا یہ کام کر دیں
32:31اب واپس حضور کے پاس نہیں آئے
32:34جنگل میں چلے گئے
32:35ابن قدامہ نے کتاب توابین میں
32:38اس روایت کو لکھا ہے
32:39کہتے چالیس دن وہ پہاڑوں میں روتے رہے
32:43کہ یا اللہ مجھ سے گلتی ہو گئی
32:44کتنے دن
32:46اب ہمارا شغل ہے
32:48اس کو لوگ گناہ ہی نہیں سمجھتے
32:49بد نگاہی تو کوئی گناہ ہی نہیں
32:51اب تو یہ شغل ہے
32:53اب تو ہمارے ہم عوض اللہ تعالی
32:55سیانے میں ہنے بندے بیچ بیٹھے ہوتے ہیں
32:58جب یہ باتیں ہو رہی ہوتے ہیں
32:59یہ شغل ہے ہمارا
33:00اب تو اببہ کے سامنے بچہ
33:02وال پر گندی تشویر کا لگایا ہوتا ہے
33:05پر وہ کہتا ہے ابا عمر ہے نا جی
33:06عمر ہے نا جی
33:07پتہ ہی نہیں ہے کتنا گند کر رہا ہے
33:09یہ تباہ ہو جائے گا روحانی طور پر
33:12اگر یہ گند دیکھنے میں
33:14اُلج گیا تو امام شافی کا فتوہ ہے
33:15جس کی نظر گندی ہوتی ہے
33:17اس کا آفزہ کمزور ہوتا ہے
33:19وہ کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا
33:20وہ نفسیات کا مریض ہو جاتا ہے
33:22جو گندی نظر والا آدمی ہوتا ہے
33:24ہمیں پتہ ہی نہیں
33:25کہ ہمارے مسائل اصل میں ہیں کیا
33:27تو چالیس دن جنگل میں روتے رہے
33:30چالیس دن
33:31محبوب سارا کو جانتے تھے
33:34پر خموش رہے
33:35حضرت جبریل امین آزر اللہ
33:37عرض کی
33:38یا رسول اللہ آپ کا وہ غلام رو رہا ہے
33:40رب کہتا
33:41اسے بلا لے
33:42میں نے اس کا غنا معاف کر دیا
33:43تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
33:46نے حضرت مولا علی شہر خدا
33:48اور جناب سلمان فارسی کو بھیجا فرمائے
33:50فلان جگہ ہے لے آؤ
33:51کتنے جب ہم گئے
33:52تو دو پہاڑوں کے درمیان
33:54جناب سالبہ تڑپ کے رو رہے
33:55ہمیں دیکھ کے اور روئے
33:58کہنے لگے علی میرے بارے میں
34:00کوئی آئے تو نہیں نازل ہو گئی
34:01تو کہا نہیں
34:03چل حضور نے بلایا ہے
34:04کہا اچھا حضور کہتے کیا تھے
34:06فرماتے کیا تھے
34:07کہا پتہ نہیں
34:07لیکن بلایا ہے
34:09جب ہمارے ساتھ چلنے لگے
34:12مسجد نبی قریب آئی
34:13تو کہنے لگے علی
34:14بہت بڑا گناہ کر بیٹھو
34:16نظر مہلی ہو گئی
34:18بزو نہیں آنکھوں کا
34:20مجھے ڈریکٹ نہ لے کے جاؤ
34:22حضور کے پاس
34:23جب نبی پاک نماز کی نیت باندھ لینا
34:25پھر میں جاؤں گا
34:26میں پیچھے کھڑا ہو جاؤں گا
34:28حضور کے
34:29میری طبیعت میں حوصلہ نہیں
34:31یہاں تو پتہ نہیں
34:33میں کس طرح عشق رسول کا دعویٰ کرتا ہوں
34:35ممبر پر بیٹھ کر
34:36اور ہماری یہ ملاد آئے گا
34:39تو معافلے ملاد میں
34:40اس طرح کے دعوے ہوں گے
34:41اسٹیج پر
34:42اللہ مانوالفیز
34:43پتہ نہیں
34:44کیا کیا لوگ کہہ دیں گے
34:46پتہ نہیں ہمیں ہم کیا ہیں
34:47اور ہم کیا کہہ رہے ہیں
34:49من آنم کے من دانم
34:50پتہ ہی نہیں
34:51اور کتنا بڑا دعویٰ کر دیا
34:53کم میرے اندر طاقت نہیں سامنا کر دیں
34:56مولا علیہ فرماتے ہیں
34:58جب حضور نے مغرب کی نماز کی نیت باندھی
35:00تو انہوں نے بھی پیچھے نیت باندھی
35:02اتفاق کی بات یہ ہے
35:04کہ حضور نے پہلی رکض میں
35:05سورہ انفتار پڑھنی شروع کر دی
35:07اِذَ السَّمَاءُن فَطَرَت
35:09وَإِذَ الْقَوَاقِبُ الْتَسَرَت
35:12وَإِذَ الْبِحَارُ فُجِّرَت
35:14کہتے ہیں جب محبوبی سائد پہ پہنچے نا
35:17کہ
35:17اَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّقَ بِرَبِّكَ الْقَرِيمِ
35:22اے انسان
35:24تجھے کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا
35:27حالانکہ تیرا رب تو بڑا ہی کرم کرنے والا
35:29تو کس طرح کسی اور کے دھوکے بِرَبِّكَلْ
35:32قَرِيمِ
35:33اور ضمیرِ واحد ہے میں تفسیر پہ نہیں جاتا
35:36کہا تیرا اپنا رب
35:38بِرَبِّكَ
35:39تیرا
35:40تیرا اپنا رب
35:42تیرا رب تو بڑا کریم ہے
35:44تو پھر بھی کہیں اور چلا گیا
35:45جب یہ آئیت سنی تو پیچھے چیخ ماری
35:48بیوش ہو کے گر گئے
35:50گھر والے گھر لے گئے
35:52نماز مکمل ہوئی تو حضور نے فرمایا
35:55کیا ہوا
35:56عرض کی حضور وہ تو رو پڑے تھے
35:58گھر لے گئے
35:59مابو پیچھے گئے تو
36:00بے سدھ پڑے
36:01تیز گخار ہو گیا
36:03نبی کریم سرحانے بیٹھے
36:05اور ان کی گردن کو اٹھا کر
36:07سر کو گود میں رکھا
36:08اور جب بالوں میں دست مبارک پھیرا
36:11تو ہاں کے کھول گئی
36:12اور جھاٹ سے اپنا سر زمین پھیرا
36:14کہ کہنے لگے
36:15حضور میں اس قابل نہیں
36:16کہ آپ کی گود میں میرا سارا ہے
36:18اس قابل نہیں
36:19بڑا مجری ہو
36:20تو مابو نے فرمایا
36:22تجھے مبارک ہو
36:23رب نے تجھے معاف کر دیا ہے
36:25اللہ بھی راضی ہے
36:26میں بھی راضی ہے
36:26اب حضور کے قدموں کے قریب آئے
36:29تو کہنے لگے
36:29حضور آپ راضی ہیں
36:30کہا راضی ہے
36:31فرمایا پھر میرے لئے دعا کریں
36:33اللہ اسی رضا میں مجھے قبول کر لے
36:35بس یہ بات ہوئی تھی
36:37انہوں نے کلمہ پڑا
36:38تو روح پرواز کر گئی
36:39پرواز میرے بھائی
36:41احساس پیدا کر
36:43یاد رکھیں
36:44اگر روحانی زندگی
36:47صحیح نہیں نہ ہوگی
36:48یاد رکھیں
36:49کسی کا کوئی نقصان نہیں
36:51سارے سکون سے سو جائیں گے
36:55آپ نہیں سو پائیں
36:55اگر آپ کے ضمیر پہ بوجھ رہیں گے
36:58تو سارے لوگ رمضان میں
37:00چار چار قرآن پاک ختم کریں گے
37:02آپ دس پارے بھی نہیں پڑ پائیں گے
37:05اگر آپ
37:05اپنے آپ کو صحیح نہیں کریں گے
37:07روحانی زندگی بحال نہیں ہوگی
37:09تو یاد رکھنا
37:09بڑا اپنا آپ
37:12سارا کوئی سجا کے
37:13ظاہران بڑے پریزگار بن کے بھی
37:15اپنے ضمیر کی عدالت میں
37:17فیصلہ اپنے حق میں نہیں کرا پائیں گے
37:19تجوریوں سے مال بھرا ہوا ہوگا
37:21لیکن گھر میں
37:23سکون نام کی چیز
37:24ڈھونڈنے سے نہیں ملے گی