00:01I am甘 study by the Shadiat sw己is bismillah ar-rahmarmal ar-rahm assalamu alikum warahmatullahi wabarakatuh
00:06M answering Narrator.
00:08Watain house cigars ratio There is a prayer of Yosuf alayhi sallam who cares about it
00:11There has been a prayer of Yosuf alayhi sallatuh wa sallação
00:12Toм water material.
00:13In verse 12 one where do we find a prayer of Yosuf
00:18There was a prayer of Yosuf as follows
00:23male has said
00:24نَحْنُ نَقُسُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَسِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ حَاظَى الْقُرْآنِ
00:29हम نے حرد یوسف علیہ السلام کے قصے کو سب سے بہترین اور احسن قرار دیا ہے
00:35مطم سامین حرد یعقوب علیہ السلام کے کئی بیٹے تھے
00:40جن میں سے حرد یوسف علیہ السلام سب سے چھوٹے بیٹے تھے
00:44ایک تو حرد یوسف علیہ السلام بے انتہا حسین اور خوبصورت تھے
00:49اور دوسرے چھوٹے ہونے کی وجہ سے باپ کو بہت ہی پیارے تھے
00:53یہی وجہ تھی کہ حرد یوسف علیہ السلام کو کسی بھی وقت اپنی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیتے تھے
00:58حرد یوسف ابھی بچے ہی تھے کہ انہوں نے خواب دیکھا
01:02کہ گیارہ ستارے اور چاند اور صورت مجھے سجدہ کر رہی ہیں
01:05یہ خواب سن کر حرد یعقوب علیہ السلام کے پاس وہ گئے
01:10اور سارا خواب اپنے والد محترم کو بتا دیا
01:13والد محترم کو جب خواب آپ نے بتایا
01:15تو حرد یعقوب علیہ السلام نے یوسف سے پیار کیا اور سختی سے منع کر دیا
01:20کہ آپ نے اپنے دوسرے ستیلے بھائیوں کو یہ خواب نہیں سنانا
01:24کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شیطان کے فریم میں آ کر تیرے خلاف کوئی بری تجبیت کرنے لگ دیں
01:29بھائیوں نے جب دیکھا کہ باپ کا پیار یوسف سے بڑھ رہا ہے
01:33تو انہوں نے مل کر ایک صلاح کی
01:34کہ یہ تو بہت ہی بری باپ ہے
01:36کہ باپ کی شفقت ہمارے مقابلے میں یوسف پر زیادہ ہے
01:40اگر یوسف علیہ السلام کا خاتمہ کر دی جائے
01:43تو پھر یقین باپ ہم سے بھی زیادہ محبت کرنے لگیں گے
01:46سب نے مل کر باپ سے درخواست کی
01:49کہ یوسف کو ہمارے ساتھ باہر کھیلنے کے لیے بھیجا جائے
01:52ہم اس کے بھائی اور خیرخواہ ہیں
01:54ہم اس کی پوری پوری حفاظت کریں گے
01:57حد یعقوب علیہ السلام نے کہا
01:59کہ مد اندیشہ ہے کہ تم اس کے حفاظت سے غافر ہو جاؤ گے
02:02اور کوئی بھیڑی آئے گا جو اس کو کھا جائے گا
02:10آخر کار باپ نے دل پر پتھر رکھ کر یوسف علیہ السلام کو بھائیوں کے ساتھ بھیجیا
02:15بھائیوں نے اسے باہر لے جا کر ایک اندھے کومے میں پھینک دیا
02:19اور رات کو روتے ہوئے گھر واپس آگئے
02:22اور باپ سے کہا کہ ہم آپس میں کھیر رہے تھے
02:26یوسف سمان کے پاس بیٹھا ہوا تھا
02:28کہ ایک بھیڑی آگیا اور اسے کھا گیا
02:30اور ثبوت میں حرد یوسف کا ایک خون آلود کرتا بھی باپ کے سامنے پیش کر دیا
02:35بوڑے باپ کے لئے سوائے صبر و شکر کے اور چارہ ہی کیا تھا
02:39حرد یعقوب علیہ السلام خاموش ہو گئے
02:42اور ان کی ساری عمر بیٹے کے فراق میں روتے گزر گئی
02:45جس اندھے کومے میں حرد یوسف کو پھینکا گیا تھا
02:50اس کے قریب ہی ایک کافلہ آ کر اترا
02:52ان میں سے ایک آدمی ڈول لے کر جب پانی کے لئے کومے میں وہ گیا
02:57کومے پر پانی پینے کے لئے آیا
03:00تو اس نے دیکھا کہ ایک حسین اور خوبصورت لڑکا کومے میں ہے
03:03اس نے حرد یوسف کو باہر نکالیا
03:05جب یہ کافلہ مصر پہنچا
03:07تو مصر کے باشا نے حرد یوسف کو چند دنوں موں کے عوض خرید لیا
03:11اور اپنی بیوی زلیخہ سے کہا
03:13کہ ممکن ہے کہ اسے ہمیں کوئی نفع پہنچے
03:15یہاں اسے ہم اپنا بیٹا بھی بنا لیں
03:17حرد یوسف علیہ السلام سے پہلے
03:21دوسرے قیدیوں کے علاوہ
03:23ایک شاہی بورشی اور ایک باشا کا ساکی بھی قید خانے میں تھے
03:26ان کے خلاف یہ الزام تھا
03:28کہ انہوں نے باشا کو زہر دینے کی کوشش کی ہے
03:31اور یہ دوسرے قیدی حرد یوسف کے حسن جمال
03:34اور اخلاق سے بہت زیادہ متاثر ہوئے
03:36اب آپ کا کام یہ تھا
03:38کہ سارا دن جیل کے قیدیوں کو دین حق کی تبلیغ کرتے رہتے تھے
03:41ایک دن یہ دونوں حرد یوسف کے پاس آئے
03:44اور کہنے لگے کہ ہم نے عجیب خواب دیکھی ہیں
03:46ایک نے کہا
03:47میں نے دیکھا ہے کہ
03:49میں باشا کو انگوری شراب پل آ رہا ہوں
03:52بورشی نے بیان کیا کہ
03:53میں نے دیکھا ہے کہ میرے سر پر روٹیاں ہیں
03:55اور پرندے ان کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں
03:58یہ خواب بیان کرنے کے بعد
04:00انہوں نے حرد یوسف علیہ السلام سے ان کی تعبیر پوچی
04:03حرد یوسف نے فرمایا
04:05کہ ساکی تو جو باشا کے ملازمت پر جائے گا
04:08اور بورچی کو سولی پر چڑھا دیا جائے گا
04:11اور اس کے لاش کو جانور کھا جائیں گے
04:12آپ نے ساکی سے کہا
04:14کہ جب آپ رہا ہو کر
04:15عزیز مصر کے دربار میں جائیں
04:17تو میری بھی بے گناہی کا انہیں یقین دلائیے گا
04:20جب تعبیر بورچی کو سولی پر لٹکایا گیا
04:23اور تعبیر بالکل سچ ہوگی
04:25اور ساکی رہا ہو گیا
04:26مگر کئی عرصہ گزر گیا
04:28دس سال کے قریب عرصہ گزر گیا
04:30اس ساکی کو کوئی بات یاد نہ رہی
04:33کہ اچانک ہوتا یہ ہے کہ
04:34باشا کو خواب آیا
04:36خواب یہ آیا کہ عزیز مصر نے دیکھا
04:39کہ ساتھ دبلی پتلی گائیں
04:41ساتھ موٹی تازی گائیوں کو کھا رہی ہیں
04:43اور ساتھ سبز اور سال سوکھی بالیاں ہیں
04:47باشا نے تمام لوگوں سے
04:49اس خواب کی تعبیر پوچھی
04:50مگر کوئی بھی صحیح جواب نہ دے سکا
04:52اس موقع پر ساکی کو اپنا وعدہ یاد آیا
04:55اس نے کہا کہ جیل میں ایک شخص ایسا بھی ہے
04:57جو کہ خواب کی صحیح تعبیر بیان کر سکتا ہے
05:00میں اس کے پاس جاتا ہوں
05:02عزیز مصر کی اجازہ لے کر
05:05وہ جیل میں حریف یوسف علیہ السلام کی خدمت میں آیا
05:08اور باشا کا خواب بیان کیا
05:10عزیز یوسف علیہ السلام نے فرمایا
05:13کہ اس خواب کی تعبیر تو یہ ہے
05:15کہ ساتھ ساتھ تمہارے ملک میں خوشحالی رہے گی
05:17اور ساتھ سال سخت کہت پڑے گا
05:20پھر ایک سال خوشحالی کہے گا
05:22بارش بہت زیادہ ہوگی
05:24اور پھل بھی بہت زیادہ پیدا ہوں گی
05:25جب اس شخص نے یہ واقعہ باشا کو بتایا
05:30تو اس نے کہا کہ عزیز یوسف علیہ السلام کو یہاں لائے جائیں
05:33پھر وہ شخص دوبارہ عزیز یوسف علیہ السلام کے پاس آیا
05:37تو آپ نے فرمایا کہ جا کر بارشاہ سے پوچھو
05:40کہ ان عورتوں کا قصہ کیا ہے
05:42جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیا تھے
05:44بے شک میرا رب ان کے مکرو فریب سے خوب واقف ہے
05:48بارشاہ نے ان عورتوں کو بلا کر پوچھا
05:50تو انہوں نے کہا
05:51کہ ہم نے تو یوسف علیہ السلام میں کوئی برائی نہیں دیکھی
05:54یہ دیکھ کر زلیخہ بولی
05:56کہ اب تو حق ظاہر ہو گیا ہے
05:58کہنے لگے کہ حقیقت میں میں نے ہی اسے ورغلایا تھا
06:02اور وہ بالکل سچا پاک صاف ہے
06:04حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا
06:06کہ میں نے یہ کاروے اس لیے کی ہے
06:08کہ عزیز مصر کو یہ معلوم ہو جائے
06:10کہ میں نے پوشیدہ طور پر
06:12اس کی امانت میں کوئی خیانت نہیں کی
06:14کیونکہ اللہ تبارک وطالعہ
06:16خیانت کرنے والوں کے فریب کو راست نہیں لاتا
06:18حضرت یوسف علیہ السلام کی بربریت
06:23آپ کی پاک دامنی ظاہر ہو گئی
06:25تو بادشاہ مصر نے حکم لیا
06:27کہہ رہا یوسف کو باعزت وہاں سے لائے جائے
06:29اور شاہی خدمت ان کے سپورت کر دی
06:31حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا
06:34کہ اگر تم قہد سے بچنا چاہتے ہو
06:36تو خزانے کی کنجیاں میرے حوالے کر دو
06:38کیونکہ میں حساب میں ماہر ہوں
06:41چنانچہ عزیز مصر نے آپ کو شاہی خاندان کے حوالے کر دیا
06:44خوشحالی کے بعد قہد کا جب زمانہ آیا
06:47تو حضرت یوسف علیہ السلام نے
06:49نہایت میانہ نبی سے جمع کیا ہوا
06:51غلہ عوام میں تقسیم کرنا شروع کر دیا
06:54مہتم سامین قہد کا اثر کنان تک بھی جا پہنچا
06:59چنانچہ عزیز یعقوب علیہ السلام نے بھی
07:01اپنے بیٹوں کو غلہ لانے کیلئے مصر بھیجا
07:04مگر عزیز یوسف علیہ السلام کے بھائی
07:07بنیامین کو اپنے پاس ہی آپ نے رکھ لیا
07:09جب عزیز یوسف علیہ السلام کے بھائی
07:11مصر میں پہنچے تو عزیز یوسف نے ان کو پہنچان لیا
07:14مگر وہ عزیز یوسف علیہ السلام کو نہ پہچان سکے
07:18حرد یوسف علیہ السلام نے
07:20بھائیوں سے کہا کہ اگلی دفعہ آؤ
07:22تو اپنے بھائی بنیامین کو بھی ساتھ لے آنا
07:24تم کو بہت سارا غلہ بھی دے جائے گا
07:27اور اگر تم اس کو نہ لائے
07:28تو تم کو اناج ہرگز نہیں ملے گا
07:30جب یہ لوگ کنان میں واپس پہنچے
07:32اور انہوں نے حرد یعقوب علیہ السلام سے کہا
07:35کہ اببہ جان
07:36اب ہمیں اس صورت میں غلہ مل سکتا ہے
07:38کہ بنیامین ہمارے ساتھ جائے
07:39ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے
07:42حرد یعقوب علیہ السلام نے کہا
07:44کہ مجھے اب تم پر اعتبار نہیں رہا
07:46کیونکہ اس سے پہلے تم نے اس کے بڑے بھائی
07:48حد یوسف علیہ السلام کو بھی
07:50ایسے ہی وعدہ کر کے لے گئے تھے
07:52اللہ ہی ہے جو اس کی حفاظت کرے گا
07:54حرد یعقوب علیہ السلام نے کہا
07:57کہ جب تک تم بنیامین کی حفاظت کا اہد نہ کر لو
08:00میں اس کو تمہارے ساتھ نہیں بیجوں گا
08:02اس پر انہوں نے حلفاً وعدہ کیا
08:05اب باپ نے بیٹوں کو مشورہ دیا
08:07کہ وہ مسئل میں ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہوں
08:10میں لکھے بھروسے پر بنیامین کو تمہارے سپرد کرتا ہوں
08:13جب یہ سب بھائی مختلف دروازوں سے داخل ہوئے
08:17اور جس دروازے سے بنیامین داخل ہوئے
08:19اس دروازے پر حضرت یوسف علیہ السلام کی ان سے ملاقات ہوگی
08:23اور حضرت یوسف علیہ السلام نے انہیں بتایا
08:26کہ میں ہی تمہارا گمشدہ بھائی یوسف ہوں
08:28اور میں تمہیں اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں
08:31چنانچہ بھائیوں نے غلہ باندھ لیا
08:32تو شور مچ گیا کہ غلہ ناپنی کا شاہی کٹورا گم ہو گیا
08:36ملازمین نے تلاشی لی تو بھائیوں کو پکڑ لی گیا
08:40آخر کار بنیامین کے سمان کی تلاشی لی گی
08:43تو اس سے وہ کٹورا بھی مل گیا
08:44اور اس طرح بنیامین کو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے پاس رکھ لیا
08:49اس کے علاوہ اور کوئی راستہ بھی نہ تھا
08:52اور روکنے کا کوئی قانون بھی نہ تھا
08:54اس پر حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی کہنے لگے
08:59کہ اس نے چوری کی ہے تو کوئی تاجم نہیں ہے
09:02اس نے بھی چوری کی تھی
09:03حضرت یوسف علیہ السلام یہ سب باتیں سن رہے تھے مگر خاموش رہے
09:08حضرت یوسف علیہ السلام کی چوری کا واقعی یہ ہے
09:11کہ آپ بچپن میں اپنی پھوپی کے پاس رہا کرتے تھے
09:13جب حضرت یعقوب علیہ السلام نے ان کو اپنے پاس بلانا چاہا
09:17تو پھوپی نے ایک کسی کام کی چوری کا الزام لگا کر
09:22آپ کو اپنے پاس رکھنے پر مجبور کر دیا
09:24یہ سب بھائی حیران ہو گئے کہ اب کیا کیا جائے
09:27انہوں نے بہت منت کی کہ ہمارا باپ بڑا اور اندہ ہے
09:30وہ بیٹے کا غم برداشت نہ کر سکے گا
09:32حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی کمیز ان کو دے دی اور کہا
09:36کہ اس کو اپنے باپ کے موں پر ڈال دینا
09:38اور اگر ہو سکے تو ان کو بھی اپنے ساتھ لے آنا
09:40جب یہ بھائی گھر پہنچے تو انہوں نے حضرت یعقوب علیہ السلام کے چہرے پر
09:45حضرت یوسف علیہ السلام کا پیراہن ڈال دیا
09:48خدا کی قدرت سے ان کی آنکھوں کی بینائی اسی وقت ٹھیک ہو گئی
09:52اب یہ مصر میں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس آگئے
09:57حضرت یوسف علیہ السلام کے شان اور دب دبے کو دیکھ کر
10:00ان کے گیارہ بھائی اور آپ کے والدین آپ کے سامنے جھکے
10:04اور اس طرح وہ خواب بھی پورا ہوا
10:06جس میں آپ نے دیکھا تھا کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند سجدہ کر دیں
10:10اور اس طرح انہوں نے گمشدہ بھائی حضرت یوسف کو بھی پا لیا
10:14اور یہ سارے لوگ خوشی خوشی مصر میں رہنے لگے
10:16مہتم سامین یہ تھے حضرت یوسف علیہ السلام
10:19کے جن کی مقتصر داستان ہم نے آپ کے ساتھ
10:23ویڈیو کی صورت میں شیئر کی ہے
10:24اگر آپ مکمل تفصیل کے ساتھ
10:27حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے کو پڑھنا چاہتے ہیں
10:30تو قرآن مجید میں پار نمبر بارہ اور تیرہ میں سور یوسف ہے
10:34آپ اس کو تفصیل کے ساتھ پڑھئے گا
10:36انشاءاللہ اس قصے سے بڑھ کر آپ کو کوئی مجھدار قصہ قرآن مجید میں نہیں ملے گا
Comments