00:00آپ سے تو اچھا رامہ میں کھری نہیں سکتا
00:03جب سے اپنے بیٹے کو دیکھا ہے میرا کہیں دلی نہیں لگتا
00:08نہ آفیس نہ گھر
00:10تمہیں اس طرح دنیا میں آنا تھا کہ جب تمہارا باپ تمہارے ستبال کو ہی موجود نہ ہوں
00:15اشبہ جو میں ایکٹنگ کرتی ہوں نا
00:17اپنے حاقہ سے کرنے کیے کرتی ہوں
00:18لیکن آپ ہی طرح نہیں
00:20میں بشکاش تم اپنی ناراض کی ختم کر دوں
00:23وہ باپ جس نے دن رات تمہارے آنے کے خواب دیکھے تھے
00:29پھرے جاؤ پھرے جاؤ پھرے جاؤ پھرے بیٹے سے لیے جاؤ اور کبھی پیٹ نہ بڑے
00:33شویب نے بڑی چلاکی سے کبیر کے گھر میں اپنی جگہ دوبارہ سے بنا لی ہے
00:38اس نے خود کو جھوٹی چوٹے پہنچائی ہیں
00:40اور یہ دیکھ کر فری کا دل موم ہو جائے گا
00:42اور وہ کچھ نیا کے لیے اس کو اس گھر میں رہنے کی اجازت دے دے گی
00:45شویب اسی چیز کا فائدہ اٹھائے گا
00:47اور دوبارہ سے فری کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کرے گا
00:50اور اس سب میں وانیہ بھی اس کا ساتھ دے گی
00:52جبکہ دوسری جانب کبیر اب اپنے بیٹے کے بغیر نہیں رہ سکتا
00:55وہ ہر وقت یہی کوشش کرتا ہے
00:57کہ کسی طرح میوش راضی ہو جائے اور وہ گھر واپس آ جائے
01:00اور اسی چکر میں نہ تو وہ آفس میں کوئی کام کر پا رہا ہے
01:02اور نہ ہی گھر میں اس کا دل لگتا ہے
01:04لیکن میوش اس کی بات سننے کے لیے بھی تیار نہیں ہے
01:07موسیقی
Comments