00:00فریال تمہاری حمد کیسے ہوئی کہ میرا بسا بسا گھر تم نے اجار دیا تمہیں کیا لگا تھا کہ تم
00:04شہرام کو مجھ سے چھین لوگی اور میں خاموشی سے بیٹھی رہوں گی
00:07زینیا غصے میں پاگل ہو کر فریال کی گھر پہنچی اور سب کے سامنے اس کے گرے بان پکڑ کر
00:12اسے جنجورنے لگی
00:13زینیا کی آنکھوں میں اس وقت خون سوار تھا اس نے فریال کو دیوار کے ساتھ لگایا اور چیک کر
00:17بولی تمہاری وجہ سے شہرام نے مجھے طلاق دی ہیں
00:19آج میں تمہارا وہ حال کروں گی کہ تم اپنی شکل آئینے میں دیکھنے کے بھی لائک نہیں رہو گی
00:23فریال بیچاری حق کا بکہ رہ گی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ زینیا اچانک اس طرح اس پر حملہ
00:28کر دے گی
00:29وہ اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی مگر زینیا نے اسے مضبوطی سے جھکڑ رکھا تھا
00:33بلکل اسی لمحے دروازہ کھلا اور شہرام کی ماہ اور نشات بے کا مندر داخل ہوئے سامنے کا منظر دیکھ
00:38کر
00:39شہرام کا پارہ ساتھویں آسمان تک پہنچ گیا
00:41شہرام نے زینیا کا ہاتھ فریال کے گرے بان سے چڑوایا اور زور سے جھٹکا دیا
00:45اور زینیا اپنا توازن برقرار نے رکھ سکی اور فرش پر جا کر گر گئی
00:49شہرام نے غصے سے دھارٹے ہوئے کہا کہ زینیا بسہ بہت ہو گیا
00:52اپنی گندی زبان سے نہ تو تم فریال کو ہاتھ لگاؤ گی اور نہ ہی تم اس کا نام لوگی
00:56یہ تمہارے لئے بہتر ہوگا
00:57زینیا نے فرش پر بیٹے بیٹے چیخ کر کہا کہ شہرام اس دو ٹکی کی لڑکی کے لیے آپ نے
01:02مجھ پر ہاتھ اٹھایا
01:03اس کی وجہ سے تو ہمارا گھر برباد ہو گیا ہے میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گی میں اسے جان
01:07سے مات دوں گی
01:07شہرام نے کڑک کر جواب دیا گھر تو تم نے خود برباد کیا زینیا اس نے برباد نہیں کیا
01:12تم نے اپنے بچے کا خون کیا میری بہن کی عزت اچھا لی پھر تم نے اس کی زندگی بھی
01:17برباد کرنے کی کوشش کی
01:18شہرام نے زینیا کو آخری وارننگ دی کہ آج کے بعد تم نے فریال کے پاس پاس بھی مجھے نظر
01:22آئی نا
01:23تو تمہیں ایسی سزا دوں گا کہ تم جیل کی دیواروں کے ساتھ بات نہیں کرو گی اور پوری زندگی
01:27جیل کے پیچھے گزار دو گی
01:28نشات بیگم آگے بڑی اور انہوں نے فریال کو سینے سے لگایا اور زینیا کو حکارت بڑی نظروں سے دیکھا
01:33شہرام نے ایک پل کے لیے بھی دیر نہیں کی اور سب کے سامنے فریال کا ہاتھ تھام لیا
01:38اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں دیکھ ڈال کر بڑے پختہ لہجے میں کہا
01:41شہرام نے کہا کہ فریال میں نے تمہارے ساتھ بہت سی زیادتیاں کی ہیں
01:45میں نے تم پہ شک کیا اور تمہیں اکیلا چھوڑ دیا
01:47مگر اب میں تمہارے گناہ کا مداوہ کرنا چاہتا ہوں
01:50شہرام نے اعلان کر دیا کہ فریال کیا تم مجھ سے نکاح کرو گی
01:53چاہتا ہوں کہ آج اور اسی وقت ہمارا نکاح ہو جائے
01:59یہ سنتے ہی زینیا کے ہوش اڑ گئے
02:01اسے ایسے لگا جیسے کسی نے جیتے جی اسے زمین میں گار دیا ہے
02:04وہ پاگلوں کی طرح ہسنے اور رونے لگی
02:06زینیا چلانے لگی نہیں نہیں یہ نہیں ہو سکتا
02:08شہرام تم صرف میرے ہو تم میرے ہو
02:10تم اس کے ساتھ شادی کیسے کر سکتے ہو
02:12مگر شہرام نے زینیا کا ایک لفظ بھی سننے کو تیار نہیں تھا
02:16شہرام کے ساتھ جو گار تھا
02:17شہرام نے اس کی طرف اشارہ کیا
02:19کہ اس عورت کو ابھی کے ابھی یہاں سے باہر نکالو
02:21زینیا کو گسیٹتے ہوئے وہ باہر لے گیا
02:23اور جاتے جاتے بھی فریال کو وہ بددوائیں دے رہی تھی
02:25مگر اس کی آواز دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ رہی تھی
02:28فریال کی آنکھوں میں اس وقت انسو تھے
02:30اسے یقین نہیں آ رہا تھا
02:31کہ شہرام سے دیکھنا نہیں چاہتا تھا
02:33اور آج وہ ہی اس کا ہاتھ تھامنے کے لیے
02:35اسے اپنانے کے لیے اس کے ساتھ کھڑا ہے
02:37سمن بیگم نے جب یہ دیکھا
02:38تو اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا
02:40انہیں لگا کہ ان کی بیٹی کو آخر کار انصاف مل گیا ہے
02:44نشات بیگم نے شہرام سے کہا
02:45کہ بیٹا تم بالکل صحیح فیصلہ کیا ہے
02:47فریال ہی اس گھر کی اصل مالکین ہے
02:50اور تمہیں اور تمہاری زندگی میں یہی لڑکی سکون لاسکتی ہے
02:53تم نے بڑا غلط فیصلہ کیا تھا
02:54زینیا کو اپنی زندگی میں شامل کر کے
02:56ادھر سیرت بیگم اپنے گھر میں اکیلی تڑپ رہی تھی
02:58کیونکہ ان کا بیٹا زرار مہک کو لے کر
03:00وہاں سے جا چکا تھا
03:01اور ان کی بیٹی کو طلاق ہو چکی تھی
03:04وہ سڑک پر آ چکی تھی
03:05سیرت بیگم کو اب احساس ہو رہا تھا
03:07کہ دوسروں کے گھر میں آگ لگانے کا انجام کتنا بھیانک ہوتا ہے
03:10انہوں نے اپنا بسا بسایا
03:11گھر تو قبرستان کی طرح بنا لیا تھا
03:13زینیا اب سڑکوں پر ٹھوکنیں کھا رہی تھی
03:26جو اس سے چھینی گئی تھی
03:27مہک اور زرار بھی اب نکاہ میں شریک کی قسمت پر
03:31وہ رشت کہہ رہے تھے
03:32کہ فریال تم نے جتنے دکھ دیکھے ہیں زندگی میں
03:35اب سب کا مدابہ ہونے والا ہے
03:37شانزے اب مسکرانا شروع ہو گئی ہے
03:39کیونکہ اسے پتا ہے کہ اب اس کا بھائی محفوظ ہاتھوں میں ہے
03:41اور زینیا جیسی منحوس لڑکی اس کی زندگی سے جا سکی ہے
03:45کہانی ایک ایسے خوبصورت موڑ پر ہے
03:47جہاں سچائی سب کو نظر آ رہی ہیں
03:49ڈراما ہاتھ کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے
03:51کہ دوسرے لوگوں کو نیچہ دکھانے کی کوشش جو لوگ کرتے ہیں
03:54قدرت خودی انہیں ایک دن سبق ضرور سکھا دیتی ہے
03:57شہرام جس طرح کے ڈراما جب سٹارٹ ہوا تھا
03:59تو تب ہی اس کے جو ٹیزر اپلوڈ ہوئے تھے
04:02تو اس میں شارٹ کلپس میں یہ دکھا دیا گیا تھا
04:05کہ شہرام کی شادی جو ہے وہ زینیا فریال کے ساتھ ہو رہی ہے
04:08تو انڈا اینڈ تو ہونا ہی یہی تھا
04:10کہ زینیا کی جس طرح سے وہ مکاریاں کر رہی تھی
04:12چلاکیاں کر رہی تھی
04:13کہ جو انسان اتنا چلاک اپنے آپ میں بننے کی کوشش کرتا ہے
04:16وہ انڈا اینڈ اسی طرح موں کے بھل گرتا ہے
04:19تو زینیا کو اسی طرح موں کے بھل گرنا تھا
04:21اور شہرام کو جو ہے وہ سیتھی سادھی سی لڑکیاں پسند تھیں
04:25جس طرح کی وہ لڑکی چاہتا تھا
04:26زینیا بلکل ویسے نہیں تھی
04:28ہاں لیکن اس کی وقتی اس کے اٹریکشن میں
04:31اس سے محبت ضرور ہو گی تھی
04:33لیکن جب اس کے ساتھ وہ وقت گزارا تھا
04:34تو اس کی حرکتیں اسے بلکل اچھی نہیں لگتی تھی
04:36تو زینیا کو اس کے کیے
04:39کہ پھر اسے سزا ملنی تھی
04:40جس طرح اس نے سب کا دل دکھایا تھا
04:42اور اس میں اکڑ اتنی زیادہ تھی
04:43کہ اس کی ماں نے اسے کہا جبکہ
04:45تمہیں فریال کی ہاں لگ گئی ہے
04:47تو اس نے کہا کہ فریال اس لائک نہیں ہے
04:49کہ اس کی ہاں ہمیں لگ سکے
04:50تو پھر بھی وہ جھکنے کو تیار نہیں تھی
04:53اور سارا بلیم وہ فریال پر ہی ڈال رہی تھی
04:55کہ فریال کی وجہ سے مجھے طلاق ہوئی ہے
04:57اور اس کی وجہ سب کچھ ہوا
04:58اپنے گریبان میں وہ جھانکہ نہیں دیکھ رہی تھی
05:00کہ میں نے کیا کیا ہے
05:01فریال کے ساتھ اور روشانزے کے ساتھ
05:04جو کچھ اس نے کیا
05:05اور شہرام کو اس کے ماں باپ سے دور کر دیا
05:07اس کی ماں بیچاری کتنی تڑپ رہی تھی
05:09اس کے لئے ناشتہ بجواتی تھی
05:11اس کے لئے کتنا اس سے پیار کرتی تھی
05:12کہ اس نے اپنی ماں سے اس کو دور کر دیا
05:15اور وہ مجبور ہو گیا اس کی محبت میں اتنا زیادہ
05:18کہ وہ نہ تو وہ اپنی ماں کو چھوڑ سکتا تھا
05:21نہ ہی اس کو زینیا کو چھوڑ سکتا تھا
05:22پھر اس نے یہی فیصلہ کیا کہ میں اس کو لے کر میں سیپرڈ ہو جاتا ہوں
05:26تو اپنی طرف سے پوری کوشش کی تھی گھر بسانے کی
05:28لیکن زینیا نے ہی آگے سے اس کو اس کا ساتھ نہیں دیا
05:34اور آپ لوگوں کو کیا لگتا ہے
05:35کہ زینیا کو جو ہے وہ پولیس کے حوالے کر دینا چاہیے تھا شہرام کو
05:40میرے خیال میں عبید کو یہ نہیں پتا
05:42کہ شانزے کے ساتھ جو کچھ ہوا تھا
05:44وہ فریال زینیا نے کروایا تھا
05:46جیسے اسے پتا چلے گا نا
05:47تو وہ ضرور یہ کوشش کرے گا
05:49کہ اس کو ہتکڑیاں لگ جائیں اور یہ جیل میں چلی جائے
05:52اور آپ لوگوں کو کیا لگتا ہے
05:53اپنی قیمتی رائے کا ازار کمنٹس بوکس میں ضرور کیجئے
05:55کا ملتا ہے ایک نئی ویڈیو کے ساتھ
05:57اپنا بہت سا خیال رکھے گا
05:58اللہ حافظ
Comments