00:00اسلام علیکم فرینڈز ویلکم بیک ٹو ٹوپ سمارٹیز
00:03ٹراما سیرل مانور دیکھا جائے تو میوش تو زین کے ساتھ ایسی چپک رہی ہے جیسے
00:08جیسے کہ چپکلی دیوار کے ساتھ چپکتی ہے اور اترنے کا نام ہی نہیں لیتی
00:13زین کتنا اگنور کرتا ہے لیکن محبت کی شدت میں بڑھتی ہی جا رہی ہے
00:17یک طرفہ محبت ہے کہ اتنی شدت سے ہوا کرتی ہے
00:21ہیڈ یہاں پر آپ زین کو امپریس کرنے کے لیے وہ ایسٹرون ڈریس کیری کرتی ہے
00:27اور آ کر منیزہ کے سامنے دبٹے کو لہراتے ہوئے کہنے لگی
00:30اب تو زین مجھ سے دور نہیں ہو پائے گا نا
00:32اس کو اسی قسم کی ڈریسنگ پسند ہے نا
00:34تو منیزہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی
00:36جب مرد کے سامنے بار بار ایسے جاتے ہیں نا
00:39اور اسے حساس دلواتے ہیں کہ آپ کتنا چاہتے ہیں اسے
00:42اس کے لیے اٹھ پٹنگ حرکتیں کرتے ہیں
00:45تو مرد دوسر عورت سے بہت جلد بیزار ہونے لگتا ہے
00:48ہر میوش کو ماں کی یہ باتیں کافی بری لگی اور سمجھی
00:52کہ واقعی ستیلہ پن جھلک رہا ہے
00:54حالانکہ دیکھا جائے
00:55تو منیزہ اس طرح سے ستیلی ماں نہیں دکھائے گی جس طرح سے ہوا کرتی ہیں
01:00بہت احساس کرنے والی ہے
01:02میوش کا اچھا چاہتی ہے زین کے ساتھ اسے خوش دیکھنا چاہتی ہے
01:05تب ہی تو اسے اچھی ایڈوائز ہی کرتی ہے
01:07لیکن میوش منیزہ کی کسی بات کو کھاتے میں نہیں لاتی
01:11بلکہ منیزہ کو تنگ کرتے ہوئے خود ایریٹیٹ ہوتے ہوئے یہاں سے چلی گئی
01:16اب زین کی آفیس گئی اور اس کا دروازہ کھول کر خود کو انٹرڈیوز کروایا
01:23دیکھا میں آگئی کیسے لگ رہی ہوں اچھی لگ رہی ہوں نا
01:27زین تو اس کو دیکھ کر حیران یہ کیا حرکت ہے
01:30تم پھر سے آفیس آگی تمہیں کہا بھی تھا کہ اب آفیس نہیں آنا تم نے
01:33اور یہ یہ کیا پین رکھا ہے تم نے
01:36یہ ڈریس تمہیں کل کیری کرنا چاہیے تھا تم آج سو کر اٹھی ہو تمہیں آج پہننا تھا یہ
01:41اب زین جو کہ کافی غصہ ہے مہنور کے ساتھ بتتمیزی پر بھی
01:45اس لئے وہ میوش سے چھیک طرح سے بات نہیں کر رہا لیکن میوش
01:48میوش اسے کہہ دیتی ہے مجھے مدیہ آنٹی سے ملنا ہے تمہارے ساتھ ہی جانا ہے چلو
01:53گھر چلتے ہیں
01:54زین چاہ کر بھی انکار نہیں کر پا رہا وہ میوش کے ساتھ نہیں جانا چاہتا
01:59میوش سے غصے میں ہے لیکن میوش سب کچھ اگنور کروانا چاہتی ہے صرف
02:04اس کا دھیان میوش پر رہے وہ میوش سے محبت بھڑی باتیں کریں میوش یہی تو چاہتی ہے
02:09اسے بس کھینچتے ہوئے گاڑی میں بٹھایا اور اس کے ساتھ گھر آنے کو تیار ہے
02:14رستے میں اسے بتاتی ہے
02:16کہ تمہیں نہیں کھو سکتی تم جس قدر غصہ کر کے گئے مجھ پر
02:19میں سوری کرتی ہوں آئندہ تمہیں
02:21ایسی شکایتیں نہیں ملے گی تم جو کہو گے جیسے کہو گے میں ویسے کروں گی
02:26مہنور کے ساتھ کہتے ہونا کہ میں بتتمیزی نہ کروں
02:29نہیں کروں گی لیکن تم بھی اس سے دور رہو
02:32پتہ ہے زین تمہیں کھو دینے کر ہوف
02:35سب سے بڑا ہوف ہے میری زندگی کا
02:37جو میں چاہ کر بھی برداشت نہیں کر پاؤں گی
02:40میں بہت پیزرسیف ہوں تمہارے لیے
02:42تم مہنور سے دور رہو
02:43میں اس کے ساتھ بتتمیزی کبھی نہیں کروں گی
02:46صرف تمہارا اس کے قریب جانا ہی
02:48مجھے اس طرح کی حرکتیں
02:49کرنے پر مجبور کرتا ہے کہتے ہو
02:51تو تمہاری محبت میں مہنور سے
02:53اس کی ماں سب سے معافی مانگ دوں گی لیکن تم
02:55تم اس سے دور مت ہو
02:57اب زین تو اس کی محبت کو دیکھتا رہا
03:00اور چپ ہی کر گیا
03:02مدیہ بیگم کے پاس آئی
03:03تو ان کے پاس بھی آتے ہوئے سوری کرتی ہے
03:05اور اپنی حرکتوں پر
03:06اپنی حرکتوں پر شرمنگی کا احسار کرتی ہے
03:09جس پر مدیہ بیگم
03:11اپنی بہو پر صد کے واری جاتی ہے
03:13کیونکہ آج وہ ڈریسنگ بہت اچھی کر کے آئی
03:16لیکن آئندہ زندگی میں
03:18اسے اس طرح کی حرکت کرنے کے دیے
03:19محتاط ہونے کا بھی کہتی ہے
03:21اب زین
03:22زین اب میوش کی محبت دیکھ کر
03:25دیکھتا ہی رہا کہ
03:26کہ یہ اسے کس قدر چاہتی ہے
03:28کتنی محبت کرتی ہے
03:29کہ اس کی حادث سب کچھ کر گزرنے کو تیار ہے
03:32لیکن ہے
03:33جیسے ہی وہ مہنور کا حیال ذہن میں لاتا ہے
03:36تو میوش
03:36میوش کی محبت تو بہت پیچھے رہ جاتی ہے
03:40یہاں پر وہ
03:41اب جا رہا تھا روڈ پر دیکھا
03:43کہ مہنور
03:44اکیلے چلتے ہوئے جا رہی تھی
03:46تو اسے برداشت کب ہونا تھا
03:47جلدی سے وہ گاڑی سے اتر کر آیا
03:50آپ
03:51آپ اکیلی جا رہی ہیں
03:52میں بھی تو گھر سے نکلا تھا نا
03:54مجھ سے لفٹ کیوں نہیں مانگی
03:55کہ اتنا برا ہوں
03:56کہ اتنا سنگتین ہیں آپ
03:58کہ مجھ سے
03:59لفٹ مانگنا بھی
04:00آپ ضروری نہیں سمتی
04:01کہ برا انسان ہوں میں
04:02تو ایسے میں مہنور ہوتے ہوئے
04:04کہنے لگی برے انسان نہیں آپ
04:05آپ بہت اچھے انسان ہیں
04:07لیکن جن
04:09برے وقت میں اچھا انسان بھی مل جائے
04:11تو وہ برا ہی لگتا ہے
04:13اب یہاں پر دیکھئے نہ
04:14آپ کی وجہ سے لوگ
04:15مجھے باتیں سناتے ہیں
04:16میری کردار کشی کرتے ہیں
04:17یہ چیز مجھے برداشت نہیں
04:19اس لئے آپ سے کنارہ کرنا ہی اچھا ہے
04:22آپ برے انسان نہیں ہیں
04:23میرے حالات برے ہیں
04:25اور ان برے حالات کی وجہ سے
04:27میں آپ سے دور جانے کو
04:28زیادہ پرفر کرتی ہوں
04:30اب یہاں پر
04:31سمجھ رہا ہے
04:32زین کے مہنور
04:33کس کفیت میں ہے
04:34کیا کہنا چاہتی ہے
04:36مہنور یہاں سے بات کرتے ہوئے
04:38واپس چلی گئی
04:39اور زین
04:40زین صرف مہنور کو دیکھتا رہا
04:42کیونکہ
04:43مہنور کے بارے میں
04:44وہ بہت پوزیسیو ہو چکا ہے
04:46شاید اتنا جتنا
04:47میوش لے کر
04:49زین کو پوزیسیو ہے
04:50ہر یہاں پر معاملات
04:52ایسے ہی نہیں رکے
04:53زین کی ہلپ لیے بغیر بلا
04:55معاشرے میں کیسے
04:57سروائف کر سکتی ہے مہنور
04:59مہنور کو اب
05:00سکندر سیٹ کا سامنا کرنا ہوگا
05:02جو کہ چپ کر کے
05:03تو نہیں بیٹھے گا
05:04جانتا ہے
05:05مہنور کراچی گئی ہے
05:06اس لیے
05:07وہ پیچھا کرتے کرتے
05:09یہاں تک ضرور پہنچے گا
05:10اور تب
05:11تب جا کر زین ہی ہے جو کہ
05:13جو کہ
05:14سکندر سیٹ کے جنگل سے
05:16ازاد کروائے گا
05:16مہنور کو
05:17ہوپسو تب وہ
05:18مہنور کو اپنا نام دے
05:19اس کا محافظ بنے
05:21اور تب
05:21سکندر سیٹ پھلا
05:22کیا ہی کر پائے گا
05:23اور دلاور صاحب بھی
05:25اس سب میں
05:26زین کا بھرپور ساتھ دیں گے
05:28کہ میوش کے ساتھ
05:29ہی مہنور کے ساتھ ہی
05:30شادی ہونی چاہیے
05:31زین کی
05:32کیونکہ ساری عمر
05:33اس نے مہنور کو
05:34جن ہشیوں سے محروم لگا
05:35اب قدرت نے
05:37قدرت نے جب موقع دیا
05:38میوش اور مہنور میں سے
05:39کسی ایک کو
05:40خوشیاں دینے کا
05:41تو وہ
05:41مہنور کی جھولی میں ہی
05:43ساری خوشیاں
05:44ڈالنا چاہتا ہے
05:45ہر اس چیز سے
05:46میوش بھی
05:47دلاور صاحب سے
05:47دور ہو جائے گی
05:48لیکن
05:49لیکن ڈرامے میں
05:50بہت بڑے بڑے
05:51ٹویسٹ ان ٹرنس آنے ہیں
05:52جو کہ
05:52بہت زبردست ہونے والے ہیں
05:54جب سب کو
05:55ایک دوسرے کے
05:56رشتوں کا معلوم پڑے گا
05:58کتنہ مزہ آنے والا ہے
05:59فلحال تو
06:00منیزہ دلاور صاحب سے
06:02بہت ناراض ہے
06:02کیونکہ
06:03مہنور کی وجہ سے
06:04اس نے اپنے بیٹے کے ساتھ
06:05بہت نسبحیب کیا
06:07ایون کے
06:07تپڑ بھی دے مارا
06:08اور یہ چیز
06:09منیزہ سے
06:09برداشت نہیں ہو پا رہی
06:11دلاور منیزہ کو
06:13سمجھانے کی کوشش کرتا ہے
06:14کہ
06:14مہنور بھی
06:15ہماری میوش کی جیسی ہے
06:16اس سے
06:17اچھے سے بات کیا کرو
06:18بیٹیوں کی طرح سمجھا کرو
06:27ایسے بھی پسند نہیں کرتی
06:29تو پھر
06:30دلاور صاحب کے کہنے پر
06:31اسے بیٹی کیوں ماندے
06:33ہر دلاور صاحب
06:34نہیں بتا پا رہے
06:35کہ یہ اس کی
06:36کھوئی ہوئی بیٹی ہی تو ہے
06:37جب مل چکی
06:38لیکن منیزہ بیگم بھی
06:40اتنی دیر تک
06:41ایٹیٹیوٹ نہیں دے پائے گی
06:42کیونکہ
06:43کیونکہ دانش
06:44اس قدر مجبور کر دیتا ہے
06:45کہ دلاور صاحب کے سامنے
06:47شرمندہ ہو جاتی ہے
06:48منیزہ اب یہاں پر
06:49آئے دن
06:58جیل تک بھی پہنچ جائے گا
07:00اور اس کے بعد
07:00جب دلاور صاحب
07:02بیٹے کو رہا کروا کر لائیں گے
07:04تو منیزہ نے تو
07:05شرمندہ ہونا ہی ہے
07:07کیسے آنکھیں اٹھا پائے گی
07:09وہ دلاور صاحب کے سامنے
07:10کیسے بات کر پائے گی
07:11تو پھر
07:12بس بیٹے کی شرمندکی کی وجہ سے
07:14وہ اپنی ساری نراز کی
07:16دلاور سے
07:17بھول جائے گی
Comments