00:05شہرام کے پیروں تلے سے اس وقت زمین نکل گئی جب اس نے اپنے کانوں سے سینیا کو اپنی ماں
00:10سیرت بیگم سے فون پر یہ کہتے ہوئے سنا کہ ممہ میں نے سب کو سبق سکھا دیا ہے جو
00:14میرے راستے
00:15میں علیفی گا اس کا یہی انجام ہوگا برین نے بڑے فخر سے اپنی ماں کو بتا دی بتا رہی
00:20تھی کہ میں نے وہ تصویرن روز کو بھیجی تھی تاکہ ہریال کی منگی ٹوٹ جائے اور میں نے ہی
00:25شان سے واپس نکلوانے کا ڈراما رچایا تھا تاکہ اس کو میں ہمیشہ کے لیے گھر میں بھی ڈال سکوں
00:30اور شہرام کی نظروں سے بھی علیف سکینہ نے ہنستے ہوئے کہا کہ ماما نظرر بھائی
00:35علیفی تھے ان سے لارنے کے لیے لیکن میں نے تو صاف انکار کر دیا میں نے تو کوئی بات
00:40نہیں مانی کہ میں نے کچھ بھی کیا ہے اور وہ بیچارے چپ چاپ یہاں سے چلے گئے شہرام دروازے
00:45کے پیچھے کھڑائی
00:46سب کچھ سن چکا تھا سی یقین نہیں علیف رہا تھا کہ اس کی بیوی اس کے لیے وہ پوری
00:50دنیا سے لار گیا ہے وہ اس تین کا ساتھ جا رہا تھا کہ ابھی اندر جا کر دنیا کا
00:55گلہ دبا دے لیکن وہ خود
00:56پر قابو اس نے پارکھا تھا کیونکہ وہ دنیا کو رنگ و ہاتھ سے پکڑ کر اسے ایسی سزا دینا
01:01چاہتا تھا کہ وہ زندگی بھر یاد رکھے دوسری طرف ذرا جوسینیا سے مل کر
01:06نکلنے کے بعد شدید غصے اور ٹینشن میں تھا وہ گاڑی دیوانہ وار چلانا تھا اس کے دماغ میں بار
01:12بار فریال کا خیال علف رہا تھا کہ پریہ اسی طرح سے سکون نہیں ملانا میں نے اس سے شادی
01:17کی
01:17اور اب دوبارہ کسی نے اس کو ٹوٹلز بھیج کر اس کی دوبارہ زندگی برباد کرنے پر جڑا ہے اور
01:23زردار دھماکے کے ساتھ گاڑی کھمبے میں جا ٹک جائے گی ذرا لہو لہان حالت میں ہسپتال پہنچا جہاں اس
01:29کی حالت بہت نازک بتائی جا رہی تھی
Comments