00:04یعنی یہ چکتی ہوئی اواز پورے کمرے میں گونج اٹھی تو شہران کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی شہران
00:09ساکب کھڑا اپنی بیوی کا وہ بھیانک چہرہ دیکھ رہا تھا جس کا اس نے سبر بھی نہیں کیا تھا
00:14ہاں شہران میں نے یہ بچہ ضائع کروایا مجھے اس کا کوئی دکھ نہیں ہے زینیا نہیں اس چکتی ہوئی
00:19اواز پورے کمرے میں گونج اٹھی شہران کی پیرو تلے سے زمین نکل گئی شہران اسے میں تل ملاتے
00:24ہوئی اس کے سامنے علف کر کھڑی ہو گئی چینیا نے بڑے تکبر سے کہا کہ شہران تم ہی کیا
00:30لگا تھا کہ میں اس بچے کی خاطر اپنا انٹرنیشنل کریئر اپنا مستقبل برباد کر
00:35دنگی میرے لیے میرا کریئر اس بچے سے کہیں زیادہ اہم ہے اور تمہاری تم کیا کیا چاہتے تھے کہ
00:41میں ایک معمولی عورت بن کر گھر میں قید ہو کے رہ جاؤں یہ فیصلہ میں نے خود کیا آپ
00:45کو ہماری
00:46یہ تفصیلی ویڈیو کیسی لگی ضرور بتائیے گا میرے خیال میں تو ذہنیا اس سے زیادہ وہ کرتی تھی ڈیزرو
00:52کرتی تھی کیونکہ شہران نے جب اسے چھوڑ دیا اور یہ سزا اس کے لیے کافی نہیں تھی لیکن
00:57یہ بھی ہے کہ انی والے بیسوڈ میں مجھے لگتا ہے کہ یہ بھی دکھایا جائے گا کہ زینیا کبھی
01:01ماں نہیں بن پائے گی اور اور اس کو پھر سے بھی نکال دیا جائے گا
01:05جس طرح سے اس کی اکڑ والی وہ لڑکی ہے اس کو افس سے بھی نکال دیا جائے گا نہ
01:10افس رہے گا اور نہ اس کے پاس شہران رہے گا
Comments