00:00اگر بریرہ کو کچھ بھی ہوا تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا
00:02لیکن تمثیل اسے بتاتی ہے کہ کچھ لوگ آئے تھے اور بریرہ کو اپنے ساتھ لے گئے
00:06تب ہی شہداؤد رستم کو بلا کر حکم دیتا ہے
00:08مجھے ہر حال میں بریرہ زندہ چاہیے
00:10ادھر تمثیل چھپکے سے فارم ہاؤس پہنچ جاتی ہے
00:12اور عرباز سے کہتی ہے عرباز اب بریرہ تمہارے راستے میں نہیں آئے گی
00:14عرباز بریرہ کو پریشان کرنے لگتا ہے
00:16تب ہی رستم شہداؤد کو بتاتا ہے
00:18کہ بریرہ کی آخری موبائل لوکیشن منصب علی خان کے فارم ہاؤس کی آ رہی ہے
00:21یہ سن کر شہداؤد فوراں اپنی گاڑی لے کر فارم ہاؤس کی طرف نکل پڑتا ہے
00:24شہداؤد جیسے ہی فارم ہاؤس میں پہنچتا ہے
00:26وہ عرباز کو بریرہ کو پریشان کرتے ہوئے دیکھ لیتا ہے
00:28یہ دیکھ کر شہداؤد کا غصہ ساتھویں آسمان پر پہنچ جاتا ہے
00:31اور وہ فوراں عرباز کو پکڑ لیتا ہے
00:33تب ہی پیچھے سے منصب علی خان آ جاتا ہے
00:35اور عرباز کو چھڑانے کے لیے شہداؤد پر گولی چلا دیتا ہے
00:38لیکن شہداؤد بچ جاتا ہے
00:39اسی وقت منصب علی خان عرباز کو لے کر وہاں سے بھاگنے لگتا ہے
00:42شہداؤد فوراں بریرہ کی رسیاں کھولتا ہے
00:44تو بریرہ ڈر کے مارے اسے گلے لگا لیتی ہے
00:47اور کہتی ہے شہداؤد عرباز میرے ساتھ بہت بری حرکت کرنے والا تھا