00:01السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:06بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:12امام بخاری اور امام مسلم رحمہ ملہ نے
00:17یہ روایت نقل کی ہے
00:20اور یہ روایت مشہور صحابی رسول
00:24حضرت نعمار بن بشیر رضی اللہ عنہما سے ہے
00:30حضرت نعمار بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے
00:37کہ میرے والد مجھے لے کر
00:40اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے
00:46بعض روایات میں ہیں کہ گود میں لے کر حاضر ہوئے
00:49اور عرض کیا کہ میں نے اس بیٹے کو ایک غلام گفٹ کر دیا ہے
00:57اور بعض روایات میں غلام کی بجائے
01:01باغ گفٹ کرنے کا ذکر ہے
01:04بہرحال
01:05آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا
01:10کیا تم نے اپنے سب بچوں کو اتنا ہی اتنا دیا
01:15انہوں نے عرض کیا کہ نہیں
01:17اوروں کو تو نہیں دیا
01:20صرف اسی رڑکے نومان کو دیا ہے
01:25آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
01:28پھر یہ تو ٹھیک نہیں
01:30اور فرمایا کہ اس کو واپس لے لو
01:33اور ایک روایت میں ہے کہ کیا تم یہ چاہتے ہو
01:36کہ تمہاری سب اولاد یقصہ طور پر تمہاری فرما بردار
01:42اور خدمت گزار بنے
01:44انہوں نے عرض کیا کہ ہاں
01:47حضرت یہ تو ضرور چاہتا ہوں
01:50تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
01:52پھر ایسا نہ کرو
01:54یعنی مطلب کیا ہے
01:56کہ ایک کو دو اور دوسروں کو محروم رکھو
01:59ایسا نہ کرو
02:01حضرت نومان بن بشیر
02:03کی ایک دوسری روایت میں
02:05یہی واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے
02:09کہ میرے والد نے
02:11میرے لئے کچھ ہبا کیا
02:13یعنی والدہ کے اسرار پر
02:16میرے لئے کچھ گفت کیا
02:18تو میری والدہ عمرہ بنت رواحہ نے کہا
02:21کہ میں جب خوش اور مطمئن ہوں گی
02:25جب آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو
02:28اس ہبا کا اس گفت کا گواہ بنا دوگے
02:33چنانچہ میرے والد
02:35حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خدمت میں حاضر ہوئے
02:38اور عرض کیا کہ
02:39میری بیوی عمرہ
02:41بنت رواحہ سے میرا جو بچہ ہے
02:44میں نے اس کے لئے کچھ گفت کیا ہے
02:46تو اس کی ماں نے مجھ سے تاقید کی ہے
02:50کہ حضور علیہ السلام کو اس کا گواہ بنا دو
02:54اور اس طرح حضور علیہ السلام کی منظوری بھی حاصل کر کے
03:00یعنی مطلب یہ ہے
03:01کہ یہ ہبا کو پکا کر دو
03:05آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا
03:07کہ کیا تم اپنے اور سب بچوں کے لئے
03:11تم نے اتنا ہبا کیا ہے
03:14انہوں نے عرض کیا کہ نہیں
03:16اوروں کے لئے تو نہیں کیا
03:19آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
03:22فَتَّقُ اللَّهَ وَعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ
03:26اللہ سے ڈرو
03:27اور اپنی اولاد کے ساتھ
03:29مسابات اور برابری کا سلوک کرو
03:32حضرت نعمان بن مشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
03:35کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمانے پر
03:39والد صاحب نے رجوع کر لیا
03:41اور ہبا واپس لے لیا
03:43اور ایک روایت میں ہے
03:45کہ حضور علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا
03:47کہ میں بے انصافی کے معاملے کا گواہ نہیں بن سکتا
03:53یہ میں نے آپ حضرات کے سامنے
03:56ترجمہ بیان کیا
03:58اور کچھ اس میں
04:01وضاحت کے طور پہ کچھ جملے بیچ میں بھی بولے ہیں
04:04اس کی تشریح میں
04:08محدثین فرماتے ہیں
04:09کہ اس حدیث میں اس بات سے ممانات فرمائی گئی
04:14اور اس کو
04:15بے انصافی قرار دیا گیا
04:18کہ اولاد میں سے کسی کے ساتھ
04:22گفت میں ترجیحی سلوک کیا جائے
04:25بعض فقہانے اس کو حرام تک کہا ہے
04:28لیکن اکثر فقہانے
04:30اور آئمہ اربا میں سے امام ابو حنیفہ
04:34امام مالک
04:35امام شافعی رحمہ اللہ نے
04:39بعض دوسرے دلائل اور قرائن کی بنا پر
04:42اس کو حرام تو نہیں
04:43لیکن مکروح اور سخت ناپسندیدہ قرار دیا ہے
04:48مولانا محمد منظور نومانی رحمہ اللہ
04:52معرف الحدیث میں فرماتے ہیں
04:55مگر واضح رہے کہ یہ حکم
04:59اسی صورت میں ہے
05:01کہ جبکہ ترجیحی سلوک
05:04بلا کسی ایسی وجہ کے
05:07جو شرعان معتبر ہو
05:08لیکن اگر کوئی ایسی وجہ موجود ہو تو
05:12پھر اس وجہ کے بقدر ترجیحی سلوک
05:16درست ہوگا
05:17مثلاً اولاد میں سے
05:19کسی کی صحت
05:21مستقل طور پر خراب ہے
05:23اور وہ دوسرے بھائیوں کی طرح
05:26معاشی جد و جہد نہیں کر سکتا
05:29تو اس کے ساتھ خصوصی سلوک
05:32عدل و انصاف کے خلاف نہ ہوگا
05:35بلکہ ایک درجے میں ضروری
05:37اور باعث اجر ہوگا
05:39اسی طرح اگر اولاد میں سے
05:42کسی نے
05:43اپنے کو دین و ملت کی خدمت میں
05:47اس طرح لگا دیا ہے
05:49کہ معاشی جد و جہد میں
05:52زیادہ حصہ نہیں لے سکتا
05:54تو اس کے ساتھ بھی
05:56مناسب حد تک
05:57خصوصی سلوک جائز ہے
05:59بلکہ باعث اجر ہوگا
06:02لہذا
06:03اگر کسی ایک بھائی کے ساتھ
06:06خصوصی اور ترجیحی سلوک پر
06:09دوسرے بھائی رضا منہوں
06:11تب بھی یہ جائز ہوگا
06:15حق تعالی شانہو
06:17صحیح معنوں میں
06:21عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائیں
06:23موسیقی