- 2 weeks ago
مولانا مفتی عبدالکریم دین پوری صاحب(امام و خطیب جامع مسجد عمر گلشن اقبال بلاک-15 کراچی/استاذ و رفیق دارالافتاء جامعةالعلوم الإسلامية علامہ بنوری ٹاؤن کراچی)-(پاکستان )
Maulana Mufti Abdul Kareem Deen Puri Sahb (Imam and Khatib Jama Masjid Umar Gulshan-e-Iqbal Block-15 Karachi/Teacher at Darul Ifta Jamaatul Uloom Islamia Allama Banuri Town Karachi)-(Pakistan).
Any Queries please contact
Fahad Ahmed Khan
Email : fahadahmed00046@gmail.com
(Subscribe For Spiritual Lectures)
Maulana Mufti Abdul Kareem Deen Puri Sahb (Imam and Khatib Jama Masjid Umar Gulshan-e-Iqbal Block-15 Karachi/Teacher at Darul Ifta Jamaatul Uloom Islamia Allama Banuri Town Karachi)-(Pakistan).
Any Queries please contact
Fahad Ahmed Khan
Email : fahadahmed00046@gmail.com
(Subscribe For Spiritual Lectures)
Category
📚
LearningTranscript
00:00تو اللہ تعالی نے اپنی قدرت کا ایک شہکار
00:04جس کو انسان کہتے ہیں
00:06جو اشرف المخلوقات ہیں
00:10اللہ نے اس کو پیدا فرمائے
00:14اب انسان کی یہ پیدائش اور انسان کی یہ تخلیق
00:20آپ بتائیے کہ جو ابھی ہم نے اصول بیان کیا
00:23کہ کوئی چیز بیکار نہیں بنائی جاتی
00:26تو کہ یہ انسان بیکار پیدا کیا گیا
00:29اس کا کوئی مقصد نہیں
00:32بنانے والے نے اس کو بیکار پیدا کیا
00:35نہیں ہرگز ایسا نے
00:39ایک عظیم مقصد کے لیے اس انسان کو پیدا کیا گی
00:45بہت بڑے مقصد کے لیے پیدا کی
00:48جب مخلوقات میں یہ سب سے اشرف ہے
00:53تو یہ شرافت
00:56یہ عزت
00:57یہ کرامت
00:59یہ بلندی یہ مقام
01:01ایسے نہیں ملتا
01:02ذمہ داریوں کے ساتھ ملیتا
01:05جو آدمی
01:07جتنا بڑا ہوتا ہے
01:08اس کی ذمہ داریاں بھی بہت ہوتی
01:13تبیہ انسان کو اشرف المخلوقات بنایا تو اس پر اللہ نے وہ بوجھ رکھا ہے وہ ذمہ داری رکھی ہے
01:22جو ذمہ داری اور بوجھ آسمان و زمین اور پہاڑ بھی نہیں اکھا سکتا
01:27پیشکش کی گئی
01:30آسمانوں میں بھی پیشکش کی گئی
01:33زمینوں کو بھی پیشکش کی گئی
01:36پہاڑوں کو بھی پیشکش کی گئی
01:38کہ تمہارے اوپر یہ بوجھ ڈالے
01:45ہاں بوجھ کو نبھائے گا کوئی
01:47تو پھر آگے جنت بھی ہے جنت
01:50اب جنت کا تذکر ابھی نہیں کرنا انشاءاللہ
01:52اللہ نے موقع دیا تو رمضان کے آخری جمعہ یا پھر کبھی
01:56تو جو اس بوجھ کو کیا کرے گا
01:59اٹھائے گا
02:01تو پھر نعمتیں ہی نعمتیں
02:03بہارے ہی بہارے
02:04اللہ کا دیدار جنت کی نعمتیں
02:07اور مزے والی زندگی
02:09اور ایسی زندگی کے
02:11مَا لَا عَيْنُ اُمْرَادُ
02:13وَلَا عُذُنُ اُنْ سَمِعَادُ
02:14وَلَا خَطَرَ عَلَا قَلْبِ وَشَرُ
02:16حدیثِ قرصی میں کہا گیا
02:18عَادَتُ الْعِبَادِيَ السَّالِحِينَ
02:20میں نے اپنے صالح بندوں کے لئے وہ تیار کر رکھا ہے
02:23جسے نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا
02:25نہ کسی کان نے سنا
02:27نہ کسی انسان کے در پر اس کا خیال تک گزرا
02:32لیکن یہ نعمتیں
02:35ان کو نصیب ہوں گی
02:37جو یہ بوجھ اور یہ تکلیف
02:41برداشت کرے گا
02:42اُٹھائے گا
02:43اس کا حق ادا کرے گا
02:45جائرے کے درمیان میں
02:48بڑے بڑے
02:50مسائب آئیں گے
02:51تکلیفیں آئیں گی
02:53آزمائشیں آئیں گی
02:57تو پہاڑوں نے
03:00آسمانوں نے
03:01زمینوں نے انکار کر دیا
03:04لیکن انسان نے کیا کیا
03:06کول کر دیا
03:08ہاں میں یہ بوجھ اٹھاؤں گا
03:12اور اللہ تعالی نے انسان کے
03:14اس بھولے پن کا ذکر
03:15کس محبت سے
03:16سورة الاحزاب میں فرمایا
03:18فرمایا
03:19اِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ
03:23عَلَى السَّمَعَوَاتِ
03:25وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ
03:28فَأَبَيْنَ رَيَّحْ مِلْنَهَا
03:32وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا
03:34وَخَمَلَهَا الْإِنسَانِ
03:38إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا
03:43بے شک ہم نے پیش کی امانت
03:47کس پر
03:48عَلَى السَّمَعَوَاتِ
03:51وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ
03:53آسمانوں پہ
03:55زمین پہ
03:56پاڑوں پہ
03:58فَأَبَيْنَا اَيَّحْ مِلْنَهَا
04:02ان سب نے انکار کیا
04:04اس کے اٹھانے سے
04:06اٹھانے سے انکار کیا
04:12وَحَمَلَهَا الْإِنسَانِ
04:13انسان نے یہ امانت اٹھا لی
04:18إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا
04:24اس کا تو مگر تب آئے گا
04:25کسی موتبر تفسیر میں
04:27ظَلُوم جَهُول کیا
04:28آپ تفسیر جا کے دیکھیں
04:29اور پڑیں
04:30مختصر وقت میں
04:31میں اس کی وضاق نہیں کر سکتا
04:34تو یہ انسان نے
04:35یہ چیزیں اٹھا لی
04:37یہ بوجھ اٹھا لی
04:39اب وہ مقصد بھی
04:43قرآنِ کریم میں
04:44واضح کر کے بیان کر دیا
04:46پہلے تو یہ بھی بیان کی
04:48ایک جگہ قرآنِ کریم میں
04:49کہ انسان کو جو ہم نے پیدا کیا
04:52یہ بیکار پیدا نہیں کیا
04:55اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا صَلَطْنَاكُمْ عَبَسَا
05:00وَأَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ
05:05کیا تم لوگوں نے یہ سیال کر لیا
05:08کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا
05:11بیکار پیدا کیا
05:13وَأَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ
05:17اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤگے
05:24یعنی انسان کو اللہ نے بیکار پیدا نہیں کیا
05:28ایسا نہیں ہے کہ جس طرح دوسرے جانور ہیں
05:31کھا رہے پی رہے سو رہے
05:34اور پھر چلے جائیں گے
05:35نہیں
05:36انسان کا معاملہ
05:38دوسری مخلوقات جانوروں کی طرح نہیں ہے
05:42اللہ نے اس کو ایک عظیم مقصد کے لیے پیدا کیا
05:46اور وہ مقصد کیا ہے
05:47وَمَا خَلَقُتُ الْجِنَّا
05:50وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ
05:55وَمَا خَلَقُتُ الْجِنَّا
05:59وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ
06:02میں نے جنات اور انسانوں کو پیدا کیا
06:06اپنی عبادت کے لیے
06:07اپنی بندگی کے لیے
06:11سوال یہاں پر یہ پیدا ہوتا ہے
06:14کہ کہا جا رہا ہے
06:17کہ انسان کو ہم نے اپنی بندگی کے لیے
06:20عبادت کے لیے پیدا کیا
06:22تو انسانوں سے پہلے
06:25تو ایک مخلوق موجود تھی
06:27فرشتوں کی
06:27نوری مخلوق
06:29جو کرتی ہی کیا تھی
06:31عبادت
06:33جو کرتی ہی عبادت تھی
06:36فرشتوں میں
06:38اللہ تعالیٰ نے
06:39سرکشی کا مادہ
06:40نافرمانی کا مادہ نہیں رکھا
06:45وہ ہمیشہ ہمیشہ
06:47اللہ کی عبادت ہی کرتے رہتے ہیں
06:58اللہ تعالیٰ نے جو
07:00حکم ان کو دیا اس کی
07:02وہ نافرمانی نہیں کرتے
07:04اللہ کی طرف سے جو حکم ہوتا ہے
07:08اسے بجا لاتے
07:11تو ہمارے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے
07:15کہ اگر مقصد تخلیق انسانیت
07:19عبادت تھی
07:20تو یہ جو مقصد تخلیق انسانیت
07:24عبادت کی آپ بات کرتے ہیں
07:27تو عبادت تو فرشتے بھی کر رہے تھے
07:30پھر انسان کو پیدا کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی
07:34وہ تو کر ہی رہے تھے
07:37سورہ بقرہ میں فرمایا ہے نا
07:39کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے یہ ذکر کیا
07:43وَإِذَا قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَتِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِیفَةً
07:51قَالُوا اَتَجْعَلُوا فِيهَا مَنْ يُفْسِدُوا فِيهَا وَيَسْبِكُوا الدِّمَا
08:01وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكُ
08:07جب اللہ نے فرشتوں کے سامنے یہ ذکر کیا
08:11إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِیفَةً
08:15میں زمین میں خلیفہ بنا رہا ہوں
08:18شان دو دیکھی ازمت دو دیکھی ایک انسان کی
08:21إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِیفَةً
08:26فرشتوں نے جب یہ سنا کہنے لگے
08:29قَالُوا اَتَجَالُوا فِيهَا
08:32نہیں افسیدُوا فِيهَا
08:35وَيَسْبِكُوا الدِّمَا
08:37کہنے لگے اَتَجَالُوا فِيهَا
08:41کہ آپ زمین میں ایسے کو خلیفہ بنائیں گے
08:45جو زمین میں فساد پھیلائے گا
08:48وَيَسْبِكُوا الدِّمَا
08:51اور خون بھائے گا
08:53کیونکہ پہلے وہاں جنات موجود تھے
08:57اور جنات کی سرکشی وہ تو مشہور تھی
09:00اور جنات نے بہت عودم مچایا ہوا تھا
09:04پرشتوں نے کہا ہو سکتا ہی جو خلیفہ بنے یہ بھی یہی کان کرے
09:10اور باقی رہی عبادت
09:20اے پروردگارِ عالم ہم تو آپ کی تسبیح و تحمید بیان کرنے والے ہیں
09:27آپ کی تقدیس بیان کرتے ہیں
09:29فرشتے تو اللہ کی عظمت کے طرح نے گاتے
09:33تسبیح و تحمید کرنے والے عبادت کرنے والے
09:37فرشتوں نے کہہ دیا نا
09:40تو رب العالمین نے جواب کیا دیا آگے
09:57کہ بے شک میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
10:04آگے جو آنے والا خلیفہ ہے وہ کیا ہوگا
10:08اس کے اندر کیا کیا خوبیوں ہوں گی
10:12اس کو جب بوکھ لگے گی مجھے یاد کرے گا
10:16پیاس لگے گی مجھے یاد کرے گا
10:19مجھ سے مانگا کرے گا
10:21اس کو بوکھ بھی لگے گی پیاس بھی لگے گی
10:25اس بور تکلیفیں بھی آئیں گی راحتیں بھی آئیں گی
10:30اس کو سردی بھی لگے گی اس کو گرمی بھی لگے گی
10:34کبھی اس کے حالات میں دھوپ ہوگی
10:37تو کبھی اس کے حالات میں چھاؤں ہوگی
10:41میں ایک ایسی مخلوب پیدا کرنے والا ہوں
10:49پھر آگے قصہ چلتا ہے اللہ نے پھر انتہان لیا
10:53جی فرشتوں کا حضرت آدم علیہ السلام کا
10:58اور حضرت آدم علیہ السلام اس میں سرخرو ہوئے
11:02جب سرخرو ہوئے تو فرشتے کیا کہنے لگے
11:05قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
11:19یہ انسان کی پیدائش ہے اور اللہ نے انسان کو عظمتوں على بنایا
11:25تمہیں یہ عرض کر رہا تھا ہمارے ذہن میں اشکال ہوتا ہے
11:30عبادت کے لئے تو پہلے فرشتے موجود تھے
11:34پھر انسان کو پیدا کر کے کہا
11:36کہ انسان کی پیدائش کا مقصد بھی عبادت ہے
11:40تو دوبارہ انسان کو عبادت کے لئے پیدا جو کیا گیا
11:44یہ ذرا ہمارے ذہن میں آ نہیں رہی بعد
11:48تو علماء نے یہ مسئلہ بڑی وضاحت کے ساتھ ذکر کیا
11:52کہ عبادت عبادت میں فرق ہے
11:55فرشتوں کی عبادت الگ انداز کی
11:59انسان کی عبادت الگ انداز کی
12:03دونوں کی عبادتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے
12:09فرشتہ عبادت کرتا ہے اس کو سواب نہیں ملتا
12:15فرشتہ تصویر پڑتا ہے اس کو سواب نہیں ملتا کیوں
12:20اس لئے کہ فرشتے کے اندر دوسرا مادہ رکھا ہی نہیں گیا
12:25اس کے اندر گناہ کا مادہ ہی نہیں ہے
12:29وہ گناہ کر ہی نہیں سکتا
12:31اس لئے اس کا امتحان نہیں ہے
12:35عبادت میں فرشتے کا امتحان نہیں ہے
12:39اس لئے کہ فرشتہ پیدا ہی عبادت کے لئے ہوا
12:43امتحان تو اس کا ہے جس کو اختیار دے دیا گیا
12:48فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا دونوں راستے کھول دیے گئے
12:56نیکی کا راستہ بھی اختیار کر سکتا ہے برائی کا راستہ بھی اختیار کر سکتا ہے
13:03ایک مثال سے سمجھئے کہ نابینہ ہے
13:05نابینہ ہے وہ دیکھ نہیں سکتا
13:09دیکھ نہیں سکتا
13:11اس کی بینائی اللہ نے ویسے ہی چھین لی
13:14تو اب اس کا یہ کمال نہیں ہے
13:17کہ نابینہ کہے کہ میں بدنظری نہیں کرتا
13:20میں فغائش اور منکرات کو نہیں دیکھتا
13:24میں معصیت کی جگہوں پہ
13:26اپنی آنکھیں جو ہے
13:28آنکھوں سے کچھ نہیں دیکھتا
13:30یہ نابینہ کا کمال نہیں ہے
13:33نابینہ کا کمال نہیں
13:34اس لیے کہ اس کے اندر تو بینائی رکھی نہیں گئی
13:38کمال تو اس کا ہے
13:40کہ جس کو اللہ نے آنکھیں دی
13:42دیکھنے کی طاقت دی
13:44بھری بازار میں جاتا ہے
13:46دائیں بائیں گناہوں کے مناظر سامنے ہیں
13:49سوشل میڈیا موبائل اس کے ہاتھ میں ہے
13:53سارے مناظر وہ دیکھنا چاہے
13:56تنہائی میں دیکھ سکتا ہے
13:59لیکن یہ اللہ کا ولی
14:01یہ اپنی آنکھوں کو ان فوائش سے منکرات سے
14:04جی دور رکھتا ہے
14:06تو اس کا ہے یہ امتحان
14:07یہ اس امتحان میں کامیاب ہوا
14:11تو فرشتے اور انسان کی عبادت میں
14:14زمین و آسمان کا فرق
14:18فرشتے کو بوک نہیں لگتی
14:19فرشتے کو کیا پتہ روزے کا کیا مزائے
14:23اس کو کیا پتہ کہ بھوکا پیاسا
14:25رہنے میں کیا ہوتا ہے
14:28فرشتے کو کیا پتہ کہ
14:29سردی گرمی کیا ہوتی ہے
14:32فرشتے کو کیا پتہ
14:33کہ اس کے حلال کمانے میں کیا
14:35مشقتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں
14:39تو اللہ رب العالمین نے انسان
14:41کو بنایا ہے عبادت کے لیے
14:43اور عبادت بھی وہ کونسی
14:46جی احکامِ تکلیفیہ
14:48اس پر بوجھ بلادہ گی
14:50بہت سے لوگ ہوتے ہیں نا
14:52ان کو شیطان وسوسہ ڈالتا ہے
14:55پٹی بڑھاتا ہے
14:56جی اللہ تو قادرزاد ہے
14:58اگر یہ کام ہوتا تو
15:00اللہ خود ہی میرے ہاتھ کھینچ لیتا
15:02اللہ جب نہیں کھینچ رہا
15:03اس کا مطلب یہ کہ یہ کیا ہے
15:05یہ نیکی کا کام ہے
15:06اللہ بچا اللہ معاف کرے
15:09شریعت بلکل واضح ہے
15:11دین بلکل واضح ہے
15:13حلال اور حرام بلکل واضح ہے
15:15اللہ نے انسان کو اختیار دیا ہے
15:18اب اس اختیار کے ذریعے سے
15:20جی وہ جہاں چاہے جس طرح چاہے
15:23اور اس کے مطابق فیصلے ہو
15:25وَمَا خَلَقْدُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ
15:30اور میں نے انسان اور جنات
15:32کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا
15:35اب جب یہ ایک نقطہ
15:37میں نے آپ کے سامنے بیان کر دیا
15:39اب میں آ رہا ہوں
15:41عبادت کی طرف
15:42جب ہم ہمارے ذہن میں یہ بات آ گئی
15:45کہ ہمیں اللہ نے پیدا ہی کس لیے کیا
15:47عبادت کے لیے
15:49تو پھر ہونا کیا چاہیے تھا
15:51کہ پورے بارہ مہینے ہم کیا کرتے
15:53جس مقصد کے لیے
15:55اللہ نے ہمیں پیدا کیا
15:57ہم اسی مقصد میں ہی لگے رہتے
16:00یہ ایک الگ بات ہے
16:02انشاءاللہ پھر وضاعت آپ کے سامنے
16:04دوسرے بیانوں میں میں کرتا رہتا ہوں
16:06کہ عبادت کے ایک تصور
16:08ہم نے جو سمجھ لیا ہے
16:09نماز روزے کی حد تک صرف یہ نہیں
16:12بلکہ کاروبار بھی عبادت
16:14جس کے حلال کمانا بھی عبادت
16:17یہ ایک لمبا وسی مفہوم ہے
16:19اس پر انشاءاللہ
16:20پہلے بھی کئی دفعہ بیان ہو چکا ہے
16:22پھر کبھی آپ کے سامنے پھر کر دیں گے
16:24لیکن میرا موضوع بھی
16:26فی الحال رمضان کی عبادت کی حوالے سے
16:28اس سے میں اسی طرف آ رہا ہوں
16:30اب ہونا تو یہ چاہیے تھا
16:32جب اللہ نے ہمیں عبادت کے لئے پیدا کیا
16:34تو ہم پورے بارہ مہینے
16:37جی عبادت ہی میں صرف کرتے
16:40بارہ مہینے
16:42ہم ہمیشہ روزہ رکھتے
16:44راتوں کو قیام اللیل کرتے
16:46اللہ کی عبادت کرتے
16:48لیکن رب العالمین
16:50نے کرم فرمایا
16:51کرم فرمایا
16:53کہ دنیا کے اندر اور بھی دو کام ہیں
16:56اور بھی ذمہ داریاں ہیں
16:57سب نیوانی ہیں
16:58تو ان بارہ مہینوں میں ایک مہینہ رمضان
17:01خاص کر دیا
17:03اور اس میں ایک مخصوص عبادتیں
17:05ہمارے ذمہ کر دیں
17:06کہ یہ عبادتیں کو
17:08اب ہمیں کیا کرنا ہے
17:11کہ یہ جو مہینہ ہمیں نصیب ہوا
17:13عبادت کا مہینہ
17:15عبادت کے دوبارہ ہی مہینے ہیں
17:17لیکن یہ خاص مہینہ ہے
17:19خاص مہینہ
17:20اور یہ خاص کیوں ہیں
17:22احادیث میں
17:25یہ مضمون بیان کیا گیا ہے
17:27کہ اس ماہ مبارک میں
17:29ایک فرض کا ثواب
17:31ستر فرض کے برابر ہو جاتا ہے
17:35ایک کے ستر
17:38ایک کے ستر
17:39اور نفل کا ثواب
17:42فرض کے برابر
17:46اور آپ نے علماء سے سنا ہوگا
17:49کہ اگر کوئی آدمی نیکی کرتا ہے
17:51تو کم از کم
17:53ایک نیکی پر
17:54دس گناہ ثواب
17:56اور پھر جتنا اخلاص بڑھتا جاتا ہے
17:59جی وہ ثواب کا پیمانہ بھی
18:02بڑھتا جاتا ہے
18:03حتیٰ کہ
18:05صدقے کے بارے میں
18:06کیا فرمایا
18:07سات سو گناہ تک
18:09بڑھا دیا جاتا ہے
18:10سات سو گناہ
18:11لیکن روزہ
18:13وہ عظیم الشان عبادت ہے
18:16اس کے بارے میں
18:18رب العالمیر فرماتے ہیں
18:23روزہ تو میرے لئے ہے
18:25اور میں اس کا بدلہ دو
18:26یہاں پیمانے کا ذکر نہیں
18:28یہ سات سو بھی کچھ نہیں
18:31کلکولیٹر کے ہن سے ختم ہو جائیں گی
18:33اور اس سے اور کوئی جدید پیمانہ آگیا ہو
18:36انسوں کا وہ سارے حساب اور کتاب
18:39سارے ریاضی دانوں کے
18:41وہ ساری چیزیں ختم ہو جائیں گی
18:43یہاں دینے والا کون ہے
18:45وہ ذاق ہے
18:46جس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں
18:50دینے والی وہ ذات ہے
18:51جس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں
18:53وہ جس کو جتنا چاہے
18:55دیتا رہے
18:56تب بھی اس کے خزانے میں
18:58ذرہ برابر کبھی نہیں آئے گی
19:00تو اس عظیم ذات نے
19:01روزہ کے بارے میں
19:02یہ پیمانہ
19:03آپ بتائیے
19:04ہمیں کچھ معلوم نہیں
19:05اگلہ رمضان کا مہینہ
19:07ہمیں نصیب ہو یا نہ ہو
19:08یہ بہاریں ملے یا نہ ملے
19:10پچھلے جمعہ میں نے آپ کے سامنے
19:12یہ ذکر کیا تھا نا
19:14کہ جی
19:15پچھلے رمضان میں بھی
19:17ہمارے کچھ دوست ایسے تھے
19:18جن کے ساتھ
19:19ہم اٹھتے بیٹھتے تھے
19:20ہاتھ واتھ ملاتے تھے
19:22انتظار کرتے تھے
19:23عید کا دن آئے
19:24تو ان سے ملتے
19:25عید ہی
19:26ہاں
19:26اور وہ ساری چیزیں
19:27آج وہ کہاں ہیں
19:28قبروں میں پہنچ گے
19:30آج دنیا میں نہیں
19:31تو اس لیے
19:32اس ماہ مبارک کی
19:33ہم قدر کریں
19:36مختصرن میں آپ کے سامنے
19:37اپنے بزرگوں کے
19:39اسلاف کے کچھ
19:41مختصر قصے
19:42وقت چونکہ بہت
19:42محدود ہوتا ہے
19:43تو میں چند قصے
19:45آپ کے سامنے
19:46اس نیت کے ساتھ
19:47ذکر کرنا چاہتا ہوں
19:49کہ ہمارے اندر
19:50یہ جو سستی اور غفلت
19:52آگئی ہے
19:53کمزوری
19:53اللہ تعالیٰ
19:55اس کو دور کرے
19:56ہمیں عبادت کا
19:57ذوق نصیب فرمائے
19:59عبادت کا شوق
20:00نصیب فرمائے
20:04چند قصے
20:05آپ کے سامنے
20:05ذکر کرتا ہوں
20:06سب سے پہلے
20:07نبی آخر
20:09زمان
20:09حضرت محمد
20:10عربی صلی اللہ علیہ وسلم
20:12کے دو تین واقعات
20:13ہماری آنکھیں
20:15کھولنے کے لئے
20:15کافی ہے
20:17آپ صلی اللہ علیہ وسلم
20:19نماز میں
20:20بہت طویل قیان
20:21فرمایا کرتے تھے
20:23یہ آنکھ دکھ
20:25کہ آپ کے
20:25پاہوں مبارک میں
20:27ورم آجا جاتا تھا
20:28ورم
20:30تو آپ سے
20:32کہا گیا
20:32کہ آپ
20:33اتنا اپنے آپ کو
20:35تھکاتے ہیں
20:36حالانکہ
20:36اللہ تعالیٰ نے
20:38آپ کے
20:39اگلے پچھلے گناہ
20:40معاف کر دیے ہیں
20:43اگلے پچھلے گناہ
20:44آپ کے معاف کر دیے ہیں
20:46تو آپ نے فرمایا
20:48افلا
20:49اکون
20:49عبدن شکورا
20:51کہ میں
20:52اپنے رب کا
20:53شکر
20:53گزار
20:54بندہ نہ بنو
20:56آج اگر ہمیں
20:57سارٹیفیکڈ
20:57مل جائے نا
20:58کسی جگہ پڑھتے ہو
20:59فلاں
21:00بھائی تو تو
21:00اول ہے
21:02پڑھنے ہی چھوڑ دیں گے
21:03بھائی میرا تو کام ہو گیا
21:04مجھے کیا
21:05اس کی تیاری
21:06انٹرویو کی تیاری کن
21:07بھائی تیری جواب لگ گئی
21:08تیرا فلاں کام ہو گیا
21:09تیاری کننے کی ضرورت ہے
21:11وہ تیاری کرے گا
21:13نہیں
21:16نبی آخر الزمان
21:17حضرت محمد عربی
21:18صلی اللہ علیہ وسلم
21:20کے تو
21:20اور نبی تو ہوتا ہی
21:22معصوم ہے
21:22اور آپ تو
21:24تمام انبیاء کے
21:25سردار
21:25جو عزتیں
21:27عزمتیں
21:27سعادتیں
21:28اللہ کے نبی
21:29کو عطا فرمائیں
21:30اللہ کے نبی تو
21:31جنتیوں کے بھی
21:32سردار ہوں گے
21:33لیکن اس کے
21:34باوجود آپ
21:35اکھنے آپ کو
21:35کتنا تھکاتے تھے
21:36کتنا تھکاتے تھے
21:37کتنا تھکاتے تھے
21:39اور پھر آپ نے
21:39جملہ کیسا خوبصورت
21:44اللہ کی میرے اوپر
21:45اتنی نعمتیں ہیں
21:46اتنے احسانات ہیں
21:47افلا اکون عبدن شگورا
21:49کہ میں شکر گزار بندہ
21:50نہ منوں
21:51جو مزہ
21:52اس دنیا میں
21:53عبادت کا ہے
21:55جو مزہ
21:56سجدے کا
21:57اس دنیا میں ہے
21:58جو مزہ
21:59پیام اللیل کا
22:00اس دنیا میں
22:01اور اس دنیاوی
22:02زندگی میں ہے
22:03وہ پھر
22:04بعد میں تھوڑی ہے
22:07میں نے آپ کو
22:08ایک قصہ سنایا تھا
22:09نا
22:09کہ
22:10ایک بزرگ کہیں
22:11جا رہے تھے
22:12ان کو کشف ہوا
22:13سائے میں قبر نے کہا
22:14کہ جب سے میں
22:15اس قبر میں آیا ہوں
22:16ساٹھ ہزار مرتبہ
22:20میں نے قرآن کریم
22:22پڑھ لیا ہے
22:24کتنی دفعہ
22:26ساٹھ ہزار مرتبہ
22:28قبر میں میں نے
22:29قرآن کریم پڑھ لیا ہے
22:31تو
22:32اس بزرگ کی زبان سے نکلا
22:34سبحان اللہ
22:38سبحان اللہ
22:39تو
22:40اس نے کہا
22:42کہ میرا یہ ساٹھ ہزار
22:43تم لے لو
22:44اور تم نے
22:44جو سبحان اللہ
22:45کہا ہے وہ
22:46مجھے دے دو
22:48کیوں
22:49اس لیے کہ
22:50جب آدمی
22:51اس دنیا سے
22:52چلا جائے گا
22:53دیکھیں
22:54حصل اعتبار
22:55کون سے
22:55ایمان کا ہے
22:56ایمان
22:57بالغیب کا
22:59جب
23:00موت آ جائے گی
23:01پھر وہ
23:02بات کے پردے
23:03تو کھل جائیں گے
23:04نا
23:04اس وقت
23:06تو ہزاروں دفعہ
23:06کیا کہتے ہیں
23:07قرآن پڑھے
23:08توبہ کرے
23:09اس دفعہ کرے
23:10اس کا اعتبار
23:10نہیں ہوگا
23:12اصل ہے یہ
23:13دنیا کی زندگی
23:15یہ دو چار
23:16دن کی زندگی
23:17معمولی نہیں ہے
23:19جی
23:20اب ہم سجدہ
23:21کریں
23:21ساتھ کیا ہے
23:22کھٹکا لگا ہوا ہے
23:24ابھی
23:24جمعی کی نماز
23:25پڑھیں گے نا
23:25جمعی کی نماز
23:26کے بعد فوراں
23:27بھاگنے کا
23:27شوک ہوگا
23:28گاہ کھا کے
23:29بیچے نہ ہو جائے
23:30فلا یہ نہ ہو جائے
23:31تو اصل تو
23:32مزا اسی نماز کا ہے
23:33کہ تقاضے
23:35دنیا کے بھی
23:35موجود ہو
23:36لیکن یہ
23:37اللہ کا ولی
23:38تھاٹ بارڈ کے ساتھ
23:39اللہ کے سامنے
23:40کھڑے ہو کے
23:40نماز پڑھیں
23:41اصل تو کمال
23:42اس کا ہے
23:45اللہ کے پیارے
23:46حبیب صلی اللہ علیہ وسلم
23:47نے نماز پڑھنا
23:48شروع کی
23:49تو ایک صحابی ہیں
23:50وہ فرماتے ہیں
23:51امرا نیت باندھ لی
23:52غالبن حضرت
23:53دوزیفہ تھے
23:54عضی زیفہ رضی اللہ
23:55نیت باندھ لی
23:56نماز پڑھ رہے
23:58اب ہوا کیا
23:59کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
24:01نے
24:01سورہ بقرہ کی
24:03تلاوہ شروع کی
24:04تو ان کے ذہن میں آیا
24:06کہ جب سو آیتیں ہوں گی
24:07تو آپ کیا فرمائیں گے
24:09رکو فرمائیں
24:10آپ نے رکو نہیں فرمایا
24:13آگے پڑے
24:14تو کہا کہ جب
24:15سورت ختم ہوگی
24:16نہیں
24:16پھر آپ نے
24:17جی
24:18سورہ
24:19نساء شروع کر دی
24:21بقرہ ختم ہو گئی
24:22نساء شروع
24:23حدیث میں اس طرح گل پال
24:24سورہ نساء شروع کر دی
24:26وہ ختم ہو گئی
24:28پھر آل عمران شروع کر دی
24:31آپ ذرا بتائیے
24:32کتنے پارے
24:33اس میں ہو جاتے
24:35اللہ کے قیارے حبیب
24:37اور نمازی فرض نہیں
24:39نفل
24:39اور آج ہماری نفل
24:41کیسے ہوتی ہے
24:44آپ صلی اللہ علیہ وسلم
24:45بیمار ہوئے
24:46مرض وفات ہے
24:48بھی ہوشی تاری ہو جاتی تھی
24:50آپ کو ہوش آیا
24:52برتن میں پانی رکھا گیا
24:54آپ نے غسل فرمایا
24:56پوچھا
24:57نماز ہو گئی
24:59کہا کہ نہیں
25:00انتظار ہو رہا ہے
25:03آپ نے ارادت ہو کیا
25:05لیکن پھر بھی ہوشی تاری ہو گئی
25:06پھر کچھ دیر بعد ہوش آیا
25:09پوچھا نماز ہوئی
25:11نہیں ہوئی
25:12برتن رکھا گیا
25:13آپ نے غسل فرمایا
25:14پھر بھی ہوشی تاری ہو گئی
25:17پھر آپ
25:18نے پوچھا
25:20جب ہوش آیا
25:21جی نماز ہو گئی
25:22کہا نہیں
25:23یعنی صحابہ انتظار فرما رہے تھے
25:25کیا آپ آئیں
25:27اللہ کے نبی کا
25:28مسلح ہو تو
25:29کوئی اور کھڑا ہوگا
25:30آپ بتائیے ذرا
25:33تیسری نفعہ
25:34آپ نے غسل فرمایا
25:36پوچھا
25:37کمزوری بہت زیادہ ہو گئی تھی
25:39اور
25:40جا نہیں سکتے تھے
25:42تو پیغام بھی روایا
25:44کہ ابو بکر سے
25:44کہہ دو کہ نماز پڑھا دے
25:51حضرت
25:51امیر المومنین
25:52عمر بالخطاب
25:53رضی اللہ عنہ
25:54پہ
25:55جس رات
25:56حملہ ہوا
25:58اور جس میں پھر آپ کی شہادت ہوئی
26:00اور حملہ
26:00اتنا خجرناک تھا
26:02کہ پیٹ
26:03اور رگیں
26:04کٹ گئیں
26:06اور کوئی چیز
26:07اگر پیٹ میں
26:08ڈالی جاتی تھی
26:09نبیز اور دودھ
26:10تو باہل نکل آتا تھا
26:11رات کو حملہ ہوا ہے
26:13اور جب فجر کا وقت ہوا
26:15تو آپ کو نماز کا جب کہا گیا
26:17تو کیا فرمانے لگے
26:19نعم
26:19وَلَا حَظَّ فِي الْإِسْلَامِ مَنْ تَرَكَ السَّلَا
26:23جی ہاں
26:24نماز کے لئے تو تیاری کرنی
26:26نو ہاں
26:26اور آگے کیا جملہ فرمایا
26:28وَلَا حَظَّ فِي الْإِسْلَامِ لِمَنْ تَرَكَ السَّلَا
26:33کہ اس کا کوئی حصہ نہیں ہے
26:35اسلام میں جو نماز چھوڑ دے
26:37جو نماز چھوڑ دے
26:39اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں
26:41آپ بتائیے نبی آخر الزمن بیمار ہے
26:44کیسی بیماری ہے
26:46اور نماز کا کتنا ہے تمام ہے
26:48عمر فاروق کا قصہ میں نے آپ کے سامنے ذکر کیا
26:53حضرت
26:54سعید ابن المصیب رحم اللہ فرماتے ہیں
26:57کہ پچاس سال
27:01سے میری کبھی تکبیر اولہ فوت نہیں ہوئی
27:04پچاس سال سے تکبیر اولہ
27:06اور میں نے کبھی نماز کے اندر
27:08کسی کی پیٹ نہیں دیکھی
27:10مطلب یہ کہ پہلی صف میں نماز پھڑتی
27:13پہلی صف
27:14ایک بہت بڑے آدمی گزرے ہیں
27:17حضرت محمون ابن مہران
27:19ان کی ایک دفعہ نماز چلی گئی
27:22گید و جماعت چلی گئی
27:23افسوس کیا
27:25اور فرمانے لگے
27:26کہ عراق کی گورنری سے
27:29زیادہ مجھے محبوب یہ نماز ہے
27:31عراق کی گورنری سے
27:34زیادہ محبوب
27:35مجھے یہ نماز ہے
27:37اور ایک اللہ والے بزرگ تھے
27:40یہ جس طرح سنار ہوتے ہیں
27:41جو اس طرح کا کام کرتے تھے
27:43کوٹنے کا اس میں ہوتا ہے نا
27:45تو جب وہ کوٹنے والا آلہ
27:46ان کے ہاتھ میں ہوتا
27:48تو آزان کی آواز جب آتی
27:50تو بس وہ مارتے نہیں
27:52وہیں چھوڑ کر
27:53نماز کے لیے آ جائے کرتے تھے
27:56ایک صحابی کا گھر دور تھا
27:59ان کو کہا گیا
28:00کہ آپ جو ہے
28:01سواری اس زمانے میں گدہ وغیر ہے
28:03سواری نہ کوئی سواری لے لے
28:04تو کیا فرمانے لگے
28:06کہ میں جو گھر سے آتا ہوں
28:08اور جاتا ہوں
28:09میں جو گھر سے آتا ہوں
28:11اور جاتا ہوں
28:12میرے یہ جو قدم پاؤں
28:14جی
28:14یہ سارے کیا ہے
28:16یہ تو لکھے جاتے ہیں نا
28:17تو وہ
28:18نہیں چاہتے تھے
28:20کہ میں سواری پہ سوار ہو کے آؤں
28:21میں آؤں گا
28:23میرا گھر اگر مسجد سے دور بھی ہے
28:25تو پیدل چلتے چلتے
28:26جو مسجد میں ہانا
28:27اور پھر نماز پڑھ کے
28:29پیدل چلتے چلتے
28:31گھر میں جانا
28:32یہ جو نشانات قدم ہیں
28:34یہ بھی
28:35اللہ کے ہاں لکھے جاتے ہیں
28:37اور اس کا
28:38مجھے کل عجر ملے گا
28:40اور ثواب ملے
28:43یہ نمازوں کا احتمام
28:45یہ شوق
28:46ہمارے صلفِ صالحین کے اندر
28:49موجود تھا
28:50موجود
28:51ایک بذرگ ہیں
28:53وہ فرماتے ہیں
28:54کہ میری چالیس سال سے
28:56کبھی نماز جائے
28:57وہ فوت نہیں ہوئی
28:58سوائے ایک دن کے
29:00جس دن میری والدہ کا
29:01انتقال ہوا
29:02تو
29:03یعنی وہ
29:04تکویرِ اولہ
29:05ان سے چلی گئی
29:06جماعت چلی گئی
29:07تو انہوں نے
29:08اسی ایک نماز کو
29:09ستائیس دفعہ پڑھا
29:12اسی ایک نماز کو
29:13ستائیس دفعہ پڑھا
29:16واقعات تو بھی
29:17میرے ذہن میں
29:17اور بہت آ رہے
29:18لیکن چونکہ
29:19وقت ختم ہو چکا ہے
29:20میں صرف
29:21ان باتوں کو
29:22سامنے رکھتے ہوئے
29:23آخیر میں
29:24ایک بات آپ سے
29:25کہنا چاہتا ہوں
29:26آپ بتائیے
29:27کہ آج
29:29ہمارے پاس
29:29سہولیات نہیں ہے
29:31اسائشیں نہیں ہیں
29:32جی
29:34ہمارے حالات
29:35کتنے اچھے ہو گئے
29:37بلکہ
29:38ہم جو آج
29:39جو زندگی
29:39گزار رہے ہیں
29:40جو نعمت
29:41آج ہمیں
29:42میسر ہیں
29:43گدشتہ زمانے میں
29:44بڑے بڑے بادشاہوں
29:45کو بھی
29:46نصیب نہیں تھی
29:47وہ ہے یا نہیں
29:48سب کچھ ہے
29:50اور بہترین
29:51قسم کی
29:52کیا کہتے ہیں
29:53مسجدیں
29:54ہمیں میسر ہیں
29:55قدم قدم پہ
29:56نمازوں کا احتمام
29:57ہر چیز
29:58ہم کرنا چاہے
29:59ہمت کرنا چاہیں
30:00تو کوئی مشکل نہیں
30:02تو ایک تو
30:03اس رمضان المبارک
30:05کا یہ پیغام ہے
30:06کہ آج
30:07ہم یہ تیہ کر لیں
30:09یہ تیہ کر لیں
30:10جیسا کہ
30:11میں نے بڑی وزاہ سے
30:12آپ کے سامنے
30:12ذکر کیا
30:13کہ اللہ نے
30:14اس انسان کو پیدا ہی
30:15اپنی عبادت کے لیے کیا
30:17بندگی کے لیے کیا
30:18اور یہ رمضان کا
30:20مہینہ خاص طور پر
30:21بندگی اور عبادت کا ہے
30:22تو اس میں
30:23ہم کوشش کریں
30:24کہ جتنے زیادہ ہو سکے
30:26ہم عبادت کریں
30:28اور
30:29ان میں
30:30سب سے پہنے نمبر پہ
30:31پانچ نمازیں
30:33باجماعت
30:34اس مسجد میں
30:35جہاں
30:35ازان ہوتی ہو
30:36وہاں ادا کریں
30:38بہت سستی ہو رہی ہے
30:39بہت
30:39دو چار پیسے
30:40ہمارے پاس آگئے ہیں
30:42آفس بنا لی ہے
30:43دوسری چیزیں
30:44ایک آدم مولوی کو
30:45ہائر کر لیتے ہیں
30:46آپ یہ سب
30:47باجماعت
30:48مسجدوں کی نمازیں
30:49آہستہ آہستہ
30:50دیرے دیرے
30:51ختم ہوتی جا رہی ہیں
30:52اپنے مرکزوں کو
30:53ہم تواہو برواد کر رہے ہیں
30:55اللہ بچ
30:56میری فلا مندے سے نہیں بنتی
30:58فلاں کا مسئلہ یہ ہے
30:59فلاں کا یہ ہے
31:00فلاں کا یہ
31:01یاد رکھئے
31:02کل قیامت کے دن
31:03پوچھا جائے گا
31:03پوچھا جائے گا
31:05کہ تم اللہ کی رضا کی خاطر
31:07اللہ کے گھر کے تقدس کی خاطر
31:09اتنی قربانیاں نہیں دے سکتے تھے
31:13آج ہم کس طرف جا رہے ہیں
31:15نماز باجماعت میں
31:17اتنی سستی
31:18مسجدوں کو ویران کرنے کی تنی سستی
31:20اور پھر ماہ مبارک میں
31:22اور رمضان میں
31:25رمضان کے مہینوں میں
31:27ہم مسجدوں کو چھوڑ دیں
31:29یہ بہت بڑی محرومی کی بات ہے
31:31بہت بڑی محرومی کی بات ہے
31:33آپ علماء سے مفسیوں سے فتوہ بوچھئے
31:36اور دوسری بات
31:38یہ سمجھ لیجئے
31:39کہ ایک تو ہم یہ تیہ کر لیں
31:41باجماعت تکبیر اولا کے ساتھ
31:43مسجد میں باجماعت
31:44یہ نہیں
31:45کہ افتاری کا پروگرام گھر میں ہو رہا ہے
31:47ہاں کھانا بانا وہی نماز کرا لیں
31:49وہی جماعت کرنا ہی
31:51نماز مسجد میں پڑھنے
31:52اس کے بعد ٹھیک ہے کھانا چلے جو بھی چلے
31:55دوسرا انشاءاللہ اللہ نے موقع دیا
31:57تو اڑلے جمع بیان کریں گے
32:00کہ یہ جو رمضان کے روزے ہیں
32:02عبادت ہے
32:03پھر اس عبادت کا تحفظ
32:05یہ اسی سے ہوگا
32:07کہ یہ کیونکہ روزے کا مقصد تقویہ ہے
32:09پریزگاری ہے
32:10تو گناہوں سے اپنے آپ کو بچائیں
32:12اللہ نے مجھے موقع دیا
32:14تو تقویہ کے متعلق پریزگاری کے متعلق
32:17اور اس سلسلے میں صلف سالحین کے کچھ واقعات
32:20انہوں نے زندگی کیسے گزاری
32:22انشاءاللہ اللہ نے موقع دیا
32:23تو اڑلے جمع آپ کے سامنے ذکر کریں گے
32:26دعا فرمائے
32:26اللہ تعالی بھرپور طریقے سے
32:28ہمیں فائدہ اٹھانے کی توحق نصیب فرمائے
32:31جی
32:32تو اللہ کے طرف سے ہم تو مائل و کرم ہیں
32:34کوئی سائل ہی نہیں
32:36راہ دکھلائیں کسے
32:38کوئی رہ روے منزل ہی نہیں
32:39جوہر قابل ہے تو ہم شانے کئی دیتے ہیں
32:43دنیا
32:44ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی
32:46نہیں دیتے ہیں
32:47وَمَا لَيْنَا إِلِّ الْبَلَا غُلْمُ بِ
Comments