- 2 days ago
مولانا مفتی عبدالکریم دین پوری صاحب(امام و خطیب جامع مسجد عمر گلشن اقبال بلاک-15 کراچی/استاذ و رفیق دارالافتاء جامعةالعلوم الإسلامية علامہ بنوری ٹاؤن کراچی)-(پاکستان )
Maulana Mufti Abdul Kareem Deen Puri Sahb (Imam and Khatib Jama Masjid Umar Gulshan-e-Iqbal Block-15 Karachi/Teacher at Darul Ifta Jamaatul Uloom Islamia Allama Banuri Town Karachi)-(Pakistan).
Any Queries please contact
Fahad Ahmed Khan
Email : fahadahmed00046@gmail.com
(Subscribe For Spiritual Lectures)
Maulana Mufti Abdul Kareem Deen Puri Sahb (Imam and Khatib Jama Masjid Umar Gulshan-e-Iqbal Block-15 Karachi/Teacher at Darul Ifta Jamaatul Uloom Islamia Allama Banuri Town Karachi)-(Pakistan).
Any Queries please contact
Fahad Ahmed Khan
Email : fahadahmed00046@gmail.com
(Subscribe For Spiritual Lectures)
Category
📚
LearningTranscript
00:00we are
00:01I am
00:02I am
00:03I am
00:03I
00:04I
00:05I
00:05I
00:05I
00:05I
00:05I
00:05I
00:05I
00:06I
00:06I
00:09I
00:09I
00:09I
00:09I
00:10I
00:10I
00:10I
00:10I
00:11I
00:11I
00:11I
00:14I
00:16I
00:17I
00:18I
00:25I
00:27I
00:27I
00:40I
00:42I
00:42I
00:42I
00:43I
00:43I
00:44I
00:44I
00:44I
00:44I
00:44I
00:46I
00:49I
00:58I
00:58I
00:59I
01:09I
01:09I
01:09I
01:10I
01:10I
01:10I
01:10I
01:11I
01:12I
01:13I
01:13I
01:21I
01:21I
01:23I
01:24I
01:24I
01:24I
01:24I
01:24I
01:24I
01:24I
01:25I
01:25I
01:27I
01:27I
01:27I
01:27I
01:27I
01:27I
01:27I
01:28I
01:28How did you get this?
01:58तो फिर हमारे घराने में
02:01ये इन मुत्प्पियों की जमाद के तذکرे होंगे
02:04तो बुत्तपिय बनेंगे
02:05है कि हर एक नवोना चाहता है
02:09सिर्फ तक्रिरों से फलसफे से
02:13जी अगला बंदा मुत्रमें नहीं होता
02:15वों चाहते है बादन करना तो आसाने
02:17अब नमूने बता रहा रहा रहा रहा है।
02:20और नमूने अल्लह ने हमें अता किए साहबा की शेकल की
02:24साहबा रिज्माण अल्यार आले, बैनने के जिन्नदगें आप पड़िये।
02:30अल्ल्ह बचाएं!
02:31अल्ल्ह माफ करें!
02:34how was it
03:03will be there
03:04where will go
03:05where will go
03:07this thing is
03:12that this
03:13that Allah
03:15will be
03:16and that
03:19social media
03:23is
03:24that
03:25that
03:29...
03:29...
03:29...
03:29...
03:30...
03:53I am going to pray for you.
04:00To be able toWhy
04:01प्रदाब लुषख लाठीए उन्टे सीधे
04:03अतरादाब उसके दिमाग में डाल दिये
04:05कभी उन्च को
04:06सज्देरा मौगर सिदीक रजीए रही है
04:11कभी उसके दिमाग के रज़ुब रे
04:13पारुब रजीए रही है
04:15कुछ डाला जा रहा है
04:17اللہ بچا اللہ معاف کرے
04:19تو جب ہمارا ماحول
04:21ہی ایسا ہوگا
04:23پھر ہم تقوی کی صحیح تصویر
04:25کی طریقے سے کہنے سکیں گے
04:27تقویٰ تو نمونہ چاہتا ہے
04:29اور جب ہم نمونوں کو
04:31واسطے سے ہٹا دیں گے
04:33تو آپ بتائیے کہ پھر ہم کون سے کون سا
04:35ہمارے پاس یہ نمونہ ہوگا
04:37اور مثالوں کون سی مثالوں پیش کریں
04:42تو تقویٰ
04:43کا مختصر
04:46مانا اور مفہوم
04:48جی
04:49میں نے آپ کے سامنے بیان کی
04:51اگر ایک لفظ میں آپ پوچھیں
04:53کہ تقویٰ کیا ہے
04:54تو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنا
04:59نافرمانی سے بچنا
05:00ہم ٹیکل لیں
05:02ہم نے دنیا دیکھ لی
05:04جو کچھ پر ہوں
05:05اللہ کی نافرمانی نہیں کریں گے
05:07گناہ نہیں کریں گے
05:10بدنظری کے بڑے تقانے آجائے
05:12لیکن بدنظری نہیں کریں
05:13اپنی آپوں کی حفاظت کرو
05:17حفاظت کرو
05:19آج کل جو نظروں کی حفاظت کریں
05:22اگلا کہتا ہے پتہ نہیں ہے
05:23کہ اس میں بہت سے کمزوری ہے
05:26یہ بندہ مقابلہ نہیں کر سکتا
05:29یہ آنکھ میں آنکھ ڈال گئے
05:31دیکھ نہیں سکتا ہے
05:35دیکھنا چاہیئے
05:37یعنی آج کا فلسفہ بتا رہا ہوں
05:40لیکن ہمارے جو بڑے تھے
05:42وہ اپنی نظروں کو جھکا کے رکھتے تھے
05:46جھکا کے
05:46خیاء کے ساتھ
05:48ان کی چال میں ان کی ڈال میں
05:51ان کے چلنے پھرنے میں ساتھ بڑا چل جاتا
05:53کہ یہ متوازے ہے
05:55یہ آجز ہے
05:56یہ منکس ہے
05:59اگر یہی چیز آج ہم نے شروع کر دینا ہے
06:01کہ نظریں جھکا کے چلنے والی
06:04بازاروں میں ہم جائیں
06:06مارکیٹوں میں جائیں
06:07کہیں بھی جائیں
06:08تو ہماری نظریں جھکیوں
06:10یقین مانیے
06:11یقین مانیے
06:12کہ
06:13آپ حلاوت محسوس کریں گے
06:16ایمانی ذائقہ
06:17اور ایمانی بٹھاس محسوس کریں گے
06:20اور بہت سے فطروں سے آپ بچ جائیں
06:23اور سب سے بڑی ایمان
06:25کہ یہ حکم کس نے دیا ہمیں
06:27بتائیے
06:27شریعت نے دیا ہے
06:29سورہ نور میں نہیں فرمایا گیا
06:33قلی مؤمنین
06:34اے پیغمبر آپ کہہ دی دیئے
06:37مؤمنین سے
06:38یغزو من نبصارہم
06:43ویحفظو فوجہم
06:44کہ اپنی نظروں پر جھکائیں
06:47اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت ہے
06:51شرمگاہ کی حفاظت کے لئے
06:52مقدمہ کیا ہے
06:53ابتدائی قدم کیا ہے
06:54نظروں کی حفاظت
06:56جو نظروں کی حفاظت کرے گا
06:58تو وہ شرمگاہ کی بھی کیا کر سکے گا
07:00حفاظت کر سکے گا
07:02لیکن جس کی نظر قابل میں نہیں ہے
07:05تو بہت مشکل ہے
07:07کہ وہ اپنی شرمگاہ کی بھی کیا کر سکے
07:09حفاظت کر سکے گا
07:11یہ باتیں میں آپ کے سامنے کیوں کر سکے گا
07:13مجھے ایک بات بتائیے
07:14کہ اس دور میں
07:16جو دور ہم گزار رہے ہیں
07:19کیا آج گناہوں کے راستے کھلے ہوئے نہیں کھلے ہوئے
07:25کون سے خونا پر رکاورتیں
07:30دن میں بھی اور رات میں بھی
07:32جی جوان ایک جوان آدمی
07:34اگر دو چار پیز اس کی جیب میں ہے
07:37تو اس شہر محنت میں کون سے خونا نہیں کر سکتا
07:39مجھے بتائیا
07:45اب اس چیز سے بچانے والی چیز اگر ہے
07:48تو وہ اللہ کا خوف ہے
07:51اللہ کا خوف ہے
07:53اگر اس کے دل میں یہ بات آئے گی
07:55کہ کل میں نے اپنے رب کو کیا مو دکھانا ہے
07:58بس
07:58یہ تصور پیدا کرنا ہے
08:01اور بعض دل والوں نے
08:04عجیب جبلہ کہا ہے
08:05تقویہ کی بہت تاریخیں کی گئی
08:07تقویہ کے بہت معانی بیان کیے گئے
08:09لیکن ایک اللہ ہمارے نے کہا ہے
08:12کہ بھائی تقویہ کہتے ہیں
08:14کہ اللہ رب العالمین کی عظمت
08:18اللہ رب العالمین کی حیبت
08:22رب العالمین کا مقام
08:24پروردیگار عالم کی کبریائے اور غلندی
08:30اپنے دل میں رکھتے ہوئے مومن
08:35اللہ کی نافرمانی سے بچے
08:40اس کو تقویہ کہتے ہیں
08:43جب بھی اس کے سامنے گناہ کا کوئی تقادہ ہو
08:48تو وہ نظریں کیوں جھکائیں
08:50کہ مجھے کل کس کے سامنے پیش ہونا ہے
08:52اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے
08:55مجھے اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے
09:00جیسے جو شدید لوگ ہوتے ہیں جن میں شرابت ہوتی ہے
09:05آپ نے دیکھا ہوگا
09:07کہ ان کا اگر کوئی بڑا آ جائے
09:10کوئی شیخ آ جائے
09:11منشد آ جائے
09:13استاد آ جائے
09:14والد ہو
09:15تو وہ ان کے سامنے پیچھے جاتے ہیں
09:19زبانی چلاتے ہیں
09:20عدب و اعترام کرتے ہیں
09:24اپنے والد کے سامنے
09:26جی
09:27زبانی چلاتے ہیں
09:30اس لیے کہ شریعت نے باپ کا مقام بیان کیا
09:34والدہ کا مقام بیان کیا
09:38استاد کا مقام بیان کیا
09:40شیخ کا
09:40بڑے کا
09:42تو یہ آخر ہوتا کیا ہے
09:44یہی کہ اس کے دل میں
09:46اپنے والد کا مقام ہے
09:48والد کی عظمت ہے
09:49اپنے استاد کی عظمت ہے
09:51اس عظمت کی لاج رکھتے ہوئے
09:54اس عدب کی لاج رکھتے ہوئے
09:56وہ احترام کے ساتھ پیش آتا ہے
09:59سمجھے
10:00تو اللہ کی ذات تو
10:02سب سے بڑی ذات ہے
10:04ہے یا نہیں
10:04اللہ اکبر
10:06تو مومن کے دل میں یہ چیز بیڑھ جاتی ہے
10:09اللہ کی صفات بیڑھ جاتی ہے
10:12تو جب بھی کوئی گناہ کی دعوت آتی ہے
10:16گناہ کا موقع آتا ہے
10:18تو وہ کیا کہتا ہے
10:19کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے
10:22میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے
10:26ایک بزرگ بزرے ہیں
10:29غالبا حضرت جنیت کی طرح
10:31یہ چیز منفول ہے
10:33کہ انہوں نے فرمایا
10:35کہ جب تمہارے دل میں یہ جذبہ پیدا ہو
10:39یعنی شیطان ڈالے
10:40بدنظری کا
10:41کہ تم یہ چیز دیکھو
10:44گناہ کے اس موقع پہ نظر ڈالو
10:47تو اس وقت یہ تصور کر لو
10:49کہ تمہاری یہ نظر جو حرام چیز میں جا رہی ہے
10:53تو اللہ کی نظر جو ہے وہ جو تمہاری طرف ہے
10:57وہ اس سے بھی جانا اسبت ہے
11:00یعنی اللہ کی نظر جو تم پر اس سے پہلے پڑے گی
11:04تمہاری نظر کسی حرام کام پر بعد میں پڑے گی
11:07اس سے پہلے تمہیں کون دیکھ رہا ہے
11:09اللہ دیکھا
11:11علم یعلم بی ان اللہ یرا
11:14کیا انسان یہ نہیں جانتا
11:17کہ بے شک اللہ دیکھ رہا
11:20اللہ دیکھ رہا
11:21یہ تصور اور یہ دہان
11:24اور خاص طور پر اس برد میں
11:25یہ جوان لو بیٹھے نوجوان
11:27میرے ان سے خاص درخواست ہے
11:29کہ میرے ان باتوں کو اپنے دل کی تختی بھی
11:32ضرور لکھیں
11:33آج کا ماہول نوجوانوں کے سازگاہ نہیں
11:37بہت آسانی آؤں گئی ہیں
11:39گناہ کے لیے
11:40بدنظری کے مواقع عام ہو گئے
11:45اور اس کا نقصان پھر انسان اٹھاتا ہے
11:47پھر بڑا پہ میں تومہ کرے گا کیا پہلا بات
11:50ابھی اللہ نے جوانی دی ہے
11:52اس جوانی کو
11:54اللہ کی رضا کے لیے
11:56آدمی پروان کر دے
11:57جی آپ نے دو چار جمعہ پہلے سنا ہوگا
12:01وہ مشہور حدیث کے اندر
12:03جس میں فرمایا گیا
12:05کہ ساتھ خوش قسمت آدمی
12:07جو اللہ کے عرش کے سائے میں ہوں گے
12:09جی ان میں کورو رہا
12:25شاہب
12:25عبادت میں صرف کر دی
12:27قیامت کے دن اللہ
12:30اس جوانی میں جو اس نے اپنی جوانی اللہ کے حوالے کر دی تھی
12:34اللہ اس کو عرشِ الٰہی کا سائے نصیب فرمائیں گے
12:38جب اس کو عرشِ الٰہی کا سائے مل گیا تو آپ بتائیے
12:43یہ عرشِ الٰہی کا سائے جن کو ملے گا تو یہ خاص پروٹوکول ہوگا
12:48قیامت کے دن تو ہر طرح کے لوگوں میں نا
12:50جہاں ہزاروں کا مجموعہ ہو
12:52تو وہاں اگر کسی کو مہمانِ خصوصی کا کارڈ مل جائے
12:56وہ کتنا خوش ہوتا ہے
12:57کہتا ہے یار
12:58مجھے تو بڑا پروٹوکول خصوصی رات سے سے مجھے لے جایا گیا
13:04تو قیامت کے دن جہاں انبیاء بھی ہوں گے
13:07صدیتین بھی ہوں گے
13:08شہداء بھی ہوں گے
13:10صالحین بھی ہوں گے
13:11سب ہوں گے
13:13اور اس دن اگر کسی کو خصوصی پروٹوکول ملے تو آپ بتائیے
13:17اور پھر جس کو اس دن پروٹوکول ملا
13:20وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے
13:22کابیابی کابیاب ہے
13:24وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے
13:26لذتوں والے زندگی بسر کرے گا
13:29لیکن شرط کیا ہے
13:30یہ دنیا کی زندگی میں تقوہ اختیار کا
13:33پریدگاری
13:35حضرت یوسف علیہ السلام جوان ہیں
13:38حسن بھی ہے
13:39جوانی بھی ہے
13:41کیسے کیسے امتحانات اللہ تعالی نے
13:44اپنے نیک اور صالح لوگوں کے لیے
13:46اور یوسف کی معمولی آدمی
13:49خود نبی
13:51ان کے والد
13:53نبی
13:54دادا نبی
13:55پردادا نبی
13:57اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے
13:59اسی نصفت کو بیان کرتے ہوئے
14:01بیان کی حدیث میں آتا ہے
14:03آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
14:05الکریم
14:06ابن الکریم
14:07ابن الکریم
14:08ابن الکریم
14:08کہ خود بھی کریم
14:10اور
14:11بیٹا بھی کس کا
14:13کریم کا
14:14اور وہ
14:15جو والد ہے
14:16وہ بھی کس کا بیٹا
14:17کریم کا
14:18یعنی دادا بھی کریم
14:19پر دادا بھی کریم
14:21اور آگے فرمایا
14:22یوسف ابن یاقب
14:23ابن عساء
14:24ابن ابراہیم
14:26کیسی کڑی ہے
14:27کیسی لڑی ہے
14:29عزمتوں والے لوگ ہیں
14:31لیکن آزمائش
14:33اور انتہانات
14:33کیسے ہیں
14:37حسد کے شکار
14:38ہوئے
14:39حسد کا
14:40سگے بھائیوں نے
14:41حسد کیا
14:42حسد کیسی بیماری
14:44اللہ برچائے
14:45سگے بھائیوں نے
14:46یوسف جیسے
14:48حسین و جمیر
14:49اور خوبصورت
14:50بھائی سے
14:51حسد کیا
14:53اور پھر
14:54کیا کچھ نہیں کیا
14:55بھائیوں نے
14:55اپنے
14:56اس بھائی کو
14:57اپنے والد کی
14:58نظروں سے
14:59ہٹانے کے لیے
15:00اور مٹانے کے لیے
15:02کھوے میں
15:02جا کے ڈالا
15:04اور پھر
15:04بیچ بھی رہے ہیں
15:05تو
15:06پیسے تو لے لو
15:08پرگم تو لے لو
15:09نہیں
15:16یعنی بس
15:16ان کے
15:17اس میں یہ تھا
15:17کہ پھر یہ
15:18ٹھکانے لگے
15:19یہاں سے جائے
15:19یہ لے کر جائے
15:23مانو لی سے
15:23پیسوں میں
15:24یوسف کو
15:24بیچ دیا
15:27حضرت
15:27یوسف جوانی
15:28کو پہنچے
15:29امتحان شروعیات
15:31وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدْهُ
15:33آتَيْنَاهُ حُکْمًا وَعِلْمًا
15:36وَكَذَلِكَ نَجْزِي مُخْسِنِينَ
15:39وَرَعْوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَنْ نَفْسِهِ
15:44وَغَلَّقَتِ الْأَبْوَابِ
15:53وَقَالَتْهَيْتَ الْأَبْوَابِ
15:54اس نے دروادے بھی بند کر دیئے
15:56اب آپ دیکھئے
15:58ایک درف کون ہے
15:59مالکن ہے
16:00مالکہ ہے
16:03اور دوسری طرف غلام ہے
16:07یعنی انہی کے گھر میں
16:08ایک طرح سے اس کی حسد غلام کی ہی تھی نا
16:12اور وہ دعوت دے رہی ہے
16:13گناہ کی دعوت دے رہی ہے
16:16وَقَالَتْهَيْتَ لَكْ بُلَا رہی ہے
16:19گناہ کی طرف
16:20قَالَمَ عَادَ اللَّهُ
16:25حضرت نے فرمایا
16:27اللہ کی فنا
16:28جی اللہ کی فنا
16:31اِنَّهُ رَبِّ اَحْسَنَ مَتْوَائِ
16:37اِنَّهُ لَا يُفْلِقُ الظَّالِمُونَ
16:42میرے رب نے میرا ٹھیکانہ اچھا کیا
16:46دیکھیں اللہ یاد آگیا
16:48اللہ یاد آگیا
16:49یہ ہے خوفِ خدا
16:50اور یہ ہے تقویٰ
16:53کہنے والوں نے کہاں پر ایک نقطہ
16:55یہ بھی کہا ہے
16:56بیان کیا ہے
16:58کہ تقویٰ ایک ایسی چیز ہے
17:00جو غلاموں کو بادشاہ بنا دیتا ہے
17:05غلام سے تقویٰ اختیار کیا
17:07اللہ نے سلطنت میں بٹھا دیا
17:09بادشاہ بنا دیا
17:10اور جب انسان تقویٰ اختیار نہ کرے
17:14تو بادشاہ ہو کے بھی ضریر ہو جائے گا
17:17کیونکہ عزت اور ذلت دینے والا کون ہے
17:20قل اللہم مالک الملک
17:23تبتل ملک من تشاہ
17:26وتنزع الملک من من تشاہ
17:30وتعز من تشاہ
17:32وتدل من تشاہ
17:35بیدک الخیر
17:37انکہ علا کل شئی قدیر
17:41عزت اور ذلت کس کے عاتے میں
17:44اور اللہ نے خود کہہ دیا
17:47قرآن کریم میں
17:48کہ تم میں سب سے زیادہ معزز و مکرم کون
17:52اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ اَتْقَاعَكُمْ
17:58تم میں سب سے زیادہ مکرم وہ ہے
18:00جو تم میں سب سے زیادہ متقی اور پریزگار ہے
18:05تو تقویٰ ہی وہ چیز ہے
18:08جو انسان کو کامیابی پھیلے جاتی ہے
18:12عزت پہ بٹھاتی ہے
18:14اور یہ جو تقوت کا راستہ ہے
18:16یہ صرف صحابہ کے لیے نہیں تھا
18:18صلفِ صالحین کے لیے نہیں تھا
18:21دوسری، تیسری، چوتھی، پانچویں صدی حجری
18:24والوں کے لیے نہیں تھا
18:25بلکہ یہ قیامت تک ہے
18:27آج بھی اگر کوئی غریب
18:30طریق کا بچہ، جھوپڑیوں میں رہنے والا
18:33دہات میں رہنے والا
18:35جس کے پاس دنیا بھی وسائل نہ ہوں
18:38اسواب نہ ہوں
18:40لیکن وہ تقویٰ کی زندگی بسر کرتا ہے
18:43اللہ اس کو عزت عطا فرمائے گا
18:47اور اس کے علم اور عمل کا سورج دنیا پہ تلو ہوگا
18:52لیکن ایک آدمی، جی ممی ڈیڈی ہے اور پڑے مزے سے
18:57ہاں، اس کے پاس ہر طرح کے اسواب دنیا کے موجود ہیں
19:01سب دنیا ہے، دولت ہے، سب کچھ موجود ہے
19:05لیکن تقویٰ نہیں ہے
19:08تو تباہ برباد ہو جائے گا
19:12حضرت وی بن کعب رضی اللہ عنہ
19:16مشہور صحابی الرسول ہیں
19:20ایک دفعہ انہوں نے امیر المؤمنین
19:23بلکہ ان سے امیر المؤمنین
19:25حضرت عمر خطاب رضی اللہ عنہ نے سوال کیا اور پوچھا
19:30تقویٰ کسے کہتے ہیں
19:31پوچھے والا کون ہے؟
19:33امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق
19:34اور کس سے پوچھ رہے؟
19:36عبیع بن کعب کا مقاب بہت پوچھا تھا
19:40قرآن کریم کے سب سے بڑے قاری
19:42اور ایک روایت میں آتا ہے ایک دفعہ
19:44آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
19:46حضرت عبیع بن کعب سے کہا
19:48کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کہا ہے
19:50کہ تم کو میں سورہ اللہ علیہ وسلم سنا ہو
19:55کون کہہ رہے ہیں؟
19:57اللہ کے رسول کہہ رہے ہیں
19:59صلی اللہ علیہ وسلم
20:02اپنے ہی خادم سے
20:04اپنے ہی غلام سے
20:05اپنے ہی صحابی سے
20:06عبیع بن کعب سے
20:07کہ مجھے اللہ نے کہا ہے
20:08کہ میں عبیع بن کعب کو سنا
20:11عبیع بن کعب نے جب یہ سنا
20:15تو کہنے لگے
20:16اللہ سمانی
20:18کیا اللہ نے میرا نام لیا ہے
20:21میرا نام
20:24ایک تو یہ نہیں کہ
20:25اللہ نے کہا ہو
20:25کہ کسی سے تلاوت سنو
20:27تو یہ بھی ہو سکتا ہے
20:29اور یہ بھی کمال کی بات ہے
20:30کہ اللہ نے کہا ہو
20:31کہ کسی سے سنو
20:33اور عبیع صلی اللہ علیہ وسلم
20:34نے اپنے تمام صحابہ میں
20:35کس کا انتخاب کیا ہو
20:36وہی اپنے کعب کا
20:38یہ بھی تو بڑی سعادت کی بات
20:41لیکن فرما ہے
20:42کہ کیا میرا نام لیا ہے
20:44تو عبیع صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
20:46کہ اللہ نے آپ کا نام لے کے کہا ہے
20:49تو حضرت عبیع بن کعب کی آنکھوں سے
20:52آنسوں جاری ہو گئے
20:54علماء فرماتے ہیں
20:56کہ صرف آنسوں
20:58غن کے وقت نہیں نکلتے
21:00درد کے وقت
21:00کچھ آنسوں خوشی کے بھی ہوتے ہیں
21:03اور یہ خوشی کے آنسوں تھے
21:05خوشی کے آنسوں
21:07تو عبیع بن کعب سے
21:09حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ نے پوچھا
21:11تقوا کسے کہتے ہیں
21:13تو عبیع بن کعب نے کہا
21:15حضرت عمر سے
21:19کہ آپ کبھی ایسے راستے پہ چلے
21:22جس راستے پہ کانٹے ہی کانٹے ہوں
21:24کانٹے ہی کانٹے ہوں
21:26تو حضرت عمر نے فرمایا
21:27کہ ہاں میں چلا ہوں ایسے راستے پہ
21:29فرمایا کہ اس راستے پہ آپ کیسے چلے
21:32کہا کہ شمر تو وشتات تو
21:35کہ میں نے جو ہے
21:36اپنے دامن کو کیا کر لیا
21:38کپڑے کو سمیٹ لیا
21:40اور جن جدی کوشش کر کے وہاں سے نکل گیا
21:44اگر کسی کو کوئی اس طرح کا
21:46اتحاطوں میں یا جہاں
21:47کچھ اس طرح کے کانٹے دار جھاڑی ہوتی ہے
21:49وہاں سے گزرنے کا
21:51اگر واسطہ پڑا ہو
21:53تو وہ کس طریقے سے لوگ گزرنے
21:55اپنے جسم بھی بچاتے ہیں کپڑے کو بھی
21:58کہیں کٹا چھپ گیا
21:59تو بس کپڑے کا بھی ستیہ نہ سو جائے گا
22:02تو حضرت نے جب یہ کہا
22:04تو عبی بن کعب رضی اللہ عنہ فرمایا
22:06کہ
22:07خلی ظلوب صغیرہا و کبیرہ
22:10صغیرہ بناہوں کو بھی چھوڑ دو کبیر
22:12یہی تو تقوی ہے
22:13تقوی تو یہی ہے
22:14کہ دنیا کی زندگی میں آدمی رہے
22:16یہ کانٹوں بھری دنیا ہے
22:19کٹے ہی کٹے
22:21ہم نے اپنے آپ کو ان کانٹوں سے بچانا ہے
22:24چکننا ہو کے رہنا ہے
22:26پورے چوبیس گھنٹے
22:28جی ایک ایک سیکنڈ
22:30ایک ایک منٹ
22:31ایک ایک گھنٹا
22:32ہماری یہ ساری کارگزاری لکھی جاری ہے
22:35زبان سے کیا بولنا ہے
22:36کیا لکھ رہے ہیں
22:38کیا حرکات ہیں
22:40کیا سکنات ہیں
22:41یہ سارا نظام مرتب ہو رہا ہے
22:43اس لئے انسان کو چکننا ہو کے
22:45وقت گزارنا چاہیے
22:46تقوی تو یہی ہے
22:47آدمی صغیرہ گناہ بھی چھوڑ دے
22:51تقوی کا فائدہ کیا ہے
22:54تقوی کا فائدہ
22:56دیکھئے
22:57میں صرف ایک فائدہ بھی بیان کرتا ہوں
22:59کیونکہ وقت ختم ہوا چاہتا ہے
23:00ورنہ میرے ذہن میں اور بھی چیزیں تھیں
23:02کہ تقوی کیسے حاصل ہو
23:04یہ موضوع چلتا رہے گا
23:05اللہ نے موتا دیا
23:06تو اگلی نشت سے بھی کچھ باتیں بیان کریں گے
23:09لیکن قرآن کریم کی ایک آیت کی روشنی میں
23:11میں صرف تقوی کا صرف
23:13ابھی فیلال ایک ہی فائدہ بیان کرتا ہوں
23:15سورة طلاق میں فرمایا
23:16وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجَ
23:19اور جو اللہ سے ڈڑھتا ہے
23:21اللہ اس کے لئے
23:23يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجَ راستہ بنا دیتے ہیں
23:27وَيَرْزُقْهُ لِنْحَيْسُ لَا يَحْتَسِبُ
23:29اور ایسی جگہ سے
23:30اللہ تعالیٰ اس کو رزمتہ فرماتے ہیں
23:32جو اس کا ورم و بلان بھی نہیں ہو
23:34آج ہمارا
23:37پریشانی کا
23:38بلکہ بڑی پریشانی جو ہم
23:40اکثر وہ کیا ہوتے ہیں
23:41معاشی پریشانی نا
23:43معاشی پریشانی
23:44تو اس معاشی پریشانی کا حل یہاں
23:46کیا بتایا تک ہو
23:48اب آپ کے ذہن میں آئے گا
23:50کہ یہ معاشی پریشانی کا نسخہ
23:54یہ جو بیان کیا
23:54ہماری بھی کھوپڑی بنی آ رہا ہے
23:57ہمیں تو یہ بتانا چاہیے تھے
23:58کہ دکان پر اگر دو گھنڈے بیٹھتے ہو
24:00تو چار گھنڈے بیٹھو
24:01چار بیٹھ تو آٹھ بیٹھو
24:03جی پیسے کمانے کی دو طریقے ہو رہے ہیں
24:06رزق کمانے کی طریقے تو ہو رہے ہیں
24:08یہاں قرآن کیا رہے ہیں
24:09تقوی اختیار
24:11جو اللہ سے ڈرے گا
24:13دیکھیں یاد رکھئے
24:15ایک ہے برکت اور ایک ہے کسرت
24:17دونوں میں برکت ہے
24:17یاد رکھیے
24:18آج ہم کسرت کی طرف تو جا رہے
24:20بس پیسے زیادہ ہو جائے
24:22برکت کی طرف نہیں جا رہے
24:23جو آدمی متقی ہوگا
24:25پریزگار ہوگا
24:26اور تقوی کے ساتھ کمائے گا
24:29تو اللہ اس کے ہزار میں
24:30وہ برکت ڈالے گا
24:31جو دوسرے کے لاکھ میں بھی نہیں ہو
24:33اور ایسا ہوتا ہے
24:36اب ایک آدمی یہ تقوی نہیں ہے
24:38دکان میں بیٹھا
24:39جوڑی بولا ہے
24:41گاہ کہتا ہے
24:42اس سے پوچھتا ہے
24:43کہ بھائی یہ جو کپڑا ہے
24:45یہ کس کمپنی کا ہے
24:46وہ بجائے
24:47اصل اس کے بتانے کے
24:48جی غلط جوڑ بولتا ہے
24:50تاکہ پیسے کچھ زیادہ مل جائے
24:53جوڑ بولتا ہے
24:54آج ہمارے معاشرے میں
24:55کاروباری طبقے میں جھوڑ کیتنا ہے
24:57بہت زیادہ ہے
24:59آپ بتائیے کہ
25:00اس نے جھوڑ بول کر
25:02پیسے دو زیادہ جمع کر لیے
25:03اور سچ بولے
25:05سچ بولنے والا تاجر
25:06اس کے بعد دو تین گاہ کھائے
25:07اور جھوڑے کے پاس کتنے آئے
25:09بہت زیادہ
25:10اس نے مساکتہ دن میں
25:12دس ہزار کمائے
25:13اور سچے نے کتنے کمائے
25:14دو ہزار
25:16اب آدمی کہے گا
25:17یا رب کمو
25:18کموشیار تو یہ ہے
25:19جو دس ہزار کمائے
25:20یہ کونسا ہشیار ہوگی ہے
25:21دو ہزار کمانے والا
25:23لیکن ہوتا کیا ہے
25:25یہی جس نے دس ہزار کمائے
25:26کوئی ایسی افتان
25:28اس کے گھر میں پڑی
25:29کہ سارے پیسے گئے
25:30اور اللہ نے اس کے دو ہزار
25:32میں تنی برکت ڈالی گئے
25:34یہ اس دس ہزار سے بھی زیادہ ہوگی ہے
25:36تو تقوی اختیار کرنا چاہیے
25:38ایک بذرگ کا عجیب باقیہ
25:41جی وہ کپڑے کا کام کرتے تھے
25:46تو خود کہیں چلے گے
25:48تو اس نے
25:48اپنے کسی ملازم سے کہہ دیا
25:50کہ یہ کپڑا بیچ دینا
25:52لیکن اس کپڑے کے اندر
25:54کوئی ایب تھا
25:55فارڈ اس کو کہتے ہیں
25:56ایب
25:57بتانا ضرور
25:57اس نے کپڑا بیچ دیا
25:59بتایا نہیں
26:00وہ واپس آیا
26:01اور پوچھا
26:02کہ تم نے فلان کپڑے کا کیا کیا
26:04اس نے کہا
26:04کہ میں نے کپڑا بیچ دیا
26:06کہا گیا
26:07تم نے اس کو بتایا تھا
26:08اس نے کہا
26:09نہیں میں نے نہیں بتایا تھا
26:10کہا کس طرح
26:11پہلے تو ناراض ہوئے
26:12تم نے ایسا کیوں کیا
26:14کہا کہ وہ کس طرح گئے
26:15کہا وہ اس کافلے میں تھا
26:17وہ بندہ
26:18بغداد کی طرف
26:18جب جا رہا تھا کافلہ
26:20اس میں وہ چل گئی ہے
26:22یہ بیچارہ جو ہے
26:23وہ گھوڑے میں سوار ہو کے
26:24تاجر
26:26جی
26:26دو دن کا سفر گیا
26:27دو دن کا جا کے
26:28اس کافلے میں پہنچا
26:29اور اعلان کیا
26:31کہ فلا فلا
26:32کسیم کا کپڑا
26:33کس نے خرید آئے
26:33تو اس کافلے میں
26:35ایک شخص نے کہا
26:36میں نے خرید آئے
26:37اس نے کہا کہ دیکھو
26:38وہ کپڑا جو ہے
26:40اس کے اندر عیب تھا
26:41اور میرے فلا مندے نے
26:43جو ہے نا
26:43آپ کو عیب نہیں بتایا
26:44آپ کو دھوکھا ہوا ہے
26:46مجھے جو ہے نا وہ
26:48کیا کہتے ہیں
26:48وہ کپڑا واپس کرو
26:50اپنے پہ
26:50جو پیسے
26:51اس نے پہلے کلمہ پڑا
26:53اس مندے نے
26:54اس نے کہا
26:55میں مسلمان نہیں ہوں
26:56اور پھر کہا کہ دیکھو
26:57میں نے جو پیسے دیئے تھے نا
26:59وہ سکھے
27:00اس زمانے کے
27:01وہ بھی کھوڑتے تھے
27:02وہ واپس کرو
27:03میں تو میں سچے دوں
27:05اب دونوں طرف سے
27:06گڑبر ہو رہی تھی
27:07اب تقوی کیا ہے
27:08اور ایک اور تقوی کا
27:09مختصر سے
27:10میں اشارہ کر دیتا ہوں
27:12محمد ابنے
27:14اس طرح
27:14ان کا نام تو محمد ہے
27:16ان کے والد کا
27:16غالب رد الباقی
27:17ایسا کچھ نام لکھا ہے
27:18بزرگوں نے
27:19تو یہ بہت بڑے
27:20ایک آگات ہیں
27:21بزرگ تھے
27:22اللہ والد ہے
27:22حج کے لئے آئے
27:24حج کے لئے
27:25جب حج کے لئے آئے
27:27تو پیسے ختم ہو گیا
27:30سب کچھ ختم ہو گیا
27:31دو چار دن باقی تھے
27:33اب آپ کو پتہ ہے
27:34کہ ہمیں مسافر ہو
27:36اور حج کا سفر
27:36وہ زمانے کا
27:37اچانک کیا دیکھتے ہیں
27:39کہ قیمتی ہار
27:40ان کو نظر پڑا
27:41بہت قیمتی
27:42وہ ان نے اٹھایا
27:44کچھ دیر بعد پر
27:45چلتا ہے کہ
27:46اعلان ہوتا ہے
27:47کہ ایک ہار
27:49جو ہے وہ گھن ہوا ہے
27:51جس کو ملے
27:51جو واپس لائے گا
27:53اس کو انعام کتنا ملے گا
27:55دس ہزار دیرہم
27:58آج کے لاکھوں
27:59کیا کروڑوں بن جائے
27:59کرنسی تو ہماری ہے نہیں
28:01دس ہزار دیرہم
28:03دو سو دیرہم
28:04بے آدمی صاحبی نصاب بن جاتا ہے
28:05اچھا
28:06زکاہ دے نہیں
28:06دو سو دیرہم
28:07وہ دس ہزار دیرہم سے انعام
28:09تو ہار کتنا مہنگا ہوگا
28:10آپ بتائیں
28:12اب یہ جو اللہ حالد ہے
28:14بھوک بھی لگی ہوئی ہے
28:16سب کچھ ہے
28:17لیکن
28:19خفیہ طریقے سے
28:21اندھیرے میں
28:21بغیر بتلائے ہوئے
28:23کہ یہ
28:23میں کر رہا ہوں
28:26ہار جو ہے
28:26اس بندے تک پہنچایا
28:28اس بندے کو نہیں پتا چلا
28:30کہ یہ ہار دینے والا کون ہے
28:31واپس لانے والا
28:32تاکہ
28:33وہ انعام میں اس کو
28:34انعام بھی نہیں لیا
28:35ایسے لوگ بھی دنیا میں ہوتے ہیں
28:37ایک تو امانت میں خیانت نہیں کی
28:39واپس کیا
28:40اور دوسرا یہ ہے
28:41کہ اس پر کوئی عوض بھی نہیں لیا
28:44تو عوض کس سے لیں گے
28:45اللہ سے لیں گے
28:47اچھا
28:47اور یہ بھی بھوکے
28:51اللہ کا کرنا ایسا ہوا
28:52کہ جب واپس جانے لگے
28:54کشتی پہ سوار ہوئے
28:55کشتی
28:56کوفان آیا
28:57کشتی ٹون گئی
28:58ایک تختے پہ
28:59کسی ایک جزیرے میں یہ گئے
29:01چونکہ عالم تھے
29:02سالے تھے
29:03نیک تھے
29:04تو لوگوں نے دیکھا
29:05شکل صورت کا
29:06مہمان ہے
29:07مسافر ہے
29:07کھانا مانا
29:08ان کو کھلایا
29:08اور ان کی مسجد کے
29:10امام کا انتقال ہو جو کہا تھا
29:11بڑے پریشان تھے
29:12ان سے کہا
29:13کہ ہمیں عالم کی ضرورت ہے
29:15امام کی ضرورت ہے
29:16اگر یہ خدمت کر لیں
29:17انہیں خدمت بھی
29:18کبھول کر لیں
29:19کچھ دنوں بعد
29:20وہاں علاقہ ورہوں نے کہا
29:22کہ یہاں ایک لڑکی ہے
29:23بڑی سالے آیا
29:24خوبصورت ہے
29:24پرانے امام صاحب کی
29:26جو ہے بیٹی ہے
29:27اور ہمیں کوئی جوڑ
29:29تو ملنے گا
29:29کوئی نیک بندہ چاہیے
29:30اگر آپ چاہیں تو
29:32جی شادی کر دیں
29:33انہیں کہا
29:34اگر سالے آیا
29:34تو راضی رو
29:36خیر
29:36تو ان کی شادی ہوئی
29:38تو دیکھا
29:38کہ انہیں ہار
29:39اس کے پاس ہے
29:40اور پھر بعد میں کیا ہو
29:42اس سے ان کی اولاد بیوی
29:43اولاد پر انتقال ہو گیا
29:44بیوی کا وہ ہار
29:45پھر ترکے میں ہی نہیں پہلے
29:47تو یہ تقویٰ ہے
29:48اب یہ تقویٰ نے اختیار کیا
29:50وہ دولت ان کے پاس آگئی
29:51دعا فرمائے
29:52اللہ رب العالمین
29:53ہمیں متقی اور پریزگار بنائیں
29:55امام علی نائد البلاہ
29:57اللہ رب العالمین
Comments