- 1 day ago
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00A NUR KAH ALAM HAYE
00:05DATA TEERI NGRI MEH
00:12A NUR KAH ALAM HAYE
00:20Bismillahirrahmanirrahim
00:23جب ہم حضرت سیدنا علی بن عثمان حجویری رحمت اللہ علیہ کی کتاب
00:29کشف المعجوب کا مطالعہ کرتے ہیں
00:32تو کشف المعجوب کے مطالعے سے یہ پتہ چلتا ہے
00:36کہ چونکہ حضرت سید حجویر آپ ایک صوفی ہیں
00:41صوفیاء کے امام ہیں
00:43اور آپ کی کتاب کشف المعجوب
00:46یہ تصوف کے بنیادی مسادر میں شامل ہے
00:50تو پوری کی پوری کشف المعجوب کا اگر مطالعہ کیا جائے
00:55تو ایک مقام پر نہیں
00:56بیسیوں مقامات پر
00:58حضرت داتا صاحب رحمت اللہ علیہ نے
01:00تصوف کا جو جامع تعرف دو لفظوں میں کرایا ہے
01:05وہ خالق کے ساتھ اپنا بندگی کا تعلق
01:09اور مخلوق کی خدمت
01:11اور مخلوق کے ساتھ اس نے سلوک کرنا
01:14اسے قرار دیا ہے
01:15تو اسی سے خاص طور پر جب ہم
01:18آپ کی کشف المعجوب کے کتاب العداب
01:21جس میں آپ نے مختلف عداب بیان کیے ہیں
01:24اس کا مطالعہ کرتے ہیں
01:26تو وہاں آپ نے جو حقوق العباد ہیں
01:30ان کی عامیت کو بیان کیا
01:31چاہے وہ حقوق العباد
01:35والدین کے حوالے سے ہوں
01:37اولاد کے حوالے سے ہوں
01:38پڑوسیوں کے حوالے سے ہوں
01:40اور اپنے ساتھ تعلق رکھنے والے
01:43اپنے شیخ کے مریدین
01:45اور اپنے ہن نسبت ساتھیوں کے حوالے سے ہوں
01:49یا سفر کے ساتھیوں کے حوالے سے ہوں
01:51اب چونکہ ہمارا دین یہ تعلیم دیتا ہے
01:56کہ جو بندے کا حق ہے
01:58یہ آخرت میں پکڑ کے اعتبار سے
02:02اللہ تعالیٰ کے حق سے بھی زیادہ سخت ہے
02:05تو حضرت داتا صاحب رحمت اللہ علیہ نے بھی
02:07نہ صرف کشف المعجوب میں
02:10اپنی تعلیمات کے ذریعے سے
02:12بلکہ اپنے یہاں لاہور میں تشریف لاکر
02:15اپنے مبارک عمل کے ذریعے سے بھی
02:18اور اسی طرح آپ پوری دنیا میں
02:20جہاں جہاں تشریف لے گئے
02:21وہاں آپ کے ساتھ جو لوگ جڑے
02:23تو ان کے ساتھ اپنے معاملہ میں بھی
02:26آپ نے نہ صرف حقوق العباد کی اہمیت کو بیان کیا
02:31بلکہ حقوق العباد کی ادائیگی کا حق ادا کیا
02:35اور وہ طریقہ کار ہمیں بتایا
02:37کہ ہم کس طریقے سے اللہ تعالیٰ کے حقی ادائیگی کے ساتھ
02:41ساتھ اللہ کے بندوں کی حقی ادائیگی بھی کر سکتے ہیں
02:45اور دراصل بندوں کے حقوق کی ادائیگی
02:49یہی انسان کو
02:51اللہ رب العزت کی ذات کے ساتھ بھی جوڑتی ہے
02:54اور خالقِ ارد و ساموات کا محبوب بھی بناتی ہے
02:58مقبول بھی بناتی ہے
02:59کیونکہ جتنے بھی اللہ کے بندے ہیں
03:02یہ سارے کے سارے اللہ کا کمبہ ہیں
03:05اور جو شخص اللہ کے کمبے سے محبت کرتا ہے
03:08ان کے ساتھ اس نے سلوک کرتا ہے
03:11ان کا حق ادا کرتا ہے
03:12تو وہ اللہ رب العزت کی بارگاہ کا محبوب بن جاتا ہے
03:16تو یہ کشف الماجوب اور حضرتِ داتا صاحب
03:19علی رحمہ کی تعلیمات کا مرکزی نقطہ نظر ہے
03:23کہ اللہ رب العزت کا حق
03:25اس کی توحید اور بندگی کی صورت میں ادا کرو
03:29اور جو بندوں کے حقوق ہیں
03:31وہ مخلوقِ خدا کی خیر خواہی
03:34اور ان کے ساتھ اس نے سلوک کرتا ہے
03:36حقوقل عباد کی کوتا ہی
03:37کبھی معاف نہیں ہوتی
03:39جب تک جس بندے کا حق مارا گیا ہے
03:42وہ حق معاف نہ کرے
03:43ڈاکٹر حسیب قادری صاحب
03:47ہمیں یہی بات بتا رہے تھے
03:49سیدی فیض عالم
03:50رحمت اللہ تعالیٰ علیہ کی تعلیمات کے حوالے سے
03:54اب میں ملتمس ہوں
03:56ڈاکٹر عرفان اللہ صحیفی صاحب سے
03:58آپ ہمیں یہ بتائیے
04:01کہ سیدی
04:02فیض عالم
04:03داتا گنگ بحش علی
04:04حجویری رحمت اللہ تعالیٰ علیہ نے
04:07صحابہ اکرام
04:08اور اہل بیت اطحار کے
04:10تذکرہ میں
04:11جس ترتیب کا خیال رکھا ہے
04:14وہ ترتیب ہمیں کیا سبق دیتی
04:17بسم اللہ الرحمن الرحیم
04:19بہت شکریہ
04:22الحمدللہ
04:23یہ ہماری خوش نصیبی ہے
04:24کہ آج ہم
04:25حضور
04:26فیاض عالم کے دریاقتس پر
04:28حاضر ہیں
04:29اور ہم
04:30خود بھی
04:31اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتے ہیں
04:32اور یقینا
04:34ہمارے ساتھ جتنے لوگ یہاں موجود ہیں
04:36وہ
04:37اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتے ہیں
04:39حضور داتا گنج بخش رحمت اللہ علیہ
04:41جو
04:42صوفیہ کے امام ہیں
04:44اور ان کی کتاب
04:45تصوف کی کتب کی
04:47امام ہے
04:49انہوں نے
04:50الحمدللہ
04:51ہمارے لئے جو راہیں متین کی ہیں
04:53وہ بالکل وہی راہیں ہیں
04:54جو
04:55اہل سنت و جماعت کی آج تک
04:57مسلسل
04:58ایک توارث سے چلتی آ رہی ہے
05:01آپ نے
05:01صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہ مجمعین کا تذکرہ کیا
05:05اور اس میں سے سب سے پہلے
05:07خلیفہ بلا فصل
05:09حضرت سجد عبو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر خیر کیا
05:13پھر ترتیب کے ساتھ حضرت عمر فاروق
05:15پھر عثمان غنی
05:17اور مزے کی بات یہ ہے
05:19کہ اتنے خوبصورت
05:20القاب حضور داتا گنجبخش رحمت اللہ علیہ ذکر فرماتے ہیں
05:23ایسا معلوم ہوتا ہے
05:25کہ وہ جو رتبے اور مقام
05:27اللہ نے ان حسنیوں کو عطا فرمائے
05:29حضور داتا صاحب رحمت اللہ علیہ کے سامنے
05:31اللہ نے ان کو آشکار کیا
05:33اور وہ دیکھ رہے تھے اور ان رتبوں کو
05:35اور ان مقامات کو بیان کر رہے ہیں
05:37پھر اس کے بعد
05:38صحابہ اکرام کے ذکر خیر کے بعد
05:41اہلِ بیتِ اتحار کا ذکر ہوتا ہے
05:42پھر ان میں
05:44حضرت امام حسن کا ذکر خیر
05:46سب سے پہلے فرماتے ہیں
05:47پھر حضرت اشتینا امام حسین رضی اللہ عنہ کا
05:50پھر اس کے بعد
05:51حضرت امام زین العابدین کا
05:52پھر امام جعفر الصادق
05:53امام باقر اور پھر امام جعفر الصادق
05:55اور اس طرح ترتیب کے ساتھ
05:57اور پھر اسی طرح آگے
05:59صحابہ صفحہ کا ذکر خیر فرماتے ہیں
06:01اور ان میں
06:01ان تمام صحابہ اکرام کو
06:04اللہ تبارک و تعالیٰ کا برگزیدہ
06:06اور صوفی قرار دیتے ہیں
06:08اور وہ سمجھتے ہیں
06:09کہ جن لوگوں کو
06:11صوفیت اور تصوفی خیرات چاہیے
06:13وہ صحابہ اکرام اور اہلِ بیتِ اتحار کے سامنے
06:16اپنی جولی پھیلائے
06:18اللہ تعالیٰ انہیں خیرات عطا فرمائے
06:19صحابہ اکرام وہ ہستیاں ہیں
06:21جن کو اللہ تعالیٰ نے
06:23اپنی رضا کا سیٹیفکیٹ عطا فرمایا ہے
06:26ڈاکٹر اکیل احمد صاحب
06:28یونیورسٹی آف لاہور سے
06:30تشریف لائے
06:31میں آپ کی خدمت میں
06:34یہ سوال عرض کرتا ہوں
06:36کہ کشف المحجوب کی روشنی میں
06:38بیان فرمائیے
06:40کہ دل کی حقیقت کیا ہے
06:43اور دل اور حضوری کی کیفیت میں
06:46کیا فرق ہے
06:48الحمدللہ رب العالمین
06:50والصلاة والسلام على سید الانبیاء والمرسلین
06:53بہت شکریہ
06:54قرآن کریم میں
06:56ایک سو بتیس کے قریب
06:58دل کا ذکر ہے
06:59اور اس کی بیس حالتوں کا بیان ہے
07:02وجلت قلوبہم
07:03تقشا قلوبہم
07:05اور سیدہ حجویر علی رحمہ نے
07:07کشف المحجوب میں
07:09جو قرآنی حالتیں ہیں
07:11ان کو مختف پیرائے میں بیان کر کے
07:13یہ واضح کیا ہے
07:14کہ یہ جی حالت آئے گی
07:15تو کشف حجاب ہو جائے گا
07:17یہ جی حالت آئے گی
07:18تو کشف حجاب ہو جائے گا
07:20مثال کے طور پر
07:21آپ دیکھئے
07:21کہ تصوف کے باب میں
07:23سیدہ حجویر فرماتے ہیں
07:25کہ دل کی دو حالتیں ہیں
07:28ایک تو اصل
07:29اور ایک اس کی فرہ ہے
07:31اصل یہ ہے
07:32کہ دل کو
07:32ما سوا اللہ سے پاک کر لیا جائے
07:35اور فرہ یہ ہے
07:36کہ جو دگا باز دنیا ہے
07:38اس کی محبت
07:40دل سے نکال دی جائے
07:41اور پھر سیدہ حجویر
07:43رحمت اللہ علیہ نے
07:44جو کشف حجاب کے
07:45ابواب باندے ہیں
07:46مثال آگے دیکھئے
07:47توبہ اور معرفت
07:49محبت
07:50نماز
07:50روزہ
07:51حج زکاة
07:52وہاں پر مختلف انداز سے
07:53کہ حضوری قلب
07:55کیسے حاصل ہوگی
07:56اور اس کے
07:57یعنی نتیجہ تا
07:58یہ ہمارے سامنے چیز آتی
08:00کہ سیدہ حجویر
08:01جو قلب کی
08:02اصلاح کے لیے
08:03ہماری رہنمائی کرتے ہیں
08:04کہ قلب کی دو حالتیں ہیں
08:06ایک جسمانی حیات کے لیے
08:08ضروری ہے
08:08اس کی مادی حیثیت ہے
08:10ایک عرفانی اور ایمانی
08:12حیات کے لیے ضروری ہے
08:13اور ایک قلب وہ ہے
08:15جو اس کی
08:15عطا کا منتظر ہے
08:17ایک وہ ہے
08:18جو اس کی رضا کا منتظر ہے
08:20ایک وہ ہے
08:21جو اس کی لکا کا منتظر ہے
08:22تو سیدہ حجویر
08:24لکا کی طرف لے جاتے
08:25کہ جب لکا
08:26تب ہی ہوگا
08:27جب کشفِ حجاب
08:28ہو چکا ہوگا
08:30ماشاءاللہ
08:32لکا تب ہوگا
08:33جب کشفِ حجاب ہوگا
08:35بندے کی
08:36نظر
08:36کے سامنے
08:37اس کی منزل ہوگی
08:39اور وہ
08:40اس منزل کو پانے کے لیے
08:42وہ منزل ہے
08:43اللہ کریم جلہ وعلا
08:44کی معرفت
08:46گیریزن یونیورسٹی
08:48لاہور سے
08:49تشریف لائے جناب
08:50ڈاکٹر وارث علی شاہین صاحب
08:52میں
08:52ان سے
08:53ملتمس ہوں
08:54کہ آپ
08:55ہمیں
08:56یہ بیان فرمائیے
08:58کہ سیدی
08:58فیض عالم
08:59داتا گنج بخش
09:00علی حجویری
09:01رحمت اللہ
09:01تعالی علیہ
09:02نے
09:02ملامت کی
09:04تین صورتیں
09:05بیان فرمائی ہے
09:06آپ
09:06اس سے
09:07وضاحت سے
09:07بیان فرمائیے
09:09بسم اللہ
09:10الرحمن الرحیم
09:11سب سے پہلے
09:13تو
09:13بہت بہت شکریہ
09:15کہ اس
09:16متبرک
09:17محفل
09:17کے اندر
09:18حاضری
09:19کا موقع
09:20انایت فرمایا
09:22جہاں تک
09:23ملامت کی
09:25تین
09:25صورتوں
09:26کا ذکر ہے
09:26جو
09:27حضور
09:28داتا گنج بخش
09:29علی حجویری
09:29رحمت اللہ
09:30علیہ
09:30نے
09:31اپنی
09:32شہرہ
09:33اعفا
09:34کتاب
09:35کشف المحجوب
09:36کے اندر
09:36بیان کی ہیں
09:37ان میں سے
09:38سب سے پہلی
09:39صورت
09:40جو ہے
09:40وہ ہے
09:41کہ راست
09:43روی کے
09:44اوپر
09:44یعنی
09:45شریعت
09:47کے اوپر
09:47چلتے ہوئے
09:48جو
09:49ملامت
09:50ہوتی ہے
09:50کہ جب
09:51بندہ
09:52شریعت
09:53کے اوپر
09:53عمل
09:53پیرا ہوتا ہے
09:54تو بہت
09:55سی
09:55رکابتیں
09:55پیش آتی ہیں
09:56اور نبی
09:57کریم
09:58صلی اللہ
09:58علیہ
09:59کا
09:59بہت
10:00حضور
10:01قبلہ
10:04حضور
10:04داتا
10:05گنج
10:05بخش
10:05علیہ
10:06حجویری
10:06رحمت
10:06اللہ
10:06علیہ
10:07نے
10:07ذکر
10:07کیا ہے
10:08کہ حضور
10:08صلی اللہ
10:09علیہ
10:09کے
10:09رستے
10:09میں
10:10بھی
10:10بشمار
10:11رقابتیں
10:12آئیں
10:12اور
10:12ملامتیں
10:13ہوئیں
10:13کہ
10:14جب
10:14تک
10:15نبی
10:15پاک
10:15صلی اللہ
10:16علیہ
10:16علیہ
10:17نے
10:17اعلان
10:18نبوت
10:19نہیں
10:19فرمایا
10:20اپنا
10:20کردار پیش کیا تو سب
10:22آپ سے محبت کا اظہار
10:24کرتے ہیں اور آپ کو صادق
10:26اور امین کہتے ہیں لیکن
10:28جو ہی نبی پاک صلی اللہ
10:30علیہ وسلم نے اس وحی
10:32کا نزول کے بعد
10:34اعلان نبوت فرمایا ہے
10:36تو ہر طرف سے
10:38ملامت اور
10:39تان کے تیر چلنا شروع ہو جاتے ہیں
10:42تو حضور تاتا گنج بخشی
10:44لیجویری رحمت اللہ علیہ نے
10:46پہلی جو صورت بیان کی ہے
10:48وہ ہے راست روی کے اوپر
10:50رہتے ہوئے یعنی شریعت
10:52کے اوپر عمل پیرا ہوتے ہوئے
10:54جو ملامت
10:56ہوتی ہے جو رکاوتیں آتی ہیں
10:58وہ پہلی صورت ہے
11:00اور یہ اہلاللہ کے ساتھ
11:02پیش آتی رہتی ہیں
11:03دوسری صورت جو
11:06حضور تاتا گنج بخشی لیجویری رحمت اللہ
11:08علیہ نے بیان کی ہے
11:09وہ ہے قصد کرنے پر
11:12یعنی آدمی
11:14ارادے کے ساتھ
11:16جو ملامت اپنے لیے
11:19گردانتا ہے
11:20اور لاتا ہے
11:21یا اسے مصنوعی ملامت بھی
11:23کہا جا سکتا ہے
11:24اس کی بھی دو صورتیں ہیں
11:26ایک حضور تاتا گنج بخشی لیجویری رحمت اللہ
11:29علیہ نے یہ بیان کی ہے
11:31کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے
11:33کہ لوگوں کے اندر جب بندے کو
11:35شہرت مل جاتی ہے
11:37تو وہ غرور اور
11:39تقبر کا شکار ہو جاتا ہے
11:41تو اس کے اندر کمی لانے کے لیے
11:43آدمی یہ چاہتا ہے
11:45کہ اس کا یہ جو رتبہ اور مقام
11:48جو عجب و پسندی کی طرف لے جا رہا ہے
11:51اسے تقبر کی طرف لے جا رہا ہے
11:54اس کا خاتمہ کیا جائے
11:56تو وہ ایسا عمل کرتا ہے
11:58کہ جس کے ساتھ
11:59اس کا وہ جو تقبر ہے
12:01جو عجب پسندی ہے
12:02وہ دور ہو جاتا ہے
12:03یہ بھی لانے کے لانے کے لانے کے لانے کے لانے ہیں
12:08یہی انسان کو ہدایت کی طرف لے کے جانے والا راستہ ہے
12:13ہمارے ایوان میں
12:18حافظ انس صاحب تشریف رکھتے ہیں
12:20میں ان سے ملتمیس ہوں
12:22صرف دو اشعار نات کے پیش فرمائیے
12:29Salah Alayka Ya Rasulullah
12:43Salah Alayka Ya Habib Allah
12:58Salah Alayka Ya Habib Allah
13:08Salah Alayka Ya Habib Allah
13:18Salah Alayka Ya Habib Allah
13:22Salah Alayka Ya Habib Allah
13:47Salah Alayka Ya Habib Allah
14:03Salah Alayka Ya Habib Allah
14:28Salah Alayka Ya Habib Allah
14:39Salah Alayka Ya Habib Allah
14:50Salah Alayka Ya Habib Allah
15:20Salah Alayka Ya Habib Allah
15:24Salah Alayka Ya Habib Allah
15:37Salah Alayka Ya Habib Allah
15:38Salah Alayka Ya Habib Allah
15:39Salah Alayka Ya Habib Allah
15:46Salah Alayka Ya Habib Allah
15:50Salah Alayka Ya Habib Allah
15:57Salah Alayka Ya Habib Allah
16:02ڈاتا ہے خاج بھی فیض لوٹاتا ہے میرا ڈاتا ہے سوئی تقدیر جگاتا ہے میرا ڈاتا ہے
16:27اور شیئر سنیے گا طالب فیض کوئی ہند سے آئے اس کو
16:45آج کچھ لوگ کہتے ہیں نا کہ باب بیتے شہی کوئی نہیں شہر ان کو جواب دیتے ہیں
16:50کہ طالب فیض کوئی ہند سے آئے اس کو پھر ہوتا کیا ہے
16:54خوجائے ہند بناتا ہے میرا ڈاتا ہے
17:06خوجائے ہند بناتا ہے میرا ڈاتا ہے
17:16آج بھی فیض لوٹاتا
17:22گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا
17:26ناکسارا پیر کامل کاملان را رہنما
17:33جناب ڈرکٹر حمایو عباس شمس صاحب
17:36میں آپ کی طرف متوجہ ہو رہا ہوں
17:40سیدی فیض عالم
17:42ڈاتا گنج بخش علی حجویری رحمت اللہ تعالی علیہ نے
17:46خرقہ پوشی کے باب میں ایک حدیث پاک نقل فرمائی ہے
17:57آپ اس کی وضاحت فرمائیے کہ داتا صاحب کیا پیغام دینا چاہتے ہیں
18:03بسم اللہ الرحمن الرحیم
18:06حضور داتا صاحب رحمت اللہ علیہ نے
18:08مختلف مقامات پہ جو احادیث نقل فرمائی زہر ہے
18:13کہ ان کے اندر ایک ظاہری مفہوم پایا جاتا ہے
18:17اور ایک ان روایات کے اندر باطنی مفہوم پایا جاتا ہے
18:22ظاہر ہے کہ جب ایک شیخ اپنے کسی مرید کو
18:26وہ فیوزات اور انوار عطا کرتا ہے
18:29جیسے یہاں حضور داتا صاحب کے ہاں
18:32خاجہ اج میری رحمت اللہ علیہ تشریف لائے
18:34تو وہ فیوزات انائت ہوئے
18:36اسی طرح وہ باطنی فیوزات
18:39وہ ظاہری لباس کی شکل میں بھی ہو سکتے ہیں
18:42اور وہ باطنی انعامات کی شکل میں بھی ہو سکتے ہیں
18:45حضور داتا صاحب بنیادی طور پر یہ سمجھانا اور بتانا چاہتے ہیں
18:49کہ یہ ظاہری لباس ہو
18:51یا باطنی لباس ہو
18:53وہ سارے کا سارا اس طریقہ کار کے مطابق ہو
18:57جو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے
18:59اپنی شریعت کے ذریعے
19:01اپنے طریقے کے ذریعے
19:03اور اپنے عصوائے حسنہ کے ذریعے
19:05لوگوں تک پہنچایا ہے
19:06اسی لیے وہ اس باب میں
19:09جو روایات اور جو احادیث نکل کرتے ہیں
19:12ان کے ذریعے انسان کے ظاہر کو
19:16اور انسان کے باطن کے طہارت کو
19:18طہارت
19:19گویا تصوف جو ہے وہ بنیادی طور پر
19:22یہ اس حوالے سے اہم ہے
19:24کہ وہ سیانتِ عقیدہ اور طہارتِ عامال کی
19:28ایک بنیادی شرط ہے
19:30یا بنیادی چیز ہے
19:31اسی حوالے سے حضور داتا صاحب رحمت اللہ علیہ نے
19:35اس ان روایات میں اور ان احادیث کے ذریعے
19:40یہ پیغام دیا ہے
19:41کہ ہمیں جس طرح اپنے بات
19:44اپنے ظاہر کو آراستہ اور پیراستہ کرنا ہے
19:47اسی طرح اپنے باطن کا بھی خیال رکھنا ہے
19:51دراصل ظاہر کو دنیا دیکھتی ہے
19:54اور باطن پہ نظر اللہ کی ہوتی ہے
19:56جب دنیا دیکھنے والی دنیا جس چیز کو دیکھتی ہے
20:00اسے ہم نے نکھارنا ہے
20:02تو اسے کیوں نہ نکھارا اور سوارا جائے
20:05جس پہ اللہ رب العزت کی نظر کرم اور نظر انعائت ہیں
20:10حضور سید عالم نبی محتشم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے
20:15انما الامالو بالنیات
20:18کہ اپنی نیتوں کو صاف کر لو
20:21کسی شخص نے یہ سوال کیا تھا
20:24آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مت تقویٰ یا رسول اللہ
20:27تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
20:28اپنے دل کی طرف اشارہ کر کے فرمایا
20:32میں اپنے ایوان میں
20:35موزز تشریف لانے والے شراکا سے ملتمیس ہوں
20:39کہ دو دو تین تین جملوں میں
20:42آج کی اس عرص کی عظیم الشان
20:45تقریب میں اپنا پیغام
20:47نشر فرمائیے
20:53عرص کی اس سیدہ حجویر کی مجلس میں
20:58خصوصیت کے ساتھ آج ہمیں
21:00جس پیغام کو اختیار کرنے کی اور دوسروں تک پہنچانے کی ضرورت ہے
21:06وہ بزرگان دین کا اصل تعارف
21:09اور بزرگان دین کی اصل تعلیمات ہیں
21:12آج بدکسمتی سے
21:13بزرگان دین کے اصل تعارف سے بھی
21:16ہماری نسل معروم ہے
21:18اور ان کی اصل تعلیمات سے بھی
21:20ہماری نسل معروم ہے
21:22یہ سیدہ حجویر کی مجلس
21:24اور اس طرح کی علمی عدبی مجالس
21:26یہ اپنے بزرگوں کا صحیح
21:28تعارف پیش کرنے کا بھی بہترین ذریعہ ہیں
21:31اور ان کی جو تصانیف ہیں
21:33ان کے ارشادات ہیں
21:34ملفوظات ہیں
21:35انہیں ہمیں اپنی نئی نسل تک پہنچانا چاہیے
21:39تاکہ ہماری نئی نسل ہمارے ان اصل
21:42بزرگوں سے روشناس بھی ہو سکے
21:44اور ان کی تعلیمات کو بھی اپنا سکے
21:50مفتی صاحب قبلہ
21:51علوم کی تحصیل کا جو بنیادی اصول یہ ہے
21:54کہ کسی بھی شئے کو
21:55اس کے ماخذ اصلیہ سے حاصل کیا جائے
21:58آج تصوف کے حوالے سے
22:00جو لوگ کجروی کا شکار ہیں
22:02حق بات تو یہ ہے
22:03کہ وہ تصوف کی اصل کو نہیں جانتے
22:05میں نیو جینریشن کو یہ گزارش کروں گا
22:08اور سیدہ حجویر کی بارگاہ سے
22:09کہ جناب آپ تصوف کو جاننا چاہتے ہیں
22:12تو ان جیسے صوفیاء کو
22:14تصوف کو ماخذ اصلیہ سے جانئے
22:17پھر اچھا پہلے اگر آپ نے سیرت پڑھی ہے
22:19پھر تصوف پڑھیے
22:21پھر سیرت پڑھی ہے آپ کو پتا چل جائے گا
22:23کہ سیرت کے جو باطنی رنگ ہے
22:25توبہ توقل زہر صبر شکر
22:28کنات جو قلبی کیفیات ہے
22:29وہ سارے رنگ
22:31سیرت کے ان معاملات کی شرح
22:34آپ کو تصوف کی صورت میں نظر آئے گی
22:36ڈاکٹر واریس علی شاہین صاحب
22:41حضور داتا گنج بخش علی حجویری رحمت اللہ علیہ
22:44کے اس عرص کے موقع پر
22:46میں یہ
22:48رائے پیش کرنا چاہتا ہوں
22:50کہ خانکاہی
22:52نظام کے اندر
22:54سسٹم کے اندر
22:55کوئی ایسا رنگ بھی پیدا کیا جائے
22:58کہ جو عملی طور پر
23:00تصوف کو
23:01لوگوں کے اندر پیدا کرنے کا ذریعہ بنے
23:04یہ جو کام ہو رہا ہے
23:06اس کے ساتھ ساتھ
23:07عملی تربیت کا بھی
23:08خانکاہی سسٹم کے اندر نظام
23:10شروع کیا جائے
23:12ماشاءاللہ
23:16آج کی
23:17اس بزم سعید کے توسط سے
23:19میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں
23:21کہ کشف المحجوب
23:23تصوف کی
23:24امہات القطب میں شمار ہوتی ہے
23:26ہمارے
23:27کم از کم درس نظامی کے نصاب میں
23:30اس کو شامل ہونا چاہیے
23:31اور
23:33درسن بھی پڑھائی جائے
23:34اور جس طرح ڈاکٹر واری صاحب نے فرمایا
23:36عملی طور پر بھی
23:38ہمارے جو اساتذہ اکرام ہیں
23:40الحمدللہ
23:41ہمارے اساتذہ اکرام صوفیہ بھی ہوتے ہیں
23:43تو وہ
23:44اس کی
23:45سرپرستی فرمائیں
23:46اور وہ
23:47درسن پڑھائیں بھی
23:49اور پھر اس کی عملی طور پر
23:50جو ہے وہ
23:51اس کی
23:51تعلیم بھی دیں
23:52مدارس میں
23:53تصوف کی تعلیم دی جائے
23:55اخلاقیات کی تعلیم دی جائے
23:57اور خانقاہوں میں
23:59علمی
24:00مدارس قائم کیے جائیں
24:03تاکہ
24:03علم اور تربیت
24:05دونوں یکجہ ہو سکیں
24:07آخر میں
24:08میں جناب حافظ
24:10انیس الرحمن
24:11جو ہمارے
24:13ڈریکٹر جنرل مذہبی امور ہیں
24:15ان سے
24:16ملتمس ہوں
24:17کہ آپ اپنا پیغام
24:18ارشاد فرمائیے
24:20بسم اللہ الرحمن الرحیم
24:24ابھی فیضان حضرت علی حجویری
24:26رحمت اللہ علیہ پہ
24:27جید علم کرام نے
24:29سیر حاصل بحث کر لی ہے
24:31ان کے فیض کے متعلق
24:33بہت کچھ کہا جا چکا ہے
24:35اور صدیوں تک
24:36ان کا نام بلند رہے گا
24:38اور یہاں سے
24:40ہمیشہ
24:40نور کے چشمے ہی
24:42پھوکتے رہیں گے
24:43دنیا کے مجودہ حالات کے اندر
24:46اگر ہم کشف المحجوب کی
24:48تعلیمات کو دیکھیں
24:50حضرت علی حجویری کی
24:51تعلیمات کو دیکھا جائے
24:52جس میں انہوں نے
24:54مذہبی رواداری کے بنیاد رکھی
24:56جس میں انہوں نے
24:57مینارٹیز کے حقوق
24:58اور حقوق العباد کے اوپر
25:00زور دیا گیا
25:01انہوں نے رواداری کو
25:02اور پرداشت کے فلسفے کو
25:04پروفروغ دینے کی کوشش کی ہے
25:07آج اگر ہم دیکھیں
25:09کہ اقوام عالم کا
25:11جنیوہ اسلام آباد بن چکا ہے
25:13اس کی کیا وجہ ہے
25:14اس کی وجہ صرف ان بلیوں کا فیض ہی ہے
25:17ان کا جسم اتھر
25:19اس خطے میں موجود ہے
25:20آج تمام دنیا کی نظریں
25:22پاکستان کی اوپر لگی ہوئی ہیں
25:24اور جتنے بھی
25:25انٹرنیشنل ڈسپیوٹس ہیں
25:27ان کو ریزال کرنے کے لیے
25:29تمام اقوام عالم
25:31اسلام آباد کی طرف ہی دیکھ رہی ہیں
25:33اس کے متعلق
25:34علامہ اقبال نے
25:35سو سال پہلے فرمایا تھا
25:36جو موجودہ دنیا کے حالات ہیں
25:38دنیا کو ہے پھر مارکہ روح و بدن پیش
25:41تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو اُبھارا
25:45اللہ کو پا مردی ہے مومن پہ بھروسا
25:48ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
25:52تقدیر امم کیا ہے کوئی کہہ نہیں سکتا
25:55مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارہ
26:00میرے ایوان میں
26:02ہماری جامعہ
26:03داتا گنج بخش سیدی فیض عالم
26:06کی جامعہ مسجد کے
26:07نائب خطیب امام
26:09جنب علامہ فیصل جماعتی صاحب
26:12بھی تشریف رکھتے ہیں
26:13میں ان سے بھی ملتمس ہوں
26:15کہ ایک ڈیڑھ منٹ میں آپ بھی
26:17اپنا پیغام نشر فرمائے
26:18بسم اللہ الرحمن الرحیم
26:20حضور سیدی فیض عالم
26:23حضرت داتا گنج بش رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
26:26آپ نے اپنی کتاب
26:28کشف المغجوب شریف میں
26:31ولی کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا
26:33کہ اصل ولی وہی ہوتا ہے
26:36جو شریعت کا پابند ہوتا ہے
26:39آپ نے اگر کسی کو پہچاننا ہو
26:41کہ یہ ولی ہے
26:43ولی اللہ
26:44تو آپ یہ دیکھیں کہ یہ
26:46شریعت پر کتنا کاربند ہے
26:48اگر تو
26:49اس کا اڑنا بچھونا چلنا پھرنا
26:53کردار رفتار
26:54ہر عمل شریعت کے این مطابق ہے
26:58پھر وہ اللہ کا ولی ہے
27:00اور اگر وہ شریعت کی پاسداری نہیں کرتا
27:03وہ ولی اللہ نہیں ہو سکتا
27:05کوئی اور چیز ہو سکتا
27:07جو شریعت کا
27:08تابع ہے
27:09وہی
27:11ولایت کی منزل کو پاسکتا ہے
27:13اگر
27:14شریعت پر عمل کرنے والا نہ ہو
27:17تو سیدی فیض عالم
27:18فرماتے ہیں
27:20کہ وہ اللہ کا دوست نہیں ہو سکتا
27:22وہ شیطان کا دوست ہوگا
27:25مجلس سیدِ حجویر
27:27کی آج کی نشست
27:29اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے
27:31آخر میں میں
27:31حافظ خلیل سلطان صاحب سے ملتمیس ہوں
27:35کہ چند اشار
27:36اختتامی اشار پیش فرمائیے
27:44داتا میرے
27:47مصد کے تیرے
27:53تیری گلیوں کے
27:55میرے داتا
27:57داتا تیری گلیوں کے
28:00تیری گلیوں کے لگائیں
28:05ولی پھیرے
28:09داتا میرے
28:13مصد کے تیرے
28:17تیرے ٹکڑوں پہ
28:20ہج میری داتا
28:24تیرے دل کا
28:27گدا پل رہا ہے
28:31نام کا تیرے
28:35یا فیضِ آلم
28:38میرے گھر میں
28:41دیا جل رہا ہے
28:45میرے گھر سے دور
28:48بس دور دور
28:50میرے گھر سے دور
28:52میرے گھر سے
28:54دور رہتے ہیں
28:58اندھیریں
29:04مصد کے تیرے
29:07حضرین و ناظرین
29:10اور ناظرات
29:11آج کی مجلس سید
29:14حجویر اختتام پذیر
29:15ہو چکی انشاءاللہ
29:17کل ساڑھے نو بجے
29:19اسی مقام پر
29:21تیسری مجلس سید
29:23حجویر کا آغاز ہوگا
29:25ربنا آتینا
29:27فی الدنیا حسنہ
29:28وفی اللہ خیرتی حسنہ
29:31وکینا آزاب النار
29:32یا الہ العالمین
29:34اے مالک و مولا
29:35اس مجلس سید حجویر میں
29:38شرقہِ گرامی نے
29:40جو جو بیانات کیے
29:43سیدی فیضِ عالم کی
29:45تعلیمات کے حوالے سے
29:46ہمیں آگاہ کیا
29:48اور تلاوتِ قرآنِ حکیم ہوئی
29:50ناتِ رسولِ مقبول پیش کی گئی
29:53اس سب کا ثواب
29:54آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
29:57بارگاہِ آلیہ میں پیش کرتے ہوئے
30:00خصوصیت سے سیدی فیضِ عالم
30:02صاحبِ عرص کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں
30:05قبول و منظور فرما
30:06ہم سب کو سیدی فیضِ عالم کے
30:09فیضانِ کرم سے
30:11بہرہ مند فرما
30:12ان کے فیوز و براکات
30:14کو حاصل کرنے کے لیے
30:16دلوں کی صفائی کا راستہ
30:18اختیار کرنے کی توفیق نصیب فرما
30:20صلی اللہ تعالی
30:22علیہ حبیبی خیر خلقی محمد و علیہ وآلہی وآسحابی
30:30ایک نور کا عالم ہے
30:36داتا تیری نگری میں
31:06ایک نور کا عالم ہے
Comments