- 19 minutes ago
- #islamicinformation
- #aryqtv
Hazrat Ashraf Jahangir Simnani RA
Speaker : Dr. Syed Muhammad Ashraf Jilani
Watch More || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xif5HVja7jgrmn9g8r8WGR5h
#IslamicInformation #ARYQtv #HazratAshrafJahangirSamnaniRA
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Speaker : Dr. Syed Muhammad Ashraf Jilani
Watch More || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xif5HVja7jgrmn9g8r8WGR5h
#IslamicInformation #ARYQtv #HazratAshrafJahangirSamnaniRA
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00Alhamdulillah
00:30محبوب یزدانی حضرت مغدوم سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی قدسہ سر رہو کے حالات بیان کریں گے
00:38وما توفیقی اللہ باللہ العلی العظیم
00:41حضرت مغدوم سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی نبر اللہ ملقدہو
00:46سات سو بارہ ہجری میں آپ کی ولادت باسعادت ہوئی ایران کے شہر سمنان میں
00:54آپ کے والد گرامی جن کا نام سلطان سید ابراہیم نور بخشی تھا
01:00سلطنت سمنان کے فرما روا تھے
01:03اولاد نرینہ نہ ہونے کی وجہ سے اکثر مغموم رہتے تھے
01:07اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے تھے
01:10کہ مولا مجھے کوئی اپنا ولی احد کوئی جانشین عطا فرما
01:13ایک مرتبہ سلطان سید ابراہیم نور بخشی اور ان کے اہلیہ محترمہ
01:19تحجد کے وقت عبادت میں مصروف تھے
01:22اچانک دیکھا کہ ایک مجذوب بزرگ جن کا نام بھی سلطان ابراہیم تھا
01:29لوگ ان کو مجذوب ابراہیم کہا کرتے تھے
01:33شہر سمنان کے لوگ ان کے بڑے عزت کرتے تھے
01:35دیکھا کہ اچانک محل میں داخل ہوئے
01:38سلطان ابراہیم کھڑے ہوئے تھے
01:40مجذوب ابراہیم کو لے کر آئے اور اپنے تخت پر بٹھایا
01:44اور باعدب ہاتھ بان کر ان کے سامنے کھڑے ہو گئے
01:48مجذوب ابراہیم نے سلطان ابراہیم سے پوچھا
01:51کیا چاہتا ہے
01:52عرض کی حضور آپ جانتے ہیں کہ فقیر کو کیا چاہیے
01:57کہا اچھا بیٹا چاہتا ہے
01:59جہاں اللہ تجھے ایک فرزند عطا فرمائے گا
02:03یہ کہہ کر اٹھے اور چند قدم چلے
02:06سلطان ابراہیم اسی طرح باعدب ہاتھ باندے ان کے پیچھے پیچھے چلے
02:11مجذوب نے پیچھے مڑ کر دیکھا
02:13اور کہا کہ ایک بیٹا تو لے چکا
02:16اب کیا چاہیے
02:16اچھا ایک اور لے
02:18اب تیرے ہاں دو فرزند ہوں گے
02:20یہ کہہ کر مجذوب رخصت ہو گئے
02:23سلطان کے خوشی کی انتہا نہ رہی
02:25کچھ دن کے بعد
02:26خواب میں نبی پاک علیہ السلام کی زیارت ہوئی
02:30اور سرکار دعالم علیہ السلام نے فرمایا
02:33سلطان ابراہیم
02:34اللہ تعالیٰ تجھے انقریب ایک نیک فرزند عطا فرمائے گا
02:38اس کا نام اشرف رکھنا
02:41سرکار نے نہ صرف بشارت دی
02:43بلکہ نام بھی رکھ دیا
02:45اب تو آپ کی پوری امید ہو گئی
02:48کہ سرکار کی بشارت تھی
02:50اور سلطان مجذوب ابراہیم کی بشارت تھی
02:53چنانچہ کچھ دن کے بعد
02:55آثار ولادت ظاہر ہوئے
02:57وقت گزرتا گیا
02:58سات سو بارہ ہی دری میں
03:00شہر سمنان میں
03:02مغدوم سلطان سید اشرف جھانگیر سمنانی
03:05نبر اللہ منقدہو کی ولادت باسعادت ہوئی
03:08محل میں خوشیاں منائی گئیں
03:11مٹھائیاں تقسیم کی گئیں
03:13بادشاہ کے ہاں ولی اہد ہوا ہے
03:15جانشین ہوا ہے
03:16سلطان ابراہیم کے خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی
03:19آپ نے بہت زیادہ صدقات و خیرات کیا
03:23وقت گزرتا گیا
03:24جب مغدوم سمنانی کی عمر چار سال ہوئی
03:27تو مولانا اماد الدین تبریزی
03:30رحمت اللہ تعالی نے آپ کی
03:33تسمیہ خانی کرائی
03:35یعنی بسم اللہ شریف پڑھائی
03:36اور تعلیم کا آغاز ہوا
03:39اللہ تعالی نے آپ کو
03:41بے پناہ ذہانت اور فتانت
03:44عطا فرمائی تھی
03:45اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے
03:48کہ حضرت مغدوم سلطان
03:49سید اشرف جھانگیر سمنانی
03:51نبر اللہ مرقدہو نے
03:53بڑے شوق سے قرآن کریم
03:55پڑھنا شروع کیا
03:56اور نہایت کم عمری
03:59یعنی سات سال کی عمر میں
04:01ساتوں قرآن کریم حفظ فرما لیا
04:05اس کے بعد
04:07علوم متدابلہ کی طرح متوجہ ہوئے
04:10قرآن
04:11فق
04:12حدیث
04:12تفسیر
04:13منطق اور دیگر ظاہری علوم
04:16آپ نے چودہ سال کی عمر میں
04:19ان تمام علوم اور فنون پر
04:21مکمل دسترس حاصل کر لی
04:25پندرہ سال کی عمر ہوئی
04:26والد گرامی کا سایہ سر سے اٹھ گیا
04:29اور سلطنت سمنان کی ذمہ داری
04:32آپ کے کاندوں پر آ گئی
04:33پندرہ سال کی عمر میں
04:35تخت سمنان پر رونہ کفروز ہوئے
04:38اور
04:39دس سال
04:40یعنی پچیس سال تک
04:42آپ نے نہایت
04:43عدل اور انصاف کے ساتھ
04:45سلطنت سمنان پر حکومت کی
04:47اور
04:48عدل و انصاف کے ساتھ
04:50آپ نے یہ حکومت چلائی
04:51جب عمر مبارک
04:53پچیس سال ہوئی
04:54تو حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت ہوئی
04:57انہوں نے فرمایا فرزند اشرف
04:59ہجابِ تخت و تاج کو دور کرو
05:02اور لذتِ وصلِ الٰہی کے لئے
05:04تیار ہو جاؤ
05:05آپ اپنی والدہِ محترمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے
05:08ان سے اجازت طلب کی
05:10والدہِ محترمہ خوش ہوئی
05:12اور کہا بیٹا
05:13تمہاری ولادت سے قبل
05:15تمہارے نانا حضرت خواجہ احمد یسوی رحمت اللہ علیہ نے
05:19مجھے یہ بشارت دی تھی
05:21کہ تمہارے ہاں ایک فرزند ہوگا
05:23جو ترکِ سلطنت کر کر فقیری اختیار کرے گا
05:26جاؤ
05:27مردانہ وار جاؤ
05:29میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں
05:30لیکن ایک کام یہ کرنا
05:33کہ جب محل سے نکلو
05:34تو وزراء، عمراء، فوج، سپاہی
05:37یہ سب تمہارے ساتھ ہوں
05:39تاکہ ریایہ یہ سمجھے کہ بادشاہ
05:41کسی مہم پر جا رہا ہے
05:43کوئی یہ نہ سوچے کہ ایک بھائی نے
05:45دوسرے بھائی کو ہٹا کر
05:47خود سلطنت پر قبضہ کر لیا
05:49وجہ یہ تھی کہ آپ نے اپنی جگہ
05:51اپنے بھائی سید آراف
05:54کو حکم راہ بنایا تھا
05:56اور خود فقیری اختیار کر لی
05:57والدہ کے حکم سے روانہ ہوئے
06:00وزراء آپ کے ساتھ ہیں
06:01عمراء ساتھ ہیں
06:03سپاہی ساتھ ہیں پورے پروٹوکول کے ساتھ
06:05شہر سملان سے نکلے
06:07ایک منزل پر گئے تو وزراء کو
06:09واپس کر دیا
06:10آگے بڑے تو عمراء کو واپس کر دیا
06:12اور آگے بڑے سپاہیوں کو سب کو واپس کر دیا
06:15آخر میں دو خادم آپ کے ساتھ رہ گئے
06:18انہوں نے کہا حضور ہم آپ کے ساتھ رہیں گے
06:20فرمایا میری منزل الگ ہے
06:22تمہاری منزل الگ
06:23لیکن انہوں نے زد کی آپ نے ساتھ رکھ لیا
06:26اب کیفیت یہ تھی
06:27کہ سارا دن سفر کرتے تھے
06:30اور رات میں بہت قلیل
06:32وقت میں نیند کرتے تھے
06:35اور اس کے بعد پھر عبادت میں مصروف ہو جاتے
06:37آپ کے اوپر کوئی اثر نہ پڑا
06:39لیکن وہ خدام جو تھے
06:41وہ تھک گئے
06:42اور تھک کر ایسے سوئے کہ ان کو اٹھنے کا ہوش ہی نہ رہا
06:45آپ ان کو وہیں سوتا ہوا چھوڑ کر آگے بڑھ گئے
06:48اب صرف ایک گھوڑا تھا
06:49اس پہ آپ سوار تھے اور سفر چل رہا تھا
06:52پھر خیال آیا کہ گھوڑے کی بھی کیا ضرورت ہے
06:54ایک فقیر ملا
06:55اس کو آپ نے گھوڑا دے دیا
06:57اور پیدل آپ روانہ ہوئے
07:00شہر سمنان سے چلے
07:01اور پیدل سفر کرتے کرتے
07:03بھاول پور کے قریب
07:05اوت شریف احمد پور شرقیہ
07:08جہاں پر اللہ کے ایک جلیل قدر ولی
07:12جو اپنے زمانے کے بڑے عظیم و شان ولی تھے
07:18حضرت شیخ جلال الدین بخاری
07:22جہانیہ جہاں گشت رحمت اللہ علیہ
07:24علم اور فضل اور روحانیت کی دولت لٹا رہی تھے
07:29آپ وہاں پر اوت شریف پہنچے
07:31آپ کے پہنچنے سے قبل
07:33مقدوم جلال الدین بخاری نے فرمایا
07:36بھوئے یار می آیت
07:38مجھے اپنے دوست کی خوشبو آ رہی
07:40لوگوں نے کہا کون آ رہا
07:42کہا مجھے اپنے دوست کی خوشبو آ رہی
07:44کچھ دیر کے بعد مقدوم سمنانی وہاں پہنچے
07:47فرمایا آؤ فردند اشرف
07:49مردان وار آئے ہو
07:50سینے سے لگایا
07:51اور بڑی محبت اور شفقت سے ان کو بٹھایا
07:54اور کہا وقت کم ہے
07:56فوراں چلہ کشی میں مصروف ہو جاؤ
07:58عبادت ریاضت مجاہدہ چلہ کشی
08:01اپنی زیر نگرانی میں کرائی
08:03اور اس کے بعد تمام روحانی نعمتیں آپ کو دے کر
08:06فرمایا
08:07ایک سو چودہ بزرگوں سے اس فقیر نے
08:10جو کچھ حاصل کیا وہ سب تمہیں عطا کر دیا
08:12وہاں سے آپ رخصت ہوئے
08:14فرمایا جلدی جاؤ
08:16بھائی علاودین تمہارا انتظار کر رہی
08:18یہاں سے آپ دہلی پہنچے
08:20حضرت نظام الدین
08:22اولیاء محبوب الہی
08:23حضرت خاجہ قدب الدین
08:24بختیار کاکی
08:25اور جیگر بزرگان الدین
08:27اولیاء کاملین کے
08:28مزارات پر حاضری دی
08:30مراغبہ کیا
08:32اور ان سے فیوز و برکات حاصل کیے
08:34اور پھر یہاں سے روانہ ہوئے
08:36بہار شریف میں
08:37ایک عظیم و شان
08:39علمی اور روحانی شخصیت
08:41حضرت شیخ شرف الدین
08:43احمد
08:44یحیٰ منیری رحمت اللہ علیہ
08:46ان کے وسال کا وقت قریب تھا
08:48انہوں نے اپنے مردین کو بلا کر وسیعت کی
08:51کہ میرا جنازہ تیار کر کے
08:52ایک میدان میں رکھ دینا
08:54مشرق کی سمت سے ایک شخص آئے گا
08:56اس کے اندر تین شرطیں ہوں گی
08:59ایک یہ کہ صحیح ان نصب سید ہوگا
09:01دوسرے یہ کہ سبا قرات کا قاری ہوگا
09:04اور تیسرے یہ کہ تارک السلطنت ہوگا
09:08یہ تین شرطیں اس کے اندر ہوں گی
09:10وہی میرے جنازے کی نماز پڑھائے گا
09:12اس کے علاوہ کوئی نہ پڑھائیں
09:14ان کی وسیعت کے مطابق
09:17نہلا کر
09:18کفنا کر
09:19جنازہ تیار کر کے میدان میں رکھ دیا
09:22مقتدی کھڑے ہیں امام کا انتظار ہو رہا ہے
09:25اسی وقت جبکہ
09:26سب کھڑے تھے حضرت مقدوم
09:28سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی
09:30اس مقام پر پہنچے
09:32لوگوں نے آگے
09:35بڑھ کر پوچھا آپ کا نام
09:36فرمایا سید اشرف
09:37آپ صحیح ان نصب سید ہیں فرمایا بے شک
09:40تارک السلطنت ہیں بے شک
09:42سبا قرات کے قاری ہیں
09:44فرمایا ہاں آئیے امامت فرمائی
09:47آپ نے امامت فرمائی
09:48پھر ان کی تدفین ہوئی اور ان کے مزار مبارک پر بیٹھ کر
09:53آپ نے مراغبہ کیا اور ان سے فیوز و برکات حاصل کیا
09:56پھر وہاں سے آپ روانہ ہوئے بنگال
09:59وہاں آپ کے پیر و مرشد
10:01حضرت علاودین گنج نبات رحمت اللہ علیہ
10:04مسند رجد و ہدایت کے رونق بنے ہوئے تھے
10:08اور علم اور روحانیت کی دولت لٹا رہے تھے
10:11جب مقدوم سمنانی وہاں قریب پہنچے
10:13پیر و مرشد آرام فرما رہے ہیں
10:15اچانک بیدار ہوئے فرمایا بھوئے یار می آیت
10:19مجھے اپنے دوست کی خوشبو آ رہی
10:21جس کا میں دو سال سے انتظار کر رہا تھا
10:24وہ آج پہنچ رہا ہے
10:26مردین سے کہا مجھے وضو کراؤ
10:27مردین نے وضو کر آیا
10:29پالکی میں تشریف فرما ہوئے
10:31خانقہ سے باہر آئے شہر سے باہر آئے
10:33اور جو آنے والا راستہ تھا
10:35وہاں آ کر کھڑے ہو گئے
10:37لوگ دیکھ رہے ہیں کہ کس کا انتظار ہو رہا
10:40مرید پیر کا انتظار کرتے ہیں
10:42یہ وہ مرید ہے
10:44کہ پیر ان کا انتظار کر رہے ہیں
10:46سامنے سے دیکھا کہ گرد و خبار
10:48اڑ رہا ہے
10:48اپنے مرید سے کہا دوڑ کر جاؤ
10:50اور پوچھو کہ اس قافلے میں
10:52سید اشرف نام کے کوئی فرد ہیں
10:55مرید دوڑ کر گیا
10:57آپ سے ملاقات ہوئی
10:58فرمایا ہاں میرے نام سید اشرف ہے
11:00اس نے آ کر بتایا
11:02فرمایا انہی کا انتظار ہم کر رہے ہیں
11:04قافلہ قریب آتا رہا
11:05آپ کی بیتابی بڑھ رہی تھی
11:07جیسے ہی پیر و مرشد کے چہرے پر نظر پڑی
11:10دوڑ کر اپنا سر ان کے قدموں میں رکھ دیا
11:13اور قدموں کو بوسا دیا
11:14طالب نے اپنے مطلوب کو
11:16محیب نے اپنے محبوب کو
11:17مرید نے اپنے پیر کو دیکھا
11:20اور پیر و مرشد نے اٹھایا
11:21فرمایا فرزند اشرف تمہاری جگہ یہ نہیں ہے
11:24بلکہ یہ ہے
11:25اٹھا کر اپنے سینے سے لگا لیا
11:27اپنے ساتھ پالکی میں بٹھایا
11:29خانقہ میں لے کر آئے
11:31اسی وقت سلسلہ چشتیاں میں بیت کیا
11:33اور فوراں ایک ہجرہ دیا
11:35کہ عبادت و ریاضت میں لگ جاؤ
11:38مسلسل عبادت ریاضت
11:39مجاہدہ چلہ کشی کراتے رہے
11:41حضرت علیہ الدین گنجے نبات رحمت اللہ علیہ نے
11:44پندوہ شریف میں
11:46اپنی خانقہ میں
11:47جتنے مریدین تھے ان کی ڈیوٹی لگائی تھی
11:50کہ تمہیں خانقہ کا پانی بھرنا ہے
11:52تمہیں خانقہ کی صفائی کرنی ہے
11:54تمہیں یہاں پر کپڑے دھونے ہیں
11:56تمہیں یہ کرنا ہے
11:57ہر ایک کی ڈیوٹی لگائی
11:58حضرت مخدوم سلطان
12:00سید اشرف جانگیر سمدانی
12:01ہاتھ بان کر کھڑے ہوئے
12:03کہ حضور آپ نے ہر ایک کی ڈیوٹی لگائی
12:05میری ڈیوٹی کچھ نہیں لگائی
12:07کہ مجھے کیا کرنا ہے
12:08فرمایا فرزند اشرف
12:10تم سے خزمت لیتے ہوئے
12:12مجھے شرم آتی ہے
12:13اس لیے
12:14کہ جب تم ترک سلطنت کر کے
12:16شہر سمنان سے چلے تھے
12:18اس وقت سے لے کر
12:19آج تک
12:20ستر مرتبہ
12:21حضرت خزر علیہ السلام نے
12:23مجھے بشارت دی
12:24کہ ایک شہباز سمنان سے
12:25پرواز کر گیا ہے
12:27تمام مشایخین نے
12:28اپنے جال بچھا دیئے ہیں
12:29لیکن میں اس کو
12:30آپ کے پاس لا رہا
12:32اور آپ نہایت
12:33ذمہ داری کے ساتھ
12:35شفقت اور محبت کے ساتھ
12:36اس کی تربیت کریں
12:37میں کیسے تم سے خزمت لوں
12:39لیکن اس کے باوجود
12:40مقدوم سمنانی کا حال یہ تھا
12:43کہ پیرو مرشد کھڑے ہوتے
12:44تو ان کی نالین
12:45سیدھی کر کے
12:46ان کے سامنے رکھتے
12:47جب وہ وضو کرنے کے لیے بیٹھتے
12:49تو مٹی کے لوٹے میں
12:50پانی بھر کر لاکر
12:51پیرو مرشد کو وضو کراتے
12:53مسلسل عبادت
12:54ریاضت
12:55مجاہدہ
12:55چلہ کشی ہوتی رہی
12:57اور عدب کا یہ حال تھا
12:58کہ جب سونے کے لیے
13:00اپنے حجرے میں لیٹھتے
13:02تو اس مقام کی طرف
13:03پیر نہیں کرتے
13:04جہاں پیرو مرشد کا
13:05حجرہ تھا
13:06اتنا عدب فرماتے تھے
13:08ایک دن پیرو مرشد نے فرمایا
13:10ہم نے بارگاہ رب العزت میں
13:12یہ عرض کی ہے
13:12کہ ہمارے اس مرید
13:14فرزند اشرف کے لیے
13:16کوئی خطاب آسمانی
13:18ہونا چاہیے
13:18یہ کہا اور مراغبے میں
13:20چلے گئے
13:21اپنی گردہ نے مبارک
13:22جھکا لی
13:23طویل ترین مراغبہ فرمایا
13:25یہاں تک کہ
13:26فجر کی ازان ہو گئی
13:28ازان کے وقت
13:29حضرت علاودین
13:30گنج نبات رحمت اللہ علیہ
13:32نے
13:32اپنا چہرے مبارک
13:33اٹھایا
13:34چہرے پر خوشی
13:35اور مسررت کے اثار تھے
13:36فرمایا
13:37فرزند اشرف مبارک ہو
13:38بارگاہیں
13:39رب العزت سے
13:40تمہیں جہانگیر
13:41کا لقب عطا ہوا ہے
13:43حضرت مغدوم سمنانی
13:45فرماتے ہیں
13:45فجر کی نماز کے لیے
13:47جب میں مسجد میں گیا
13:48نماز ادا کی
13:49نماز کے بعد
13:50جو بھی
13:51مجھ سے مسافہ کرتا تھا
13:52جہانگیر کہہ کے
13:53مجھے مبارک بات دیتا تھا
13:55پھر خانقہ کے درو دیوار
13:56سے جہانگیر
13:57جہانگیر کے آواز آ رہی تھی
13:58یہ خطاب آسمانی تھا
14:00تو آپ کا نام ہوا
14:02سید اشرف جہانگیر
14:04سمنانی
14:04ایک دن پیرو مرشد
14:06نے فرمایا
14:07بس
14:07اب
14:08حکم ربی یہی ہے
14:10کہ تمہاری ذات سے
14:11مخلوق خدا کو
14:12فیض پہنچے
14:13اور دین اسلام کی
14:14ترویر و اشاعت ہو
14:15کہا میری
14:16مرضی یہ تھی
14:17میری خواہش یہ تھی
14:18کہ ساری عمر
14:23پیرو مرشد کے حکم سے
14:26آپ روانہ ہوئے
14:27پہلا سفر آپ نے
14:29جونپور کا کیا
14:30ایک خیمہ لگا دیا گیا
14:32وہاں آپ
14:33رونہ قفروز ہوئے
14:34مرضی دین جو ساتھ تھے
14:35ان کے لئے دیگر خیمے لگائے
14:37آپ نے دیکھا
14:38کہ سامنے سے
14:38لوگوں کے عام و درفت ہو رہی ہے
14:40یہ پہلا سفر
14:41تا حضرت مخدوم سمنانی
14:43کا تبلیغ دین کے سلسلے میں
14:45لوگوں سے پوچھا
14:46یہ کیا ہیں
14:47کہ حضور ایک مندر ہے
14:48یہاں پر لوگ آتے ہیں
14:50عبادت کرتے ہیں
14:51پوجہ کرتے ہیں
14:52ہندو
14:52یہاں پر پوجہ کرنے آتے ہیں
14:54فرمایا
14:54ہم بھی کل جائیں گے
14:55فضل کی نماز پڑھ کے
14:57آپ مرضین کے حمراہ
14:58اس مندر میں داخل ہوئے
15:00چاروں طرف بھت رکھے تھے
15:01آپ نے
15:03جب دیکھا
15:04تو
15:05وہ سب
15:06وہ سب کے سب
15:08وہاں پر آئے
15:09اور آ کر
15:09آپ سے
15:10پوچھا
15:11کہ آپ کیسے آئے
15:12انہیں دیکھا
15:12کہ ایک مسلمان صوفی
15:13یہاں پر داخل ہوا
15:14اس وقت
15:16ایک بحث چڑھی
15:16کہ کون سا مذہب درست ہے
15:18آپ نے فرمایا
15:19دین اسلام درست ہے
15:20انہوں نے کہا
15:21ہندو مذہب درست ہے
15:22ہم اس موضوع پر
15:23آپ سے
15:23مناظرہ کریں گے
15:25فرمایا
15:26ہم کوئی مبائسہ
15:27مناظرہ نہیں کرتے
15:28ہم صرف یہ کہتے ہیں
15:29کہ اگر یہ
15:30تمہارا سب سے بڑا
15:31بدھ
15:31ہمارے نبی کا
15:32کلمہ پڑھ لے
15:33تو پھر کیا ہوگا
15:35وہ حیران رہ گئے
15:35یہ کیسے ہو سکتا ہے
15:36آپ آگے بڑھے
15:38اس بت کا ہاتھ پکڑا
15:39آپ فرمایا
15:40پڑ لا الہ الا اللہ
15:41محمد الرسول اللہ
15:42وہ جتنے پجھا رہی تھے
15:44ان سب کے سامنے
15:45بت نے باوازے بلند پڑا
15:47لا الہ الا اللہ
15:48محمد الرسول اللہ
15:49وہ یہ دیکھ کر
15:50سب کے سب
15:51کلمہ پڑھ کر
15:51مسلمان ہو گئے
15:52اور دائرہ اسلام میں
15:54داخل ہو گئے
15:55آپ نے ان تمام
15:56بتوں کو
15:56وہاں سے نکلوا کر
15:57پھیک دیا
15:58ان کی تربیت کی
15:59اور اسی مندر کو
16:00خانقہ اشرفیہ میں
16:02تبدیل کر دیا
16:03حضرت مغتوم سمنانی
16:04عالمِ باعمل تھے
16:06صوفیِ باصفہ تھے
16:07رہبرِ شریعت تھے
16:09رہنمائے طریقت تھے
16:10ظاہری باطنی علوم
16:12کا مرکز اور منبع تھے
16:14آپ نے
16:14ایک سو بیس سال کی عمر پائی
16:17اور پوری دنیا کا
16:18تین مرتبہ چکر لگایا
16:20جہاں جہاں بھی پہنچے
16:22اسلام کی ترویر
16:23جو اشاعت کی
16:24جہاں پر بحث
16:25اور مباعثے کا موقع آیا
16:26تو دلائل و براہن سے
16:28اسلام کی حقانیت
16:29کو ثابت کیا
16:30اور جہاں پر
16:31روحانیت کے ذریعے
16:32اسلام کی حقانیت
16:33کو ثابت کرنے کا
16:34موقع آیا
16:35تو اپنی کرامات کے ذریعے
16:37اسلام کی حقانیت
16:38کو ثابت کیا
16:39ہزاروں لاکھوں
16:40آپ نے مسلمان کیے
16:42اور بے شمار
16:43لوگوں کو
16:43رائے ہدایت پہنچائی
16:45مغدومِ سمنانی نے
16:47صرف
16:47تقریر پر اکتفاہ نہیں کیا
16:50بلکہ تحریری طور پر
16:55مکتوباتِ اشرفی
16:57تحقیقاتِ عشق
16:58رسالہِ قبریہ
16:59حجت الزاکرین
17:01ترجمہِ قرآن
17:02اور ترجمہِ قرآن
17:04جو آپ نے
17:04دورانِ سلطنت
17:06یعنی جب آپ
17:06سمنان کے بادشاہ تھے
17:08اس وقت آپ نے
17:09فارسی زبان میں
17:10بہترین
17:11انداز میں
17:12قرآنِ کریم کا
17:13ترجمہ کیا
17:14جو غالباً
17:15فارسی زبان کا
17:17پہلا ترجمہ
17:18اگر اسے کہا جائے
17:19تو یہ بیجا نہ ہوگا
17:20سات سو ستائیس ہجری
17:21میں آپ نے
17:22یہ ترجمہ کیا
17:23اس سے پہلے
17:24کوئی ترجمہ
17:24ثابت نہیں ہے
17:25مقدومِ سمنانی
17:27کی یہ کتاب
17:27لطائفِ اشرفی
17:28جس کے اندر
17:30انبیاء کا ذکر ہے
17:32اولیاء کا ذکر ہے
17:33طریقت کا ذکر ہے
17:34شریعت کا ذکر ہے
17:35حقیقت کا ذکر ہے
17:36معرفت کا ذکر ہے
17:38رائے سلوک کا ذکر ہے
17:39کیا چیز ہے
17:40جو لطائفِ اشرفی میں نہیں
17:41وہ علوم و معرف
17:42کا ایک خزانہ ہے
17:43دوسری کتاب
18:08مقدومِ سمنانی
18:09نے اس میں
18:10اپنے عقائد
18:11اپنے نظریات کی
18:12وضاحت فرمائی
18:13اور اپنے مردین
18:14کو ذکر کی تعلیم دی
18:16اور شریعت
18:16اور طریقت پر
18:17استقامت کے ساتھ
18:18عمل کرنے کی
18:19تعلیم دی
18:20اور ان کو
18:21حکم دیا
18:22کہ وہ
18:22اس پر عمل کریں
18:23اسی طرح
18:24آپ کی دیگر
18:25کتب بھی
18:25موجود ہیں
18:26آپ نے
18:27آٹھ سو
18:28بتیس ہجری میں
18:30اٹھائیس
18:31محرم الحرام
18:32کو
18:32کوچوچ شریف
18:33میں آپ نے
18:34وصال فرمایا
18:35اور وصال سے
18:36قبل فرمایا تھا
18:37میں نے بارگاہ
18:38رب العزت میں
18:39یہ دعا کی ہے
18:44دینی یا دنیاوی
18:45حاجت لے کر
18:46انشاءاللہ
18:47خالی نہیں جائے گا
18:49اللہ کے کرم سے
18:50اس کی حاجت
18:50پوری ہوگی
18:51اور مجھے یہ پتا ہے
18:52کہ میری یہ دعا
18:53بارگاہ رب العزت
18:55میں قبول ہو چکی
18:56آپ کا مظہر مبارک
18:58آج بھی
18:59کچوچ شریف
19:00زلا
19:01امبیٹ کر
19:02نگر
19:02یوپی
19:03انڈیا میں
19:04مرجہ خلائق ہے
19:06ہزاروں کروڑوں
19:07لوگ وہاں پر
19:08پورے سال
19:09جاتے ہیں
19:10فیوز و برکات
19:11حاصل کرتے ہیں
19:12کسی پر جن ہو
19:13آسیب ہو
19:14جادو ہو
19:15یا ویسی کوئی
19:16جلدی بیماری ہو
19:17مقدوم سمنانی کے
19:18بارگاہ میں
19:19حاضری دیتے ہیں
19:20دعا کرتے ہیں
19:21اللہ تعالیٰ ان کے
19:22وسیلے سے
19:22اس کی وہ پریشانی
19:23اس کی وہ مشکل
19:24اور اس کی وہ بیماری
19:25دور فرما دیتا
19:26اللہ رب العالمین
19:28بے شمار رحمت
19:29نادل فرمائے
19:30ان کے مرقد مبارک پر
19:31اور ان کی
19:33نالین سے لگے ہوئے
19:34ذروں کے صدقے میں
19:35ہم سب کے
19:36سخیرہ و کبیرہ
19:37گناہوں کو
19:38معاف فرمائے
19:39وآخر دعوانا
19:41ان الحمدللہ
19:42رب العالمین
Comments