Skip to playerSkip to main content
Is it possible to travel thousands of miles in the blink of an eye? In this video, we explore the profound concept of Tay al-Ard (folding of the earth) through the twin lenses of Quranic narrative and modern theoretical physics.

We dive deep into the historical account of Prophet Sulaiman (AS) and the miraculous bringing of the Throne of Bilqis. Could the "knowledge of the Book" mentioned in the Quran be a precursor to what we now call Quantum Tunneling or Einstein-Rosen Bridges (Wormholes)?

Key Topics Covered:

The Quranic concept of space-time manipulation.

Scientific theories of Time Dilation and Wormholes.

How modern science is beginning to mirror ancient spiritual miracles.

The connection between divine knowledge and the laws of the universe.

Join us as we bridge the gap between faith and science to uncover how the mysteries of the universe are woven into the fabric of the Quran.
-----------
#TayAlArd #quranandscience #quantumphysics #islamicmiracles #spacetime #teleportation #wormholes #faithandscience #scienceinquran #islamicknowledge

Category

📚
Learning
Transcript
00:00عام طور پر نا سکولوں کالجوں میں یہی پڑھایا جاتا ہے کہ دو مقامات کے درمیان جو سب سے کم
00:07فاصلہ ہے وہ ایک سیدھی لکیر میں
00:09جی بلکل ایک سٹریٹ لائن
00:11ہاں ایک سٹریٹ لائن اور کائنات کے حوالے سے بھی ہم عام طور پر یہی سمجھتے ہیں کہ اگر ایک
00:18ستارے سے کسی دوسرے ستارے تج جانا ہو تو بس ایک سیدھی لکیر میں روشنی کی رفتار سے سفر کرنا
00:24ہوگا
00:25جو کہ بظاہر منطقی بھی لگتا ہے
00:26بلکل لگتا ہے لیکن ذرا سوچیں کہ کیا ہو اگر کائنات کا سب سے چھوٹا فاصلہ کوئی لکیر ہو ہی
00:35نہ مطلب وہ فاصلہ سرے سے سفر ہو جائے
00:37یہ تو بڑا گہرا سوال ہے
00:39ہاں ہاں یعنی کیا ہو اگر کائنات کو عبور کرنے کا جو راز ہے وہ تیز سفر کرنے میں نہیں
00:45بلکہ خود اس فاصلے کے وجود کو ہی غائب کر دینے میں چھپا ہو
00:51بظاہر تو یہ ایسے لگتا ہے جیسے ہم کسی ہالی ووڈ کی سائنس فکشن فلم کے سکرپٹ کی بات کر
00:57رہے ہیں
00:57جی بلکل ایسا ہی لگتا ہے
00:58لیکن دلچس بات یہ ہے کہ جب جدید ایسٹرو فیزکس اور ہماری جو صدیوں پرانی روحانی اور قرآنی علوم کی
01:06تاریخ ہے نا
01:07جب ان کا گہرائی سے موازنہ کیا جائے تو یہ تصور محض ایک فکشن نہیں رہتا
01:12صحیح
01:12بلکہ یہ ایک انتہائی ٹھوس اور احران کن کائناتی حقیقت بن کر سامنے آتا ہے
01:17اور یہی دراصل آج کے ہمارے اس گہرے متعلقہ مرکزی نکتہ ہے
01:23جی بلکل
01:23آج ہم جن ذرائع پر بات کر رہے ہیں وہ جدید فیزکس خاص طور پر جو ایلبرٹ آئنسٹائن کے نظریات
01:30ہیں
01:30اور قرآن کریم کے آفاقی علم کے درمیان ایک بڑا ہی ناقابل یقین تعلق قائم کرتے ہیں
01:37اور ہمارا مقصد بھی یہی ہے کہ اس معلومات کے اندر سے ہم یہ سمجھ سکیں
01:41کہ اسلامی تاریخ میں جو ایک لفظ ملتا ہے تیہ الارز اس کا اصل مفہوم کیا ہے
01:45ہاں تیہ الارز اور یہ جدید سائنس کے بلیک ہولز یا ورم ہولز اور سپیس ٹائم کے جو نظریات ہیں
01:53ان سے کس طرح جڑا ہوا ہے
01:55بلکل
01:56تو دیکھیں یہ ایک ایسا موضوع ہے جو مادی سائنس اور روحانیت کے درمیان جو ایک خلیج نظر آتی ہے
02:01نا
02:01اسے بلکل ختم کر دیتا ہے
02:03جی
02:03لیکن اسے سمجھنے کے لیے ہمیں کائنات کی جو بلکل بنیادی ساخت ہے اس کے ارتقاء کو دیکھنا ہوگا
02:10تو بات شروع کرتے ہیں کائنات کی اسی بنیادی ساخت سے یعنی خلہ یا جس کو ہم سپیس کہتے ہیں
02:18صحیح
02:18انیس سو پندرہ سے پہلے کے دور کی اگر بات کریں تو اس وقت کے سائنس دانوں کے نزدیک یہ
02:25خلہ آخر کیا چیز تھی
02:26مطلب یہ فاصلے کیا تھے
02:28انیسویں صدی اور اس سے پہلے کا جو کلاسیکی فیزکس کا دور تھا نا
02:32بلخصوص جو نیوٹن کے نظریات تھے
02:34جی نیوٹونین فیزکس
02:36ہاں تو اس کے تحت یہ مانا داتا تھا کہ خلہ محض ایک خالی ساکت اور ٹھوس سا ڈبا ہے
02:43مطلب اسے ایک ایسا سٹیج سمجھا جاتا تھا جو بس اپنی جگہ کھڑا ہے
02:47اور کائنات کے تمام ستارے سیارے اور کہکشائیں اس سٹیج پر موجود کردانوں کی طرح حرکت کر رہے ہیں
02:55تو وقت کے بارے میں کیا خیال تھا ان کا
02:57وقت کے بارے میں یہ خیال تھا کہ وہ ایک بالکل الگ چیز ہے
03:01جیسے کائنات کی دیوار پر لگی کوئی گھڑیوں جو سب کے لیے ایک ہی رفتار سے چل رہی ہے
03:06یعنی سٹیج الگ ہے اور گھڑی بلکل الگ
03:10جی بلکل
03:10کب پورا پرانا موڈل زمین بوس ہو جاتا ہے
03:13بلکل ایسا ہی ہے
03:14آئنسٹین نے ثابت کیا کہ خلہ کوئی خالی ڈبا نہیں ہے
03:17اور وقت کوئی الگ سے لگیوی گھڑی نہیں ہے
03:21بلکہ خلہ کی جو تین جہتیں ہیں
03:24یعنی ڈائمنشنز اور وقت کی جو ایک جہت ہے
03:27یہ چاروں آپس میں ایک دھاگے کی طرح بنے ہوئے ہیں
03:31اور یہ سب مل کر ایک لچکدار جال بناتے ہیں
03:34جسے ہم آج سپیس ٹائم فیبرک کہتے ہیں
03:37تو یہی سے جدید فیزکس کا وہ سفر شروع ہوتا ہے
03:40جو آج کے ہمارے موضوع کی اصل بنیاد ہے
03:43مطلب اس لچکدار تانے بانے یا فیبرک پر سفر کرنے کی
03:47ایک حتمی حد مقرر ہے
03:50جی روشنی کی رفتار
03:51بلکل کائنات کی کوئی بھی مادی چیز
03:54اس فیبرک پر روشنی کی رفتار
03:57یعنی قریباً کوئی تین لاک کلومیٹر فی سیکنڈ سے
04:00تیز حرکت نہیں کر سکتے
04:02صحیح بات ہے
04:03لیکن مجھے یہاں ایک بات تھوڑی الجھا رہی ہے
04:07میں سوچ رہی ہوں کہ
04:09اگر روشنی کی رفتار ہی حتمی حد ہے
04:11تو پھر کائنات کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جانا
04:15تو ناممکن ہو گیا نا
04:16کس طرح
04:18کیونکہ کائنات اتنی زیادہ وسی ہے
04:21کہ روشنی کو بھی وہاں پہنچنے میں
04:24عربوں سال لگ جائیں گے
04:25تو کیا فیزکس ہمیں اس قید خانے میں
04:27ہمیشہ کے لیے بند کر دیتی ہے
04:29اب دیکھیں روایتی طور پر سفر کرنے کے حوالے سے
04:32تو شاید ایسا ہی ہے
04:33لیکن جنرل ریلیٹیوٹی کی جو
04:36ریازیاتی مساوات ہیں
04:37ان میں ایک چوڑ دروازہ موجود ہے
04:39اچھا وہ کیسے
04:41آئنسٹینگ کی مساوات ہمیں یہ بتاتی ہیں
04:48وہ دراصل اس پیس ٹائم کے فیبرک کو موڑ سکتی ہے
04:52اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے
04:54کہ اگر ایک لچکدار پردے
04:56جیسے کسی ٹرامپولین
04:58کہ بلکل بیچ میں ہم ایک بھاری سی
05:00باولنگ باول رکھ دیں
05:01جی بلکل وہ درمیان سے نیچے دب جائے گا
05:03ہاں وہ پردہ اپنے مرکز سے نیچے کی طرف
05:05دب جاتا ہے یا موڑ جاتا ہے
05:07یہی کام گرائوٹی کرتی ہے
05:08اچھا تو اس کا مطلب لیو ہوا
05:10کہ جتنی زیادہ کشش سکل ہوگی
05:14یہ کائنات کا کپڑا
05:15اتنا ہی زیادہ مڑے گا
05:16سو فیصد رست
05:18اور اگر اس کپڑے کو
05:21مڑنے کی طاقت انتہائی حد تک
05:24پہنچ جائے
05:24تو کیا وہ کپڑا مکمل طور پر
05:27تیہ ہو کر ایک سرے سے دوسرے سرے سے
05:29مل سکتا ہے
05:30بلکل
05:30فیزکس کی روح سے یہ ممکن ہے
05:33ایسٹرو فیزکس کی زبان میں اسی عمل کو
05:35آئنسٹائن روزن بریجز
05:37یا پھر عام فہم زبان میں
05:40ورم ہول کہا جاتا ہے
05:41ورم ہول
05:42صحیح
05:42جب کسی بلک ہول جیسی
05:44بے پناہ کشش سکل
05:45عمل کرتی ہے نا
05:47تو وہ سپیس ٹائم کے اس فیبرک کو
05:48اس طرح فول کر دیتی ہے
05:50کہ کروڑوں نوری سال کا فاصلہ
05:52محض ایک دروازے
05:53یا سرنگ میں بدل جاتا ہے
05:54اس تصور کو نا
05:56عام زندگی کی ایک مثال سے سمجھتے ہیں
05:58فرض کریں
05:59کہ ایک بہت بڑے ہول میں
06:02ایک انتہائی طویل قالین بچھا ہوا ہے
06:04اور
06:06کسی شخص کو اس قالین کے دوسرے سرے تک پہنچنا ہے
06:09تو ایک طریقہ تو یہ ہے
06:11کہ وہ شخص اس قالین پر قدم با قدم چل کر
06:14وہ فاصلہ تے کرے
06:15جس میں ظاہر تونائی بھی لگے گی اور وقت بھی
06:17بلکل
06:18لیکن دوسرا طریقہ یہ ہے
06:20کہ وہ شخص اپنی جگہ پر کھڑا رہے
06:23اور اس قالین کو ہی کھیچ کر
06:25تے کر کے اپنے قدموں میں سمیٹ لے
06:28واہ بڑی زبردست مثال ہے
06:30ہے نا قالین میں لہرے پڑیں گی
06:32وہ سمٹ جائے گا
06:33اور ہول کا دوسرا سرہ خود اس شخص کے قدموں میں آ جائے گا
06:37مطلب
06:38اس نے تیز سفر نہیں کیا
06:40بلکہ
06:41اس نے فاصلے کی حقیقت کو ہی لپیٹ دیا
06:45یہ مثال
06:46بلیک ہول اور ورم ہول کی فزکس کو سمجھنے کے لیے
06:49نہایت شاندار ہے
06:51کائنات میں انتہائی کشش سکل بھی
06:53دراصل اسی قالین کو کھینچنے
06:55اور موڑنے کا کام کر دی ہے
06:57لیکن یہاں سے ہماری گفتگو
07:00ایک ایسے موڑ میں داخل ہوتی ہے
07:02جو واقعی انسان کو حیرت میں مبتلا کر دیتا ہے
07:05جی وہ کیسے
07:05دیکھیں یہ تو ہو گئی آج کی جدید سائنس
07:09لیکن اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں
07:11تو ہمیں پتہ چلتا ہے
07:13کہ آئنسٹائن کے اس سپیس ٹائم کو
07:15تہہ کرنے کے نظریے سے
07:17کئی صدیان پہلے
07:18اسلامی فکری اور صوفیانہ روایات میں
07:22ایک استلاب بکسرت استعمال ہوتی رہی ہے
07:25ہاں تیولارز
07:26بلکل تیولارز
07:30اگر اس اسطلعہ کا متعلیہ کیا جائے نا
07:32تو واقعی حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں
07:35جی
07:35لفظ الارز سے مراد
07:37زمین خشکی یا ایک وسی علاقہ ہے
07:41جسے ہم اسپیس کہہ سکتے ہیں
07:42اور جو لفظ تئی ہے
07:45اس کا بنیادی اور لغوی مطلب ہی
07:47لپیٹنا یا تہہ کرنا ہے
07:49جیسے کاغذ کو فولڈ کرنا
07:51بلکل کسی کاغذ کو فولڈ کرنے
07:53یا کسی قالین کو سمیٹنے کے معنے میں
07:56یعنی تیولارز کا جو لغوی مطلب بنتا ہے
07:58وہی خلا یا زمین کو لپیٹ دینا ہے
08:02ایک منٹ رکیے
08:03یہ بات واقعی
08:06سوچنے پر مجبور کرتی ہے
08:07کہ ابتدائی اسلامی مفکرین
08:09نے تیز سفر یا اڑان جیسی
08:11اسطلعہ استعمال نہیں کی
08:13نہیں بلکل نہیں کی
08:14بلکہ انہوں نے باقاعدہ سمیٹنے
08:16یا لپیٹنے کا لفظ استعمال کیا
08:18لیکن میرے ذہن میں
08:20ایک بہت بڑا سوال اٹھ رہا ہے
08:22جی پوچھیں
08:23دیکھیں فیزکس کے بنیادی اصول ہیں
08:25جیسے تھرمو ڈائنامیکس
08:27جن کے مطابق کسی بھی مادی چیز کو
08:30حرکت دینے کے لیے
08:31توانائی درکار ہوتی ہے
08:32انرجی چاہیے
08:34سائنس تو کہتی ہے
08:36کہ کائنات کے اس کالین کو تہہ کرنے کے لیے
08:39ایک بلیک ہول جتنی کشش سکل درکار ہے
08:42جو باقاعدہ ستاروں کو نگل لیتی ہے
08:45تو ایک انسان جو مٹی سے بنا ہے
08:48وہ محض ایک روحانی عمل کے زلیے
08:51زمان و مکان کو کیسے لپیٹ سکتا ہے
08:54کیا یہ برائے راز طبعی قوانین سے بغاوت نہیں ہے
08:58یہ ایک انتہائی منطقی سوال ہے
09:00اور اس کا جواب ہمیں
09:02مادی کائنات کے ان اصولوں کے اندر نہیں ملتا
09:05تو پھر کہاں ملتا ہے
09:07بلکہ ان اصولوں سے بالاتر ایک سچائی میں ملتا ہے
09:10دیکھیں
09:10تیل ارز کا جو تصور ہے
09:12وہ دراصل طبعی قوانین کو توڑتا نہیں ہے
09:14بلکہ یہ اس سے بھی بلندر
09:16ایک اور قانون کے تحت کام کرتا ہے
09:19تصوف اور اسلامی فلسفے کے مطابق
09:22جب کسی انسان کا روحانی تعلق
09:24اللہ تعالی سے انتہائی گہرہ ہو جاتا ہے
09:26تو مادہ جو ہے
09:27وہ روحانیت کے تابع ہو جاتا ہے
09:29صحیح
09:30اس کیفیت میں زمان و مکان کے وہ طبعی قوانین
09:33جو ہم عام انسانوں پر لاغو ہوتے ہیں
09:35وہ اللہ کے حکم سے عارضی طور پر
09:38اس شخص کے لئے تحلیل ہو جاتے ہیں
09:40یعنی
09:40یہ کسی جسمانی مشینری کا کمال نہیں ہے
09:44بلکہ یہ شعور اور روح کا
09:46مادی کائنات پر غلبہ ہے
09:48بلکل
09:49اسی کو مادی حدود کا بائی پاس کہا جا سکتا ہے
09:52اور یہ کوئی ایسا فلسفہ نہیں
09:54جو محض پرانی کتابوں تک کی محدود ہو
09:56جی بلکل
09:57اگر ہم اس خطے کی صوفیانہ شائری کا مطالعہ کرے
10:00تو یہ تصور بڑی وضاحت سے ملتا ہے
10:03پشتوں کے معروف صوفی شائر
10:05رحمان بابا کا کلام دیکھ لیں
10:06جب وہ کہتے ہیں
10:08کہ درویشوں کی پرواز کو دیکھا جا سکتا ہے
10:11اور ان کے قدم عرش تک جاتے ہیں
10:13تو وہ محض روحانی کیفیات نہیں بیان کر رہے ہوتے
10:16تو
10:17جب علامہ اقبال اپنے اشعار میں کہتے ہیں
10:20کہ اللہ کے ان بندوں کی حیبت سے
10:23پہاڑ رائی کے دانے کی طرح سمٹ جاتے ہیں
10:25یا سہرہ اور دریا دو حصوں میں بڑھ جاتے ہیں
10:28جی جی
10:29تو ہم عام طور پر اسے صرف ایک
10:32شائرانہ مبالغہ سمجھ کر گزر جاتے ہیں
10:34بلکل ایسا ہی ہے
10:35لیکن اگر تیولرز کے عدسے سے دیکھا جائے
10:38تو مجھے لگ رہا ہے کہ شاید اقبال دراصل
10:41اسی سپیس ٹائم فیبرک کے سمٹنے اور زمانوں مکان کے
10:44تہہ ہو جانے کی ہی نشاندہ ہی کر رہے تھے
10:46یہ ایک بہت اہم نکتہ نظر ہیں
10:48لیکن ان فکری اور صوفیانہ حوالوں سے بڑھ کر
10:53ہمارے پاس اس تصور کی سب سے بڑی
10:55ناقابل تردید اور ٹھوس بنیاد
10:58خود قرآن کریم میں موجود ہیں
11:00بلکل
11:01ایک ایسا واقعہ جو تاریخ انسانی میں
11:03اس کائناتی اصول کے عملی اطلاق کی
11:06سب سے بڑی مثال ہے
11:08بلکل ہم بات کر رہے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار کی
11:11جی
11:12صورت ان نمل میں اس واقعے کی جو تفصیلات ملتی ہیں
11:15وہ واقعے کسی بھی باشعور ذہن کو دنگ کر دینے کے لئے کافی ہیں
11:19واقعہ کچھ یوں ہے
11:20کہ ملکہ سبا
11:22یمن سے یروشلم کی جانب مہوے سفر ہے
11:25اور یمن سے یروشلم کا فاصلہ
11:27دو ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ بنتا ہے
11:29ہاں دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ
11:31تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے
11:33جنہیں اللہ نے جنوں
11:35انسانوں اور فطرت کی طاقتوں پر
11:37تسلط عطا کیا تھا
11:39انہوں نے اپنے دربار میں ایک چیلنج پیش کیا
11:41صحیح
11:42انہوں نے پوچھا کہ تم میں سے کون ہے
11:44جو ملکہ کے یہاں پہنچنے سے پہلے
11:46ان کا شاندار اور بھاری بھرکم تخت
11:49میرے پاس لاسکتا ہے
11:50اب دیکھیں یہ چیلنج
11:51عام حالات میں بلکل ناممکن تھا
11:53بلکل
11:54دو ہزار کلومیٹر کے فاصلے سے
11:56ایک بھاری تخت کو
11:58چند دنوں یا گھنٹوں میں نہیں
12:00بلکہ چند لمحوں میں لانے کی بات ہو رہی تھی
12:02قرآن بتاتا ہے کہ
12:04سب سے پہلے ایک انتہائی طاقتور جن نے
12:07جسے افرید کہا گیا
12:08اس نے پیش کش کی
12:09اس نے کہا کہ میں یہ تخت
12:11اس دربار کے برخواست ہونے سے پہلے
12:13یعنی
12:15آپ کے اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے
12:17لا سکتا ہوں
12:18اور اس نے ساتھ ہی اپنی بے پناہ
12:20طاقت اور امانتداری کا دعویٰ بھی کیا
12:22تو اگر ہم اس جن کے دعوے کا تجزیہ کریں
12:25تو اس کی پیش کش خالصتاً
12:28فیزیکل اینرڈی
12:30یعنی جسمانی طاقت اور رفتار پر مبنی تھی
12:32بلکل وہ رفتار پر انحصار کر رہا تھا
12:34وہ شاید ہواوں میں اڑ کر جا سکتا تھا
12:36بہت تیز رفتار ہو سکتا تھا
12:38لیکن اس کی رفتار
12:40پھر بھی وقت اور فاصلے کی محتاج تھی
12:42ہاں تبعی قوانین کے ماتحت تھی
12:44جی وہ اپنی طاقت پر
12:46نازان تو تھا لیکن وہ کائنات
12:48کے انہی تبعی قوانین کے دائرے میں
12:50ہی آپریٹ کر رہا تھا
12:51اسے پھر بھی کچھ گھنٹے یا کم از کم کچھ منٹ
12:54درکار تھے لیکن پھر دربار
12:56میں ایک اور شخص بولا جی
12:57قرآن کریم کی صورت النمل آیت چالیس
13:00کے الفاظ کچھ یوں ہیں
13:01اس شخص نے کہا جس کے پاس کتاب کا علم تھا
13:04میں اسے آپ کے پاس لے آؤں گا
13:06اس سے پہلے کہ آپ کی پلک جھپکے
13:07یا آپ کی نگاہ آپ کی طرف لوٹے
13:10سبحان اللہ
13:11تاریخ اسے آصف بن برخیہ کے نام سے جانتی ہے
13:14اور اگلے ہی لمحے
13:15وہ بھاری بھرکم تخت دو ہزار کلومیٹر
13:18کا فاصلہ عبور کر کے وہاں موجود تھا
13:21ایک لمحے کے لیے
13:22اس پر غور کرنا ضروری ہے
13:23پلک جھپکنے کا لمحہ یعنی
13:26محض ملی سیکنڈز
13:34جن کی مثال مجھے ایسے لگ رہی ہے
13:37جیسے کسی ویڈیو گیم میں
13:38کوئی کردار جو بہت طاقتور ہے
13:41اور نقشے پر بہت تیزی سے دوڑ رہا ہے
13:44وہ جتنا بھی تیز دوڑ لے
13:46اسے نقشے کا فاصلہ تو تیہ کرنا ہی پڑے گا
13:49لیکن جس شخص کے باز کتاب کا علم تھا
13:52اس نے دوڑ نہیں لگائی
13:53اس نے فاصلہ تیہ نہیں کیا
13:56اس کے پاس دراصل اس کائنات نامی
13:59گیم کا سورس کوٹ تھا
14:00بلکل سورس کوٹ تھا
14:02اس نے کوئی طاقت استعمال نہیں کی
14:04اس نے آہاں بس ایک ڈیویلپر کی طرح
14:07کوارڈنیٹس بدلے
14:08اور چیز ایک جگہ سے دوسری جگہ
14:10منتقل ہو گئی
14:11اس نے گویا آپریٹنگ سسٹم کو ہی بائی پاس کر دیا
14:15یہ تمسیل اس واقعے کو سمجھنے کے لیے
14:17نہایت شاندار ہیں
14:19اور آپ کی یہ جو سورس کوٹ والی بات ہے
14:21یہ جدید سائنس کے ایک اور پہلو سے
14:24بڑی گہری مطابقت رکھتی ہے
14:27جدید فیزکس میں
14:28انفرمیشن تھیوری اور
14:29کونٹم میکینکس میں بہت کام ہو رہا ہے
14:32جان آچی بارڈ ویلر جیسے نام اور
14:34ماہرے طبیعت کا یہ نظریہ تھا
14:36کہ یہ کائنات بنیادی طور پر
14:38مادے یا تونائی سے نہیں
14:39بلکہ انفرمیشن یعنی معلومات سے بنی ہے
14:42ہر چیز دراصل
14:44کوڈ یا ڈیٹا ہے
14:45تو اس کا مطلب یہ ہے کہ
14:47جب قرآن یہ کہتا ہے کہ
14:49اس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا
14:52تو وہ دراصل اسی کائناتی انفرمیشن تک
14:54رسائی کی طرف اشارہ ہے
14:55بلکل
14:56وہ شخص کسی بلیک ہول کی
14:58کشش سکل کا محتاج نہیں تھا
15:00اس علم کی بدولت
15:02جو ظاہر ہے اللہ کی آتا تھی
15:04اس نے یروشلم اور یمن کے درمیان
15:07موجود
15:07سپیس ٹائم فیبرک کو
15:09محض ایک میلی سیکنڈ کے لیے
15:11اس طرح تہہ کیا
15:13کہ وہ دو مختلف مقامات
15:15اس ایک لمحے کے لیے
15:17بلکل ایک ہی نقطے پر آگئے
15:19اللہ اکبر
15:20اور پھر وہ فیبرک واپس
15:21اپنی جگہ پر چلا گیا
15:22اس نے کسی چیز کو دھکا نہیں لگایا
15:25محض علم کے ذریعے
15:27کائنات کے کینوز کو سمیڑ دیا
15:29یہ واقعہ اس بات کی حتمی دلیل ہے
15:32کہ اس کائنات کی سب سے
15:34عالی طاقت
15:35فیزیکل انرجی
15:36یا مادہ نہیں ہے
15:38بلکہ وہ خالص علم ہے
15:40جو خالق کائنات کی طرف سے
15:42عطا ہوتا ہے
15:42یہ بات واقعی انسان کے شہور
15:45کو جھنجھوڑ دیتی ہے
15:46جی بلکل
15:49تئی کے تصور کو
15:50کائناتی سطح پر دیکھتے ہیں
15:52تو قرآن کریم میں
15:54ایک اور بہت ہی لرزہ خیز منظر
15:56سامنے آتا ہے
15:57سورة الانبیاء کا حوالہ
15:59دیکھیں یہ تو ایک انسان کا عمل تھا
16:02جو اللہ کی اجازت سے
16:04ایک چھوٹے سے فاصلے کو
16:05سمیٹنے کے لیے کیا گیا
16:07لیکن اگر ہم سورة الانبیاء کی آیت
16:10ایک سو چار کا مطالع کریں
16:12تو وہاں اللہ تعالیٰ قیامت کے منظر
16:14کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے
16:16کہ جس دن ہم آسمان کو
16:18اس طرح لپیٹ دیں گے
16:19جیسے تمار میں اوراق
16:21یعنی ریجسٹر میں
16:22کاغذ لپیٹ دیے جاتے ہیں
16:24سبحان اللہ
16:25یہ اس پورے تصور کی
16:27سب سے شاندار میراج ہے
16:28بلکل
16:29یہاں لفظ تئی
16:31اپنے مکمل جلال
16:32اور کائناتی وسط کے ساتھ
16:34استعمال ہوا ہے
16:35جو خالق وقت کے اختتام پر
16:37عربوں نوری سالوں پر پھیلی
16:39اس وسیع و عریض کائنات کو
16:41ایک کاغذ کی طرح
16:43لپیٹ دینے کی قدرت رکھتا ہے
16:44اسی خالق نے
16:45اس حقیقت کے
16:47ایک انتہائی چھوٹے سے حصے کا مظاہرہ
16:50حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں کروایا
16:52تاکہ ہم سمجھ سکیں
16:54جی مقصد یہ بتانا تھا
16:55کہ یہ کائنات کوئی ٹھوس
16:57نہ ٹوٹنے والی دیواروں کا قید خانہ نہیں ہے
17:00بلکہ ایک ایسا لچکدار نظام ہے
17:02جو اپنے خالق
17:03اور اس کے دیئے گئے علم کے تابع ہے
17:06تو ان تمام حقائق اور حوالوں کو جاننے کے بعد
17:11اس ساری بحث کا نچوڑ کیا نکلتا ہے
17:14جدید دور کا انسان
17:16اس سے کیا سیکھ سکتا ہے
17:18آپ کے خیال میں کیا پیغام ہے اس میں
17:21میرے نزدیک تو اس کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے
17:24کہ سائنس اور مذہب
17:26کائنات اور قرآن
17:28ایک دوسرے کی زد نہیں ہے
17:30اور نہ ہی
17:32ان میں کوئی تصادم ہے
17:34بلکل صحیح
17:35یہ دراصل ایک ہی حقیقت کو دیکھنے کے دو مختلف زاویے ہیں
17:39سائنس اپنے مشاہدات
17:41لیبورٹریز اور ریاضی کے ذریعے
17:44ہمیں یہ بتانے کی کوشش کر رہی ہے
17:46کہ یہ کائنات کام کیسے کرتی ہے
17:48اس کے میکینکس کیا ہیں
17:50لیکن قرآن کریم
17:52جو کہ حتمی سچائی ہے
17:54وہ ہمیں اس سے اگلا قدم بتاتا ہے
17:57کہ اسے کس نے بنایا ہے
17:59اور اسے بنانے کے پیچھے
18:00اصل حکمت کیا ہے
18:02یہ ایک نہایت متوازن نکتہ نظر ہے
18:05جب بھی سائنس دان
18:06کوانٹم ٹیلیپورٹیشن
18:08ورم ہولز
18:09یا سپیس ٹائم کی نئی تہہوں کو دریافت کرتے ہیں
18:12تو یہ دریافتیں کسی بھی طرح
18:14ہمارے ایمان کو کمزور کرنے کا باعث نہیں ہونی چاہیے
18:17ہاں بلکہ ایمان تازہ ہونا چاہیے
18:20حقیقت تو یہ ہے
18:21کہ سائنسی ترقی دراصل
18:23ان پردوں کے اٹھنے کا عمل ہے
18:24جو اس کائنات کے خالق کی
18:26بے پایاں وسطوں کو ظاہر کر رہے ہیں
18:29ہر نیا دریافت ہونے والا
18:30طبعی قانون دراصل وہی قانون
18:33ہے جو اللہ تعالیٰ کائنات کے آغاز
18:35سے ہی وضع کر چکا ہے
18:36بلکل آج کے اس مطالعے کو سمیٹتے
18:39ہوئے اگر ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں
18:40تو ایک بڑا ہی حیران کنصفہ نظر آتا ہے
18:43ہم نے دیکھا کہ کس طرح
18:44بیسویں صدی کے ایسٹرو فیزکس کے
18:46جدید ترین نظریات کو
18:48صدیوں پہلے اسلامی روایات
18:50اور قرآن کریم نے
18:51تیول ارز اور آسمان کے لپیٹے جانے
18:54کی صورت میں انتہائی خوبصورتی سے
18:56بیان کر دیا تھا اور یہ بھی دیکھا
18:57کہ کس طرح حضرت سلمان علیہ السلام کے
19:00دربار کا وہ واقعہ ایک عملی
19:02ثبوت ہے کہ کائنات میں روحانی
19:04علم کی طاقت کسی بھی مادی طاقت
19:06سے لا محدود حد تک زیادہ ہے
19:08وہ افریت اپنی تمام تر توانائی
19:10کے باوجود اس خالص علم
19:12کے سامنے بے بس تھا
19:13اور اس سے یہ عملی سبق بھی
19:15ملتا ہے کہ انسان کو اس کائنات
19:17پر غور و فکر یعنی تفکر کی عادت
19:19کبھی نہیں چھوڑنی چاہیے
19:20جب ایک انسان جدید سائنس
19:23ستاروں کا علم
19:25اور کائنات کی مشاہدے کو
19:27قرآن کریم کی بصیرت کے ساتھ
19:29ملا کر پڑھتا ہے تو اس کے
19:31سوچنے کا زاویہ مادی
19:33حدود سے آزاد ہو جاتا ہے
19:34جو دل اور دماغ براہ
19:37راست خالق سے جڑ جاتے ہیں
19:39ان کے لیے ہزاروں کلومیٹر کے
19:43غور و فکر ہی وہ واحد راستہ ہے
19:45جو اس کائنات کے بند دروازوں
19:47کو کھول سکتا ہے یہ ایک ایسا
19:49موضوع ہے جس پر
19:51جتنا بھی بات کی جائنا مجھے تو
19:53کم ہی محسوس ہوتی ہے بلکل
19:54علم کی تو کوئی حد نہیں ہے لیکن
19:56اس گفتگو کا اختتام ہم
19:59ایک ایسی فکر کے ساتھ کر رہے ہیں
20:00جو کسی بھی باشور ذہن کو
20:03گہرے تفکر پر مجبور کر دینے
20:05کے لیے کافی ہے جی سوچنے
20:07کی بات ہے نا کہ ہم نے دیکھا
20:09کہ اگر اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ
20:11علم کتاب کے محض
20:13ایک چھوٹے سے جز کی بدولت
20:15کوئی زمان و مکان کے اتنے
20:17بڑے فاصلوں کو محض ایک پلک جھپکنے
20:19میں سمیٹ سکتا ہے
20:20کائنات کے اس کینوز کو فول کر سکتا ہے
20:22تو
20:24یہ سوچنا کتنا حیران
20:27کن ہے کہ قرآن
20:28کریم کی ان مقدس آیات
20:31اور اس وسیع کائنات
20:33کے اندر اور کتنے
20:34انگنت پوشیدہ سورس
20:36کوڈز موجود ہوں گے
20:38سبحان اللہ بہت گہری بات ہے
20:40وہ راز جو شاید آج بھی
20:42اسی لمحے انسانی شعور کے
20:45بیدار ہونے
20:46علم کی سچی جستجو کرنے
20:49اور کائنات پر تفکر کرنے
20:51کا انتظار کر رہے ہیں
20:53یہ واقعی ایک ایسی تلاش ہے
20:55جس کی کوئی حد نہیں
20:56موسیقی
Comments

Recommended