Skip to playerSkip to main content
  • 6 hours ago
K.G.N Welfare Trust Ijtemai Qurbani 2026 | Booking Open | Cow & Goat Qurbani Details | ARY Qtv

K.G.N Welfare Trust ki taraf se Ijtemai Qurbani 2026 ka aaghaz ho chuka hai. Is program mein aap asani se apni Qurbani book kar sakte hain aur mustahiq logon tak gosht pohanchane ka hissa ban sakte hain.

💰 Rates:
• Cow (Share): Rs. 20,000
• Goat: Rs. 36,000

🏦 Bank Details:
United Bank Limited (UBL)
Account Title: Khawaja Gharib Nawaz Welfare Trust
Branch: SITE Branch
Account No: 010-4843-0
IBAN: PK04UNIL0112007101048430

📞 Booking & Contact:
+92-333-1192023
+92-333-1192022
+92-21-32728765

Apni Qurbani ko asaan banayein aur is khidmat mein hissa lein. Aaj hi apni booking confirm karein.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:07ڈی ویلکم بیک ناظرین بریک کے بعد آپ کا خیر مقدم ہے
00:11اجتماعی قربانی دو ہزار چھبیس انڈر دی امریلہ خواجہ غریب نعواز ویل فیر ٹرسٹ
00:17آج اس سال جو اجتماعی قربانی انشاءاللہ وقوع پذیر ہوگی
00:21اس سلسلے میں پہلا پروگرام آپ اس سال کا ملائزہ کر رہے ہیں
00:24اور ہم نے یہ دیکھا آپ نے یہ دیکھا الحمدللہ
00:26KGN کے
00:28تمام لوگ جو اس سے جڑے ہیں
00:30ان کے دلوں میں یقیناً جذبہ خدمت خلق
00:32موجود ہے اور اس کے اظہار کے لیے
00:34کوئی موقع ہو کوئی فیسٹیول
00:36کوئی اسلامی تہوار ہو
00:37کوئی مسیبت کی گھڑی ہو
00:39ہم نے یہ دیکھا کہ
00:40ہم نے پیش پیش پایا KGN کو
00:42ان کے رضاکاروں کو خدمت خلق کے لیے
00:45اور جو مسیبت زدہ لوگ ہیں
00:47ان کی مدد کے لیے جو غرباء ہیں
00:48مستحقین ہیں ان کی دادرسی کے لیے
00:51ہمیشہ الحمدللہ پیش پیش رہنے والا
00:53یہ ویلفیر ادارہ ہے
00:54اور اللہ کی رضا ہی مقصد ہے
00:56کہ کسی طرح اللہ ہم سے ایسے کام لے لے
00:59کہ اللہ رب العزت ہم سے راضی ہو جائے
01:01اور ایک گولڈن آپرچونٹی بن کر
01:03یہ قربانی کا موقع آتا ہے
01:05کہ جب ایک اجتماعی قربانی کے طور پر
01:07بڑی تعداد میں زبیع اللہ کی راہ میں
01:09نہ کہ صرف قربان کیے جاتے ہیں
01:11بلکہ حاصل ہونے والا گوشت
01:12بہت سلیقی سے
01:14عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے
01:16غرباء کے گھروں تک
01:18نہ کہ صرف پہچائے جاتا ہے
01:19بلکہ ان کے دسترخانوں پر ایسے علاقے
01:22کہ جو بہت زیادہ
01:24پستی کی طرف ہیں
01:25بہت زیادہ زبو حالی کا شکار ہیں
01:27وہاں دسترخان پر زیافت کے طور پر بھی کھانا
01:30پیش کیا جاتا ہے
01:31فوٹیجز بار بار آپ کو دکھائے جاتے ہیں
01:33کیونکہ آپ نے سنا ہے ہم نے سنا ہے
01:35بہت ہی موٹیویشنل بات ہے
01:39یہ جو ویجولز آپ کو دکھائے جاتے ہیں
01:41موٹیویٹ کرتے ہیں
01:42کہ اتنے اورگنائز بے میں
01:44کھانا تیار کیا جا رہا ہے
01:46اور ان زبیوں کے لیے
01:48یہ سارا احتمام
01:49صرف اس لیے
01:50کہ یہ سارے کے سارے جانور وہ ہیں
01:52انشاءاللہ جو اس بار بھی
01:53اللہ کی بارگاہ میں قربان کیے جائیں گے
01:55اس سلسلے میں میں چاہتا ہوں
01:57کہ ہم علامہ صاحب کو شاملے
01:59گفتگو کریں
02:00اور ہم یہ جاننے کی کوشش کریں
02:01کہ KGN کا یہ عمل
02:03ایک دعوت عام
02:04ایک دعوت محبت
02:06ایک دعوت خدمت خلق
02:08کہ آئیے
02:09ایک طرف تو عید قربان کے موقع پر
02:11زبیح اللہ کی بارگاہ میں قربان کریں
02:13اور دوسری طرف یہ خوبصورت منظر
02:15کہ بہت اورگنائز بے میں
02:17وہ تمام کا تمام حاصل ہونے والا گوشت
02:19غربہ میں مستحقین میں
02:21خاص طور پر اس طبقے میں تقسیم کر دیا جائے
02:24کہ جو پورے سال گوشت جیسی نعمت کھانے سے محروم نظر آتا ہے
02:27کیا فرمائیے
02:27بسم اللہ الرحمن الرحیم
02:30سمیر بھائی
02:31جس طرح گفتگو ماشاءاللہ چل رہی ہے
02:33قربانی کے حوالے سے
02:34اور مفتی صاحب نے بھی ماشاءاللہ
02:36بہت ہی صحرح اصل گفتگو کی اس موضوع پر
02:39میں اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے
02:41اس موضوع پر بات کرنا چاہوں گا
02:43کہ قربانی دراصل
02:45عظیم یوں سمجھیں
02:47کہ ایک یادگار کے طور پر
02:48اس کو کیا جاتا ہے
02:50اور جہاں اس کے دیگر مقاصد ہیں
02:52انہی مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے
02:54کہ قربانی
02:55کا جو گوشت ہے
02:56وہ ان احباب تک پہنچا جائے
02:58جو عام طور پر
02:59جو ہے وہ معاملات کے اعتبار سے
03:01اگر ہم دیکھیں
03:02تو ان تک وہ گوشت
03:03اور جو ہے وہ یہ سامان نہیں پہنچتا
03:05دراصل
03:06ہم اگر قربانی کے فلسفے کو دیکھیں
03:08تو قربانی ہمیں یہی سکھاتی ہے
03:10کہ ہم قربانی کرتے ہیں
03:12اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:18نے خود بھی جو ہے وہ قربانی کی ہے
03:20اور حدیث مبارکہ میں
03:22یقیناً اس کی سہرات آتی ہے
03:23کہ آپ نے جو ہے وہ
03:24خود مینڈے جو ہے وہ
03:26سینگھوں والے زبا فرمائے ہیں
03:28اور اس کے بعد
03:28علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی
03:30جو ہے وہ
03:30اس کو آگے
03:32معاملات میں شامل کیا ہے
03:33اور آپ خود جو ہے وہ دو
03:35جب زبا کرتے تھے
03:36تو ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:38کے نام سے زبا کرتے تھے
03:39تو ادھر سے ہمیں یہ ایک
03:40یوں سمجھ لیں کہ دلیل ملتی ہے
03:42اسال سواب کے اعتبار سے بھی
03:44کہ ہم اپنے مرہومین کے لیے
03:45اور دیگر جو ہے وہ گویا
03:47کہ اسال سواب کے طور پر
03:48ہم یہ قربانی ادا کر سکتے ہیں
03:50جہاں قربانی کے مقاصد کو
03:52اگر ہم بات کریں
03:53تو یہ سب سے اولین مقصد یہی ہے
03:55کہ ہم اس کو جو ہے وہ غریبوں میں تقسیم کریں
03:58جہاں خود کو بھی جو ہے
03:59وہ استعمال کرنے کا حکم دیا گیا
04:01کر سکتے ہیں اختیار دیا گیا
04:02لیکن بیسیکلی جو
04:04اس سمجھ لیں کہ اس کا حصول ہے
04:06وہ یہی ہے
04:07کہ اس عید کے موقع پر
04:09ہم جو ہے وہ اس کے
04:10گویا کے جو ہے وہ
04:11لوگوں کو شامل کریں
04:12اور غریب اور جتنے مسکین ہیں
04:14ان کو اپنی سکوشی میں شامل کر سکیں
04:16تاکہ وہ بھی
04:17اگر آج دیکھیں مہنگائی کا دور ہے
04:18اور چودہ سو پندرہ سو کلو
04:20جو ہے وہ گوشت کی قیمت ہے
04:21تو عام اگر غریب کی بات کریں
04:23تو اس کے لیے تو بہت مشکل ہے
04:25یعنی اب جس طرح
04:25آپ غریب نواز ویل فیر ٹسٹ کی بات کرتے ہیں
04:27تو اتنے اورگنائز وے میں گویا
04:29کہ جو ہے وہ گوشت کو کارڈنا
04:31تقسیم کرنا
04:31اور ایسے مقام پر جا کر
04:33جو ہے ان کو تقسیم کرنا
04:34جہاں پر ضروریاتی زندگی بھی
04:36آسانی سے میسر نہیں ہوتی
04:37اور عید کے موقع پر
04:39ان کی یہ گوشت کی تقسیم گو دینا
04:40تو یقیناً
04:41ان کے دل سے جو دعا نکلتی ہوگی
04:43یقیناً وہ ایک حصول برکت کیلئے ہے
04:45اور اللہ رب العزت گویا
04:46کہ جو ہے وہ ہمارے مال میں
04:48برکت کو رکھ دیتے ہیں
04:49اور ہمارے لئے بہت آسانیہ کر دیتے ہیں
04:51یہی جذبہ بیدار کرنے کے لیے
04:53گویا کے جو ہے وہ قربانی کی جاتی ہے
04:55اور اگر ہم دیکھیں تو
04:57اس قربانی کی اگر ہم گویا
04:59کہ جو ہے وہ بیک
05:00اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام
05:02اور اسماعیل علیہ السلام کے واقعے کو دیکھتے ہیں
05:04تو صبر و رضا کی ایک عظیم مثال ہمیں ملتی ہے
05:06کہ اللہ رب العزت نے ایک طرف
05:09حضرت ابراہیم علیہ السلام
05:11اپنے گویا کے جو ہے وہ
05:12اللہ کے حکم کی تکمیل کرتے ہوئے
05:14اپنے قربان بیٹے کو جو ہے وہ
05:16کر رہے ہیں اللہ کے حکم پر
05:18اور آپ کی قربانی کو ایسا قبول کیا جاتا ہے
05:20کہ قیامت تک کے لیے جو گویا کے جو ہے
05:22وہ مسلمانے کے لیے
05:23قربانی کو جو ہے وہ سنت قرار دے دیا گیا
05:26آپ اس پاس سے اندازہ لگائیں
05:27کہ جب آپ اپنے بیٹے کو زبا فرما رہے ہیں
05:29تو زبا فرماتے وقت گویا کے مفسرین
05:32یہ لکھتے ہیں کہ حضرت حاجرہ
05:34کے پاس شیطان آتا ہے
05:36اور وہ آ کر آپ کو یہ بتاتا ہے
05:37کہ تم جانتی ہو کہ تمہارا شہر
05:40یعنی کہ حضرت ابراہیم جو ہے وہ اپنے بیٹے کو
05:41کہاں لے کر گئے ہیں تو وہ بتاتی ہیں
05:43کہ وہ جنگل میں لکڑیاں کٹھا کرنے کے لیے گائم ہیں
05:46لیکن وہ پھر شیطان ان کے دل میں
05:48یہ وصفصہ ڈالتا ہے کہ نہیں وہ لکڑیاں کٹھا کرنے
05:50نہیں بلکہ وہ تمہارے گویا کے بیٹے کو
05:52زبا کرنے کے لیے جا رہے ہیں
05:53اور پھر بعد میں یہ بتایا جا رہا ہے
05:55کہ اللہ نے یہ حکم دیا ہے ابراہیم کو
05:57کہ وہ اپنے بیٹے کو زبا کریں
05:58جب حضرت حاجرہ بی بی حاجرہ
06:01یہ الفاظ سنتی ہیں کہ اللہ رب العزت نے
06:03حکم دیا ہے تو پھر آپ نے یہ فرمایا
06:05کہ بیٹا اپنی جگہ ہے
06:07اس کی محبت بھی اپنی جگہ ہے
06:08لیکن اللہ کی جو اطاعت ہے وہ سب پر مقدم ہے
06:11اور گویا کے جو ہے وہ اس کو قربان کرنے کے لیے
06:14ابراہیم علیہ السلام آگے بڑھتے ہیں
06:16اور ان کی قربانی کو ایسا قبول کیا جاتا ہے
06:18کہ قیامت تک کے لیے گویا کے جو ہے
06:20وہ آپ دیکھیں کہ یہ جو قربانی ہے
06:23اور اس کے علاوہ جو شیطان کو کنکریاں مارنے کا جو سلسلہ ہے
06:26یہ بھی گویا کے شارین لکھتے ہیں
06:28کہ یہ ایک سنتی ہے
06:29کہ اسی وقت شیطان کو حضرت ابراہیم نے
06:31حضرت اسماعیل نے حضرت بی بی حاجرہ نے کنکریاں ماری
06:34اور اسی کو گویا کے جو ہے وہ دس گیارہ بارہ
06:36حاجیوں کے لیے جو ہے وہ
06:38یہ سمجھ لیے کہ شیطان کو کنکریاں مارنا
06:40اس کو سنت قرار دیا گیا ہے
06:42تو یہ سارے معامولات کو اگر آپ دیکھیں
06:44تو یہ سبر و رضا کی ایک عظیم مثال ہمیں ملتی ہے
06:47اور گویا قربانی کرنا
06:49اور اس کو گویا کے جو ہے دراصل
06:51تو ہم قربانی کر رہے ہوتے ہیں
06:52قرآن پاک میں بھی اگر ہم دیکھیں
06:54تو ہمیں یہ ملتا ہے
06:55کہ اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں
06:56کہ ان کی بارگاہ میں
06:58نہ تو یہ گوشت پہنچتا ہے
06:59اور نہ ہی یہ خون پہنچتا ہے
07:01بلکہ جو پہنچ رہا ہے
07:02وہ ایک مومن کا اخلاص ہے
07:04اس کی نیت ہے
07:04اگر آپ دیکھیں
07:06احتمام کیسا کیا گیا ہے
07:08کہ اگر ایک گائے ہے
07:08اس کے ساتھ حصے ہیں
07:10آپ یہ دیکھیں
07:11پروٹوکول یہ ہے
07:12کہ ساتھ حصوں میں سے
07:13اگر کسی ایک حصے والے کی بھی
07:15یہ نیت ہو
07:16کہ گوشت کی نیت وہ رکھتا ہے
07:17تو باقی سب کی قربانی
07:18ضائع ہو جاتی ہے
07:19تو گویا اخلاص
07:21اس قدر امپورٹنٹ ہے
07:22اسی لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
07:24کی حدیث مبارکہ
07:25بھی ہمارے سامنے ہیں
07:25یہ آپ فرماتے ہیں
07:26کہ ایکشن
07:29یعنی جو آپ کے عامال ہیں
07:30ان کا داروں مدار نیتوں پر ہے
07:32فنزر مازہ طرح کے تحت
07:34علماء مفسرین یہ لکھتے ہیں
07:35کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام
07:37کو جب یہ حکم ہوا
07:38کہ آپ اللہ کی راہ میں
07:39اپنے بیٹے کو زبا کریں
07:40تو آپ یہ دیکھیں
07:42کہ والد کو یہ حکم ہو گیا
07:44کہ اپنے بیٹے کو آپ زبا کریں
07:45تو جب زبا کرنے کے لئے
07:47جا رہے ہیں
07:48تو آپ نے گویا
07:49کہ اس بات کو بھی ضروری سمجھا
07:50کہ وہ آپ اپنے بیٹے کو بھی
07:52مطلع فرمایا
07:52کہ میں تم اللہ کی راہ میں قربان کر رہا ہوں
07:55اس کی وجہ یہ بیان کی جا رہی ہے
07:57کہ ان کو
07:58اگر وہ اپنے بیٹے کو
07:59یہ بات نہ بتا دے
08:00کہ میں تم اللہ کی راہ میں زبا کر رہا ہوں
08:02تو زبا کرنے کا جو حکم
08:04اللہ نے دیا ہے
08:04اس کا ثواب تو
08:05حضرت ابراہیم کو مل جاتا
08:06یعنی نگاہ نبوت
08:07یہ دیکھ رہی تھی
08:09اگر یہ خلیل اللہ بن رہا ہے
08:11تو پھر یہ زبیل اللہ بھی بن رہا ہے
08:12آپ یہ دیکھیں
08:13کہ اس پر جو ہے
08:14وہ گویا کہ اسماعیل علیہ السلام
08:15کو مطلع کیا جا رہا ہے
08:16بتا جا رہا ہے
08:18تاکہ تم بھی
08:28تو اخلاص important ہے
08:29ہر چیز کے اندر
08:30اور اگر اخلاص ہوگا
08:32تو ہی عبادت کا جو ہے
08:33وہ ثواب بندہ مومن کو دیا جاتا ہے
08:34یہ بالکل ایسا ہی ہے
08:36اس کو اگر ہم نیو سمجھنا چاہیں
08:37کہ اگر کوئی شخص بھوکا اور پیاسا رہے
08:39اور انڈ میں کہے
08:40کہ جی میرا روزہ تو لیکن
08:41اس کا جو ہے وہ ثواب نہیں ملے گا
08:43نیت کا جو انصر ہے
08:44وہ کس قدر important ہے
08:46تو ہمیں قربانی کرتے وقت
08:47اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہیے
08:49کہ جب ہم قربانی کر رہے ہیں
08:51تو یہ صرف قربانی سنت کو ادانی کر رہے ہیں
08:53بلکہ گویا کہ
08:54اس کے اور بھی کئی تقاضیں ہیں
08:56اور یہ ہم سے سبات کا تقاضہ کرتا ہے
08:58کہ ہم غریبوں میں
08:59اس کو جو ہے وہ گویا
09:00ایک ترتیب ہمیں بتائی گئی
09:02کہ اس کو گھر میں بھی رکھنا ہے
09:03اپنے استعمال میں بھی لانا ہے
09:05اب اگر ہم initial ایرہ میں دیکھتے ہیں
09:06تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
09:09آپ جو بھی قربانی ادا فرما جائے
09:11تو اس کا گوشت تقسیم کر دیا جاتا تھا
09:13کیونکہ initial stages پر
09:15جو ہے وہ عرب کے اندر گوشت کی قلعہ تھی
09:16لیکن بعد میں ایک ترتیب ذکر کی گئی
09:18کہ ایک حصہ گھر میں رکھا جائے
09:20رشتہ داروں میں تقسیم کیا جائے
09:22اور پھر اس کے بعد غریب اور نادار میں تقسیم کیا جائے
09:24تو یہی گویا کہ جو ہے وہ کوشش
09:26اور یہی ترتیب ہمیں بھی رکھنی چاہیے
09:28کہ ہم دیکھیں گوشت تو سارا سال کھاتی رہتے ہیں
09:30صرف اس موقع پر ہم یہ اپنے دل میں بات رکھیں
09:34کہ ہمیں اللہ اور اس کی رضا کو حاصل کرنا ہے
09:37اور اگر ہم یہ حاصل کر لیں گے
09:39تو یقیناً قربانی کا جو اصل فلسفہ ہے
09:41اس کو بھی ہم سمجھ سکیں گے
09:42سمجھ سکیں گے اور ناظرین
09:44اسی دوران ہماری بہن ہے
09:46اسمت جہاں انہوں نے چار حصے شامل کیے ہیں
09:49اس اجتماع قربانی میں
09:51پہلا قدم اللہ پاک بہت مبارک کرے
09:58بلکہ اللہ رب العزت کی ذات پر یقین ہے
10:01انٹینشن کی نیت کی بات
10:03بار بار علامہ صاحب نے کی حقیقت ہے
10:05کہ خلوص نیت کے ساتھ
10:07بلکہ میں تو اس کو گولڈن اپرچونٹی
10:10کیجین کے اجتماعی قربانی کے پلیٹ فارم کو
10:12اس لیے بھی کہتا ہوں
10:13کہ آپ دیکھیں اس دور کے فتنوں میں
10:16شاید ایک فتنہ یہ بھی ہے
10:17کہ ریاکاری کا ایلیمنٹ بہت بڑھ گیا
10:20شو آف کا ایلیمنٹ بہت بڑھ گیا
10:22خاص طور پر قربانی کے دنوں میں
10:23ہمیں ججمنٹل نہیں ہونا چاہیے
10:25ہم کسی کے اوپر کوئی ایسا یہاں پر بیٹھ کر
10:28فیصلہ نہیں سنا رہے
10:29اللہ تعالیٰ سب کو خلوص نیت کے ساتھ
10:31اپنی بارگاہ میں قربانیاں پیش کرنے کی توفیق
10:34عطا فرمائے لیکن سم ہاؤ
10:36سوشل میڈیا کے ذریعے
10:37پرنٹ میڈیا کے ذریعے
10:39الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے
10:40دیگر ذرائع سے اور جو ہماری پرسنل
10:43observations ہوتی ہیں
10:44جس طرح کی سجاوٹ اور دیگر امور
10:47اب چیخ چیخ کر کہہ رہے ہوتے ہیں
10:49کہ کہیں نہ کہیں
10:49show of element
10:51بہت بڑی تعداد میں آگیا ہے
10:53تو یہ golden opportunity
10:55اس اعتبار سے بھی ہے
10:56دنیا کے کسی حصے سے آپ
10:58اس وقت یہ
10:59ہماری ٹیلی تھان ملائزہ کر رہے ہیں
11:01یہ قربانی اپیل دوہدار چھتیس ملائزہ کر رہے ہیں
11:04آپ کے لیے
11:04کتنا آسان ہے
11:06کہ آپ
11:06KGN کے پلیٹ فارم کو
11:08یوز کرتے ہوئے
11:09اس اجتماعی قربانی میں حصہ ملائیں
11:11اب آپ دیکھیں
11:12آپ جہاں بیٹھیں
11:12آپ وہیں بیٹھیں
11:13یہاں پر اجتماعی قربانی ہوتی ہے
11:15ہمارے کیٹل فارم پر
11:16اور پھر حاصل ہونے والا جو گوشت ہے
11:18وہ غربہ میں تقسیم کر دیا جاتا ہے
11:20ان غربہ کو
11:22آپ کا نام
11:23آپ کی تصفیر
11:23آپ کی کوئی شناخت
11:25ان کے پاس نہیں
11:25اور یہ اللہ کی نعمت
11:28گوشت کی صورت میں
11:29زیافت کی صورت میں
11:30ان تک پہنچ گئی
11:31اب آپ بتائیے
11:32کہ کیا یہاں پر
11:33ہم کوئی ایکسپیکٹ کر سکتے ہیں
11:35کوئی ایلیمنٹ
11:36آف شو آف موجود ہے
11:37کوئی ریاکاری کا
11:39یہاں ایلیمنٹ آپ کو نظر آ سکتا ہے
11:41ہرگز نہیں آ سکتا ہے
11:42یعنی کہ اتنے ساتھ سترے طریقے سے
11:44آپ کی یہ مدد
11:45آپ کی یہ معاونت
11:46آپ کی یہ محبت
11:47اس دسترخان پر پہنچ جائے گی
11:49کہ جو مفلوق الحال
11:50طبقہ ہے
11:51اور مستحقین ہیں
11:52اور پھر یقیناً
11:53ایک ہوتا ہے دعا کروانا
11:54اور ایک ہوتا ہے دعا لینا
11:55ان دلوں سے پھر جو دعائیں نکلتی ہیں
11:58مطلب ہمیں تو ان اداس چہروں پر
12:00جو بکھرنے والی مسکراہت ہے
12:02وہ بھی دعا محسوس ہوتی ہے
12:03اور پھر دل خوش ہوتا ہے
12:04فرط کے ساتھ جھومتا ہے
12:06کہ جن جن لوگوں نے
12:07اس کار خیر میں حصہ لیا ہے
12:09اور ان اداس چہروں پر
12:10مسکراہت بکھیری ہے
12:12تو اللہ رب العزت انشاءاللہ
12:13ان سے ضرور راضی ہوگا
12:14تو یہ دعوت عام ہے
12:15دعوت محبت ہے
12:16آئیے اس اجتماعی قربانی
12:18دو ہزار چھپس کو
12:19ہم کامیاب بنائیں
12:19اور بڑی تعداد میں
12:21اپنی محبتیں
12:21اپنے ڈونیشنز
12:22اپنے حصے شامل کریں
12:24اس اجتماعی قربانی میں
12:25ایک حصہ اگر آپ ملانا چاہتے ہیں
12:26ٹونٹی تھاؤزنڈ روپیز
12:27آپ نے ڈونیٹ کرنا ہے
12:28اس کے ساتھ ساتھ
12:29آپ ایک گائے چاہتے ہیں
12:30آپ کی طرف سے
12:31اللہ کی بارگاہ میں قربان کی جائے
12:32ایک لاکھ چالیس ازار روپیے
12:33آپ نے دینے
12:35مطلب حیران ہو رہے ہوں گے
12:36آپ لوگ دیکھ کر
12:37کہ انفلیشن ریٹ کا یہ حال ہے
12:39ابھی سے جو ریٹ سامنے آ رہے ہیں
12:40اس سے کمپیر کریں
12:41تو الحمدللہ
12:42ہم یہ کہہ سکتے ہیں
12:43شاید یہ واحد ویل فیر
12:45انشاءاللہ انشاءاللہ ہوگا
12:46کہ جس کی
12:46جو ہم نے قیمت رکھی ہے
12:48جو پیکج بنایا ہے
12:49وہ کم سے کم ہے
12:50اور یہ اس انٹینشن
12:51کو بھی رفلیکٹ کر دیے
12:52کہ ہم چاہتے ہیں
12:53کہ ہر خاص و عام
12:54اس محبت کے سفر میں شامل ہو
12:56اور ہمارے شانہ بشانہ
12:57ہم لاکھوں کی تعداد میں
12:58مستحقین تک
12:59انشاءاللہ قربانی کا یہ
13:00گوشت پہنچائیں
13:01میں ایک طرف اور
13:03آپ کی توجہ مفضول کرانا چاہتا ہوں
13:05اور وہ
13:05میں سوال کی صورت میں کر رہا ہوں
13:07اور علامہ صاحب انشاءاللہ
13:08جواب کی صورت میں
13:09آپ کی توجہ مفضول کرائیں گے
13:10حضرت
13:11ہم اپنے شہری محول کو
13:13یا اطراف
13:14اطراف و اکناف کو دیکھتے ہیں
13:15تو ہم اسی نظریے سے سوچتے ہیں
13:18وہی ہمارا اپینین
13:19اور وہی ہمارا پرسیپشن بناوا ہے
13:20کہ جب قربانی ہوگی
13:22تو انشاءاللہ
13:22ضبیحے ہوں گے
13:23وہاں پر گوشت بن رہا ہوگا
13:24اور لوگ آتے جاتے
13:26جو تھیلیاں ان کے ہاتھ میں ہوتی ہیں
13:27وہ مستحق ہو
13:28یا نہ ہو
13:29سم ہاؤ
13:30آپ دیکھیں دو چار تھیلیاں
13:31سب مطلب لے کر گوشت کی گوم رہے ہوتے ہیں
13:33تو ایسے ہی
13:34تو یہ سب جگہ مدد ہو جاتی ہے
13:36جبکہ
13:36KGN ان ویجولز کے ذریعے
13:38بار بار
13:39گاہے بگاہے دکھاتا ہے
13:41کہ ہم رخ کرتے ہیں
13:42ہماری ٹیم رخ کرتی ہے
13:43ایسے علاقوں کا
13:44کہ جہاں پر گلی محلوں میں
13:46وہ قربانی والا محل ہوتا ہی نہیں ہے
13:48دور دراز آپ سفر کر کے چلے جائیں
13:50کئی کئی کلومیٹر
13:52آپ کی مسافت ہو جائے
13:53لیکن وہاں کوئی قربانی کرتا
13:54نظر نہیں آتا
13:55کیونکہ اوورال جو بستی ہے
13:56بستنے والے ہیں
13:57وہ مفلوق الحال ہیں
13:59اور یقیناً ان کے پاس
14:00اتنے وسائل میسر نہیں
14:01کہ وہ قربانی کریں
14:02تو ان کے گھروں تک
14:03یعنی کہ یہاں تو
14:04ہر تھوڑی دیر بعد دروازے پر
14:05تین دن تک
14:06عید کے دستک ہوتی ہے
14:07اور کبھی گائے کا گوشت آ رہا ہے
14:09کبھی بکرے کا آ رہا ہے
14:10کبھی اوٹ کا گوشت آ رہا ہے
14:11وہاں دستک دینے والا کوئی نہیں ہے
14:13نگاہیں منتظر رہتی ہیں
14:14کہ اللہ کسی کو سبب بنائے
14:16ذریعہ بنائے پہنچیں
14:16اب آپ بتائیں
14:18سر اس کانٹیکس کے اندر
14:19KGN کی خدمت
14:20اور پھر جو لوگ
14:21اس کے ساتھ جڑیں گے
14:22ان کے لیے کتنی بڑی
14:23اوپرچونٹی ہے
14:24بسم اللہ
14:24بسم اللہ الرحمن الرحیم
14:26دیکھیں ہمارے یہاں معاملہ
14:27اکثر مقامات پر یہی ہوتا ہے
14:29کہ جب ہم قربانی کرنے بیٹھتے ہیں
14:32اور ہمارا جانور جب
14:34اللہ کی رحمہ زبا ہوتا ہے
14:35تو ایک بڑا تعداد میں
14:45وہاں بھی ہوگا
14:45آپ ان کو گوش دیں گے
14:47وہ کہیں گے
14:48یہ والا گوش نہیں چاہیے
14:48ہمیں یہ والا گوش دوں
14:51یعنی
14:51ایک تو وہ آپ سے طلب کر رہے ہیں
14:53ایک چیز
14:53اور اس کے بعد بھی
14:54انہیں جو
14:55دو چار منٹ تو آپ سوچیں گے
14:56آپ کے ساتھ ہوا کیا ہے
14:57اس کے بعد ان کو پورا منیو چاہیے
14:58کہ آپ ان کے سامنے
14:59پوری کٹیو گائے رکھ دیں
15:00اور کہیں
15:01آپ اپنی پسند سے گوش select کر لیں
15:02جو آخر میں بچ جائے گا
15:03نا وہ ہم اپنے گھر لے جائیں گے
15:05تو یہ حال ہو گیا
15:06اور اگر کسی کو منع کرو
15:07اللہم صاحب سوری
15:08lighter note پہ یہ بات کہہ رہا ہوں
15:10اسی وقت پتہ چلتا ہے
15:11کہ یہ desire والا بندہ نہیں ہے
15:13یہ demand والا بندہ ہے
15:14اور ایسا
15:15خود کئی مرتبہ دیکھا گیا ہے
15:17پھر ان میں بہت سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں
15:19کہ جو اہلِ سروت ہوتے ہیں
15:20ہمارے ہاں علماء نے
15:21ایک چیز سختی سے منع کی ہے
15:22وہ یہ کہ
15:23ہمارے ہاں جو عام طور پر
15:24جو لوگ بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں
15:25ان کو بھی پیسے نہیں دینے چاہیے
15:26اس کی وجہ ہے کہ
15:27پروفیشنل ہوتا ہے
15:28پروفیشنل نہ بھی ہوں
15:29تو آپ ان کی اس عادت کو
15:31جو ہے وہ
15:31پروموٹ کر رہے ہیں
15:32ان کو موٹیویٹ کر رہے ہیں
15:33کہ وہ کوئی کام کاجلہ نہ کریں
15:34ہم نے کتنے نوجوان
15:35اور صاحب ان کو ہی دے رہیں گے
15:36وہ جو گھر میں
15:37مطلب سفیت پوشت اپنا ہے
15:38اس کو کون دے گا
15:39تو ہمارے علماء نے تو
15:40یہاں تک لکھا ہے
15:41کہ ہم صدقہ دیتے ہیں
15:42اللہ کی رہ میں
15:43تاکہ ثواب ملے
15:44اور ان علماء کو
15:45یہ علماء کی طرح سے پیغام ہے
15:47کہ ان بھیکاریوں کو دینا
15:48جو سگنل وغیرہ پر
15:49کھڑے ہوتے ہیں
15:49عام طور پر
15:50نوجوان ہوں گے
15:51ہٹے کٹے ہوں گے
15:52کئی مرتبہ تو
15:53ویڈیوز لیک ہو جاتی ہیں
15:54کہ وہ ہاتھ تو
15:55وہ چھپایا تھا
15:55کئی اندر وہ تو ہاتھ تھا
15:56یا پاؤں چھپایا تھا
15:58وہ لنگڑے نہیں تھے
15:58تو ان کو دینے سے
15:59صدق ہے
16:00کوئی ثواب تو نہیں ملے گا
16:01بلکہ الٹا گناہ ملے گا
16:02کیونکہ آپ حرام کام کرتے ہیں
16:03خود کتنی مرتبہ
16:04جو ہے وہ
16:05کیو ٹی وی پر
16:06احکام شریعت کے اندر
16:06ہی مسئلہ بیان ہوئے
16:07کہ جو ہے وہ
16:08آپ اس ٹی سے بچیں
16:09ہمارے یہ رواج
16:11بہت زیادہ بن گیا
16:12ٹرینڈ بن گیا
16:12بس گلی سے نکلے
16:13ادھر بھی چلے گے
16:14ادھر بھی چلے گے
16:14اور بتمیزی کے ساتھ
16:15اور عجیب و غریب انداز میں
16:16جو ہے وہ گوش بات رہے ہیں
16:17اور جو سفیت پوش طبقہ ہے
16:19جو اہل
16:19جو حقیقتاً مستحق ہے
16:21وہ محروم ہے
16:23ان کو کوئی نہیں پوچھ رہا
16:24میں اور آپ بھی
16:25ایک اپنے دائرے کے اندر ہی موجود ہے
16:26ہم اپنے گھر سے زیادہ زیادہ
16:28ہم اپنے رشداروں کو دیتے ہیں
16:29ہمارے گھر میں جو ماسیہ وغیر آتی ہیں
16:31ہم ان کو گوش دیتے ہیں
16:32اچھی بات ہے
16:33یہ بھی کرنا چاہیے
16:33ہمارے گھر میں ڈرائیور ہے
16:34ہم اس کو گوش دیتے ہیں
16:35اچھی بات ہے
16:35لیکن ایک بہت بڑا طبقہ
16:37ہمارے شہر کے اندر ہی ایسا موجود ہے
16:39کہ جو مستحق ہے
16:40ضرورت مند ہے
16:42ہماری راہ تک رہا ہے
16:43لیکن اتنا غیرت مند ہے
16:45کہ خود نکل کر
16:46کسی سے مانگنے نہیں جائے گا
16:47تو اگر ان تک گوش پہنچایا جائے
16:50اور جیسے کہ آپ نے بیان کیا
16:51پہنچایا جاتا ہے
16:52اور ہر چیز
16:53کلیریٹی کے ساتھ ہے
16:54ٹرانسپیرنسی کے ساتھ موجود ہے
16:55کوئی بھی آ کر
16:56ویڈیوز ہمارے سامنے موجود ہیں
16:57یعنی اتنا ٹرانسپیرنٹ ایک محول ہے
16:59سالوں کا ریکرڈ
17:00ریکرڈ موجود ہے
17:01تو جب ان تک
17:02اور جب آپ کے پاس سالوں کا ریکرڈ ہو
17:04تو آپ کو پتا ہوتا ہے
17:05کہ کہاں کس علاقے میں
17:06کتنی ضرورت ہے
17:06کہاں پہنچانا ہے
17:07تو وہاں پہنچانے کی اہمیت
17:09ضرورت
17:10اس پر ثواب بھی بہت زیادہ ہوگا
17:11کیونکہ دیکھیں
17:12یہ رسم نہیں ہے
17:14رسم کو سمجھنے کے لئے
17:16رسم عربی زمان کے اعتبارے سے
17:18میں سمجھو
17:19رسم اس پینٹے کو کہتے ہیں
17:20کہ جس میں نقوش ہوں
17:22لیکن اس میں رنگ نہ بھرا ہو
17:24رنگ اصل میں
17:24رسم کے اندر
17:25رنگ آتا ہے عبادت کے ساتھ
17:27نیت کے ساتھ
17:28نیت اس رسم کے اندر
17:29وہ رنگ کلر بھرتی ہے
17:30اور وہ عبادت میں تبدیل ہوتی ہے
17:32ہم رسم قربانی ادا نہیں کر رہے ہیں
17:35ہم عبادت قربانی
17:37فریضہ قربانی ادا کر رہے ہیں
17:38اس فریضہ قربانی کے لئے
17:40نیت ضروری ہے
17:41اس فریضہ قربانی کے لئے
17:43احتمام ضروری ہے
17:44اس فریضہ قربانی کے لئے
17:45محنت ضروری ہے
17:46اور مطالبہ محنت تو کیا ہی نہیں جا رہا
17:50اعتماد مانگا جا رہا ہے
17:51آپ اپنی رقم جمع کرائیں
17:53اور اعتماد کریں
17:54اور اعتماد بھی ایسے ادارے پر
18:04JOSH SHOWROOM
18:06SHOWROOM
18:07SHOWROOM
18:08OPSHROOM
18:10ڈالی کے اندر بھی ہوئی بھی ہوتی ہے اور پھر اس میں معاملہ ہوتا ہے کہ قربانی کے اس میں
18:13ہر بلڈنگ کا الگ ٹینٹ لگتا ہے ہماری علاقے میں تو گاڑی نکالنا جو ہے وہ قربانی کے دنوں میں
18:19جو ہے وہ عزمائش ہوتی ہے اس میں اگر آپ کہیں کہ اپنا علاقہ علاقہ ممنوع میں حقیقتاً ایسا ہے
18:26کہ اس میں ان دنوں آپ سوچ لیں کہ بھئی میں گاڑی نکالوں ہی نہ دس دن تک اور میں
18:29جو ہے بائک پر سفر کرلوں اب میرا جانور اگر کھڑا ہوا ہے میرا ٹینٹ اگر بل
18:38بنے گا تو گناہگار تو میں بھی ہوں گا میں نکلا تھا عبادت کرنے کے لیے الٹا گناہ سر پر
18:43ہو گیا ایک تو یہ کہ میں کسی کو یہ نہیں کہہ رہا آپ اپنا جانور نہ خریدیں بالکل خرید
18:46ہے لیکن ساتھ ساتھ ان چیزوں پر بھی فوکس کریں کہ یہ آپ کی وجہ سے کسی کو تکلیف نہیں
18:50ہو اور یہ بھی میں یہاں پر اس پلیٹ فورم کے ذریعے ایک پیغام یہ بھی دینا چاہوں گا بہت
18:55سارے لوگ اہل سروت ایسے ہوتے ہیں کہ جو کافی زیادہ قربانی کرتے ہیں آپ قربانی کریں اگر آپ کو
19:00شوق
19:01کہ میں خود جا کر جانور لکھ رہا ہوں جیسے بہت سارے لوگوں کو شوق ہوتا ہے کہ میں خود
19:03جاؤں اپنی پسند سے جانور سریک کرو اللہ تعالیٰ جو مجھے مال دیا ہے میں اس سے خوبصورت فربہ جانور
19:08لکھ رہا ہوں یہ بھی کریں لیکن ایک ہمارے جو قربانی ہم کرتے ہیں اس میں ایک قربانی حصال سواب
19:14والی بھی ہوتی ہے والدین کے نام سے ہوتی ہے دادہ دادی کے نام سے ہوتی ہے سرکار علیہ السلام
19:18کے نام سے ہوتی ہے حضور غوث آدم کے نام سے ہوتی ہے خواجہ صاحب کے نام سے ہوت
19:26ہوتی ہے تو آپ یہ کریں کہ آپ کے جو حصے ہیں وہ آپ اپنی اس قربانی کے اندر ڈال
19:30لیں اور جو عیسال سواب والے حصے ہیں وہ آپ یہاں پر جو ہے وہ بطور عیسال سواب جمع کرائیں
19:36تاکہ وہ مستحق تک پہنچے تو سرکار علیہ السلام کا حصہ اگر مستحق تک پہنچے گا تو حضور علیہ السلام
19:42کی روح مبارک کا بھی خوش ہوگی اور جو ہے وہ آپ کو اس کا زیادہ سواب ملے گا یا
19:47یہ کہ آپ اپنے حصے یہاں ملائیں اور عیسال سواب والے حصے خود پہنچانے چاہئے ہیں
19:50وائس ورسہ آپ کر سکتے ہیں آپ کی مرضی ہے لیکن جو ضرورت مند ہے نا وہاں تک ہمارا گوش
19:56جو پہنچے گا اس کا جو سواب ہمیں ملے گا نا وہ اس سے کئی گناہ زیادہ ہوگا کہ ہمارا
20:00سواب اس کو پہنچ رہا ہے کہ جو ضرورت مند نہ ہو یا ہمیں اس کو گوش دینے میں بھی
20:05جو ہے نا وہ قباحت تھی تو اس سے اس کا ہمیں خیال رکھنے کی ضرورت ہے اگر آپ خود
20:10تحقیق کر سکتے ہیں بہت اچھی بات ہیں نہیں کر سکتے تو پھر ریلیکس کریں سکون سے ایک ٹرانس
20:19نہیں جو ہے وہ ان تک پہنچ جائے زبردست کیونکہ علماء اکرام کی نگرانی میں الحمدللہ سارے امور ہم سر
20:24انجام دیتے ہیں اور یہ اجتماع قربانی وہ کو پذیر ہوتی ہے آپ دیکھیں مفتیان اکرام موجود ہوں علماء اکرام
20:30موجود ہوں جو بالکل کنکلوٹ کرتے ہوئے جو علامہ صاحب نے فرمایا تو یہ ایسا ہی نہیں ہے کوئی لائٹر
20:36نوٹ پر آپ سے یہ بات کیے یہ حقیقت ہے کہ جتنی رسپونسیبیلٹیز جڑی ہیں اس کارے خیر سے اور
20:43اس واجب کے ادا کرنے کے ل
20:45یہ اگر آپ کو کوئی opportunity مل رہی ہے کہ کم سے کم عزماتے ہوئے آپ یہ قربانی اللہ کی
20:51بارگاہ میں پیش کر دیں تو you should be most welcome مدب ہمیں فوراں دیر نہیں کرنی چاہیے کہ یار
20:56اتنے اچھے انداز میں اتنے transparent way میں اتنی credibility کے ساتھ اور اتنے organized way میں علماء اکرام کی
21:02نگرانی میں اور جتنی شرعی تقاضیں ہیں ان کو پورا کرتے ہوئے یہ اجتماعی قربانی پیش کی جائے میں تو
21:08بلکہ آپ کو میں add کروں اگر یہ بات علامہ صاحب انشاءاللہ will second me
21:13کہ میں یہ سوچتا ہوں ابھی بھی جب ہم یہ قربانی ہے ہر سال عیدہ قربان کے موقع پر اللہ
21:17کی کرم اس کی توفیق اس کے کرم سے ہم اللہ کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں
21:21تو ہم اگر اپنے اوپر نظر ڈالیں اپنی self accountability کریں اتنے گناہ گار ہیں اتنے سیاہ گار ہیں آپ
21:27بتائیے کہ جب ہم قربانی پیش کرتے ہیں تو بلکل ہم ایک طرف یہ دعا تو کرتے ہیں
21:32اللہ ہماری اس قربانی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما لیکن جو عامال ہیں جو ہماری روٹین ہیں جو ہمارے
21:37روز مرہ کے معاملات ہیں
21:38تو ایک ڈر لگا رہتا ہے خوف لگا رہتا ہے کہ اس کائنات کے بادشاہ کی بارگاہ میں توفہ پیش
21:43تو کیا ہے
21:43لیکن پتہ نہیں ہم اس قابل ہیں بھی یا نہیں کہ وہ بارگاہ میں توفہ قبول ہو
21:48لیکن جو آپ نے بات کی نا کہ نسبت کے ساتھ جڑ جانا اور عیسال سواب کا جو آپ نے
21:53حوالہ دیا
21:53اب آپ بتائیے آپ نے قربانی پیش کیا اللہ کی بارگاہ میں
21:56اب وہ جو توفہ پیش کیا اس میں ایک پیکٹ ایسا نظر آ رہا ہے ایک ریپر ایسا نظر آ
22:01رہا ہے ایک توفہ ایسا نظر آ رہا ہے
22:03جس پر اللہ کے محبوب کا نام لکھا ہے
22:05یعنی حضور کے نام کی نسبت جڑ جائے
22:07تو بس اس تحفے کے ساتھ اگر ہمارا تحفہ
22:10یا اس نام کی قربانی کے ساتھ پھر ہماری نام کی قربانی بھی
22:14اگر اللہ کی بارگاہ میں قبول ہو جائے تو بس
22:16اسی کو کہت
22:18اصل میں ساری قربانی نسبت ہے
22:21نسبت ہاتھ عبراہیم علیہ السلام کی ہے
22:23یہ بھی پوری نسبت وہی تھلی
22:24ہاتھ عجرہ کی ہے
22:25آپ دیکھیں نسبتوں کا اسلام کے در بڑا عمل دخل ہے
22:30اللہ تعالی نے
22:33اللہ تعالی نے ماؤنٹ ایوریس بنایا
22:35سب سے بڑا پہاڑ نیچے سے بندہ دیکھیں
22:37تو حیران ہو جائے
22:38کیٹو بنایا اللہ تعالی نے پوری دنیا
22:40اس کو سر کرنے کی کوشش کرتی ہے
22:41لیکن قرآن میں نہ ماؤنٹ ایوریس کا ذکر ہے
22:43نہ کیٹو کا ذکر ہے
22:44جبکہ یہ اللہ تعالی کی نشانیوں کا مظہر ہے
22:46قرآن میں ذکر ہے
22:47صفا مروع اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیہ ہیں
22:52جبکہ بظاہر دیکھا جائے تو چھوٹے سے ٹیلے ہیں
22:54لیکن ان کو نسبت ہتھ حاجرہ سے ہتھ اسمائل سے ہو گئی
22:58قرآن میں ہمیشہ گلے ذکر کرتا ہے
22:59پورا مسجد حرام جو ہے وہ نماز پڑھنے کی جگہ ہے
23:02لیکن اللہ کہہ رہا ہے
23:06مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناو
23:07وہاں حتی ابراہیم خود موجود ہیں
23:09نہیں
23:10لیکن وہاں حتی ابراہیم علیہ السلام کے قدم مبارک کا
23:12ایک پتھر کئی ہسار سال پہلے جس پہت ابراہیم نے
23:15قدم رکھے تھے وہ موجود ہے
23:17قرآن کہہ رہا ہے ساری مسجد حرام نماز کی جگہ ہے
23:19سب کہیں بھی پڑھو گے سواب تمہیں ملے گا
23:21ایک لاکھ کے برابر لیکن خاص طور پر
23:23جس جگہ کا ذکر کیا وہ مقام ابراہیم
23:25تو دیکھیں یہ ساری عبادت
23:27اصل میں عبادت ہے ہی نسبت کا
23:29اور یہ عبادت جو ہے
23:30یہ خاص عبادت قربانی کی یہ تو
23:32نسبتوں والی عبادت ہے
23:34اس میں جتنی نسبتیں ہم شامل کر لیں گے
23:36جتنی نیتیں ہم شامل کر لیں گے
23:37جتنے ہم نظرانے پیش کر دیں گے
23:39اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اترا مقبول ہوتے چلیں گے
23:41مقبول ہوتے چلیں جائیں گے
23:42اور آپ دیکھیں کہ علامہ صاحب نے رمی کی بات کی
23:45اور علامہ صاحب نے سعی کی بات کی
23:49ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ حج کے موقع پر بھی
23:51ایسا لگتا ہے کہ آپ تقریباً
23:53ارکان اٹھا کے دیکھیں
23:54تو ایسا لگتا ہے تا قیامت
23:56ہر دفعہ حج کے موقع پر
23:58ان اداؤں کو بار بار دہرائے جاتا رہے گا
24:02یعنی کتنی محبوب ادائیں ہیں
24:04جو اللہ کی بارگاہ میں اس انداز سے مقبول ہوئیں
24:06کہ اللہ چاہتا ہے کہ اس کے محبوب کی
24:09امت تا قیامت اسی طرح ہر سال آئے
24:11اور حج کے موقع پر ان تمام اداؤں کو دہرائے
24:14اللہ رب العزت ہم سب کو بھی بار بار جانا نصیب فرمائے
24:17آئیے پھر سے مصطفیٰ کریم علیہ السلام کی بارگاہ میں
24:21حدیعہ نات پیش کرنے کے لئے میں
24:24حافظ علی احمد حاشمی سے ملتمیس ہوں
24:26کہ حدیعہ نات پیش کریں بسم اللہ
24:52مصطفیٰ والوں کے انداز نیرالے ہوں گے
25:08مصطفیٰ والوں کے انداز نیرالے ہوں گے
25:17اور حشر میں ان کی شفاعت کے حوالے ہوں گے
25:34ہم بناہ گاروں کو سرسکار سنبھالے ہوں گے
25:43ہم بناہ گاروں کو سرسکار سنبھالے ہوں گے
25:59اور نظرہ میں ان کے نصف سرسے سے مقدر چمچکا
26:09اور نظرہ میں ان کے نصف سرسے سے مقدر چمچکا
26:17قبر میں اب تو اجالے ہوں گے
26:27قبر میں اب تو اجالے ہوں گے
26:35مصطفیٰ والوں کے انداز نیرالے ہوں گے
26:43مصطفیٰ والوں کے انداز نیرالے ہوں گے
26:51اور بخشوائیں گے گے گے گے خدا سے
26:56ہمیں محبوب خدا
27:01بخشوائیں گے گے خدا سے
27:05ہمیں محبوب خدا
27:35مصطفیٰ والوں کے انداز نیرالے ہوں گے
27:43اور عقل والے سمجھ پائیں جنوں کے آداب
28:00ان کے دیوانوں کے انداز نیرالے ہوں گے
28:10مصطفیٰ والوں کے انداز نیرالے ہوں گے
28:18مصطفیٰ والوں کے انداز نیرالے ہوں گے
28:26اور ان کی ہر سفت جس کو ہے اعجاز نصیب
28:44نات گوئی کے بھی انداز نیرالے ہوں گے
28:52نات گوئی کے بھی انداز نیرالے ہوں گے
29:08مصطفیٰ والوں کے انداز نیرالے ہوں گے
29:21کیا بات ہے پیل صاحب کی
29:24اور جو بھی لکھا وہ کمال لکھا ہے
29:26جس انداز سے پڑا وہ طرز وہ لے پکڑی آپ نے
29:30جو حق بنتا تھا اس کلام کو پڑھنے
29:32اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے اور آپ کو برکت عطا فرمائے
29:35نظر بس سے آپ کو محفوظ رکھے
29:38اللہم صاحب میں چاہتا ہوں کہ کچھ ایسی گفتگو بھی
29:41ناظرین کی سماعتوں تک پہنچے
29:43کیونکہ ہر کوئی تیاری کر رہا ہوتا ہے
29:45بہت سی چیزیں ہمیں جو پتہ ہوتی ہیں
29:47معلوم ہوتی ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں ان کو recall کریں
29:49اور ایک credibility کے ساتھ کریں
29:51ایک with the reference of قرآن
29:53and حدیث ہم تک وہ بات
29:55ایک طرح سے revise کر دی جائے
29:58اس کو repeat کر دیا جائے
30:00اور recall ہم کر لیں وہ ساری چیزیں
30:02بنیادی تقاضے کیا ہیں
30:04کہ جب ہم زبیحہ لینے جاتے ہیں
30:06تو اگر گائے لے رہے ہیں
30:07بکرہ لے رہے ہیں
30:08اونٹ لے رہے ہیں
30:09تو سر ایج کیا ہونی چاہیے
30:11اور جو بنیادی چیزیں ہر خریدنے والے کو
30:13ہر جانور قربانی کا جو لیتے ہیں
30:16وہ لینے والے کو
30:16وہ ملحوظ رکھنی چاہیے
30:18consider کرتے ہوئے
30:19تاکہ کوئی ایسی mistake ہم سے نہ ہو
30:21کوئی ایسا شرعی تقاضہ پورا ہونے سے نہ رہ جائے
30:24کہ وہ ہم سب کچھ کر کر بھی
30:25اور تھوڑی سی اگر بات
30:27ضمنان آپ ایٹ کر دیں
30:28ریاکاری کے حوالے سے بھی
30:29کہ آپ اتنی بڑی قربانی اللہ کی بارگاہ میں پیش کریں
30:31کوئی ایسی mistake ہم سے
30:33deliberately and deliberately نہ ہو جائے
30:35کہ ہم سب کچھ کر کر بھی
30:36وہ ہماری قربانی قبول نہ ہو
30:37کیا فرمائے گا
30:38بسم اللہ الرحمن الرحیم
30:40دیکھیں یقیناً قربانی جو ہے
30:42وہ صاحب نصاب پر واجب ہے
30:44اور جب وجوب کو ادا کرنے کے لیے
30:47ہم جا رہے ہیں
30:47تو پھر اس کو ادا کرنے کے شریعت
30:50نے ایک ذابطہ
30:51ایک جو ہے وہ
30:52طریقہ مقرر کیا ہے
30:53کہ اس کے لیے
30:54کیا کیا چیزیں کرنا ضروری ہیں
30:56اب ہم جب
30:57جا رہے ہیں جانور دیکھنے کے لیے
30:59تو ہمیں کئی چیزوں کو
31:00محلوز خاطر رکھنا ہے
31:02کہ وہ جانور جو ہے
31:03وہ عیب سے پاک ہو
31:04وہ جانور لاغر نہ ہو
31:07بیمار نہ ہو
31:07دیکھنے میں بیوار نہ لگتا ہو جانور
31:09تو ایسے
31:10صحت مند جانور کی جو ہے
31:12وہ قربانی کی جا سکتی ہے
31:13عام طور پر ایسا ہوتا ہے
31:15کہ
31:15ہم منڈی جاتے ہیں
31:17اور ہمیں جو ہے وہ
31:18اس کے کئی گویا
31:20کہ جو ہے وہ جانور کی چیزیں
31:21بتائی جا رہی ہوتی ہیں
31:22کہ جانور ایسا ہے
31:23تو ایسا ہے
31:23لیکن ہم جب لے کر آتے ہیں
31:24اور کچھ عرصے بعد
31:26جب قربانی کا وقت آتا ہے
31:27تو کبھی کبھار ایسا ہوتا
31:28کہ قربانی گاہ تک
31:29جو ہے وہ جانے تک
31:30گویا کہ جو ہے وہ
31:31قربانی کا جانور اس قابل نہیں ہوتا
31:33تو ان تمام چیزوں کا
31:35جو ہے وہ ملوز خاطر رکھنا
31:36ہمارے لئے ضروری ہے
31:37ضروری ہے
31:38قربانی کا بسیکلی مقصد یہی ہے
31:40کہ ہم جو ہے کہ جو ہے وہ
31:42جب ہم قربانی ادا کر رہے ہیں
31:43تو اس قربانی کے
31:45تمام تر پروٹوکولز کو
31:47ہمیں فالو کرنا ہے
31:48چاہے وہ اپنا عمر کے
31:50اعتبار سے اگر بات کی جائے
31:51تو جس طرح شریعت کے اندر
31:52اس کی عمر مقرر کی گئی ہے
31:53جو دات چیک کرے جاتے ہیں
31:54اس کا تعلق پھر ان کی
31:56ایج کے ساتھ ہوتا ہے
31:57بلکل ایج کے ساتھ ہوتا ہے
31:58جی بلکل ایسا
31:59بلکل مقرر کی گئی ہے
32:00شریعت کے اعتبار سے
32:01کہ جو ہے وہ چوپا ہے
32:03جو جانور ہیں
32:04چاہے بکری ہے
32:05بکرا ہے
32:05یا گائے ہے
32:06اونٹ ہے
32:07تو اس کی ایج مختصر
32:08جو ہے وہ کی گئی ہے
32:09پھر ساتھی ساتھ
32:10ہم دیکھیں کہ جانور
32:11اگر ایج تک نہیں پہنچتا
32:13تو کم از کم
32:14اگر وہ ایسا ہے
32:15کہ وہ بھرا بھرا ہے
32:16یا وہ اس کی جسامت بھری ہے
32:18تو اس کی بھی شریعت نے
32:19جو ہے وہ
32:20اجازت دی ہے
32:20کہ ہم اس کی قربانی
32:21کر سکتے ہیں
32:22تو اب جس طرح بھی
32:24آپ نے بات کی
32:31رہے ہیں
32:31تو ہمارے لیے
32:32یہ بہت ضروری
32:34اس بات کا
32:34کہ حدیث پاک میں
32:35بھی اگر ہم دیکھیں
32:36تو اس کی
32:37ہمیں کئی چیزیں
32:38نظر آتی ہیں
32:38کہ جانور کو
32:39ہم تکلیف نہ دیں
32:40ٹھیک ہے نا
32:41اور اس کا بڑا لحاظ
32:42رکھا گیا ہے
32:43حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
32:45کے ہی حدیث مبارکہ ہے
32:46کہ آپ تو
32:47رحمت اللی العالمین
32:48آپ تو اس کائنات
32:49کے لیے رحمت بنا کر
32:50بے جید ہیں
32:50اور آپ نے گویا
32:52کہ جہاں دیگر کے ساتھ
32:53احسان کا معاملہ
32:54کرنے کا حکم دیا ہے
32:55تو جانوروں کے ساتھ
32:56بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
32:58کا ایک خاص انداز
32:59ہمیں نظر آتا ہے
32:59یہ تو خاص جانور ہیں
33:01جو اللہ کی بارگاہ میں
33:01اللہ کی راہ میں
33:02پیش کی جانے والے جانور ہیں
33:03حضرت عبداللہ بن جعفر
33:05رضی اللہ تعالیٰ
33:06نے آپ فرماتے ہیں
33:07کہ حضور کے ساتھ
33:08آپ ایک مرتبہ
33:08سفر فرما رہے تھے
33:09تو سواری پر آپ گئے
33:11تو آپ ایک انسار کے باغ میں
33:12جاتے ہیں
33:13تو وہاں پر ایک اونٹ
33:14کو آپ دیکھتے ہیں
33:15تو وہ اونٹ
33:16بڑا زارو قطع رو رہا ہے
33:17حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
33:19قریب جاتے ہیں
33:20اس اونٹ کے کان پر
33:22اپنا دستیں مبارک رکھتے ہیں
33:23تو وہ چپ ہوتا ہے
33:25آپ اس انسار صحابی
33:26جو اس اونٹ کا مالک ہے
33:27اس کو بلا کر پوچھتے ہیں
33:29کہ تم یہ کیوں رو رہا ہے
33:30تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم
33:35کو بتا رہا ہے
33:35کہ میرا جو مالک ہے
33:36وہ مجھ سے کام زیادہ لیتا ہے
33:38مجھ پر جو ہے وہ
33:39بہت زیادہ مجھ پر جو ہے
33:40وہ کام بوجھ ڈالتا ہے
33:42تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
33:44نے اس کو کہا
33:44کہ کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے
33:46اس معاملے میں
33:47تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے
33:48یعنی گویا کہ
33:49جو ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
33:50ایک سٹرن ورننگ کے طور پر
33:51اس انسار صحابی سے
33:53یہ ارشاد فرمارے
33:53کہ گویا کہ جو ہے
33:54وہ اونٹ کا خیال لکھا جائے
33:56تو اس انداز سے
33:57ہمیں پتہ لگتا ہے
33:58کہ ہمیں جانوروں کا
33:59کس قدر خیال کرنا ضروری ہے
34:00پھر وہ جب ہم جانور لے کر آ رہے ہیں
34:03اس کے کھانے پینے کا خیال لکھنا
34:04یہ سارے پروٹوکولز گویا
34:06کہ جو ہے وہ
34:06اس کے ساتھ ایک محبت کا انداز
34:08ہمیں نظر آ رہا ہوتا ہے
34:09آپ دیکھیں کہ
34:10بچوں کی کس طرح
34:11لب اور افیکشن ہوتی ہے
34:12گرمانی کے جانوروں کے ساتھ
34:13ان کو جو ہے کہ لے کر جانا
34:15گھومانا پھرانا
34:16یہ ساری چیزیں ہو رہی ہوتی ہیں
34:17اور پھر آخر میں
34:18جب کربانی کا جانور زبا ہو رہا ہوتا ہے
34:20تو بچوں کے اندر
34:21ایک اموشنل کیفیت بھی
34:22ہمیں نظر آ رہی ہوتی ہے
34:23تو یہ گویا
34:24اس جانور کے ساتھ
34:25محبت کرنا کا ہی
34:26ایک انداز ہمیں نظر آتا ہے
34:27اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
34:30حضرت زید بن ارکم رضی اللہ تعالی
34:32اور قربانی کی کس قدر ترغیب دی گئی ہے
34:34آپ یہ دیکھیں کہ
34:35حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
34:37نے خود قربانی کر کے دکھائی ہے
34:39اب آج ہمیں ایک انداز یہ بھی نظر آ رہا ہوتا ہے
34:41کہ آپ یہ دیکھیں
34:43کہ بہت سارے ایسے لوگ
34:44ہمیں نظر آتے ہیں
34:45جو کہتے ہیں
34:45قربانی کے جانور کو زبا کرنے سے اچھا تھا
34:47آپ کہیں اور مال لگا دیتے ہیں
34:49آپ گویا کہ
34:51کہیں اور مال خرچ کر دیتے ہیں
34:52اور کئی محبت میں اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں
34:54وہ یہ کہتے ہیں
34:55کہ یہ تو جانور پر ظلم کیا جا رہا ہے
34:57تو آپ ان کے حوالے سے یہ جواب یہ ہے
34:59کہ ہمارے لئے سب سے بڑی دلیل
35:00اللہ اور اس کے رسول کی سنت ہے
35:02جب انہوں نے ہمیں حکم دے دیا
35:04کہ ہم نے یہ کام کرنا ہے
35:05تو آپ یہ دیکھیں
35:06سبر و رضا کی عظیم مثال
35:07حضرت ابراہیم اور اسماعیل کی ذات ہمیں نظر آتی ہے
35:10تو ہمارے لئے تو سب سے اہم مثال وہ یہ
35:13اس کو سامنے رکھتے ہوئے گویا
35:14کہ جو ہے وہ ہمیں سارے کام کرنے ہیں
35:16پھر آپ یہ دیکھیں
35:17کہ جتنے بھی قربانی کے جانور ہو رہے ہوتے ہیں
35:19سمیر بھئی آپ کو کبھی بھی ایسا نہیں ہوگا
35:21کہ کسی سال آپ کو یہ سننے کو ملے
35:23کہ قربانی کے جانور کی جو شوٹے جو مارکٹ میں ہو گئی ہے
35:26اس سال اعلان یہ کیا جا رہا ہے
35:28کہ اب قربانی نہیں ہوگی
35:30آپ کو کبھی بھی یہ الفاظ سننے کو نہیں ملیں گے
35:32بلکہ اس جانور کے اندر
35:34اللہ رب العزت نے گویا
35:35کہ جو ہے وہ برکت اس قدر ڈالی ہے
35:36کہ ہر سال آپ دیکھیں
35:38کہ وہ قربانی کا جذبہ اور بڑھتا چلا جاتا ہے
35:41ایک مہینہ پہلے قربانی کے جانور کو لے کر آنا ہے
35:43اور ہر جگہ پر آپ شہر کراچی کو اگر آپ دیکھ لیں
35:46یہ اللہ کا نظام ہی بہتا ہے
35:48کہ ڈیمانڈ کے حساب سے سپلائی تیار کریں
35:50بلکل
35:51آپ یہ دیکھیں کہ یہ سب چیزیں تیار ہیں
35:53تو یہ اللہ رب العزت کی گویا کی تقسیم ہے
35:56اور اسی پر ہمیں جو ہے وہ چیزوں کو جو ہے وہ دیکھنا چاہیے
35:59کہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول کا جب حکم آگیا ہے
36:02تو اب اس میں جو ہے وہ ثابت اور قدم رہنا ہے
36:04آپ ثابت اور شاکر جو حضرت اسماعیل حضرت ابراہیم کی مثال ہے
36:08انہوں نے ایسی مثال پیش کی قیامت تک کے لئے
36:11اللہ رب العزت نے اس سنت کو زندہ کر دیا
36:13ٹھیک ہے
36:14تو اب اس کے لئے ہمارے لئے اور کوئی باقی نہیں بچتی
36:17ہمیں یقینا جو ہے وہ ان چیزوں کا خیال لکھنا چاہیے
36:20اور کوئیہ کے جو ہے وہ اس بارے میں ہمیں سوچنا چاہیے
36:23کہ یہ عظیم قربانی جس نسبت سے حاصل ہے
36:25اور جن سے نسبت حاصل ہے
36:27ابھی ہماری بات نسبت کی چل لیتی
36:28تمہارے نسبت کے حوالے سے
36:30ہم تو نسبتوں والے ہیں
36:31اس حوالے سے میں ایک بات یہاں پیش کر دوں
36:33کہ بخاری شریف کے اندر یہ واقعہ موجود ہے
36:35حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے
36:38صحابہ نے جو ہے وہ ایک کونے سے پانی لیا
36:40اور آٹا گوندا
36:41اور جب اس سے آٹا گوندا
36:42حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دے گئی
36:44کہ فلاں کونے سے گویا
36:45کہ جو ہے وہ آٹا گوندا گیا
36:46جب حضور کو اطلاع ملی
36:48تو حضور نے وہ سارا آٹا پھکوا دیا
36:50اب حضور نے فرمایا
36:51کہ فلاں کونے سے جو ہے
36:52اس کے ساتھ ہی کونہ تھا
36:53کہ وہاں سے پانی لو
36:54اور اب اس سے آٹا گوندو
36:56تو پھر صحابہ نے یہ سوال کیا
36:58کہ حضور یہ اس عمر کی آخر وجہ کیا تھی
37:00تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
37:02کہ وہ کون جس سے پہلے تم نے پانی لیا
37:04اور آٹا گوندہ اس سے کافر پانی پیا کرتے تھے
37:07اور اب جس سے تم نے گویا کہ جو ہے وہ آٹا گوندہ ہے
37:10جہاں سے تم پانی لے کر آیا ہو
37:12اس پانی کے گوئے سے صالح علیہ السلام کی اوٹنی پانی پیا کرتے تھے
37:15تو یہ نسبت کا اثر ہے
37:17کہ اللہ اور اس کے رسول نے گویا کہ وہ نسبت کا کیا لحاظ رکھا ہے
37:20اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس نسبتوں کا خیال لکھنے کی توفیق عطا فرمائے
37:24اور حقیقت ہے کہ نسبت اگر اچھی ہو تو کام بن جایا کرتے ہیں
37:27اور اگر نسبت بری ہو تو کام بگڑ جایا کرتے ہیں
37:30آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کے کام بن جائیں
37:32تو پھر اچھی نسبتوں کو اپنے کاموں میں شامل کر لیا کریں
37:36بہت اچھی بات علامہ صاحب نے فرمائی
37:38اور میں خاص طور پر ہائلائٹ کرنا چاہتا ہوں اس بات کو
37:41کہ ہم یہ اسی موقع پر کیوں اپنی عقل کے گھوڑے ہم دوڑانا شروع کر دیتے ہیں
37:47کہ یار اس سے تو یہ بڑا کام بھی ہو سکتا ہے یہ بڑا کام بھی ہو سکتا ہے
37:50آپ یقین جانئے جب اللہ اور اس کے رسول کا حکم آ جاتا ہے نا
37:54تو پھر یاد رکھیے پھر دل بچھائے جاتے ہیں
37:57عقل نہیں چلائی جاتی
37:58اور اسی بات کو علامہ نے کیا خوبصورت انداز میں بیان کیا
38:03کہ خیرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
38:06دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں
38:09اللہ اور اس کے رسول کا حکم آ گیا
38:11تو بس آپ کو سر تسلیم خم کر دیں
38:13سرنڈر کرتا ہوا ایک بندہ مومن نظر آئے
38:16پھر آپ غور تو کریں
38:17مطبعہ حچ کے آپ ارکان تو دیکھیں
38:19مطبعہ توافے کعبہ آپ دیکھئے
38:20آپ رمی دیکھئے
38:22مطبعہ پتھر سے بنے ہوئے شیطانوں کو کنکریاں ماری جا رہی ہیں
38:26آپ صحیح دیکھئے کہ وہاں پر بار بار چکر لگائے جا رہے ہیں
38:30گویا کہ ایک دیوان کی ہے
38:31پروانہ وار اللہ کی رضا کا پروانہ حاصل کرنے کے لئے
38:35اس انداز سے اپنی عقیدت
38:36اپنی محبت کا اظہار کر رہے ہیں
38:38گویا کہ جو مکہ کی سرزمین ہے
38:41وہ شما ہو
38:41اور یہ دیوانے مستانے
38:44یہ پروانوں کی مانن جو ہے نا
38:46بس اپنے رب کو رازی کرنے کے لئے
38:48اس شما کے گرد کبھی کچھ کرتے نہ در آئیں
38:50کبھی کچھ کرتے نہ در آئیں
38:51ساری نسبتوں کا آپ سمجھ لیں
38:53یہ حصول ہے
38:54اور یہ نسبتوں کی باتیں ہیں
38:55کہ اللہ رب العزت
38:57اللہ بے شک اپنے کرم سے
38:59کتنی کرم نوادی فرماتا ہے
39:01اللہ رب العزت ہم سب کو بار بار جانا نصیب فرمائے
39:03اور اس موقع پر بہترین انداز سے
39:05اجتماعی قربانی میں
39:06یہ حصہ بھی شامل کرنے کی توفیق اطاف فرمائے
39:09اور جو کہیں بھی بندہ مومن
39:10قربانی پیش کرے
39:11اللہ کے حضور
39:12اللہ رب العزت
39:12اس کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے
39:14ہمارے بھائی ہیں
39:15قمر الزمہ
39:16چھے حصے انہوں نے قربانی کے شامل کی ہیں
39:17اللہ تعالی آپ کا یہ دینا
39:19اپنی بارگاہ ہے
39:20مقدسہ میں قبول فرمائے
39:21اور یہ جو
39:23آج میں نے اناؤنسمنٹس کی ہیں
39:24موٹیویشن بھی ایک ہوتی ہے
39:26کراس موٹیویشن
39:27کہ ہم سنتے رہے ہیں
39:28پہلا دن تھا
39:29پہلا پروگرام تھا
39:29لیکن لوگ آئے
39:30لوگوں نے اپنی محبتیں پیش کی
39:32میں پھر سے اس نوٹ پر
39:33بس ہم تقریباً
39:34وائنڈ اپ کر رہے ہیں
39:35پروگرام کو
39:36میں اس نوٹ پر لانا چاہتا ہوں
39:37کہ دیکھیں
39:38ہم جب اپنے لیے
39:39کوئی نعمت کا حصول چاہتے ہیں
39:41تو ہم چاہتے ہیں
39:41کہ ہم سب سے پہلے مل جائے
39:43لیکن جب اللہ کی بارگاہ میں
39:44اپنا عمل پیش کرنے کی باری آئے
39:46تو پھر ہم کل پرسوں
39:48اس سے ہم بات کرتے ہیں
39:49تو مطلب یہ کہ
39:50پھر بات بنتی نہیں ہے
39:51تو آپ جس طرح اللہ کی بارگاہ سے چاہتے ہیں
39:54تمام نعمتیں
39:54سب سے پہلے
39:55اور سب سے زیادہ آپ کو مل جائیں
39:56تو آئیے آج آپ کی باری ہے
39:58کہ اس اللہ کی بارگاہ میں
39:59اپنی محبتیں پیش کرنے کے لیے
40:01قربانیوں کی صورت میں
40:02یہ زبیح اللہ کی رحمہ قربان کرنے کے لیے
40:04اجتماعی قربانی
40:05دوہدہ چبیس کیجین کا
40:07خواہدہ غریب نباز دیل پر
40:08ٹسکت ساتھ دیں
40:09اور یادگار قربانی
40:10انشاءاللہ ہم اس کو بنائیں
40:11ہزاروں نہیں لاکھوں مستحقین
40:13جن کے دلوں سے نکلنے والی دعائیں
40:15آپ کے اس عمل کی
40:16اس اجتماعی قربانی کی
40:18منتظر ہیں انشاءاللہ
40:19میں دونوں ہی علماء کرام کا
40:21اور علی احمد حاشمی صاحب
40:22آپ کا بھی بہت شکریہ دکرتا ہوں
40:24اللہ تعالیٰ آپ تینوں کو جزائے خیر دے
40:25اور انشاءاللہ یہ محبت کا سفر جاری
40:27اور ساری رہے گا
40:28ہم علی احمد حاشمی کی خوبصورت آواز میں
40:31انشاءاللہ آپ سے اس پروگرام
40:33اس ٹیلی تھون ٹرانس میشن
40:34اس قربانی اپیل دوہزار چھبیس سے
40:36خواجہ غریب نواز ویل فیر ٹرسٹ کو
40:38اپنی دعاوں میں یاد رکھیں
40:39ہم آپ کو اپنی دعاوں میں یاد رکھیں گے
40:41اور پھر سے یہ کمیٹمنٹ
40:42یہ موٹیویشن کے آئیے مل کر
40:44اس اجتماعی قربانی دوہزار چھبیس کو
40:45کامیاب بنائیں
40:46خوبصورت انشاءاللہ کلام
40:48علی احمد حاشمی کی آواز میں
40:50اپنے مہمان سمیر احمد
40:51اپنے محضبان سمیر احمد
40:52کو دین اجازت
40:53السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
40:55جب وہ چہرہ دکھائی دیتا ہے
41:14جب وہ چہرہ دکھائی دیتا ہے
41:35عشق سجدہ دکھائی دیتا ہے
41:42عشق سجدہ دکھائی دیتا ہے
41:51اور کیا ادھر سے
41:56بھرور بزر ہے
42:01کیا ادھر سے
42:05بھرور بزر ہے
42:11چاند سجدہ دکھائی دیتا ہے
42:18چاند سجدہ دکھائی دیتا ہے
42:25چاند سجدہ دکھائی دیتا ہے
42:32اور با خدا
42:35کس قدر
42:37حیات افروز
42:43با خدا
42:44کس قدر
42:45حیات افروز
42:49ان کا روزہ دکھائی دیتا ہے
42:57ان کا روزہ دکھائی دیتا ہے
43:04اور سارا قرآن
43:08با سیسین تلقے
43:13سارا قرآن
43:18با سیسین تلقے
43:23کیا اصلاح فرمائی ہے
43:25ان کا خطبہ دکھائی دیتا ہے
43:33ان کا خطبہ دکھائی دیتا ہے
43:41حجر اصبت
43:44اس لیے
43:47ان کا بوزہ دکھائی دیتا ہے
43:51حجر اصبت
43:53اس لیے
43:57چھو
44:00ان کا بوزہ دکھائی دیتا ہے
44:24ان کا بوزہ دکھائی دیتا ہے
Comments

Recommended