Skip to playerSkip to main content
Roshni Sab Kay Liye

Watch All The Episodes ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xic1NLGY05O7GY70CDrW_HCC

Topic: Alamat e Qayamat

Host: Prof. Sumair Ahmed

Guest: Allama Liauqt Hussain Azhari, Mufti Zaigham Aii Gardezi

#RoshniSabKayLiye #islamicinformation #ARYQtv

A Live Program Carrying the Tag Line of Ary Qtv as Its Title and Covering a Vast Range of Topics Related to Islam with Support of Quran and Sunnah, The Core Purpose of Program Is to Gather Our Mainstream and Renowned Ulemas, Mufties and Scholars Under One Title, On One Time Slot, Making It Simple and Convenient for Our Viewers to Get Interacted with Ary Qtv Through This Platform.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:18Allahumma salli ala salli ala salli ala salli ala sallim
00:24Nazirin wa mhatrem
00:25Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh
00:27मैं हूँ आपका मेजबान सुमेर अहमद और पेश किया जा रहा है
00:30प्रोग्राम रोशनी सब के लिए
00:33नाजरीन गुदिश्टा प्रोग्रामस में हमने तसलसल के साथ
00:36जिस मौज़ू पर गुफ्तुगू की
00:38वो था अलामात क्यामत
00:40यकीना उसमें अलामात कुबरा भी बयान की गई
00:43अलामात सुगरा भी बयान की गई
00:45और ये जब तमाम अलामात पूरी हो जाएंगी
00:48और ये तमाम निशानिया जाहिर हो जाएंगी
00:50तो पिर अल्ला रब लिज्जत के हुकम से
00:53कयामत काइम की जाएगी
00:54और जब हम कयामत की बात करते हैं
00:57इसकी हौलनाकियों की बात करते हैं
00:59इसकी तबाकारियों की बात करते हैं
01:01تو ایک انسان میں تجسس ضرور پیدا ہوتا ہے
01:04اور یہی تجسس ہمیں نظر آیا
01:06کہ صحابہ اکرام رضوان اللہ تعالی علیہ مجمعین
01:09عرص کرتے ہیں
01:10یا رسول اللہ قیامت کب آئے گی
01:11تو جہاں ایک طرف
01:12مصطفیٰ کریم علیہ السلام نے
01:14قیامت کی علامات بیان فرمائی
01:17وہیں دوسری طرف
01:18جو زیادہ امفیسائس
01:20میرے پیارے آقا کریم علیہ السلام کرتے آئے
01:23وہ یہ کہ آخر تم نے قیامت کی تیاری کیا کی ہے
01:26اور یقیناً گزشتہ جتنے پروگرامز میں
01:28علامات قیامت کی بات ہوئی
01:30جو علماء اکرام کا ایک میسج تھا
01:32پیغام تھا آپ کے لئے
01:33اس پورے موضوع پر وہ یہی تھا
01:35کہ قیامت کی تیاری پر
01:37فکر آخرت پر ہمیں فوکس کرنا چاہیے
01:39تو ہم یہ جتنی تباکاریاں بیان کی جاتی ہیں
01:42قرآن و حدیث کے حوالاجات دیے جاتے ہیں
01:45اور اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں
01:46کہ کس انداز کی
01:47اس کی تباکاریاں ہیں
01:48تو پھر اس کو ایک فینٹیسی سمجھ کر
01:50ایک فکشن سمجھ کر
01:51ہمیں محضوظ نہیں ہونا چاہیے
01:53بلکہ ہمیں عبرت حاصل کرنی چاہیے
01:55ہمارے دل میں خوف خدا پیدا ہونا چاہیے
01:58فکر آخرت اجاگر ہونی چاہیے
01:59بس اسی مقصد کے لئے
02:00آج یہ پروگرام اور آج کا موضوع قیامت
02:03اس پر ہم گفتگو کریں گے
02:04عالم اسلام کے مقتدر
02:06مستند جید علماء کرام
02:07تشریف فرما ہے
02:08جو انشاءاللہ قرآن و حدیث کے ریفرنس سے
02:10آپ تک آج کے موضوع
02:12یعنی قیامت پر انشاءاللہ
02:14جو روشنی ہے علم کی
02:15وہ آپ کے قلوب تک پہنچانے کا سمان کریں گے
02:17سب سے پہلی شخصیت
02:18جناب حضرت علامہ
02:19مولانا لیاقت حسین عزیز صاحب
02:21السلام علیکم ورحمت اللہ
02:22کیا سین اللہ حسین عزیز صاحب
02:24آپ کے ساتھ تشریف فرما
02:25دوسری شخصیت
02:27آپ بھی کسی تعرف کے
02:28موتاج نہیں ہے
02:29حضرت علامہ
02:29مفتی سید زیغہ ملی گردیدی
02:31شاہ صاحب
02:32السلام علیکم ورحمت اللہ
02:34دونوں شخصیات کا خیر مقدم
02:36اور علامہ صاحب
02:37جو پہلا سوال آپ کی بارگاہ میں
02:38عرض ہے
02:39کہ ازروع قرآن و حدیث
02:41کیا ہولناکیاں ہیں قیامت کی
02:44جن کی تفصیل بیان کی گئے
02:45کیا فرمائیے گا
02:47بہت شکریہ رکھ سب
02:48بسم اللہ الرحمن الرحیم
02:50دیکھیں رب تبارک و تعالیٰ نے
02:52اس زمین و آسمان کو پیدا کیا
02:54اور انسان کو بسایا
02:56اور انسان کے لیے
02:58اس زمین کو مزین کیا
03:00آراستہ کیا
03:06اور پھر انسان کو
03:07اس زمین کے اندر بسا کر
03:09فرمایا کہ یہ دونوں راہیں
03:10تمہارے سامنے ہیں
03:11ایک تابداری شکر گزاری کا راستہ ہے
03:14اور ایک نافرمانی کا راستہ ہے
03:19دونوں راہیں تمہارے سامنے ہیں
03:22اور یہ دنیا کے اندر
03:25پھر رب تبارک و تعالیٰ نے
03:26انسان کو دونوں راہوں کے نشاندہ ہی بھی فرمائی
03:29انسان کے اندر دونوں قوتیں بھی رکھی
03:31پھر انبیاء کرام کو بھیجا
03:33کتابوں کو نازل فرمایا
03:34اور ہمارے نبی آخر زمین صلی اللہ علیہ وسلم نے
03:37اور قرآن نے
03:37آپ دیکھیں قرآن کا آغاز ہوتا ہے
03:40سورہ فاتحہ ہم پڑھتے ہیں
03:41جو ہر نماز کے اندر پڑھتے ہیں
03:43پھر سورہ بقرہ کا آغاز ہوتا ہے
03:45تو سورہ فاتحہ کے اندر بھی فرمایا
03:47کہ مالی کی یومتی
03:48یہ سب سے پہلے کونسپٹ مضبوط کیا جاتا ہے
03:52کہ ایک قاری قرآن
03:54اس بات کو اپنے ذہن کے اندر رکھے
03:55کہ یہ دنیا ایک عارضی دنیا ہے
03:57آخرت کے اندر ہمیں جانا ہے
03:59اور وہاں جا کے حساب دینے
04:01سورہ بقرہ کے آغاز کے اندر بھی جو متقین کے حساب بیان ہوئے
04:04تو فرمایا
04:05وَبِلْآخِرَتِهُمْ يُوْقِنُونَ
04:06وہ آخرت پر ایمان رکھتے
04:13فرمایا ان کا اس بات پر یقین ہے
04:16یہاں پر یظنون جو ہے
04:18کہ بلا علامہ صاحب
04:19یوکنون کے معنی میں
04:20وہی بلا آخرتی ہم یوکنون
04:22فرمایا ان کا اس بات پر یقین ہے
04:25کہ انہیں اللہ کی بارگاہ کے اندر جانا ہے
04:27فرمایا ایک مسلمان
04:29مادر پدر آزاد نہیں ہے
04:30فَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثَ
04:32وَأَنَّكُمْ لَيْنَا لَا تُرْجَوْنَ
04:34تمہیں لوڑ کر نہیں جانا ہے
04:36دوسرا یہ ہے
04:37کہ روٹس اب آپ دیکھیں
04:38کہ اس دنیا کے اندر
04:39کسی کے ساتھ جاتی بھی ہو رہی ہے
04:41ظلم بھی ہو رہا ہے
04:42سب کچھ ہو رہا ہے
04:42اگر یہی دنیا ہوتی
04:44تو یہاں تو ہر بندہ جس کی لاتی
04:46اسی کی بحث ہے جی
04:48ہر شخص اپنے حساب سے چل رہا ہے
04:50تو رب تبارک و تعالیٰ نے
04:51وہاں پر ایک بیزان قائم کرنا ہے
04:53وہاں پر ایک بیزان عدل ہوگا
04:55یہ تسلی ہے ان کے لئے
04:56بلکل ان کے لئے تسلی ہے
04:57دوسری بات یہ ہے
04:58کہ یہ دنیا دارالعامال ہے
05:01آخرت دارالجزا ہے
05:02انسان کا آخرت پر جتنا کونسپٹ مضبوط ہوگا
05:05عقیدہ مضبوط ہوگا
05:07کہ مجھے اللہ کی بارگاہ کے اندر جانا ہے
05:09اچھے عامال کرے گا
05:11تو اس کا ریوارڈ ادا کیا جائے گا
05:12اس کا ریوارڈ دیا جائے گا
05:14اس کو اعزازات دیے جائے گا
05:15اور برے کام کرے گا
05:16تو پینشمنٹ ہوگی
05:17اس کی سزا ہوگی
05:19تو اس لیے قیامت کا ہونا ضروری ہے
05:21دوسرا جو آپ نے فرمایا
05:22قیامت کی حول نہ کی
05:24تو اس پر تو پورا قرآن دیکھیں
05:26کہ رب تبارک و تعالی نے
05:28ایک تو سب سے پہلے فرمایا
05:29کہ یہ بات اپنے ذہن کے اندر رکھ لو
05:31کہ ادا وقعت الواقع
05:33تو لیسا لی وقعتیہ قادیبا
05:36فرمایا یہ کوئی تصوراتی
05:38تخیلاتی
05:39اور یہ کوئی سٹوری نہیں ہے
05:41واقعاتا قیامت واقع ہوگی
05:43اس کا وقوع اور اس کا آنا
05:45یہ لازم و ضروری ہے
05:46پھر جب وہ آئے گی
05:48جیسے میں نے ذکر کیا
05:49کہ اس زمین کو سجایا گیا
05:51آسمان کو ستاروں سے سجایا گیا
05:53یہ سورج یہ چاند
05:54یہ زمین پر پہاڑ جو ہے
05:56میخے بنائیں گے
05:57فرمایا یہ ساب نظام درم برم ہو جائے گا
06:01آپ نے حولناکی کا پوچھا رہا
06:02فرمایا ادا زلزلت الارض زلزالہا
06:05و اخرجت الارض اسقالہا
06:07فرمایا کیا ہولناکی ہوگی
06:19فرمایا انسان پتنگوں کی طرح اڑاہا ہوگا
06:21ایک زوردار قسم کا زلزلہ آئے گا
06:23اور فرمایا وہ مضبوط پہاڑ
06:26جنہوں نے زمین کو مضبوط کیا ہوگا
06:28وہ انہی ہوئی روئی کی طرح
06:30ہواوں کے اندر اڑ رہی ہو
06:32فرمایا وہ آسمان جس پر
06:34ستارے چاند اس کو مزین کیا ہوگا
06:37فرمایا اس چاند سورج کی روشنی کو کھینچ دیا جائے
06:40ادا شمس قبرت و ادا نجوم قدرت و ادا الجبال سکرن
06:45فرمایا ادا سما انشقت و عدیلت ربیہ و حققت
06:50پڑھتے جائیں قرآن
06:51اللہ تعالیٰ کو تعالیٰ نے یہ جو مکی سورتے ہیں
06:53اس کے اندر قیامت کی حولناکیوں کو بیان کیا ہے
06:57فرمایا کہ سارے کا سارا نظام درم برم ہو جائے گا
07:00اور انسان پریشان حال غم رہا ہوگا
07:02کہ بھئی یہ کیا ہو گیا
07:03پہلا سور پھونکا جائے گا
07:05سب انسان مر جائیں گے
07:11پھر سب اپنی قبروں سے نکلیں گے
07:13اور میدان معاشر کی طرف آئیں گے
07:15تو یہ قیامت کی حولناکیاں
07:17یہ قیامت کی سختیاں
07:19اور رب تبارک و تعالیٰ کا
07:20یہ سارا نظام کا درم برم ختم کر دینا
07:23اور پھر اس کے بعد آواز آئے گی
07:27کدھر ہیں وہ دنیا کے بادشاہ
07:29کدھر ہیں وہ دنیا کے سپر پاورز
07:31جو کہتے تھے کہ ہماری آواز سے نظام چلے گا
07:35اور نظام رک جائے گا
07:37ہم نے سمندروں کو بھی روکا ہوا ہے
07:39ہم نے سیاروں کو اور اس کو بھی روکا ہوا ہے
07:41زمین پر بھی ہمارا کنٹرول ہے
07:43فرمایا وہ کدھر ہیں زمانے کے فرعون
07:46زمانے کے نمرود
07:47لیمانی الملک الیوم
07:49کوئی جواب دینے والا نہیں ہوگا
07:50پھر اللہ تعالی خود فرمائے گا
08:00ہر چیز فنا ہو جائے گی
08:02کوئی گل باقی رہے گا
08:04نہ چمن رہ جائے گا
08:06نہ گل ہوگا
08:07نہ چمن ہوگا
08:08نہ یہ گلستان ہوگا
08:09یہ ہے قیامت کی ہولنا کی
08:11اور آخری بار ڈک سب یہ ہے
08:13کہ ایسا نہیں ہوگا
08:14فرمایا یہ نشانیاں ہیں
08:16لیکن جب قیامت آئے گی
08:17تو پھر اچانک بغتتن کے لفظیں
08:19کوئی شخص جو ہے
08:21وہ کپڑے سی رہا ہوگا
08:22کوئی عورت آٹا گونڈ رہی ہوگا
08:24اچانک زلزلہ آئے گا
08:26اور فرمایا
08:27سارا نظام درب برم ہو جائے
08:29اللہ اکبر
08:30یہ ایک طرف
08:31ناظرین
08:31قیامت کی وہ ہولناکیاں ہیں
08:34جو قرآن و حدیث میں بیان کی گئی
08:35وہیں مفصدہ
08:36ہم دوسری طرف کیا دیکھتے ہیں
08:38کہ تمام ہولناکیوں
08:40تباکاریوں کے باوجود
08:41بروز حشر
08:42جہاں ایک طرف
08:43بہت سے لوگ ہیں
08:49اور اپنے آمال کی وجہ سے
08:51آج پریشان کھڑے ہیں
08:52وہیں ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں
08:54جو عرش کے سائے تلے کھڑے ہیں
08:56یہ کون افراد ہیں سر
08:57کیا صفات کے مالک ہیں
08:59کیا فرمائی
08:59بسم اللہ الرحمن الرحیم
09:01اللہم صلی اللہ علیہ محمد
09:02و علیہ محمد و علیہ محمد
09:03و علیہ محمد و علیہ محمد
09:04شکریہ سمیر بھائی
09:06یقیناً
09:07قیامت جہاں
09:08اللہ رب العالمین کے نافرمان
09:10اور باغی افراد کے لیے
09:19جائے گا
09:20عمال کے مطابق
09:21سزا اور جزا کا فیصلہ کیا جائے گا
09:23اسی کے ساتھ ساتھ
09:24وہ خوشنصیب افراد کے جنہوں نے
09:26اپنی زندگی
09:27اللہ رب العالمین کی
09:28رضا مندی کی حصول کے لیے
09:29خرش کی
09:30اور پوری زندگی
09:32قرآن و سنت کے تقاضی کے
09:33مطابق گزارتے رہے
09:34تو یقیناً
09:35یہ قیامت
09:36ان کی ایک تقریب رونمائی ہو جائے گی
09:38یعنی پوری
09:39کائنات کے سامنے
09:41اہل محشر کے سامنے
09:42ان کو ایک پروٹوکول کے ساتھ
09:43پیش کیا جائے گا
09:43تو وہی خوشنصیب افراد
09:45کہ جن کو
09:46اللہ رب العالمین
09:47اہل محشر کے سامنے
09:48عزت افضائی
09:49ان کی فرمائے گا
09:49اور
09:50بلندیوں سے نوازا جائے گا
09:52تقریم سے نوازا جائے گا
09:53یوں تو
09:54قرآن و سنت میں
09:55جتنے آمال حسنہ کا تذکرہ فرمایا گیا
09:57ان پر
09:58مداومت اختیار کرنے والے
10:00افراد
10:00واللہ رب العالمین کی
10:01عرش کے سائے تلے ہوں گے
10:12عبتناک دن میں بھی
10:13اللہ تعالی عزت عطا فرمائے گا
10:14اور
10:15ہر طرح کی سختیوں سے
10:16اللہ رب العالمین
10:17انہیں محفوظ فرمائے گا
10:18بطور خاص
10:19چند آمال کا حضور نے تذکرہ فرمایا
10:20چند خوشنصیب افراد کا تذکرہ فرمایا
10:23جس طرح ایک حدیث میں بارکہ میں
10:24سات افراد کا حضور نے تذکرہ فرمایا
10:26کہ
10:27وہ سات افراد وہ ہیں
10:28جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن
10:30اپنے عرش کا سائے
10:31نصیب فرمایا
10:32کہ جس دن
10:33اس سائے کے علاوہ
10:34کوئی اور سائے نہیں ہوگا
10:35یعنی سورت سوا نیزے پہ ہے
10:37زمین تنبے کی بن جائے گی
10:38انسان اپنے ہی پسینے میں
10:40خود ڈھوب رہا ہوگا
10:41اور اس وقت
10:42نفس نفسی کا عالم ہوگا
10:43یوم ایفر المر من اخی
10:44و امہی و ابی
10:45و صاحبتی و بنی
10:46قطع کلامی کی معذرت کر رہا ہوں
10:48اور آپ کو پتا ہے
10:49عادتاً ایسا میں کرتا بھی نہیں ہوں
10:50لیکن
10:51جو یوت اس وقت
10:52ہماری دیکھ رہی ہے
10:53اس یوت کو
10:54ہم مخاطب کر کے کہتے ہیں
10:56یہ یقیناً
10:57ہر خاص و عام کے لیے
10:58پروگرام ہوتا ہے
10:59لیکن بالخصوص
11:01وہ جو یوت ہمیں دیکھ رہی ہے
11:02جو نوجوان ہمیں دیکھ رہے ہیں
11:04جو بچے ہمیں دیکھ رہے ہیں
11:05جو کہیں نہ کہیں
11:06سکرین ٹائم میں
11:07سوشل میڈیا میں
11:08اس قدر مہب ہو گئے
11:09کہ آخرت کو بھول بیٹھے
11:11مطبعہ
11:11والدین کو چاہیے
11:13کہ وہ ان کے لیے
11:14رول موڈل بنے
11:14ویلکم بیک ناظرین
11:15بریک کے بعد آپ کا خیر مقدم ہے
11:17قیامت آج کا موضوع
11:18اور مفتی صاحب ہمیں بتا رہے تھے
11:20کہ آج یقیناً ہم دیکھیں
11:22دنیا میں تو لوگ
11:23وی آئی پی سیٹس
11:23وی آئی پی پروٹوکول کی
11:25تلاش میں رہتے ہیں
11:25لیکن وہ لوگ کون ہیں
11:27کہ جن کو بروز حشر
11:28وی آئی پی پروٹوکول ملنا ہے
11:30اور عرش کے سائے تلے کھڑے ہیں
11:31سر کیا فرمائے
11:32جی سمیر بھئی
11:44منصب کے تقاضی کو پورا کرتا
11:45آج تو حکمرانوں کا تصور آتے ہی
11:47ہمارے ذہن میں وہ ساری چیزیں آ جاتی ہیں
11:49کہ کرپشن
11:50لوٹ مار
11:50چوری چکاری
11:51عوامی استحصال
11:53اور یہ اس طرح کے
11:54معاملات ہمارے پیشے نظر آتے ہیں
11:56لیکن جو حکمران
11:58اپنے منصب کے تقاضی کے مطابق
12:00اس کو پورا کرے گا
12:01اور اس منصب کو
12:03اللہ رب العالمین کی طرف سے
12:04امانت سمجھ کر
12:05اس کے تقاضی کو ادا کرنے کی کوشش کرے گا
12:07اور اس سے انصاف کرے گا
12:09تو اللہ رب العالمین
12:10دنیا میں تو اسے عزت
12:11اسے نوازتا ہی ہے
12:12آخرت میں
12:13پوری کائنات کے سامنے فرمائے
12:15کہ عرش الہی کے سائے تلے
12:16اسے جگہ اطاف فرمائے جائے گا
12:17پھر دوسرا
12:18حدیث مبارکہ میں فرمائے
12:19کہ وہ شابن
12:20نشا فی عبادت اللہ
12:22عز و جللہ
12:22کہ وہ جوان
12:24جس کی جوانی
12:24اللہ رب العالمین کی عبادت میں گزرتی ہے
12:26یعنی اپنی جوانی میں
12:27وہ خواہشات کا ایک سمندر ہے
12:29اور بہکاوے ہیں
12:31دیگر گناہ کے راستے
12:32اس کے پاس کھلے ہوئے ہیں
12:33لیکن فرمائے
12:34کہ اللہ رب العالمین کی
12:35رضا خوشنودی
12:36اور اللہ کے قرب کے حصول کے لیے
12:38وہ اگر وہ اپنی جوانی استعمال کرتا ہے
12:40اور ان تمام تر
12:42نفسانی بہکاووں
12:43اور خواہشات کے باوجود
12:44وہ کسی
12:45اپنی جوانی کی
12:47شرارتوں میں
12:48مبتلا نہیں ہوتا
12:49اللہ رب العالمین کی عبادت میں
12:51اپنی زندگی گزارتا ہے
12:52اور
12:53اللہ کو راضی کرنے کے لیے
12:54وہ کوشہ رہتا ہے
12:55تو فرمائے کہ
12:56اللہ تعالیٰ عرش کے سائے تلے
12:57اسے جگہ اتا فرمائے گا
12:58یعنی وہ جوان کے
12:59باوجود جوان ہونے کے
13:01بڑاپے میں تو ہر کوئی
13:02وہ
13:04سیدھے راستے کی طرف آ جاتا ہے
13:05اس لیے شیخ صادی علیہ الرحمن نے فرمایا
13:07کہ
13:09جوانی میں توبہ کرنا یہ شیوہ پغمبر ہی ہے
13:11انبیاء اکرام علیہ السلام کا
13:12یہ شیوہ ہے
13:13کہ وہ اپنی جوانی کو
13:14اللہ رب العالمین کی رضا کی
13:15اصول کے لیے خرش کرتے ہیں
13:17تو وہ جوان کے جس نے
13:19تمام تر نفسانی بہکاووں
13:20خواہشات کا ایک سمندر ہونے کے باوجود
13:22اور فتنوں کے تمام تر
13:24راستے کھلے ہونے کے باوجود
13:26اپنی جوانی اللہ رب العالمین کی
13:28رضا کی اصول کے لیے گزار دی
13:29اللہ رب العالمین
13:30اسے عرش کے سائے تلے جگہ اتا فرمائے گا
13:32اور اس حدیث میں مبارکہ سے
13:33مطالق محدثین نے کلام فرمایا
13:35کہ یہ ان کا مقام نہیں ہے
13:38یہ تو
13:39آمال تولے جانے سے
13:40پہلے اللہ رب العالمین
13:41انہیں یہ عزتیں اتا فرمائے گا
13:42کہ تم نے زندگی
13:44اس کیفیت میں گزاری ہے
13:45اب تمہیں
13:46محشر کی جو سختیاں ہیں
13:48اسے اللہ رب العالمین
13:49نجات اتا فرماتا ہے
13:50تم نے زندگی ایسی شاندار گزاری ہے
13:53کہ آج تمہیں کسی طرح کی
13:54کوئی پریشانی نہیں ہوگی
13:55عرش کے سائے تلے اللہ تعالی
13:56انہیں جگہ اتا فرمائے گا
13:58تیسرا
13:58وہ شخص فرمائے گا
13:59کہ
14:02کہ وہ شخص جس کا دل
14:03مسجد سے لگا ہو ہے
14:05یعنی وہ اپنے کام کاج میں
14:07مصروف رہتا ہے
14:09جیسے ہی نماز کا وقت ہوتا ہے
14:10تو اس کی خواہش ہوتی ہے
14:11کہ نماز کے لئے وہ مسجد جائے
14:12یعنی ایسا نہیں
14:14کہ چوبیس گھنٹے
14:14شب و روز وہ مسجد سے ہی جڑا رہے
14:16مسجد میں ہی بیٹھا رہے
14:17اگر اللہ تعالی ایسا کسی کو نصیب کرے
14:19کہ اپنی زندگی میں سے اکثر اوقات ہو مسجد میں
14:22تو یہ تو بڑی خوش نصیبی ہے
14:24لیکن اپنی زندگی کی دیگر
14:26مصروفیات کے ساتھ ساتھ
14:28وہ جب بھی عبادت کا وقت آتا ہے
14:29اپنی تمام تر مصروفیات کو ترگ کر کے
14:31اللہ رب العالمین کی عبادت کے لئے آزر ہوتا ہے
14:34تو فرمائے کہ جس کا دل مسجد سے لگا ہو ہے
14:36یا مسجد کی خدمت میں لگا ہو ہے
14:38مسجد کی تعمیر و ترقی میں لگا ہو ہے
14:39مسجد کی عبادت کاری میں لگا ہو ہے
14:41اللہ رب العالمین عرش کے سائے تلے
14:43اسے جگہ اتا فرمائے گا
14:44پھر فرمائے کہ
14:49دو افراد آپس میں اس لئے ملتے ہیں
14:51ان کی محبت ان کا تعلق اللہ کی رضا کے لئے
14:54اللہ کی خوشنودی کے لئے
14:55یعنی اس تعلق کا کوئی اور سبب نہیں ہے
14:57کہ کل میں پریشانی میں ہوتا ہے
15:00یہ میرے کام آجا ہے
15:01آج تو دوستی اس لئے کی جاتی ہے
15:02کہ علاقے میں کسی سے اگر کوئی لڑائی جگڑا ہو گیا
15:05تو یہ ساتھ کھڑا ہوگا
15:06یا دنیاوی مادی جو منفیتیں
15:08اس کے اصول کے لئے ہم دوستیاں گڑتے ہیں
15:09کہ کوئی کام نکل آئے گا
15:11میرا کام اس سے بن جائے گا
15:12یہ خالصت اللہ کی رضا کے لئے
15:15اور حدیث مبارکہ میں تو اتنا فرمایا ہے
15:17کہ جس نے اللہ کے لئے محبت کی
15:24اللہ کے لئے بوز رکھا
15:25اللہ کے لئے دیا
15:26اللہ کے لئے روکا
15:26اللہ رب العالمین
15:28اسے ایمان کی تکمیل کی
15:29جو حلاوت تو چاشنی ہے
15:30وہ عطا فرماتا ہے
15:31پھر تیسرا فرمایا
15:32اس کے بعد فرمایا
15:33کہ وہ شخص
15:34کہ جس کو کسی عورت نے
15:36جو منصف والی ہے
15:38جمال والی ہے
15:38اس کو گناہ کی دعوت دی
15:40اور اس گناہ کی دعوت کے مقابلے میں
15:43اس کے جواب میں
15:44اس نے کہا کہ میں
15:44اس کا انکار کر دیا
15:45اور فرمایا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں
15:47یعنی گناہ کے سارے راستے
15:49محسر ہونے کے باوجود
15:51گناہ اس لئے چھوڑا
16:03کہ جو رب کے حضور کھڑے
16:05انہیں سے ڈرہا
16:05اللہ تعالیٰ اسے دو جنتیں عطا فرماتا ہے
16:07تو اس شخص سے متعلق فرمایا
16:09پھر فرمایا کہ وہ شخص جو صدقہ کرے
16:11اس کیفیت میں صدقہ کرے
16:13کہ دائیں ہاتھ سے دے بائیات کو خبرنو
16:15یعنی خالصتا اللہ کی رضا کے لئے
16:17اور مخلوق سے چھپتے ہوئے
16:18اگرچہ علانیہ صدقہ کرنے کی گنجائش موجود ہے
16:21لیکن پسندیدہ صدقہ وہ ہے
16:23جو اللہ رب العالمین کی رضا کے لئے
16:24اور مخلوق سے چھپ کر کیا جائے
16:26اور آخری فرمایا کہ
16:27وہ شخص جس نے تنہائی میں
16:29اکیلے میں
16:30اللہ کا ذکر کیا
16:32اللہ کو یاد کیا
16:33اور اللہ کی یاد کی وجہ سے
16:34اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے
16:36یعنی اس کی آنکھیں
16:37اللہ کی یاد میں آنسو بہتی ہیں
16:39تو وہ آنسو اللہ کی بارگاہ میں
16:41اتنے قیمتی ہیں
16:41اور اس شخص کی اللہ کی بارگاہ میں
16:43اتنی قدر و منزلت ہے
16:44کہ آخرت میں
16:46اللہ رب العالمین
16:47اپنے عرش کے سائے تلے
16:47اسے جگہ اتا فرمائے گا
16:49تو اللہ کریم
16:49ہمیں بھی ان عامال کو اختیار کرنے
16:51اور اس عزاز و شرف کو حاصل کرنے
16:53کیلئے کوشش کرنے کی توفیق اتا فرمائے
16:55سبحان اللہ
16:56اور اسی لئے کہتے ہیں ناظرین
16:57کہ مشقت سے بچنے کی خاطر
17:00نیکی کا ارادہ ترک مت کرو
17:02کیونکہ مشقت ختم ہو جاتی ہے
17:04اور نیکی باقی رہتی ہے
17:05لذت کی خاطر گناہ مت کرو
17:07کیونکہ لذت ختم ہو جاتی ہے
17:09اور گناہ باقی رہتا ہے
17:10کیوں
17:10ایک میزان عمل ہے جو منتظر ہے
17:13میدان حشر میں
17:14تمام انسان جتنے بھی ہیں
17:16یہ میزان عمل فیصلہ کرنے والا ہے
17:18سر کیا قرآن و حدیث میں
17:20میزان عمل کے حوالے سے
17:21تفصیل ملتی ہے
17:22کیا فرمائے گا
17:23قرآن مجید فرقان حمید
17:25میرے ربط تبارک وطارہ نے فرمایا
17:32فرمای قیامت کے دن جو ہے
17:33وہ میزان ہم قائم کریں گے
17:35اور فرمایا کہ
17:36کسی جان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
17:38آج دنیا کے اندر ایسا ہوتا ہے
17:40کہ کہیں پرچی چلتی ہے
17:42کہیں فائلوں کو ٹائر لگا دی جاتے ہیں
17:44کہیں کوئی سورس چلتا ہے
17:46پرچی کو آ جاتا ہے
17:47لیکن فرمایا وہاں پر کچھ نہیں ہوگا
17:49وہاں رب تبارک وطالہ کا ایک نظام عدل ہوگا
17:53اور وہ میزان قائم کیا جائے گا
17:55اور جو کچھ تم نے دنیا کے اندر کمایا ہوگا
17:58وہ تمہارے ہاتھ میں فائلے ہوں گی
18:00اقرأ کتاب کا کفا
18:02پر نفسی کر یوم علی کا حصیبہ
18:04فرمایا کہ یہ دیکھ لو
18:05جو کچھ تم نے کیا ہے
18:06فَأَمَّا مَنْ اُوْتِيَا كِتَابَهُ
18:09فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابَ يَسِيرَ
18:10جس کے نام آیا عمال کو سیدھی ہاتھ کے اندر دیا دائے گا
18:14فرمایا اس کا حساب بہت آسان ہوگا
18:16فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَهُوَ فِي عِيشَةَ الرَّابِيَا
18:20وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُمْهُ حَاوِيَا
18:23فرمایا کہ جس کا میزان عمل کے اندر تول بھاری ہوں گے
18:26وہ خوش ہوگا
18:27خوش ہوگا
18:27خوش ہوگا
18:28خوش ہوگا
18:28خوش ہوگا کہ
18:29میں نے زندگی جو کامیابی کے ساتھ گزاری
18:31آج دیکھیں کوئی جو ہے
18:34کلب میں جا رہا ہے
18:35اور اپنے جو ہے وہ
18:36ویٹ کو مضبوط کر رہے ہیں
18:38جسم کو مضبوط کر رہے ہیں
18:39کوئی اپنے بینک بیلنس کو مضبوط کر رہا ہے
18:41لیکن قرآن نے کہا
18:43یا ایوالذین آمن اتقوا اللہ
18:44وَالْتَنظُرْ نَفْسُمْ مَا قَدَّمَتْ رِخَتْ
18:47یہ بھی دیکھ لو
18:48کہ تم نامیں عمال کو بھی بھاری کر رہے ہوگی
18:51فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَهُوَ فِي عِيشَةَ الرَّابِيَا
18:55جس کا نامیں عمال بھاری ہوگا
18:57جس کے طول بھاری ہوں گے
18:58فرمایا وہ خوشی کے اندر ہوگا
19:00اور فرمایا جس کا حلقہ ہوگا
19:02فرمایا کہ وہ جو ہے جہنم کے اندر جائے گا
19:05تو یہ زندگی کے اندر
19:07نامیں عمال کو بوجل کرنے والی کیا چیز ہے
19:10نماز فرائز
19:12آپ کے صدقات خیرات حسن اخلاق
19:15اللہ کے ربی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
19:17کہ میزان عمل پر سب سے زیادہ جو
19:20بوجل چیز ہوگی اور بھاری کرنے والی ہوگی
19:23وہ حسن خلق ہوگا
19:23اللہ
19:25حسن اخلاق ہوں گے تمہارے
19:26فرمایا تمہاری تسبیحات ہوں گی
19:29ملء المیزان جو میزان کو بھر دیں گی
19:32سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم
19:35و بحمدہ استغفراللہ
19:37فرمایا کہ زبان پر بڑی ہلکی سی ہے
19:39ادائیگی کے اندر بڑی بڑی لائٹ
19:41اور فرمایا کہ رحمان کو بڑی معبوب ہے
19:44اور میزان کو بھرنے والی ہیں
19:46لیکن آج دوک سب یہ ہے
19:49کہ ہمیں میزان کو بھرنے کی تہائی فکر نہیں
19:51ہمیں اپنے خزانہ بھرنے کی لگی
19:53اپنا پیٹ بھرنے کی لگی ہوئی ہے
19:55اس کے اندر حرام جائے
19:57حلال جائے
19:58بینک بیلنس کے اندر حلال جائے
20:00حرام جائے
20:06ملا ہو پیر ہو
20:07شاستدان ہو
20:09کوئی بھی ہو
20:09ہر بندہ اسی میں لگا ہوا ہے
20:11کہ بس آ جائے
20:13کالا ہو لیلا ہو پیلا ہو
20:14میرا اکاؤنٹ بھر جائے
20:17میرا خزانہ بھر جائے
20:18یہ خزانے سب یہی رہ جائیں گے
20:20میدانِ معاشر کے اندر
20:22تمہارا جو میزان ہے
20:24وہ اگر بھرا ہوگا
20:25تو تم خوش ہوگے
20:26یہ چند روزہ زندگی ہے
20:28کان اب اقدار ہو خمسین الفسر
20:30ابھی علمہ سب جو
20:31میدانِ معاشر کا ذکر کر رہے تھے
20:33پسینوں کے اندر ڈبکیاں کھا رہے ہوں گے
20:35اور فرمایا کہ
20:36ایک دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا
20:38وہاں کے لیے بھی تم نے کچھ کیا ہے
20:41وہاں کے لیے بھی کچھ تیاری کی ہے
20:42تو اگر اپنے میزانِ عمل کو بھرنا چاہتے ہو
20:45اگر اللہ کی بارگاہ کے اندر
20:47سرخرو ہونا چاہتے ہو
20:49اور ایک اور جملہ کہوں گا
20:50قرآن کی تو جتنی آیات بار بار سوچا جائے
20:53آیات پر آیات آیات
20:54فرمایا
21:00کہتے ہیں یہ تو چھوٹا سا ذرہ ہے
21:02یہ تو سو روپے کی چوری کی
21:04چوری چوری ہے
21:05فرمایا
21:06اللہ کی بارگاہ کے اندر چھوٹا ذرہ برابر بھی اچھائی ہوگی
21:09یا برائی ہوگی
21:10فرمایا
21:11وہ میزانِ عمل پر تم دیکھو
21:12اور کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا
21:14کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی
21:16اور فرمایا
21:17وہاں پر ہر چیز کو تم حاضر پاؤگی
21:19اللہ
21:24فرمایا
21:24کہ چھوٹی چیز
21:25بڑی چیز
21:26ہر چیز وہاں پر
21:28جو ہے وہ پائی جائے گی
21:29اور فرمایا
21:30رب تبارک و تعالی کی بارگاہ کے اندر
21:32تو رب تعالی اس زندگی کے اندر رہتے ہوئے
21:34ہمیں
21:34اس میزانِ عمل کو بھرنے کی توفیق اطاف کروائے
21:38کہ موت کو سمجھا ہے غافل
21:40اختتامِ زندگی
21:41نہیں نہیں
21:42ہے کہ شامِ زندگی
21:44صبحِ دوامِ زندگی
21:45اللہ
21:45اللہ
21:46آپ کے جزائے خیر دے
21:47انگلیش میں
21:48پوم ہم پڑھاتے تھے
21:50ہمیں آج بھی یاد ہے ناظرین
21:51اور وہ تھی کہ
21:52little grains of sand
21:54make a mighty land
21:56یعنی کہ جو زمین کے ذرات ہیں
21:58چھوٹے چھوٹے
21:59یہ ملتے ہیں تو
22:00ایک بڑی زمین بنتی ہے
22:01little drops of water
22:03make a mighty ocean
22:04اسی طرح پانی کے ننے قطرے ملتے ہیں
22:06تو ایک بڑا سا سمندر بنتا ہے
22:08اسی طرح یہ سمجھانے کا مقصد دیئے تھا
22:10کہ پھر یہ message دیا گیا
22:11کہ بلکل اسی طرح
22:13similarly
22:13little deeds of kindness
22:15make your world and add in
22:17یعنی کہ جو چھوٹے چھوٹے نیکی کے کام ہے نا
22:19یہ دنیا کو جنت بنا دیتے ہیں
22:21تو آج کے موضوع کے حوالے سے استخدام کریں
22:23جو
22:24جو علامہ صاحب نے گفتوگو فرمائی
22:25اگر میں خلاصہ لے کر
22:27اور اس کو relate کر دوں
22:28ایک question سے
22:29کہ ہم
22:30ایک نیکی کو بھی چھوٹا نہ سمجھیں
22:32کونسی نیکی ہمارے کام آ جائے
22:34اور پھر
22:34ہر بندہ مومن یہ چاہے گا
22:36بروز حشر
22:36میزان عمل میں
22:38اس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو
22:40تو سر وہ کون سے آمال ہیں
22:42کہ جن کے زیادہ سے زیادہ کرنے سے
22:44ہم یہ ایکسپیکٹ کر سکتے ہیں
22:45کہ بروز حشر
22:46میزان عمل میں
22:47ہمارا جو
22:48پلڑا ہوگا
22:49ہمارے عمل کا وہ بھاری ہو جائے
22:51بسم اللہ الرحمن الرحیم
22:53سمیر بھائی
22:54ویسے تو
22:55جن آمال کی
22:56قرآن و سنت میں
22:57تاقید فرمائی گئی ہے
22:58ان میں سے ہر عمل
22:59وہ میزان عمل کو بھرنے والا ہے
23:00اور ہر عمل
23:01وہ میزان عمل میں بھاری ہوگا
23:03اور اس کی وجہ سے
23:04اللہ رب العالمین
23:05ہمارے آمال کا پلڑا
23:06اس میں
23:07برکت عطا فرمائے گا
23:08بطور خاص جن آمال کا تذکرہ
23:11آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
23:13نے حدیث مبارکہ میں فرمایا
23:14اور کچھ آمال سے
23:15متعلق اللہم صاحب نے بھی
23:16کلام فرمایا
23:17اس میں سے
23:18ایک عمل
23:19جو انتہائی آسان ہے
23:20ان آمال کو حضور نے بیان فرمایا
23:22کہ انتہائی آسان ہے
23:24اور انتہائی آسانی کے ساتھ
23:26اور بغیر کسی محنت و مشکت
23:28کہ ہر انسان
23:29ان آمال کو اختیار کر سکتا ہے
23:30کیا بات
23:30حضرت موسیٰ علیہ وآلہ وسلم کی حوالے سے
23:32ایک روایت ملتی ہے
23:33کہ اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا
23:35کہ باری طلعہ مجھے کوئی خاص وظیفہ
23:36عطا فرما
23:36تو اللہ کی بارگاہ سے فرمایا گیا
23:38کہ اے موسیٰ
23:40لا الہ الا اللہ کی کسرت کرو
23:42اور یہ کلمہ توحید
23:44اس کی کسرت کرو
23:45اور
23:46اس کی وجہ سے
23:47اللہ رب العالمین
23:49فضیلتیں عطا فرماتا ہے
23:50آمال کو بھر دیتا ہے
23:51تو عرض کی کہ
23:52باری طلعہ یہ تو تمام معاہدین کے لیے
23:54جو بھی توحید کا
23:55عقیدہ و نظریہ رکھنے والا ہے
23:57ہر ایک کے لیے ہے
23:58تو میں تو تیرا کلیم ہو
23:59مجھے کوئی خاص وظیفہ عطا فرمایا جائے
24:01تو اللہ کی بارگاہ سے فرمایا گیا
24:03کہ اے موسیٰ
24:04یہ کلمہ ایک طرف
24:06اور
24:07جتنے آمال ہیں
24:08زمین و آسمان کی
24:09جتنی خیر کی چیزیں ہیں
24:10وہ ایک طرف کر دی جائیں
24:11تو فرمایا کہ یہ باری رہے گا
24:13اللہ
24:13یعنی کلمہ توحید
24:15کلمہ تیبہ
24:16یہ تمام آمال پر باری ہے
24:18اتنی پاور
24:18اور میزان کو بھرنے والا ہے
24:20میزان عمل میں
24:21تمام چیزوں سے یہ باری ہو جائے گا
24:22اور ایک حدیث مبارکہ جو طویل ہے
24:24جس میں ایک شرح سے متعلق فرمایا گیا
24:26کہ اس کے
24:27نینانوے دفتر
24:28وہ
24:28وہ سیاہ آمال سے بھرے ہوں گے
24:30اللہ
24:31لیکن صرف ایک اس کا عمل ہوگا
24:32کہ اللہ رب العالمین کی توحید کا وہ قائل تھا
24:35اللہ رب العالمین کی توحید
24:37اس کے
24:37انبیاء اکرام علیم السلام کی نبوت و رسالت کا کہا ہے
24:39تو فرمایا کہ
24:40اس کا یہ عمل اللہ کی بارگہ میں پیش کیا جائے گا
24:43وہ حیرانگی سے ارز کرے گا
24:44کہ باری تعالیٰ میرے تو اتنے عمال نہیں ہیں
24:47یہ کونسا ایسا عمل ہے
24:48جس نے باقی تمام عمال پر
24:50سب کا دختیار کر لیا
24:51بڑھ گیا یہ
24:52تو اللہ کی بارگہ سے فرمایا جائے گا
24:55کہ یہ
24:55وہ توحید کا عقیدہ اور نظریہ ہے
24:57جو تُو نے مجھ سے وابستہ کیا
24:58تو کلمہ توحید
25:00اس کا ذکر کرنا
25:02اس کی تقرار کرنا
25:03یہ میزان عمل کو برنے والا
25:04اور پھر
25:05بخاری شیف کی آخری حدیث میں مبارکہ
25:07کلمہ تانی
25:08حبیبہ تانی
25:10خفیفہ تانی
25:10علی اللسان
25:11سقیلہ تانی في المیزان
25:12سبحان اللہ و بحمدی
25:14سبحان اللہ العظیم
25:15کہ یہ دو کلمات ایسے ہیں
25:16کہ جو زبان پر آسان ہے
25:18میزان پر بھاری ہیں
25:19اللہ کی بارگہ میں بڑے محبوب ہیں
25:21سبحان اللہ و بحمدی
25:23سبحان اللہ العظیم
25:24اور ایک حدیث میں فرمائے
25:25کہ سبحان اللہ الحمدلہ
25:26تم لا المیزان
25:28کہ میزان کو بھرنے والے
25:29صرف سبحان اللہ بھی
25:30اگر کسی نے
25:31خلوص نیر سے کہا
25:32اللہ کی رضا کی حصول کے لیے
25:33اللہ رب العالمین
25:34اس کی میزان کو
25:35اس کے صدقے سے
25:36معمور فرمائے گا
25:37اور سارے
25:38جو گناہوں کا خدا نہ خاصتہ
25:39ایک سلسلہ ہوگا
25:40اللہ تعالی اس سے
25:41اس کے لیے آسانی فرمائے گا
25:43انشاءاللہ
25:43انشاءاللہ
25:44اور بس اسی کے لیے
25:45ہمیں کوشش کرنی ہے
25:46اور یہی سمجھ لیں
25:47کہ آج لیسن بھی ہے
25:48اور ہم ان سے
25:49بہت کچھ سیکھنے کی
25:50کوشش کریں گے
25:51اور یہ کمیٹمنٹ
25:52اپنے آپ سے کریں گے
25:52عمل کی بھی کوشش کریں گے
25:54اچھا بارال
25:54آج جو موضوع ہے
25:55وہ ہے قیامت
25:56اور ہم یہ دیکھتے ہیں
25:57کہ اگر پیپر آؤٹ ہو جائے
25:58ہمیں کوششن پتا چل جائیں
26:00تو پھر پیپر کرنا
26:01پرچا کرنا
26:01بڑا آسان ہو جاتا ہے
26:02قیامت کے حوالے سے بھی
26:04ایک کوششن
26:05جو کہ کمپلسری ہے
26:06منڈیٹری ہے
26:07اور سب سے پہلے پوچھا جائے گا
26:08تو وہ ہم پوچھیں گے
26:09علامہ صاحب سے
26:10لیکن ایک مختصر سا وقفہ ہے
26:12سی یو
26:12رائٹ آفتر دس شورٹ بریک
26:14جی ویلکم بیک ناظرین
26:26بات ہے کہ ایک کوششن پیپر ہے
26:27جو ہمیں نہیں پتا ہوتا
26:28لیکن
26:29کیا ہی بات ہے
26:30اللہ رب العزت کی
26:31کتنی کرم نوازی ہے
26:32کہ جو سب سے پہلے
26:33منڈیٹری
26:34کمپلسری کوششن
26:35پوچھا جائے گا
26:35بتا دیا گیا بھئی
26:36بروز حج
26:37سب سے پہلا سوال
26:38تم سے یہ ہوگا
26:39تو ہم وہ سوال بھی جانیں گے
26:40اس کی تیاری کے لیے
26:42انشاءاللہ کوشش
26:42اور کمیٹمنٹ بھی کریں گے
26:43کیا فرمایے گا
26:45دیکھیں
26:46دوٹ سب
26:47ایک تو جیسے
26:47ہم نے پیچھتے بورام کے اندر
26:49ذکر کیا تھا
26:49کہ قیامت تو
26:50تب ہی آ جاتی ہے
26:51جب انسان کے جسم
26:52اور روح کا
26:52مرشتہ منقطع ہوتا ہے
26:54اللہ
26:54قبر میں جب انسان پہنچتا ہے
26:56وہ بھی قیامت ہے
26:57ہے صحیح
26:57اور قبر کے آوال بھی
26:59آپ سمجھے
27:00کہ حضور نے فرمایا
27:01کہ قبر یا تو جنت کے
27:02باغوں میں سے
27:02باغ بن جائے گی
27:03یا جہنم کے گڑوں میں سے
27:04گڑا بڑھ جائیں
27:05اچھا وہاں جتنے سوال ہوتے ہیں
27:07مَا رَبُّكَ مَا دِينُكَ مَا کُنْتَ تَقُولُ
27:09فِي حَقِّ حَدَرْ وَجُلُ
27:10یہ سارے کے سارے
27:11عقائد سے متعلق ہوتے ہیں
27:13لیکن میدان معاشر کے اندر
27:15سب سے پہلے
27:15عامال کے بارے میں
27:16پوچھا جائے گا
27:17اور ایک حدیث پاک کے اندر آتا ہے
27:23فرمایا
27:24سب سے پہلے
27:25بندہ مومن سے
27:26یہ پوچھا جائے گا
27:34بندہ مومن اور
27:35بندہ کافر کے درمیان
27:36جو فرق کرنے والے
27:37ما بحیل امتیاز ہے
27:38فرمایا کہ وہ نماز کا عدا کرنا ہے
27:40اور اس پر پھر جتنی گفتگو کی جائے
27:42قرآن و حدیث کی ایک مکمل موضوع ہے
27:44بعض روایات کے اندر آتا ہے
27:46کہ ظلم کا فیصلہ ہوگا
27:48جو مزدوم ہوں گے
27:50کیونکہ مزدوم کے بارے میں آتا ہے
27:52کہ مزدوم جب دعا کرتا ہے
27:54یا بددعا کرتا ہے
27:55تو فرمایا اس کے درمیان
27:57اور عرش الہی کے درمیان
27:58کوئی حجاب نہیں ہوتا ہے
27:59تو فرمایا
28:00سب سے پہلے مزدوم کو کھڑا کیا جائے گا
28:02اور ظالم کو کھڑا کیا جائے گا
28:04کہ بتاؤ تم نے
28:05اس دنیا کے اندر تو
28:06کسی عدالت سے
28:08اگر تمہیں حساب نہیں ملا
28:09تمہیں جو انصاف نہیں ملا
28:10تو کیا ہوا
28:11کیا وہیں پر ختم ہو گیا
28:13فرمایا
28:13آج اللہ کی عدالت رکھ گیا
28:15تو سب سے پہلے
28:17اس ظالم کو کھڑا کیا جائے گا
28:18اور اس کے بعد
28:19مزدوم سے کہا جائے گا
28:20کہ بتاؤ تم نے کیا کیا
28:22اور تیسرا بعض روایات کے اندر آتا ہے
28:24کہ رب تبارک و تعالی
28:25حقوق العباد کے حوالے سے پوچھے گا
28:27کہ ایک بندہ پہاڑ کے برابر
28:30نیکیاں لے کر آئے گا
28:31میزان عمل پر
28:32لیکن کسی پر بہتان لگایا
28:34کسی کو گالی دی
28:35کسی کی غیبت کی
28:36کسی کا مال دبایا
28:38تو فرمایا
28:39کہ وہ اس کی نیکیاں لے جاتے رہیں گے
28:40لے جاتے رہیں گے
28:43کہ انسان کو یہ خیال کرنا چاہیے
28:45کہ حقوق اللہ بھی لازم ہے
28:47لیکن اسی رب نے حقوق العباد کو بھی لازم کیا
28:50اور وہ اس اعتبار سے بھی مشکل ہیں
28:53کہ وہ بندوں سے منسلک ہیں
28:54یعنی مثال کے طور پر ایک بندے سے گناہ ہو گیا
28:58اللہ تبارک و تعالی محفوظ فرمائے
29:00کسی بندے نے شراب پی دی
29:01کسی بندے نے زنا کر لیا
29:03اب یہ اس کا اور رب کا معاملہ ہے
29:05وہ اگر ایک آنسو جیسے حدیث پاک پڑی
29:08کہ خلوت کے اندر ایک آنسو نکل گیا
29:09تو رب تبارک و تعالی اس کو معاف فرما سکتا ہے
29:12یہ رب تبارک و تعالی کے قرم
29:13لیکن جب بندے سے منسلک حقوق و عباد ہوگا
29:16تو جب تک بندہ نہیں معاف کرے گا
29:18اس وقت تک رب تبارک و تعالی محفوظ فرمائے
29:22تو فرمایا کہ اس زمانے کے اندر یہ خیال کر لینا
29:25گناہگار ہیں انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں
29:27لیکن کسی پر ظلم نہ کرنا
29:29کسی پر بہتان نہ ماندنا
29:31یہ نہ ہو کہ میدان محشر کے اندر
29:33اللہ کی عدالت میں تمہیں جواب دینا
29:35جواب دینا ہو
29:36مصطبی کیا فرمایے گا
29:37کہ بظاہر کچھ لوگ جو ہمیں
29:40بڑے مالدار نظر آتے ہیں
29:42نیکیوں کے اعتبار سے
29:44یہ بروز حشر نیکیوں سے کنگال نظر آئیں گے
29:48یہ کیسے ہو سکتا سر کیا فرمایے گا
29:51جی سبحر بھائی
29:52حدیث میں
29:53جو میدان محشر کی ہولناکیوں سے
29:56متعلق تسکرہ فرمایا گیا
29:57تو اس میں
29:59صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ اکرام سے
30:01فرمایا کہ بتاؤ مفلس کون ہے
30:05تو ظاہرہ ہم میں سے
30:06اگر کوئی شخص یہ سوال کیا جائے
30:07تو ہم بھی یہ کہیں گے کہ مال و دولت جس کے پاس نہیں ہے
30:09جس کے پاس مادی اور مالی
30:12معاملات نہیں ہے اس کے کمزور ہیں
30:13تو وہ مفلس ہے
30:14عرص کی آسولہ وہ مفلس ہے
30:16تو فرمایے کہ میری امت کا مفلس وہ نہیں ہے
30:18یعنی یہ تو زندگی چار دن کی ہے
30:20کچھ سال ہیں کچھ مہینے ہیں
30:22انسان جیسے تیسے کر کے گزارہ کر لے گا
30:24آسولہ میں کچھ کمی بیشی ہے
30:26انسان کی زندگی گزر جائے گی
30:28لیکن اصل مفلس کون ہے
30:29آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
30:31کہ اصل مفلس وہ ہے
30:32کہ جو کل بروزے قیامت
30:34آمال کا ایک بڑا زخیرہ لے کر آئے گا
30:37آمال کا ایک بڑا امبار لے کر
30:38اللہ کی بارگاہ میں آئے گا
30:40لیکن وہ دنیا میں جس جس کا
30:42اس نے حق مارا ہوگا
30:43وہ آج اللہ کی بارگاہ میں
30:44اپنے حق کے لیے
30:45تقاضی لے کر وہ حاضر ہو جائیں گے
30:46یعنی وہ دنیا میں
30:47وہ افراد کے جو اس کو کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہیں
30:50کسی کو گالی دی
30:51کسی کا مال غصب کیا
30:53کسی پر ظلم کیا
30:54کسی کو کسی طرح سے نقصان پوچھایا
30:56تو فرمایا کہ یہ سارے افراد
30:57وہ اللہ کی بارگاہ میں
30:58اپنی اپنی شکایات لے کر حاضر ہو جائیں گے
31:01اپنے حق کے تقاضی کے لیے حاضر ہو جائیں گے
31:13جو ہمارے پاس ظاہری طور پر
31:15کر و فرگی چیزیں ہوتی ہیں
31:16تو اس کی وجہ سے ہمارا کوئی سامنا نہیں کر پاتا
31:20اور ہماری جو منمانیاں ہیں
31:22اس کے سامنے کوئی کھڑا ہونے والا نہیں ہے
31:24ہمیں کوئی باس پرش کرنے والا نہیں ہے
31:26ہمیں کوئی روک رکاوٹ کرنے والا نہیں ہے
31:28تو ہم یہ سمجھتے ہیں
31:29کہ شاید ہم شترے بے مہار ہیں
31:30جس طرح اس سے پہلے آیت کریمت علاوت کی گئی
31:33تم خیال کرتے ہو
31:39اور تمہیں اس کی بارگاہ میں لوٹائے نہیں جانا ہے
31:42اللہ کی بارگاہ میں وہ سارے حق والے تقاضی لے کر حاضر ہو جائیں گے
31:45کہ بارک اللہ اس نے ہمیں گالیاں دی تھی
31:46آج تو بات بات پر گالیاں دی جاتی ہیں
31:48یعنی ہماری بات میں وزن ہی نہیں پیدا ہوتا جب تک ہم گالیاں نہیں دیں
31:51آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
31:53کہ سباب المسلم فسوکن
31:55کہ مسلمان کو گالی دینا یہ فسک ہے
31:57گناہ ہے بدترین گناہ ہے
32:00اور ایک حدیث میں فرمایا
32:01کہ اس بندے پر حیرانگی ہے
32:03جو اپنے والدین کو گالیاں دیتا ہے
32:05عرص کی آسولہ والدین کو کن بدبخ گالی دے سکتا ہے
32:07تو فرمایا کہ تم کسی کے والدین کو گالی دیتے ہو
32:10جو سبب ہے تمہارے والدین کی گالی کا
32:13تو فرمایا کہ وہ کسی کو گالی دی ہوگی
32:15دنیا میں کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا
32:16کسی کا مال غصب کیا ہوگا
32:19دنیا میں اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا
32:21آج تو زمینیں ہڑپ کر لی جاتی ہیں
32:24آج وارث ایک دوسرے کا غصب کر لیتے ہیں
32:26یعنی کوئی بھائی تگڑا ہے
32:27باقی سارے بھائیوں کا مال
32:29وہ وراست میں ان کا حصہ
32:31اس کو ہڑپ کر لیتا ہے
32:32یا دیکھر اس طرح کے جو حقوق ہم پر وابستہ ہے
32:35ان کی پامالی آج ہمارے ذریعے ہوتی ہے
32:38تو ہم خیال کریں
32:39کہ اللہ کی بارگاہ میں ہم نے حاضر ہونا ہے
32:41اللہ کی بارگاہ میں ان ساری چیزوں سے
32:42متعلق معاخضہ کیا جانا ہے
32:44اور پھر اس کا فرمایا کہ وہ جو
32:46امبار لے کے آئے تھا
32:47زخیرہ لے کے آئے تھا
32:48اس کی نیکیاں لے لے کر
32:50ان کو دے دی جائیں گے
32:51اور اگر ان کا تقاضہ ختم ہونے سے پہلے
32:53اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں
32:54تو فرمایا کہ ان کے گناہ لے لے کر
32:56اس کے نامائے عمال میں ڈال دیے جائیں گے
32:58ہم اپنے عمال کا محاصبہ کریں
32:59اپنی زندگی سے متعلق اور فکر کریں
33:02خدا نہ خاصتہ ہمارے تو پلے ہی کچھ نہیں ہے
33:04اگر اس بے فکری اور غفلت
33:06اور لاپروائی کی زندگی گزارنے کے بعد
33:08جو گنے چنے چند عمال سالح ہوں
33:10اس میں بھی اگر ہماری یہ کیفیت ہو جائے
33:12کہ حق والے وہ اللہ کی بارگاہ میں آزر ہو جائیں
33:14اور پھر وہ تقاضے کے ذریعے سارے عمال لے جائیں
33:17تو ہمارے نامائے عمال میں کیا بچے گا
33:19اس لئے اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کی جائے
33:22اور حاسبو قبل انتو حاسبو
33:24کہ اس حساب سے پہلے آج اگر ہم اپنا محاصبہ کریں گے
33:28تو اس حساب کا سامنا کرنے میں ہمیں آسانی ہوگی
33:31اپنی جو غلطیاں کوتاہیاں ہیں
33:33وہ ہمارے سامنے ان کا ادراع کو شعور ہو جائے گا
33:35اور اس کا ہم اس کے درستگی کے لیے
33:39اصلاح کے لیے ہم کوشش کر پائیں گے
33:40کوشش کر پائیں گے
33:41اور ناظرین آپ سوچی ہے ذرا تصور کیجئے
33:45کہ ایک شخص تو وہ ہے نا
33:47کہ جو نہ حقوق اللہ ادا کر رہا ہے
33:48نہ حقوق العباد ادا کر رہا ہے
33:50اللہ تعالیٰ اس کو توفیق دے
33:52کہ وہ حقوق اللہ بھی ادا کرے
33:54اور حقوق العباد بھی
33:55لیکن سوچی ہے ذرا
33:56کتنا تکلیف دے عمل ہوگا
33:58کہ وہ حقوق اللہ ادا کر کے
33:59نمازیں بھی پڑھ کے گیا
34:00روزیں بھی رکھ کر گیا
34:01اور دیگر نیک کام کر کے گیا
34:03تلاوت قرآن کر کے گیا
34:05لیکن حقوق العباد پورے نہ کرنے کی وجہ سے
34:08جب اس طرح اس کی نیکیاں دوسرے لوگ لے کر جا رہے ہوں گے
34:11تو وہ کیفیت محسوس کرنی چاہیے
34:13تو جہاں حقوق اللہ ہم ادا کر رہے ہیں
34:15وہاں ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے
34:16کہ ہم حقوق العباد پر بھی
34:18جو قرآن و حدیث سے روشنی ملتی ہے
34:20اس کے مطابق
34:20اپنی زندگی بسر کریں
34:22تمام معاملات کو
34:23اللہ رب العزت کے خوف اپنے دل میں رکھ کر
34:26ان کو پورے کرنے کی
34:27اور تمام لوگوں کا حق ادا کرنے کی
34:29اللہ تعالی ہمیں توفیق دے
34:30اور ہماری یہ اولین ذمہ داری ہونی چاہیے
34:33میں علامہ صاحب چاہتا ہوں
34:34مختصر وقت ہے لیکن
34:35بہت اہم موضوع رہا
34:36اور میں دل کیا تھا
34:38کہ رائیوں سے ارس کر رہا ہوں
34:39دونوں ہی آپ علماء کرام نے
34:40سیر حاصل گفتگو کی
34:42ایک خلاصہ موضوع کے طور پر
34:45ایک میسیج اگر آپ کا
34:46ہمارے ناظرین تک چلے
34:47جی بسم اللہ الرحمن الرحیم
34:49دیکھیں
34:49اور سب ہم نے ہمیشہ یہی
34:50ہر پورام کے آخر میں
34:52یہی میسیج دیا
34:52کہ یہ ہم کوئی قیامت کی
34:55سٹوری سنانے کے لیے
34:56ایک کہانی سنانے کے لیے نہیں
34:57ایک تو یہ قرآن و حدیث
34:59پڑا گیا ہے
34:59اور رب تبارک و تعالیٰ نے بھی
35:01قیامت کے احوال کو
35:03اس لیے بیان کیا ہے
35:04کہ فاتبرو یا علی الابسار
35:07اے اقل والو
35:08اے شعور والو نظر والو
35:10صاحب نظر
35:10تم غور کرو
35:11کہ تم نے آگے کے لیے
35:12کیا تیاری کیا ہے
35:14اور جب نبی کیسی سلم سے
35:16پوچھا گیا ہے
35:16کہ رسول اللہ مطلب
35:17قیامت کب آیا ہے
35:18تو حضور نے سب سے پہلے
35:19یہ فرمایا
35:20کہ ما عادت تلہا
35:21تم نے قیامت کے لیے
35:22تیاری کیا کی ہے
35:23تو ہمارے ہاں
35:25سوشل میڈیا پر
35:26قیامت کے احوال کے حوالے سے
35:28ڈوکومنٹرییاں بہت ساری ہیں
35:29لیکن اس کو صرف لوگ
35:31ایک انٹرٹینمنٹ کے لیے سنتے ہیں
35:32ایک خالی کی قیامت میں
35:34یہ ہوگا یہ ہوگا یہ ہوگا
35:36اصل چیز یہ ہے
35:37کہ سننے کے بعد
35:38ہم یہ سوچیں
35:39کہ قیامت تو کسی وقت بھی آ سکتی ہے
35:41اور اچانک آئے گی
35:42ہمیں پتا بھی نہیں ہوگا
35:44کوئی سو رہے ہوں گے
35:44کوئی جاگ رہے ہوں گے
35:45کوئی کھا رہے ہوں گے
35:46ہم نے اس کے لیے
35:47کیا تیاری کی ہے
35:48اور مومن کا ہر لحظہ
35:50ہر لمحہ
35:51اس چیز کے لیے تیار ہو
35:53کہ وہ اپنے دل کو
35:54اپنی نظر کو
35:55اپنے آپ کو
35:56اللہ کی بارگاہ کے اندر
35:57حاضر ہونے کے لیے
35:58ہر شب سوئے
36:00تو وہ توبہ کر کے سوئے
36:01حضور فرماتے ہیں
36:02کہ میں روزانہ رات کو سونے سے پہلے
36:04سو بار استغفار کرتا ہوں
36:14حضورتیاں خطائیں ہوتی ہیں
36:15رات کو سو
36:16تو رب کی بارگاہ کے اندر
36:18توبہ کر کے سو
36:19کہ نہ جانے آنکھ کھلے
36:20یا نہ کھلے
36:21اور قیامت تمہاری آ چکی ہوں
36:23بہت شکریہ
36:24جزاک اللہ اللہ کو
36:24جزائے خیر دے مصطاب
36:25آپ کو اللہ تعالی جزائے خیر دے
36:27بہت سیر حاصل گفتو کو
36:28اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے
36:29بس میں یہی کہنا چاہتا ہوں
36:31کہ سب نے مرنا ہے
36:32اور سب نے اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے
36:34تو بس یہ ایک میسیجی سمجھ لیں
36:35کہ عشق قاتل سے بھی
36:37مقتول سے ہمدردی بھی
36:38یہ بتا
36:39کس سے محبت کی جزا مانگے گا
36:41سجدہ خالق کو بھی
36:43عبلیس سے یارانہ بھی
36:44حشر میں کس سے عقیدت کا سلح مانگے گا
36:47اپنے مزبان سمیر احمد کو دیں اجازت
36:49السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Comments

Recommended