00:15Alhamdulillahi Rabbil Alameen
00:31Alhamdulillahi Rabbil Alameen
01:25Alhamdulillahi Rabbil Alameen
01:58Alhamdulillahi Rabbil Alameen
02:07Alhamdulillahi Rabbil Alameen
02:55Alhamdulillahi Rabbil Alameen
03:07Alhamdulillahi Rabbil Alameen
03:35Alhamdulillahi Rabbil Alameen
04:04Alhamdulillahi Rabbil Alameen
04:33Alhamdulillahi Rabbil Alameen
05:05Alhamdulillahi Rabbil Alameen
05:33Alhamdulillahi Rabbil Alameen
05:56Alhamdulillahi Rabbil Alameen
06:33Alhamdulillahi Rabbil Alameen
06:39Alhamdulillahi Rabbil Alameen
07:18Alhamdulillahi Rabbil Alameen
07:22Alhamdulillahi Rabbil Alameen
07:33Alhamdulillahi Rabbil Alameen
08:09Alhamdulillahi Rabbil Alameen
08:37Alhamdulillahi Rabbil Alameen
08:44Alhamdulillahi Rabbil Alameen
09:18Alhamdulillahi Rabbil Alameen
09:20Alhamdulillahi Rabbil Alameen
09:51Alhamdulillahi Rabbil Alameen
10:15Alhamdulillahi Rabbil Alameen
10:17Alhamdulillahi Rabbil Alameen
10:21Alhamdulillahi Rabbil Alameen
10:22Alhamdulillahi Rabbil Alameen
10:26Alhamdulillahi Rabbil Alameen
10:34Alhamdulillahi Rabbil Alameen
10:36ہوتی اللہ کی کسی حکم کی خلاف ورزی ہوتی تو سب سے زیادہ غصہ اللہ
10:43کے رسول کو آتا صلی اللہ علیہ وسلم یہ چہرے کے ایکسپریشن سے
10:46پتا چلتا ہے کب کوئی بات حضور کو ناغوار لگی کب کوئی بات حضور
10:50کو جو ہے وہ بری لگی کب لگتی ذاتی معاملات حضور انتقام نہ لیتے
10:54معاف کرتے تھے لیکن جب اللہ کی حدود میں سے کوئی حد ٹوٹتی اللہ
10:58کا کوئی حکم ٹوٹتا اللہ کی حکم کی خلاف ورزی ہوتی تو سب سے
11:03زیادہ غصہ اللہ کے رسول کو آتا تھا صلی اللہ علیہ وسلم
11:06تو چہرے کے تاثرات سے بھی سیکھنے کا عمل اللہ کے رسول جاری
11:11رکھتے ہو صحابہ سیکھتے تھے حضور کے چہرے کے تاثرات کو دیکھ
11:14کر بھی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد اگلی بات ہے ستائیس نمبر
11:19ستائیس پوائنٹ کی طرف چلتے ہیں علم کو لکھ کر محفوظ کرنا ایسی
11:22بات پہلے بھی آئی ہے مگر ایک اور انداز سے اب آ رہی ہے اور
11:25writing as a tool یہ بھی اللہ کے رسول علیہ السلام نے تحریر کے
11:29عمل کو بھی اختیار کیا لکھا ہے تحریری مواد کی احمیت پر
11:33زور دینا اللہ کے رسول لکھنے پر بھی توجہ دلائے کرتے تھے
11:37صلی اللہ علیہ وسلم حدیث میں ذکر ہے حضرت عبداللہ بن عمر بن
11:41عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ
11:44صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سنتا اسے لکھ لیتا تھا قریش نے مجھے
11:49روکا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا قریش نے کیا
11:53کہا بھئی تم ہر بات اللہ کے رسول کے لکھ لیتے ہو کبھی حضور
11:56کسی کیفیت میں ہوں کبھی دوسری کیفیت میں ہوں کبھی اداسی کا غصے
12:00کی کیفیت کا معاملہ تم ہر بات لکھ لیتے ہو قریش نے ان سے کہا
12:03عبداللہ بن عمر بن عاص رضی اللہ عنہ انہوں نے حضور علیہ
12:07سلام کے سامنے بات رکھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی
12:11انگلی سے اپنے دہن مبارکی نہیں مو کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا
12:15اب دیکھیں یہاں بھی حضور نے اپنی انگلی کا اشارہ اپنے دہن
12:19مبارک کی طرف کیا یہ دیکھیں ہاتھوں کا استعمال انگلی کا استعمال
12:23اشاروں کا استعمال حضور کر رہے ہیں نا تو اپنے مو مبارک کی طرف
12:26دہن مبارک مو مبارک کی طرف حضور نے اشارہ کر کے فرمایا
12:30اکتب فَوَلَّذِي نَفْسِ بِيَدِهِ مَا يَخُرُجُ مِنْهُ إِلَّا حَقُ
12:35آپ نے فرمایا عبداللہ بن عمر بن عاص کو رضی اللہ عنہ
12:38لکھا کرو اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے
12:42اس مو سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا
12:45یہ سنن ابی دعوش شریف کی روایت ہے
12:48بہت سارے نقطے ہیں اس میں
12:49قرآن پاک میں ذکر ہے نا
12:51سورہ نجم کی آیت 134 کا حوالہ
12:53کہیں مرتبہ آیا
12:58نبی علیہ السلام جو کوئی ارشاد فرماتے
13:00اپنی خواہش سے ارشاد نہیں فرماتے
13:02جو ارشاد فرماتے ان پر وحی کیا جاتا ہے
13:04قرآن بھی حضور پر نادل ہوا صلی اللہ علیہ وسلم
13:07اور قرآن پاک کے علاوے بھی حضور پر وحی آتی تھی
13:10یا حضور فرمانے کے لکھو
13:12اللہ کے قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے
13:14اس مو سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا
13:17تو لکھنے پر حضور نے زور دیا
13:19اور نوٹ کیجئے گا
13:20کاتبین وحی کی تعداد کم از کم 43 بیان کی گئی ہے
13:24کاتبین وحی کی تعداد کم از کم 43 بیان کی گئی ہے
13:29جو اللہ کے نبی علیہ السلام پر جتنا جتنا قرآن نازل ہوتا
13:32کبھی ایک صحابی کبھی دو کبھی تین کبھی چار کبھی زائد کبھی کم
13:36وہ حضور سے سنتے اور لکھتے بھی تھے
13:38حفظ کے ذریعے بھی قرآن معفوظ ہوا
13:40لکھنے کے ذریعے بھی معفوظ ہوا
13:42پھر اللہ کے رسول کے ارشادات
13:44قرآن پاک کے علاوہ جو آپ کے ارشادات ہیں
13:46ان کو بھی صحابے کرام نے لکھا
13:48تو لکھنے کے ذریعے بھی
13:50امت تک اللہ کے دین کی تعلیم پہنچی ہے
13:53حفظ کے ذریعے سے
13:54لکھت پڑت کے ذریعے سے
13:55تحریر کے ذریعے سے
13:57عمل کے ذریعے سے
13:58تعلیم کے ذریعے سے
13:59چند ذرائع ہیں
14:00جن کے ذریعے دین ہم تک پہنچا
14:02تو یہ ستائیس میں بات تھی
14:04لکھنے پر تحریر پر
14:06علم کو معفوظ رکھنے کے لیے
14:07حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
14:09نے زور دیا ہے
14:11اگلی بات ہے
14:12اٹھائیسی بات آئی
14:13اس کے طرف چلتے
14:14لکھا ہے کہ
14:14اہم بات سے پہلے
14:16تاقید
14:16کوئی بات سمجھانی ہے
14:18تو پہلے ذرا
14:19اس کی تاقید
14:20اور ایمفیسس کا
14:21انداز سامنے آ جائے
14:22تاکہ لوگ متوجہ ہوں
14:24لوگ سنجیدگی کے ساتھ لیں
14:25پھر وہ اہم بات
14:27لوگوں کو سمجھائے جائے
14:28یہ کیا ہے
14:28ایمفیسس بیفور
14:30امپورڈنٹ پوائنٹس
14:31جب بھی کوئی اہم باتیں
14:32سمجھانی ہو
14:32تو پہلے اس کی
14:33تاقید کا
14:34اسلوب اختیار کرنا
14:35یہ بھی
14:36اللہ کے رسول علیہ السلام
14:37نے سکھایا
14:38لکھا ہے کہ
14:39بات شروع کرنے سے پہلے
14:40خبردار
14:41یا سنو جیسے
14:42الفاظ استعمال کرنا
14:43انگلیش میں
14:44بیویر کہتے ہیں
14:45بیویر
14:46سائن او ایکسمنیشن
14:48لگایا جاتا ہے
14:48عربی میں کہتے ہیں
14:50اللہ
14:50آگاہ ہو جاؤ
14:51سنو
14:52خبردار
14:53اللہ
14:53یہ قرآن پاک میں بھی ہے
14:55اللہ
14:55بذکر اللہ
14:56تطمئن القلوب
14:57سورہ فاطر
14:58کی آیت امر اٹھائیس
14:59آگاہ ہو جاؤ
15:00دلوں کو اتمنان
15:01تو اللہ کی یاد سے ملتا ہے
15:02یہ بار بار
15:03قرآن پاک میں بھی ہے
15:04حدیث مبارک میں بھی
15:05آئیے سمجھتے ہیں
15:06آپ صلی اللہ علیہ وسلم
15:08نے فرمایا
15:08اللہ
15:09اُنبیوکم بی اکبر
15:10دل کبائر
15:11کیا میں تمہیں
15:13سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں
15:15نہ بتاؤں
15:15لسٹ بعد میں آئے گی
15:17پہلے حضور نے کیا انداز اختیار کیا
15:18الا
15:19کیا میں تمہیں
15:20اُنبیوکم بی اکبر
15:22دل کبائر
15:22بڑے بڑے گناہوں کے بارے میں
15:24نہ بتاؤں
15:25تو صحابہ متوجہ ہو گئے
15:26گناہ تو گناہ ہے
15:27مگر بڑے گناہ تو زیادہ خطرناک ہے
15:29اور پھر اکبر
15:30کبائر
15:31کبائر میں بھی بڑے گناہ
15:32اللہ اکبر
15:33تو صحابہ متوجہ ہو گئے
15:35یہ انداز ہے
15:36اہم باز سے پہلے
15:38تاقید کا اسلوب اختیار کرنا
15:40پھر اللہ کے نبی علیہ السلام نے
15:42یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا
15:44کیا مطلب
15:45الا اُنبیوکم بی اکبر دل کبائر
15:51کیا تمہیں
15:52بڑے بڑے گناہوں کے بارے میں
15:53نہ بتاؤں
15:54کیا میں تمہیں بڑے بڑے گناہوں کے بارے میں
15:58نہ بتاؤں
15:59بودے کی تین مرتبہ
16:00دہرانے والا عمل حضور کا
16:01وہ بھی آ گیا
16:02صلی اللہ علیہ وسلم
16:03اور تاقید کا انداز ہوئی
16:05اب صحابہ متوجہ ہو گئے
16:06پھر حضور نے
16:07بڑے گناہوں کے بارے میں بتایا
16:09ہاں کبیرہ گناہوں کی
16:10لسٹ تو طویل ہے
16:11سات بڑے گناہ
16:13ان کو اکبر کبائر میں
16:14شمار کیا گیا
16:15چند مثالے میں دے دیتا ہوں
16:16جو حدیث میں ذکر آیا
16:17شر کرنا
16:18ناقستی کو قتل کرنا
16:20زنا کرنا
16:21یتین کا مال ہڑپ کرنا
16:23اور زنا کی تحمت لگانا
16:25بے گناہ عورتوں پر
16:26اسی طرح
16:27ماباپ کا حق پامال کرنا
16:29یہ بڑے بڑے گناہوں
16:31کا ذکر حضور نے فرمایا
16:32یہ بخاری شریف کی روایت ہے
16:34اس سے معلوم ہوا
16:35کہ تاقین
16:37اور ایمفیسس کا انداز
16:39اختیار کر کے
16:39توجہ حاصل کرنا
16:41پھر اہم باتوں کو
16:42سمجھانا
16:43یہ بھی رسول اکرم
16:44علیہ السلام کے طریقہ
16:45تدریس میں شامل ہے
16:46یہ آج ہم نے چار باتیں
16:48مزید سمجھی
16:48آج کا سبق آپ کے سامنے
16:49رکھ دیتے ہیں
16:50پچیسے بات تھی
16:51کہ غصے کے وقت
16:52خاموشی اختیار کرنا
16:53غصے کی کیفیت
16:54نارمل نہیں ہوتی
16:55اس وقت واضح و نصیت
16:57یہ تدریس کا عمل
16:57مناسب نہیں ہوتا
16:59چھبیس میں بات تھی
17:00چہرے کے اثرات
17:01اللہ کے نبی کے چہرے کے
17:03اثرات سے صحابہ
17:04بہت کو سیکھ دیتے
17:05صلی اللہ علیہ وسلم
17:06ستائیس میں بات
17:07علم کو لکھ کر
17:08محفوظ کرنا
17:09حضور نے تحریر کے ذریع
17:10علم کو حفاظت میں
17:11لانے کی تلقین
17:13فرمائی
17:13اور احتمام
17:14کرایا ہے
17:14اور اٹھائیسی بات تھی
17:15کہ اہم بات سے پہلے
17:17تاقید
17:18ایمفیسس کا انداز
17:19تاقید کا انداز
17:20اختیار کرنا
17:21پھر کوئی بات سمجھانا
17:22اس سے بھی سیکھنے کا عمل
17:23معصر انداز میں
17:25آگے بڑھتا ہے
17:26یہ چند بات ہے
17:27آج ہم نے مزید سمجھی
17:28رسول اکرم
17:28صلی اللہ علیہ وسلم
17:30کے طریقہ تدریس کے
17:31حوالے سے
17:31اور ٹیچنگ میتھرڈز
17:32کے حوالے سے
17:32اللہ تعالیٰ سے دعا ہے
17:34اللہ تعالیٰ مجھے
17:35اور آپ کو
17:35رسول اکرم
17:36صلی اللہ علیہ وسلم
17:37کی مبارک تعلیمات
17:38کو سیکھتے ہوئے
17:39ہمارا جو تدریس
17:40کا عمل ہو
17:40غواظ کا عمل ہو
17:41نصیت کا عمل ہو
17:42تربیت کا عمل ہو
17:43اس میں مزید بہتری
17:44ہم سب کو عطا فرمائیں
17:46انشاءاللہ
17:46اگلے پرگرام میں
17:47یہی لسٹ
17:48مزید آگے بڑھائیں گے
17:49اور چالیس پوائنٹ سنگ
17:51انشاءاللہ
17:51تکمیل تک کوشش کریں گے
17:53اللہ تعالیٰ
17:53اور اگلے پرگرام
17:54انشاءاللہ
17:54آپ سے ملاقات ہوتی ہے
17:55دعا ہے کہ
17:56اللہ تعالیٰ میلی
17:57آپ کے ہم سب کے
17:57تمام مسلمانوں کی
17:58مغفرت فرمائیں
17:59اور ہمیں نبی مکرم
18:00علیہ السلام کے
18:01شفاعت عطا فرمائیں
18:02آمین یا رب العالمین
18:03وآخر دعوان
18:04الحمدللہ رب العالمین
18:06والسلام علیکم ورحمت اللہ
18:07وبرکاتہ
18:19محمد
Comments