00:00दुनिया भार के मुल्कों को अहसास हो रहे कि सोशल मीडिया बच्चों के लिए खطरनाक है
00:04इसलिए वो बच्चों के सोशल मीडिया स्तेमाल पर पाबंद्या आयत कर रही है
00:08कहीं तो इस पर मुकमल पाबंद्या है, तो कहीं वालदnaire इन की अजास्थ लाजमी है
00:13IAEA جانتے ہیں کہ دنیا کے مختلف ممالک کی اس بارے میں کیا پولیسی ہیں
00:17سب سے پہلے ہم مشرق سے شروع کرتے ہیں
00:20اور شریلیا میں ڈیسمبر سے 16 سال سے کم عمر بچوں پر
00:23سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پبندی ہے
00:25اور خلاف عرضی پر کمپنیوں کو بھاری جرمانہ ہو سکتا ہے
00:29اگلا پڑاؤ ملیشیا ہے جو اسی برس
00:3216 سال سے کم عمر سارفین کے لیے
00:34سوشل میڈیا پر پبندی نافذ کر چکا ہے
00:37چین میں سائبر سپیس ریگولیٹر نے
00:39مائنر موڈ کے نام سے ایک پروگرام نافذ کیا ہے
00:42جس کے تحت ڈیوائس پر پبندیاں اور ایپس کیلئے
00:46مخصوص قواعد لاغو کیے گئے ہیں
00:47تاکہ عمر کے مطابق سکرین ٹائم کو محدود کیا جا سکے
00:52انڈیا میں چیف اکنومک ایڈوائزر نے جانویری میں
00:55سوشل میڈیا پلاتفارمز کو شکاری قرار دیتے ہوئے
00:57عمر کی پبندیوں کی سفارش کی ہے
01:00ریاست نے بھی آسریلیا کی طرز پر پبندیوں پر غور شروع کر رکھا ہے
01:04اب ہم مغرب کا روح کرتے ہیں
01:06برطانیہ میں سوشل میڈیا کمپنیوں کو سخت اقدامات کا حکم دیا گیا ہے
01:10جبکہ بچوں کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس کے قوانین کو مزید سخت کیا جا رہا ہے
01:15ادھر یورپی پارلیمنٹ بھی نویمبر میں ایک قرار داد منظور کر چکی ہے
01:19جس میں سوشل میڈیا کیلئے کم از کم عمر
01:22سولہ سال مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے
01:25جبکہ پوری یورپی یونین میں کم از کم ڈیجیٹل عمر
01:28تیرہ سال مقرر کرنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے
01:32امریکہ میں پہلے سے موجود قوانین کے تحت
01:34کمپنیوں کو تیرہ سال سے کام عمر بچوں کا ڈیٹا جمع کرنے سے منع کیا جا رہا ہے
01:39کئی ریاستوں نے بھی والدین کی اجازت کو لازمی قرار دیا ہے
01:43تاہم ان قوانین کو عدالتوں میں چیلنج کیا جا رہا ہے
01:54تاہم ان قوانین کو عدالتوں میں چیلنج کیا جا رہا ہے
01:58تو
Comments