00:27printing press
00:30printing press museum بھی قرار دیا جاتا ہے
00:32یہاں نمائش کے لئے
00:34موجود مشینیں تباعت
00:36کے تاریخی تسلسل کی شاندار
00:38مثالیں ہیں
00:39printing press اور اس کی جانچ رکھنے والوں
00:41کا کہنا ہے کہ بلا شبہ یہ
00:43مشینیں پرانی بھی ہیں لیکن اگر
00:45انہیں استعمال کرنا چاہیں تو
00:47آج بھی کارامد بنائی جا سکتی ہیں
00:49تھا یہ ہیڈل بگ
00:51مشینیں جو کہ ارجنل ہیڈل بگ مشینیں ہیں گی
00:54جو جرمن نے
00:55اپنی تیکنالوجیز میں شفٹنگ کی تھی
00:57جب گوٹنبرگز نے پہلی مشینیں جات کی تھی
01:00اور اس نے وڈ پہ کام کرنا شروع کیا
01:03تاریخی پرنٹنگ میوزیم کے
01:04کنٹرولر فہم قریشی نے
01:06پرنٹنگ کی تاریخ کچھ یوں بتائی
01:09سن 1843 میں یہ قائم کیا گیا
01:12اور 1843 سے لے کے
01:13سن 1947 تک یہاں پر
01:15جو مشینیں لائے گئیں
01:17وہ یہاں پر موجود تھیں
01:19میوزیم کا خیال جو ہے وہ کیوں آیا تھا
01:22میوزیم کا خیال بیسیکلی یہ جو مختلف
01:24ادوار تھے اور
01:25مختلف ادوار کے اندر کس طرح سے
01:27پرنٹنگ نے آگائی میں ہم شروع کی تھی
01:32اس پرنٹنگ پریس اجائب گھر میں
01:34قدیم مشینوں کو پرنٹنگ کے
01:36مختلف مراحل اور ادوار
01:38کو خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے
01:40یہ مشینیں
01:42انتہائی قیمتی اور نایاب ہیں
01:44انتظامیہ کا کہنا ہے
01:46کہ سن 1830 سے لے کر
01:481954 تک کی مشینیں
01:50اپنی اصلی حالت میں
01:52اس میوزیم کی شان ہیں
01:53اس اجائب گھر میں
01:55155 سال کے دوران استعمال
01:58ہونے والی کم از کم
01:5956 پرنٹنگ مشینوں کو پہلی مرتبہ
02:02محفوظ کیا گیا ہے
02:03یہاں آنے والوں کو تاریخ کے ان اجائبات
02:06سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع
02:09جب میں یہاں آیا تو میری پرنٹنگ نالج بلکل جیسے نو ہاؤ بس ایک ٹھیک ہے بھائی جس طرح ہوتا
02:17ہے لیکن جب میں نے یہ سب چیزیں دیکھیں تو مجھے یہاں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا
02:23ایک مجسمہ جرمن موجد یوہانس گوٹنبرگ کا ہے پرنٹنگ پریس کی اجاعت کا سہرہ انہی کے سر ہے گوٹنبرگ کی
02:32اس تخلیق کی وجہ سے یورپ میں کتابوں کی چھپائی میں انقلاب برپا ہوا
02:38جنوبی ایشیا میں چھپے خانوں سے تبات کا آغاز اگرچہ پرتوگالیوں نے سولمی صدی کے وسط میں کیا
02:44تاہم بعد ازاں ایسٹ انڈیا کمپنی نے پورے خطے میں ایسی پرنٹنگ پریس کا جال بچھا دیا
02:53سن 1845 میں کراچی میں پہلا اقبار کراچی ایڈوٹائزر اسی چھپے خانے میں شائع کیا گیا
02:59جس کے بعد اس مقام پر واقع پرنٹنگ پریس سے بہت سے دیگر اقبار رسالے اور کتابیں اور بہت سماواز
03:07شائع ہوتا رہا
03:08تاریخ کے جھروکوں میں جھانک کر دیکھیں تو عوامی شہرت پانے والے سن قاسد نامی اقبار کی اشاعت بھی یہیں
03:16سے شروع ہوئی
03:16کراچی کا یہ پرنٹنگ پریس میزیم نہ صرف پاکستان کی تباہتی تاریخ کا امین ہے
03:22بلکہ نئی نسل کو بھی بتاتا ہے کہ حرف اور کاغذ کی یہ دنیا کتنی اہم تھی
03:28امید ہے کہ ایسے ورسے محفوظ رہ پائیں گے اور آنے والے وقتوں میں بھی اپنی پہچان برقرار رکھیں گے
03:35کراچی
03:46موسیقا
Comments