Skip to playerSkip to main content
Har momin yeh chahta hai ke Allah us se razi ho jaye. Lekin sawal yeh hai ke Allah ki raza ki nishaniyan kya hoti hain? Is iman afroz bayan mein Saqib Raza Mustafai batate hain ke kaun se aamaal aur sifaat insaan ko Allah ke qareeb kar dete hain aur uski raza hasil karne ka zariya bante hain.

Yeh bayan humein apni zindagi ka muhasba karne aur Allah ki khushi hasil karne ke liye sahi raasta ikhtiyar karne ki taraf rehnumai karta hai. Agar aap chahte hain ke Allah aapse razi ho jaye to is bayan ko zaroor sunein aur dusron tak share karein.

#AllahKiRaza #SaqibRazaMustafai #IslamicBayan #IslamicReminder #DeenKiBatein #MotivationalBayan #UrduBayan #Hidayat

Category

📚
Learning
Transcript
00:00Al-Fatihah
00:42Al-Fatihah
01:18Al-Fatihah
01:57Al-Fatihah
02:27Al-Fatihah
02:30Al-Fatihah
03:01Al-Fatihah
03:33Al-Fatihah
03:36Al-Fatihah
03:38Al-Fatihah
03:40Al-Fatihah
04:07Al-Fatihah
04:10Al-Fatihah
04:40Al-Fatihah
04:58Al-Fatihah
05:01Al-Fatihah
05:03Al-Fatihah
05:39Al-Fatihah
05:42Al-Fatihah
05:52Al-Fatihah
05:52Al-Fatihah
05:58Al-Fatihah
06:00Al-Fatihah
06:22Al-Fatihah
06:24جو بعض سوچنے کی ہے
06:25اب قرآن کا یہاں اسلوب دیکھیے
06:27میں قربان جاؤں قرآن کے اسلوب پر
06:30ایسے نہیں جب اکرمہ
06:31ابو جہل کا بیٹا اسلام کے حصار
06:34میں آتا ہے تو قرآن پڑھتا ہے
06:35تو آشر روٹتا ہے
06:37اور پھر روتا ہے اور کہتا ہے
06:38حاضر کلام و ربی یہ میرے رب کا کلام ہے
06:41اور قرآن بتا رہا ہے
06:43اس کا لحجہ بتاتا ہے
06:45اسلوب دیکھئے
06:46بات غریب کو روٹی دینے کی نہیں کی گئی
06:49غریب کو جب وہ کھانا دینے کی نہیں کی گئی
06:51اس کو کپڑے پہنانے کی نہیں کی گئی
06:53قرآن نے جو کہا ہے
06:58بات یہ ہے کہ تم یتیم کو عزت نہیں دیتے ہو
07:02یتیم کو تم عزت کیسے دے سکتے ہو یہ تم جانتے ہو
07:05کہ اس کی تقریم کیسے کرنی ہے
07:07تمہارے پاس یتیم کو پہنانے کے لیے کپڑا نہیں ہے
07:10اس کو دینے کے لیے روٹی نہیں ہے
07:13لیکن تمہارے سینے میں پیار تو رکھا ہوا ہے
07:16اس برہنہ یتیم کو سینے سے لگا کر کے
07:19اس کا ماتھا تو چوم سکتے ہو نا
07:21رب یہ نہیں دیکھتا روٹی کس نے دی
07:23رب یہ دیکھتا یتیم کو پیار کس نے دی ہے
07:26وہ یہ دیکھتا ہے
07:27کل لا بل لا تو کریمون الیتیم
07:29معاملہ روٹی کا نہیں ہے
07:31بچی ہوئی روٹی تو کتے کو بھی ڈالی جا سکتی ہے
07:34کسی کو غریب کو دے دی تو یہ کونسا کمال ہے
07:36جو دے گئے بچ گئی وہ مدسے میں بھیج دی
07:39یہ کمال کی بات نہیں ہے
07:40وہ گندگی کے ڈھیر پہ بھی تو پھینکنی تھی
07:42خراب ہو جاتی دو گھنٹے اور پڑی رہتی
07:44معاملہ یہ نہیں ہے
07:45معاملہ تکریم کا ہے
07:47اب وہ بھی سوچیں
07:49عید آ رہی ہے
07:51مینڈکوں کی طرح نکلیں گے
07:52سماجی رہنما اور سماجی کارکن
07:55اخباروں میں تصویریں چھپیں گی
07:57غریب عورتیں لین میں لگی ہوئی ہیں
07:59غریب مرد لائن میں لگے ہوئے ہیں
08:02اور جو ہے وہ
08:03صاحب جو ہے وہ ایک ایک توڑا
08:05آٹے کا ایک ایک تھیلہ آٹے کا دے رہے ہیں
08:07اور دس جو ہے وہ
08:09فوٹوگرافر تصویر کھینچ رہے ہیں
08:11اگلے دن پندرہ پندرہ
08:12اخباروں کے اندر تصویریں لگی ہوئی ہیں
08:14میں اس دن بھی کہا تھا
08:16کہ اس انداز کے ساتھ
08:18غریبوں کی غربت کا اشتہار لگانے والا
08:20سوچے
08:21کہ اس لائن میں اگر اس کی بیٹی کو
08:23کھڑا ہونا پڑے تو اس کا پھر انداز کیا ہو
08:26بات یہ نہیں بات
08:27تکریم کی ہے
08:31آئیے تمہیں میں کہانی سناوں
08:35رہے تھے عیدگاہ کو
08:37راستے کے اندر ایک یتیم کھڑا تھا
08:39اور آقا کریم نے کہا
08:41کہ بیٹے آج تم یہاں کھڑے ہو
08:43کہا فلان غزوے میں میرا باپ شہید ہو گیا تھا
08:46میری ماں کا سایہ بھی
08:47میرے سر پہ نہیں ہے
08:48لوگ اپنے گھروں میں ہیں میں کس دہلیز پہ جاؤں
08:51اچھا انتظار ہو رہا ہے
08:53عیدگاہ میں حضور نے یتیم کو سینے سے لگائے
08:55گھر لے گئے
08:56اور سیدہ فاطمہ سے کہا
08:58کہ جس طرح کا لباس حسنین کو پینایا ہے
09:01اس کو بھی پیناو
09:02اللہ اکبر
09:03اور اس کو کھانا کھلایا
09:05اور سب کچھ اس کی تقریم کرنے کے بعد
09:08حضور نے پھر
09:09جو ہے
09:10وہ اس کو عزت دینے کے لیے
09:12اس کی تقریم دینے کے لیے
09:13حضور علیہ السلام نے اس کو فرمایا
09:15اما تردہ
09:16انا محمدن ابو کا
09:18بیٹے کیا تو پسند نہیں کرتا
09:21کہ محمد تیرا باپ لگے
09:22وآائشہ تا اموں کا
09:24اور آئشہ تری ماں لگے
09:26وفاتمہ بنت محمدن اختو کا
09:28اور فاتمہ تیری باجی لگے
09:30اس نے کہا یہ عزاز مل جائے
09:32تو مجھے اور کیا چاہیے
09:33تو کہا آج کے بعد یہ رشتے تیرے ہوئے
09:36ایک انگلی سے حضور نے
09:38حسنین کو تھاما ہوا ہے
09:40اور دوسری انگلی سے
09:41اس یتیم بچے کو تھاما ہوا ہے
09:43جب حضور عیدگاہ کی طرف بڑھ رہے ہیں
09:45تو اور بچے بھی اپنے ماں باپ کے ساتھ جا رہے ہیں
09:47وہ بچہ زبان حال سے کہتا ہے
09:49تھا تو یتیم آر یتیمی کا مزہ نہیں آگیا ہے
09:52کہ حضور کی انگلی تھام کے جا رہا ہوں
09:54تو یتیم کی تقریم کا مسئلہ ہے
09:56اس کو عزت نفس دینے کا مسئلہ ہے
09:58یتیم کو لوگوں کے اندر کھڑا کر کے
10:01اس کو عزاز دیتے ہو
10:03وہ عزاز نہیں ہے
10:04وہ رسوائی ہے
10:05مجھے ایک سال قبل
10:08ایک ایسی تقریب میں لوگ کھینچ کر کے لے گئے
10:10جہاں وہ آج کل اجتماعی شادیوں کا رواج ہے
10:15تو میں بڑی معذرت کی میرے لیے مشکل ہوگا
10:19کیونکہ مجھے اندازہ تھا
10:20اس تقریب کا لیکن میں کبھی گیا نہیں تھا پہلے
10:23تو میں جب اس تقریب میں پہنچا تو
10:26یقین جانے کہ دو دن تک جو ہے وہ میں بے چین رہا ہوں
10:30میں کہتا ہوں غریب سے غریب آدمی ہوتا ہے نا
10:33اس کو معاشرے میں پروٹوکول عزاز نہ بھی ملے
10:36تو شادی والے دن تو مہمانے خصوصی وہی ہوتا ہے نا
10:39اس دن تو سارے اس کے چرے کوئی دیکھتے ہیں
10:41لیکن ان دولوں کو بھی جو ہے وہ لائن پہ بٹھایا ہوا تھا
10:45اور اوپر مہمانے خصوصی کوئی اور بیٹھے تھے
10:47میں نے کہا یہ بچارے مسکین آج بھی مہمانے خصوصی نہیں ہیں
10:51آج ان کی زندگی کا عام دن ہے
10:53اور آج بھی اتنے لوگوں کے سامنے اشتہار لگایا جا رہا ہے
10:56یہ غریب لوگ ہیں
10:57اور دلہنوں کا بھی اشتہار لگایا جا رہا ہے
11:00یہ غریب بچیاں ہیں
11:02اور پھر کیا ان کے چہرے پہ کوئی مسردت کے آثار تھے
11:05اور نہ ان بیٹیوں کے چہرے پہ کوئی مسردت کے آثار تھے
11:08تو لوگ خوشی بانٹنے چلے ہیں
11:10لیکن غموں میں اضافہ کرتے چلے گئے
11:12رات کی تنہائی میں نکلو
11:14اندھیرہ پھیلا ہوا ہو
11:15کوئی دیکھنے والا نہ ہو
11:17اپنے سائے سے بھی بچو
11:19اور جا کے غریب کے گھر میں رکم پھینک کے آ جاؤ
11:22اسے پتہ نہ ہو یہ پھینکی کس نے ہے
11:24اور پھر وہ شادی کریں
11:26جو دعائیں ان کے کلیجے سے نکلیں گی
11:28عرص تک پہنچیں گے
11:29تو بات پیسے دینے کی نہیں ہے
11:33بات تکریم کی ہے
11:35دیکھو قرآن کا اسلوک
11:40معاملہ یہ ہے کہ
11:41یتیم کی عزت تکریم
11:43میرے اور آپ کے آقا مولا نے
11:45تو یہاں تک فرمایا جب بچے کٹھے کھیل رہے ہوں
11:47تمہارا بچہ بھی ان بچوں میں کھیل رہا ہو
11:50تو بچے کو بیٹا کہہ کے آواز نہ دوں
11:52اس کا نام لے کے پکارو
11:54عرض کی گی حضور بیٹا ہے
11:56بیٹا کہہ کے پکاریں گے
11:57تو حرج بھی کیا ہے
11:58کہا تم نہیں جانتے ہو سکتا ہے
12:00کہ وہاں کوئی یتیم بچہ بھی کھیل رہا
12:02اور جب یہ تم کہو گے
12:04تو تڑپ جائے گا
12:05آج میرا باپ ہوتا تو مجھے
12:07بیٹا کہہ کے بکارتا
12:09لیکن آج میں محروم ہوں
12:11تو کہا مسئلہ یہ ہے
12:19دیکھئے قرآن کا اسلوک
12:21کہا ایک تو یتیم کی تکریم نہیں ہے
12:23یہ ساری افتار اس لیے آئے
12:25اور دوسری بات یہ ہے
12:27کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو
12:29مسکین کے کھانے کی رغبت نہیں دیتے
12:32یعنی ایک شخص خود غریب ہے
12:34اور اتنی طاقت نہیں رکھتا
12:36کسی غریب کی پرورش کر سکے
12:38وہ عوضہ برانی ہو سکتا
12:40کہ اتنا کہ میں تو کچھ کر نہیں سکتا
12:42کوئی بھوکے تڑپتے ہوئے غریب کو دیکھے
12:44خود نہ دے سکے
12:46اللہ نے اسے زبان تو دی ہے
12:48کسی امیر کی دہلیز پہ
12:49وہ نہیں جاتا یہ چلا جائے
12:51اور جا کے توجہ دلائے
12:52کہ میرے ہمسائیگی کے اندر
12:53ایک یتیم تڑپ رہے
12:55بیوہ کی بیٹیاں بوڑی ہو رہی ہیں
12:57دہلیز پہ
12:58اور وہ جا کے
12:59اپنے اعتبار پہ
13:00جو ہے ان کا انتظام کر دے
13:01یہ ہے
13:02وَلَا تَحَادُّونَا لَا تَعَامِلْ مِسْكِينَ
Comments

Recommended