00:00Al-Fatihah
00:42Al-Fatihah
01:18Al-Fatihah
01:57Al-Fatihah
02:27Al-Fatihah
02:30Al-Fatihah
03:01Al-Fatihah
03:33Al-Fatihah
03:36Al-Fatihah
03:38Al-Fatihah
03:40Al-Fatihah
04:07Al-Fatihah
04:10Al-Fatihah
04:40Al-Fatihah
04:58Al-Fatihah
05:01Al-Fatihah
05:03Al-Fatihah
05:39Al-Fatihah
05:42Al-Fatihah
05:52Al-Fatihah
05:52Al-Fatihah
05:58Al-Fatihah
06:00Al-Fatihah
06:22Al-Fatihah
06:24جو بعض سوچنے کی ہے
06:25اب قرآن کا یہاں اسلوب دیکھیے
06:27میں قربان جاؤں قرآن کے اسلوب پر
06:30ایسے نہیں جب اکرمہ
06:31ابو جہل کا بیٹا اسلام کے حصار
06:34میں آتا ہے تو قرآن پڑھتا ہے
06:35تو آشر روٹتا ہے
06:37اور پھر روتا ہے اور کہتا ہے
06:38حاضر کلام و ربی یہ میرے رب کا کلام ہے
06:41اور قرآن بتا رہا ہے
06:43اس کا لحجہ بتاتا ہے
06:45اسلوب دیکھئے
06:46بات غریب کو روٹی دینے کی نہیں کی گئی
06:49غریب کو جب وہ کھانا دینے کی نہیں کی گئی
06:51اس کو کپڑے پہنانے کی نہیں کی گئی
06:53قرآن نے جو کہا ہے
06:58بات یہ ہے کہ تم یتیم کو عزت نہیں دیتے ہو
07:02یتیم کو تم عزت کیسے دے سکتے ہو یہ تم جانتے ہو
07:05کہ اس کی تقریم کیسے کرنی ہے
07:07تمہارے پاس یتیم کو پہنانے کے لیے کپڑا نہیں ہے
07:10اس کو دینے کے لیے روٹی نہیں ہے
07:13لیکن تمہارے سینے میں پیار تو رکھا ہوا ہے
07:16اس برہنہ یتیم کو سینے سے لگا کر کے
07:19اس کا ماتھا تو چوم سکتے ہو نا
07:21رب یہ نہیں دیکھتا روٹی کس نے دی
07:23رب یہ دیکھتا یتیم کو پیار کس نے دی ہے
07:26وہ یہ دیکھتا ہے
07:27کل لا بل لا تو کریمون الیتیم
07:29معاملہ روٹی کا نہیں ہے
07:31بچی ہوئی روٹی تو کتے کو بھی ڈالی جا سکتی ہے
07:34کسی کو غریب کو دے دی تو یہ کونسا کمال ہے
07:36جو دے گئے بچ گئی وہ مدسے میں بھیج دی
07:39یہ کمال کی بات نہیں ہے
07:40وہ گندگی کے ڈھیر پہ بھی تو پھینکنی تھی
07:42خراب ہو جاتی دو گھنٹے اور پڑی رہتی
07:44معاملہ یہ نہیں ہے
07:45معاملہ تکریم کا ہے
07:47اب وہ بھی سوچیں
07:49عید آ رہی ہے
07:51مینڈکوں کی طرح نکلیں گے
07:52سماجی رہنما اور سماجی کارکن
07:55اخباروں میں تصویریں چھپیں گی
07:57غریب عورتیں لین میں لگی ہوئی ہیں
07:59غریب مرد لائن میں لگے ہوئے ہیں
08:02اور جو ہے وہ
08:03صاحب جو ہے وہ ایک ایک توڑا
08:05آٹے کا ایک ایک تھیلہ آٹے کا دے رہے ہیں
08:07اور دس جو ہے وہ
08:09فوٹوگرافر تصویر کھینچ رہے ہیں
08:11اگلے دن پندرہ پندرہ
08:12اخباروں کے اندر تصویریں لگی ہوئی ہیں
08:14میں اس دن بھی کہا تھا
08:16کہ اس انداز کے ساتھ
08:18غریبوں کی غربت کا اشتہار لگانے والا
08:20سوچے
08:21کہ اس لائن میں اگر اس کی بیٹی کو
08:23کھڑا ہونا پڑے تو اس کا پھر انداز کیا ہو
08:26بات یہ نہیں بات
08:27تکریم کی ہے
08:31آئیے تمہیں میں کہانی سناوں
08:35رہے تھے عیدگاہ کو
08:37راستے کے اندر ایک یتیم کھڑا تھا
08:39اور آقا کریم نے کہا
08:41کہ بیٹے آج تم یہاں کھڑے ہو
08:43کہا فلان غزوے میں میرا باپ شہید ہو گیا تھا
08:46میری ماں کا سایہ بھی
08:47میرے سر پہ نہیں ہے
08:48لوگ اپنے گھروں میں ہیں میں کس دہلیز پہ جاؤں
08:51اچھا انتظار ہو رہا ہے
08:53عیدگاہ میں حضور نے یتیم کو سینے سے لگائے
08:55گھر لے گئے
08:56اور سیدہ فاطمہ سے کہا
08:58کہ جس طرح کا لباس حسنین کو پینایا ہے
09:01اس کو بھی پیناو
09:02اللہ اکبر
09:03اور اس کو کھانا کھلایا
09:05اور سب کچھ اس کی تقریم کرنے کے بعد
09:08حضور نے پھر
09:09جو ہے
09:10وہ اس کو عزت دینے کے لیے
09:12اس کی تقریم دینے کے لیے
09:13حضور علیہ السلام نے اس کو فرمایا
09:15اما تردہ
09:16انا محمدن ابو کا
09:18بیٹے کیا تو پسند نہیں کرتا
09:21کہ محمد تیرا باپ لگے
09:22وآائشہ تا اموں کا
09:24اور آئشہ تری ماں لگے
09:26وفاتمہ بنت محمدن اختو کا
09:28اور فاتمہ تیری باجی لگے
09:30اس نے کہا یہ عزاز مل جائے
09:32تو مجھے اور کیا چاہیے
09:33تو کہا آج کے بعد یہ رشتے تیرے ہوئے
09:36ایک انگلی سے حضور نے
09:38حسنین کو تھاما ہوا ہے
09:40اور دوسری انگلی سے
09:41اس یتیم بچے کو تھاما ہوا ہے
09:43جب حضور عیدگاہ کی طرف بڑھ رہے ہیں
09:45تو اور بچے بھی اپنے ماں باپ کے ساتھ جا رہے ہیں
09:47وہ بچہ زبان حال سے کہتا ہے
09:49تھا تو یتیم آر یتیمی کا مزہ نہیں آگیا ہے
09:52کہ حضور کی انگلی تھام کے جا رہا ہوں
09:54تو یتیم کی تقریم کا مسئلہ ہے
09:56اس کو عزت نفس دینے کا مسئلہ ہے
09:58یتیم کو لوگوں کے اندر کھڑا کر کے
10:01اس کو عزاز دیتے ہو
10:03وہ عزاز نہیں ہے
10:04وہ رسوائی ہے
10:05مجھے ایک سال قبل
10:08ایک ایسی تقریب میں لوگ کھینچ کر کے لے گئے
10:10جہاں وہ آج کل اجتماعی شادیوں کا رواج ہے
10:15تو میں بڑی معذرت کی میرے لیے مشکل ہوگا
10:19کیونکہ مجھے اندازہ تھا
10:20اس تقریب کا لیکن میں کبھی گیا نہیں تھا پہلے
10:23تو میں جب اس تقریب میں پہنچا تو
10:26یقین جانے کہ دو دن تک جو ہے وہ میں بے چین رہا ہوں
10:30میں کہتا ہوں غریب سے غریب آدمی ہوتا ہے نا
10:33اس کو معاشرے میں پروٹوکول عزاز نہ بھی ملے
10:36تو شادی والے دن تو مہمانے خصوصی وہی ہوتا ہے نا
10:39اس دن تو سارے اس کے چرے کوئی دیکھتے ہیں
10:41لیکن ان دولوں کو بھی جو ہے وہ لائن پہ بٹھایا ہوا تھا
10:45اور اوپر مہمانے خصوصی کوئی اور بیٹھے تھے
10:47میں نے کہا یہ بچارے مسکین آج بھی مہمانے خصوصی نہیں ہیں
10:51آج ان کی زندگی کا عام دن ہے
10:53اور آج بھی اتنے لوگوں کے سامنے اشتہار لگایا جا رہا ہے
10:56یہ غریب لوگ ہیں
10:57اور دلہنوں کا بھی اشتہار لگایا جا رہا ہے
11:00یہ غریب بچیاں ہیں
11:02اور پھر کیا ان کے چہرے پہ کوئی مسردت کے آثار تھے
11:05اور نہ ان بیٹیوں کے چہرے پہ کوئی مسردت کے آثار تھے
11:08تو لوگ خوشی بانٹنے چلے ہیں
11:10لیکن غموں میں اضافہ کرتے چلے گئے
11:12رات کی تنہائی میں نکلو
11:14اندھیرہ پھیلا ہوا ہو
11:15کوئی دیکھنے والا نہ ہو
11:17اپنے سائے سے بھی بچو
11:19اور جا کے غریب کے گھر میں رکم پھینک کے آ جاؤ
11:22اسے پتہ نہ ہو یہ پھینکی کس نے ہے
11:24اور پھر وہ شادی کریں
11:26جو دعائیں ان کے کلیجے سے نکلیں گی
11:28عرص تک پہنچیں گے
11:29تو بات پیسے دینے کی نہیں ہے
11:33بات تکریم کی ہے
11:35دیکھو قرآن کا اسلوک
11:40معاملہ یہ ہے کہ
11:41یتیم کی عزت تکریم
11:43میرے اور آپ کے آقا مولا نے
11:45تو یہاں تک فرمایا جب بچے کٹھے کھیل رہے ہوں
11:47تمہارا بچہ بھی ان بچوں میں کھیل رہا ہو
11:50تو بچے کو بیٹا کہہ کے آواز نہ دوں
11:52اس کا نام لے کے پکارو
11:54عرض کی گی حضور بیٹا ہے
11:56بیٹا کہہ کے پکاریں گے
11:57تو حرج بھی کیا ہے
11:58کہا تم نہیں جانتے ہو سکتا ہے
12:00کہ وہاں کوئی یتیم بچہ بھی کھیل رہا
12:02اور جب یہ تم کہو گے
12:04تو تڑپ جائے گا
12:05آج میرا باپ ہوتا تو مجھے
12:07بیٹا کہہ کے بکارتا
12:09لیکن آج میں محروم ہوں
12:11تو کہا مسئلہ یہ ہے
12:19دیکھئے قرآن کا اسلوک
12:21کہا ایک تو یتیم کی تکریم نہیں ہے
12:23یہ ساری افتار اس لیے آئے
12:25اور دوسری بات یہ ہے
12:27کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو
12:29مسکین کے کھانے کی رغبت نہیں دیتے
12:32یعنی ایک شخص خود غریب ہے
12:34اور اتنی طاقت نہیں رکھتا
12:36کسی غریب کی پرورش کر سکے
12:38وہ عوضہ برانی ہو سکتا
12:40کہ اتنا کہ میں تو کچھ کر نہیں سکتا
12:42کوئی بھوکے تڑپتے ہوئے غریب کو دیکھے
12:44خود نہ دے سکے
12:46اللہ نے اسے زبان تو دی ہے
12:48کسی امیر کی دہلیز پہ
12:49وہ نہیں جاتا یہ چلا جائے
12:51اور جا کے توجہ دلائے
12:52کہ میرے ہمسائیگی کے اندر
12:53ایک یتیم تڑپ رہے
12:55بیوہ کی بیٹیاں بوڑی ہو رہی ہیں
12:57دہلیز پہ
12:58اور وہ جا کے
12:59اپنے اعتبار پہ
13:00جو ہے ان کا انتظام کر دے
13:01یہ ہے
13:02وَلَا تَحَادُّونَا لَا تَعَامِلْ مِسْكِينَ
Comments