Skip to playerSkip to main content
  • 1 day ago
Ishq Mein Tere Sadqay Ep 41 & 42 Promo Review | Ishq Mein Tere Sadqay New Ep 42 Teaser Exposed

Category

😹
Fun
Transcript
00:00زلفکار خونخار انداز میں ان گنڈوں کو دبوچ لیتا ہے اور ہیرو والے سٹائل میں ان کی ایسی بھیانک پٹائی
00:06لگاتا ہے کہ وہ زمین چاٹنے لگتے ہیں
00:08مار کھا کر گنڈے چیختے میں کہتے ہیں کہ ہمیں اس کام کے لیے کروڑوں روپے دیے گئے تھے
00:13زلفکار توفان کی طرح سیدھا ماریا کے گھر دھمکتا ہے وہ ماریا کا گریبان پکڑ کر دہارتا ہے
00:18بتا تُو نے یہ سب کیوں کیا ماریا خوف سے کامپتے ہوئے ایک ایسا بھیانک راز اگلتی ہے کہ زلفکار
00:25کے پیروں تلے زمین کھسک جاتی ہے
00:26ماریا کہتی ہے میں اکیلی نہیں تھی اس گھنونی سازش میں تمہارے اپنے اببو افتکار بھی ملے ہوئے تھے
00:33دوسری طرف نور اکیلی اپنی انجم کے گھر آتی ہے تب ہی سالار گندی نیت سے اس کے پاس آتا
00:38ہے اور شاتر مسکان کے ساتھ کہتا ہے
00:40میں تو خالی ایک مہرا ہوں اصل میں افتکار شاہ نے مجھے پیسے دیئے ہیں تاکہ میں تمہیں زلفکار کی
00:46زندگی سے نکال سکوں
00:48سالار زبردستی نور کا ہاتھ پکڑ کر اسے دبوچنے لگتا ہے لیکن بوس ڈرامے میں سب سے بڑا اور خوفناک
00:55دھما کا تب ہوتا ہے
00:56جب پیچھے سے انجم یہ سب دیکھ لیتی ہیں اپنے ہی بیٹے کی اس نیچ حرکت کو دیکھ کر انجم
01:01کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے
01:03وہ اپنے شدید گصے کو برداشت نہیں کر پاتی اور اسی وقت اپنی پسٹل نکال کر اپنے ہی بیٹے سالار
01:09پر سیدھی گولی چلا دیتی ہیں
01:11دھائیں گولی لگتے ہی سالار خون میں لطپت ہو کر گر جاتا ہے انجم روتے ہوئے اس کے پاس آتی
01:16ہیں اور چیخ کر کہتی ہیں
01:18بیٹا مجھے ماف کر دینا اگر میں آج یہ خوفناک فیصلہ نہ اٹھاتی تو پتہ نہیں تو آگے کتنی اور
01:24ماسوم لڑکیوں کی زندگی برباد کر دیتا
01:26سالار تلپتے ہوئے نور سے مافی مانگتا ہے اور وہیں اپنا دم توڑ دیتا ہے
01:31ادھر زلفکار آگ ببولہ ہو کر گھر پہنچتا ہے اور اپنے ہی باپ افتخار کا گریبان پکڑ لیتا ہے
01:37آپ نے ایسا کیوں کیا میری ماسوم ہور میرے بچے کی ماں بننے والی تھی
01:41زلفکار تب ہی اپنے پولیس انسپیکٹر دوست کو بلاتا ہے اور اپنے قاتل باپ کو دھکے مار کر پولیس کے
01:46حوالے کر دیتا ہے
01:47تب ہی زلفکار کو یہ رولا دینے والی خبر ملتی ہے کہ انجم نے نور کو بچانے کے لیے سالار
01:53کی جان لے لی ہے
01:53اگلے دن سالار کی تدفین ہوتی ہے
01:55زلفکار اور مرتضی انکل روتے ہوئے سالار کا جنازہ پڑھ کر اسے قبرستان میں دفنا آتے ہیں
02:01جب نور کو یہ ساری حقیقت پتا چلتی ہے کہ اس کی بہن ہور کی جان
02:05زلفکار نے نہیں بلکہ افتخار نے لی تھی اور زلفکار نے انصاف کے لیے اپنے ہی باپ کو جیل بھیج
02:11دیا ہے
02:11تو نور کا دل پسید جاتا ہے وہ زلفکار سے روتے ہوئے مافی مانگتی ہے
02:15اچانک نور کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوتی ہے اور وہ بےہوش ہو جاتی ہے
02:20زلفکار اور انجم اسے فوراں ہسپیٹل لے کر بھاگتے ہیں
02:23ڈاکٹر چکپ کے بعد مسکراتے ہوئے بتاتی ہے غبرانے کی کوئی بات نہیں ہے
02:27مبارک ہو نور پریگنٹ ہے
02:29یہ سن کر زلفکار خوشی سے جھوم اٹھتا ہے اور نور کو حفاظت سے اپنے گھر لے آتا ہے
02:33کچھ دن بعد زلفکار کو پولیس ٹیشن سے ایک خوفناک کول آتی ہے
02:37آپ کے اببو کو جیل میں زوردار ہارٹ اٹیک آیا ہے
02:40زلفکار بھاگ کر ہسپیٹل پہنچتا ہے
02:42لیکن تب تک افتخار شاہ اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے جا چکا ہوتا ہے
02:46زلفکار روتے ہوئے اپنے باپ کی بھی تدفین کر دیتا ہے
02:49ان سب کے بعد زلفکار نور کو اتنی بے پناہ محبت دیتا ہے
02:53کہ وہ اپنی بہن کے سارے غم بھلا دیتی ہے
02:55دیکھتے ہی دیکھتے وقت گزرتا ہے
02:57اور ایک دن اچانک نور کو شدید درد اٹھتا ہے
02:59زلفکار کی امی فوراں زلفکار کو بلاتی ہے
03:02بیٹا نور کا بچہ اس دنیا میں آنے کا وقت ہو گیا ہے
03:05وہ اسے توفان کی طرح ہسپیٹل لے کر جاتے ہیں
03:08کچھ ہی گھنٹوں بعد ڈاکٹر باہر آ کر سب سے بڑی خوشخبری دیتی ہے
03:11زلفکار شاہ مبارک ہو
03:13آپ کے گھر ایک بہت خوبصورت بیٹی پیدا ہوئی ہے
03:16یہ سن کر زلفکار خوشی سے پاگل ہو جاتا ہے
03:18وہ نور کے کمرے میں جاتا ہے
03:20اس کا ہاتھ چوم کر کہتا ہے
03:22نور تم نے آج مجھے میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی سے نوازا ہے
03:26جس پر نور پیار سے کہتی ہے
03:27یہ ہم دونوں کی خوشی ہے
03:29تو دوستوں یہاں پر یہ سب سے بڑا سوال پیدا ہوتا ہے
03:32کیا انجم نے صحیح فیصلہ کیا
03:34کہ اپنے ہی بیٹے کی جان لے لی
03:35کیونکہ دیکھا جائے تو انہوں نے ایک پھوپو ہونے کا پورا حق نبھایا ہے
03:39جو کی معاشرے میں ایک نئی مثال قائم کر دی ہے
03:42آپ کی کیا رائے ہیں
03:43کمنٹ میں لازمی بتائیں
03:44ویڈیو پسند آئی ہو تو ویڈیو کو لائک
03:46شیئر اور سبسکرائب کر دیجئے گا
03:49تو بوس یہ ہماری پریڈکشن ہے
03:51جو صرف انٹرٹینمنٹ پر
Comments

Recommended