00:00باشا کو پولیس آنا کوئی کول آتی ہے اور اسے بتاتے ہیں کہ صندری کو کسی عونی نہیں بڑھ کے
00:04قربان علی نے کنیپ کروایا ہے یہ خبر صندے کے بعد باشا سیدھا گھر سے نگلتا ہے تو تبھی جاندار
00:08اس کے پاس آتا ہے اور اسے کہتا ہے باشا کام پر جا رہی ہو Webb ihr جاندار میر علی
00:12کو بتاتا ہے کہ صندری کو کسی عونی نہیں قربان علی نے کنیپ کرا ہے
00:15تب ہی باشا فولن اپنی گاڑی میں بیٹھتا ہے اور گھر سے نگل جاتا ہے
00:18تب ہی اسی وقت جاندار قربان علی کو کال کرتا ہے اسے بتاتا ہے
00:21تم سندری اور گلام کا نگاہ کروا دو نہیں تو باشا پولیس لے کر تمہارے فارماوس میں پہنچڑا ہے
00:25لیکن یہاں پر قربان علی چلانگی کرتے ہوئے سندری کو اپنے فارماوس سے لکھا کر کسی اور گھر میں لے
00:30جاتا ہے
00:31جس کے بعد باشا اپنی پولیس فورس کے ساتھ قربان کے فارماوس پہ پہنچتا ہے لیکن سندری اسے کہیں پہ
00:35بھی نہیں دیکھتا ہے
00:35جس کے بعد باشا گھسے میں آ کر وہاں کا بند دروازہ توڑتا ہے
00:38جس کے بعد وہ سامنے دیکھتا ہے تو گلام وہاں پر رسیوں سے بنا ہوا ہوتا ہے
00:42گلام جیسی باشا کو اپنے سامنے دیکھتا ہے تو چلاندہ با کہتا ہے باشا تو میری سندری کو مجھ سے
00:46نہیں چھین سکتے
00:47سندری صرف میری ہے وہ تمہاری کبھی نہیں ہو سکتی یہ سننے کے بعد باشا کے ہوش اڑیاتے ہیں
00:51کیونکہ باشا تو یہی سمجھ جاتا ہے کہ سندری کو گلام بھگا کے لے کر گیا ہے
00:54جس کے بعد باشا گلام کو کھولتا ہے اور دونوں سندری کو ڈھوننے کے لیے ساتھ لکھل جاتے ہیں
00:58کبھی باشا اپنی پاور کا استعمال کرتا ہے اور سندری کا پتہ لگوا لیتا ہے
01:01کبھی باشا اور گلام قربان حلی کے نئے گھر میں پہنچ جاتے ہیں
01:04لیکن بہت سمجھ پہنچ گا وہ دونوں دیکھتے ہیں کہ قربان سندری سے زبردستی شادی کر رہا ہے
01:08یہ دیکھنے کے بعد باشا آگے بڑتا ہے تو قربان اپنی گھر لکھان لیتا ہے
01:11جس کے بعد وہ کہتا ہے باشا ونیڈ اٹھ جاؤ
01:13اگر سندری نے مجھ سے شادی نہ کی تو میں اس سے کی جان لے لوں گا
01:15لیکن تربی پیچھے سے گلام چلاکی سے آتا ہے اور قربان علی کو پیچھے سے پکڑ لیتا ہے
01:19اسے چینہ چھپٹے میں قربان علی گولی چلا دیتا ہے
01:34لاز شروع کر دیتے ہیں لیکن کچھ ہی دیرے میں دکٹر باہر آ کر باشا کو بتاتے ہیں
01:37کہ گلام کا آخری ٹائم چلا ہے اور وہ سندری کو اپنے پاس بلا رہے ہیں
01:41جس کے بعد باشا سندری کو اپنے سال لے کر گلام کے کمرے میں جاتا ہے تو
01:44گلام سندری کا ہاتھ پکڑتے وہ اس سے کہتا ہے
01:46سندری باشا تم سے سچی محبت کرتا ہے
01:48میرے مرنے کے بعد تم باشا سے شادی کر لینا یہی میری آخری خواہش ہے
01:52یہ سننے کے بعد باشا بھی روتے ہوئے گلام سے وعدہ کر لیتا ہے
01:54کہ یار میں تیری آخری خواہش ضرور نبھاؤں گا
01:56لیکن یار تو ایسا نہ کہے تجھے میری بھی زندگی لگ جائے
01:59لیکن تب ہی گلام کی حالت کافی زیادہ خراب ہوتی ہو
02:01وہ اپنے آنکھیں ہمیشہ کیلئے بند کر لیتا ہے
02:03جس کے بعد ڈاکٹر اس کے پاس آتے ہیں اور چیک کرتے ہیں
02:05تو باشا کو بتاتے ہیں ان کی موت ہو گئی ہے
02:07جس کے بعد اگلے دین جاندار اور باشا دونوں گلام کی تصمیم کر دیتے ہیں
02:10جس کے بعد باشا تصمیم کرنے کے بعد گھڑ پر آتا ہے
02:13تو سندری بہت زیادہ اداس بیٹی ہوئی ہوتی ہے
02:15تب ہی باشا اس کے پاس جاتا ہے تو سندری روتے ہوئے
02:17اسے اپنے گلے سے نگا لیتی ہے
02:18جس کے بعد باشا اسے حسنہ دیتا ہے اور کہتا ہے
02:20میں گلام کی قاتلوں کو زندہ نہیں چھوڑوں گا
02:22جس کے بعد اگلے ہی دن باشا پولیس فورس کے ساتھ
02:25قربان علی کے گھڑ پر پوچھتا ہے
02:26وہاں پوچھتے کی بعد وہ پلس فورس سے کہتا ہے
02:28یہی میرے یار کا قاتل ہے اسے اڈریسٹ کر لو
02:30جس کے بعد پلس قربان علی کو پکڑ کے لے جاتی ہے
02:32جس کے بعد قربان علی کو عمر کی سزا سنا دیتی ہے
02:35جس کے بعد باشا گھر آتا ہے
02:36تو وہ سندری سے شادی کرنے کا فیصلہ کر دیتا ہے
02:38تب ہی مولوی صاحب کو بلائی جاتا ہے
02:40باشا اور سندری کا نگا شروع ہوتا ہے
02:41تو مولوی صاحب سندری سے پوچھتا ہے کہ آپ کو یہ نگاہ قبول ہے
02:44جس کے بعد سندری بہت سوچنے کے بعد کیونکہ اس کے ذہن میں گلام کے خیالات آ رہے ہوتے ہیں
02:48لیکن جس کے بعد وہ کہے دیتی ہے مجھے باشا میر علی سے نگاہ قبول ہے
02:51تب ہی مولوی صاحب باشا سے پوچھتا ہے تو باشا بھی کہتے تھا مجھے سندری سے نگاہ قبول ہے
02:55جس کے بعد وہ سندری کو اپنے ساتھ اپنے کمرے میں لے کے جاتا ہے تو اسے
02:58تو اسے ڈیامنڈ کی انگوٹھی گف کرتا ہے تو بوس آپ کو کیا لگتا ہے
03:01کہ یہ ہماری پیڈکشن صحیح ہوگی کہ سندری باشا کوئی ملنی چاہیے تھی
03:04یا پھر گلام کو ملنی چاہیے تھی
03:06مجھے تو لگتا ہے کہ اس ڈرامے کی اسی طریقے سے ہیپی اینڈنگ ہوگی
Comments