00:00ایلیف روتے ہوئے سیہاں کو اپنی گاڑی میں ڈال کر سیدھا اسپتال لاتی ہے
00:03ڈاکٹر کو دیکھتے ہی وہ گھبرا کر چلاتی ہے
00:05سیہاں کی طبیعت بہت خراب ہے جلدی کچھ کریں
00:08اسی وقت وہ غازی یوسف کو کال کرتی ہے
00:10اور بتاتی ہے کہ سیہاں کو وہ اسپتال لے کر آئی ہے
00:13یہ بھیانک خبر سنتے ہی غازی یوسف کے ہوش اڑ جاتے ہیں
00:17اور وہ فوراں ذکریہ کے ساتھ اسپتال پہنچ جاتے ہیں
00:19اسپتال میں ڈاکٹر ریاض سیہاں کو چیک کرنے کے بعد
00:22آپریشن تھیٹر سے باہر آتے ہیں
00:24غازی یوسف ان کا کالر پکڑ کر تڑپتے ہوئے پوچھتے ہیں
00:27بتاؤ کیا ہوا ہے میرے بیٹے کو
00:28ڈاکٹر ریاض مایوس ہو کر بتاتے ہیں
00:30جس کا ڈر تھا وہی ہوا ہے
00:31سیہاں کا دل اپوری ترہ ختم ہو چکا ہے
00:34اب ہمیں فوراں ان کا ہارٹ ٹرانسپلانٹ کرنا پڑے گا
00:36ورنہ ان کی جان چلی جائے گی
00:37یہ سن کر غازی یوسف اسی وقت
00:39ذکریہ کو حکم دیتے ہیں
00:41اپنی ساری پاور کا استعمال کرو
00:42اور پتہ کرو کہ سیہاں کے لیے دل کہاں سے ملے گا
00:45ذکریہ اپنے خوفناک نیٹ وک کا استعمال کرتا ہے
00:47اور غازی یوسف کو بتاتا ہے
00:49سیہاں کا بلڈ گروپ صرف ایلیف سے میچ کرتا ہے
00:51لیکن وہ دل ہمیں اس کے مرنے کے بعد ہی مل سکتا ہے
00:54غازی یوسف کی آنکھوں میں لالا جا جاتا ہے
00:56اور وہ ذکریہ سے کہتے ہیں
00:57تم ایلیف کو مروا دو
00:58مجھے ہر حال میں اپنے بیٹے کی جان بچانی ہے
01:01دوسری طرف ایلیف بھاگتی ہوئی
01:02ڈاکٹر ریاض کے پاس جاتی ہے
01:04ڈاکٹر اسے بتاتے ہیں
01:05کہ سیہاں کے لیے ڈونر نہیں مل رہا
01:07اور اس کی جان بچانا ناممکن ہے
01:08یہ سن کر ایلیف کے ہوش اڑ جاتے ہیں
01:10اور وہ تڑپ کر کہتی ہے
01:11آپ میرا دل لے لیں
01:12لیکن میں سیہاں کو کچھ نہیں ہونے دوں گی
01:14تب ہی غازی یوسف بھی وہاں آ جاتے ہیں
01:16اور جھوٹی ہمدردی دکھاتے ہوئے پوچھتے ہیں
01:18بیٹا تم ایسا کیوں کر رہی ہو
01:19ایلیف روتے ہوئے جواب دیتی ہے
01:21میں سیہاں سے سچی محبت کرتی ہوں
01:23پیچھے سے اورنگزیب کو جب یہ خبر ملتی ہے
01:25کہ ایلیف سیہاں کے لیے اپنی جان قربان کر رہی ہے
01:27تو وہ پاگل ہو جاتا ہے
01:29وہ بھاگتا ہوا اسپتال آتا ہے
01:30اور ایلیف کو سمجھانے کی بہت کوشش کرتا ہے
01:33لیکن ایلیف اس کی ایک نہیں سنتی
01:34فوراں ایلیف آپریشن تھییٹر میں جاتی ہے
01:36اور اپنا دل دے کر سیاہان کی جان بچا لیتی ہے
01:39لیکن اس بھایانک سرجری میں
01:40خود ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے چلی جاتی ہے
01:43اورنگزیب ایلیف کی موت سے پوری طرح ٹوٹ جاتا ہے
01:45اور اس کی تدفین کے بعد
Comments