00:00علی خان میڑھال کو منانے اس کے گھر پوچھتا تو میڑھال اسے کہتی ہے صبح جو تم نے میرے ساں
00:03رویہ رکھا ہے
00:04اس رویہ میں تو میرے گھر والوں نے بھی مجھ سے بات نہیں کہی اور اب میں تم سے نراز
00:07ہوں تم یہاں سے چلے جاؤ
00:08ویسے بھی ابھی بارش ہونے والی ہے لیکن علی خان میڑھال کی محبت میں ساری رات وہاں پر کھڑا رہتا
00:13ہے تب ہی بارش بھی ہو جاتی ہے
00:14جس کے بعد میرے حال رات کو کام کری رہی ہوتی ہے کمپیوٹر پہ تو اسے خیال آتا ہے پتہ
00:17نہیں علی خان گیا ہوگا کیا نہیں
00:19پھر وہ اس کھڑکی سے اسے دیکھتی ہے تو وہ ہی پر موجود ہوتا ہے
00:21جس کے بعد وہ علی کو چھیک مارتا ہے وہ دیکھتی ہے تو اس کے پاس جاتی ہے
00:24جس کے بعد وہ اسے ماف کر کر اپنے گھر میں لی آتی ہے
00:26جس کے بعد وہ علی خان سے کہتی ہے ابھی میں تمہارے لیے اردرگ والی چاہیں بناوں گی
00:30اور تمہارے یہ نظرہ خان سے بلکل ٹھیک ہو جائے گی
00:32دوسری طرح دادی کو اس بات کا پتہ چل جاتا ہے کہ علی خان پہ حملہ ہوا ہے
00:35اس کے بعد اگلے دن دادے خود ملی کے گھر پہ پہ پوجھ جاتی ہیں
00:38جس کے بعد وہ ملک سے کہتی ہے ملک علی خان سے دور رہو
00:41نہیں تو میں تم دونوں کا وہ انجام کروں گی کہ تمہاری ساتھ نسلی یاد رکھیں گی
00:44دوسری طرح وہ ایلیہ نستے میں جا رہی ہوتی ہے تو اس سے میرال و علی خان دیکھ جاتے ہیں
00:48جس کے بعد وہ فونل ان دونوں کی پچھر خیش لیتی ہے اور پتہ لگواتی ہے
00:51وہ پتہ چلتا ہے علی خان میرال سے سچی محبت کرتا ہے
00:54جس کے بعد اسی وقت ایلیہ اپنے بندوں سے کہہ کر میرال کو کڈنیپ کروا لیتی ہے
00:57ادھر گھر میں میرال جب گھر پہ نہیں آتی تو احمد اپنی بیٹی کے لیے کافی زیادہ پریشان ہوتے ہیں
01:01جس کے بعد وہ پریشان ہو کر میرال کو کال کرتے ہیں لیکن میرال کا لمبر بن جا رہا ہوتا
01:05ہے
01:05یہ دیکھنے کے بعد وہ علی خان کو کال کرتے ہیں
01:07جس کے بعد وہ ان سے پوچھتے ہیں بیٹا میرال ابھی تک گھر پہ نہیں آئی
01:10یا وہ ابھی تمہارے ساتھ ہیں
01:11جس سے علی کہتا ہے نہیں انکل وہ تو میرے ساتھ نہیں ہے
01:13ابھی احمد بتاتا ہے اتنی رات ہو گئی میرال ابھی تک گھر پہ نہیں آئی
01:16یہ سننے کے بعد علی خان کے ہوش اڑی آتے ہیں
01:18جس کے بعد علی خان کے ذہن میں یہ آئیڈیا آتا ہے کہ یقیناً یہ ایلیہ کہاتے ہیں
01:22جس کے بعد علی خان غصے میں اپنی گھر نکالتا اور سیدھا ملی کے گھر پہ پہنچ جاتا ہے۔
01:25جس کے بعد وہ علیہ کے بعد نوشتہ واہ کہتا ہے مجھے بتاؤ میرال کھاں ہیں۔
01:28نہیں تو میں تمہارے بھائی ملی کو گولی مڑوا دوں گا۔
01:31اپنے بھائی کی موت کو سنکے علیہ کے ہوش اڑی آتی ہیں۔
01:33جس کے بعد ڈڑ کے مارے علیہ علی خان کو میرال کی لوکیشن کے بارے میں بتا دیتی ہے۔
01:37جس کے بعد وہ فرنہ ملی کے فاموس میں پوچھتا گنڈوں کی خوب پٹائی کر کے
01:40تب ہی وہ کمرے میں جا کر میرال کو رسیوں سے کھول کر حفاظت سے گھر پہ لی آتا ہے۔
01:44میرال جب صحیح سلامت گھر پر آتی ہے جس کے بعد عطی علی خان کا بھر شکریہ ادا کرتی ہے۔
01:48جس کے بعد علی وہاں سے چلا جاتا اور اگلے دن میرال کو بڑا سپرائز دینے کے لیے
01:52جس کے بعد وہ اسے اپنی گاری میں بٹھا کر ایک بڑا سپرائز دینے کے لیے اس کے آنکھوں پر
01:55پٹی بان کر آفیس کے اندر لاتا ہے۔
01:57جس کے بعد وہ اس کی پٹی کھولتا ہے تو میرال سامنے لگا بور دیکھتی ہے جس پر لکھا وہ
02:01ہوتا ہے۔
02:01میرال احمد انٹرپریس یہ دیکھنے کے بعد وہ بہت زیادہ خوش ہو جاتی ہے جس کے بعد وہ خوشی کے
02:05مارے اسی وقت علی خان کے گلے سے لگ جاتی ہے۔
02:07جس کے بعد میرال اپنے آفیس میں بہت ترقی کرتی ہے اس کو کسی بھی قسم کی کوئی میں پرابلم
02:12ہوتی تو علی خان اپنی پاور کا استعمال کرتے ہیں۔
02:14میرال کی پرابلم کو سولف کروا دیتا ہے جس کے بعد ایک دن میرال کی کمپنی کی ترقی کی خوشی
02:18میں جس کے بعد وہ پارٹی اناؤنس کرتا ہے وہاں پر وہ میرال کو بھی بلاتا ہے۔
02:21جس کے بعد میرال جیسی ماں پر آتی ہے تو اسے شادی کے لیے پرپوس کر دیتا ہے۔
02:24جس کے بعد علی خان گھر پر آتا ہے تو اپنی دادی سے کہتا ہے دادی میں نے میرال سے
02:27اپنی محبت کا احضار کر دی ہے جس پر دادی اسے کہتی ہے بیٹھا مجھے اس کی پچھر تو دکھاؤ
02:31آخر کون ہے وہ لڑکی جو تمہیں پسند آئی ہے۔
02:33جس کے بعد وہ میرال کی تصویر دیکھتی ہیں تو وہ کافی زیادہ خوش ہو جاتی ہیں۔
02:36انگلے ہی دن وہ علی خان کا رشتہ لے گر میرال کے گھر پر پوجھ جاتی ہیں لیکن جب وہ
02:39وہاں پوچھتی ہیں جس کے بعد وہ آتی ہے وہاں پر دوازہ کھولتی ہیں۔
02:42جس کے بعد وہ اپنی بیٹی کو اپنے سامنے دیکھتی ہیں تو ان کے ہوش اڑیاتے ہیں۔
02:45جس کے بعد دادی جان سب ہی آگے بڑھتی ہے اور اپنی بیٹی کو گلے سے لگا لیتی ہیں۔
02:49یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد علی خان دادی سے پوچھتے دادی آپ ان سب کو کیسے جانتی ہیں
02:52تب ہی دادی علی خان کی خوشی کے خاطر اپنے بیٹے شاہ نواز کی قسم کو توڑ دیتی ہیں
02:57جس کے بعد وہ علی خان سے کہتی ہیں یہ میری سگی بیٹی اتی ہے اور یہ تمہاری پھپو ہیں
03:00علی خان جب یہ سنتے تو وہ کافی زیادہ خوش ہو جاتا ہے
03:03جس سے وہ کہتا ہے یہ تو بہت اچھی بات ہے ہمیں شادی کی ڈیٹ فس کر دینی شاہیے
03:06اسی وقت علی خان اور میرال کے نگاہ کے تاریخ فکس ہو جاتی ہے
03:09جس کے بعد اگلے دن مولکس صاحب کو بلائے جاتا ہے اور دونوں کا اچھانا خوشی خوشی نگاہ کر دیا
03:13جاتا ہے
Comments