00:00بیٹی سے ماں کا سفر
00:01بے فکری سے فکر کا سفر
00:03رونے سے خاموشی کا سفر
00:05غصے سے تحمل کا سفر
00:07پہلے جو آنچل میں چھپ جایا کرتی تھی
00:09آج خود کسی کو آنچل میں چھپا لیتی ہیں
00:12پہلے جو انگلی پہ گرم لگنے سے
00:14گھر کو سر پر اٹھایا کرتی تھی
00:16آج ہاتھ جل جانے پر بھی
00:18کھانا بنایا کرتی ہے
00:19پہلے جو چھوٹی چھوٹی باتوں پہ رو جایا کرتی تھی
00:22آج بڑی بڑی باتوں کو
00:30سن کے دھیرے سے مسکرائیا کرتی ہیں
00:32دس بجے اٹھنے پر بھی
00:33جلدی اٹھ جانا ہوتا تھا
00:35آج سات بجے اٹھنے پر بھی
00:37لیٹ ہو جایا کرتی ہیں
00:39سارا دن فارغ رہ کر بھی
00:41خود کو بیزی بتایا کرتی تھی
00:43اب پورے دن کام کر کے بھی
00:45کام چور کہلائیا کرتی ہیں
00:47نہ جانے کب کسی کی بیٹی
00:49کسی کی ماں بن گئی
00:50کب ایک بیٹی ماں کے سفر میں
00:53تبدیل ہو گئی
Comments