Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Kashful Mahjoob Part 22

Category

📚
Learning
Transcript
00:00اسلامی لائبریری انلائٹننگ اپاوٹ ریلیجن
00:08ملامت کا بیان
00:09مشایخِ طریقت کی ایک جماعت نے ملامت کا طریقہ پسند فرمایا
00:14کیونکہ ملامت میں خلوص و محبت کی بہت بڑی تاثیر اور لذتِ کامل پوشیدہ ہے
00:21اور اہلِ حق مخلوق کی ملامت کے لیے مخصوص ہیں
00:24خاص کر بزرگانِ ملت اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:30کہ آپ اہلِ حق کے مقتدع اور امام ہیں
00:33آپ سے قبل بھی تمام محبوبانِ خدا پر جب تک برہانِ حق نازل نہیں ہوئی
00:39اور ان کو وحی سے سرفراز نہیں کیا گیا تھا
00:42اس وقت تک مخلوقِ خدا میں وہ نیک نام اور بزرگ سمجھ جاتے تھے
00:48مگر جب اللہ تعالیٰ نے انہیں دوستی کی خلت عطا فرمائی
00:52اور لباسِ نبوت پہنایا
00:54تو مخلوقِ خدا نے ان کے حق میں زبانِ ملامت دراز کر دی
00:59چنانچہ کسی نے انہیں کاہن
01:01کسی نے شاعر
01:03کسی نے مجنون
01:04اور کسی نے نعوذ باللہ قاضب تک کہہ دیا
01:07مگر اللہ تعالیٰ نے اہلِ حق اور مومنین کی تعریف میں فرمایا
01:12وَلَا يُخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمْ
01:15ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاعَ
01:19وَاللَّهُ وَاسِعُنْ أَلِيمٌ
01:23بفضلِ خدا
01:24یہ زبان درازوں کی ملامت سے نہیں ڈرتے
01:28وہ جسے چاہے عطا فرمائے
01:30اور اللہ کا علم وسیح ہے
01:34حق تعالیٰ کا دستور ہی ایسا ہے
01:37کہ جس نے حق کی باگ مو سے نکالی
01:39سارے جہان نے ملامت کی
01:41کیونکہ ایسے بندے کے اثرار
01:43ملامت میں مشغول ہونے کے باعث مخفی رہتے ہیں
01:47یہ حق تعالیٰ کی غیرت ہے
01:49کہ وہ اپنے دوستوں کو دوسروں کے دیکھنے سے محفوظ رکھتا ہے
01:53تاکہ ہر شخص کی آنکھ
01:55اس کے دوست کے حال کے جمال پر نہ پڑے
01:57اور بندے کو اس سے بھی محفوظ رکھتا ہے
02:00کہ وہ اسے دیکھنے کی کوشش کرے
02:03اور خود بھی اپنا جمال نہ دیکھ سکے
02:05کیونکہ وہ غرور اور تکبر کی مصیبت میں مبتلا ہو جائے گا
02:09اسی وجہ سے خل کو ان پر ملامت کے لیے مقرر فرمایا
02:14اور نفس اللوامہ
02:16یعنی ملامت کرنے والی خصلت کو
02:19ان کے اندر پنہاں کر دیا
02:20تاکہ وہ جو بھی کرے
02:22وہ اس پر ملامت کرتا رہے
02:24اگر وہ بدی کرے
02:26تو اس بدی پر ملامت کرے
02:28اور اگر نیکی کرے
02:29تو کتا ہی پر
02:30راہِ خدا میں یہی وہ اصل کال ہے
02:34جس میں کوئی آفت اور ہجاب نہیں ہے
02:36اور طریقت میں
02:37جو دشوار تر ہے
02:39اس لیے کہ بندہ
02:41اپنے کسی غرور میں نہ پھنس جائے
02:46غرور کی بنیاد
02:49غرور دراصل دو چیزوں سے پیدا ہوتا ہے
02:53مخلوق کی عزت افضائی اور ان کی مدھو ستائش سے
02:56اور دوسرا یہ
02:58اور دوسرا یہ کہ اپنے ہی افعال پر خوش ہونے سے
03:01اول صورت میں لوگ چونکہ بندے کے افعال کو پسند کرنے لگتے ہیں
03:05اور اس پر اس کی مدھو ستائش کرتے ہیں
03:08اس لیے انسان میں غرور پیدا ہو جاتا ہے
03:12دوسرے انسان کو اپنی برائیوں میں بھی حسن نظر آتا ہے
03:15اس لیے وہ غرور و خود پرستی میں مبتلا ہو جاتا ہے
03:19اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اپنے دوستوں پر ان دروازوں کو بند کر دیتا ہے
03:24تاکہ ان کے معاملات اگرشن نیک ہوں
03:27پھر بھی اس کو اپنی طاقت و قوت کے مقابلہ میں ہیچ نظر آتا ہے
03:31اور وہ اسے پسند نہیں کرتا
03:33جس کی بنا پر غرور سے محفوظ رہتا ہے
03:37لہٰذا ہر شخص جو پسندیدہ حق ہوگا
03:40خلق اسے پسند نہیں کرے گی
03:42اور جو اپنے جسم کو ریاضت اور مجاہدے کے ذریعے
03:45مشکت میں مشغول رکھے گا
03:48حق تعالیٰ اسے تکلیف نہیں دے گا
03:50چنانچہ باوجود اس کے
03:52کہ شیطان کو لوگوں نے پسند کیا
03:54اور فرشتوں نے بھی
03:56اور اس نے خود بھی اپنے آپ کو پسند کیا
04:00لیکن حق تعالیٰ نے اسے پسند نہیں فرمایا
04:03اسی لیے یہ سب کچھ اس کے لیے لانت کا سبب بن گیا
04:07حضرت آدم علیہ السلام کو
04:09نہ فرشتوں نے پسند کیا
04:11نہ ابلیس ملعون نے
04:12اور نہ انہوں نے خود ہی اپنے آپ کو پسند کیا
04:15مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو پسند فرمایا
04:18فرشتوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا
04:22اتاجعل فیہ من یفسد فیہ
04:25اے خدا کیا تو زمین پر ایسے شخص کو خلیفہ بناتا ہے
04:29جو اس میں فساد کرے گا
04:31اور خون ریزی کرے گا
04:33ابلیس ملعون نے کہا
04:35انا خیرم منہ خلقتنی من نارم وخلقتہ من تین
04:40میں آدم سے بہتر ہوں
04:42تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا
04:45اور آدم کو مٹی سے
04:47حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے بارے میں خود کہا
04:50ربنا ظلمنا انفسنا
04:52اے ہمارے رب
04:54ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا
04:56لیکن جب حق تعالیٰ نے
04:58حضرت آدم علیہ السلام کو پسند فرمایا
05:01تو ان کے حق میں فرمایا
05:03فناسیہ ولم نجد لہو ازما
05:05تو ان سے بھول ہو گئی
05:07اور ہم نے ان کی طرف سے ارادتاً نافرمانی نہ پائی
05:11اس طرح حضرت آدم علیہ السلام کو
05:14خلق کی ناپسندیدگی کا سمرہ
05:17خدا کی رحمت کی شکل میں مل گیا
05:19تاکہ کائنات کی ساری مخلوق جان لے
05:22کہ ہمارا مقبول خلق کا محجور ہوتا ہے
05:25اور جو خلق کا مقبول ہو
05:27وہ ہمارا محجور ہوتا ہے
05:29اور یقینی دور پر سب کو پتہ چل جائے
05:32کہ خدا کے دوستوں کی غزہ
05:34خلق کی ملامت ہوتی ہے
05:36کیونکہ اس میں قبولیت کے اثار ہیں
05:38اولیاء اللہ کا مذہب ہے
05:40کہ ملامت ہی قرب و اختصاص کی نشانی ہے
05:43جس طرح لوگ قبول خلائق سے خوش ہوتے ہیں
05:46اس طرح وہ ملامت سے بھی خوش رہتے ہیں
05:49حدیثِ قدسی میں ہے
05:51کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
05:55بواستہ حضرت جبرائیل علیہ السلام
05:58اللہ تعالیٰ کا ارشاد نقل کیا
06:02میرے اولیاء میری رحمت کی چادر میں ہوتے ہیں
06:05جنہیں میرے ساتھ میرے اولیاء ہی پہچامتے ہیں
06:09ملامت کی قسمیں
06:12ملامت کی تین قسمیں ہیں
06:13ایک یہ کہ وہ سیدھا چلے
06:17دوسرے یہ کہ وہ قصد کرے
06:19تیسرے یہ کہ وہ ترک کرے
06:22پہلی قسم کی صورت یہ ہے
06:24کہ ایک شخص کام کرتا ہے
06:26اور امور دینیہ میں کامل احتیاط برتتا ہے
06:29اور معاملات میں مراعات سے کام لیتا ہے
06:32مگر خلق پھر بھی اس پر ملامت کرتی ہے
06:35کیونکہ لوگوں کی یہ عام عادت ہے
06:37مگر وہ شخص کسی کی پرواہ نہیں کرتا
06:40دوسرے یہ
06:41کہ کوئی شخص لوگوں میں صاحب عزت و شرف ہونے کے ساتھ ساتھ
06:45ان میں مشہور بھی ہو
06:46اور اس کا دل عزت کی طرف مائل بھی ہو
06:49اس کے باوجود وہ چاہے
06:51کہ ان سے جدا ہو کر
06:53یادِ الہی میں مہو ہو جائے
06:55اور قصدن ایسی راہ اختیار کرے
06:58جس سے مخلوق اس پر ملامت کرے
07:00اور ایسے عمل سے شریعت میں بھی خلل واقع نہ ہو
07:03مگر لوگ اس سے نفرت کرنے لگیں
07:06اور اس سے متنفر ہو کر جدا ہو جائیں
07:09تیسری قسم یہ ہے
07:11کہ دل میں تو کفر و زلالت سے
07:13طبعی نفرت بھری ہو
07:15بظاہر شریعت کی مطابعت نہ کرے
07:18اور خیال کرے
07:19کہ ملامتی طریقہ پر ایسا کر رہا ہوں
07:22اور یہ ملامت کا طریقہ اس کی عادت بن جائے
07:25اس کے باوجود وہ دین میں مضبوط اور راست رو ہو
07:29لیکن ظاہر طور پر
07:31بغرز ملامت
07:32نفاق و ریا کے طور طریق پر
07:34دین کی خلاف ورزی کرے
07:36اور مخلوق کی ملامت سے بے خوف ہو
07:38وہ ہر حال میں
07:40اپنے کام سے کام رکھے
07:42خواہ لوگ اسے جس نام سے چاہیں پکاریں
07:44موسیقی

Recommended