00:00السلام علیکم ڈراما سری شراکت کی اپیسوڈ 55 میں آپ نے دیکھا کہ ماہم کو نوکرانی بتا دی ہے کہ شفق اپنے کمرے میں نہیں ہے
00:07ماہم اب اس نے پوچھتی ہے کہ کہاں پر ہے شفق جس پر اب وہ نوکرانی بتاتی ہے کہ انہوں نے جاتے وقت چوکیدار کو ایک خط دیا تھا
00:14وہی خط میں نے بیگم صاحبہ کو دیا تھا وہی پڑھنے کے بعد ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو چکی ہے
00:20اب جس کی وجہ سے ماہم وہ دھیران ہے کہ آخر اس خط میں کیا تھا
00:25کیونکہ ماہم کے تو پیٹ میں دل شروع ہو جاتا جب تک کسی بات کا پتہ نہ چلا لیں
00:29اب فوراں سے اپنی ساس کے کمرے میں آتی ہے خط جو کہ ابھی بیٹ پر ہی پڑا ہوتا ہے
00:34اب اٹھاتی ہے اور پڑتی ہے تو پڑھ کر خوشی سے جھومنے لگتی ہے کہ آخر کار شفق نے اس کا کام آسان تو کر دیا
00:41کہتی ہے کہ شکر ہے شفق تم چلی گئی میرے راستے سے ہٹ گی اب زارون صرف اور صرف میرا ہے
00:48بہت اچھا ہوا کہ تم نے خود ہی راستہ صاف کر دیا
00:51اب فوراں سے خوش ہوتی ہے اور کہتی ہے ابھی راشد کو بھی خوش خبری سناتی ہوں
00:56خات وہی پر چھوڑ کر جلی جاتی ہے اور راشد کو بھی خوش خبری سناتی ہے
01:00راشد جو کہ خود ابھی خوش خبری سننے کے لیے بیتاب بیٹھا ہے
01:04اتنی کوششوں کے بعد خوش خبری حاصل کرنا چاہتا تھا
01:07ماہم جو کہ ابھی تک پریشان ہے اور اپنے بیٹے کو یاد کرتی ہے
01:11زین جو کہ ماہم سے چپ نہیں ہو رانوکرینی کو کہتی ہے اس کو فیڈر بنا کر دو
01:16اہم کہتی ہے کہ شفق سے اتنی محبت ہے میری ساس کو تو اس کے پاس کیوں نہیں چلی جاتی
01:21اللہ گرے واپس ہی نہ آئے
01:22اب جیسے ہی زارون کی حال آتی ہے تو ایک دم سے فون اٹھاتی ہے
01:26اور پوچھتی ہے کہ امی جان کی طبیعت کیسی ہے
01:29جس پر اب وہ زارون بتاتا ہے کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے
01:33وہ آئی سی یو میں ہیں
01:35اہم کو تو دنیا کا کوئی بھی بندہ اچھا نہیں لگتا
01:38ہر کسی کو اپنے مطلب کے لیے ہی استعمال کرتی ہے
01:41اور یہی دعا کرتی ہے کہ اللہ کرے میری ساس واپس گھر نہ آئے
01:44اور اس گھر پر میری ہی حکمرانی ہو
01:46زارون کی کال آنے پر ایک دم سے اس طرح ایکسپریشن دیتی ہے
01:50کہ جیسے اس سے بہت ہی زیادہ دکھ ہوا ہے
01:53زارون اب فون پر بتاتا ہے کہ امی جان ابھی آئی سی یو میں ہیں
01:57ابھی ان کے ٹیسٹ ہونے باقی ہیں
01:58تم پریشان مت ہونا
02:00اب ایک دم سے زارون کی بات سن کر ماہم کہتی ہے
02:03کہ تمہارے کہنے کی ضرورت نہیں ہے
02:05میں ابھی دعائیں کر کے آئی ہوں
02:07اور ابھی حاجت کے دو نفل امی جان کیلئے پڑھ کے آئی ہوں
02:10دیکھ لینا وہ ٹھیک ہو جائیں گی
02:12زارون کہتا ہے کہ بس زین کا خیال رکھنا
02:14زین تنگ تو نہیں کرتا جس پر وہ کہتی ہے
02:17کہ نہیں میں اس کا بہت خیال رکھتی ہوں
02:19اب دل میں دعا کر رہی ہے
02:20کہ اللہ کرے یہ بڑیہ اوپر ہی پہنچ جائے
02:22اور دوبارہ اس گھر میں واپس نہ آئے
02:25زارون اب یہ کہہ کے فون بند کر دیتا ہے
02:27کہ زین کا خیال رکھنا
02:29ہم کہتی ہے کہ تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں
02:31زین میرا بھی بیٹا ہے
02:33اب وہ جان بوجھ کر دکھاوا کرتی ہے
02:35محبت کا کیونکہ محبت تو
02:37اسے زین سے بھی نہیں ہے
02:39یہ صرف زارون کو ہی حاصل کرنا چاہتی ہے
02:42زارون نے ابھی تک
02:43زارا کو بھی نہیں بتایا شفق کے بارے میں
02:45زارا جو خود حیران ہے کہ آخر
02:47شفق کیوں نے ہی ملنے آئی
02:49اب فون بند ہونے کے بعد جھولی اٹھا کر دعا کرتی ہے
02:52کہ اللہ کرے یہ بڑیہ اللہ کو ہی پیاری ہو جائے
02:54اور اس گھر میں واپس نہ آئے
02:56اس گھر میں صرف و صرف میری حکمرانی ہو
02:59اور زارون صرف و صرف میرا ہی ہے
03:01کیونکہ اس بڑیہ نے شفق کی شادی جان بوجھ کے کروائی تھی
03:05اور خوشی سے جھومنے لگتی ہے
03:07جیسے ہی اسے پتا چلتا ہے
03:08کہ اس کی ماں کی حالت بہت خراب ہے
03:10اب فوراں سے چلی جاتی ہے
03:12کیونکہ زین کو بھی تو دیکھنا ہے نا
03:15زین کا خیال نہیں رکھیں گی
03:17تو زارون کے دل میں جگہ کیسے بنائے گی
03:19زارون تو یہی سمجھتا ہے
03:21کہ ماں ہم زین سے بہت پیار کرتی ہے
03:23علانکہ یہ سارا کچھ ناٹک اور دکھاوا ہے
03:26جو کہ سب کی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے
03:29یہ شروع سے کرتی آ رہی ہے
03:31زین سے بھی محبت نہیں کرتی
03:33اب کمرے میں آتی ہے
03:34اور زین کو ایک دعائی پلاتی ہے
03:36جس سے زین سو جاتا ہے
03:37کہتی ہے اب مجھے میرے مسئلے کا حل مل چکا ہے
03:40اب تم بھی سکون سے رہو
03:42اور مجھے بھی سکون سے رہنے دو
03:44آخر کار اب یہ الٹے کاموں میں پڑ چکی ہے
03:47اور زین کو اس طریقے کی رنگ برنگی دوائیاں دینے لگی ہے
03:50جس سے زین اب سوتا ہی رہتا ہے
03:51کیونکہ ماں ہم سے جب بھی کوئی پوچھے
03:53کہ زین کہاں ہے
03:54تو وہ تو یہی کہتی ہے
03:55کہ اپنے کمرے میں سویا ہے
03:56اور ساتھ ہی ساتھ اپنے ساتھ باتیں کرتی ہے
03:59اسے کہتی ہے کہ میرا بس چلتا
04:00تو تمہیں تمہاری اس منحوس ماں کے ساتھ ہی بیج دیتی
04:03لیکن کیا کروں
04:04زارون کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتی
04:07تو میرے اور زارون کے درمیان ایک ایسی کڑی ہو
04:10جسے میں چاک کر بھی دور نہیں کر سکتی
04:12لیکن کیا کروں
04:13اسی لئے کچھ نہ کچھ تو برداشت کرنا پڑے گا
04:17آخر شفق کا بیٹا میں اس کو اپنے پاس کیسے رکھ سکتی ہوں
04:20اور دوائی فوراں سے رکھ دیتی ہے
04:22اب اسے یہ طریقہ آ چکا ہے
04:23جب زین زیادہ تنگ کرتا ہے
04:25تو فوراں سے دوائی اسے پلا دیتی ہے
04:27جس کی وجہ سے زین اب سو جاتا ہے
04:29اب ایک دم سے زارون کی جیسے ہی کال آتی ہے
04:31تو پہلے ہی دعا کر رہی ہوتی ہے
04:33کہ اللہ کرے مر گئی ہو
04:34اب جیسے ہی زارون فون کرتا ہے
04:36تو اسے کہتا ہے کہ تم فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھی
04:39زین ٹھیک ہے جس پر وہ کہتی ہے
04:40سارے سوالات ایک ہی مرتبہ پوچھ لو
04:42کہ ہاں زین ٹھیک ہے
04:44امی جان کی بتاؤ امی جان کی طبیعت کیسی ہے
04:46جیسے ہی زارون بتاتا ہے
04:48کہ امی جان اب خطرے سے باہر ہیں
04:49ان کو فالج ہوا ہے
04:51ان کا لیفٹ سائیڈ پیرلائز ہوا ہے
04:53تو جس پر رونے کا ناٹک کرتی ہے
04:55اور کہتی ہے تم پریشان مت ہو
04:57زارون سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا
04:59زارون کہتا ہے کہ زین کہاں ہے
05:01بتاتی ہے کہ زین سو رہا ہے
05:03زارون کو ابھی کیا پتا
05:04کہ ابھی ماہم اسے دوائی پلا کر سلائی ہے
05:08اب آخر کار اس ماہم کی سچائی
05:10تو جلدی سامنے آئے گی
05:11کیونکہ اس کی حرکتیں جو
05:13سب کے سامنے آنی ہی چاہیے
05:15اور زین کو جو یہ دوائیں پلانے لگی ہے
05:17اس کی حقیقت بھی سامنے آئے گی
05:19کیونکہ مجھے تو اپنی ساس کی شکل سے بھی نفرت ہے
05:21اتنی سخت جان لے کر یہ آئی ہے بڑیا
05:24تو مڑنے کا نام ہی نہیں لی رہتی
05:26مڑتے مڑتے پھر واپس آ جاتی ہے
05:28اور ساتھ یہ مسئبت پی ماہ تو چلی
05:31یہ مسئبت میرے سر پر چھوڑ گئی ہے
05:33لیکن اب مجھے اس مسئلے کا حل مل چکا ہے
05:36دوائیاں لیتے رہو
05:37خود بھی سکون کرو
05:38اور مجھے بھی سکون سے رہنے دو
05:40زارون جو سب کو تو برداشت کر سکتا ہے
05:42لیکن اپنے بیٹے کے ساتھ
05:44اس طریقے کی حرکت وہ کبھی بھی برداشت نہیں کر سکتا
05:47آہرکار زیادہ دوس کی وجہ سے
05:49زین کی طبیعت تو خراب ہو ہی جائے گی
05:51لیکن جب ٹیش کروائیں گے
05:53تو اس ماہم کی حقیقت سامنے آئے گی
05:55تو کیا زارون اس کی باتوں پر
05:57پھر سے یقین کرے گا یا نہیں
05:58یہ تو آنے والی اپیسوڈ میں ہی آپ کے ساتھ شیئر کریں گے
06:02دوسری طرف
06:03شفق جو کہ پریشان ہوتی ہے
06:05اپنے بیٹا اسے یاد آتا ہے
06:06کہتی ہے کہ اگر فپو کی وجہ سے
06:08صرف اپنا بیٹا چھوڑ کر آئیں ہو
06:10زین تم یہ مت سمجھنا کہ میں تم سے محبت نہیں کرتی
06:13اگر ہم دونوں چلے آتے
06:15تو فپو ہماری جدائی برداشت نہ کر سکتی
06:17اگر چاہ وہ تمہیں دیکھتی رہیں گی
06:19تو وہ مجھے زیادہ یاد نہیں کریں گی
06:21اب شفق تو یہ سوچ رہی ہے
06:23کہ زارون نے ان کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے
06:26آخر کا رب شفق کو بھی یقین آگیا
06:28کہ یہ سب کچھ پری پلین تھا
06:30اور یہ سب کچھ لگتا ہے ماں ہم نے کیا ہے
06:32میرے جانے سے اسی ہی فائدہ ہونا ہے
06:35عام جو کہ زین کے پاس لیٹی ہوتی ہے
06:37اور ساتھ ہی ساتھ باتیں بھی کر رہی ہوتی ہے
06:39یہ باتیں زارون نہیں سنتا
06:41باقی باتیں زارون ساری سن لیتا ہے
06:43اب ایک دام سے زارون آتا ہے
06:45تو فوروں سے اٹھ کھڑی ہوتی ہے
06:46اور کہتی ہے آرام سے میں نے اسے بڑی مشکل سے سلایا ہے
06:49امی جان کا بتاؤ
06:50امی جان کی طبیعت کیسی ہے
06:52جس پر وہ بتاتا ہے کہ امی جان بس ٹھیک ہے
06:54تھوڑے دنوں تک گھر واپس آ جائیں گی
06:56اور ساتھ ہی ساتھ اسے کھانے کا بھی پوچھتی ہے
06:59ویسے تو اس نے کبھی اسے کھانے کا نہیں پوچھا
07:01کہتی ہے کہ میں نے بھی ابھی تک کھانا نہیں کھایا
07:03اب وہ خوش ہے کہ آخر کار زارون اسے کا ہو گیا
07:07کیونکہ شفق بھی چلی گئی
07:08اور ساتھ ہی ساتھ اسے اس بات کی بھی پریشانی ہے
07:11کہ زارون اور شفق کی طلاق نہیں ہوئی
07:13اگر طلاق ہو جاتی تو
07:15راستے کا کانٹا میشہ کیلئے ہٹ جاتا
07:17اگر زین زیادہ تنگ کرے گا
07:19تو کہیں شفق کو واپس نہ لے آئے
07:21تو کیا آنے والا آنے والی اپیسوٹ میں
07:22بہت زبدیس مزدار ہونے والی
07:24تو چینل کو سبسکرائب کرنا
07:26ویڈیو اچھی لگی لائک کرنا
07:27اللہ حافظ
Comments