00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:02السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:04بغداد کا تاجر اور بچوں کی عدالت
00:07آپ نے پچھلی ویڈیو میں دیکھا
00:08کہ بچوں نے
00:09اپنے گھر میں قاضی کے کردار
00:12ادا کیا
00:13اور کچھ بچوں نے
00:16علی بھبا اور قاضی شکیل کا بھی
00:18رول ادا کیا
00:19اور آج کی ویڈیو میں ہم یہ بات کریں گے
00:21کہ بچے جب خلیفہ حرور نشید
00:24کی دربار میں پہنچتے ہیں تو کیا ہوتا ہے
00:26بچے نے شاندر خوب سے
00:28لباس پہنا اور وزیر کے سامنے خلیفہ
00:30کے پاس چڑا گیا
00:30جب بچہ خلیفہ کے سامنے کھڑا ہوا تو اس پر شدید
00:34خوف تاری تھا
00:34خلیفہ نے اسے دیکھا تو مسکرائیا اور اسے اتمنان دلائیا
00:38یوں بچے کا خوف و حراس جاتا رہا
00:40پھر خلیفہ نے اسے کہا پیارے بیٹے
00:41میری قریب آؤ اور ڈرؤ نہیں
00:43بچہ قریب ہو اور کہنے گا میر امین
00:46آپ کا حکم سر آگوں پر
00:48خلیفہ نے کہا
00:49بیٹا کر را جو تم نے بچوں کے دمائن فیصلہ
00:52کیا تھا مجھے بہت ہی بسند ہے
00:53جو تم نے علی بابا اور اس کے ساتھی
00:55تادر شکیل کے جس نے اس کے ساتھ
00:57دینار چڑا لیے تھے اس کی داستان
00:59کو آپ نے لوگوں کے ساتھ بڑے ہی
01:01ڈرامائی انداز میں پیش کیا
01:03حقیقت کو سامنے لانے میں آپ نے کمال
01:05کر دیا
01:06بیٹا کیا تم نے ہی قاضی کا کردار
01:09ادا کیا تھا
01:11بچے نے بڑے ہی عدب اترام کے ساتھ کہا
01:13خلیفہ نے اسے کہا
01:15مجھے تیری ذہانت دے کر بہت خوشی ہوئی ہے
01:17میں چاہتا ہوں کہ اس کیس کا فیصلہ میری
01:19موجودگی میں تم بالکل اسی طرح سے کرو گے
01:22جس طرح سے آپ نے کل کیا تھا
01:24کل تم نے ڈراما کیا تھا
01:25اور آج تم اصلی فیصلہ سناو گے
01:27کل تو بچوں نے علی بابا اور تادر
01:29کا کردار کیا تھا اور آج اصلی علی بابا
01:31اور تادر شکیل ہماری عدالت میں حاضر ہوں گے
01:34میرے بیٹے آؤ
01:35کل نگلی کرداروں نے ڈراما رچانے کا
01:37کھیل کھیلا تھا جبکہ آج
01:39میرے پاس بیٹھو اور اپنی دانشمندی کا
01:41وظاہرہ کرتے ہوئے فیصلہ سناو
01:43بادشاہ کا دربان سچ گیا
01:46ہر طرف دربان کھڑے تھے
01:48فوجی بیچاہ کچھوک توبند تلوال
01:50لیے کھڑے تھے بادشاہ کے حکم سے
01:52بچوں کا قاضی خلیفہ کے پہلوں میں
01:54بیٹھ گیا پھر خلیفہ حارون
01:56نے اس قاضی کو بھی بلا لیا جس نے
01:58تاجہ شکیل کو بری کیا تھا
02:00اس طرح علی بابا اور تاجہ شکیل کو بھی
02:02بلا لیا گیا اور ساتھ زیتون کے
02:04دو تاجے بھی آگئے جب وہ
02:05سب حاضر ہو گئے تو خلیفہ حارون نے ان کی دب دیکھا
02:08اور کہا تم میں سے ہر شد اپنی
02:10شکایت اس بچے کے سامنے پیش کرے
02:11یہ بچہ تمہارے
02:13درمیان تمہاری شکایت کا ازالہ کرے گا
02:16تمہارے جھگرے نپٹائے گا
02:18تمہارے دمیان فیصلہ کرے گا
02:20اگر یہ فیصلہ کرنے میں بے بس دکھائے دیا
02:22تو پھر میں تمہارے دمیان فیصلہ کروں گا
02:24علی بابا نے اپنی شکایت پیش کی
02:26تو تاجہ شکیل نے اپنا دفاع کیا
02:28جب تاجہ شکیل نے اپنی
02:30بے گناہی کو ثابت کرنے کے لئے قسم کھانے
02:32کے ارادہ ظاہر کیا تو بچے نے تاجہ شکیل سے
02:34کہا ہمیں آپ سے قسم نینے کی
02:36ضرورت نہیں ہے پھر بچے نے
02:38کہا زیتون کا مٹکہ کہا ہے میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں
02:40علی نے زیتون کا مٹکہ
02:42پیش کر دیا بچے نے
02:44تاجہ شکیل کی دفع دیکھا اور اسے پوچھا کہ
02:46زیتون کا مٹکہ یہی ہے جسے علی بابا
02:48نے سفر پر جانے سے پہلے تیرے پاس
02:50بطور امانت رکھا تھا
02:51تاجہ شکیل نے کہا ہاں یہ وہی ہے
02:53بچے نے اس کا موں کھولنے کا حکم دیا
02:56پھر خلیفہ حارون رشیل نے اس میں پڑھا ہوا
02:58زیتون دیکھا تھوڑا سا
03:00زیتون لے کر کھایا وہ جان گیا کہ
03:02یہ زیتون تھوڑا سا پہلے ہی عرصہ
03:04اس مٹکے میں ڈالا گیا ہے
03:05بچے نے زیتون کے دو تاجوں کو آواز دی
03:08تاکہ وہ مٹکے میں پڑھے ہوئے زیتون کا
03:09اچھی طرح سے جائزہ لے
03:11ان دونوں نے جان پر تال اور معنیہ کرنے کے بعد
03:14کہا کہ یہ زیتون اس مٹکے میں
03:15اسی سال کسی وقت میں ڈالا گیا ہے
03:17بچے نے زیتون کے دونوں تاجوں سے
03:20کہا اپنی بات کو ثابت کرنا تمہارا
03:22فرض ہے دونوں تاجوں نے کہا
03:23ہمیں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں
03:25بچے نے دونوں سے کہا
03:27علی بابا کہتا ہے کہ اس نے اس مٹکے میں
03:29سات سال پہلے زیتون رکھا تھا
03:31تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو
03:32کہ یہ زیتون اسی سال اس مٹکے میں رکھا گیا تھا
03:35دونوں تاجوں نے کہا
03:38پرانا زیتون نکال کر
03:40نئے زیتون ڈالا گیا ہے
03:41جب تاجے شکی نے یہ بات سنی
03:43تو وہ جان گیا کہ تحمد اس پر
03:45واضح ہو چکی ہے
03:46اس کی خیانے سے پردہ ہٹ گیا ہے
03:48اس نے خلیفہ حارون کے سامنے
03:50ہاتھ جوٹتے ہوئے اپنے جرم کی معافی مانگی
03:52بچے نے گزستہ رات کی طرح فیصلہ نہیں سنائے
03:55بلکہ خاموش رہا
03:56خلیفہ حارون سے عرض کی
03:58کہ گزستہ رات تو میں
04:00اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہنسی مزاک کر رہا تھا
04:02میں نے سزا دینے کا حکم
04:04صادر کر دیا تھا
04:05مگر اس کی کوئی حیثیت نہیں تھی
04:06لیکن آج معاملہ سنگین ہے
04:08کوئی مزاک نہیں
04:09مجھے کسی کے بارے میں
04:11موت و حیات کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں
04:13امیر امیرین یہ کام آپ کا ہے
04:15آپ جس طرح سے مناسب سمجھتی ہیں
04:17فیصلہ صادر فرما دیں
04:19چاہے تو تختہ دال پر لٹکا دیں
04:21اور چاہے تو اس کا جرم ماف کر دیں
04:23خلیفہ حارون نے اس جرم کی
04:25ضرارت کو دیکھا جس کا تاجے نے
04:27اعتقاب کیا تھا
04:28اس کی بدنیتی اور کمین کی ظاہر ہو چکے تھی
04:31خلیفہ نے اسے پوچھا
04:33تم نے علی بابا کے دینار کہاں چھپا رکھیں
04:35تاجے نے وہ جگہ بتا دی جہاں اس نے
04:37دینار چھپائے تھے
04:38خلیفہ نے اپنے ایک کارندے کو وہاں سے دینار
04:41اٹھا لانے کا حکم دیا
04:42خلیفہ نے بھر آمد شدہ وہ دینار
04:45علی بابا کے سپورٹ کر دیئے
04:47وہ یہ حاصل کر کے بڑا خوش ہوا
04:48خلیفہ نے تاجے شکیل کو اس کے جرم
04:51کی سزا میں پھانسے دینے کا حکم سادر کر دیا
04:53تاجے کو اپنی خیانت پر
04:55اس وقت ندامت ہوئی مگر اس وقت ندامت
04:57کا اس کو کوئی فیدہ نہیں ہوا
04:58اس کو اپنی بیوی کی نصیت یاد آئی
05:01وہ اللہ کی نرازگی اور لوگوں میں
05:03رسوائی کو یاد کر کے بہت رویا
05:04بار بار معافی طلب کی لیکن خلیفہ
05:07حارون نے اسے معاف نہیں کیا
05:08جب تاجے شکیل کو
05:11خلیفہ کے حکم کے مطابق پھانسی دے گی
05:13تو یوں اس سے اپنے جھوٹ اور خیانت کی
05:14سزا زلت آمیس موت کی صورت میں
05:17مل گئی اور لوگوں کو پتہ
05:19چل گیا کہ اگر ان میں سے کسی نے دوسرے
05:21کے ساتھ خیانت دھوکہ دی یا بد دیانتی کی
05:23تو اس کا بھی یہی انجام ہوگا
05:24اس کی داستان اس وقت کے لیے
05:27اور رہتی دنیا کے لیے عبرت کا نشان بن گی
05:29خلیفہ حارون نے اس معاملے
05:31کے فیصلے کے دور بچے کی زیانت دے کر
05:33اس کی تعریف کی وہ اس کی دور
05:35اندیشی اور فیصلہ سناتے وقت
05:36خود اعتمادی دے کر بڑا خوش ہوا
05:38خلیفہ نے ایک سو دینار کی تھیلی
05:40اس بچے کو بطور انام دی
05:42بچے نے خلیفہ سے یہ تھیلی
05:44بڑی خوشی سے حاصل کی اور اس انام پر
05:46خلیفہ کا شکریہ دا کیا اسے دعا دی
05:48اور پھر اپنے گھر خوشی خوشی
05:50وابس آیا تاکہ اپنے گھر والوں
05:52اور ساتھیوں کو یہ خوشکبری سنا سکے
05:53جب بچہ روانہ ہوا تو خلیفہ نے
05:56اس قاضی کی طرف دیکھا جس نے تازر شکیل
05:58کو بری کر دیا تھا
05:59خلیفہ نے قاضی سے کہا آپ نے دیکھا
06:02کہ اس بچے نے کس انداز میں اپنی زیانت
06:04اور فتانت کو بروے کار لاتے ہوئے
06:06تادر کی خیانت کو
06:07تشتِ ازبام کیا جس کو
06:09تم نے بری کر دیا تھا
06:11قاضی نے خلیفہ کی خدمت میں معذرت پیش کی
06:13اور بل مرا یہ اعتراف کیا کہ واقعی بچے
06:15نے کمال انداز میں اپنی زیانت کا
06:17مزائرہ کیا ہے
06:18علی بابا اور تازر شکیل کی کہانی بغداد میں
06:21اور قریب قریب دوسرے شہروں میں
06:23جنگل کی آگ کی طرح مشہور ہوگی
06:25مطمئن سامین آج کی کہانی ہم یہی پر
06:29مکمل کرتے ہیں ملتے ہیں کسی اور ویڈیو
06:31اور کسی اور سیریز کے ساتھ
06:32اپنا بہت سے خیار رکھے گا
06:33اللہ نگے با