00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:05مطمسامین بغداد کا تاجر اور بچوں کی عدالت کی ایک اور اپیسوڈ میں آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں
00:13اور آج کی ویڈیو میں ہمارا ٹوپک ہے عدالت کے روح بدو
00:15علی نے اپنے دوست تاجر شگیل کو سمجھانے کی بہت کوشش کی تاکہ وہ حقیقت کا اعتراف کر لے
00:21اس نے سلح اور آشتی کا ہر حربہ ازمایا بڑے ہی عدب و اعترام اور نرم لہجے سے گفتگو کی
00:27لیکن اسے کوئی کامیابی نہ ملی
00:29تاجر اسے جھوٹا قرار دینے پر مصر رہا
00:32علی بابا نے جب یہ دیکھا کہ یہ سرکشی پر اترا ہوا ہے
00:35سلح اور آجنی اور اتفاق و اتحاد کی طرف مائل ہی نہیں ہوتا
00:39حالانکہ اس کی خیانت اور سرکشی ظاہر بھی ہو چکی ہے
00:43تو علی نے اس کو نصیحت کرتے ہوئے کہا
00:45میرے دوست میں سلح اور آجنی اور اتفاق کو پسند کرتا ہوں
00:48میں کوئی سخت روائیہ نہیں اپنانا چاہتا
00:51مجھے آپ کی شہرت داغدار ہونے کا اندیشہ ہے
00:54لیکن جب میں دیکھتا ہوں کہ آپ اپنی جد اور ہٹ درمی پر ڈٹے ہوئے ہیں
00:58تو مجھے بڑا غصہ آتا ہے
00:59میرا غصہ کہیں تمہاری بدنامی کا باعث نہ بن جائے
01:03تم رسوائی اور عذاب کو آواز نہ دو
01:05اس بات کو اچھی طرح ذرنشین کرلیں
01:07کہ آپ بڑے مشہور تاجر ہیں
01:09تمہاری امانت دیانت اور استقامت کا دور دور تک شہرہ ہے
01:12اپنی اس شہرت کی حفاظت کریں
01:15اس پر کوئی آنچ نہ آنے دیں
01:17تمہاری کامیابی کے بنیاد ہی تو یہی ہے
01:19اگر لوگوں میں تمہاری خیانت مشہور ہوگی
01:22تو لوگ تیرے ساتھ کاروباری لیندین کرنے سے گریز کریں گے
01:26لوگوں کے دلوں میں تیرے خلاف نفرت بڑھ جائے گی
01:28تیری تجارت کو نقصان پہنچے گا
01:31میں یہ نہیں چاہتا کہ تجھے یہ برا انجام دیکھنا پڑے
01:33لیکن اگر میں تمہارے اس رویے سے معیوس ہو گیا
01:37تو مجھے اپنا حق وصول کرنے کے لئے
01:39مجبوراً عدالت کا دروتہ کھٹکانا پڑے گا
01:41تم جانتی ہو کہ میں تمہارا دوست ہوں
01:44میں نے تم پر اعتماد کیا
01:45برائے مہربانی آپ میرے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائیں
01:48میرے دوست دیکھو اور سمجھنے کی کوشش کرو
01:52میں تو اس بات کو ترجیح دیتا ہوں
01:54کہ آپ سے صرف اپنا حق وصول کروں
01:56میں نہیں چاہتا کہ قاضی کے پاس شکرات لے کر جاؤں
01:59اور لوگوں میں تیری رسوائی کا سبب بنوں
02:01تاج شکیل نے علی بابا کی نصیت قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا
02:06بلکل اس طرح کہ جس طرح اس نے اپنی بیوی کی نصیت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا
02:10وہ اپنی اعناد اور خیانت پر ڈٹا رہا
02:14اس نے اپنی دوست علی سے کہا دیکھو علی
02:16تم نے خود اپنے ہاتھ سے زیتون کا مٹکہ میرے گودام میں رکھا
02:21تم نے خود اسے اپنے ہاتھ سے پکڑا
02:23اور میرے گودام سے کہیں دور اٹھا کر لے گئے
02:25بتاؤ اس کے بعد اب تجھے کیا حق پہنچتا ہے کہ مجھ سے ایک ہزار دینار کا مطالبہ کرو
02:30جب تم نے مٹکہ میرے گودام میں رکھا
02:33اس وقت مجھے یہ بتایا کہ کیا اس میں ایک ہزار دینار ہیں میرے دوست
02:38اب آخر تم مجھ سے کیا چاہتے ہو
02:40مجھے نہیں بتا کہ اس مٹکے میں کیا تھا
02:43میں نے اسے کبھی نہیں کھولا
02:44بلکہ مجھے یہ بھی نہیں بتا کہ اس میں زیتون ہے
02:47یا زیتون کے راوہ کوئی اور چیز ہے
02:49میں نے کبھی اس مٹکے میں جھانک کر بھی نہیں دیکھا
02:52کہ اس میں کیا ہے
02:52میں نے نہ تیرے سفر پر جانے سے پہلے اسے کھولا
02:56اور نہ ہی بات میں
02:56آخر مجھے کیسے علم ہو سکتا تھا کہ اس میں دینار ہیں
02:59مجھے نہیں بتا کہ تم سچے ہو یا جھوٹے
03:01اللہ کی قسم جب تم ایک ہزار دینار کا دعویٰ کرتے ہو
03:04تو مجھے آپ پر بڑا تاجب ہوتا ہے
03:06آپ نے یہ دعویٰ کیوں نہیں کر دیا
03:09کہ یہ مٹکہ موتیوں اور جواہرات سے بڑا ہوا تھا
03:12جھوٹ اگر بول نہیں ہے
03:13اور لوگوں پر اگر جھوٹا الزام لگا نہیں ہے
03:16تو ترہا کھل کر لگاؤ
03:17جو چاہو سزا دے دو
03:18اور بھی کھل کر کھیلو لیکن مجھ سے قسم لے لو
03:21میں اپنی بات میں سچا ہوں
03:23میں نے تیرے مٹکے کا مو نہیں کھولا
03:25میں جو کہتا ہوں سے سچ مانو
03:27یا جھوٹ تم ازاد ہو
03:28آپ کو اختیار ہے
03:29اب میرا آپ سے مطالبہ یہ ہے
03:32کہ تم اپنی رالو
03:33تم نے مجھے بہت تن کیا
03:34کہ انہوں نے لوگوں کا مجمع میری دکان کے سامنے لگا دیا
03:37یہاں سے چلو
03:39دیکھ لیا تمہاری دوستی کو
03:40کہاں سے آ جاتے ہو
03:41مجھے ستانے کے لئے
03:43علی بابا اور تاجہ دونوں
03:45اونچی آواز سے باتیں کر رہے تھے
03:47ان دونوں کے درمیان
03:48جھگڑا شدت اختیار کر گیا
03:49گزرنے والے کچھ لوگ دکان کے سامنے جمع ہو گئے
03:53تاجہ شکیل کے پڑوسی تیزی سے
03:55ان کی دکان کی طرف آیا
03:56اور باہمی جھگڑے کا سبب پوچھا
03:58ان کی دلی چاہت یہ تھی
04:00کہ دونوں کے دمیان صلح کر آ دی جائے
04:02علی بابا نے انہیں اپنی تمام کہانی سنائی
04:06جب انہوں نے ساری داستان سننی
04:10تو پھر وہ تاجہ شکیل کی طرف متوجہ ہوئے
04:13اس سے معاملے کی حقیقت دریافت کرنے لگے
04:14اس نے پڑوسیوں کو بتایا
04:16علی بابا یہ تو ٹھیک کہتا ہے
04:18کہ میں نے اس کا مٹکہ اپنے گودام میں رکھا
04:20قبول کر لیا
04:21لیکن اس کے لئے وہ یہ جو بھی کہتا ہے
04:23وہ سب جھوٹ کا پلندہ ہے
04:24پھر اس نے ان کے سامنے
04:26اللہ کی قسم اٹھا دی
04:27کہ اسے بالکل اس بات کا علم نہ تھا
04:29کہ مٹکے میں کیا ہے
04:30علی بابا کے بتانے پر
04:32مجھے پتا چلا کہ اس میں زیتون ہے
04:33میرے ساتھیوں
04:34تم گواہ رہنا
04:36آج علی بابا نے جو میرے ساتھ
04:37سلوک کیا ہے
04:38وقت آنے پر تمہیں اس کی گواہی دینا ہوگی
04:40پڑوسی نے کہا
04:41ہاں ہاں آپ فکر نہ کریں
04:42ہم آپ کے ساتھ ہیں
04:43یہ سرسل زیادتی ہے
04:45جو علی بابا نے تم پر کی ہے
04:46یہ ڈرامہ دیکھ کر
04:48علی بابا کو اور جیدہ غصہ آیا
04:49اس نے تاج شکیل سے کہا
04:51تم اپنی حقیقی توہین
04:53اس وقت دیکھ لو
04:53کہ جب میں قاضی کی عدالت میں
04:55تیری شکایت کروں گا
04:56پھر تیری آنکھیں کھلیں گی
04:58وہاں تجھے یہ انکار
04:59کچھ فائدہ نہیں دے گا
05:00تجھے اپنے کیے پر ندامت ہوگی
05:02لیکن اس وقت
05:03ندامہ تجھے کوئی فائدہ نہیں دے گی
05:05چلو میرے ساتھ
05:08قاضی کی عدالت میں
05:09تاکہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے
05:10تاکہ قاضی برے کو
05:12اس کی برائی کی سزا دے
05:13اور حق دار کو
05:14اس کا حق سنبے
05:14علی بابا اور تاج شکیل
05:17عدالت کی طرف روانہ ہوئے
05:19وہاں پوچھ کر
05:19دونوں قاضی کے سامنے
05:20عدالت کے کٹھڑے میں کھڑے ہو گئے
05:22علی بابا اور قاضی کے درمیان
05:24یوں بات چیت ہونے لگی
05:25علی بابا
05:27جناب اس تاجر نے
05:29میرے ایک ہزار دینار چوری کیے ہیں
05:30قاضی
05:32اس نے تیرے پاس سے
05:33دینار کس طرح سے چوری کیے ہیں
05:34کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے
05:36علی بابا نہیں
05:37میرے پاس کوئی گواہ تو نہیں
05:40میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا
05:42کہ میرے ساتھ یہ خیانت کا ارتکاب کرے گا
05:44میں اس کو نہائی شریف آدمی سمجھتا تھا
05:46پھر اس کی خیانت مجھ پر ظاہر ہو گئی
05:49اس کے بارے میں میرے گمان خات میں مل گئے
05:52قاضی
05:52تاجر شکیل کی جب دیکھتے ہوئے سے دریافت کرتا ہے
05:55تم اس الزام کے بارے میں کیا کہتے ہو
05:57تاجر شکیل
05:58اپنا دفاع انہی الفاظ میں کرتے ہوئے
06:01کہ جو اس نے پڑوسیوں سے کہے تھے
06:02جنابِ علی
06:03یہ شخص اپنے دعوے میں بالکل چھوٹا ہے
06:06اس نے میرے پاس مٹکہ امانہ دن رکھا
06:08لیکن میں نے کبھی اس کو کھولا نہیں
06:10مجھے قطن کوئی پتہ نہیں
06:12کہ اس میں کیا چیز ہے
06:14البتہ اس نے مجھے یہ بتایا
06:15کہ اس میں زیتون ہے
06:16میں نے سچ مان لیا کہ اس میں زیتون ہی ہوگا
06:19تاجر شکیل اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے
06:22جناب میں اپنے بیان میں سچا ہوں
06:24اگر آپ چاہیں تو میں قسم دینے کے لئے اتیار ہوں
06:26قاضی
06:27آپ حلف اٹھا کر کہیں کہ میں اپنے بیان میں بالکل سچا ہوں
06:30تاجر شکیل
06:32قاضی کے سامنے حلف اٹھاتے ہوئے
06:34میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں
06:36کہ میں نے مٹکہ نہیں کھولا
06:37اور نہ ہی اس میں کوئی چیز دیکھی
06:38قاضی شہر نے جب تاجر شکیل کی زبان سے قسم سننی
06:44تو اسے الزام سے بڑی کر دیا
06:45اور علی بابا کی طب دیکھتے ہوئے کہا
06:47تاجر شکیل نے قسم دے دی ہے
06:49اب تیرے اس پر کوئی حق نہیں
06:51وہ اس الزام سے بڑی ہے جو تُو نے اس پر لگایا ہے
06:54تیرے پاس کوئی دلیل ہی نہیں
06:56اور نہ ہی کوئی گواہی ہے
06:57کہ جس سے یہ ثابت ہو سکے
06:58کہ تم اپنے دعوے میں سچے ہو
07:00علی بابا نے قاضی کا فیصلہ سنا
07:03تو بہت نراز ہو
07:04اور کہنے لگا جنابِ علی
07:05اس نے میرا مال چُرائے ہے
07:07یہ بڑی کیسے ہو سکتا ہے
07:08میں اپنی شکایت خلیفہ حارون رشید سے کروں گا
07:11تاکہ وہ میرا حق واپس دلائیں
07:13اور مجھے انصاف مہیا کہے
07:14قاضی بڑا بردبار سابر اور حسن والا تھا
07:18ولی بابا کی باتوں سے نراز نہیں ہوا
07:20اسے یہ علم تھا
07:22کہ جس شخص کے حق میں فیصلہ نہ ہو
07:23تو وہ یوں ہی غصے کا اظہار کیا کرتا ہے
07:25قاضی نے اسے توہینِ عدالت پر
07:28کوئی سزا تو نہ دیں
07:29البتہ اسے صرف یہی کہا تھا
07:31کہ اب آپ عدالت سے تشریف لے جا سکتے ہیں
07:33قاضی کا خیال تھا
07:35کہ اس نے اپنا فرش ادا کر دی ہے
07:37کیونکہ الزام کے ثبوت میں
07:38کوئی دلیل اس کے سامنے پیش نہ کی گئی
07:40علی بابا کے حق میں
07:42کوئی گواہی دینے والا بھی نہیں تھا
07:45تاجر شکیل عدالت سے بائزت بری ہو کر
07:47خوشی خوشی باہر آیا
07:48اسے زیادہ خوشی اس بات کی تھی
07:50کہ اس نے علی بابا کے ایک ہزار دینار بھی
07:52ہتھیالیے تھے
07:53مزید رسوائی اور سزا سے بھی بچ گئے تھا
07:55علی بابا عدالت سے غصے میں نکلا
07:58وہ مایوس نہ ہوا
07:59اس کا یہ خیال تھا
08:00کہ اگر حقدار صبر اور تحمل سے
08:02اپنی حق کے مطالبے میں ڈٹا رہے
08:05تو بالاخر اسے حق ملی جاتا ہے
08:07علی بابا نے اپنی شکایت
08:10خلیفہ حارون رشید کے دربار میں لکھ پھی دی
08:12جیسا کہ اس دور میں رواج تھا
08:14کہ جب کسی مظلوم کی عدالت میں دادرسی نہ ہوتی
08:16تو وہ اپنی شکایت خلیفہ وقت کے دربار میں کر دیا کرتا
08:19علی بابا نے اپنی درخواست میں
08:22ظلم و ستم کی وہ ساری تفصیل لکھ دی
08:24جو اس کے ساتھ تاجہ شکیل کی جانم سے پیش آئی تھی
08:26جمعہ کے دن علی بابا اس مسجد میں گیا
08:29جہاں خلیفہ حارون رشید نماز جمعہ ادا کرتا تھا
08:33نماز ختم ہوئی
08:34تو بابا جلدی جلدی اس را پر آ کر کھڑا ہو گیا
08:36جہاں سے خلیفہ نے گزرنا تھا
08:38خلیفہ کی سواری جب بابا کی قریب آئی
08:41تو اس نے اپنے ہاتھ بلند کیا
08:42حفاظی دستے کا سربراہ آگے بڑھا
08:44اس کے پاس آیا اور اس سے درخواست وصول کر لی
08:46حفاظی دستے کا سربراہ کا یہ معمول تھا
08:49کہ جب خلیفہ اپنے دربار میں پہن جاتا
08:51تو وہ تمام درخواستیں اس کی خدمت میں پیش کر دیا کرتا
08:54جو اسے راستے میں وصول ہوتی
08:56تاکہ وہ آرام سے شکایت کا
08:58ازالہ کرنے کی خاطر اپنے حکامہ جاری کر سکے
09:01علی بابا کوئی علم تھا
09:02کہ خلیفہ کا طریقہ کار یہ ہے
09:04کہ وہ پہلے اپنی تمام درخواستوں کو
09:06بڑی توجہ سے پڑھتے ہیں
09:07اور پھر ہر درخواست کو نپٹانے کے لیے
09:10وقت کا اعلان کرتے ہیں
09:11اور فریقین کو دروار میں طلب کیا جاتا ہے
09:14علی بابا ایک روز خلیفہ حالون رشید کے
09:19محل کے دروازے پر جا کر کھڑا ہو گیا
09:21حفاظی دستے کا سربراہ
09:23اس کے پاس آ کر کہیں لگا
09:24خلیفہ حضور نے کل آپ کو محل میں طلب کیا ہے
09:27تاکہ تمہارا فیصلہ سنا دے
09:29پھر اس نے تاج شکیل کا رہاشی پتہ پوچھا
09:31جو علی بابا نے اسے بتا دیا
09:33اور واپس آ گیا
09:33حفاظی دستے کے سربراہ نے تاج شکیل کو بھی
09:37اطلاع کر دی کہ وہ کل خلیفہ حالون رشید
09:39کے دربار میں پہن جائے
09:40مطمسامین
09:42اس سے آگے کیا ہوتا ہے
09:44ہم آپ کو اگلی ویڈیو میں بتائیں گے
09:46آج کی ویڈیو ہم یہی بمکمل کرتے ہیں
09:48اپنا خیال رکھے گا
09:49اللہ حافظ