00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:30عرصہ دراز سے زیتون ہمارے گھر میں ختم ہے
00:33خاون نے اپنی چہیتی بیوی سے کہا ہاں ہاں تیری بات سے مجھے یاد آیا
00:38کہ میرے دوست علی مکہ جانے سے پہلے زیتون کا ایک مٹکہ ہمارے گدام میں رکھ گئے تھا
00:43سات سال ہو گئے ہیں لیکن وہ ابھی تک واپس نہیں آیا
00:45پتہ نہیں وہ اتنی طویل مدد سے غائب کیوں ہیں
00:48ابھی تک واپس کیوں نہیں آیا بیوی نے پوچھا شکیل کہنے لگا
00:52ایک تعدیر کے جس نے اس کے ساتھ حج کیا تھا
00:55اس نے بتایا کہ بابا مرسل چلا گیا تھا
00:57اس کے بعد اس کا کوئی پتہ نہیں کہ اس کے ساتھ کیا بھی تھی
01:00اللہ نہ کرے کہ میرے خیال ہے کہ وہ مٹ چکا ہے میری پیاری بیوی
01:04وہ زیتون کا مٹکہ میں تجھے لان دیتا ہوں
01:06جو وہ ہمارے گدام میں بطور امان اٹک گئے تھا
01:09اگر زیتون ابھی تک خراب نہیں ہوا تو ہم اسے مزے لے کر کھاتے ہیں
01:13اچھا اب آپ اس طرح کریں مجھے ایک چراغ دیں
01:17اور ایک پلیٹ تاکہ میں گدام سے آپ کے لئے زیتون لے ہوں
01:20بیوی نے کہا علی بابا کا زیتون
01:22نہ بھی نہ میں یہ زیتون نہیں کھاؤں گی
01:25بلکہ میں تجھے بھی یہ کہتی ہوں کہ زیتون کو ہاتھ نہ لگ رہا
01:28جسے اس نے آپ کے پاس بطور امانت رکھا ہے
01:30آپ نے اگر اس میں سے کچھ زیتون لے لیا تو
01:34یقیناً آپ خیانت کا ارتکاب کریں گے
01:36اور مجھے یہ قطن پسند نہیں کہ آپ خیانت کا ارتکاب کریں
01:39علی اگرٹس سات سال سے غائب ہے
01:42تو اس کا ہرگز بطلب یہ نہیں بنتا کہ وہ مر گیا ہے
01:44آپ کو ایک حاجی نے بتایا تھا کہ علی مصر چلا گیا تھا
01:48علی کے مصر پہنچنے کے بعد بھی
01:50پھر کسی نے آپ کو اس کے بارے بھی کچھ نہیں بتایا
01:53کہ اس کے ساتھ کیا بھی تھی
01:54ہو سکتا ہے کہ وہ تجارت کی غر سے وہاں
01:57ایک ملک سے دوسرے ملک میں چلا گیا ہو
01:59آپ اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے
02:02اور نہ ہی کسی نے اس کی موت کے اطلاع آپ کو دی ہے
02:04میں تو یہ کہتی ہوں کہ آپ اس کے امانت کو ہرگز ہاتھ بھی نہ لگائیں
02:08بلکہ اس کے واپس آنے تک اس کی امانت کی حفاظت کریں
02:10کیا معلوم وہ کل نہ آجائیں
02:13یہ پرسوں آجائے
02:13اگر وہ آگئے اور آپ نے اس کی امانت میں خیانت کا ارتکاب کیا ہوگا
02:17تو آپ اسے کیا جواب دیں گے
02:18جب اس کو آپ کی اس غائش آہستہ حرکت کا علم ہوگا
02:23تو اس کی نظروں میں تمہاری قدلوں کی متختم ہو جائے گی
02:25اور جب لوگوں کو یہ پتا چلے گا
02:27کہ آپ نے اپنے دوست کے امانت میں خیانت کی ہے
02:30تو وہ بھی آپ کے بارے میں کیا کہیں گے
02:32اس طرح یہ کتنا مڑا دھبا اور بدنامی کا داغ ہوگا
02:36جو آپ کے کردار پر اور آپ کے خاندان کی عزت پر لگ جائے گا
02:39اگر آپ نے امانت کو ضائع کر دیا
02:43تو اپنے خالق مالک اللہ کریم کو بھی نراز کر بیٹھیں گے
02:46لوگوں میں رسوا ہو جائیں گے
02:48تاری نیک نامی ختم ہو جائے گی
02:49اور بدنامی کا دور دورہ ہو جائے گا
02:51دیکھئے ایسے منحوس کام کے طرف کبھی قدم نہ بڑھائیے
02:55اگر آپ نے میری بات نہیں مانی اور اس کا زیتون چورا کر لے آئے
02:58تو میں یہ حرام قطر نہیں کھاؤں گی
03:00اس لیے آپ یہ زیتون لانے کی تکلیف نہ ہی کریں
03:03ویسے بھی وہ زیتون اب کھانے کے قابل بھی نہیں رہا ہوگا
03:07اسے ایک جگہ لمبے عرصے تک پڑے رہنے سے وہ خراب بھی ہو جاتا ہے
03:11ویسے بھی آپ کے گناہ پر مبنی چوری کے ارادے دیکھ کر
03:14میری زیتون کے لیے خواہش اور دلی تمنہ بھی ختم ہو گئی ہے
03:17آپ ابھی اسی وقت
03:19اللہ تبارک مسالت ہے
03:21اس شیطانی سوچ پر معافی مانگے
03:22ورنہ اللہ سے نہ ڈننے والوں کا انجام بہت برا ہوتا ہے
03:25اللہ آپ کو بجھا لے
03:27تاجر اپنی بیوی کی نصیت کو ماننے کے لیے تیان نہ ہوا
03:30وہ اسے محض کسی واض اور مولوی کی واض و نصیت اور تقریب سمجھ رہا تھا
03:35اس نے اپنے گدا میں جا کر زیتون کے مٹکے کا مو کھولنے کے ارادہ کر لیا
03:39جب وہ اپنے گدا میں پہنچا
03:41زیتون کے مٹکے کا ڈھکر اٹھایا
03:44زیتون دیکھا تو وہ واقعی خراب ہو چکا تھا
03:46کھانے کے بالکل قابل نہیں تھا
03:49کیونکہ وہ سات سال سے بند مٹکے میں پڑا گل سٹ گیا تھا
03:52تاجر کے دل میں خیال ہے کہ مٹکے کا سارا زیتون دیکھ لیا جائے
03:56کہ سارا خراب ہو چکا ہے
03:57یا اس میں سے کوئی صحیح بچا ہے
03:58خاص طور پر نچلے اسے کو ذرا دیکھ لیا جائے
04:01وہ بھی مٹکے کی بلائی سطح کے زیتون کتنا ظاہر ہو چکا ہے
04:05یا وہ صحیح سالم ہے
04:06تاجر نے جانت پر تار گرنے کی غرصے مٹکے کو ذرا نیچے کی طرف جھکا ہے
04:10جس سے زیتون پلیٹ میں گرا
04:11لیکن یہ کیا
04:13اس کے ساتھ ہی کھن کھناتے ہوئے چند دنہ بھی پلیٹ میں آن گرے
04:16جن سے کھن کھنات کی آواز کمرے میں گونج اٹھی
04:19تاجر نے جب پلیٹ میں دینار گرتے ہوئے دیکھے
04:24اور ان کی آواز سنی تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی
04:27وہ خوشی سے بے کابو ہوتے ہوئے مٹکے کے اندر جھاکنے لگا
04:30وہ یہ دیکھ کر خوشی سے پاگل ہو گیا
04:33کہ علی بابا نے تو مٹکے میں وافن مقدار میں دینار رکھے ہوئے
04:35جبکہ زیتون دوبست انہیں چھپانے کیلئے اوپر ڈالا گیا ہے
04:39تاجر نے جلدی جلدی زیتون اور دینار اٹھا کر دوبارہ مٹکے میں ڈال دیئے
04:45اور پہلے کی طرح اس کا مو اچھی طرح بند کر دیا
04:47پھر کچھ سوڑتا ہوا واپس اپنے گھر آ گیا
04:49آتے ہی اپنی بیوی سے کہیں لگا
04:52تم واقعی سچ کہتی تھی
04:53زیتون بالکل خراب ہو چکا ہے
04:55میں نے مٹکہ اس طرح بند کر دی ہے جس طرح وہ پہلے تھا
04:58علی بابا جب واپس آئے گا
05:00تو میں اس کو اس کے مرد واپس لوٹا دوں گا
05:02البتہ مجھے امید ہے کہ واپس آنے پر اسے پتہ بھی نجھ لے گا
05:05کہ میں نے اس کا مٹکہ اس کے جانے کے بعد کھول کر دیکھا یا نہیں
05:09یہ بات سن کر بیوی نے اپنے سرطات سے کہا
05:13کاش تم میری بات کو سچ مان لیتے
05:14تم مٹکے کو کھولتے ہی نہ
05:16آپ نے مٹکے کو کھول کر بہت بڑی غلطی کی ہے
05:18میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ آپ کی اس خطا کو ماف کر دے
05:23یہ بہت برا ہوا
05:24آپ بغیر سوچے سمجھے اس غلطی کا اتقاب کر بٹیں
05:27نہایت افسوس کی بات ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا
05:30تاجر نے اپنی بیوی کی باتوں کی کوئی برواہ نہیں کی
05:34بلکہ علی بابا کے مٹکے میں جو دینار پڑے ہوئے تھے
05:36اب انہیں کابو کرنے کا بودھ ہر طرح سے اس کے ذہن پر سوار تھا
05:40تاجر کی بے پناہ خوشی نے اسے
05:42اس قیانت کے جرم کی قبھات کو فراموش کر دیا تھا
05:45جس کے اتقاب کا اس نے پختہ ارادہ کر رکھا تھا
05:48تاجر رات پر سوچتا رہا کہ وہ دیناروں کو کس طرح ہتھی آئے
05:52کہ علی بابا کو مٹکہ کھولنے کی کانوں کان خبر بھی نہ ہو سکے
05:55ساری رات منصوبے بناتے اور شیطانی ترقیبیں سوچتے گزر گئی
06:00صبح ہوئی تو تاجر اپنے گھر سے جلد جلد نکلا
06:03بازار پہنچا زیتون خریدیا تاکہ علی بابا کا مٹکہ تازہ زیتون سے بھر دی
06:07پھر اپنے گدام میں گیا
06:09مٹکے کے مون کھولا اور اس سے دینان نکال کر محفوظ کر لی
06:12ہم مٹکے کا سارا خراب زیتون نکال دیا اور بازار سے خریدہ ہوا
06:17تازہ زیتون اس میں ڈال دیا
06:20اس سے فارغ ہو کر پہلے کی طرح مٹکے کے مون بند کریا
06:23اور اسے اس جگہ پر رکھ دیا جہاں علی بابا رکھ کر گئے تھا
06:27تاجر نے اس مکر و خیانت کے انجام کے بارے میں سوچا ہی نہ تھا
06:32وہ شیطان کے پیچھے ایسا رگا کہ اللہ کے غزب لوگوں کی نرازگی
06:35اور معاشرے میں بدنام ہو جانے سے بلکل خوف زدہ نہ ہوا
06:38اس جنرم میں انتقاب کیے ہوئے ابھی تقریباً ایک مہینہ ہی گزرا تھا
06:42کہ طویر عرصے کے بعد ایک دن علی بابا اچانے اپنے سفر سے واپس بغداد پہنچ گیا
06:47علی نے مکہ معظمہ جانے سے پہلے اپنے گھر قرائے پر دے دیا تھا
06:52جب علی بابا نے اپنے سفر سے واپس آیا تو اپنے گھر رات نہیں گزار سکتا تھا
06:56کیونکہ وہاں قرائے دار رہیش پذیر تھے
06:58علی نے مکان خالی ہونے تک ہوتل میں ایک کمنہ قرائے پر لیا
07:02دوسرے دن علی اپنے دوست تاجہ شکیل سے ملنے گیا
07:05دب تاجہ نے علی بابا کو دیکھا تو مسنوی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے آگے بڑھا
07:09اور کہا مرحبہ اور اسے بغل گیر ہوا
07:12طویر صفر سے صحیح سائل میں واپس آنے پر مبارک بات دیتے ہوئے کہیں لگا خوش رامدی
07:17ہم آپ کے طویر عرصے تک غیب رہنے سے پریشان ہو گئے تھے
07:21آپ کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہو گئی ہیں
07:23آپ صحت مند بھی ہیں
07:25ہم تو خطرے محسوس کر رہے تھے کہ نصیب و دشمنہ کہیں آپ کو اس طویل سفر میں کوئی خطرہ ہی نلائک ہو گیا ہو
07:31الحمدللہ آپ تو ٹھیک تھاک ہیں
07:33ماشاءاللہ اور ہمارے درمہ میں بیٹھے بھی ہیں
07:34جب علی اپنے دوست تاجہ سے ملا تو اس کے والہنہ انداز میں خوش آمدید کہنے اور استقبال کہنے اور اس کا شکریہ ادا کیا
07:41اور دونوں کی اپس میں اس طرح سے گفتگو ہونے لگی
07:44علی شاید آپ کو زیتون کا وہ مٹکہ یاد ہوگا جو سفر پر جانے سے پہلے میں آپ کے ہاں چھوڑ گئے تھا
07:51تاجر شکین مسکراتے ہوئے ہاں کیوں نہیں مجھے اچھی طرح سے یاد ہے
07:54علی کیا آپ وہ مٹکہ مجھے واپس کر کے شکریہ کرنا کا موقع ضرور دیں گے بلکل
08:00میں زندگی بھر آپ کے حسن سلوک اور نیکی کو نہیں بھولوں گا
08:03میں یہ چاہتا ہوں کہ مزید آپ پر بوجھنا بڑوں
08:05پہلے ہی میں نے آپ کو بہت تکلیف دیا
08:07تاجر
08:08نہیں نہیں آپ نے مجھے کوئی تنگی نہیں دی
08:11آپ کا مٹکہ بلکل اسی جگہ پڑا ہے جہاں آپ سفر پر جانے سے پہلے اپنے ہاتھوں سے رکھے گئے تھے
08:16کسی نے اسے ہاتھ تک نہیں لگایا
08:18میرے دوست یہ چاہوی لیجئے
08:19جس طرح اپنے ہاتھوں سے رکھا ویسے اٹھا لیجئے
08:22علی
08:23اللہ کریم آپ کو جزائے خیار دے بہت شکریہ
08:26علی نے اپنا مٹکہ اٹھایا
08:28اور اسے ہوتل کی طرف لے کر چل پڑا
08:30اس نے دوبارہ نویدہ کہتے ہوئے
08:32اپنے تاجر دوست کا شکریہ دا کیا
08:34علی نے ہوتل پہنچ کر
08:36اپنے کمنے کا دروادہ بند کیا
08:37مٹکے کا موں کھولا
08:38اس سے تھوڑا سا زیتون نکالنے کے بعد دیکھا
08:41تو اسے اپنے دیدار دکھائی نہ دیئے
08:44علی نے زیتون قدر زیادہ مقدار میں نکالا
08:46مگر اس میں تو زیتون ہی زیتون تھا
08:48دیناروں کا کوئی نام و نشان بھی نہیں تھا
08:50علی حیران پریشان
08:52اسے صبر نہ ہو سکا
08:53تو اس نے سارا مٹکہ پلڑ دیا
08:54جس سے مٹکے کا سارا زیتون زمین پر آ گیا
08:57لیکن اسے ایک بھی دینار نہیں دکھائی دیا
08:59علی بہت زیادہ غمگین ہوا
09:02اس نے اپنے دوست تادر کی خیال پر
09:04بڑا تاجب کیے
09:05اور اپنے دل میں کہا
09:06مجھے کے شخص میں بہت بڑا دھوکہ دیا ہے
09:08میں تو اسے دیانے دار سمجھا تھا
09:10یہ تو چور اور خائن نکلا
09:11اسے تو امانت کے حق کا خیال تک نہیں رہا
09:14علی اپنے ساتھی تادر کے پاس فوری طور پر پہنچا
09:18اسے اس کی حرکت پر بڑا دکھ تھا
09:21باما کو اپنے دیناروں کے ضائع ہونے کا بھرپور خطرہ لائک ہو گیا
09:24لیکن اس نے دلدی سے تاجر سے کہا
09:26میں نے بھائی
09:27اتنی جلدی میرے آپ کے پاس آنے سے آپ گبرائیں ہی
09:31دراصل جو میں نے مشاہدہ کیا
09:33مجھے اس کی تبقہ نہیں تھی
09:34جیتون کا مٹکہ تو بالکل وہی تھا
09:36جو میں نے اپنے ہاتھوں سے آپ کے گودام میں رکھا تھا
09:39لیکن میں نے اسے پوری طرح زیتون سے نہیں بھرہ تھا
09:42بلکہ میں نے آپ کو سفر پر جانے سے پہلے بتایا تھا
09:45اس میں ایک ہزار سونے کے دینار میں نے اس میں رکھے دیں
09:48باقی زیتون ڈالکہ میں نے اس کو بھر دیا تھا
09:52جب میں نے مٹکہ آپ کے گودام سے لے جا کر
09:53اُلڑ کر دیکھا تو مجھے اس میں ایک دینار بھی نہ ملا
09:56میں نے اپنے دل میں سوچا
10:00شاید میرے بعد میرے دوست کو کوئی اشعر ضرورت پڑ گئی ہوگی
10:02اور اس نے مٹکے سے وہ دینار لے لیے ہوں
10:05اگر کوئی ایسی بات ہوئی ہے تو آپ مجھے بتا دیں
10:07آپ میرے دوست ہیں میں برا نہیں مناؤں گا
10:09بلکہ مجھے خوشی ہوگی کہ میں مصیبت کے وقت
10:11اپنے دوست کے کامے ہوں
10:12یہ میرے لیے سعادت کی بات ہوگی
10:15اب میرا آپ سے صرف یہ مطالبہ ہے
10:18کہ آپ مجھے حقیقت حال بتانے
10:20تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے
10:21اور میرے ذہن سے شک و شبہ نکل دے
10:23میں آپ سے ان دیناروں کا مطالبہ نہیں کروں گا
10:27جب آپ چاہے مجھے واپس کر دینا
10:29تاکہ شاکیل خوب اچھی طرح جانتا تھا
10:31کہ جب اس کا ساتھی علی بابا مٹکہ کھولے گا
10:34تو اسے اپنے دینار نہیں ملیں گے
10:35تو وہ فوری طور پر اس کے پاس آئے گا
10:38اس نے خوب اچھی طرح سوچ لیا تھا
10:40کہ علی بابا کو تسلی دنانے کیلئے
10:41اس نے کیا جواب دینا ہے
10:43شاکیل کا خیال تھا
10:45کہ اس کا چکر چل جائے گا
10:46اور وہ رسوائی اور جگھنسائی سے بھی بچ جائے گا
10:48جب علی تادر کے پاس آیا
10:51اور اس نے دینار طلب کیے
10:53تو تادر شاکیل نے اس کی طرف غور سے دیکھا
10:55اور کہا محترم میرے سوال کا جواب دیں
10:57جب آپ اپنا مٹکہ میرے پاس لائے تھے
11:00کیا میں نے مٹکے کو ہاتھ لگایا تھا
11:01میرے دوست
11:02کیا میں نے اپنے گودام کچا بھی تیرے سپود نہیں کر دی تھی
11:05آپ جس جگہ چاہے
11:07اپنے ہاتھ سے وہاں یہ مٹکہ رکھ دیں
11:08پھر جب تم سفر سے واپس آئے
11:11تو کیا میں نے آپ سے یہ نہیں پوچھا
11:12کہ تمہیں اپنا مٹکہ کہاں سے ملا
11:14کہ آپ کو اسی حالت میں مٹکہ وہاں سے نہیں ملا
11:17کہ جس حالت میں آپ وہاں پہ رکھ گئے تھے
11:19اس مٹکے کو کسی انسان ہاتھ تک نہیں لگایا
11:22میرے دوست
11:22مجھے یہ بتائیں
11:23کیا مٹکہ اپنی جگہ سے نہیں ملا
11:25کیا اس کا ڈھکن تبدیل ہوا
11:28جب ان باتوں میں سے کوئی بھی نہیں
11:30تو پھر آپ کو شکایت کیسی
11:32اگر تم نے اس میں سونا رکھا ہوتا
11:35جس طرح کہ تم آج یہ بات کہہ رہے ہو
11:37تو بینا شبہ آپ کو اس سے سونا ہی ملتا
11:40لیکن آپ نے سفر پر جانے سے پہلے
11:42مجھے بتایا تھا کہ اس میں
11:44زیتون ہے اور میں نے آپ کی بات کو سچ مان لیا
11:47میں نے تو اسے کھولا بھی نہیں
11:49کہ یہ معلوم کر سکوں
11:51کہ اس کے اندر کیا ہے
11:52جب سے آپ نے یہ مٹکہ میرے گدام میں رکھا ہے
11:54اللہ کی قسم میں نے اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا
11:56سسمانی مجھے معلوم بھی نہیں
11:58کہ تیر مٹکے میں کیا ہے
11:59میں نے تو کبھی تیرے مٹکے کو کھولنے کا سوچہ تک نہیں
12:02نا تیرے سفر پر جانے سے پہلے
12:06اور نہ ہی بعد نہیں
12:06میں نے جان اللہ کو دینی ہے
12:08اور اللہ کا خوف ہے مجھ پر
12:09مجھ پر الزام نہیں لگائیے
12:11میری خدمات کا یہ سیرہ تو مت دیں
12:13مطمسامین
12:15آج کی ویڈو ہم یہی میں مکمل کرتے ہیں
12:17ملتے ہیں اسی سیریز کی ایک اور اپیسوڈ کے ساتھ
12:19عدالت کی روبرو ہم حاضر ہوتی ہیں
12:21یعنی بابا اور اس کے دوست کی
12:22کاروائی کو سنیں گے اور دیکھیں گے
12:25کہ اس کا کیا بنا ہے
12:26بہت شکریہ اللہ حافظ