00:00ذرا تصور کیجئے ایک ایسی صبح جب یہ بظاہر مضبوط اور پرسکون نظر آنے والی کائنات اچانک بکھڑنا شروع ہو
00:07جائے
00:07وہ آسمان جسے ہم ہمیشہ اپنے سروں پر ایک چھت کی طرح دیکھتے ہیں وہ پھڑ جائے
00:12آج کے اس تفصیلی جائزے میں ہم صورت الانفتار کے حوالے سے بات کریں گے
00:17جو کائنات کے اس اختتام اور انسانیت کے حتمی انجام کی ایک نہایت طاقتور تصویر پیش کرتی ہے
00:22دیکھئے یہ صرف کسی دور کے مستقبل کا حیوال نہیں ہے بلکہ یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ انفتار آج
00:29ہمارے لئے کیوں اہمیت رکھتی ہے
00:31بغیر کسی لمبی تمہید کے اس مطن کے بالکل آغاز میں ہی ایک ایسا سوال موجود ہے جو انسان کی
00:39دنیاوی غفلت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے
00:42یہاں پوچھا گیا ہے کہ اے انسان تجھے اپنے رب کریم کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال
00:49دیا
00:49سوچئے ذرا اس پر یہ صرف ایک سوال نہیں ہے یہ پوری انسانیت کے لیے ایک آئینہ ہے جو ہمیں
00:55یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے آخر کتنے غافل ہو چکے ہیں
01:01اور اسی غفلت کو توڑنے کے لیے سب سے پہلے بات ہوتی ہے بکھڑتے ہوئے کائناتی نظام کی یعنی ہمیشگی
01:07کا وہم ٹوٹنے کی
01:08یہاں ان واقعات کی ترتیب پر غور کرنا بہت دلچسپ ہے
01:12ہم نہ اپنے روزمرہ کے نظام کے اتنے آدھی ہو چکے ہیں کہ بادلوں کا گزرنا اور سورج کا نکلنا
01:19ہمیں ایک نا ٹوٹنے والا سلسلہ لگتا ہے
01:21لیکن بتایا یہ گیا ہے کہ سب سے پہلے آسمان پھٹ جائے گا
01:26پھر وہ ستارے جن سے انسان صدیوں سے راستے تلاش کرتا آیا ہے وہ بکھر جائیں گے
01:31اس کے بعد دنیا کے وسیع اور طاقتور سمندر اپنی حدود سے باہر اُبل پڑیں گے
01:37اور آخر میں بات پوری کائنات کی وسط سے سمٹ کر سیدھا انسان تک آ جاتی ہے
01:42جب کبریں کھول دی جائیں گی
01:44یہ ترتیب سچ میں رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہے
01:47تو یہاں سمجھنے والی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کائنات خود بخود نہیں چل رہی
01:52بلکل نہیں
01:53اس کا جو انتہائی نازک توازن ہے نا وہ صرف اور صرف بنانے والے کے حکم کا موتاج ہے
01:59جب وہ حکم آئے گا تو فیزکس کے وہ تمام قوانین جن پر ہم آج اتنا بھروسہ کرتے ہیں
02:04بس ایک لمبے میں بدل جائیں گے
02:06اس عظیم طاقت کے سامنے انسان کی تمام تر دنیاوی طاقت بلکل بیمانی ہو کر رہ جائے گی
02:12اس کے بعد ہم آتے ہیں دوسرے حصے کی طرف
02:15جو ہے انسان کی قبروں سے واپسی اور اس بھولی ہوئی حقیقت کا سامنے آنا
02:20یہاں دراصل انسان کے آمال کی اصلی کہانی کھلتی ہے
02:25وہ لوگ جن کے نام شاید تاریخ کے صفحات سے بلکل مٹ چکے تھے
02:30وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے
02:32کیوں؟
02:33تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ انہوں نے آگے کیا بھیجا اور پیچھے کیا چھوڑا
02:37ہم ساری زندگی گھر، پیسہ اور مستقبل کے منصوبے بناتے رہتے ہیں
02:42لیکن سچی دولت کیا ہے؟
02:45آگے بھیجی گئی چیزوں میں نماز، صدقہ اور مظلوم کی مدد شامل ہے
02:49جبکہ جو کچھ پیچھے چھوٹ جائے گا وہ ہے دنیاوی غرور، جھوٹ اور دوسروں کے پامال کیے گئے حقوق
02:56سارا مال و ازباب یہیں رہ جانا ہے اور صرف آمال کی فہرست آگے جائے گی
03:01اور اس جائزے کا تیسرا حصہ اسی بنیادی سوال کی طرف واپس لے جاتا ہے
03:07غفلت کا سب سے بڑا سوال یعنی خالق کے نعمتوں کی پہچان
03:12اب ذرا ایک لمحے کے لیے رکھ کر ان حیران انگیز اور خودکار نظاموں پر غور کریں
03:18جو ہمارے اپنے جسم کے اندر کام کر رہے ہیں
03:20ایک مسلسل دھڑکتا ہوا دل، بغیر کسی شعوری محنت کے سانس لیتے ہوئے پھیپھڑے
03:26خون کی گردش کا ایک بہترین نظام اور خیالات کو پروسیس کرتا ہوا ہمارا دماغ
03:31یہ سب کسی فیکٹری میں نہیں بنے، یہ اتیاں ہیں
03:34پھر بھی ہوتا کیا ہے کہ ہم اکثر تاکت، جوانی یا شہرت کے نشے میں
03:38ان نعمتوں کو بلکل معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں
03:42اور ان کے بنانے والے کو بھول جاتے ہیں
03:44انسان کی ایک بہت بڑی غلط فہمی یہ بھی ہے کہ اس کے پاس وقت بہت ہے
03:49یا یہ کہ خالق کی بے پناہ رحمت اسے ہر نتیجے سے بچا لے گی
03:54لیکن یہ یاد رکھنا نہایت ضروری ہے کہ بے پناہ رحمت کا مطلب
03:58گناہ کرنے کا لائسنس ہرگز نہیں ہے
04:01جو نظام معاف کرنا جانتا ہے وہی مکمل انصاف کرنا بھی جانتا ہے
04:06اس لیے اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے
04:09کہ کوئی بھی اس حتمی انصاف سے آسانی سے بچ نکلے گا
04:13جو ہمیں لے آتا ہے چوتھے حصے پر
04:16مسلسل اور خاموش نگرانی
04:18یعنی دنیاوی رازداری کا وہم
04:21ہم انسان اکثر یہ سوچتے ہیں کہ ہم بند کمرے میں اکیلے ہیں
04:25یا ہم اپنے آمال کو دنیا کی نظروں سے پوری طرح چھپا سکتے ہیں
04:29لیکن یہاں ذکر آتا ہے کرامن کاتبین کا
04:33یعنی وہ باعزت اور لکھنے والے فرشتے
04:36یہ فرشتے مسلسل اور انتہائی باریک بینی کے ساتھ
04:40ہر ایک عمل ہر ایک لفظ اور یہاں تک کے ہر فیصلے کو ریکارڈ کر رہے ہیں
04:45اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہماری اصل جواب دہی
04:48اس معاشرے یا لوگوں کے سامنے نہیں ہے
04:50بلکہ اس ہستی کے سامنے ہے جس سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں
04:54زمین پر رازداری کا جو تصور ہم نے بنایا ہوا ہے وہ محض ایک دھوکہ ہے
04:59پانچوہ حصہ نیک اور بدکار کا انجام
05:03انسانیت کی آخری اور حتمی تقسیم
05:06دیکھئے اس دنیا میں ہمیں اکثر انصاف ہوتا وہاں نظر نہیں آتا
05:10ہے نا کبھی ظالم خوشحال ہوتا ہے اور کبھی نیک انسان مشکلات کا شکار رہتا ہے
05:15لیکن جو حتمی انصاف ہوگا وہ بلکل دو ٹوک ہوگا
05:19وہاں صرف دو ہی راستے ہیں ایک طرف الابرار یعنی نیک لوگ ہے
05:24جو ہمیشہ کی نعمتوں اور پرسکون منزل کے حق دار ہوں گے
05:27اور دوسری طرف الفجار یعنی بدکار ہیں جن کا حتمی ٹھکانہ جہنم ہے
05:32جہاں سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں
05:34کوئی بھی شخص اپنے ہی ریکارڈ کیے گئے آمال سے بھاگ نہیں پائے گا
05:38ہم اس دنیا میں اپنے خاندان دوستوں اور بینک بیلنس پر کتنا بھروسہ کرتے ہیں
05:44لیکن ذرا اس اقتباس پر غور کریں
05:46وہ دن جب کوئی جان کسی دوسری جان کے لیے کچھ اختیار نہیں رکھے گی
05:50اور اس دن سارا اختیار صرف اللہ ہی کا ہوگا
05:53یہ واضح کرتا ہے کہ دنیا کے تمام سہارے تمام تعلقات اور طاقتیں
05:58اس مکمل خدائی اختیار کے سامنے ریت کی دیوار کی طرح گر جائیں گی
06:02اس دن حقیقی سہارا صرف اور صرف خالق کی ذات ہوگی
06:06اور اب آتے ہیں اس جائزے کے سب سے اہم چھٹے اور آخری حصے کی طرف
06:11آج کا دن کیوں اہم ہے
06:13یہ ہے عمل کی ایک فوری دعوت
06:15یہ پورا مطن ہمیں صرف مستقبل کے خوفناک مناظر نہیں دکھاتا
06:20بلکہ اگر غور کیا جائے
06:22تو یہ ہماری موجودہ زندگی کے لیے ایک انتہائی فوری اور ضروری ویک اپ کال ہے
06:27اس کا پیغام بہت واضح ہے
06:29وہ جو شروع میں بنیادی سوال تھا نا
06:31کہ انسان کو کس چیز نے دھوکے میں ڈالا ہے
06:33اس کا جواب ہمیں قیامت کے دن نہیں دینا بلکہ آج دینا ہے
06:37ہم اپنی روزمرہ کی زندگی اور اپنے عام فیصلوں سے لگتار اس کا جواب دے رہے ہیں
06:42آج ہماری سانسے چل رہی ہیں
06:44توبہ کا دروازہ پوری طرح کھلا ہے
06:46اور ہم اپنی حتمی منزل کا راستہ آج اسی وقت تبدیل کر سکتے ہیں
06:51تو سوال یہ ہے کہ پھر ہمیں آج کیا عملی اقتماد اٹھانے کی ضرورت ہے
06:56سب سے پہلے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے خالق کو پہچانے
06:59اور اس کی دی گئی ان انگنت نعمتوں پر گہرائی سے غور کریں اور شکر ادا کریں
07:04اس بے وکوفی سے باہر نکلنا ہوگا کہ ہمارے پاس وقت ہی وقت ہے
07:09وقت کبھی بھی ختم ہو سکتا ہے
07:11اس لیے بغیر کسی تاخیر کے فوری اور سچی توبہ کرنی چاہیے
07:15اس سے پہلے کہ وہ وقت آ جائے جواب سی بالکل ناممکن ہو
07:19ہمیں آج ان باتوں پر عمر کرنا ہوگا
07:21اصل کامیابی یہ ہرگز نہیں ہے
07:24کہ ہم نے اس دنیا میں کتنا بینک بیلنس بنایا
07:27یا کتنی شہرت اکٹھی کی
07:28اصل کامیابی تو یہ ہے
07:30کہ جب ہماری زندگی کا فائنل حساب ہو
07:32تو نتیجہ کیا نکلے گا
07:34ہم آج کے اس تفصیلی جائزے کو
07:36ایک ایسے سوال پر ختم کرتے ہیں
07:37جس پر ہم سب کو ٹھہر کر سنجیدگی سے سوچنا چاہیے
07:41کیا ہمارا خالق آج ہم سے راضی ہے
07:43کیا ہماری زندگی کا موجودہ راستہ
07:45ہمیں ایک حقیقی اور ہمیشہ رہنے والی کامیابی کی طرف لے جارہا ہے
07:49اس ایک سوال کا جواب ہمیں آج ہی تلاش کرنا ہوگا
Comments