00:00آج کے اس معلوماتی جائزے میں ہم ایک ایسی ڈھال کی بات کریں گے جو ہر دور میں ضروری رہی
00:05ہے
00:06ہم سب اس تیزی سے بدلتی ہوئی اور غیر یقینی دنیا میں رہتے ہیں جہاں ہر قدم پر کوئی نہ
00:12کوئی اندیکھا خطرہ ہو سکتا ہے
00:13تو آخر انسان ایک حقیقی اور روحانی پنہا کہاں ڈھونڈ سکتا ہے؟
00:18چلیے سیدھا اس پر آتے ہیں
00:20ذرا اس بات پر غور کریں
00:22ہم انسان چاہے کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہو جائیں؟
00:25ہماری جسمانی طاقت، موڈرن ٹیکنالوجی اور بے پنہ وسائل کے باوجود
00:30ہم ان دیکھے اور انجان خطرات کے سامنے اکثر بلکل بے بس ہو جاتے ہیں
00:35مستقبل کس نے دیکھا ہے؟
00:37اور نہ ہی ہم ہر اس خطرے کو دیکھ سکتے ہیں جو ہمارے ارد گرد گھوم رہا ہے
00:42تو پھر یہ الٹمیٹ شیلڈ یا حتمی تحفظ کہاں سے ملتا ہے؟
00:47تو اب آگے بڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں سورة الفلق کا تعارف
00:50یہاں ایک انتہائی اہم لفظ کو سمجھنا ضروری ہے اور وہ ہے موزتین
00:56قرآن مجید کی آخری دو صورتوں یعنی سورة الفلق اور سورة الناس کو موزتین کہا جاتا ہے
01:03اس کا مطلب ہی یہی ہے کہ یہ وہ دو صورتیں ہیں جن کے ذریعے اللہ کی پناہ مانگی جاتی
01:08ہے
01:08دراصل یہ دونوں صورتیں مل کر ایک ایسی زبردست روحانی ڈھال بناتی ہیں
01:14جو ہر قسم کے ظاہری اور چھپےوے شر سے محفوظ رکھنے کا کام کرتی ہے
01:18اب آتے ہیں اس سلسلے کے اگلے حصے کی طرف روشنی کی امید
01:23اس صورت کا آغاز ہی اس زبردست آیت سے ہوتا ہے
01:27قُلْ آؤُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ
01:29یعنی کہہ دیجئے کہ میں صبح کے رب کی پناہ میں آتا ہوں
01:32یہاں یہ جو لفظ ہے نا آؤوذ
01:34اس کا سیدھا سا مطلب ہے پناہ مانگنا کسی کے سائے میں آنا
01:38اس ایک لفظ سے ہم اپنی کمزوری کا اعتراف کرتے ہیں
01:41ہم یہ مانتے ہیں کہ نامعلوم خطرات کے سامنے
01:43ہم بالکل اکیلے اور کمزور ہیں
01:46اور اسی لیے ہمیں ایک ایسی ذات کی پناہ چاہیے جو سب سے زیادہ طاقتور ہو
01:50اور اس میں جو سب سے خوبصورت بات ہے وہ فلق کا مطلب ہے
01:54فلق کا مطلب ہے صبح کا پھوٹنا
01:57وہ منظر جب رات کی گہری تاریکی کو چیر کر روشنی بہار آتی ہے
02:02یہ کتنا پاورفل میٹافور ہے
02:04سوچئے رات چاہے کتنی ہی کالی اور لمبی کیوں نہ ہو
02:08ہمیشہ نہیں رہتی اللہ کے حکم سے اندھیرہ چھٹ جاتا ہے
02:12اور روشنی پھیل جاتی ہے
02:14بلکل اسی طرح ہماری مشکلات اور ڈر بھی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتے
02:18وہ رب جو گھپ اندھیرے سے روشن صبح نکال سکتا ہے
02:22وہ کسی بھی مشکل یا ڈر کو بھی چھٹکیوں میں دور کر سکتا ہے
02:26چلیے اب بات کرتے ہیں ظاہری اور پوشیدہ خطرات کی
02:30سورت کی دوسری آیت ہے
02:32من شر ما خلق
02:34یعنی ہر اس چیز کے شر سے پناہ جو اس نے پیدا کی
02:38یہ کتنی عام اور جامع دعا ہے
02:40دیکھیں ویسے تو پیدا کی ہوئی ہر چیز اللہ کی قدرت کی نشانی ہے
02:44لیکن کبھی کبھی کچھ مخلوقات یا حالات نقصان کا باعث بھی بن جاتے ہیں
02:49میں سال کے طور پر آگ اور پانی کو ہی لے لیں
02:52زندگی کے لیے کتنے ضروری ہیں
02:53لیکن بے کابو ہو جائیں تو تباہی مچا دیتے ہیں
02:56یا پھر دوسرے انسانوں یا جانوروں سے ہونے والا خطرہ
02:59یہاں اس ایک چھوٹی سی آیت میں ہم کائنات کی ہر مخلوق کے شر سے پناہ مانگ لیتے ہیں
03:05اصل میں اگر ہم غور کریں تو خطرات کی دو بڑی قسمیں ہیں
03:09ایک تو وہ خطرات ہیں جو بالکل سامنے ہوتے ہیں
03:12جیسے کوئی قدرتی آفت، ایکسیڈنٹ یا کوئی بیماری
03:15لیکن دوسری طرف کچھ ایسے چھپے وے خطرات بھی ہوتے ہیں
03:19جو دکھائی نہیں دیتے مگر ان کا نقصان بہت زیادہ ہوتا ہے
03:23اور یہ صورت، صورت الفلق خاص طور پر ہمیں انہی خاموش اور غیر محسوس خطرات کے حوالے سے چوکن نہ
03:30کرتی ہے
03:31اس آئیڈیا کو مزید سمجھنے کے لیے تیسری آیت دیکھتے ہیں
03:38یعنی اور رات کی تاریخی کے شر سے جب وہ چھا جائے
03:42اب رات تو آرام کے لیے ایک عظیم نعمت ہے
03:45اس میں کوئی شک نہیں
03:46لیکن اس تاریخی میں بہت کچھ چھپ بھی جاتا ہے
03:50پرانے وقتوں میں اندھیرہ ہوتے ہی جنگلی جانوروں، دشمنوں اور چوروں کا خطرہ بڑھ جاتا تھا
03:56اور اگر اسے میٹافوریکل یعنی علامتی طور پر دیکھا جائے
04:00تو زندگی میں بہت سی ڈیلز یا معاملات ایسے ہوتے ہیں
04:03جو دیکھنے میں تو ٹھیک لگتے ہیں
04:05پر ان کے پیچھے کسی اندھیرے کی طرح کوئی دھوکہ یا نقصان چھپا ہو سکتا ہے
04:10اور اب آگے بڑھتے ہیں جادو اور حسد کے شر کی طرف
04:14چوتھی آیت فرماتی ہے
04:19یعنی اور گروہوں میں پھوکنے والیوں کے شر سے
04:22یہ آیت دراصل جادو اور ان غیر شریح تاریخوں کی طرف اشارہ کرتی ہے
04:27جو انسانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں
04:31تاریخ بتاتی ہے کہ لوگ دھاگو یا رسیوں میں گریں لگا کر
04:34ان پر پھوک مارتے تھے تاکہ دوسروں پر جادو کر سکیں
04:38یا انہیں دماغی اور جسمانی طور پر کمزور کر سکیں
04:41یہ آیت انہی چھپے ہوئے روحانی حملوں کے خلاف ایک دھال کا کام کرتی ہے
04:45تو پھر ان چھپے ہوئے نقصانات سے بچا کیسے جائے
04:49اس حوالے سے سورس میٹیریل بلکل واضح ہے
04:52اسلام میں جادو اور اس قسم کے تمام عملیات سختی سے منع ہیں
04:56ہمیں یاد ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے
04:59کیسے اللہ کی مدد سے جادو بروں کو ہرا دیا تھا
05:02خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی
05:04جب جادو کا اثر ہوا
05:06تو انہیں بھی انہی معوضتین کے ذریعے شفا ملی
05:09تو سب سے اہم پوائنٹ جو یہاں سمجھنے والا ہے
05:12وہ یہ ہے کہ کوئی بھی جادو یا شر
05:14خدا کی اجازت کے بغیر کام ہی نہیں کر سکتا
05:17اس لیے ڈر کر جالی عاملوں کے پاس بھاگنے کے بجائے
05:21صرف اور صرف ایک سچے رب کی پناہ ڈھوننی چاہیے
05:24اور لو اب ہم آتے ہیں اس صورت کی آخری آیت پر
05:35یہ آیت ایک ایسی سماجی اور نفسیاتی بیماری کی طرف اشارہ کر رہی ہے
05:40جو سچ میں انتہائی خطرناک ہے
05:42اور وہ ہے حسد
05:44یہ ایک ایسا شر ہے جو بغیر کسی ظاہری ہتھیار کے
05:48رشتوں کو اور دلوں کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح کھا جاتا ہے
05:52اگر ہم حسد کو ڈیفائن کریں
05:54تو یہ ایک ایسی روحانی بیماری ہے
05:56جہاں ایک انسان کسی دوسرے کی نیمت کو دیکھ کر
05:59چاہے وہ اس کی دولت ہو کامیابی ہو یا عزت ہو
06:02یا چاہتا ہے کہ وہ نیمت اس شخص سے چھن جائے
06:05ذرا سوچی یہ کتنا زہریلا جذبہ ہے
06:07یہ کسی دوسرے کو نقصان پہنچانے سے پہلے
06:09خود حسد کرنے والے کے دل کو کھوکلا کر دیتا ہے
06:13اور اس کا سکون پوری طرح برباد کر دیتا ہے
06:16لیکن یہاں ایک بہت باریک اور دلچسپ نکتہ ہے
06:20آیت میں صرف حاسد نہیں کہا گیا
06:23بلکہ واضح طور پر شرط رکھی گئی ہے
06:25ایزہ حسد یعنی جب وہ حسد کرے
06:28دیکھیں کسی کے پاس کوئی اچھی چیز دیکھ کر
06:31دل میں ایک پل کے لیے کوئی برا خیال آ جانا ایک الگ بات ہے
06:35لیکن اصل خطرہ تب شروع ہوتا ہے
06:38جب یہ برا خیال کسی عملی شر کا روپ لے لے
06:41یعنی جب کوئی اس حسد کی آگ میں جل کر
06:44سازشیں شروع کر دے جھوٹ پھیلائے
06:46یا دوسروں کی زندگی میں رکاوٹیں ڈالنے لگ جائے
06:49ایسے چھپ کر کیے جانے والے عملی شر سے بچنے کے لیے
06:53یہ صورت واقعی ایک بہترین پناہ گاہ ہے
06:56تو اب آتے ہیں اس بات پر
06:58کہ ان سب باتوں کی ہماری روز مرہ زندگی میں کیا اہمیت ہے
07:02سوال یہ پیدا ہوتا ہے
07:04کہ صورت الفلک کو اپنی ڈیلی روٹین کا حصہ کیسے بنایا جائے
07:08جو سورسز ہم نے دیکھے ہیں وہ تجویز کرتے ہیں
07:10کہ اسے ایک عادت کی طرح اپنا لیا جائے
07:12جیسے صبح اٹھتے ہی اپنے پیدا کرنے والے کو یاد کرنا
07:15شام ڈھلتے ہی اس کی پنہ مانگنا
07:18اور خاص طور پر رات کو سونے سے پہلے
07:21ان دو صورتوں یعنی مووزتین کی تلاوت لازمی کرنا
07:24اور صرف یہی نہیں
07:25جب بھی کبھی اچانک سے کوئی خوف بے چینی یا پینک فیل ہو
07:29تو فوراں اپنے رب کی طرف رجوع کریں
07:31یہ صرف کچھ الفاظ دہرانہ تھوڑی ہے
07:34دراصل یہ پریکٹس ایک انسان کے دل میں خدا پر
07:37اس اعتماد کو بلڈ کرتی ہے
07:38جسے کوئی ڈر ہلا نہیں سکتا
07:40تو چلیے اب تک ہم نے اس جائزے میں
07:43جو کچھ بھی ڈسکس کیا ہے
07:45اس کو ان چھے بنیادی اسباق میں سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں
07:49پہلا یہ کہ حالات چاہے جو ہوں
07:52ہمیشہ خدای پناہ ڈھونڈیں
07:54دوسرا اپنے رب پر سو فیصد مکمل بھروسہ رکھیں
07:58تیسرا جادو اور اس جیسے تمام غلط اور باطل راستوں سے بچ کے رہیں
08:03چوتھا سبق یہ ہے کہ خود کو حسد سے بچائیں
08:07اور حسد کرنے والوں کے شر سے ہمیشہ پناہ مانگتے رہیں
08:10پانچمہ اور میرا پسندیدہ سبق جو کہ امید سے بھرا ہے
08:15مشکلات کا اندھیرہ چاہے کتنا ہی لمبا کیوں نہ ہو
08:18اس کے بعد روشنی نے آنا ہی آنا ہے
08:20اور چھٹا یہ کہ خوف کے آگے ہتھیار ڈال کر مایوس نہ ہو
08:25بلکہ سیدھا اپنے خالق کی طرف پلٹیں
08:27انسان کی اپنی کمزوری سے لے کر
08:29اس حتمی اور ultimate protection تک کا یہ جو پورا سفر ہے نا
08:33یہ واقعی حیران کن ہے
08:34ہمیں اس معلوماتی سفر کے بالکل آخر میں آ پہنچے ہیں
08:38اور اب ایک ایسا سوال ہے جس پر ہم سب کو ٹھہر کر تھوڑا سوچنا چاہیے
08:43کیا ہم خوف اور اندھیروں کے ان سائیوں کو اس بات کی اجازت دے دیں گے
08:48کہ وہ ہماری زندگیوں کو کنٹرول کریں
08:50یا پھر ہم اس صبح کے رب اس رب الفلک کی پناہ میں چلے جائیں گے
08:55جس کے پاس ہر اندھیرے کو روشنی میں بدلنے کی پوری طاقت ہے
08:59یہ فیصلہ اور اس روحانی ڈھال کا عملی استعمال
09:02اب پوری طرح ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے
09:05ہمیں امید ہے کہ آج کے اس جائزے سے
09:07ہمیں ان ظاہری اور پوشیدہ خطرات سے نمٹنے کا
09:10ایک نیا اور روشن راستہ ضرور ملا ہوگا
Comments