00:00آج کے اس ایکسپلینر میں ہم سورہ الزخرف کے ان طاقتور پیغامات کو انپیک کرنے والے ہیں
00:04جو انسانی تاریخ کی ایک بہت ہی عظیم کشمکش کو بیان کرتے ہیں
00:09یہ کشمکش ہے دنیا کی چمک تمک اور اس آخری حقیقت کے درمیان جو اکثر ہماری آنکھوں سے اوجل رہتی
00:16ہے
00:16آج ہم اس میں گہرائی سے اتریں گے اور دیکھیں گے کہ کس طرح انبیاء نے صدیوں پرانی
00:21انشنٹ ٹریڈیشنز اور غلط روایات کو اوپن لی چیلنج کیا
00:25جلدی سے آج کے اس روڈ میپ پر نظر ڈالتے ہیں ہم نے اس ڈسکشن کو ان چھے حصوں میں
00:30تقسیم کیا ہے
00:30روایت کا جال حضرت ابراہیم کا چیلنج فیرون کا تقبر دولت کا میار حضرت عیسیٰ کا اصل پیغام
00:37اور آخر میں وہ فائنل ریالیٹی جس کا سامنا سب کو کرنا ہے
00:41یہاں یہ بات بہت بریلینٹلی سمجھ آتی ہے کہ صدیوں سے چلی آرہی رسموں کو چیلنج کرنا کوئی ایک بار
00:47کا واقعہ بلکل نہیں تھا
00:48حضرت ابراہیم کے دور سے لے کر حضرت موسیٰ حضرت عیسیٰ اور پھر حضرت محمد تک
00:52ہر نبی نے لگاتار اپنے اپنے دور کے اس سٹیٹسکو کو ان ڈیپ روٹڈ ٹریڈیشنز کو للکارا
00:58یہ ایک مکمل چین ہے جو ہسٹری میں لگاتار چلتی آرہی ہے
01:01تو شروع کرتے ہیں پہلے کور کونسپٹ سے
01:07چلیے دیکھتے ہیں کہ ماضی کا کمفرٹ کس طرح سچائی کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے
01:12سب سے پہلے تو یہ کلیر کرنا ضروری ہے کہ بلائنڈ ایمیٹیشن یعنی اندھی تکلید
01:17اصل میں ہوتی کیا ہے
01:18دیکھیں یہ دراصل اپنے باپ دادا کے راستوں اور معاشرتی رسموں پر
01:23بینا کسی لوجک یا دلیل کے چلتے رہنے کا نام ہے
01:25کروشل پوائنٹ یہاں پر یہ ہے کہ صرف اس لیے کہ کوئی چیز پچھلی کئی نسلوں سے چلی آ رہی
01:31ہے
01:32یہ نیچرلی اس کو ٹھیک ثابت نہیں کر دیتا
01:34اب آتے اپنے دوسرے اسے پر ابراہیم چیلنجز انسیسٹرل ورشپ
01:38یہ ہسٹری کی ایک بہت ہی فیسنیٹنگ کیسٹڈی ہے
01:41جہاں پوری کی پوری سوسائیٹی بس عادت کے طور پر بدپرستی کر رہی تھی
01:45یہاں ایک بہت ہی گہرا سوال پیدا ہوتا ہے
01:47کہ آخر انسانی معاشرے اتنی آسانی سے ماضی کی ان پرانی راہوں کی اندھی تکلید کیوں کرنے لگتے ہیں
01:54ایسا کیوں ہے کہ لوگ سچاری کو ڈھونڈنے کے مشکل چیلنج کے وجہے
01:58بس فیملیر چیزوں کے کمفرٹ زون میں رہنا پسند کرتے ہیں
02:01یہاں اس ایکسکیوز پر ذرا غور کریں
02:04یہ لٹرل بہانہ تھا جو حضرت ابراہیم کی قوم نے ان کے سامنے پیش کیا
02:08ہم نے اپنے بات دادا کو ایک راستے پر پایا
02:11اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں
02:14یہ جملہ انسانی فطرت کے اس فلو کو پرفیٹلی کیپچر کرتا ہے
02:18جہاں انسان اپنی اقل کے بجائے صرف انسیسٹرل مومنٹم کے سہارے چلتا ہے
02:23مگر حضرت ابراہیم نے بلکل بورلی اس اندھی روایت کو ریجیکٹ کر دیا
02:27انہوں نے واضح کیا کہ سچائی کو سمجھنے کے لیے
02:30اقل، ریزننگ اور لوجک کی ضرورت ہوتی ہے
02:32سچائی کے لیے نہ بعض اوقات پورے معاشرے کے خلاف اکیلے خڑا ہونا پڑتا ہے
02:36انہوں نے کلیئر کیا کہ عبادت صرف آسمان اور زمین کے بنانے والے کی ہے
02:40بجائے اس کے کہ غلط تاریخ کو دوراتا جایا جائے
02:50یہاں ایک اور انٹینس کانفرنٹیشن ہے
02:52جہاں پولٹیکل طاقت کو خدای سچائی کا درجہ دے دیا گیا تھا
02:56یہ جو کال ہے نا
02:57یہ ورلڈی ڈیلیوزن
02:58یعنی دنیا کے دھوکے کی ایپسولیوٹ پیک کو شو کرتا ہے
03:01فیرون کہتا ہے
03:03کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں
03:04اور کیا یہ نہرے میرے نیچے نہیں بہ رہی
03:07یہ پرفیکٹلی دکھاتا ہے
03:08کہ کس طرح اس نے اپنے واسٹ انفرسٹرکچر کو
03:11حضرت موسیٰ کے خلاف اپنی سپیریورٹی کا ثبوت سمجھ لیا تھا
03:14اس کانٹرانسٹ کو دیکھ کر چیزیں انکریڈبلی کلیر ہو جاتی ہیں
03:18ایک طرف معاشرے کا سٹینڈر ہے
03:20جو کسی کی ورد کو بادشاہتوں
03:22نہروں اور محلوں سے نابتا ہے
03:24اور دوسری طرف ڈیوائن سٹینڈر ہے
03:26جہاں اصل ویلیوز صرف اور صرف
03:28سچائی کے سامنے جھکنے اور حقیقی نشانیوں کو ماننے میں ہیں
03:32معاشرہ گول دیکھتا ہے اور حقیقت سبمیشن دیکھتی ہے
03:35فیرون کی سب سے بڑی ٹراجیڈی ہی یہی تھی
03:38کہ اس کا تکبر اس کی ایگو
03:40اس قدر بڑھ چکی تھی
03:42کہ اس نے اس کے دل کو پوری طرح اندھا کر دیا تھا
03:45جب ایرگنس حد سے گزر جائے
03:47تو بڑی سے بڑی نشانی اور ایویڈنس بھی
03:50یوزلیس ہو جاتی ہے
03:51اور یہی زد اسے سیدھا اس کی تباری کی طرف لے گئی
03:54صدیوں بعد مکہ میں بھی
03:57بلکل وہی پرانا ٹرادیشنل مائنڈسیٹ
03:59دوبارہ اُبھر کر سامنے آیا
04:01چوتھا حصہ
04:02میکنز ڈیمانڈ آ ویلتھی پروفیٹ
04:05یہ ایکچول اوبجیکشن تھا جو اس وقت
04:07مکہ کے لوگوں نے ریس کیا تھا
04:08اگر ایک نبی کو چننا ہی تھا
04:10تو مکہ یا تائف کی کسی بہت امیر اور انفلوینچل لیڈر کو
04:13کیوں نہیں چننا گیا
04:23سورہ از زخرف یہاں کلیر کرتی ہے
04:25کہ دنیا کی یہ چمک دمک
04:27اللہ کے نزدیک کتنی بے قیمت ہے
04:29بتایا گیا ہے کہ دنیا کی دولت
04:31اتنی انسیگنیفکنٹ ہے
04:32کہ اگر اس بات کا ڈر نہ ہوتا
04:34کہ سب لوگ ہی کفر پر جمع ہو جائیں گے
04:36تو منکرین کے گھروں کی چھتیں اور سیڑیاں
04:38پوری کی پوری چاندی اور سونے کی بنا دی جاتی
04:40اصل ویلیو محلوں میں نہیں
04:42ایمان اور نیک امالی میں ہے
04:46پانچمہ حصہ
04:49یہاں دیکھتے ہیں کہ کس طرح
04:50ہسٹوریکل نیریٹیوز کو غلط روایات
04:52کے لیے ٹویسٹ کیا جاتا ہے
04:54مکہ والوں نے کوشش کی کہ حضرت عیسیٰ
04:56کے ذکر کو کسی طرح اپنی
04:58آئیڈل ورشپ کو جسٹیفائی کرنے کے لیے
05:00یوز کر لیں مگر ٹیکسٹ بلکل
05:02کلیرلی سٹیٹ کرتا ہے کہ حضرت
05:04عیسیٰ اللہ کے ایک نوبل سرونٹ
05:06اور مسنجر تھے جنہوں نے
05:08ہمیشہ پیور مونوثیزم
05:10یعنی صرف خالص توہید کی دعوت دی
05:12ہر سنگل نبی نے
05:14exactly یہی سیم میسیج ڈیلیور کیا
05:16صرف ایک کریٹر کی عبادت کرو
05:18اور اب ہم آتے ہیں اپنے آخری حصے پر
05:21چھٹا حصہ
05:22the ultimate final reality
05:24ان تمام ورلی ٹریڈیشنز کو
05:26بریکڈاؤن کرنے کے بعد اب ہم
05:28اس منزل پر ہیں جہاں ہر انسان
05:30کو آخرکار پہنچنا ہے
05:31ججمن ڈے کی آمد کا تصور
05:34واقعی کتنا سوبریں گے
05:35ایک ایسی اچانک آمد جہاں
05:37وہ سارے alliances وہ ساری friendships
05:39جو صرف worldly gains یا فائدے کے لیے
05:41بنائی گئی تھیں وہ اچانک سے
05:43bitter rivalries یعنی دشمنی میں
05:45بدل جائیں گی دنیا کی دولت
05:47بالکل vanish ہو جائے گی اور صرف وہی
05:49bond survive کریں گے جو حقیقی ڈر اور
05:51سچائی پہ بیس تھے جن لوگوں
05:53نے ان illusions کو پہچان لیا
05:55اور سچ کو چنا ان کے لیے یہ حقیقت
05:58ہے the reality of paradise
05:59ایک ایسی جگہ جہاں
06:01absolute safety ہے نہ کوئی خوف
06:04ہے نہ کوئی غم یہ ایک
06:05eternal peace اور permanent عزت
06:08ہے جو دنیا کے ان temporary
06:09چھوٹی چھوٹی چیزوں کو completely
06:11replace کر دیتی ہے اور اس کے
06:13برقص جو لوگ بڑی زد کے ساتھ
06:15پرانی اور false tradition سے چمٹے
06:17رہے ان کے لیے inescapable
06:20consequences ہیں وہاں
06:22سے زمین پر واپس آنے کا
06:23وقت کی timeline کو ٹھیک کرنے کا
06:25کوئی second chance نہیں ہوگا
06:26بس گزرے وقت اور lost opportunities
06:29کا ایک eternal regret ان کا
06:31مقدر بن جائے گا تو سب سے
06:33crucial point جو یہاں سمرائز کیا
06:35گیا ہے وہ یہ ہے کہ ہر دور
06:37میں ایک stark choice ملتی ہے
06:39ایک طرف وہ temporary illusion
06:41والی list ہے سونا بادشاہت اور
06:43اندھی تقلد دوسری طرف
06:45the eternal reality ہے
06:46سچا ایمان نیک عمل اور
06:49ultimate accountability
06:50فیصلہ ہمیشہ انسان کے اپنے
06:53ہاتھ میں ہوتا ہے
06:53اصل میں یہ پورا پیغام ایک بہت
06:56بڑی reminder ہے کہ انسانیت سے
06:58اس بات کا حساب لازمی لیا جائے گا
07:00کہ اس نے ultimate truth پر
07:02کیسا response دیا
07:03ہدایت کا ملنا undoubtedly
07:05ایک immense honor ہے
07:07لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک
07:09weighty responsibility بھی لایا ہے
07:10ایک ایسی responsibility کہ اب اس پر
07:13عمل کرنا ہے
07:14نہ کہ بس history کی blind imitation
07:16کرنی ہے
07:16اور اسی کے ساتھ یہ explainer
07:19اپنے آخری اور سب سے اہم
07:21سوال پر آکے رکھتا ہے
07:22جب وہ آخری دن آئے گا
07:23سب کچھ ختم ہو جائے گا
07:25تمام دنیاوی traditions
07:26vanish ہو جائیں گی
07:27سارا سونا پاور اور باب دادا کی
07:29رسمیں پیچھے جھوٹ جائیں گی
07:31تو پھر آگے پیش کرنے کیلئے
07:32کیا بچے گا
07:33یہی وہ single most important
07:35سوال ہے جس کا جواب
07:37سب کو ڈھونڈنا ہے
07:40موسیقی
Comments