Skip to playerSkip to main content
Roshni Sab Kay Liye

Watch All The Episodes ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicRrVkO8DpCZA58AUTcn6tc

Topic: Seerat un Nabi SAWW aur Asre Hazir

Host: Syed Adnan Khalid

Guest: Mufti Ahsan Naveed Niazi, Allama Zaigham Ali Gardezi, Mufti Abu Bakar Siddique

#RoshniSabKayLiye #islamicinformation #ARYQtv

A Live Program Carrying the Tag Line of Ary Qtv as Its Title and Covering a Vast Range of Topics Related to Islam with Support of Quran and Sunnah, The Core Purpose of Program Is to Gather Our Mainstream and Renowned Ulemas, Mufties and Scholars Under One Title, On One Time Slot, Making It Simple and Convenient for Our Viewers to Get Interacted with Ary Qtv Through This Platform.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Roshni Samb Khe Liyye
00:03Roshni Roshni Samb Khe Liyye
00:10A'udhu Billahi Minash Shaitanir Rajim
00:15Bismillahirrahmanirrahim
00:16Nazirin Egyaramiya Kudr
00:17Assalamualaikum Warahmatullahi Wabarakatuhu
00:20آپ دیکھ رہے ہیں
00:21پروگرام Roshni Samb Khe Liyye
00:23اپنے مذبان سید Adnan Khalid
00:26کے ساتھ
00:26بے حد و بے حساب درود و سلام ہوا قائے نامدار
00:30احمد مجتبہ
00:31محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
00:34ذات والا صفات پر
00:36جو وجہ تخلیق کائنات ہیں
00:39رب کریم کا شکر ہے
00:40کہ اس نے ہم پر اپنا خصوصی فضل و کرم فرمایا
00:44اور ہماری زندگی کو
00:45یہ ساتھیں اور یہ خوشبختیاں عطا فرمائی
00:48کہ ہم آج ایک ایسے خوبصورت پروگرام کے ساتھ
00:51ایک مرتبہ پھر اپنی پوری دنیا میں
00:53دیکھنے والے ناظرین کے سامنے حاضر خدمت ہیں
00:56جو جانتے ہیں کہ
00:57روشنی سب کے لیے
00:59ایک ایسا خوبصورت سلسلہ ہے
01:01اے آر وائی کیو ٹی وی کا
01:02جس میں ہم مختلف موضوعات کے ساتھ
01:05آپ کے سامنے حاضر خدمت ہوا کرتے ہیں
01:07اور ان موضوعات کی مختلف جہتوں پر
01:10اور ان موضوعات کے
01:12مختلف زاویوں اور گوشوں پر
01:14ہم کوشش کرتے ہیں
01:14کہ سلسلہ وار مرحلہ وار
01:16گفتگو کی جائے
01:18اور پرگرامز آپ کے لیے پیش کیا جائیں
01:20اور آج بھی ہم ایک انتہائی خوبصورت
01:22اور انتہائی اہم موضوع کے ساتھ
01:24آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں
01:26ناظرین اگرامی قدر یہ دور
01:28بلا شبہ سائنس کی
01:30ترقی کا دور ہے
01:31یہ وہ دور ہے
01:32کہ جسے ہم کہہ سکتے ہیں
01:34کہ یہ خالصتاً ٹیکنالوجی کا دور ہے
01:37یہ وہ دور ہے
01:38کہ جہاں انفارمیشن
01:40وقت کے ساتھ ساتھ
01:41جس ترقی کے
01:42اور جن زاویوں کو
01:44استوار کرتی چلی جا رہی ہے
01:45اور جس طریقے کے ساتھ
01:47لوگوں کو جھوڑتی چلی جا رہی ہے
01:49لمحات اور چند سیکنڈز کی
01:51مسافت پر لوگ
01:52ایک دوسرے سے جڑ رہے ہیں
01:54یقیناً یہ اس وقت
01:56سائنس کا ارتقائی دور کہا جائے
01:58تو یقیناً غلط نہ ہوگا
02:00اور ناظرین اگرامی قدر
02:01اس کے باوجود
02:02سوال یہاں
02:03یہ پیدا ہوتا ہے
02:05کہ کیا ان جدید ذرائع
02:07کو استعمال کرنے کے
02:08باوجود انسان ایک دوسرے سے
02:10واقعی قریب آیا ہے
02:12یا نہیں
02:13ناظرین اگرامی قدر
02:14آج ہمارے پاس
02:15کوئی بھی
02:16اگر فرد مجھے دیکھ رہا ہے
02:18تو وہ اس بات سے اتفاق کرے گا
02:20کہ کون ہے ایسا
02:21کہ جس کے پاس
02:21سمارٹ فون موجود نہیں ہے
02:23اور سمارٹ فون کے ذریعے
02:24ہم سوشل میڈیا سے
02:26کنیکٹڈ ہیں
02:27اور آپ جانتے ہیں
02:28کہ سوشل میڈیا کے ذریعے سے
02:30پھر ہمارے ہزاروں فالورز ہیں
02:31ہمارے فرینڈ سرکل میں
02:33بہت سے لوگ موجود ہیں
02:34کہ جن کی تعداد سنکڑوں میں ہے
02:36لیکن ناظرین اگرامی قدر
02:38اس کے باوجود
02:39ہم یہ محسوس کرتے ہیں
02:40کہ دور حاضر کا انسان
02:42تنہائی محسوس کرتا ہے
02:44اکیلاپن محسوس کرتا ہے
02:45اور یہ محسوس کرتا ہے
02:46کہ میری دل کی بات سننے والا
02:48تو کوئی ہے ہی نہیں
02:49حالانکہ
02:50کمیونکیشن کے
02:51ہزار ہزرائے
02:52ہمیں اس وقت دستیاب ہیں
02:54لیکن ناظرین امہترم
03:01پہنچتے ہیں
03:02کہ ہمیں اپنا رخ
03:03کرنا پڑے گا
03:04ذاتِ رسالت مآب
03:06صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:08کی جانب
03:08کہ جن کا
03:09ظاہری حیاتِ مبارکہ
03:11کا اگر دور دیکھ لیا جائے
03:13تو حضور نہ صرف
03:14اپنی ظاہری
03:15حیاتِ مبارکہ میں
03:16اس دور میں
03:17موجود
03:18انسانوں کے لیے
03:19کہ جو آج سے پندرہ سو سال
03:21پہلے موجود تھے
03:22ان کے لیے نمونہ عمل ہیں
03:24بلکہ ہر دور میں
03:25ہر اہد میں
03:26ہر زمانے میں
03:27ہر انسان کے لیے
03:29ہر معاشرے میں
03:30دنیا کا کوئی بھی
03:31معاشرہ ہو
03:31ہر جگہ پر
03:32حضور نبی اکرم
03:33صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:35کی ذاتِ والا صفات
03:36بہترین
03:37نمونہ عمل ہے
03:38اور ناظرینِ گرامی قدر
03:39آج ہمارا موضوع ہے
03:41سیرت النبی
03:42صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:44اور
03:44اثرِ حاضر کے
03:46جدید اور اہم ترین
03:47تقاضے
03:48ناظرینِ گرامی قدر
03:49آج کے دور کا انسان
03:50حضور نبی رحمت
03:51صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:53کی زندگی کے
03:54وہ احوال
03:56وہ افعال
03:56وہ اقوال
03:57کس طریقے کے ساتھ
03:58اپنی زندگی میں
03:59ڈھال سکتا ہے
04:00کیسے انسپریشن
04:01لے سکتا ہے
04:01اور کس طریقے سے
04:03حضور نبی اکرم
04:04صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
04:06کی سیرتِ مبارکہ
04:07کہ وہ
04:07خوبصورت نقوش
04:09کو
04:09اپنی زندگی میں
04:10کشید کر سکتا ہے
04:11ناظرینِ گرامی قدر
04:13آج
04:13اس خوبصورت موضوع پر
04:14گفتگو کے لیے
04:15ہمارے ساتھ
04:16مہمانانِ گرامی
04:17کا پینل موجود ہے
04:18میں
04:18آپ کا
04:20تعرف
04:20ان مہمانانِ گرامی
04:22کا
04:22آپ سے کرواتا چلوں
04:23ہمارے ساتھ
04:24میرے بائیں جانب
04:25تشریف فرما ہے
04:26ممتاز و معتبر
04:27عالم دین
04:28شیخ الحدیث
04:29والتفسیر
04:30اور تخصص کے
04:31استاد ہیں
04:32اور اے آر وائی کیو ٹی وی
04:33کے مختلف پروگرامز
04:34میں آپ انہیں
04:35سالہ سال سے
04:35دیکھ رہے ہیں
04:36بہت خوبصورت
04:37گفتگو کرنے والی
04:38شخصیت
04:38حضرت علامہ
04:39مولانا مفتی
04:41احسن نوید نیازی
04:43صاحب دامت
04:43برکاتم العالی
04:44قبلہ
04:44السلام علیکم
04:45وعلیکم السلام
04:46ورحمت اللہ
04:47وبرکاتہ
04:48آج ایک طویل عرصے
04:49کے بعد
04:50after a long time
04:51we are together
04:52again
04:53الحمدللہ
04:54nice to see you
04:55here
04:55اور ساتھ ہی
04:56میرے دائیں جانب
04:56تشریف فرما ہے
04:57معروف و معتبر
04:58عالم الدین
04:59ایک ایسی شخصیت
05:00جنہیں آپ
05:01اے آر وائے
05:01کیو ٹی وی کے
05:02مختلف پروگرامز
05:03میں مختلف
05:03سلسلوں میں
05:04دیکھا کرتے ہیں
05:05ساتھی ساتھ
05:06روشنی
05:06جب پیش کیا جاتا ہے
05:08تو آپ اس پروگرام
05:09میں بھی انہیں
05:09گائے گائے دیکھا کرتے ہیں
05:11حضرت علامہ
05:11مولانا سید
05:12زیغم علی گردیزی صاحب
05:13طبلہ
05:14السلام علیکم
05:15ورحمت اللہ
05:15خیر مقدم ہے
05:16آپ کا آج
05:17اس نشست میں
05:18اور ساتھ ہی
05:19تیسری نشست پر
05:20ایک ایسی نوجوان
05:21عالمدین شخصیت
05:22ہمارے ساتھ
05:22موجود ہیں
05:23جنہیں میں
05:24اگر یہ کہوں
05:25کہ بلا شبہ
05:25اے آر وائے
05:26کیو ٹی وی کی
05:26سکرین پر آپ
05:27ایک حسین اور خوبصورت
05:28اضافی کی صورت میں
05:30ہمیں نظر آئے
05:31اور بہت خوبصورت
05:32گفتگو کرنے والی شخصیت
05:33بڑی گرفت کے ساتھ
05:34ہر موضوع پر
05:35میں نے جبارہ
05:37یوں کہیے
05:38کہ محسوس کیا
05:39بہت ہی خوبصورت
05:40گفتگو اور گرفت
05:41کے ساتھ
05:41گفتگو کرنے والی شخصیت
05:43حضرت علامہ مولانا
05:44مفتی محمد
05:45ابو بکر صدیق صاحب
05:46ہمارے ساتھ موجود ہیں
05:47سلام علیکم
05:48بخير و آفیت ہیں
05:49ہم سلسلہ کلام
05:51کا آغاز کرتے ہیں
05:52قبلہ
05:52کیا اشارت فرمائیے گا
05:54کہ امن عامہ کے لیے
05:55قیاموں استحقام کے لیے
05:57نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:00کے عملی اقدامات پر
06:02کیا روشنی ڈالیں گے
06:03اور حضور نے
06:04امن عامہ کے لیے
06:05خاص طور پر
06:06کیا کارنامہ
06:07اپنے اہد مصر انجام دیا
06:09کہ جو آج
06:10رہتی دنیا تک
06:11عالم انسانیت کے لیے
06:12رجد و ہدایت کا سر چشمہ ہے
06:13بسم اللہ الرحمن الرحیم
06:15صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:17حضور جانے عالم
06:19صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:21تو منارہ نور ہیں
06:22آپ کی سیرتِ طیبہ
06:24آبِ حیات کی حیثیت رکھتی ہے
06:26ساری انسانیت کے لیے
06:28آپ جو ہے وہ
06:28ہول مینکائنڈ کے لیے
06:31انٹائر ورلڈ
06:32بلکہ یونیورس کے لیے
06:33آپ رحمت بن کر
06:34تشریف لائے
06:35تو آپ نے
06:36جو کارنامہ سر انجام دیئے
06:38اور جو آپ نے
06:39امن عامہ کے لیے
06:40کام کیا ہے
06:42اس کا اندازہ
06:43ہی سے لگا لیجئے
06:43کہ اللہ تعالیٰ نے
06:45قرآن میں
06:45اب آپ کا اعلان فرمایا ہے
06:48تو یوں فرمایا ہے
06:49آپ کو
06:52کہ ارے ہم نے آپ کو
06:54نہیں بھیجا
06:54مگر آلمین کے لیے
06:56رحمت بنا کر
06:57خود حضور جانے
06:58عالم علیہ السلام
06:59نے بھی یہ بات فرمائی
07:00حدیث میں بھی آئی
07:01اینا رحمتن مہدات
07:02میں خالص رحمت ہوں
07:04میں رحمت مہدات ہوں
07:07مہدات بھی پڑھا جاتا ہے
07:08مہدات بھی پڑھا جاتا ہے
07:10اور دونوں طرح
07:10الگ الگ مانا ہے
07:11اور دونوں مانا ہی درست ہے
07:12کہ میں سرابہ رحمت ہوں
07:13میں مہد رحمت ہوں
07:15سبحان اللہ
07:17جو عالمین کے لیے
07:19رحمت بن کر آئے ہیں
07:20تو ظاہری بات ہے
07:21جب وہ اس دنیا میں
07:22تشریف لائے
07:23تو اس وقت
07:24دنیا کا عالم کیا تھا
07:29قرآن نے نقشہ کیا
07:31کھینچا ہوا ہے
07:31کہ خشکی اور تری میں
07:32فساد پھیل گیا
07:33لوگوں کے کرتوتوں کی وجہ سے
07:36تو خشکی اور تری میں
07:38فساد پھیلا ہوا تھا
07:39اس بہر و بر میں
07:40فساد پھیلا ہوا تھا
07:41لیکن جب محبوب خدا
07:42تشریف لائے ہیں
07:43آپ کا افتاب عالم
07:45تاب تلو ہوا ہے
07:46تو آپ نے اس کو
07:47آمن اور آشتی کا
07:48گہوارہ بناتیا
07:49آپ نے شرک کے اندھیرے سے
07:50نکالا
07:51توحید کے نور میں لے آئے
07:52ظلم کے اندھیرے سے
07:54نکالا
07:54انصاف کے
07:55عادل کے نور میں لے آئے
07:57بے امنی کے اندھیرے سے
07:58نکالا
07:59امن کے نور میں لے آئے
08:00اور آپ
08:01علیہ السلام کی
08:02سیرت تیبہ کو
08:03آپ دیکھیے
08:03آپ علیہ السلام
08:04شروع سے لے کر
08:05آخر تک آپ کو
08:06نظر آئے گا
08:07کہ کس طرح آپ نے
08:08جو کام کیا ہے
08:10جو بات کی ہے
08:11وہ
08:11امن اور
08:13امانت
08:13اور سلامتی کے ساتھ
08:15کس طرح
08:15لنک اپ ہے
08:16آپ دیکھئے
08:17اعلان نبویت سے
08:18پہلے بھی
08:19جب
08:19کعبہ مشرفہ کی
08:20تعمیر کا معاملہ تھا
08:22اور اس وقت
08:22جب حجر اسود کی
08:23تعمیر کا معاملہ
08:24حجر اسود کو
08:25نصب کرنے کا معاملہ آیا
08:26حجر اسود کو
08:27نصب کرنا آیا
08:28تو ہر قبیلہ چاہتا تھا
08:29کہ یہ شرف
08:30ہمیں ملے
08:30اور وہاں
08:31قبائلی تفاخر بھی تھا
08:33اور آپس میں
08:33پھر وہ
08:34کمپیٹیشن بھی تھا
08:35اور لڑائی جھگڑا
08:36چھوٹی چھوٹی باتوں پہ
08:37ہو جایا کرتا تو
08:38اور یہ تو پھر
08:38بہت بڑی بات تھی
08:39بہت بڑا شرف تھا
08:40ہر ایک چاہتا تھا
08:41کہ یہ عزاز
08:41ہمارے قبیلوں کو ملے
08:43اور جب
08:43جنگ اور جدال کی نوبات آئی
08:45بلاخر ان کا
08:46آپس میں تیہیے ہوا
08:47کہ چلو اس جھگڑے کو
08:48یوں نپٹاتے ہیں
08:49کہ کل جو
08:50صبح سب سے پہلے پہلے آئے گا
08:51داخل ہوگا
08:52کعبہ مشرفہ میں
08:53یا مسجد الحرام میں
08:54تو اس کو
08:55وہ بندہ جو ہے
08:56وہ حجر اسمت کو نصب کرے گا
08:58اب اگلے دن دیکھئے
08:59سب سے پہلے جو ہے
09:00وہ کون تشریف لیا
09:01اللہ کے محبوب
09:02صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:03جب آپ تشریف لائے
09:04لوگوں نے جب آپ کو دیکھا
09:06تو کیا کہا
09:07کہ یہ ضرور امین ہیں
09:12یہ امانت دار ہیں
09:14ہم ان پر راضی ہیں
09:15یہ محمد ہیں
09:19کہ اللہ کے محبوب چاہتے
09:20تو وہ حجر اسمت آپ
09:21خود نصب فرما دیتے
09:23کہ جب ان کا فیصلہ
09:24یہ ہو چکا تو
09:25اور اس پر کوئی اعتراض بھی نہ کرتا
09:26لیکن چونکہ آپ
09:28دلوں کو جھوڑنے والے تھے
09:29اور آپ چاہتے تھے
09:30کہ امن ہر سطح پر قائم ہو
09:32اور کبھی اس میں کوئی جنگ
09:34جدال جھگڑے کی نوبت نہ آئے
09:36تو آپ نے کیا
09:37وہ حکیمانہ
09:38آپ نے اسلوب اختیار کیا ہے
09:39کیا فیصلہ فرمایا
09:40سارے قبیلے سے
09:41جوانوں کو کٹھا کیا
09:42ہر قبیلے کا ایک ایک نمائندہ
09:44چادر رکھی
09:45چادر میں
09:46حجر اسود کو رکھا گیا
09:47اور ہر قبیلے کے
09:48ایک نمائندہ نوجوان کو کہا
09:50کہ وہ چادر کو اٹھا لیں
09:51چادر کو سب نے اٹھایا
09:53اور آپ علیہ السلام نے
09:54حجر اسود کو وہاں پر
09:55نصب فرما دیا
09:56تو یہ دیکھئے
09:57اس وقت جنگ اور جدال کا
09:58موقع بن رہا تھا
09:59اور بڑی جنگ سے
10:00آپ نے بڑے جھگڑے سے بچایا
10:02یہ اعلان نبوت سے
10:03پہلے کا معاملہ ہے
10:04اعلان نبوت کے بعد
10:06بھی ایسا ہے
10:06وہ آپ دیکھئے
10:07ساری زندگی آپ نے
10:08جو کاوشیں کی ہیں
10:09ہر سطح پر آپ نے
10:10چاہا کہ امن ہو
10:11اور جہاں جنگ کی نوبت آئی ہے
10:14تو وہاں بھی
10:15پہل دوسروں کی طرف سے ہوئی
10:17اور دوسرا وہاں جو جنگیں ہوئیں
10:18وہاں بھی بے امنی
10:20اور ظلم کو ختم کرنا بھی
10:22اس کے مقاصد میں سے
10:23ایک مقصد تھا
10:24الائے کلمت اللہ تھا نا
10:25تو الائے کلمت اللہ میں
10:27ظلم کا خاتمہ شامل ہے
10:28الائے کلمت اللہ میں
10:30بے امنی کا انصداد کرنا
10:32صد باب کرنا شامل ہے
10:33امن کو قائم کرنا شامل ہے
10:35وہ آپ نے اس حساب سے
10:37وہ غزوات کا معاملہ ہوا
10:38سرایہ کا معاملہ ہوا
10:40مدینہ منورہ میں تشریف الائے
10:41یہودیوں کے ساتھ
10:42جو معاہدہ کیا
10:43غاز میں میسا کے مدینہ ہوا
10:45تو وہ بھی امن تھا
10:45چاہتے تو آتے ہی
10:46ان کے ساتھ جنگ نہیں فرمائی
10:48بلکہ جو ہے
10:49وہ ان کے ساتھ معاہدہ کیا
10:50اور اپنی طرف سے پوری کوشش کی
10:52کہ وہ ساتھ مل جل کر رہیں
10:54باہم شیر و شکر رہیں
10:55کوئی اس طرح کا معاملہ نہ بنے
10:57کہ جو بے امنی کی طرف جائے
10:59نقض امن والا کوئی معاملہ
11:01آپ علیہ السلام کی طرف سے نہیں ہوا
11:03نہ آپ کے پیروکاروں کی طرف سے ہوا
11:05پھر اسی طرح جو معاخات
11:07کا آپ نے اعلان فرمایا
11:08جو مہاجرین اور انصار کے درمیان
11:10بھائی چارہ قائم فرمایا
11:11پھر اسی طرح جب فتح مکہ کا موقع ہوا
11:13دیکھئے
11:14آپ نے جنگ عظیم دیکھی
11:15جنگ عظیم کیا حوال آپ نے پڑے ہیں
11:17آپ کتابیں دیکھتے ہیں
11:19خبریں سنتے ہیں
11:20جنگ عظیم اول جو ہوئی
11:21اس کے بعد کیا ہوا
11:22جنگ عظیم دوئم جو ہوئی ہے
11:24اس کے بعد
11:24فرسٹ ورلڈ وار
11:25سیکنڈ ورلڈ وار کے بعد
11:26جو فاتحین تھے
11:28ان کا مفتوحین کے ساتھ
11:29تعلق کیسا رہا ہے
11:30وہ بھی آپ نے دیکھا ہے
11:31اور یہاں فتح مکہ کے موقعے پہ دیکھئے
11:33کہ اللہ کے مہوری ساتھ سامنے
11:35فتح فرمائی ہے
11:36اور اس فتح کے بعد
11:37آپ نے دیکھیں
11:38کوئی انتقام
11:39کوئی بدلہ
11:40کچھ بھی نہیں
11:40نہ کوئی تکبر
11:42نہ نخوت
11:43کوئی غرور کا شائعبہ تک نہیں
11:45بلکہ سر اقدس
11:46جھکا ہوا ہے
11:46شکر کے جذبات سے
11:48اور لوگوں کو کیا فرمایا جا رہا ہے
11:50لا تصریب علیکم اليوم
11:52اذہبو وانتم التلقا
11:54آج تم پہ کوئی معاخدہ نہیں ہے
11:56جاؤ تم سب آداد ہو
11:58یہ وہ لوگ تھے
11:59جنہوں نے
12:00آپ علیہ السلام کی راہ میں
12:02کانٹے بچائے تھے
12:03جنہوں نے آپ علیہ السلام پہ
12:05ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے تھے
12:07جنہوں نے آپ کو
12:07ہجرت پہ مجبور کیا تھا
12:09جنہوں نے آپ کی شہادت کے منصوبے بنائے تھے
12:11کون ساتھ تکلیف کا معاملہ ہے
12:14جو انہوں نے آپ کے ساتھ نہیں کیا
12:16کوئی دقیقہ فرو گداشت نہیں کیا
12:18آپ کو نقصان پہنچانے کا
12:19لیکن جب آپ علیہ السلام نے
12:21فتح فرمایا ہے
12:22تو آپ نے کیا آمن اور آشتی
12:23کا پیغام دیا
12:25میرا پیغام محبت ہے
12:26جہاں تک پہنچے
12:27سبحان اللہ
12:28ناظرین اگرامی قدر خوبصورت
12:30گفتگو کا سلسلہ جاری و ساری ہے
12:32اور ہم اس وقت یہاں
12:34ایک مختصصہ وقفہ لے رہے ہیں
12:35اس یقین کے ساتھ
12:36کہ آپ دیکھتے رہیں گے
12:37پروگرام روشنی
12:39ناظرین اگرامی قدر وقفے کے بعد
12:41آپ تمام کا خیر مقدم ہے
12:43آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں
12:44پروگرام روشنی
12:45سب کے لیے
12:46اپنے محذبان
12:47سید ادنان خالد کے ساتھ
12:49اور ناظرین اگرامی قدر
12:50سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:53اور اثر حاضر کے
12:54اس موضوع پر
12:55آج ہم بہت خوبصورت
12:57گفتگو جاری و ساری ہے
12:58یہاں پر ہم سامات کر رہے ہیں
13:00ہمارے ساتھ مفتیان اکرام موجود ہیں
13:02اور مفتی
13:03احسن نوید نیازی صاحب
13:05وقفے سے قبل جس طرح سے
13:06امن و استحکام کے لیے
13:08نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:10کے عملی اقدامات پر
13:11خوبصورت گفتگو فرما رہے تھے
13:13میں چاہوں گا کہ اب آپ اپنی بات مکمل فرمائیں
13:15اور پھر ہم مزید سلسلہ کلام کو آگے بڑھائیں
13:17میں گزارش کر رہا تھا
13:18کہ حضور جانعی علیہ وآلہ وسلم
13:19نے اس معاشرے میں
13:20امن عامہ کے قیام اور استحکام کے لیے
13:23بہت بہترین اقدامات فرمائے
13:25اور آپ اس کی لڑی
13:27اس کی کڑی جو پیچھے میں بیان کرنا تھا
13:29اسی کے ساتھ جھوڑتے ہوئے
13:30آپ یہ دیکھئے کہ اس معاشرے میں
13:32قتل و غارت عام
13:33اس معاشرے میں چوری عام
13:36اس معاشرے میں رہزنی ڈکیتی عام
13:38اس معاشرے میں عبرو ریزی عام تھی
13:40اب نبی پاک علیہ السلام
13:42اگر امن قائم کرنا چاہتے تھے
13:44تو ضروری تھا نا امن قائم کرنے کے لیے
13:46کہ یہ دروازہ روکا جائے
13:48تو یہ دروازہ بند کرنے کے لیے
13:50ضروری تھا کہ ان جرائم پر
13:51سخت قسم کی صدایں مقرر کی جائیں
13:53تو جہاں پہلے ترغیبات دی ہیں
13:55بشارتیں دی ہیں ان جرائم سے بچنے کی
13:58پھر وہیں پر ان جرائم پر صدایں
14:00رکھ دی گئیں ان قتل پر صدا رکھی
14:02اور بتایا کہ اگر کوئی قتل کرے گا
14:03ناحق قتل کرے گا گوئے ایسے ہے
14:06اس نے سارے انسانیت کو قتل کی ہے
14:07ناحق قتل کرے گا اگر ایک
14:10انسان کے ناحق قتل میں مسلمان کے
14:12زمین و آسمان والے شریک ہو جائیں
14:13اللہ سب کو اندھے مو جہنم میں
14:16ڈال دے گا
14:17آخرت کی صدا تو بیان کی دنیا کا فرمایا
14:20جو ناحق قتل کرے گا بدلہ لیا جائے گا
14:22قصاص لیا جائے گا
14:23قرآن کے اندر والاکم فی القصاص
14:25حیاتو یا علی الالباب
14:27اے انسانوں اے اہل
14:30اقل تمہارے لیے اس قصاص
14:32میں زندگی ہے اس قصاص
14:33مندگی رکھی گئی چوری کے لیے صدا مقرر
14:35کر دی گئی ڈکیتی کے لیے تازی رکھی گئی
14:38آبرو ریزی کے لیے اور شراب نوشی
14:40کے لیے بقاعدہ حدود مقرر کر دی گئیں
14:42جن کی وجہ سے امن عامہ
14:43قائم ہوا اور استحقام ہوا معاشرے میں
14:46آمن کا
14:46خوبصورت گفتگو فرما رہے ہیں قبلہ اور ساتھی ساتھ
14:49ناظرین اگرامی قدر جہاں
14:50ان لوگوں کے لیے سزاؤں کا اعلان
14:53کہ جو بارگاہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:56میں غستاخیاں کرتے تھے جو
14:58اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کیا
15:00کرتے تھے وہیں عدل و انصاف
15:02وہیں مساوات کا بھی وہ میار
15:04سرکارت و عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:06نے اپنی امت کے لیے پیش کیا ہے
15:08کہ جو یقیناً آج کے اس دور کے انسان
15:10کے لیے بھی نمونہ عمل ہے
15:11ہمارے ساتھ موجود ہیں حضرت علامہ مولانا
15:13سید زیغم علی گردیزی شاہ صاحب
15:15شاہ صاحب میں آپ کی جانے باؤں گا کیا ارشاد
15:18فرمائیں گے عدل و انصاف کے بارے میں
15:20سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:22سے ہمیں واضح طور پر کون سے ایسے
15:25رہنمہ حصول ملتے ہیں
15:27کہ جو آج کے انسان کو اپنی زندگی میں
15:29ڈھالنے کی اشد طور پر ضرور ہے
15:31بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہم صلی اللہ
15:34محمد وعلا علی محمد وآلہ وسلم
15:36شکریہ دن میں
15:38کسی بھی معاشرے کی
15:39فلا و بیبوت کے لیے ترقی کے لیے
15:42وہاں سب سے بنیادی جو چیز ہے
15:48تو امن کے قیام کے لیے بھی
15:50عدل ضروری ہے
15:51کہ عدل ہوگا تو پھر وہ امن و سلامتی
15:53و سکون ہوگا معاشرے میں
15:54اور بغیر عدل کے انصاف کی کوئی بھی
15:57معاشرہ کسی بھی طور پر ترقی نہیں پاسکتا
15:59سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:02کا اگر کردار دیکھیں
16:03تو زمانہ جاہلیت میں
16:05حضور نے اعلان نبور سے قبل ہم
16:07آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کردار
16:09و تعلیمات دیکھیں
16:10تو اس معاشرے میں عدل و انصاف کی
16:13اور قانون کی بالہ دستی کے لیے
16:14حضور نے
16:15ہر ممکن کوشش فرمائی
16:16اور غرباء کے ساتھ
16:18مساکین
16:19مظلوموں کے ساتھ
16:20جن کا حق مارا جاتا تھا
16:21آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:23ان کے لیے انصاف کی فرامی کے لیے
16:25عدل کی فرامی کے لیے
16:26آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:27کوشش فرماتے ہیں
16:28معایدات جو ہوئے
16:29اس میں بھی ہم دیکھ سکتے ہیں
16:30کہ عدل و انصاف کے قیام کے لیے
16:32آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:34نے وہ معایدات فرمائے
16:35اس میں شریک ہوئے
16:36اور شرکت فرما کر
16:38پوری حیاتِ طیبہ میں
16:39ان معایدات پر حضور فخر فرمایا کرتے تھے
16:42پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:44کا اگر معاملہ دیکھیں
16:45اعلانِ نبوت کے بعد
16:47حضور کا عدل و انصاف کے لیے
16:49کیا کردار ہے
16:50کہ بدتری مخالفت کے باوجود
16:52مشرقینِ مکہ
16:53اپنے فیصلے حضور کی بارگاہ میں
16:55لے کے آتے ہیں
16:55کیونکہ زمانہ جاہلیت میں بھی
16:57اور اعلانِ نبوت کے بعد بھی
16:59آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:01کے جو عصاف و خسائل
17:02مکہ مکرمہ میں مشہور ہیں
17:04حضور صادق ہیں
17:05امین ہیں
17:06عادل ہیں
17:06منصف ہیں
17:07یہ عصاف و خسائل
17:09آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:10کے اس بدترین معاشرے میں بھی
17:12باوجود مخالفت کے بھی
17:13مشرقین وہ اطراف کرتے ہیں
17:15کہ حضور یہ یہ عصاف
17:16آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:18میں پائے جاتے ہیں
17:18اس لئے ہم دیکھیں نا
17:20کہ حضور جب حجرت فرما کر
17:22مدینہ طیبہ تشریف لاتے ہیں
17:23تو بدترین مخالفت کے باوجود
17:26یہود و نصارہ اپنے کیسز
17:27اور اپنے اس طرح کے معاملات
17:28حضور کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں
17:29اگرچہ حضور کے پیغام
17:31کو انہوں نے قبول نہیں کیا
17:32لیکن وہ اس چیز کا اطراف کرنے پر
17:35مجبور ہو جاتے ہیں
17:36کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:46امیر غریب کا
17:47طاقتور کمزور کا
17:48یا کسی بھی ایسے معاملے کا
17:50آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:51لحاظ نہیں فرماتے ہیں
17:52حضور کی بارگاہ میں وہ معاملہ ہوا
17:53نا ذلخ ویسرہ گا
17:54اس نے جب ناپاک جسارت کی
17:56اور حضور کی بارگاہ میں ارز کیا
17:58کہ اے عدل یا محمد
18:00تو حضور نے خود اپنا تعارف فرمایا
18:02کہ میں اگر عدل نہیں کروں گا
18:04تو کون عدل کرے گا
18:04یعنی اس کائنات میں عدل
18:06اگر اس کا تشخص اور
18:09اس کا تعارف ہے
18:10تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:11کی ذاتے والا صفات کی سبب سے
18:13حضور کی برکر سے
18:14ہم نے عدل کو پہچانا ہے
18:16انصاف کو پہچانا ہے
18:17کہ عدل کس طرح کیا جاتا ہے
18:19سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:21کی بارگاہ میں
18:22عدل و انصاف کی فرامی کے لیے
18:23ضروری ہے کہ وہ
18:24میار اور پیمانہ ایک ہونا چاہیے
18:26اور اس میں کسی طرح کا
18:28کوئی لحاظ اور خیال نہ رکھا جائے
18:29حضور کی بارگاہ میں
18:31قبیلہ بنو مخزوم کی
18:33ایک عورت کا کیس پیش ہوا
18:34اور اس میں حضرت عسام بن زید
18:36کو سفارش کے طور پر پیش کیا گیا
18:38سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:40نے انتہائی جلال کا اظہار فرمایا
18:42اور فرمایا کہ تم سے
18:43جو پہلی اقوام ہیں
18:45وہ اس لیے حلاق کی گئی
18:46کہ جب کوئی طاقتور کوئی جرم کرتا
18:48تو اسے دے دلائے چھوڑ دیا جاتا
18:50اور کوئی اگر کمزور جرم کرتا
18:52تو ساری سزائیں اس پر نافذ کی جاتے
18:54فرمایا کہ خدا کی عزت و جلال کی قسم
18:57میرے قریبی افراد میں سے بھی
18:58اگر کوئی ایسا کرے گا
18:59تو اس کے ساتھ بھی
19:00قانون کے تقاضے پورے کیا جائیں گے
19:02یعنی ہم آج کے معاشرے میں
19:04ہم دیکھ لیں
19:04کہ ہماری جو پسماندگی ہے
19:06زبال ہے
19:07اور ترہ ترہ کی پریشانیاں ہیں
19:09مسائل سے جھکڑے ہوئے ہیں
19:10یہ حضور کا فرمان ہمارے سامنے ہیں
19:12کہ اگر گدشتہ اقوام
19:14اس سبب سے ان پر سختی آئی ہیں
19:16پریشانی آئی ہیں
19:17آج بھی اگر عدل و انصاف کا پیمانہ
19:19ایک نہیں رکھا جاتا
19:20طاقتور کے لیے الگ قانون ہے
19:21کمزور کے لیے الگ ہے
19:22امیر کے لیے الگ ہے
19:24غریب کے لیے الگ ہے
19:25جب تک یہ پیمانہ ایک نہیں کیا جاتا
19:27سب کے ساتھ قانون کے مطابق
19:29سلوک نہیں کیا جاتا
19:30تو کسی بھی معاشرے میں
19:31امن و سکون کا قائم ہونا
19:32اور اس معاشرے کا ترقی کرنا
19:34یہ ناممکن ہے
19:35بہت اہم بات آپ نے ارشاد فرمائی
19:36اور ایک اور سوال
19:37ہم یہاں شامل کریں گے
19:39ہمارے ساتھ موجود ہیں
19:39حضرت اللہ ملانا مفتی محمد
19:41ابو بکر صدیق صاحب
19:43مفتی صاحب ایک بہت خوبصورت سوال
19:45کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:48کی معاشی اصلاحات پر
19:50ہم چائیں گے
19:50کہ آپ روشنی ڈالیں
19:51اور یقینا یہ
19:52ہمارے دیکھنے والے ناظرین کے لیے
19:54بھی بہت ہی
19:55آہ انفرمیٹو جواب ہوگا
19:57آپ ضرور اسے
19:58اینہуди ایک ایک انفرمی مضبوط ہوگی
20:12اتنا ہی لوگ جو ہے وہ ترقی کریں گے
20:14جتنی ایکانمی مضبوط ہوگی
20:16اتنا ہی لوگ جو ہے وہ
20:17فلاح پائیں گے
20:18اور جتنی ایکانمی ویک ہوگی
20:20اتنا ہی لوگ جو ہے وہ
20:21جو وہاں پر رہنے والے ہوں گے
20:22وہ سفر کریں گے
20:23اب حضور علیہ السلام
20:24و السلام ایسے دور میں مبعوس
20:28کیے گئے ہیں اور ایسے لوگوں میں مبعوس
20:29کیے گئے ہیں کہ جن کے بارے میں یہ
20:31آتا ہے کہ ہر طرح کی برائی
20:33جو exist کر سکتی تھی اس معاشرے میں
20:35کسی نہ کسی صورت میں exist کرتی تھی
20:37idolry charging interest
20:39جسے ہم username کہتے ہیں جو ہے وہ
20:41وہاں پر عام تھا killing of infant
20:44daughters جو بالکل چھوٹی بچیاں ہیں
20:45ان کو زندہ دفن کرنے کا معاملہ
20:47ہر طرح کا دھوکہ معاشرے میں exist کرتا تھا
20:49اسی طرح عرب کے جو کافی علاقے
20:52...
21:51economy is powerful.
21:52has been under duty.
21:53And if you think that
21:55those of you will be
21:57under duty?
21:58Here is a deal in which
21:59the ground is
22:00those who have
22:01got there.
22:01Those who have
22:04to buy?
22:06..
22:06May this
22:06make a decision
22:13to get
22:13transparency
22:14has been
22:14anything.
22:16So,
22:18he'll
22:18make a
22:19transparency
22:20transparency کو بہت زیادہ promote کیا اور آپ نے جو ہے وہ دھوکے کو ختم کرنے کی کوشش کی خود
22:25فرمایا منغش شاہ فلیسہ منہ جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں خود اسلام کی یعنی حضور علیہ
22:30السلام پر کے اعلان نبوت سے پہلے بھی آپ علیہ السلام خود تجارت فرماتے تھے اور آپ حضور علیہ السلام
22:36کے اس دورے تجارت کے بارے میں پڑھیں تو ایک چیز جو واضح نظر آئے گی وہ یہ تھی کہ
22:40سرکار علیہ السلام جب تجارت فرماتے کوئی چیز بیچتے تو مکمل اس کی transparency کے ساتھ بیچتے س
22:48اگر اس میں کوئی defect ہے یا اس میں کوئی نقص ہے تو وہ بتاتے کہ یہ دیکھو اس میں
22:51یہ چیز ایسی ہے اور اس کے بعد اس کی اتنی payment بنتی ہے یہی وجہ تھی کہ سرکار علیہ
22:56السلام کا مال دوسرے لوگوں کے مقابلے میں جلدی بک جایا کرتا تھا اور دوسرے لوگ آپ پر زیادہ اعتماد
23:02کرتے تھے اور زیادہ profit آپ کو ملتا تھا خود ہاتھ خدیجہ تلکبران رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مال لے
23:07کر جب حضور علیہ السلام شام کی طرف گئے تو وہاں عام طور پر جتنا لوگوں کو profit ہوتا تھا
23:11حضور علی
23:15ناب طول میں کمی بہت زیادہ ہوتی تھی تو واضح حکامات ناب طول میں کمی کے حوالے سے قرآن کے
23:19آیت ویلل المتففین اس حوالے سے جو ہے وہ نازل ہوئی اور پھر آپ دیکھیں کہ معاش جو ہماری ایکانومی
23:25ہے اس کی بیس جو ہے بنیاد جو کھڑی ہے وہ آپ کے مزدوروں پر آپ کے ورکرز پر آپ
23:30کے امپلوئیز پر کھڑی ہے جو لوگ آپ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں ان کے حوالے سے
23:34بھی حضور علیہ السلام نے واضح حکامات بیان کی ہے وقت پر ان کو ان کی عجرت دینا جو ان
23:39کا پسینہ سوکھنے سے پہلے ان کو ان کی عجرت دے دینا غلامی کا سسٹم تھا غلام بہت زیادہ تھا
23:43لیکن غلاموں کے واضح حکامات وہاں پر ان کے حقوق دینا ہے یہ یعنی ایکانومی کو بہتر بنانے کے لیے
23:48خاص صرف مکہ جو تجارت پر بیس تھا حضور علیہ السلام نے اس حوالے سے واضح حکامات بیان کی ہے
23:53ناظرین اگرامی قدر بہت خوبصورت گفتگو ہو رہی ہے مفتان اگرام ہمارے ساتھ موجود ہیں اور روشنی کے اس پروگرام
24:00میں صلی اللہ علیہ وآ
24:06ایک عام آدمی سے جس قدر استفادہ کر سکے ضرور کرے اثر حاضر کے تقاضوں کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے
24:12یہاں وقت ہوا ہے ایک مختصر سے وقفے کا وقفے سے لوٹتے ہیں اس یقین کے ساتھ کہ آپ ہمارے
24:17ساتھ رہیں گے ناظرین اگرامی قدر وقفے کے بعد آپ تمام کا خیر مقدم ہے آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں
24:23پروگرام روشنی اپنے محذبان سید عدنان خالد کے ساتھ ہمارے ساتھ موجود ہے مفتیان اگرام کا پینل خوبصورت گفتگو ہو
24:30رہی ہے می
24:31میرے بائیں جانب تشریف فرما ہے حضرت علامہ ملانہ مفتی احسن نوید نیازی صاحب دامت برکاتم وفیوزہ ملالیہ قبلہ یہ
24:38ارشاد فرمائیے گا کہ ہمارے سماج سے ہمارے معاشرے سے بھوک و افلاس کو دور کرنے کے لیے سرکار دو
24:46عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ سے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہمیں کیا
24:51رہنمہ حصول ملتے ہیں اس پر روشنی ڈالیے گا
24:53بہت اچھی بات آپ نے کی بھوک اور افلاس ہے یہ تو وہ چیز ہے کہ انسان کو بہت سے
24:59جرائم پر آمادہ کرنے والی چیز یہ بھوک اور افلاس ہے
25:03بلکہ اس کے بارے میں تو یہاں تک فرمایا گیا نا قاد الفقر این یکونا کفرا کہ قریب ہے کہ
25:08محتاجی کفر تک لے جائے
25:10باوقات بندہ کفر تک میں مبتلا ہو جاتا ہے ایسے کام کرنا شروع کر دیتا ہے اس حد تک چلا
25:16جاتا ہے کہ جس حد تک عام حالات میں نہیں جاتا تو یہ بھوک اور افلاس ایسی چیز ہے
25:20تو حضور جانعالم علیہ السلام جب مبعوس ہوئے ہیں تو آپ علیہ السلام نے بھی اس بات کو یہ سمجھا
25:26اور سمجھ کر کہ بھوک اور افلاس جو معاشرے میں ہے اس کو ختم کرنا ہے
25:30تو بھوک اور افلاس کو ختم کرنے کے لیے آپ نے بہت زبردست اقدامات فرمائے ہیں
25:35ایک تو دیکھئے آپ نے اس کے اندر جو concentration of wealth ہے دولت کا ارتکاز ہے
25:41صرف بس جو ہے وہ ایک ہی طبقے کے ہاتھ میں ہے یا چند خاندانوں کے ہاتھ میں یا چند
25:46لوگ کے ہاتھ میں
25:46اس دولت کے ارتکاز کو ختم کرنے کے لیے جو نظام آپ نے قائم فرمایا ہے زکاة کا اور عوشر
25:53کا
25:53کہ وہ زکاة اور عوشر کا نظام ایسا قائم فرمایا کہ دولت مرتقز نہ رہے صرف چند ہاتھوں میں
25:58بلکہ سرکولیشن ہوتی رہے اس کے معاشرے میں
26:02جتنے طبقات ہیں جتنے افراد ہیں ان سب کو اس دولت میں سے حصہ پہنچے
26:07تو اس کے لیے آپ نے زکاة کا اور عوشر کا نظام قائم فرما دیا
26:11تو ایک تو آپ یہ دیکھئے کہ یہ جو زکاة اور عوشر کا نظام قائم فرمایا ہے
26:15یہ تو سیرتِ طیبہ کا حسن ہے یہ اسلام کا دین کا حسن ہے
26:19اور معاشرے سے بھوک اور افلاس کو ختم کرنے کے لیے سب سے بنیادی چیز یہ ہے
26:25کہ اگر زکاة اور عوشر کا نظام جو ہے کما حق کو ہو قائم کر دیا جائے
26:30جیسا قائم کرنے کا حق ہے جس طرح اللہ کی محمد علیہ السلام نے قائم فرمایا
26:34تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلنا ہے کہ بھوک اور افلاس معاشرے سے
26:38یا ختم ہو جائیں گے یا کم ہو جائیں گے
26:41ریڈیوز ہو جائیں گے بہتا ہے
26:42ایک بات دوسری بات یہ ہے کہ آپ نے جو صدقات کا نظام رکھا
26:46صدقات کی ترغیب دلائی نفلی صدقات کی
26:49وہ اس پر اتقن نارا ولو بشکی تمرا دوزت کی آگ سے بچو
26:54چاہے خجور کی ایک ٹکڑا ایک کاش دے کر ہی کیوں نہ ہو
26:57تو آپ علیہ السلام نے صدقات کی ترغیب دلائی
27:00پھر آپ علیہ السلام نے جو کفارات رکھیں ہیں
27:02آپ دیکھیں روزے کا کفارہ ہو یا قسم کا کفارہ ہو
27:05یا ذہار کا کفارہ ہو دیگر کفارات کے اندر
27:08لوگوں کو مسکینوں کو کھانا کھلانا اس پر فوکس کیا گیا ہے
27:12کفارات کے اندر غلام آزاد کرنے پر فوکس کیا گیا ہے
27:15لوگوں کو کپڑا پہنانے پر فوکس کیا گیا ہے
27:17اور پھر اس الگ سے بھی آپ نے اتعام و تعم پر باقاعدہ کئی فضائل اشارت فرمائے ہیں
27:22تو یہ ساری باتیں آپ نے جو فرمائی ہیں ان کے نتیجے میں یہ ہوا
27:26کہ وہ معاشرہ جو ہے اس کے اندر بھوک اور افلاس جو ہے
27:29وہ بہت نچلی سطح پر چلی گئی
27:31جیسے ایک مثالی معاشرے میں ہونا چاہیے
27:33اور آج کے اس معاشرے میں بھی جہاں جہاں لوگ خدمت خلق کے حوالے سے کام کر رہے ہیں
27:38یقینا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ سے ہی
27:42ہمیں وہ بنیادی اصول ملتے ہیں
27:44کہ جن کے ذریعے سے آج کا انسان اس اہم ترین موضوع کو سمجھ سکتا ہے
27:49اور اس کی نزاکت کو جانتے ہوئے اس کار خیر کو سر انجام دے سکتا ہے
27:52ہمارے ساتھ تشریف فرما ہیں
27:54حضرت علامہ مولانا مفتی سید زیادہ ملی گردیزی صاحب
27:57اور مفتی صاحب سے میں ایک اور سوال
27:59اسی تسلسل میں بہت تیزی کے ساتھ
28:01یہ پوچھنا چاہتا ہوں
28:02علامہ صاحب کیا ارشاد فرمائیں گے
28:03ہماری گھرے لو زندگی
28:05وہ زندگی جو ہمارے روز و شب ہیں
28:09جو ہمارے معاملات ہیں
28:10ہمارے اہل خانہ کے ساتھ
28:11ہمارے بڑوں کا احترام
28:12ہمارے بچوں کے ساتھ
28:14ہماری شفقتوں کے روئیے ہیں
28:15ہمارے جو گھرے لو عام حالات ہیں
28:18ان معاملات میں
28:19سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
28:21ہمیں کیا رہنمائی ملتی ہے
28:23کیا ارشاد فرمائیں گے
28:24ادنان بھئی جہاں
28:25سیرت طیبہ کے دیگر
28:27پہلو ہمارے سامنے ہیں
28:29اسی کے ساتھ ساتھ
28:30ایک روشن و نمائع پہلو
28:31آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
28:33کا اپنے اہل بیت اتحار کے ساتھ
28:35اہل خانہ کے ساتھ
28:36ازواج متحرات کے ساتھ
28:38اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ
28:40جو محبت و شفقت کا
28:41رحمت و رعفت کا ہمیں
28:42سلسلہ نظر آتا ہے
28:43یہ بھی ایک بہترین اور
28:45کامل ہمارے لئے عصوہ ہے
28:46نمونہ ہے
28:47سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
28:49ایک شفیق باپ کی حیثیت سے
28:52ایک محبت کرنے والے شہر کی حیثیت سے
28:54اور ایک بہترین
28:56صاحب خانہ کی حیثیت سے
28:57آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے
28:59ہمیں یہ درس ملتا ہے
29:01سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
29:03کا اپنے ازواج متحرات کے ساتھ
29:05جو رحمت و رعفت کا سلسلہ ہے
29:07وہ انتہائی خوبصورت سلسلہ میں نظر آتا ہے
29:10سیدہ خدیجت القبرہ
29:11رضی اللہ تعالیٰ کا وصال ہو گیا
29:12پوری زندگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
29:15ان کے احسانات کو ان کے خدمات کو یاد فرماتے ہیں
29:17اور بلکہ یاد فرمانے کے ساتھ ساتھ
29:19جب بھی ان کا تذکرہ ہوتا تو چشمان مقدس
29:21سانسوں سے تر ہو جاتی ہے
29:22سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیکھر ازواج متحرات
29:25کے ساتھ بھی یہ معاملہ ہے
29:26کہ ازواج متحرات میں سے
29:29کبھی بھی کسی نے حضور کے رویہ سے متعلق شکایت نہیں کی
29:32یعنی تمام ازواج متحرات
29:34کے حقوق اور ان کے ساتھ
29:36جو ایک محبت و شفقت کا معاملہ ہے
29:37آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ فرماتے تھے
29:39پھر اسی کے ساتھ ساتھ
29:41اہل خانہ کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آنا
29:43اس کو تو حضور نے کامل اور
29:45بہترین شخص کا ایک اس کی نشانی
29:48قرار دی خیر حکم خیر حکم لیا لی
29:51حضور نے اپنی شخصیت کو
29:52بطور نمونہ پیش فرمایا
29:53فرمایا کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ
29:56بہتر یعنی باہر جا کر تو
29:57ہر کوئی سب سے ہنس کھیل لیتا ہے
30:00بیار محبت سے اور اعترام سے بات کرتا ہے
30:02اس کا اندر کا انسان وہ تب جاگتا ہے
30:04جب وہ اپنے ماتحت افراد کے پاس آتا ہے
30:06اپنے اہل خانہ کے پاس آتا ہے جہاں وہ
30:08سربراہ ہے تو فرمایا کہ تم میں سے
30:10بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ
30:12بہتر ہیں اور حضور نے اپنی شخصیت کو
30:13بطور نمونہ پیش فرمایا
30:15فرمایا کہ میں تم میں سب سے زیادہ اپنے گھر والوں کے ساتھ بہتر ہوں
30:18تو حضور کا یہ سلسلہ
30:19اپنے گھر والوں کے ساتھ دوسنے اخلاق کا ہمیں نظر آتا ہے
30:22پھر گھر کے کام کاج میں
30:24تعاون کرنا
30:25حضرت خدیجہ ترکبرہ رضی اللہ تعالیٰ نہ آؤ
30:27سید آشاء صدیقہ دیکھر ازواج متحرات
30:40یا اس کی جو ضروریات
30:42اس میں کوئی ہاں اس نیچ ہو گئی ہے
30:44تو سید آلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
30:45خود یہ تمام فرماتے ہیں کہ اپنے گھر کے کام کاج میں
30:48ازواج متحرات کا ہاتھ بٹاتے ہیں
30:50اور ایک
30:51جو سب سے اس رشتے کو
30:53بگاڑنے والا ایک انصر پایا جاتا ہے نا
30:55کہ وہ عیب جوئی کرتے رہنا
30:57کیلے نکالتے رہنا نقص اور
30:58اس میں خامیہ تلاش کرتے رہنا
31:00حضور نے ایک بہترین اصول بیان فرمایا
31:03آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا
31:05کہ تمہارے لیے یہ جائز نہیں ہے
31:07کہ تم اپنی بیویوں کے عیوب نکالتے رہو
31:09فرمایا کہ اگر اس میں ایک خامی ہے
31:11تو اللہ تعالیٰ نے دوسری اس میں اچھائی رکھی ہوگی
31:14عیوب سے درگزر کرو
31:15اور اچھائیوں کو پیش نظر رکھو
31:17یہ ایسا بہترین اصول ہے کہ اگر یہ پیش نظر رہ
31:19یعنی ایک چیز اگر خرابی ہے
31:21سالن میں کچھ کمی بیشی ہو گئی
31:23یعنی اگر اس طرح کے مزاج
31:24کی ناموافق معاملہ ہے
31:25تو درجنوں ایسے معاملات ہیں
31:28کہ جو ہمارے فائدے کے ہیں
31:29ہمارے بھلے کے ہیں
31:30ہماری خدمت کے ہیں
31:31ان ساری جو بہترین تعلیمات ہیں
31:34اصول ہیں
31:35پیش نظر رہیں گے
31:36تو اللہ رب العالمین
31:37جس گھر میں یہ اصول
31:39پیش نظر رہیں گے
31:40اللہ تعالیٰ اس کو گہوارہ جنت بنا دے
31:41کیا بات ہے
31:42اور کتنی بڑی بات ہے
31:43سرکار دعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
31:45کی حیات مبارکہ سے
31:46آپ کے طرز عمل سے
31:48ہمیں یہ پتا چلتا ہے
31:49کہ اندرون خانہ
31:50جو ہمارے معاملات ہیں
31:52ہمارے بڑوں کے ساتھ
31:53اور خاص طور پر جس طرح
31:54مفتی صاحب نے رشاد فرمایا
31:56کہ زوجہ
31:57اگر کھانے میں کسی چیز کی زیادتی کر دیتی ہیں
32:01کھانا آپ کے مطابق محسوس نہیں ہوتا
32:03آپ کو کھاتے ہوئے
32:03تو اس وقت بھی آپ
32:05اس کی ایپوشی کیجئے
32:06بجائے اس کے
32:07کہ آپ نابسندیدی کا اظہار کریں
32:09کیونکہ یہ
32:10سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
32:12میں ناظرین محترم
32:13ذرا توجہ فرمائیے
32:15ناظرین اگرامی قدر
32:16ہمارے ساتھ آخری نشست پر موجود ہیں
32:17حضرت اللہ ملانہ مفتی
32:19محمد ابوبکر صدیق صاحب
32:20میں چاہوں گا قبلہ
32:21آخری سوال ہم پروگرام میں شامل کر رہے ہیں
32:23احترام انسانیت
32:24اور اکرام آدمیت
32:26صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
32:36کیا روشن ڈالیں گے اس پر
32:38بسم اللہ الرحمن الرحیم
32:39سب سے پہلے تو
32:40قرآن مجید فرقان حمید
32:41میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا
32:42ولقد کرمنا بنی آدم
32:44کہ ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی
32:46حضور علیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
32:48کی صیرت مبارکہ کو دیکھیں
32:49تو آپ علیہ وآلہ وسلم
32:50تمام عالمین کے لئے
32:51رحمت بنا کر بھیجے گئے تھے
32:53اور آپ علیہ وآلہ وسلم
32:54کی صیرت مبارکہ میں
32:55یہ ہمیں جا بجا نظر آتا ہے
32:57حضور علیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
32:58پر جب پہلی وحی آئی
32:59اور آپ علیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
33:01جب اپنے حجر مبارک میں تشریف لائے
33:02تو آپ نے حیث ختیجہ تلکبرہ
33:04رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا
33:05کہ زمی لونی مجھے کمبل اڑاؤ
33:07آپ کو کمبل اڑایا گیا
33:08اور پھر آپ نے سارے واقعہ بیان کی
33:10اور یہ اتنی بڑی ذمہ داری
33:11آپ کو دی گئی تھی
33:25آپ فرماتے ہیں
33:31کہ آپ تو وہ ہیں
33:32جو صلح رحمی کرتے ہیں
33:33آپ تو وہ ہیں
33:34جو لاچار ہیں
33:35ان کو کما کر کھلاتے ہیں
33:37آپ تو وہ ہیں
33:38جس کے ساتھ نہ حق ہو رہا ہو
33:40یا جب حق کسی کی طرف نہ ہو
33:42یعنی لوگ اس کے خلاف ہو
33:44اور حق اس کی طرف ہو
33:45تو آپ اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں
33:46تو آپ تو وہ ہیں
33:47جو سب کا خیال کرنے والے ہیں
33:49اور خاص طور پر
33:50معاشرے میں وہ لوگ کے جو
33:51اپنا آپ کو پروٹیکٹ نہیں کر سکتے
33:53ڈیفینڈ نہیں کر سکتے
33:54معاشرے میں جو کمزور طبقہ
33:55آپ اس کے ساتھ کھڑے ہونے والے ہیں
33:57حضور علیہ السلام کی زندگی مبارکہ
33:59ہمیں یہ چیز بہت زیادہ نظر آتی ہے
34:01اور سرکار علیہ السلام کی زوجہ
34:03ہاتھ خدیدہ
34:03خود یہ سرکار علیہ السلام کی شان
34:05ان کلمات کے ساتھ بیان فرما رہے ہیں
34:07پھر آپ دیکھیں
34:08حضور علیہ السلام نے
34:09ہر مقام پر صحابہ کو
34:11اور آنے والی امت کو
34:12اسی بات کی تلقیم فرمائی
34:13ڈسکریمنیشن کا خاتمہ
34:15حضور علیہ السلام نے کیا
34:17خدبہ حجت الودا
34:18جب ہم دیکھتے ہیں
34:18تو آپ نے فرمایا
34:19کہ کوئی عربی
34:20کسی آجمی پر
34:21اور کوئی آجمی
34:22کسی آجمی پر
34:23جو ہے وہ
34:23فضیلت نہیں رکھتا
34:24فضیلت کا میار
34:25جو ہے وہ
34:26تقوی آپ نے اس کو قرار دیا
34:27تو آپ دیکھیں
34:28یہاں بھی آج بھی
34:29پوری دنیا میں
34:30ڈسکریمنیشن
34:31اس اعتبار سے
34:31فالو کی جاتی ہے
34:32کہ ریس کے اعتبار سے
34:33کلر کے اعتبار سے
34:34بہت سارے ممالک میں
34:35جو ہے وہ
34:36جو ہے وہ
34:36کاسٹ سسٹم
34:37جو ہے وہ چلتا ہے
34:38ابھی بھی
34:38جس کی وجہ سے
34:39کوئی کاسٹ
34:40جو ہے وہ
34:40دوسرے پر
34:40بڑتری حاصل کرتا ہے
34:42کلر کے اعتبار سے
34:43جو ہے وہ
34:43ایک طبقے کو
34:44ڈسکریمنیشن
34:44ایک عرصے دراز تک کیا گیا
34:46لیکن اسلام نے
34:47بہت پہلے
34:47اس ڈسکریمنیشن
34:48کو ختم کیا
34:48عجمی اور
34:50عربی کا فرق
34:51جو ہے وہ
34:51حضور علیہ السلام
34:52نے مٹایا
34:53اور خود آپ نے
34:54جو کلر اور
34:55ریس والی
34:56ڈسکریمنیشن
34:56اس کو ختم کرنے کے لئے
34:57حتی بلال حبشی
34:58رضی اللہ تعالیٰ
34:59کو آپ نے
35:00کعبی کے چھت پر چڑھایا
35:01آپ یہ دیکھیں
35:02یہاں پر
35:02پھر ایک صحابی
35:03جو ہے وہ خود
35:03بیان کرتے ہیں
35:04کہ میں نے جو ہے
35:05لوگوں نے دیکھا
35:06کہ وہ اپنے غلاموں
35:07کو بڑا اچھا پناتے
35:08اور جو خود
35:09کھاتے ہیں
35:10وہ اپنے غلاموں
35:10کو کھلاتے ہیں
35:11جو خود پہنتے ہیں
35:12قیمتی کپڑا
35:12وہ اپنے غلاموں
35:13کو پناتے ہیں
35:13تو کسی نے سوال کیا
35:14کہ یہ کیا معاملہ ہے
35:15یہ ہے آپ کا غلام
35:16لیکن جس طرح
35:17کا کالیٹی کا کپڑا
35:18آپ نے پہنا ہے
35:19جو کالیٹی کی چیز
35:19آپ استعمال کرنے
35:20وہ آپ انہی کو دے رہے ہیں
35:21تو وہ خود بیان کرتے ہیں
35:22کہ ایک دفعہ میں نے
35:22جو ہے وہ اپنے غلام
35:23کو ایک آر دلائی
35:24شرم دلائی کسی بات پر
35:26تو حضور علیہ السلام
35:27مجھے دیکھ کر
35:28جو ہے وہ بہت زیادہ
35:29نراز ہوئے
35:29اور سرکار علیہ السلام
35:30نے جو ہے وہ ان کو
35:31اس وقت تنبیہ فرمائی
35:32تو اس کے بعد سے
35:33وہ کہتے ہیں
35:34میں نے اپنے عمل کو
35:34اور رویہ کو
35:35مکمل تبدیل کیا
35:36اور اب میں اپنے غلاموں
35:37کو ویسے ہی ٹریٹ کرتا
35:37جیسے خود کو ٹریٹ کرتا
35:38تو آپ دیکھیں
35:39حضور علیہ السلام
35:40نے یہ احترام
35:41یہ اکرام بیان کیا
35:42اور آپ نے
35:43اس خدبے کے اندر
35:44یہ بیان فرمیتا ہے
35:45کلمات جو ہے
35:46کہ ایک مسلمان کی
35:48جان مال عزت
35:49دوسرے مسلمان پر
35:50حرام ہے
35:50اور پھر دیکھیں
35:51جب انسانیت کا
35:52اتنا احترام ہے
35:54اتنا عدب ہے
35:54تو پھر مومن کا
35:55مسلمان کا عدب
35:57اور احترام
35:57تو پھر آپ دیکھیں
35:58وہ روایت بھی ہے
35:59کہ کعبے سے زیادہ
36:00جو ہے وہ خرمت
36:00ایک مومن کی ہے
36:01تو ہمیں ہر اعتبار
36:02سے دیکھتا ہے
36:03کہ ہمارے معاشرے میں
36:13اور ناظرینِ گرامی
36:14قدر آپ نے
36:15سیرت النبی
36:16صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
36:18اور اثر حاضر کے
36:19اس موضوع پر
36:20آج انتہائی خوبصورت
36:22اور اہم
36:22اور بہت ہی
36:23وقی علم شخصیات
36:24کی موجودگی میں
36:25یہاں پر
36:26گفتگو کو سماعت کیا
36:27ہمارے ساتھ
36:28تشریف فرما رہے
36:29حضرت علامہ مولانا
36:30مفتی سید زیغم
36:31علی گردیزی صاحب
36:32جناب مفتی
36:33محمد ابو پکر صدیق صاحب
36:34اور جناب مفتی
36:36احسن نوید نیازی صاحب
36:37بہت بہت شکریہ
36:38آپ تینوں شخصیات کا
36:39آج کی اس نشست میں
36:41تشریف فرما ہونے کے لیے
36:42ناظرینِ گرامی قدر
36:43سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
36:46یقیناً رہتی دنیا تک
36:47تمام عالم کے
36:49انسانوں کے لیے
36:50بہترین
36:51رجد و ہدایت
36:52کرسا چشمہ ہے
36:53اور ہم سب کو چاہیے
36:54کہ سرکارد و عالم
36:56نبی مجسم
36:56صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
36:58کی حیاتِ مبارکہ سے
36:59حاصل ہونے والی
37:01وہ اہم ترین معلومات
37:03جو سیرتِ نبی کی
37:04کتب میں موجود ہیں
37:05اور علماء اکرام کے ذریعے سے
37:07ہم تک پہنچتی ہیں
37:07انہیں اپنی زندگیوں میں
37:09عمل انڈھالنے کی
37:11اور ان پر عمل کرنے کی
37:12کوشش کیا کریں
37:13ناظرینِ گرامی قدر
37:15آج کی اس نشست
37:16پروگرام روشنی سے
37:17اپنے محضبان
37:18سید عدنان خالد کو
37:20اجازت مرحمت فرمائیے
37:22اگلے پروگرام تک کے لیے
37:23اللہ نگہبان
Comments

Recommended