Skip to playerSkip to main content
Roshni Sab Kay Liye

Watch All The Episodes ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicRrVkO8DpCZA58AUTcn6tc

Topic: Akhlaqiyat (Shukar)

Host: Raees Ahmed

Guest: Mufti Ahsan Naveed Niazi, Dr. Muhammad Ahmed Qadri, Dr. Ijaz Basheer

#RoshniSabKayLiye #islamicinformation #ARYQtv

A Live Program Carrying the Tag Line of Ary Qtv as Its Title and Covering a Vast Range of Topics Related to Islam with Support of Quran and Sunnah, The Core Purpose of Program Is to Gather Our Mainstream and Renowned Ulemas, Mufties and Scholars Under One Title, On One Time Slot, Making It Simple and Convenient for Our Viewers to Get Interacted with Ary Qtv Through This Platform.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:26Allah subhanahu wa ta'ala
00:30Allah subhanahu wa ta'ala
01:01Allah subhanahu wa ta'ala
01:40Allah subhanahu wa ta'ala
02:23Allah subhanahu wa ta'ala
02:50Allah subhanahu wa ta'ala
03:00Allah subhanahu wa ta'ala
03:08Allah subhanahu wa ta'ala
03:38Allah subhanahu wa ta'ala
04:10Allah subhanahu wa ta'ala
04:14Allah subhanahu wa ta'ala
04:45Allah subhanahu wa ta'ala
04:59Allah subhanahu wa ta'ala
05:14Allah subhanahu wa ta'ala
05:33Allah subhanahu wa ta'ala
06:02Allah subhanahu wa ta'ala
06:53Allah subhanahu wa ta'ala
06:56Allah subhanahu wa ta'ala
07:08Allah subhanahu wa ta'ala
07:38Allah subhanahu wa ta'ala
08:08Allah subhanahu wa ta'ala
08:27Allah subhanahu wa ta'ala
08:51Allah subhanahu wa ta'ala
09:00Allah subhanahu wa ta'ala
09:24Allah subhanahu wa ta'ala
09:29Allah subhanahu wa ta'ala
09:32Allah subhanahu wa ta'ala
09:43Allah subhanahu wa ta'ala
09:47یہ اعلیٰ بات بتانے لگا ہوں
09:48تو آگے بتایا کہ نماز کے بعد یہ پڑھنا نہ چھوڑنا
09:51تو شکر کی اہمیت کا اندازہ لگائی ہے
09:53کہ نبی پاک علیہ السلام یوں تعلیم فرما رہے ہیں
09:55اور یہ کہہ کر
09:56میں کہتا ہوں سیدنا معاذ بن جبل تو
09:58سبحان اللہ صحابی رسول اللہ راس والائن
10:00لیکن ساری امت کے لیے میسج ہے ان کے ذریعے
10:03کہ نبی پاک ساری امت سے محبت کرتے ہیں
10:05تو ہم اپنے آپ کو اس جگہ رکھ کے دیکھیں
10:07کہ ہم سے کہا جا رہا ہے
10:09کہ میں نبی ہوں تمہارا
10:10گویا یہ فرمایا جا رہا ہے
10:11تم سے محبت کرتا ہوں
10:12تو یہ کام نہ چھوڑنا یہ کرنا
10:14تو جس کی دعا تعلیم فرما رہے ہیں
10:16وہ کام کتنا اہم ہوگا
10:17کہ دعا کے ذریعے بھی اسے تلقین فرمایا جا رہا ہے
10:20تعلیم دی جا رہی ہے
10:21ہماری تربیت کی جا رہی ہے
10:22اور آیت جو میں نے پڑھی
10:23اس نے بھی شکر کی اہمیت بتا دی
10:25لائن شکر تم لعزیدنکم
10:27اگر شکر کرو گے
10:29تو میں تمہیں ضرور اور زیادہ دوں گا
10:31یعنی اس شکر کی اہمیت یہ ہے
10:33کہ یہ جالب خیرات ہے
10:35یہ نعمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے
10:38اور بندہ ناشکری کرتا ہے
10:40تو وہ زوال نعمت کا سبب بنتا ہے
10:42تو نعمتیں جو ملی ہیں
10:43ان کی حفاظت کا سبب بھی بنتا ہے شکر
10:45اور مزید نعمتیں ملنے کا بھی سبب بنتا ہے شکر
10:48تو اس لیے ہمیں شکر گداری کے جذبات سے
10:51دل میں بھی ہمارا دل بھی لبریز ہونا چاہیے
10:53مملو ہونا چاہیے بھر ہونا چاہیے
10:54اور ہمارے افعال بھی شکر گداری پر دلالت کرنے والے ہوں
10:57اور زبان سے بھی ہم اللہ کی حمد کریں
10:59اور شکر گدار ہونے چاہیے
11:00اللہ تعالیٰ ہمیں اپنا شکر گدار بندہ بنائے
11:03کسرہ سے شکر کرنے والا بنائے
11:05کیا کہنے ہیں
11:06صبح مفضل صاحب نے کتنے خوبصورت انداز میں
11:08شکر کی ضرورت اور اہمیت
11:10کو جاگر فرمایا
11:12ضرور قرآن اور آیات قرآنی سے
11:16اور آحادی سے مبارکہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
11:19وشکرولی ولا تکفرون
11:20اور بے شمار مقامات پر شکر کے حوالے سے
11:23چیزیں آئی ہیں
11:24میں ایک وقفہ لیتا ہوں
11:26وقفے کے بعد جب لوٹیں گے انشاءاللہ
11:27تو ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوں گے
11:29بہت ہی اہم سوال ہے
11:30اور ڈاکٹر صاحب اپنے وقی مطالعے کی روشنی میں
11:32انشاءاللہ
11:33جواب انعیت فرمائیں گے
11:34ہمارے ساتھ رہیے گا
11:35سبی ناظرین آپ کا خیر مقدم ہے روشنی میں
11:37آج موضوع بنیادی جو موضوع ہے
11:38وہ اخلاقیات اور اس کا جو زیلی موضوع ہے
11:41وہ شکر ہے جس پر ہم بات کر رہے ہیں
11:44ہمارے ساتھ موجود ہیں
11:46ڈاکٹر اجاز بشیر صاحب
11:48ممتاز محقق ہے
11:50ماشاءاللہ
11:50اور تدریس کے تصنیف کے شعبے سے وابستہ
11:53بہت ممتاز شخصیت
11:54بہت ممتاز شخصیت تشریف فرمائیں
11:55ہم خیر مقدم کریں گے
11:57اسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
11:59اچھا ڈاکٹر صاحب کی جانئے بڑھتے ہیں
12:00پروفیسر ڈاکٹر محمد احمد قادری صاحب تشریف فرمائیں
12:03سر یہ بتائیے گا شکر صرف زبان سے ضروری ہے
12:06یا ہمارے عمل اور کردار سے بھی شکر جو ہے
12:10وہ ظاہر ہونا چاہیے
12:11کیا کہی ہے کہ سوالے سے
12:13عوض باللہ من الشیطان الرجیم
12:15بسم اللہ الرحمن الرحیم
12:16مولا صلی اللہ علیہ وسلم
12:18دائماً عبدالا حبیبی کا خیر الخلقی کل لہمی
12:20یا عربی بالمصطفیٰ بلغ مقاصدنا
12:22وغفر لنا محمد آیا واسع الکرمی
12:24قبل علامہ صاحب نے
12:27ابتدائی کلمات میں
12:28شکر کے کتاب و سنت کے حوالے سے
12:30اور لغوی معانی کے اعتبار سے
12:32اس مفہوم کو واضح کیا ہے
12:36اب بات یہ ہے
12:38بڑی سادھا سے
12:41آج ہم کنٹیبری ورلڈ میں رہتے ہیں نا
12:43بلکم
12:44دنیا میں
12:46سب سے زیادہ
12:48اگر کسی بات کو برا مانا جاتا ہے
12:52اس بات کو مانا جاتا ہے
12:54کہ کوئی شخص آپ کو
12:55پانی کا گلاس دے اور دوسرا
12:56شکریہ آدان نہ کرے
12:58تینک لیس لوگوں کو پسند نہیں کیا
13:00کہتے ہیں کہ یہ
13:01آٹ آف ایڈکیٹس ہیں
13:03یہ عام عاشرے کی بات کر رہا ہوں
13:04اور یہ ہمارا عمومی رویہ بھی بن گیا ہے سر
13:06ہم سمجھتے ہیں ہمارا حق ہے
13:07اگر سر نے پانی دے دیا مجھے
13:09تو یہ میرا حق تھا میں پیاسا تھا
13:10بس
13:10میں تھینکیو نہیں کہوں گا شکریہ آج
13:12جزاک اللہ نہیں کہوں گا
13:13صحیح کہہ رہا ہم
13:13ایسا ہی
13:14کوئی بلا تخصیص مذہبوں میں لگ
13:16یہ عمومی
13:18ایک
13:19کلیہ ہے
13:20کلیہ
13:20کہ فرد کی فطرت ہے
13:21کہ جب کوئی شخص
13:22کسی کے لیے کچھ کرے
13:23تو اس کا شکر دا کرے
13:25اب آئیے ذرا سے میں اس طرف چلوں
13:28جو
13:31عربی علوم
13:32اور علم الاخلاقیات
13:33علم التصوف
13:34اور
13:35دیگر علوم اور کتاب و حکمت
13:37کے بیان میں
13:39کہ آدھر صلی اللہ علیہ وسلم
13:41کیا کرتے ہیں
13:42تذکیہ نفس کرتے ہیں
13:44تذکیہ نفس میں
13:45معاشرے کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
13:48نے کیسے بدلا
13:50یہ بہت اہم معاملہ ہے
13:52کس طرح بدلا
13:53اس آمنہ کے لال نے
13:56کیا ہوا
13:57اس معاشرے کی نبض میں
13:59جو بیماری کا سبب تھا
14:01اللہ کی تائیس سے
14:03پہچانتے ہوئے یہ کہا
14:05کہ تمہیں سب کچھ ملا ہے
14:07اہلِ عرب
14:08کیا تمہارے پاس نہیں ہے
14:10تم میلے لگاتے ہو
14:12تو کروڑوں روپے آج کے زبان میں کماتے ہو
14:15اور تم کہیں شہساواری میں جاتے ہو
14:17تو پوری دنیا کو فتح کرتے ہو
14:18اور تمہاری دھاک نہ جانے
14:21کہاں کہاں بیٹھی ہوئی ہے
14:22لیکن اگر کوئی چیز تم میں نہیں ہے
14:25تو وہ یہ نہیں ہے
14:26کہ کعبہ
14:28کعبے کی حرمت
14:29اور اس کا شکر
14:30اور اس کے بنانے والے کا شکر
14:32اور اس رب کا شکر
14:33جس نے تمہیں یہ نعمتیں عطا فرمت
14:35کیا بات ہے
14:35سبحان اللہ رب صاحب
14:36یہ اہدِ جاہلیہ کی وہ علامات ہیں
14:40کہ جب نعمتیں ملتی ہیں
14:43اللہ حضرت فضل بریل ورحمت اللہ تعالی کا بشیر ہے نا
14:46کہ نعمتیں بانٹتا جسمت وہ زیشان گیا
14:50ساتھی منشی رحمت کا قلم دان گیا
14:52ذرا سے غور تو کیجئے آپ
14:54نعمتیں ہیں کیا
14:56کہیں نعمت کو شاعر کے نام سے محسوم کیا گیا ہے
15:00تو اب جب شاعر اللہ آپ دیکھتے ہیں
15:02اللہ کی نعمتیں آپ دیکھتے ہیں
15:03اور اللہ کی نشانیاں آپ دیکھتے ہیں
15:05اللہ کی آیات آپ دیکھتے ہیں
15:07تو آپ شکر ادا نہیں کریں گے
15:10بادشاہ وقت
15:11اگر آپ کو ایک معمولی سا دعوت نامہ
15:14کسی پانچویں چھٹے آٹھویں دسویں آدمی کے ذریعے
15:17کسی کے ذریعے
15:19کہلوائے یا دے دے
15:21تو آپ
15:22ڈیڑھ سو مرتبہ رات گھر چوم چوم کر
15:24وہاں پہنچتے ہیں
15:26لیکن یہاں پانچ وقت
15:28رب آپ کو پکار رہا ہے اپنے دعوت میں
15:30ایک بار بھی احساس نہیں ہوتا
15:32کہ جس رب نے یہ ہاتھ دیئے ہیں
15:34پاؤں دیئے ہیں
15:35جسم دیا ہے
15:37سہد دیئے ہیں
15:38طاقت دیئے جس سے میں اتنے پیسے کماتا ہوں
15:40رات دن جاگ جاگ کر اور دن بھر کام کر کے
15:43ایک پل کے لئے میں سجدہ تو کر دوں
15:45اس سب کے سامنے
15:46تو جب شکر معاشرے سے نکلتا ہے
15:50تو بقول غزالی کے برکت بھی نکل جاتی ہے
15:52اور حضرت
15:55حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
15:57تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم
15:58نے فرمایا
15:59کہ
16:02شکر نصف ایمان ہے
16:05اب نصف ایمان
16:06کو ذرا سے آپ
16:08غور سے دیکھئے کیا معنی میں
16:10صبر کے مانے بھی
16:11صبر کے لئے وعدی سے
16:12کہ نصف ایمان ہے
16:13تو صبر اور شکر کو ذرا سے
16:15یقجہ کر لیجئے
16:16تو ہمیشہ شکوہ یہ کرنا ہے
16:18کہ یہ میرے پاس یہ نہیں ہے
16:19میرے پاس یہ نہیں ہے
16:21میں ایسا ہو گیا
16:22میں ویسا ہو گیا
16:23یہ سوائے ذہنی بیماری
16:26اور کسافت نفسی کے علاوہ کچھ نہیں ہے
16:28اب آئیے
16:31آپ نماز میں کھڑے ہوتے
16:33شروع کہاں سے کرتے ہیں
16:34الحمدللہ رب العالمین
16:36الحمدللہ بے شک
16:38حمد کا دوسرے نام شکر ہے
16:41بھئی بھا
16:42چلیے
16:43کیا بھا
16:43چلیے
16:44صحابہ کی
16:45ایک صحابہ کا ایک گروہ بیٹھا ہوا ہے
16:48اور بیٹھنے کے بعد
16:51وہ کوئی گفتگو کر رہا ہے
16:52حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ
16:53میں مختصر کرنا ہوں
16:54واقعے کو
16:54حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:56تشریف لاتے
16:56تم کیا کر رہے ہو
16:58کہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
17:00ہم
17:01اللہ کی حمد کر رہے ہیں
17:02اور شکر ادا کر رہے ہیں
17:04کہ جس نے آپ کی صورت میں
17:05ہمیں رہنمائی عطا فرمائے
17:06یعنی حضور کا ملاد ہو رہا ہے
17:08حضور کا ملاد ہو رہا ہے
17:09یہی تو ملاد ہے
17:10کیا بات
17:10اور ملاد آپ اور ہم کیا کریں گے
17:12ملاد تو وہاں ہو رہا ہے
17:13جس نے پیدا کیا حضور کو
17:14کیا بات
17:15وہ اگر جلوہ کریں
17:16کون تماشای ہو
17:17کون تماشای ہو
17:18اور پھر یہ جو شکر ہے
17:20آج
17:22ذہنی بیماروں کی
17:24بیماری کا علاج یہ ہے
17:26کہ آپ کو جب
17:28ڈاکٹر رسٹکٹ کرتا ہے
17:29میڈیسن میں
17:30یہ کھانا ہے
17:31یہ کھانا ہے
17:32یہ نہیں کھانا
17:33یہ نہیں کھانا
17:33تو وہ لس زیادہ ہوتی ہے
17:35جس میں کہا جاتا ہے
17:35نہیں کھانا
17:36تو حضور نے تو پہلے ہی
17:38بتلا دیا کہ
17:39کیسے کھانا ہے
17:39اور کیسے نہیں کھانا ہے
17:41تو اللہ تبارک و تعالی نے
17:43جس معاشرے کو
17:45عزت سے نوازا
17:46لیکن قرآن کریم کیا کہتا ہے
17:48قرآن کریم کہتا ہے
17:50قلیل میں نے بادی شکور
17:51یہ جو شکر گزار بندے ہیں
17:53یہ چند ہی ہیں
17:55اور یہ جو چند ہیں
17:57اگر ان کا بھی پیغام
17:59کوئی سمجھ لے
18:00تو ان کی بھی نہ چاہتا ہو جائے
18:01کیا کہنے
18:02کیا کہنے
18:02ڈاکٹر صاحب یہ فرمائے گا
18:05کہ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:07سے شکر گزاری کی
18:08کون کون سی مثالیں ایسی ہیں
18:10جسے آپ بیان فرمانا چاہیں گے
18:12اور میں چاہتا ہونم آیا
18:15بسم اللہ الرحمن الرحیم
18:17جیسا کہ گفتگو چل رہی ہے
18:18شکر کے حوالے سے
18:20اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:22کی تو پوری زندگی
18:24یعنی آپ کی پوری زندگی
18:26سیرت مبارکہ کو
18:27اگر ہم دیکھتے ہیں
18:27تو وہ شکر گزاری کا
18:29مجسم نمونہ ہمارے سامنے گتا ہے
18:31اس کی ایک
18:33بلی آسان سی مثال دیتا ہوں
18:34تاکہ ہمارے معاشرے کی طرف
18:36جو ڈاکٹر صاحب نے اشارہ کیا ہے
18:37اس کی طرف لے کر رہا ہوں بات کو
18:39کہ مطم بن عدی جو تھا
18:41وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
18:44جب طائف کی طرف تشریف لے گئے
18:46اور اس کے بعد پھر آپ واپس
18:48مکہ میں داخل ہونا چاہ رہے تھے
18:50لیکن اس وقت حالات ایسے تھے
18:53کہ بغیر کسی کی امان کے
18:55یا پناہ لیے جو ہے
18:56وہ مکہ میں داخلہ ممکن نہیں تھا
18:58تو نبی کریم علیہ السلام نے
18:59کئی لوگوں کی طرف پیغام بجوایا
19:01تو جو ایک عرب کا کلچر تھا
19:03اس وقت کی سوسائٹی کا
19:04تو سب نے وہ کفار کی وجہ سے
19:07جو ہے وہ منع کر دیا
19:08کہ بھئی ممکن نہیں ہے
19:09لیکن مطم بن عدی جو تھا
19:11اگرچہ مخالفین میں تھا
19:12لیکن وہ کھڑا ہو گیا
19:13اور اس نے اس وقت
19:15نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
19:17کو قبائلی پناہ میں لیا
19:19اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
19:20جو ہے وہ مکہ مکرمہ میں تشریف لائے
19:23اب یہ معاملہ ہو گیا
19:25اس کے بعد مطم بن عدی کا بھی انتقال ہو جاتا ہے
19:27غزوہ بدر پیش آتا ہے
19:29اب یہ اسلام کا جو پہلا مارکہ ہے
19:32حق و باطل کا
19:33اور اسلام کو ایک بہت بڑی روشن فتح نصیب ہوئی ہے
19:36اور ستر کے قریب قیدی جو ہے
19:38وہ کفار قریش کے بڑے سرخیل جو ہے
19:40وہ پکڑے گئے ہیں وہاں پر
19:41اب ایسے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
19:45کے سامنے ایک کیفیت رونما ہوتی ہے
19:48تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
19:50کو وہ اپنے پر کی ہوئی بھلائی
19:52مطم بن عدی کی یاد آیا
19:53تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
19:55کا وہ تاریخی جملہ توقعات بن سعید وغیرہ
19:57کے اندر موجود ہے
19:58آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر آج اس موقع پر
20:02مطم بن عدی زندہ ہوتا
20:03اور وہ مجھ سے ان قیدیوں کے بارے میں
20:06اگر ایک مرتبہ بھی سفارش کرتا
20:08تو میں ان تمام کو فضیہ لیے وغیرہ
20:11ازاد کروں
20:11آپ نے دو ہجری اور غزوہ بدر
20:16کا حوالہ دیا اور اس کو انشاءاللہ آپ سے
20:17کنٹینیو کریں گے
20:18ہم ایک مختصر سا وقفہ
20:19وقف کے بعد لوٹیں گے
20:20تو ڈاکٹر صاحب اپنے جواب کو مکمل فرمائیں گے
20:22آپ ہمارا ساتھ رہیے گا
20:23جی ناظرین آپ کا خیر مقدم اخلاقیات
20:25آج ہمارا بنیادی موضوع ہے
20:26شکر اس کا زیلی موضوع ہے
20:27جس پر ہم بات کر رہے ہیں
20:28اور ڈاکٹر اجاز بشیر صاحب
20:31بہت اچھے انداز میں جواب انعائد فرما رہے تھے
20:33وقفہ تھا وقفہ کے بعد
20:34ہم وہیں سے جوڑیں گے
20:36سلسلے کو جہاں منقطع ہوا تھا
20:37کہ سیرت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
20:40میں شکر گزاری کی
20:41جو نمائی مثالیں ہیں
20:42اس پر آپ نے غزوہ بدر کا حوالہ دیا
20:45اور مطم بن عدی کا حوالہ دیا
20:46میں چاہتا ہوں آگے جو اس کا جواب مکمل فرمائے
20:49جی جیسا کہ میں نے ارس کیا
20:50کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
20:51نے ایک مشرق کے
20:53اس بھلائی والے عمل کو
20:55جو نبی کریم علیہ السلام کے ساتھ کیا گیا تھا
20:57اتنے عرصے بعد بھی
20:59اس کے اس عمل کو برقرار رکھا
21:01اور اس کے اگر وہ زندہ ہوتا
21:03تو آپ علیہ السلام یقینی طور پر
21:05جو اعلان فرما رہے ہیں
21:06کہ میں تمام کے تمام قیدیوں کو
21:08اس کی درخواست پر آزاد کر دیتا
21:10تو یہ وہ ایک قسم کا احساس ہے
21:13کہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
21:15اپنے امتیوں کے اندر دکھانا چاہ رہے تھے
21:18کہ تمہارے ساتھ بھی اگر
21:19کوئی اس طرح کی بھلائی سے پیش آتا ہے
21:21rather than کہ وہ کس کاس سے
21:23یا کس مذہب سے
21:24یا کس قوم سے تعلق رکھتا ہے
21:26اگر اس کا یہ احساس خوبصورت ہے
21:28اگر اس کا وہ عمل تمہارے ساتھ خوبصورت
21:30اور بھلائی والا ہے
21:31تو تمہیں اگر کبھی موقع ملے
21:33اس احسان کو اتارنے کا
21:35یا اس بھلائی کو چکانے کا
21:36تو شکر گزاری کے ساتھ
21:38محبت کے ساتھ جو ہے وہ اس کو
21:40یقینی طور پر اتار دینا چاہیے
21:42اور ایک بات بالکل اختتام کرتے ہیں
21:44نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
21:45کی پوری زندگی مبارک جو ہے
21:48جیسے حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ
21:50صلی اللہ علیہ
21:51آپ نے ایک مرتبہ عرض کی
21:53نبی کریم علیہ السلام سے
21:55ایک تفصیلی واقعہ ہے
21:56تو بہت کسرت کے ساتھ
21:57جب نبی کریم علیہ السلام
21:58عبادت فرماتے تھے
21:59حتیٰ کہ پاؤں مبارک پر
22:01جو ہے ورما جاتا تھا
22:02تو اس وقت بھی
22:03نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
22:04نے ارشاد فرمایا
22:06کہ عائشہ میں اللہ کا شکر
22:08جزار بندہ کیوں نہ ہوں
22:10حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
22:12کے تفیل
22:12تو اللہ تعالی نے
22:13آپ کے اگلوں اور پشلوں
22:14کو جو ہے
22:15سید الشاکرین
22:15لیکن اس کے باوجود بھی
22:17سید الشاکرین ہیں
22:18اور یہ عمل جو ہے
22:20امت کے لیے ہے
22:21کیونکہ مسبب الاسباب
22:23نے ہر چیز کو
22:24سبب کے ساتھ رکھتا ہے
22:26نعمتیں دینے والا
22:27حقیقی نعمتیں
22:27ادا کرنے والی ذات
22:28ہوئی ہے
22:29لیکن وہ پسند فرماتا ہے
22:31کہ جس ذریعے اور وسیلے
22:32اور سبب سے
22:33تم تک پو نعمتیں
22:34پہنچ رہی ہیں
22:34اس کا بھی شکر ادا کر
22:36اسی لیے فرمایا گیا
22:38کہ جو لوگوں کا شکر
22:39ادا نہیں کرتا
22:40گویا کہ وہ
22:40اللہ کا بھی شکر گزار
22:42نہیں ہوتا
22:42تو یہی ہمیں
22:43اس طرح
22:44نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
22:46سے میسج ملتا ہے
22:47اور اسی پر ہمیں عمل کرتا ہے
22:48بہت خوبصورت بات
22:49آپ نے ارشاد فرمائی
22:49شکر گزاری کے حوالے سے
22:51اور شکر
22:52سیدو شاکرین کا
22:53شکر اللہ
22:54تو امت کے لیے
22:55تو یہ تعلیم امت ہے
22:56نبی کریم
22:57علیہ السلام کا
22:58ہر عمل مبارک
22:59ہر قول مبارک
23:00اچھا ہم آگے بڑھتے ہیں
23:01اور شکر انسان کی شخصیت
23:03اور اخلاق پر
23:04کس طرح
23:05مصبت
23:06جو ہے
23:07وہ اثرات مرتب کرتا ہے
23:09مختصر
23:09کوئی ارشاد فرمائی
23:10دیکھیں نیس بھائی
23:11شکر کے
23:12جو انسانی شخصیت
23:13پر اثرات ہیں
23:14وہ انتہائی
23:15مصبت ہیں
23:16پویٹیو امپیکٹ
23:17ہے شکر کا
23:18سب سے بڑی بات
23:19تو دیکھئے
23:20شکر کا اثر یہ ہے
23:21کہ جو بندہ
23:22شکر گزار ہوتا ہے
23:23تو شکر گزار آدمی
23:25پر سکون ہوتا ہے
23:26منٹل پیس
23:27ذہنی سکون
23:28اسے حاصل ہوتا ہے
23:29ڈپریشن
23:30انگزائیٹی
23:31ان چیزوں سے
23:32وہ دور ہوتا ہے
23:33آپ دیکھیں
23:34جو حل من مزید
23:35کی طلب میں
23:36رہتے ہیں
23:36ہر وقت
23:37دوڑ میں لگے رہتے ہیں
23:38اور جو چیز
23:38اپنے پاس نہیں ہے
23:40اس کے غم میں
23:41گھلتے رہتے ہیں
23:42تو ان کا
23:43ذہنی سکون بھی
23:43ذہن انتشار
23:44کا شکار ہوتا ہے
23:45ذہنی طور پر بھی
23:46سکون نہیں
23:46کلبی سکون بھی
23:47حاصل نہیں ہے
23:48پریشان ہی رہتے ہیں
23:49اور یہ پریشانی
23:50خود ایک بہت بڑی
23:51مصیبت اور خود
23:52ایک بہت بڑی بیماری ہے
23:53وہ ان بیماریوں سے
23:54ان مصیبتوں سے
23:55بچا رہتا ہے
23:56شکر گودار بندہ
23:57اور وہ بجائے
23:58یہ دیکھنے کے
23:58کیا میرے پاس نہیں ہے
23:59جو اس کے پاس ہے
24:01وہ دیکھتے
24:02اس پہ اللہ کا
24:02شکر ادا کرتا رہتا ہے
24:03تو میں نے پہلے بھی آیا
24:04سنائی لائن
24:05شکر تم لازی دنکم
24:06اگر تم شکر ادا کرو گے
24:08تو میں تمہیں
24:09اور زیادہ دوں گا
24:10ضرور
24:11ضرور
24:11اور زیادہ دوں گا
24:12تو اس کی نعمتوں میں
24:13دعفہ ہی ہونا ہے
24:14ایک تو سکون
24:14دوسری بات
24:15یہ جو شکر گودار بندہ ہوتا ہے
24:18شکر گودار بندہ
24:19حسد سے بچا رہتا ہے
24:20کہ اس کے اندر
24:21شکر کے جذبات ہیں
24:22تو وہ کبھی
24:23دوسرے کو دیکھ کر
24:24نہ حسد کرتا ہے
24:25نہ کسی کا
24:26بغز پالتا ہے
24:27نہ کینہ پالتا ہے
24:28ہمارے معاشرے میں ہوتا گیا
24:29کسی کے پاس
24:30ہم کوئی نعمت دیکھتے ہیں
24:32تو دیکھ کر پہلے
24:33یہ سوچتے ہیں
24:33اس کے پاس ہے
24:34میرے پاس کیوں نہیں ہے
24:36اس کے پاس کیسے آگئی
24:37اور اس کے پاس کیسے آگئی
24:38اب آہستہ آہستہ
24:39پہلے حسد
24:40پھر بغز
24:41پھر کینہ
24:42پھر بدگمانی
24:43پھر بدگوئی
24:44یہ ساری بیماری ہیں
24:44ساری چیزیں
24:46ملٹیپلائی ہوتی چلی جاتی ہیں
24:47اور یہ ساری اخلاقی خرابیاں ہیں
24:49تو جو شکر گودار آدمی ہوتا ہے
24:51جب وہ کسی کے پاس دیکھتا بھی ہے
24:53تو دیکھ کر
24:54اپنا موازنہ
24:55اس کے ساتھ نہیں کرتا
24:56بلکہ پہلے اپنی طرف دیکھتا
24:57اور کہتا ہے
25:07تو وہ یہ حسد
25:08اداوت
25:09بوز
25:10کینہ
25:10بدگمانی
25:11بدگوئی
25:12ان ساری اخلاقی خرابیوں سے بچا رہتا ہے
25:15یعنی اس کا اخلاق سمر جاتا ہے
25:17اخلاق میں سب سے بڑا اثر تو یہ ہے شکر کا
25:19کہ شکر گوداری کے جذبات سے وہ با اخلاق بن جاتا ہے
25:22پھر شکر گودار بندہ جو ہے وہ متوازے ہوتا ہے
25:25منکسر المداج ہوتا ہے
25:26اس کی گردن میں سریعہ نہیں ہوتا
25:28وہ انسانوں کو انسان سمجھتا ہے
25:31وہ انسانوں کو جانور نہیں سمجھتا
25:32جو بندہ شکر گودار نہیں ہوتا
25:34تو اس کا انسانوں کے ساتھ جو رویہ ہے
25:36وہ تکبر والا
25:38کبر والا ہوتا ہے
25:39متوازے نہیں ہوتا
25:40شکر گودار ہوتا ہے
25:41تو اللہ کے حضور
25:42سجدہ ریز ہوتا ہے
25:44تو سمجھتا ہے اس بات کو
25:45کہ یہ میرا کمال نہیں ہے
25:46یہ میرے ہنر کے نتیجے میں نہیں ہے
25:48بلکہ یہ محض اللہ کا فضل ہے
25:52ذالک فضل اللہ
25:53جو تیمی شاہ
25:55واللہ حضل فضل عظیم
25:56وہ اس پر نظر کرتا ہے
25:57تو اس لئے پھر وہ
25:58اس میں لوگوں کا حصہ سمجھتا ہے
26:00کہ اللہ نے جو نعمتیں
26:02مجھے عطا فرمائی ہیں
26:03تو وہ لوگ
26:04جن کو یہ نعمتیں
26:05میسر نہیں ہیں
26:06تو شکر کے ادھار کا
26:08ایک طریقہ یہ بھی ہے
26:10کہ میں نے ان نعمتوں کو
26:11دوسروں کو اس میں شریک کرنا ہے
26:14شیئر کرنا ہے
26:15وہ شیئر کرتا ہے
26:16وہ علم ہے
26:17تو علم کو شیئر کرتا ہے
26:19مال ہے
26:19تو مال کو شیئر کرتا ہے
26:21اور کوئی چیز ہے
26:22اس کے پاس نعمت ایسی
26:23وہ نعمتوں کو شیئر کرتا ہے
26:25اللہ اس میں برکتیں عطا فرماتا ہے
26:27تو اس کا اپنا اخلاق بھی سمر گیا
26:29اور معاشرے پر جو اس کے نکھار آیا
26:31معاشرے کو کیا فائدہ ہوئے
26:33اسے سوسائٹی پر جو امپیکٹ پڑ رہا ہے
26:35یہ اس کے شکر گدار ہے
26:37اس کا ذاتی فیل ہے
26:38اس کا انفرادی فیل
26:39لیکن یہ انفرادی فیل
26:40برکتیں کیسی لارہا ہے
26:41کہ اس کے ذاتی طور پر بھی برکتیں مل رہی ہیں
26:44اور جو پورے اجتماعی طور پر جو معاشرہ ہے
26:46سوسائٹی وہ بھی اس کی برکتوں سے فیض یاب ہو رہی ہے
26:50اور پھر دیکھئے سید و شاکرین
26:52صل اللہ علیہ وآلہ وسلم
26:54حضور جانے عالم
26:54ان کا انداز مبارک دیکھئے
26:56فتح مکہ ابھی بات ہو رہی تھی
26:58غزوہ بدر کی
26:59فتح مکہ پہ بھی کیسے سرکار شاہد
27:01سید و شاکرین ہے
27:03آپ توازو اور انکسار دیکھئے
27:05وہ شکر گزاری کے جذبات ہیں
27:08تو کیسے سر اقدس جھکا ہوا ہے
27:10حالکہ فاتح ہیں
27:11ہاں فاتح ہیں
27:11فاتح اور فاتح کیا کرتا ہے
27:13غرباز اور وہ بھی ان لوگ کے ساتھ
27:14جنہوں نے ہر بار چھوڑنے پہ مجھوڑ کیا
27:16مدالم ڈھائے جنگیں لڑی ہیں
27:18لوگ شہید کیے
27:19جان عصار شہید کیے
27:20اور پھر کیا کیا نہیں کیا
27:22بائیکارٹ کیا
27:23سماجی مقاطعہ
27:24سوشل بائیکارٹ
27:25کون سی تقریف
27:26جو ممکن تھا
27:27کر گزرے اپنی طرف سے
27:28جو ان کے مقدور بھر تھا
27:29انہوں نے پوری کوشش کی
27:30لیکن انہوں نے کیا کیا
27:31لا تطریب علیکم علیہ
27:33آج تم پہ کوئی معاخدہ نہیں ہے
27:36ادھابو جاؤ انتمو تولکا
27:38آج تم آزاد ہو
27:40یہ شکر گداری کے جذبات ہوتے ہیں
27:42تو پھر اس سے جو ظاہر ہوتا ہے
27:44وہ یہی
27:45یہ معافی عام معافی
27:47جو افوے عام ہے
27:48اس کے پیچھے بھی جو بنیادی جذبہ
27:49اور محرک بنتا ہے
27:50شکر خدا
27:51نعمتوں کا جو شکر ہے
27:53وہ بندے کو اس پہ ابھارتا ہے
27:55کہ وہ خلق خدا کے لیے
27:56نرم موازو بچھائے
27:58اور خلق خدا کے لیے
27:59معافی کا اعلان کرے
28:00اللہ تعالیٰ حضور جانے عالم
28:02صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
28:04کی خوب برکتیں ہمیں نصیب فرمائے
28:06اور آپ کے مبارک طریقوں پہ
28:08یہ بھی سنتیں ہیں
28:09جیسے دیگر سنتوں کی ہم بات کرتے ہیں
28:12تو یہ بھی نبی پاک کے طریقے ہیں
28:14تو ان طریقوں کو بھی اختیار کرنے کی
28:16اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق
28:21بہت خوبصورت جو چیزیں آپ نے سنی ہیں
28:24اس پر اگر آپ عمل کریں
28:25تو یقیناً آپ کے لیے بہت ہی فائدہ منصابیت ہوں گی
28:28آگے بڑھتے ہیں
28:29ایک شکر گزار
28:30انسان کی نمائی صفات
28:32نمائی خوبیاں جو ہیں
28:34اس کے حوالے سے بھی ہم جاننا چاہیں گے
28:36کیا ہونی چاہیے
28:38شکر گزار انسان کی
28:40سب سے پہلی خصوصت یہ ہے
28:41کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرے
28:44کہ اسے اللہ نے صلاحیتیں تو دی ہیں
28:46لیکن وہ دوسروں کی صلاحیتوں کو بھی اعتراف کریں
28:49صحیح
28:51دوسری بات یہ ہے
28:52کہ جو کچھ اسے ملا ہے
28:53وہ اپنا نہ سمجھے
28:54بلکہ وہ اسے معاشرے کی امانت سمجھے
28:58اور معاشرتی اعتبار سے
29:00کیا کیا انسان کے پاس ہوتا ہے
29:03کچھ کھلا ہے
29:04کچھ چھپا ہے
29:05وہ اس کو پتا ہے جیسے کے پاس ہیں
29:09جو انسان شکر گزار ہوگا
29:13اس کے غم اور خوشی کا آپ کو پتا نہیں چلے گا
29:16یہ بڑے تذربی کی بات میں عرض کر رہا ہوں
29:20جو بزرگان دین کے بارگاہ میں
29:23مختلف وقتوں میں
29:24مختلف جگہوں پر حاضرییں ہوئیں میری
29:26اور میں نے بہت قریب سے دیکھا
29:28زی علم حضرات کو
29:29اور زی عمل حضرات کو
29:31علم تو ہے بہت سو کے پاس عمل نہیں ہے
29:33تو جو زی عمل حضرات ہیں
29:36ان میں انکساری
29:37اور توازو
29:39اور محبت
29:40جیسے قبلہ ڈاکٹر صاحب نے بھی فرمایا
29:42علامہ صاحب نے بھی
29:43اب یہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
29:46کفر والے کون لوگ تھے
29:47ایمان والے کون لوگ تھے
29:48تو ایمان والے تو
29:50ایمان والے تو کربلا والے لوگ تھے
29:52جنہوں نے شکر کے لئے سب کچھ لٹا دیا
29:54کیا بات سبحان اللہ
29:55اور کفر والے وہ لوگ تھے
29:57جنہوں نے اپنا سب کچھ برباد کر کے
29:59ایک ہی گڑے کے اندر ایک ساتھ گئے
30:01اور جہنم میں چلے گئے
30:02بدر
30:03بدر
30:04اب
30:05یہ ایمان والوں کی صفات کیا ہے
30:07قرآن کریم پورا پڑھ لیجئے
30:08حضرت عائشہ صدیقہ
30:09رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تھا
30:10نہیں کسی نے
30:11صحابی نے
30:12کہ یا رسول اللہ فرمائیے
30:13کہ ام المؤمنین فرمائیے
30:15کہ حضور کا اخلاق کیا ہے
30:17کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا
30:18تو پورا قرآن شکر ہے
30:20شکر ہے
30:21کیوں؟
30:21میں بار بار ایک لفظ پر بار بار یہ بات کہہ رہا ہوں
30:24اور میری توجہ
30:25میں توجہ اس لیے دینے چاہتا ہوں
30:27اور دی ہے منہ زندگی میں
30:28کہ یہ قرآن کریم
30:29الحمد سے کیوں شروع ہو رہا ہے
30:32الحمدللہ رب العالمین کا مطلب یہی ہے
30:35کہ رب یہ نہیں کہہ رہا
30:36کہ تُو میری حمد کر
30:38بلکہ رب یہ کہہ رہا
30:39تُو میرا شکر کر کے
30:40تجھ میں میں نے محمد کو پیدا کیا
30:43کیا بات ہے
30:44جس نے میری عبادت کا صلیقہ تجھے سکھایا ہے
30:46جس نے میرا راستہ تجھے دکھلایا ہے
30:49جس نے میرا بتلایا ہے
30:50کہ تُو میری طرف کیسے آئے گا
30:52اور وہ
30:57معنی مرادی چاہے وہ جمع ہو
31:00لیکن
31:02اس جمع کو
31:03آپ ذرا سا اپنی نگاہ سے دیکھئے
31:07کہ اول ما خلق اللہ نوری
31:09کے اس نسبت کے ساتھ ہے
31:10کہ کائنات میں کوئی شہ پیدا نہ ہوتی
31:12کہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
31:15کو پیدا نہ کیا جاتا
31:16اب شکر کیا ہے
31:19شکر اصل میں
31:20نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
31:22سے یہ اعتراف ہے
31:24کہ ہم
31:26آپ کی بارگاہ میں
31:27اس لیے شکر ادا کرنا چاہتے ہیں
31:29کہ ہم مطمئن ہیں ہر حال میں
31:30ہر حال میں مطمئن ہیں
31:31زباہ پہ شکوہ رنجو علم لایا نہیں کرتے
31:34نبی کے نام نیوہ ہم سے گھبرایا نہیں کرتے
31:37تو یہ جو شکر ہے
31:38آج ہمارے ہاں
31:40یہ جو مسئبتیں ہیں دنیا بھر کی
31:42اولاد مل رہی ہیں
31:43ارے میری اولاد ایسی ہوگی
31:44تربیت کرو نا حضور کی صیرت پر
31:46کیسے صحیح نہیں ہوگی
31:47پیسے تمہیں ملے
31:48زکاة تو پوری دو
31:50شکر ادا کرنا
31:51میں امریکہ میں
31:52صرف جملہ کہہ کر ختم کروں گا
31:53امریکہ میں ایک صاحب میرے پاس تشریف لائے
31:55کہلے گے
31:56ڈاک صاحب میں بہت مقروض ہوں
31:58یہ ہوں
31:58میں نے کہا کیا ہوا
31:59کہا تین میں نے مکان لیا ہے
32:01مارگیج کے اوپر ہیں
32:02ایک میں میں رہتا ہوں دو قرائب پر دیئے ہوئے
32:03تو کیا مجھ پر زکاة ہے
32:05اور یہ اس کے علاوہ یہ بتائیے
32:07کہ کیا
32:07اس میں میں مقروض ہوں
32:08تو کیا میں مقروض کا پورا وہ جو
32:10شریع
32:11میں نے کہا دیکھو بات سنو
32:12ہیلے بانت چھوڑو
32:13یا تو سیدھے سلمہ تقولونہ مالا تفالون
32:16یا تو شکر گزار بندے بن جاؤ
32:17اور یا پھر منافقین مجھلو
32:19کیا بات
32:20ڈاک صاحب نے بہت
32:20اچھی بات اشارت فرمائی
32:22اچھا آخری سوال ہے آج کی اس پرگرام کا
32:24ڈاک صاحب کیا کہیں گے
32:26ڈاکٹر اجاز بشیر صاحب
32:27کہ کیا شکر گزاری صرف نعمتوں پر
32:30ہونی چاہیے
32:31یا آزمائش اور تکالیف
32:33پر بھی شکر ادا کیا جائے
32:36چونکہ وہ بھی من جانب اللہ ہے
32:37کیا کہیے
32:38دیکھیں عوام کے لیے تو اتنے ہی بہت ہے
32:41کہ وہ نعمتوں پر شکر ادا کرے
32:43اور مسائب پر صبر کر کے
32:45اس پر راضی رہے
32:46اور اللہ تبارک و تعالی سے آفیت کا سوال کرے
32:49لیکن جو عارفین ہیں
32:50جو طبقات جن کے جیسے درجات بلند ہوتے رہتے ہیں
32:54ان کے لیے پھر نظام بھی بدلتے رہتے ہیں
32:55بہت اچھا بائی فرکر کرتی
32:58تو وہ قوانین کو اپنے حساب سے ایسا بدلتے ہیں
33:01کہ پھر یہ لوگ جو ہیں
33:03یہ قوانین خود حیران ہو جاتے
33:04کہ ہم جا کس طرف رہے ہیں
33:06مثلا اگر ہم اس کو دیکھیں
33:07تو حضرت سیدنا ایوب علیہ السلام کے حوالے سے
33:10جو نمائندہ مثال ہمیں ملتی ہے
33:12جن پر بے شمار تکالیف اور آزمائش
33:14اور مسائب جو ہے وہ نازل ہو
33:16اور قرآن مجید میں اور اس کے علاوہ
33:17حدیث میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے
33:19تو بعض روایات میں آپ کے بارے میں آتا ہے
33:22کہ جب آپ کی اولاد جو ہے
33:23وہ متواتر ایک کے بعد
33:25ایک شہید ہوتی رہے انتقال ہوتا رہا ان کا
33:27تو ایک تو وہ صبر کرتے تھے
33:29جیسے پہلے بتایا کہ صبر و شکر کے درمیان
33:31ایک باریک سی لکیر ہیں
33:33تو وہ صبر بھی کرتے تھے
33:35اور شکر بھی کرتے تھے
33:36صبر اس بات پر
33:37کہ ذہری بات وہ آزمائش جو آئی ہے
33:39اس پر صبر کرتے تھے
33:40اور شکر اس بات پر
33:41کہ اب بھی میرے پاس
33:43جو نعمت اللہ نے دی ہیں وہ باقی
33:45حضرت عربہ بن زبیر کے بارے میں آتا ہے
33:48کہ ان کا کسی بیماری کی وجہ سے
33:49ایک پیر کٹ گیا
33:50کٹنا پڑا
33:51تو پیر کٹ گیا
33:52تو ابھی اسی علالت کے اندر آپ موجود تھے
33:54تو اتنے میں آپ کو خبر ملی
33:56کہ آپ کا کوئی بیٹا گھوڑے وغیرہ سے گر کر
33:59زخمی ہوا اور پھر وہ انتقال کر گیا
34:00تو آپ نے وہاں پر
34:02اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا
34:05حمد و سنہ کی
34:06تو لوگ بڑے حیران ہوئے
34:07کہ حضرت پیر کٹ گیا ہے آپ کا
34:09اور ایک بیٹے کے انتقال کی خبر مل رہی ہے
34:12اور آپ حمد و شکر جو ہے وہ بجال آ رہے ہیں
34:14انہوں نے فرمایا
34:15دیکھو اللہ تعالیٰ نے مجھے دو پیر اور دو ہاتھ دیئے تھے
34:18ابھی بھی ایک پیر اور دو ہاتھ میرے سلامت ہیں
34:21اور ابھی بھی میرے تین یا چار بیٹے
34:23اور اتنی اولاد باقی ہیں
34:25تو میں صبر کے ساتھ شکر بجال آ رہا ہوں
34:28اس بات پر
34:29کہ اللہ نے جو باقی نعمت ہے
34:30اگر وہ چاہتا تو مجھ سے یہ نشہ لیتا
34:32تو کیا کیا جا سکتا تھا
34:34لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی
34:36کرم نوازی ہے بندے کے اوپر
34:38اور بڑا خوبصورت ایک شیر میں مختصر کر رہا ہوں
34:40اس بات کو
34:41کہ جے سونا میرے دکھ وچرازی
34:44کہ میں سکھنو چلے پاما ہوں
34:46کہ اگر وہ پروردگار
34:48یعنی یہ عارفین کا ایک انداز ہے
34:50عوام کے لئے تو ہم نے پہلے بتا جئے
34:52کہ وہ اس طرف جانا ہے
34:53تو وہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ کی رضا اس میں ہے
34:56تو ہم پھر دکھ کے اوپر ہی اپنی رضا مندی
34:59کا اظہار کرتے ہیں
35:00جیسے شہدائے کربلا کا
35:02تو امام علی مقام کا میدان کربلا جو سجا ہے
35:05تو اس میں ایک طرف صبر نظر آ رہا ہے
35:07تو دوسری طرف شکر نظر آ رہا ہے
35:09اللہم آتی الحسینہ
35:10صبر و واجرہ کی دعائیں نظر آ رہی ہیں
35:13کہ آپ کو صبر و استقلال کے ساتھ
35:15اور شکر اس بات پر
35:16کہ اللہ رب العالمین نے آپ کے پائے صبات
35:18کو استحکام بخشا ہے
35:20اور اس آزمائش سے آپ جو ہے
35:22وہ بالکل ثابت قدمی کے ساتھ آگے کی طرف جا رہی ہیں
35:25تو یہ وہ مقام ہوتا ہے
35:26جو درجات کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے
35:29عوام کم سے کم اتنا اگر کر لے
35:31کہ جو اللہ نے نعمت دی ہے
35:32اس پر سجدہ شکر بجا لائے
35:34اور جو اللہ رب العالمین کی طرف سے
35:37آزمائشیں آ رہی ہیں
35:38اس پر ناشکری کا اظہار نہ کرے
35:40تو یہ بھی ایک بہت بڑی نعمت اور رحمت ہوتی ہے
35:43کیا کہنے ہیں ڈاکٹر صاحب
35:44خوبصورت انداز میں تینوں ہی ہمارے
35:46موزز مہمانان گرامی نے
35:49اپنے اپنے جوابات یہ نایت فرمایا
35:50مفتی حسن نوید نیازی صاحب
35:52آپ کی تشریف عبری کا بہت شکریہ ادا کروں گا
35:54پروفیسر ڈاکٹر محمد عمد قادری صاحب
35:57صاحب آپ تشریف لائے
35:58ڈاکٹر اعجاز بشیر صاحب آپ کی آمد کا بہت شکریہ
36:01ناظرین محترم جیسے ڈاکٹر صاحب نے
36:12بہت پیاری بات ارشاد فرمائی
36:14کہ جو بغض ہے حسد ہے دوسرے کو دیکھ کر
36:17ہم تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں
36:19اگر یہ ساری چیزیں ہیں
36:20یہ ساری بیماریاں دور کرنا چاہتے ہیں
36:23ان تمام علتوں سے آزاد ہونا چاہتے ہیں
36:25تو بس اللہ کا شکر ادا کریں
36:27جو کچھ اللہ نے عطا فرمایا
36:28ڈاکٹر اعجاز بشیر صاحب نے بڑی پیاری بات کہی
36:30کہ وہ تو دیکھیں کہ جو اللہ نے دے رکھا ہے آپ کو
36:33اگر تھوڑا سا کوئی نقصان ہو جاتا ہے
36:35اس پر ہم بہت زیادہ وائلہ کرنے لگتے ہیں
36:37تو شکر گزاری کریں
36:38یہ ایک اللہ کی نعمتوں کا شکر بھی ہے
36:42اور اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک ٹویٹمنٹ بھی ہے
36:44نفسیاتی دور پر
36:45کہ آپ کو جو اندر سے چیزیں کھا رہی ہوتی ہیں
36:47اس پر آپ اللہ کا شکر ادا کریں گے
36:49تو ایک تمانیت محسوس کریں گے
36:50اس کے ساتھ یہ اپنے میزبان محمد رعی صاحب کو اجازت دیجئے
36:53انشاءاللہ ان در پرگرام میں ایک بار پھر ملیں گے
36:55تب تک کے لیے
36:56اللہ حافظ
Comments

Recommended