Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Islamic channel Natt Biyaan Hadees Shareef True Mujzey islami Waqiaat

Category

📺
TV
Transcript
00:00There was a small child, a child, a father and a 12 children, and a small child with a small
00:10child and a small child, but the child didn't know that it would be a small child, but the child
00:17didn't know that it would be a small child.
00:20Here there was some tension, a family and a youth, the children
00:27of the Prophet Jesus again , his назад kin and the love of delight as the leader, Flowers of the樣
00:46dalam sebaah ke,
00:47indhere me dan yakin ka.
00:49Dia Zaman ke kanan ke.
00:51Aaj ke Fulestin
00:53aar uske gird ke ilakao ka hissa.
00:56Yuhi rate tehthe Allah ke Nabi,
00:59haditert Yaakub alaihis salam.
01:01Unka ghar sadgi se bharah thaa,
01:04mager ruhani noor se rohshan.
01:07Haditert Yaakub alaihis salam,
01:09haditert Ishaq alaihis salam ke beeta
01:12au hasitert Ibrahim alaihis salam ke pote t hy.
01:15This is not just a
01:18This is a
01:19a
01:19a
01:20a
01:20a
01:20a
01:21a
01:21a
01:22a
01:22a
01:22a
01:22a
01:22a
01:22a
01:22a
01:22a
01:23a
01:24a
01:25G
01:25a
01:25a
01:25a
01:52a
01:52a
01:52a
01:53He has a safe, but he has a light.
01:57One night, the sky was shining.
02:01Yusuf was asleep.
02:04He was asleep.
02:06He was asleep.
02:07His breath was asleep.
02:11He was asleep.
02:12They were up.
02:13They were asleep to him.
02:15He said to me,
02:18Béto Yusuf, what happened?
02:22Abba-chan, I've seen a strange dream.
02:26I've seen 11 stars.
02:30The sun and the sun were all around me.
02:34He understood.
02:38He didn't understand.
02:38He was not a dream.
02:40He was a dream.
02:42He was a dream.
02:45He was a dream.
02:47He was a dream.
02:47He was a dream.
02:47He knew what he was.
02:49He knew that he was a dream.
02:56He was a son.
02:57But the Lord's choice was a dream.
03:02He was a dream.
03:05Yusuf's brothers and sisters were a dream.
03:07He was a dream.
03:12He was a dream.
03:12He said to him,
03:14Yusuf and his brother.
03:16We are a dream.
03:19We are a dream.
03:21We are a dream.
03:35He was a dream.
03:37He said to him,
03:39He was a dream.
03:40He said to him,
03:43He said to him,
03:57
03:59
03:59
03:59
04:00
04:00
04:02
04:06
04:08
04:08
04:08
04:36
04:37।RP
04:39What are you doing?
04:39What are you doing?
04:40But the love of God is not doing it.
04:43He is going to take away
04:45and put in the end of the way.
04:48It was a fear.
04:51It was a fear.
04:53But at the same time,
04:55God will come to you.
04:57We will surely have them in this way.
05:01And they will not be aware of it.
05:04This was God's idea.
05:07It was a night.
05:09God is laughing and crying.
05:13And his family is laughing.
05:14He won't leave the sea.
05:18They hid the sea for the sea.
05:20But his leg is still alive.
05:25He had nothing to do.
05:28I am come to King.
05:31He had nothing to do with the sea.
05:33And the sea was so wet.
05:35This is not a good idea.
05:43It was a good idea which was Joseph who was given.
05:47But it was a good idea.
05:50So now it's better.
05:54And Allah is better.
05:55God is better.
05:57This was a great idea.
06:00One day.
06:01This is a good idea.
06:05One day.
06:05The rain is coming.
06:07The rain is coming.
06:12Here is a girl.
06:16The rain is coming.
06:21But the feeling is better.
06:23The rain is coming.
06:27Then she starts to come.
06:30A prophet in the name of God is a prophet.
06:34But the law of God is something else.
06:37Egypt is a prophet.
06:40One of the best-for-one is a prophet.
06:43And she says to her,
06:46This is the honor of God.
06:48It is possible that it will help us to become a son.
06:52This is the name of the future.
06:56The year goes on.
06:59حضرت یوسف علیہ السلام جوان ہو چکے تھے
07:03حسن، وقار اور پاکیزگی کا نور
07:06ان کے چہرے پر واضح تھا
07:08اللہ نے انہیں حکمت اور علم اتا کیا
07:11مگر محل کے اندر
07:12ایک اور آزمائش انتظار کر رہی تھی
07:15محل میں رہنے والی زلیخہ
07:17عزیز کی بیوی
07:18انہیں روز دیکھتی
07:20ان کی شخصیت سے متاثر ہوتی چلی گئی
07:23یوسف علیہ السلام ہمیشہ حیاء
07:26عدب اور پاکیزگی کے ساتھ رہتے
07:28مگر زلیخہ کے دل میں لگاؤ بڑھتا گیا
07:32یہاں تک کہ جذبات
07:34کابو سے باہر ہونے لگے
07:35پھر ایک دن
07:37عزیز کی بیوی نے تنہائی کا موقع دیکھا
07:40وہ محل کے سارے دروازے بند کیے
07:44اور کہا
07:45آؤ یوسف
07:47آج یہاں کوئی نہیں ہے
07:49یوسف علیہ السلام نے فوراں کہا
07:51میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں
07:55تمہارے شوہر نے مجھے عزت سے رکھا ہے
07:57زلیخہ کے کافی زد کرنے کے بعد
07:59یوسف علیہ السلام بچنے کے لیے
08:02دروازے کی طرف دورتے ہیں
08:04زلیخہ پیچھے سے کمیز پکڑتی ہے
08:06کمیز پیچھے سے پھٹ جاتی ہے
08:09دروازہ کھلتا ہے
08:12سامنے
08:12عزیز مصر کھڑا ہوتا ہے
08:15زلیخہ ڈر گئی
08:16اور فوراں الزام یوسف علیہ السلام
08:19پر لگا دیا
08:26مگر اللہ نے دلیل پیدا کر دی
08:30وہاں کھڑے ایک شخص نے کہا
08:32اگر کمیز آگے سے پھٹی ہے
08:34تو یوسف جھوٹا
08:36اگر پیچھے سے پھٹی ہے
08:38تو عورت جھوٹی
08:39کمیز پیچھے سے پھٹی تھی
08:42سچ واضح ہو گیا
08:44عزیز مصر سمجھ گیا
08:46کہ یوسف علیہ السلام بے گناہ ہے
08:48اور وہ اس بات کو دبانے کی کوشش کرتا ہے
08:51مگر محل کی بات شہر تک پہنچ جاتی ہے
08:55عورتے کہنے لگیں
08:57عزیز کی بیوی اپنے غلام پر پڑا ہو گئی
09:01طاقتور عورت
09:02مگر عشق میں پاگل
09:04زولیخہ نے سب سن لیا
09:06اس نے فیصلہ کیا
09:08کہ سب کو حقیقت دکھا دی جائے
09:09ایک خاص محفل سجائی گئی
09:13شہر کی معزز عورتیں دعوت پر بلائی گئیں
09:16ہاتھ میں پھل اور چھوری دی گئی
09:18پھر زولیخہ نے
09:20یوسف علیہ السلام کو بلائی
09:22دروازہ کھلا
09:25یوسف علیہ السلام اندر آئے
09:27جب عورتوں کی نظر ان پر پڑی
09:29وہ ہوش کھو بیٹھی
09:31اور بے اختیار
09:33اپنے ہاتھ کارٹ بیٹھی
09:35ان کی زبان سے نکلا
09:37یہ انسان نہیں
09:40یہ تو کوئی فرشتہ ہے
09:41یہاں زولیخہ نے اقرار کیا
09:44یہی ہے جس پر تم مجھے ملامت کرتی تھی
09:47میں نے اسے رغبت دلانے کی کوشش کی
09:50مگر یہ بچ گیا
09:52فتنہ اپنی انتہا پر تھا
09:55یوسف علیہ السلام نے رب سے دعا کی
09:57اے میرے رب
09:59قید مجھے اس چیز سے زیادہ پسند ہے جس کی طرف یہ بلا رہی ہیں
10:03تو ہی میرا مددگار ہے
10:06اللہ نے دعا قبول کی
10:07حقیقت سب کو پتا ہونے کے باوجود سیاسی مسلحت سے فیصلہ ہوا
10:13یوسف علیہ السلام کو قید میں ڈال دیا گیا
10:16بے گناہ نبی زنزیروں میں
10:20مگر تقدیر لکھ رہی ہے
10:22قید سے تخت تک کا سفر
10:24قید کھانا
10:25دنگ دیواریں
10:28بوجھل ہوا
10:30مگر حضرت یوسف علیہ السلام کے چہرے پر سکون تھا
10:33قید میں دو نوجوان بھی تھے
10:36دونوں نے ایک رات عجیب خواب دیکھا
10:39اور دونوں نے یوسف علیہ السلام میں نیکی اور نور دیکھا
10:44اس لیے ان کے پاس آئے
10:46ایک بولا
10:47میں نے خواب دیکھا
10:50میں شراب نچور رہا ہوں
10:51دوسرا بولا
10:53میں نے دیکھا
10:55میرے سر پر روٹی ہے
10:57اور اس پر پرندے کھا رہے ہیں
10:59ہمیں تعبیر بتائیے
11:02ہم آپ کو نیک لوگوں میں سے دیکھتے ہیں
11:04یوسف علیہ السلام نے فوراں تعبیر نہیں بتائی
11:08پہلے حق کی دعوت دی
11:10جو کھانا تمہیں ملنے والا ہوتا ہے
11:12میں اس کے آنے سے پہلے بتا دیتا ہوں
11:16یہ علم اللہ نے دیا ہے
11:18کیا مختلف معبود بہتر ہیں
11:21یا ایک اللہ جو سب پر غالب ہے
11:23تم جن کی عبادت کرتے ہو
11:26وہ صرف نام ہے
11:29حکم صرف اللہ کا ہے
11:31یہ تھا نبی کا طریقہ
11:32ہر موقع کو ہدایت کا ذریعہ بنانا
11:36پھر انہوں نے خواب کی تعبیر بتائی
11:38تم میں سے ایک
11:41اپنے بادشاہ کو شراب پلائے گا
11:43دوسرا
11:45صلیب دیا جائے گا
11:47اور پرندے اس کا سر کھائیں گے
11:51فیصلہ ہو چکا
11:52جس کا تم پوچھ رہے تھے
11:54اور واقعی
11:56کچھ دن بعد
11:57بلکل ویسے ہی ہوا
11:59جو آزاد ہوا
12:00اس سے یوسف علیہ السلام نے کہا
12:02اپنے بادشاہ کے پاس
12:05میرا ذکر ضرور کرنا
12:06مگر
12:09شیطان نے اسے بھولا دیا
12:10اور یوسف علیہ السلام
12:13مزید کئی سال قید میں رہے
12:16پھر ایک رات
12:19بادشاہ مصر نے خواب دیکھا
12:23سات موٹی گائیں
12:24جنہیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں
12:28سات ہری بالیاں
12:29اور سات سوکھی
12:31وہ گھبرا کر اٹھ گیا
12:33اور خواب اسے روزانہ آنا شروع ہو گیا
12:35پھر ایک دن
12:37دربار میں لوگ جمع ہوتے ہیں
12:39سب حیران
12:40کوئی تابیر نہ بتا سکا
12:42سب بولے
12:44یہ الجے ہوئے خواب ہیں
12:47تب ہی وہی آزاد ہونے والا قیدی
12:50اچانک یاد کرتا ہے
12:53میں تمہیں تابیر بتا سکتا ہوں
12:57مجھے قید خانے بھیجو
12:58وہ دوڑتا ہوا
13:00یوسف علیہ السلام کے پاس آتا ہے
13:04قید خانے کا دروازہ کھلتا ہے
13:07بادشاہ کا قاسد سامنے کھڑا ہوتا ہے
13:09حضرت یوسف علیہ السلام سے
13:11خواب کی تابیر پوچھی جاتی ہے
13:14یوسف علیہ السلام فرماتے ہیں
13:16سات سال لگاتار کھیتی ہوگی
13:21خوب پیداوار ہوگی
13:23پھر سات سال سخت قہد آئے گا
13:25اور لوگ بھوک سے گزریں گے
13:28ان سات سالوں کی پیداوار کو محفوظ کر کے رکھو
13:32تاکہ قہد کے سالوں میں کمی نہ ہو
13:35یہ صرف تابیر نہیں تھی
13:38یہ پورا معاشی نظام کا منصوبہ تھا
13:41بادشاہ متاثر ہوتا ہے
13:43اسے میرے پاس لاؤ
13:47مگر یوسف علیہ السلام باہر آنے سے انکار کر دیتے ہیں
13:51اور فرماتے ہیں
13:52انہیں بادشاہ سے پوچھو
13:54ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا
13:56جنہوں نے اپنے ہاتھ کٹ لیے تھے
13:59یہ تھا نبی کا وقار
14:02رہائی سے پہلے
14:03کردار کی صفائی
14:06دربار میں تحقیقات ہوتی ہے
14:08عورتوں کو بلائی جاتا ہے
14:10اور وہ اقرار کرتی ہیں
14:12ہم نے کوئی برائی یوسف میں نہیں دیکھی
14:15اور زلیکہ بھی کہہ دیتی ہے
14:17اب حق واضح ہو گیا
14:19میں نے ہی اسے راغب کرنا چاہا تھا
14:22اور یوسف
14:23سچوں میں سے ہے
14:25بے گناہی پوری دنیا کے سامنے ثابت ہو گئی
14:28اب یوسف علیہ السلام بادشاہ کے سامنے پیش ہوتے ہیں
14:31گفتگو ہوتی ہے
14:33حکمت بصیرت علم سب ظاہر ہو جاتا ہے
14:38بادشاہ کہتا ہے
14:39آج کے بعد تم ہمارے پاس مقبول اور دیانتدار ہو
14:45یوسف علیہ السلام فرماتے ہیں
14:47مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کر دی
14:50میں آمانت کی حفاظت بھی جانتا ہوں
14:53اور مشکل وقت کے لیے تدبیر بھی
14:55یہ گرور نہیں تھا
14:58یہ ذمہ داری لینے کا اعلان تھا
15:01انہیں مصر کے خزانوں کا نگران بنا دیا گیا
15:05مصر کا قیدی اب سلطنت کا ذمہ دار
15:09سال گزر چکے تھے
15:11کہت صرف مصر تک محدود نہیں رہا
15:14بلکہ گرد کے تمام علاقوں کو
15:17اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا
15:19کھانا کم
15:20زمین سوک چکی
15:22لوگ پریشان
15:24دور اس سرزمین تک بھی کہت پہنچ گیا
15:26جہاں حضرت یعقوب علیہ السلام
15:29اپنے بیٹوں کے ساتھ رہتے تھے
15:31راشن کم ہوتا جا رہا تھا
15:34پھر خبر ملتی ہے
15:35مصر میں غلہ دستیاب ہے
15:37اور حکومت لوگوں کو مقرر قیمت پر انعاز دے رہی ہے
15:42یوسف علیہ السلام کو معلوم تھا
15:44کہ تاجر مال کو زیادہ تعداد میں خرید کر
15:48آگے لوگوں کو مہنگے داموں میں بیچیں گے
15:50اس لیے انہوں نے اعلان کیا تھا
15:53کہ اگر کسی کو بھی غلہ خریدنا ہے
15:56تو پورے گھر والوں کو ساتھ لانا ضروری ہے
15:59تاکہ سب کو ان کی ضرورت کے مطابق ہی مال دیا جائے
16:03یہ سن کر یعقوب علیہ السلام
16:05اپنے دس بیٹوں سے غلہ لانے کا کہتے ہیں
16:07چھوٹا بیٹا بنیامین اپنے پاس ہی رکھتے ہیں
16:11کیونکہ یوسف کا غم ابھی تک تازہ تھا
16:15دس بھائی سفر پر روانہ ہوتے ہیں
16:18انہیں کیا بتا
16:20جس شخص سے وہ گلہ لینے جا رہے ہیں
16:23وہ ان کا کھویا ہوا بھائی ہے
16:26دربار میں پیش ہوتے ہیں
16:28سامنے بیٹھے ہیں حضرت یوسف علیہ السلام
16:31مگر بھائی پہچان نہیں پاتے
16:34یوسف علیہ السلام انہیں پہچان لیتے ہیں
16:36مگر اپنی شناخت چھپاتے ہیں
16:39یوسف علیہ السلام پوچھتے ہیں
16:40کیا تمہارا کوئی اور بھائی بھی ہے
16:43وہ کہتے ہیں
16:44ہاں
16:45ایک چھوٹا بھائی ہے
16:47وہ ہمارے والد کے پاس ہے
16:49اگلی مرتبہ اسے بھی ساتھ لانا
16:52تب ہی غلہ ملے گا
16:53یوسف علیہ السلام چھپ کر ان کی رقم
16:57ان کے سامان میں واپس رکھوا دیتے ہیں
16:59تاکہ جب یہ گھر پہنچے
17:01اور اپنی رقم واپس دیکھیں
17:03تو دوبارہ لوٹنے پر مضبور ہو جائے
17:06جب بھائی گھر پہنچتے ہیں
17:08سامان کھولتے ہیں
17:09تو دیکھتے ہیں ان کی رقم واپس موجود تھی
17:14دن گزرتے ہیں اور مال ختم ہو جاتا ہے
17:16ابباجان
17:19ہمیں دوبارہ مصر بھیجیے
17:22اور ہمارے بھائی کو بھی ساتھ بھیج دیجیے
17:24تب ہی ہمیں غلہ ملے گا
17:26اور ہم اس کی حفاظت کریں گے
17:29یاکوب علیہ السلام کا دل کام پڑتا ہے
17:33وہ کہتے ہیں
17:34کیا میں تم پر اسی طرح بھروسہ کروں
17:37جس طرح پہلے اس کے بھائی کے معاملے میں کیا تھا
17:40مگر بھائی مسلسل اسرار کرتے ہیں
17:43ذمہ داری کا وعدہ کرتے ہیں
17:45آخر یاکوب علیہ السلام ایک سخت اہد لیتے ہیں
17:49تم اللہ کو غواہ بنا کر وعدہ کرو
17:53کہ تم اسے واپس لاؤگے
17:55پھر ایک اور ہدایت دیتے ہیں
17:57میرے بیٹو
17:59ایک دروازے سے شہر میں داخل مت ہونا
18:02مختلف دروازوں سے جانا
18:04یہ باپ کی احتیاط تھی
18:06مگر تقدیر اپنا راستہ لکھ چکی تھی
18:10وہ شہر پہنچتے ہیں
18:12اور دربار میں داخل ہوتے ہیں
18:14یوسف علیہ السلام
18:16اپنے بھائیوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں
18:18اور پھر تنہائی میں
18:20بنیامین کو اپنے پاس بلاتے ہیں
18:22آہستہ سے فرماتے ہیں
18:24میں تمہارا بھائی یوسف ہوں
18:26جو کچھ یہ کرتے رہی
18:28اس پر غم نہ کرو
18:30سوچو
18:32سالوں بعد کھویا ہوا بھائی
18:34اچانک سامنے
18:36مگر راز
18:37ابھی بھی چھپا رہنا تھا
18:40جب گلہ تیار ہو جاتا ہے
18:42یوسف علیہ السلام
18:44ایک منصوبہ بناتے ہیں
18:45شاہی پیمانہ چھک کر
18:48بنیامین کے سامان میں
18:49رکھوا دیا جاتا ہے
18:50پھر کافلہ روانہ ہوتا ہے
18:53مگر کچھ دور جا کر آواز آتی ہے
19:03بھائی گھبرا جاتے ہیں
19:05سپاہی پوچھتے ہیں
19:08اگر جس کے غلے سے سامان نکلا
19:10تو اس کی سزا کیا ہوگی
19:12جس کا سامان چورایا گیا ہو
19:16چور اس کا غلام بن جائے گا
19:19تلاشی شروع ہوتی ہے
19:21اور وہیں سے پیمانہ نکل آتا ہے
19:24سناٹا
19:26حیرانی
19:28بھائی مضبور ہو جاتے ہیں
19:29وہ کہتے ہیں
19:31اگر انہوں نے چوری کی ہے
19:32تو کوئی حیرانی کی بات نہیں
19:35اس کے بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی
19:37یوسف علیہ السلام دل میں صبر کرتے ہیں
19:40حقیقت ظاہر نہیں کرتے
19:42بھائی درخواست کرتے ہیں
19:44اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو روک لو
19:48ہمارے والد برداشت نہیں کر پائیں گے
19:50مگر فیصلہ ہوتا ہے
19:53بنیمین روک لیا جاتا ہے
19:55سب سے بڑا بھائی
19:57روایت میں یہودہ یا روبیل کہا جاتا ہے
20:00وہ بھی رک جاتا ہے
20:02باقی بھائی مضبوراں واپس روانہ ہو جاتے ہیں
20:05دل بوجھل
20:07ذہن پریشان
20:08انہیں کیا پتا
20:11تقدیر اب آخری موڑ لینے والی ہے
20:13جب بھائی گھر پہنچ کر پورا ست سناتے ہیں
20:16تو حضرت یاکوب علیہ السلام نہیں مانتے
20:19وہ کہتے ہیں
20:20نفس نے تمہارے لیے بات کو آسان بنا دیا ہے
20:24مجھے امید ہے
20:25اللہ سب کو میرے پاس واپس لے آئے گا
20:27یعنی پہلے یوسف علیہ السلام گئے
20:31اب بنیامین بھی چلا گیا
20:33اور بڑا بیٹا بھی رک گیا
20:36یاکوب علیہ السلام کا غم اور بڑھ جاتا ہے
20:39قرآن کی لفظ کہتے ہیں
20:41غم سے روتے روتے ان کی آنکھیں سفید ہو گئیں
20:45پھر یاکوب علیہ السلام اپنے بیٹوں سے کہتے ہیں
20:55بھائی تیسری مرتبہ مصر پہنچتے ہیں
20:58قہت اب اور زیادہ سخت ہو چکا ہوتا ہے
21:01بھائی مجبوری کی حالت میں دوبارہ مصر آتے ہیں
21:05وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے آ کر کہتے ہیں
21:09اے عزیز
21:11ہمارے گھر والے سخت پریشانی میں ہیں
21:13ہم تھوڑی سی پونجھی لائے ہیں
21:16آپ ہمیں پورا غلہ دے دیں
21:18اور ہم پر صدقہ کر دیں
21:21اللہ صدقہ کرنے والوں کو بدلہ دیتا ہے
21:24یوسف علیہ السلام کا دل بھار آتا ہے
21:26وہ زیادہ برداشت نہیں کر پاتے
21:29پھر وہ ایک سوال کرتے ہیں
21:31کیا تمہیں یاد ہے تم نے
21:34یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا
21:36جب تم نادان تھے
21:38بھائی حیران رہ جاتے ہیں
21:42انہیں شک ہوتا ہے
21:44وہ کہتے ہیں
21:47کیا؟
21:50کیا آپ ہی یوسف ہیں؟
21:52اور پھر وہ الفاظ آتے ہیں
21:55جو تاریخ کے سب سے عظیم
21:57معافی کے لمحے بن جاتے ہیں
22:00ہاں میں یوسف ہوں
22:03اللہ نے مجھ پر احسان کیا
22:05جو صبر کرے اور تقویٰ رکھے
22:10اللہ اس کا عجر ضائع نہیں کرتا
22:13اللہ کی قسم
22:15اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی
22:18اور ہم واقعی غلطی کرنے والے تھے
22:20آج تم پر کوئی الزام نہیں
22:23اللہ تمہیں معاف کرے
22:25وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
22:28اور پھر یوسف علیہ السلام
22:30اپنے بھائیوں کو اپنی کمیز دیتے ہیں
22:32اور کہتے ہیں
22:34کہ اسے ان کے والد کے چہرے پر رکھنے ہی
22:36ان کی آنکھیں ٹھیک ہو جائیں گی
22:38اور پھر ان سب کو والدین کے ساتھ
22:41محل آنے کا کہتے ہیں
22:44مجھے یوسف کے خوشبو آ رہی ہیں
22:46اور پھر ان کی آنکھیں فوراں ٹھیک ہو جاتی ہیں
22:50یاکوب علیہ السلام فرماتے ہیں
22:52کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا
22:54کہ میں اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں
22:57جو تم نہیں جانتے
22:58اس کے بعد وہ سب مصر کی طرف روانہ ہوتے ہیں
23:03والدین، بھائی، خاندان اور پھر یاکوب علیہ السلام
23:07اپنے بیٹے سے چالیس سال بعد دوبارہ ملتے ہیں
23:12آنکھوں میں آنسو لیکن خوشی سے بھرے ہوئے
23:15پھر یوسف علیہ السلام
23:17اپنے والدین کو تخت پر بٹھاتے ہیں
23:20اور سب بھائی یوسف علیہ السلام کے سامنے
23:23عدب میں جھک جاتے ہیں
23:25تب یوسف علیہ السلام کہتے ہیں
23:27ابباجان یہ میرے بچپن والے خواب کی تابیر ہے
23:31میرے رب نے اسے سچ کر دکھایا
23:34یعنی گیارہ ستارے
23:37سورج
23:39چاند
23:40یہ واقعہ صرف ایک نبی کی زندگی نہیں
23:43یہ انسانی جذبات کا سب سے گہرا سفر ہے
23:47ایک بچہ جسے کوئے میں پھیکا گیا
23:51ایک گلام جسے بازار میں بیچا گیا
23:56ایک جوان جسے جھوٹے الزام میں قید کیا گیا
24:00مگر پھر بھی
24:02نہ ان کی زبان سے شکوا نکلا
24:04نہ دل سے یقین نکلا
24:06نہ کردار سے حیاء نکلی
24:08اور پھر اللہ نے اسی بندے کو
24:12سلطنت کا عزیز بنا دیا
24:16اگر آج کے اس دور میں ہم لوگ
24:18سبر اور تقویٰ کا دامن تھام لیں
24:21تو اللہ کی مدد ضرور آئے گی
24:25اندھیرہ چاہے کتنا گہرا ہو
24:28اگر یقین زندہ ہو
24:30تو صبح ضرور ہوتی ہے
24:35اس واقعہ میں
24:37آپ کا سب سے فیوریٹ پارٹ کونسا تھا
24:39کومنٹس میں بتائیے
24:41اور ویڈیو کو لائک کریں
24:42اور چینل کو سبسکرائب کریں
Comments
jery jhonn
Creator
Ghulam se miar ka safer