- 2 days ago
Islamic channel Natt Biyaan Hadees Shareef True Mujzey islami Waqiaat
Category
📺
TVTranscript
00:00There was a small child, a child, a father and a 12 children, and a small child with a small
00:10child and a small child, but the child didn't know that it would be a small child, but the child
00:17didn't know that it would be a small child.
00:17The children of the church, the children of the church, the Jewish children, the bad, and the children of the
00:40church.
00:43?
00:43?
00:46?
00:46?
00:47?
00:49Look for the earth.
00:50This is the name of the Lord.
00:56The wife of the Lord,
00:58the Lord of the Lord,
00:59the Lord of the Lord.
01:04But the love of the Lord is the one who has chosen me.
01:06حضرت یاکوب علیہ السلام
01:09حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے
01:11اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے تھے
01:15یہ صرف ایک خاندان نہیں تھا
01:18یہ نبوت کا سلسلہ تھا
01:22حضرت یاکوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے تھے
01:25ان میں سے دس ایک ماں سے تھے
01:27اور دو یوسف اور چھوٹے بھائی بنیامین ایک دوسری ماں سے
01:32یوسف علیہ السلام اپنے والد کے بہت قریب رہتے
01:35ان کی باتوں کو غور سے سنتے
01:38ان کے چہرے پر ماسومیت تھی
01:41مگر گھر کے دوسرے کونے میں ایک اور چیز پل رہی تھی
01:45حسد ان کے دس بھائی محسوس کرتے تھے
01:49کہ اببہ کا جھکاو یوسف علیہ السلام کی طرف زیادہ ہے
01:53حسد چھپ رہتا ہے مگر جلتا رہتا ہے
01:57ایک رات آسمان ستاروں سے بھارا ہوا
02:02یوسف علیہ السلام نیند میں تھے
02:04پھر اچانک ان کی آنکھ کھلتی ہے
02:06سانس تیز دل زور سے دھرک رہا تھا
02:11وہ اٹھتے ہیں
02:13اور دورتے ہوئے حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس جاتے ہیں
02:18بیٹا یوسف کیا بات ہے
02:21اببہ جان میں نے ایک عجیب خواب دیکھا
02:25میں نے دیکھا گیارہ ستارے اور سورج اور چاند سب مجھے سجدہ کر رہے تھے
02:34حضرت یعقوب علیہ السلام سمجھ گئے
02:38یہ عام خواب نہیں تھا یہ بشارت تھی
02:41اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو مت بتانا
02:44ورنہ وہ تمہارے خلاف سازش کریں گے
02:47اس رات حضرت یعقوب علیہ السلام سمجھ گئے تھے
02:52یہ بچہ صرف ان کا بیٹا نہیں
02:56مستقبل کا نبی ہے
02:57مگر
02:58جس پر اللہ کا انتخاب ہوتا ہے
03:02اس پر امتحان بھی ہوتے ہیں
03:05یوسف علیہ السلام کے بھائی اکھٹھا بیٹھے تھے
03:08چہروں پر بیچینی
03:10آنکھوں میں جلن
03:11ایک بھائی کہتا ہے
03:13یوسف اور اس کا بھائی
03:17اببہ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں
03:18حالانکہ ہم زیادہ طاقتور ہیں
03:21یوسف کو قتل کر دو
03:22یا اسے کسی دور زمین میں پھیک دو
03:25تاکہ اببہ کی توجہ صرف ہم پر ہو جائے
03:28اسے قتل مت کرو
03:30اگر کچھ کرنا ہی ہے
03:31تو اسے کسی کنوہ میں ڈال دو
03:33کوئی مسافر اسے اٹھا لے گا
03:36یہ فیصلہ ہو گیا
03:37پھر وہ سب جاتے ہیں
03:39اپنے والد کے پاس
03:41حضرت یاکوب علیہ السلام
03:43اببہ جان
03:45آپ یوسف کو ہمارے ساتھ کیوں نہیں بھیجتے
03:48ہم اس کی حفاظت کریں گے
03:50وہ کھیلے گا
03:52خوش رہے گا
03:53مجھے ڈر ہے تم اسے لے جاؤگے
03:56اور کوئی بھیڑیاں اسے کھا جائے گا
03:58جبکہ تم اس سے غافل ہو جاؤگے
04:01اگر بھیڑیاں اسے کھا گیا
04:03جبکہ ہم اتنے سارے ہیں
04:06تو ہم تو کسی کام کے نہ ہوئے
04:08آخر
04:10باپ کا دل مان گیا
04:13سفر
04:14ریگستان کی ہوا
04:17دور تک خاموشی
04:19حضرت یوسف علیہ السلام
04:21معصومیت سے بھائیوں کے ساتھ چل رہے تھے
04:25انہیں کیا پتا
04:26یہ سفر بچپن کا آخری سفر ہے
04:29پھر وہ لمحہ آ گیا
04:31بھائی اچانک گھیر لیتے ہیں
04:33کپڑے کھیچتے ہیں
04:34یوسف علیہ السلام خبر آ کر کہتے ہیں
04:37بھائیو
04:39یہ کیا کر رہے ہو
04:40مگر حسد رحم نہیں کرتا
04:42انہیں اٹھایا گیا
04:44اور اندھے کوئے میں پھیک دیا گیا
04:48اندھیرا
04:50تنہائی
04:51خوف
04:53لیکن اسی لمحے
04:54اللہ کی وہیں آتی ہے
04:56ہم ضرور تمہیں ان کا یہ کام
04:59یاد دلائیں گے
05:01اور یہ تمہیں پہچان بھی نہیں رہے ہوں گے
05:04یہ اللہ کا وعدہ تھا
05:06شام ہوتی ہے
05:08اور بھائی روتے ہوئے واپس آتے ہیں
05:11جھوٹی کہانی
05:13جھوٹا کھون
05:14ابباجان
05:15ہم دور لگا رہے تھے
05:17یوسف کو سامان کے پاس چھوڑا
05:20اور بھیڑیا اسے کھا گیا
05:22ان بھائیوں نے
05:23یوسف علیہ السلام کی کمیز پر
05:25جھوٹا خون لگا رکھا تھا
05:28یاقوب علیہ السلام نے کمیز دیکھی
05:31اور سمجھ گئے
05:33انہوں نے صرف اتنا کہا
05:35تمہارا نفس
05:36اس جھوٹ کو سجا کر دکھا رہا ہے
05:41یہ سچ نہیں ہے
05:42یہ کیسا بھیڑیا تھا
05:45جو یوسف کو کھا گیا
05:47مگر اس کی کمیز کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا
05:50تو اب
05:51سبر ہی بہتر ہے
05:54اور اللہ ہی مدد کرنے والا ہے
05:56یہ ایک عظیم سبر کی شروعات تھی
06:00ایک دن
06:01صبح کی خاموشی میں
06:05ریگستان سے ایک کافلہ گزرتا ہے
06:07پانی نکالنے کے لیے
06:09رسی کوئے میں ڈالی جاتی ہے
06:11اچانک آواز
06:13یہاں ایک لڑکا ہے
06:16رسی کے ساتھ باہر آتے ہیں
06:18حضرت یوسف علیہ السلام
06:20ماسوم
06:21مگر تقدیر بدل چکی ہے
06:23کافلہ انہیں مال کی طرح چھپا لیتا ہے
06:27پھر وہ روانہ ہوتا ہے
06:29مصر کی طرف
06:30ایک نبی
06:32گلامی کی زنزیروں میں
06:33مگر اللہ کا منصوبہ کچھ اور ہے
06:37مصر پہنچ کر بازار میں فروقت ہوتی ہے
06:40ایک باسر شخص
06:41عزیز مصر
06:42انہیں کھرید لیتا ہے
06:44اور اپنی بیوی سے کہتا ہے
06:46اسے عزت سے رکھنا
06:48ممکن ہے یہ ہمیں فائدہ دے
06:50یا ہم اسے بیٹا بنا لے
06:52یہ جملہ
06:54مستقبل کی طرف اشارہ تھا
06:57سال گزر گئے
06:59حضرت یوسف علیہ السلام
07:00جوان ہو چکے تھے
07:02حسن
07:03وقار
07:04اور پاکیزگی کا نور
07:06ان کے چہرے پر واضح تھا
07:08اللہ نے انہیں حکمت اور علم اتا کیا
07:11مگر محل کے اندر
07:12ایک اور آزمائش انتظار کر رہی تھی
07:15محل میں رہنے والی زلیخہ
07:17عزیز کی بیوی
07:18انہیں روز دیکھتی
07:20ان کی شخصیت سے متاثر ہوتی چلی گئی
07:24یوسف علیہ السلام ہمیشہ ہیا
07:26عدب اور پاکیزگی کے ساتھ رہتے
07:28مگر زلیخہ کے دل میں لگاؤ بڑھتا گیا
07:31یہاں تک کہ جذبات
07:34کابو سے باہر ہونے لگے
07:35پھر ایک دن
07:37عزیز کی بیوی نے تنہائی کا موقع دیکھا
07:40وہ محل کے سارے دروازے بند کیے
07:44اور کہا
07:45آؤ یوسف
07:47آج یہاں کوئی نہیں ہے
07:49یوسف علیہ السلام نے فوراں کہا
07:51میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں
07:55تمہارے شوہر نے مجھے عزت سے رکھا ہے
07:57زلیخہ کے کافی زد کرنے کے بعد
07:59یوسف علیہ السلام بچنے کے لیے
08:02دروازے کی طرف دورتے ہیں
08:04زلیخہ پیچھے سے کمیز پکڑتی ہے
08:06کمیز پیچھے سے پھٹ جاتی ہے
08:09دروازہ کھلتا ہے
08:12سامنے عزیز مصر کھڑا ہوتا ہے
08:15زلیخہ ڈر گئی اور فوراں
08:17الزام یوسف علیہ السلام پر لگا دیا
08:19اس نے بری نیت کی
08:21اسے قید کر لیں
08:24اور دردناک سزا دیں
08:26مگر اللہ نے دلیل پیدا کر دی
08:30وہاں کھڑے ایک شخص نے کہا
08:32اگر کمیز آگے سے پھٹی ہے
08:34تو یوسف جھوٹا
08:36اگر پیچھے سے پھٹی ہے
08:38تو عورت جھوٹی
08:39کمیز پیچھے سے پھٹی تھی
08:42سچ واضح ہو گیا
08:44عزیز مصر سمجھ گیا
08:46کہ یوسف علیہ السلام
08:48بے گناہ ہے
08:48اور وہ اس بات کو
08:50دبانے کی کوشش کرتا ہے
08:51مگر محل کی بات
08:53شہر تک پہنچ جاتی ہے
08:55عورتیں کہنے لگیں
08:57عزیز کی بیوی
08:58اپنے غلام پر پیدا ہو گئی
09:01طاقتور عورت
09:02مگر عشق میں پاگل
09:04زلیخہ نے سب سن لیا
09:06اس نے فیصلہ کیا
09:08کہ سب کو حقیقت دکھا دی جائے
09:09ایک خاص محفل سجائی گئی
09:12شہر کی معزز عورتیں
09:14دعوت پر بلائی گئیں
09:16ہاتھ میں پھل اور چھوری دی گئی
09:19پھر زلیخہ نے
09:20یوسف علیہ السلام کو بلائیا
09:22دروازہ کھلا
09:25یوسف علیہ السلام اندر آئے
09:27جب عورتوں کی نظر ان پر پڑی
09:29وہ ہوش کھو بیٹھی
09:31اور بے اختیار
09:33اپنے ہاتھ کٹ بیٹھی
09:35ان کی زبان سے نکلا
09:37یہ انسان نہیں
09:39یہ تو کوئی فرشتہ ہے
09:41یہاں زلیخہ نے اقرار کیا
09:44یہی ہے جس پر تم مجھے ملامت کرتی تھی
09:46میں نے اسے رغبت دلانے کی کوشش کی
09:50مگر یہ بچ گیا
09:51فتنہ اپنی انتہا پر تھا
09:55یوسف علیہ السلام نے رب سے دعا کی
09:57اے میرے رب قید مجھے اس چیز سے زیادہ پسند ہے جس کی طرف یہ بلا رہی ہیں
10:03تو ہی میرا مددگار ہے
10:06اللہ نے دعا قبول کی
10:08حقیقت سب کو پتا ہونے کے باوجود سیاسی مسلحت سے فیصلہ ہوا
10:13یوسف علیہ السلام کو قید میں ڈال دیا گیا
10:16بے گناہ نبی زنزیروں میں
10:20مگر تقدیر لکھ رہی ہے
10:22قید سے تخت تک کا سفر
10:24قید کھانا
10:25دنگ دیواریں
10:28بوجھل ہوا
10:30مگر حضرت یوسف علیہ السلام کے چہرے پر سکون تھا
10:33قید میں دو نوجوان بھی تھے
10:36دونوں نے ایک رات عجیب خواب دیکھا
10:39اور دونوں نے یوسف علیہ السلام میں نیکی اور نور دیکھا
10:44اس لیے ان کے پاس آئے
10:46ایک بولا
10:47میں نے خواب دیکھا
10:50میں شراب نچور رہا ہوں
10:51دوسرا بولا
10:53میں نے دیکھا
10:55میرے سر پر روٹی ہے
10:57اور اس پر پرندے کھا رہے ہیں
10:59ہمیں تعبیر بتائیے
11:02ہم آپ کو نیک لوگوں میں سے دیکھتے ہیں
11:04یوسف علیہ السلام نے فوراں تعبیر نہیں بتائی
11:08پہلے حق کی دعوت دی
11:10جو کھانا تمہیں ملنے والا ہوتا ہے
11:12میں اس کے آنے سے پہلے بتا دیتا ہوں
11:16یہ علم اللہ نے دیا ہے
11:18کیا مختلف معبود بہتر ہیں
11:21یا ایک اللہ جو سب پر غالب ہے
11:23تم جن کی عبادت کرتے ہو
11:26وہ صرف نام ہے
11:29حکم صرف اللہ کا ہے
11:31یہ تھا نبی کا طریقہ
11:32ہر موقع کو ہدایت کا ذریعہ بنانا
11:36پھر انہوں نے خواب کی تعبیر بتائی
11:38تم میں سے ایک
11:41اپنے بادشاہ کو شراب پلائے گا
11:43دوسرا
11:45سلیب دیا جائے گا
11:47اور پرندے اس کا سر کھائیں گے
11:51فیصلہ ہو چکا
11:52جس کا تم پوچھ رہے تھے
11:54اور واقعی
11:56کچھ دن بعد
11:57بلکل ویسے ہی ہوا
11:59جو آزاد ہوا
12:00اس سے یوسف علیہ السلام نے کہا
12:02اپنے بادشاہ کے پاس
12:05میرا ذکر ضرور کرنا
12:06مگر
12:09شیطان نے اسے بھولا دیا
12:11اور یوسف علیہ السلام
12:13مزید کئی سال قید میں رہے
12:16پھر ایک رات
12:19بادشاہ مصر نے خواب دیکھا
12:23سات موٹی گائیں
12:24جنہیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں
12:27سات ہری بالیاں
12:29اور سات سوکھی
12:30وہ گھبرا کر اٹھ گیا
12:33اور خواب اسے روزانہ آنا شروع ہو گیا
12:35پھر ایک دن
12:37دربار میں لوگ جمع ہوتے ہیں
12:39سب حیران
12:40کوئی تابیر نہ بتا سکا
12:42سب بولے
12:44یہ الجے ہوئے خواب ہیں
12:47تب ہی
12:48وہی آزاد ہونے والا قیدی
12:50اچانک یاد کرتا ہے
12:53میں تمہیں تابیر بتا سکتا ہوں
12:57مجھے قید خانے بھیجو
12:58وہ دوڑتا ہوا
13:00یوسف علیہ السلام کے پاس آتا ہے
13:04قید خانے کا دروازہ کھلتا ہے
13:06بادشاہ کا قاسد سامنے کھڑا ہوتا ہے
13:09حضرت یوسف علیہ السلام سے
13:11خواب کی تابیر پوچھی جاتی ہے
13:14یوسف علیہ السلام فرماتے ہیں
13:16سات سال لگاتار کھیتی ہوگی
13:21خوب پیداوار ہوگی
13:23پھر سات سال سخت قہد آئے گا
13:26اور لوگ بھوک سے گزریں گے
13:28ان سات سالوں کی پیداوار کو محفوظ کر کے رکھو
13:32تاکہ قہد کے سالوں میں کمی نہ ہو
13:35یہ صرف تابیر نہیں تھی
13:37یہ پورا معاشی نظام کا منصوبہ تھا
13:41بادشاہ متاثر ہوتا ہے
13:43اسے میرے پاس لاؤ
13:47مگر یوسف علیہ السلام باہر آنے سے انکار کر دیتے ہیں
13:51اور فرماتے ہیں
13:52انہیں بادشاہ سے پیچھو
13:54ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا
13:56جنہوں نے اپنے ہاتھ کٹ لیے تھے
13:59یہ تھا نبی کا وقار
14:02رہائی سے پہلے کردار کی صفائی
14:06دربار میں تحقیقات ہوتی ہے
14:08عورتوں کو بلائی جاتا ہے
14:10اور وہ اقرار کرتی ہیں
14:12ہم نے کوئی برائی یوسف میں نہیں دیکھی
14:15اور زلیکہ بھی کہہ دیتی ہے
14:17اب حق واضح ہو گیا
14:19میں نے ہی اسے راغب کرنا چاہا تھا
14:22اور یوسف سچوں میں سے ہے
14:25بے گناہی پوری دنیا کے سامنے ثابت ہو گئی
14:28اب یوسف علیہ السلام
14:29بادشاہ کے سامنے پیش ہوتے ہیں
14:31گفتگو ہوتی ہے
14:33حکمت، بصیرت، علم
14:36سب ظاہر ہو جاتا ہے
14:38بادشاہ کہتا ہے
14:39آج کے بعد
14:41تم ہمارے پاس مقبول
14:43اور دیانتدار ہو
14:45یوسف علیہ السلام فرماتے ہیں
14:47مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کرتی
14:50میں آمانت کی حفاظت بھی جانتا ہوں
14:53اور مشکل وقت کے لیے تدبیر بھی
14:55یہ گرور نہیں تھا
14:58یہ ذمہ داری لینے کا اعلان تھا
15:01انہیں مصر کے خزانوں کا نگران بنا دیا گیا
15:05مصر کا قیدی
15:06اب سلطنت کا ذمہ دار
15:09سال گزر چکے تھے
15:12کہت صرف مصر تک محدود نہیں رہا
15:14بلکہ گرد کے تمام علاقوں کو
15:17اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا
15:19کھانا کم
15:20زمین سوک چکی
15:22لوگ پریشان
15:24دور اس سرزمین تک بھی
15:26کہت پہنچ گیا
15:26جہاں حضرت یعقوب علیہ السلام
15:29اپنے بیٹوں کے ساتھ رہتے تھے
15:31راشن کم ہوتا جا رہا تھا
15:33پھر خبر ملتی ہے
15:35مصر میں غلہ دستیاب ہیں
15:37اور حکومت
15:39لوگوں کو مقرر قیمت پر
15:41انعاز دے رہی ہے
15:42یوسف علیہ السلام کو معلوم تھا
15:45کہ تاجر مال کو زیادہ تعداد میں خرید کر
15:48آگے لوگوں کو مہنگے داموں میں بیچیں گے
15:50اس لیے انہوں نے اعلان کیا تھا
15:53کہ اگر کسی کو بھی گلہ خریدنا ہے
15:56تو پورے گھر والوں کو ساتھ لانا ضروری ہے
15:59تاکہ سب کو ان کی ضرورت کے مطابق ہی مال دیا جائے
16:03یہ سن کر یعقوب علیہ السلام
16:05اپنے دس بیٹوں سے گلہ لانے کا کہتے ہیں
16:07چھوٹا بیٹا بنیامین
16:09اپنے پاس ہی رکھتے ہیں
16:11کیونکہ یوسف کا غم
16:13ابھی تک تازہ تھا
16:15دس بھائی سفر پر روانہ ہوتے ہیں
16:18انہیں کیا بتا
16:20جس شخص سے وہ گلہ لینے جا رہے ہیں
16:23وہ ان کا کھویا ہوا بھائی ہے
16:26دربار میں پیش ہوتے ہیں
16:28سامنے بیٹھے ہیں حضرت یوسف علیہ السلام
16:31مگر بھائی پہچان نہیں پاتے ہیں
16:34یوسف علیہ السلام انہیں پہچان لیتے ہیں
16:36مگر اپنی شناخت چھپاتے ہیں
16:39یوسف علیہ السلام پوچھتے ہیں
16:40کیا تمہارا کوئی اور بھائی بھی ہے
16:42وہ کہتے ہیں
16:44ہاں
16:45ایک چھوٹا بھائی ہے
16:47وہ ہمارے والد کے پاس ہے
16:49اگلی مرتبہ اسے بھی ساتھ لانا
16:52تب ہی غلہ ملے گا
16:54یوسف علیہ السلام چھپ کر ان کی رقم
16:57ان کے سامان میں واپس رکھوا دیتے ہیں
16:59تاکہ جب یہ گھر پہنچے اور اپنی رقم واپس دیکھیں
17:03تو دوبارہ لوٹنے پر مضبور ہو جائے
17:06جب بھائی گھر پہنچتے ہیں
17:08سامان کھولتے ہیں
17:09تو دیکھتے ہیں ان کی رقم واپس موجود تھی
17:13دن گزرتے ہیں اور مال ختم ہو جاتا ہے
17:16ابباجان ہمیں دوبارہ مصر بھیجیے
17:22اور ہمارے بھائی کو بھی ساتھ بھیج دیجئے
17:24تب ہی ہمیں غلہ ملے گا
17:26اور ہم اس کی حفاظت کریں گے
17:29یاکوب علیہ السلام کا دل کام پڑتا ہے
17:33وہ کہتے ہیں
17:34کیا میں تم پر اسی طرح پھروسہ کروں
17:37جس طرح پہلے اس کے بھائی کے معاملے میں کیا تھا
17:40مگر بھائی مسلسل اسرار کرتے ہیں
17:43ذمہ داری کا وعدہ کرتے ہیں
17:45آخر یاکوب علیہ السلام ایک سخت اہد لیتے ہیں
17:49تم اللہ کو غواہ بنا کر وعدہ کرو
17:53کہ تم اسے واپس لاؤگے
17:55پھر ایک اور ہدایت دیتے ہیں
17:57میرے بیٹو
17:59ایک دروازے سے شہر میں داخل مت ہونا
18:02مختلف دروازوں سے جانا
18:04یہ باپ کی احتیاط تھی
18:06مگر تقدیر اپنا راستہ لکھ چکی تھی
18:10وہ شہر پہنچتے ہیں
18:12اور دربار میں داخل ہوتے ہیں
18:14یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں
18:18اور پھر تنہائی میں بنیامین کو اپنے پاس بلاتے ہیں
18:22آہستہ سے فرماتے ہیں
18:24میں تمہارا بھائی یوسف ہوں
18:26جو کچھ یہ کرتے رہے
18:28اس پر غم نہ کرو
18:30سوچو
18:32سالوں بعد کھویا ہوا بھائی
18:34اچانک سامنے
18:36مگر راز ابھی بھی چھپا رہنا تھا
18:40جب گلہ تیار ہو جاتا ہے
18:42یوسف علیہ السلام ایک منصوبہ بناتے ہیں
18:45شاہی پیمانہ چھپ کر بنیامین کے سامان میں
18:49رکھوا دیا جاتا ہے
18:51پھر کافلہ روانہ ہوتا ہے
18:54مگر کچھ دور جا کر آواز آتی ہے
18:56مہل میں چوری ہو گئی ہے
19:01سب رک جاؤ
19:03بھائی گھبرا جاتے ہیں
19:06سپاہی پوچھتے ہیں
19:07اگر جس کے غلے سے سامان نکلا
19:10تو اس کی سزا کیا ہوگی
19:12جس کا سامان چورایا گیا ہو
19:16چور اس کا غلام بن جائے گا
19:19تلاشی شروع ہوتی ہے
19:20اور وہیں سے پیمانہ نکل آتا ہے
19:24سناٹا
19:26حیرانی
19:28بھائی مضبور ہو جاتے ہیں
19:30وہ کہتے ہیں
19:31اگر انہوں نے چوری کی ہے
19:32تو کوئی حیرانی کی بات نہیں
19:35اس کے بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی
19:37یوسف علیہ السلام دل میں
19:39صبر کرتے ہیں
19:40حقیقت ظاہر نہیں کرتے
19:42بھائی درخواست کرتے ہیں
19:44اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو روک لو
19:48ہمارے والد برداشت نہیں کر پائیں گے
19:50مگر فیصلہ ہوتا ہے
19:53بنیمین روک لیا جاتا ہے
19:55سب سے بڑا بھائی
19:57روایت میں یہودہ یا روبیل کہا جاتا ہے
20:00وہ بھی رک جاتا ہے
20:02باقی بھائی مضبوراً واپس روانہ ہو جاتے ہیں
20:05دل بوجھل
20:07ذہن پریشان
20:08انہیں کیا پتا
20:11تقدیر اب آخری موڑ لینے والی ہے
20:13جب بھائی گھر پہنچ کر پورا ست سناتے ہیں
20:16تو حضرت یاکوب علیہ السلام نہیں مانتے
20:19وہ کہتے ہیں
20:20نفس نے تمہارے لیے بات کو آسان بنا دیا ہے
20:24مجھے امید ہے
20:25اللہ سب کو میرے پاس واپس لے آئے گا
20:27یعنی
20:28پہلے یوسف علیہ السلام گئے
20:31اب بنیمین بھی چلا گیا
20:33اور بڑا بیٹا بھی رک گیا
20:36یاکوب علیہ السلام کا غم
20:38اور بڑھ جاتا ہے
20:39قرآن کے لفظ کہتے ہیں
20:41غم سے روتے روتے
20:43ان کی آنکھیں سفید ہو گئیں
20:45پھر یاکوب علیہ السلام
20:47اپنے بیٹوں سے کہتے ہیں
20:48مصر جاؤ اور عزیز مصر سے بات کرو
20:52اور اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہونا
20:55بھائی تیسری مرتبہ مصر پہنچتے ہیں
20:58قہت اب اور زیادہ سخت ہو چکا ہوتا ہے
21:01بھائی مجبوری کی حالت میں دوبارہ مصر آتے ہیں
21:05وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے آ کر کہتے ہیں
21:09اے عزیز
21:11ہمارے گھر والے سخت پریشانی میں ہیں
21:14ہم تھوڑی سی پونجھی لائے ہیں
21:16آپ ہمیں پورا غلہ دے دیں
21:18اور ہم پر صدقہ کر دیں
21:21اللہ صدقہ کرنے والوں کو بدلہ دیتا ہے
21:24یوسف علیہ السلام کا دل بھار آتا ہے
21:26وہ زیادہ برداشت نہیں کر پاتے
21:29پھر وہ ایک سوال کرتے ہیں
21:31کیا تمہیں یاد ہے تم نے
21:34یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا
21:36جب تم نادان تھے
21:38بھائی حیران رہ جاتے ہیں
21:42انہیں شک ہوتا ہے
21:44وہ کہتے ہیں
21:45کیا
21:50کیا آپ ہی یوسف ہیں
21:51اور پھر
21:53وہ الفاظ آتے ہیں
21:55جو تاریخ کے سب سے عظیم
21:57مافی کے لمحے بن جاتے ہیں
22:00ہاں
22:01میں یوسف ہوں
22:03اللہ نے مجھ پر احسان کیا
22:05جو صبر کرے اور تقویٰ رکھے
22:10اللہ اس کا عجر ضائع نہیں کرتا
22:13اللہ کی قسم
22:15اللہ نے آپ کو ہم پر پذیلت دی
22:18اور ہم واقعی غلطی کرنے والے تھے
22:20آج تم پر کوئی الزام نہیں
22:23اللہ تمہیں معاف کرے
22:25وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
22:28اور پھر یوسف علیہ السلام
22:30اپنے بھائیوں کو اپنی کمیز دیتے ہیں
22:32اور کہتے ہیں
22:34کہ اسے ان کے والد کے چہرے پر رکھنے ہی
22:36ان کی آنکھیں ٹھیک ہو جائیں گی
22:38اور پھر ان سب کو والدین کے ساتھ
22:41محل آنے کا کہتے ہیں
22:44مجھے یوسف کے خوشبو آ رہی ہیں
22:46اور پھر ان کی آنکھیں فوراں ٹھیک ہو جاتی ہیں
22:50یاکوب علیہ السلام فرماتے ہیں
22:52کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا
22:54کہ میں اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں
22:57جو تم نہیں جانتے
22:58اس کے بعد وہ سب مصر کی طرف روانہ ہوتے ہیں
23:02والدین
23:03بھائی
23:04خاندان
23:05اور پھر یاکوب علیہ السلام
23:07اپنے بیٹے سے چالیس سال بعد
23:10دوبارہ ملتے ہیں
23:12آنکھوں میں آنسو
23:13لیکن خوشی سے بھرے ہوئے
23:15پھر یوسف علیہ السلام
23:17اپنے والدین کو تخت پر بٹھاتے ہیں
23:20اور سب بھائی یوسف علیہ السلام کے سامنے
23:23عدب میں جھک جاتے ہیں
23:25تب یوسف علیہ السلام کہتے ہیں
23:27ابباجان
23:28یہ میرے بچپن والے خواب کی تابیر ہے
23:31میرے رب نے اسے سچ کر دکھایا
23:34یعنی
23:35گیارہ ستارے
23:37سورج
23:40چاند
23:40یہ واقعہ صرف ایک نبی کی زندگی نہیں
23:43یہ انسانی جذبات کا سب سے گہرا سفر ہے
23:47ایک بچہ جسے کوئے میں پھیکا گیا
23:51ایک گولام جسے بازار میں بیچا گیا
23:56ایک جوان جسے جھوٹے الزام میں قید کیا گیا
24:00مگر پھر بھی
24:01نہ ان کی زبان سے شکوا نکلا
24:04نہ دل سے یقین نکلا
24:06نہ کردار سے حیاء نکلی
24:08اور پھر اللہ نے اسی بندے کو
24:12سلطنت کا عزیز بنا دیا
24:16اگر آج کے اس دور میں ہم لوگ
24:18سبر اور تقویٰ کا دامن تھام لیں
24:21تو اللہ کی مدد ضرور آئے گی
24:25اندھیرہ چاہے کتنا گہرا ہو
24:28اگر یقین زندہ ہو
24:30تو صبح ضرور ہوتی ہے
24:35اس واقعہ میں آپ کا سب سے فیوریٹ پارٹ کونسا تھا
24:39کومنٹس میں بتائیے
24:41اور ویڈیو کو لائک کریں
24:42اور چینل کو سبسکرائب کریں
24:45بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک
24:46بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک
24:46بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک
24:46بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھیک بھ
Comments