- 2 days ago
Islamic channel Natt Biyaan Hadees Shareef True Mujzey islami Waqiaat
Category
📺
TVTranscript
00:00Amalik
00:37Amalik
01:28Amalik
01:57Amalik
02:16Amalik
02:47Amalik
03:16Amalik
03:17Amalik
03:17Amalik
03:17Amalik
03:18Amalik
03:20Amalik
03:21Amalik
03:21Amalik
03:22Amalik
03:24Amalik
03:26Amalik
03:27Amalik
03:27Amalik
03:28Amalik
03:29Amalik
03:29کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں
03:32امالکہ بہرہ مردار کے مغربی علاقوں میں آباد تھے
03:37وہاں بھی ان کی فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی
03:40وحشت درندگی اور غرور ان کے وجود کا حصہ بن چکے تھے
03:45ان کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر
03:47عراق کے اشوری بادشاہوں نے ان کے خلاف لشکر کشی کی
03:52اور بلاخر انہیں اپنے علاقوں سے نکال باہر کیا
03:56یوں امالکہ کو سہرائے سینہ کی طرف دھکیل دیا گیا
04:00جہاں کبھی ان کے عظیم محلات ہوا کرتے تھے
04:04اب وہی لوگ ریت کے میدانوں میں بھیڑ بکنیاں چرانے پر مجبور ہو گئے
04:09مگر ان کے دلوں میں غرور خط نہ ہوا
04:12وہ اب بھی سمجھتے تھے کہ ان جیسا طاقتور
04:15اس زمین پر اور کوئی نہیں
04:18اور یہی غرور انہیں ایک ایسی تباہی کے دہانے پر لے آیا
04:22جس کا تصور بھی ممکن نہیں
04:24دوستو وقت گزرتا گیا
04:26اور امالکہ کی نسل مختلف خطوں میں پھیلتی چلی گئی
04:31ان میں سے ایک شاہ خنان کی زمین پر بسی
04:34جہاں سے بعد میں ایک ایسا بادشاہ اُبھرا
04:38جس کا نام سن کر ہی لوگ لرز اٹھتے تھے
04:41جالود
04:42تاریخ اور روایات کے مطابق
04:44جب بنی اسرائیل نے اپنے رب کے احکامات کو بھولا دیا
04:48اور بد پرستی بدکاری اور سرکشی میں مبتلا ہو گئے
04:52تو اللہ تعالی نے ان پر سزا کے طور پر
04:56ایک ظالم اور جابر قوم مسلط کر دی
04:59اور وہ قوم تھی امالکہ
05:01ان پر جو بادشاہ مقرر کیا گیا
05:04اس کا نام تھا جالود
05:06ایک ایسا شخص جو ظلم
05:08وحشت اور طاقت کی
05:10علامت بن چکا تھا
05:11کہا جاتا ہے کہ جالود
05:13املیق بن آد کی اولاد میں سے تھا
05:16اور املیق دراصل انفرا کا بیٹا
05:19ایس کا پوتا اور حضرت عساق علیہ السلام کا پر پوتا تھا
05:24یعنی یہ سلسلہ براہ راست حضرت ابراہیم علیہ السلام تک جا پہنچتا ہے
05:29یوں امالکہ اور دیگر اولاد ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ
05:34قرآن میں ایک طاقتور اور شہزور قوم کے طور پر جانے جاتے تھے
05:39لیکن ان کی فطرک میں جنگ جوئی
05:42خون خرابی اور غرو رس بس چکا تھا
05:45روایات میں آتا ہے کہ جالود کا قد تقریباً پندرہ فٹ لمبا تھا
05:50اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کا سایہ ایک میل تک پھیل جاتا تھا
05:54اس کی فوج میں تین لاکھ گھر سواز شامل تھے
05:58جو میدان میں اترتے تو زمین ان کے قدموں تلے لرس جاتی
06:03بعض موررخین کا کہنا ہے
06:05کہ قوم برور کا تعلق بھی انہی امالکہ کی نسل سے جا ملتا ہے
06:10ایسے ہی طاقتور مغرور اور جنگ جو بادشاہ
06:14جالود نے بنی اسرائیل پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی
06:18مگر یہ کہانی یہاں خط نہیں ہوتی
06:21کیونکہ تاریخ گواہ ہے
06:22کہ جب ظلم اپنی حدوں کو چھوٹا ہے
06:25تو اللہ کا فیصلہ قریب آ جاتا ہے
06:28دوستو زمانہ گزرتا گیا
06:30امالکہ کی سلطنت پہلتی چلی گئی
06:33یہاں تک کہ انہوں نے اشوری بادشاہوں کے دور میں
06:37فلسطین اور شام کی سرزمینوں پر
06:40بزور بازو قبضہ جمع لیا
06:42ان کے قلع مضبوط
06:43ان کے لشکر بے خوف
06:45اور ان کے مظالم بے انتہا ہو چکے تھے
06:48ایسے میں اللہ تعالی نے اپنے نبی
06:51حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا
06:54کہ وہ عرض مقدس کو
06:56امالکہ کے قبضے سے آزاد کروائیں
06:59جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم
07:02یعنی بنی اسرائیل کے ساتھ
07:04فلسطین کے قریب پہنچے
07:05تو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا
07:07اے بنی اسرائیل
07:09اس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ
07:12جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے
07:15اور پیٹھ نہ دکھاؤ
07:17ورنہ تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگے
07:19مگر بنی اسرائیل جو بھی تک غلامی
07:22اور کمزوری کے اثرات سے نکل نہ پائے تھے
07:24ڈر گئے
07:25اور بول اٹھے
07:26اے موسیٰ
07:27وہاں ایک بڑی طاقتور قوم آباد ہے
07:31امالکہ
07:32ہم ان سے مقابلہ نہیں کر سکتے
07:34تم اور تمہارا پروردگار جا کر لڑو
07:37ہم تو یہی بیٹھے ہیں
07:39یہ جملہ ایمان کی کمزوری کا آئینہ تھا
07:42یہ وہ لمحہ تھا جب اللہ تعالی نے ان کی سرکشی پر فیصلہ سنایا
07:46چنانچہ بنی اسرائیل کو
07:48سہرائی تی میں چالیس سال کے لیے قید کر دیا گیا
07:52نہ وہ آگے بڑھ سکے نہ پیچھے لوٹ سکے
07:55ایک مختصر سہرہ میں بھٹکتے رہے
07:58یہاں تک کہ ایک نئی نسل ابریج جو ایمان اور عظم میں پہلی سے مضبوط تھی
08:03یہ وہی نسل تھی جس نے بعد میں حضرت یشری علیہ السلام کی قیادت میں
08:08عرض مقدس کو دوبارہ حاصل کیا
08:11مگر امالکہ جو اس وقت طاقت کی انتہا پر تھے
08:15انہیں یہ احساس نہ تھا
08:17کہ ان کے زوال کی بنیاد اسی لمحے میں رکھ دی گئی تھی
08:20دوستو یہ وہ وقت تھا جب بنی اسرائیل کو
08:24عمالکہ کی طاقت سے خوف آ چکا تھا
08:27اللہ کا حکم واضح تھا
08:29عرض مقدس میں داخل ہو کر ظالم قوم کو شقص دو
08:33مگر ایمان کمزور پڑ چکا تھا
08:36اور جب ایمان کمزور ہو جائے تو قومیں اپنی منزل کھو دیتی ہیں
08:40چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایک ایسی سزا دی
08:44جو تاریخ کی کتابوں میں ہمیشہ کے لیے لکھی گئی
08:48یہ سزا تھی میدان تی
08:51یہ میدان شام اور مصر کے درمیان
08:54پانچ سے چھ فرس یعنی تیس کلومیٹر کے علاقے پر مشتمل تھا
08:59ایک کھلا ویران اور سناٹا خیز میدان
09:03جہاں نہ سایہ دار درخت تھے
09:05نہ امارت نہ پانی اور نہ ہی کھانے کی کوئی چیز
09:09اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ
09:14امالقہ سے بیت المقدس کو آزاد کرانے نکلے
09:18مگر جب فلسطین کے قریب پہنچے
09:20تو بنی اسرائیل امالقہ کی دہشت کے سامنے دھیر ہو گئے
09:24اور پھر وہ دن آیا جب اللہ نے ان پر اپنا فیصلان نازل کیا
09:29چالیس برس تک وہ اسی مختصر سے میدان میں صبح و شام تک بھٹکتے رہے
09:34مگر باہر نہ نکل سکے جیسے وقت تھم گیا ہو
09:38اور زمین ان کے لئے قید خانہ بن گئی ہو
09:41مگر دیکھئے اللہ کی رحمت
09:43حضرت موسیٰ علیہ السلام باوجود اس کے کہ اپنی قوم سے ناکش تھے
09:48انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ
09:51یا اللہ یہ تیری مخلوق ہے انہیں رزق عطا فرما
09:55پھر اللہ نے کرم فرمایا
09:57آسمان سے روزانہ ان کے کھانے کے لئے من و سلوہ نازل ہوتا
10:01دھوب سے بشاؤ کے لئے بادل ان پر سائے فگن ہو گئے
10:05اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آسا سے پتھت پر ضرب لگائی
10:10تو اس لمحے بارہ چشمیں پھوٹ پڑے
10:12ہر قبیلے کے لئے ایک چشمہ
10:15یوں اللہ نے انہیں بھٹکنے کی سزا تو دی
10:18مگر اپنی رحمت سے محروم نہ کیا
10:20یہ وہ منظر تھا جو انسان کو یاد دیلاتا ہے
10:23کہ اللہ کی نافرمانی بندے کو راستے بھٹکا دیتی ہے
10:27مگر اللہ کی رحمت کبھی راستہ نہیں چھوڑتی
10:30دوستو میدانے تھی کہ یہ چالیس سال صرف سزا نہیں تھے
10:34ایک امتحان بھی تھا اور ایک تربیتگاہ بھی
10:38حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان کے بھائی
10:41حضرت حارون علیہ السلام اور شاگر حضرت یشیو بن نون علیہ السلام بھی موجود تھے
10:47یہ تینوں ہستیاں بنی اسرائیل کی رہنمائی کے لئے
10:51اللہ کی طرف سے منتخب کی گئی تھی
10:53وقت گزرتا گیا اور وہ سب لوگ جو پہلے جہاد سے پیچھے ہٹ گئے تھے
10:59رفتہ رفتہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے
11:01ان کی جگہ ایک نئی نسل نے لے لی
11:04ایسی نسل جو غلامی کے اثرات سے آزاد اور ایمان کی روشنی سے منور تھی
11:09پھر ایک دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا
11:13اے موسیٰ بنی اسرائیل کو بارہ قبائل میں تقسیم کرو
11:17ان کی تنظیمیں نو کرو اور ہر قبیلے کے لئے ایک سردار مقرر کرو
11:22جو اپنی قوم کو جہاد کی تربیت دے
11:25یہ تیاری دراصل ایک الہی منصوبہ تھی
11:28بیت المقدس کو امالکہ کے قبضے سے آزاد کرانے کی پیش مندی
11:33حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے
11:37بنی اسرائیل کو بارہ قبائل میں تقسیم کیا
11:40اور حضرت یوشو بن نون کو ان تمام قبائل کا سردار اور سپہ سالار مقرر فرمایا
11:47مگر تقدیر کو کچھ اور منظور تھا
11:50ابھی وادی تیہ کی سزا مکمل نہ ہوئی تھی
11:53کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے
11:57ان کے بعد قیادت کی ذمہ داری
12:00حضرت یوشو بن نون علیہ السلام کے کاندھوں پر آ گئی
12:04حضرت یوشو نے اپنی قوم کو منظم کیا
12:07ان کی جنگی تربیت کا آغاز کیا
12:09اور ایک ایسی قوم تیار کی جو ایمان صبر اور یقین میں اپنی مثال آپ تھی
12:15چونکہ میدانے تھی میں نہ کھیتی باری تھی نہ تجارت تھی
12:19نہ معاشی سرگرمیاں تھی
12:21اللہ کی طرف سے من و سلوہ کی نعمتوں پر گزارا ہو رہا تھا
12:25یوں ان لوگوں نے اپنا وقت پوری لگن کے ساتھ جہاد کی تیاریوں میں صرف کیا
12:30یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے بعد میں حضرت یوشو علیہ السلام کی قیادت میں
12:35امالکہ کے خلاف فیصلہ کنجنگ لڑی
12:38اور بیعت المقدس کو ان کے تسلط سے آزاد کروایا
12:42دوستو وقت گزرتا گیا چالیس برس کی وہ سزا
12:46جس نے بنی اسرائیل کو آزمایا
12:49آج اپنے اختتام کو پہنچنے والی تھی
12:52جب سہرہ میں بھٹکنے کے چالیس سال مکمل ہوئے
12:55تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوشو بن نون علیہ السلام کو حکم دیا
12:59اے یوشو بنی اسرائیل کو جمع کرو
13:02اور بیعت المقدس کو امالکہ کے قبضے سے آزاد کرواو
13:06اب یہ وہ نئی نسل تھی جو اپنے بزرگوں کی بزدلی
13:10اور نافرمانی سے سبق سیکھ چکی تھی
13:13وہ جانتے تھے کہ ایمان کے بغیر فتح ممکن نہیں
13:16اور جب اللہ کا حکم ہو تو میدان سے پیٹ نہیں پھیلی جاتی
13:20چنانچہ جب حضرت یوشو علیہ السلام نے جہاد کی بکار بلند کی
13:24تو بنی اسرائیل کے چھے لاکھ جانباز ایمان کے جوش اور جہاد کے عظم کے ساتھ
13:30ان کے گرد جمع ہو گئے
13:32یہ لشکر بارہ قبائل پر مشتمل تھا
13:35منظم پور عظم اور اللہ کی نصرت پر یقین رکھنے والا
13:39انہوں نے اریحہ کے مقام پر پڑھاؤ ڈالا
13:43جہاں امالکہ نے مضبوط قلعہ بندی کر رکھی تھی
13:47محاصرہ شروع ہوا
13:48ایک دن ایک ہفتہ ایک مہینہ
13:51یہ محاصرہ چھے ماہ تک جاری رہا
13:54امالکہ اپنے کلوں میں بند اور بنی اسرائیل
13:57باہر صبر و استقامت کے ساتھ ٹٹے رہے
14:00آخر ایک دن اللہ کی مدد نازل ہوئی
14:03بنی اسرائیل کے جان نصاروں نے
14:05امالکہ کے کلوں کی دیواروں کو توڑ ڈالا
14:07اور شہر کے اندر داخل ہو گئے
14:10اریحہ فتح ہو چکا تھا
14:11شہروں کے بلند مناروں پر
14:14اللہ کے سپاہیوں نے ایمان کا پرچم لہرا دیا
14:16اس فتح کے بعد بنی اسرائیل نے
14:19قرآن کے دیگر شہر بھی فتح کیے
14:21یہاں تک کہ فلسطین اور شام کا وسیع علاقہ
14:25امالکہ کے قبضے سے آزاد ہو گیا
14:27یوں ایک ایسی قوم
14:29جو صدیوں تک غرور
14:31ظلم اور صفاقی کی علامت تھی
14:34اللہ کے حکم سے اپنے انجام کو پہنچ گئی
14:37اور تاریخ نے یہ گواہی دی
14:38کہ طاقتور وہ نہیں ہوتا
14:40جو بڑے لشکر رکھتا ہے
14:42طاقتور وہ ہوتا ہے
14:44جس کے دل میں ایمان کی روشنی ہوتی ہے
14:46دوستو امالی کا ذکر صرف عربی تاریخ میں نہیں
14:52بلکہ توراد میں بھی
14:58بلکہ توراد میں بھی موجود ہے
15:00ان کے بارے میں کہا جاتا ہے
15:03کہ وہ بنی اسرائیل کے سخت دشمن تھے
15:05اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں
15:08انہوں نے اسرائیلی لشکروں پر حملہ کیا تھا
15:11بائبل کے مطابق اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا
15:16کہ وہ امالی کے ظلم کے خلاف جہاد کریں
15:20کیونکہ وہ حد سے تجاوز کر شکے تھے
15:23اس جنگ کے بعد امالی کا زوال شروع ہوا
15:26کچھ موررخین لکھتے ہیں
15:28کہ وہ رفتہ رفتہ
15:29مصر حجاز
15:30اور اردن کے علاقوں میں بکھر گئے
15:33کچھ سمندر کے پاس چلے گئے
15:36اور کچھ بلاخر مٹ گئے
15:38جیسے ان کا وجود کبھی تھا ہی نہیں
15:40کہا جاتا ہے
15:42امالی کے بادشاہ
15:43اپنے تاج محل پتروں کے بڑے بڑے بلاک سے بنواتے
15:47جنہوں نے آج کے دور کے انجینئرز کو بھی حیران کر دیا
15:51ان کے جسم اتنے مضبوط تھے
15:53کہ وہ بڑے بڑے درختوں کو ایک ہال سے اکھار سکتے تھے
15:57بعض روایات کے مطابق
15:59وہ زمین کی مخلوق تھی
16:01جنہیں جنات بھی دیکھ کر ڈرتے تھے
16:04لیکن جب اللہ کا حکم آیا
16:06تو وہی زمین جس پر وہ فخر کرتے تھے
16:08ان کے لئے عذاب بن گئی
16:10ان کے شہر مٹی میں دفن ہو گئے
16:13ان کی بستیاں ملبے کا ڈھیر بن گئیں
16:15اور ان کے ادام صرف روایات اور قصوں میں باقی رہ گئے
16:19قرآن میں اگرچہ امالی کا نام نہیں آتا
16:22لیکن اللہ پاک سورہ ابراہیم میں فرماتے ہیں
16:25کیا تم نے نہیں دیکھا
16:27کہ تم سے پہلے کی قومیں آدھ سمود
16:30اور وہ جو ان کے بعد آئے
16:32وہ ہم سے چھپ نہ سکے
16:34مفسرین لکھتے ہیں ان پچھلی قوموں میں
16:37آمالی بھی شامل تھے
16:39وہی قوم جس نے اپنی طاقت پر بھروسہ کیا
16:42اور اپنے خالق کو بھلا دیا
16:44تاریخ گواہ ہے کہ
16:46اللہ تعالی نے ہمیشہ قوموں کو
16:48ان کے آمالوں کردار کے بلبوتے پر
16:51اگر سنبھالا ہے
16:52تو انہیں اپنے انجام تک پہنچایا بھی ہے
16:55جو قومیں اللہ تعالی کی محلت سے فائدہ اٹھا گئیں
16:58وہی فائدے میں رہیں
17:00اور جو آقام الہی سے سرکشی کی مرتقب نہیں
17:04ان کے لئے پھر رب نے
17:06زلت اور روسوائی ہی لکھ دی
17:08تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں
17:10کہ جب بھی کوئی قوم گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکی
17:13تو اللہ تعالی نے ان پر
17:15صفاق اور جابر حکمرانوں کو ہی
17:17مسلط کیا
17:18حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں
17:20ایسی ہی ایک قوم امالکہ
17:22تاریخ کی کتابوں میں
17:24صفاقیت کے حوالے سے
17:25ہمیشہ یاد رکھی جائے گی
17:27دوستو امالکہ کی کہانی سن کر
17:30ہمیں وہ اقوام بھی یاد آتی ہیں
17:33جن کا تذکرہ قرآن مجید میں
17:34بارہا کیا گیا
17:35ایسی قومیں جنہیں اللہ نے
17:38بے پناہ طاقت دولت اور شان و شوقت
17:41اتا کی مگر انہوں نے
17:43اس خالق کو بھلا دیا
17:44جس نے انہیں پیدا کیا
17:46جیسا کہ قوم عاد وہ عزین قوم
17:49جو حضرت نو علیہ السلام کے بعد
17:51زمین پر سب سے زیادہ طاقتور
17:53مانی جاتی تھی
17:54ان کے شہر آقاف کے میدانوں میں
17:57بادلوں کو چھوٹے محلات اور
17:59چٹانوں سے تراشے گئے
18:00ان کے شہر آقاف کے میدانوں میں
18:03بادلوں کو چھوٹے محلات اور
18:05چٹانوں سے تراشے گئے ستونوں والے
18:07گھر تھے
18:08قرآن مجید انہیں آدھے ارمزاتل
18:11ایماد کہہ کر پکارتا ہے
18:13یعنی وہ قوم جس کے ستون
18:15مثل امارتوں کے تھے
18:17جن کی مثال اس سے پہلے
18:19کسی نے نہ دیکھی تھی
18:20اللہ نے انہیں جسمانی قوت
18:22طویل عمری اور زمین کے
18:25وسط بخشی
18:25مگر وہ غرور میں آ کر کہنے لگے
18:28ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے
18:31انہوں نے اللہ کے نبی
18:33حضرت حود علیہ السلام کی
18:35دعوت ٹھکرا دی
18:36اور شرق ظلم اور تقبر میں
18:39ڈوب گئے
18:39آخر کار وہ دن آیا جب آسمان سے
18:42بادل اٹھا
18:43قوم نے سمجھا کہ بارش آنے والی ہے
18:46مگر وہ بارش نہیں اللہ کا
18:48آزاد تھا
18:49ایک خوفناک چیختی چنگھارتی آدھی نے
18:54سات راتیں اور آٹھ دن ان پر
18:56حلاقت برپا کی
18:58یہاں تک کہ وہ
18:59ایسے گرے جیسے خجور کے سوکھے تنے
19:01یوں وہ قوم جو پہاڑوں سے
19:03اونچے محلات بناتی تھی
19:05ریت میں دفن ہو گئی
19:07اور آج ان کے اثار بھی
19:09ماضی کی گرد میں چھپ چکے ہیں
19:11بلکہ دوستو قوم آدھ کے بعد
19:13زمین پر ایک اور طاقتور قوم
19:14قوم سمود بھی اگری
19:16یہ لوگ آدھ کے بعد کے زمانے میں
19:19آباد ہوئے
19:20اور اپنی طاقت
19:21فن تعمیر
19:22اور تمدن کے باعث
19:24مشہور تھے
19:24ان کے شہر مدائن سالح کے پہاڑوں میں
19:27آج بھی وہ چٹانے موجود ہیں
19:29جنہیں یہ لوگ
19:31اپنے ہاتھوں سے تراش کر
19:32گھروں میں بدل دیتے تھے
19:34ان کی محنت
19:35اقل اور فن حیران کن تھے
19:37مگر افسوس کے ایمان
19:39ان کے دلوں میں جگہ نہ پاسکا
19:41اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس
19:43اپنے نبی
19:43حضرت صالح علیہ السلام کو بھیجا
19:46انہیں توحید کی دعوت دی
19:48اور اس بات سے روکا
19:49کہ وہ اللہ کے علاوہ
19:51کسی کو نہ پکاریں
19:52مگر قوم کے سرداروں نے
19:54مزاق اڑایا اور کہا
19:56اے صالح
19:57اگر تم سچے نبی ہو
19:59تو پہاڑ سے ایک زندہ اونٹنی
20:01نکال کر دکھا
20:02اللہ نے اپنی قدرت سے
20:03چٹان پھاڑ دی
20:04اور اس میں سے
20:05ایک عظیم الحب سا اونٹنی نکلی
20:08جو ان کے لئے نشانی تھی
20:10حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں حکم دیا
20:13کہ اس اونٹنی کو نقصان نہ پہنچائیں
20:15یہ اللہ کی نشانی ہے
20:17لیکن تقبر نے ایک بار پھر
20:20عقل پر پردہ ڈال دیا
20:21انہوں نے آپس میں سازش کی
20:23اور اس اونٹنی کو قتل کر دیا
20:26تب حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا
20:29اب تین دن کے اندر تم پر
20:31اللہ کا عذاب نازل ہوگا
20:32اور پھر عذاب آیا
20:34زمین لرز اٹھی
20:36ایک زبردست کڑکدار آواز
20:38نے سب کچھ نیستوں نابود کر دیا
20:40پہاڑوں کی بیچ
20:42آباد یہ قوم پتھروں کی طرح
20:44جم کر رہ گئی
20:45یوں قوم سمود بھی قوم آد کی طرح
20:47غرور کے نشے میں فنا ہو گئی
20:50دوستو یوں لگتا ہے
20:51کہ انسان نے تاریخ سے کبھی
20:53سبق نہیں سیکھا
20:54قوم آد غرور میں ڈوب کر
20:56مٹی میں دفن ہو گئی
20:57قوم سمود نے اللہ کی نشانی
21:00کو قتل کیا
21:01اور چٹانوں میں جم کر رہ گئی
21:03اور عمال کا وہ طاقتور قوم
21:05جو ان سب کے بعد ظاہر ہوئی
21:07اپنے ظلم و جبر کے باعث
21:09اللہ کے غزب کا شکار بنی
21:11مگر کہانی یہیں خط نہیں ہوتی
21:13ان سب کے بعد ایک اور قوم نے
21:16نہ صرف رب کی نافرمانی کی
21:18بلکہ فطرت کے حصولوں سے بغاوت کر دی
21:21اور وہ تھی قومِ لود
21:22اللہ تعالیٰ نے انہیں خوبصورت وادیوں میں بسایا
21:26ذرخے زمینے دی
21:27ندی نالے باغاد اور امن اتا کیا
21:30مگر نعمتیں جب آزمائش بن جائیں
21:32تو دلوں کا حال ظاہر ہو جاتا ہے
21:34انہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا
21:38اور وہ فیل اختیار کیا
21:40جو اس سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا
21:42مرد مردوں کے ساتھ بدفیل ہی کرنے لگے
21:45اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی
21:47حضرت لوت علیہ السلام کو ان کی طرف بھیجا
21:50انہوں نے کہا
21:51کیا تم ایسی بے ہیائی کرتے ہو
21:54جو دنیا میں تم سے پہلے کسی نے نہ کی ہو
21:56اللہ سے ڈرو
21:57اور اپنی قوم کو پاکیزگی کی طرف لوٹاؤ
22:00مگر جواب میں وہاں سے
22:02اور حضرت لوت علیہ السلام کو
22:04بستی سے نکال دینے کی دھمکیاں دیں
22:06بلاخر جب بغاوت حد سے گزر گئی
22:09تو آسمان سے اللہ کا حکم آیا
22:11اور زمین پر عذاب نازل ہوا
22:13رات کے اندھیرے میں فرشتے اترے
22:16اور حضرت لوت علیہ السلام
22:18اور ان کے ایمان والے چند ساتھیوں کو نکالا
22:20اور پھر وہ ہوا جو کبھی نہ ہوا
22:23زمین الٹ دی گئی
22:25ان کے اوپر آسمان کا پتھریلہ عذاب برسا
22:27اور پوری بستی صفہ ہستی سے مٹ گئی
22:30یوں ایک اور قوم جو طاقت امن
22:33اور نعمتوں میں ڈوبی ہوئی تھی
22:35اپنی نافرمانی کے باعث عبرت کی مثال بن گئی
22:39دوستو قوم آدھ طاقت میں مٹی میں دفن ہوئی
22:42قوم سمود نے نشانی کا انکار کیا
22:45قوم لوت نے فطرت سے بغاوت کی
22:47اور امالکہ نے ظلم و جبر کو اپنا شاعر بنا لیا
22:51مگر ایک قوم ایسی بھی تھی
22:53جس نے اللہ کی نعمتوں کو دنیاوی لالش میں بدل دیا
22:57یہ تھی قوم مدین
22:58مدین ایک خوشحال تجارتی مرکز تھا
23:01جہاں باداروں کی رونق
23:03قائفلوں کی چہل پہل
23:05اور مال و دولت کی فراوانی عام تھی
23:07اللہ نے ان کے درمیان اپنے نبی
23:10حضرت شویب علیہ السلام کو بھیجا
23:12آپ نے انہیں حکم دیا
23:14کہ ناب طول میں انصاف کرو
23:16لوگوں کے حقوق نہ کھاؤ
23:18اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ
23:20اللہ نے ان کے درمیان
23:22اپنے نبی حضرت شویب علیہ السلام کو بھیجا
23:25آپ نے انہیں حکم دیا
23:27کہ ناب طول میں انصاف کرو
23:28لوگوں کے حقوق نہ کھاؤ
23:30اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ
23:33مگر ان کی آنکھوں پر
23:34دنیا کی چمک کا پردہ پڑ چکا تھا
23:37انہوں نے کہا
23:38اے شویب
23:38کہ تمہاری نماز ہمیں یہ سکھاتی ہے
23:41کہ ہم اپنی دولت پر اختیار نہ رکھیں
23:43انہوں نے دین کو مزاق سمجھا
23:45اور حلال و حرام کی تمیز مٹا دی
23:48حضرت شویب علیہ السلام نے بار بار سمجھایا
23:51مگر جب بغاوت حد سے گزر گئی
23:54تو اللہ کا عذاب نازل ہوا
23:55ایک خوفناک زلزل آیا
23:57زمین لرز اٹھی
23:59امارتیں گر گئیں
24:00اور ایک زوردار آواز نے ان کی روحوں کو چیر دیا
24:03صبح جب سورج نکلا
24:05تو مدین کی وہ تجارتی بستی ویران ہو چکی تھی
24:09یوں وہ قوم جو ناب طول میں
24:11ایک دانہ کم کر کے
24:12خود کو اقل مند سمجھت
24:14خود کو اقل مند سمجھتی تھی
24:16اللہ کے انصاف میں مٹ گئی
24:18اور آج ان کے بازاروں کی گونج
24:20بھی تاریخی کی خاموشی میں گم ہو چکی ہے
24:23دوستو قومیات کی طاقت
24:25قوم سمود کا فن
24:26قوم لوت کی خواہش
24:28قوم مدین کی چالاکی
24:30اور قوم فیرون کی بادشاہت
24:32سب کچھ مٹی میں دفن ہو گیا
24:35امالکہ جیسے دیوہیکر انسان
24:37جو پہاڑوں سے اونچی عمارتیں بناتے تھے
24:40آج ان کے نام بھی
24:41صرف تاریخ کے اوراق میں باقی ہیں
24:43ان سب قوموں میں ایک بات مشتریق تھی
24:46اللہ نے انہیں نعمتیں دی
24:48طاقت علم دولت اور اختیار اطا کیا
24:51مگر جب انہوں نے اپنے رب کو بھولا دیا
24:54تو وہی نعمتیں ان کے لیے
24:56عذاب کا ذریعہ بن گئیں
24:57قرآن ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے
25:00اللہ کسی قوم کی اس وقت تک حالت نہیں بدلتا
25:03جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدلیں
25:05یہ داستانیں صرف ماضی کی کہانیاں نہیں
25:08یہ آئینہ ہیں انسان کے حال اور مستقبل کا
25:12اگر آج ہم بھی غرور ظلم فہاشیت دھوکے کو معمول سمجھ لیں
25:17تو یاد رکھیں اللہ کی زمین اور اس کا قانون کبھی نہیں بدلا
25:20وقت کے ساتھ چہرے ضرور بدلتے ہیں
25:23مگر انجام ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے
25:26تکبر فنا اور آجزی بقا
25:28اس طرح دوستو امالی کی کہانی بھی صرف ایک تاریخی واقع نہیں
25:32ایک تنبیہ ہے ایک پیغام ہے
25:35یہ بتاتی ہے کہ جب انسان اپنی طاقت دولت یا علم پر غرور کرتا ہے
25:40تو اللہ اسے مٹا دیتا ہے
25:42چاہے وہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو
25:44کبھی آد کبھی قوم سمود کبھی فیرون اور کبھی امالی
25:49ہر دور میں انسان کو یہی سبق دیا گیا
25:52کہ زمین پر سب کچھ فنا ہو جائے گا
25:54باقی صرف اللہ کا حکم رہے گا
25:57تو دوستو امالی کی یہ داستان صرف ماضی کی نہیں
26:00یہ آج کے انسان کے لیے آئینہ ہے
26:03اگر ہم نے بھی اللہ کو بھلا دیا
26:05تو شاید کل کوئی ہم سے بھی یہی کہے
26:08ایک قوم تھی جو بڑی طاقتور تھی
26:10مگر اب صرف نام باقی ہے
26:12پیارے دوستو سورة العراف آیت
26:1594 تا 96 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں
26:19کہ کبھی ایسا نہیں ہوا
26:20کہ ہم نے کسی بستی میں نبی بھیجا ہو
26:23اور اس بستی کے لوگوں کو پہلے
26:25تنگی اور سختی میں مبتلا نہ کیا ہو
26:27اس خیال سے کہ شاید وہ آجزی پر اتر آئیں
26:30پھر ہم نے ان کی بدھالی کو ششحالی میں بدل دیا
26:33یہاں تک کہ وہ خوب پھولے پھلے اور کہنے لگے
26:36ہمارے اصلاح پر بھی اچھے اور بورے دن آتے رہے
26:40آخر کار ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا
26:43اور انہیں خبر تک نہ ہوئی
26:45اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے
26:47اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے
26:50تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے
26:54مگر انہوں نے تو جھٹلایا
26:56لہٰذا ہم نے اس بری کمائی کے حساب میں انہیں پکڑ لیا
27:00جو وہ سمیٹ رہے تھے
27:02اومِ نوح، آد و سمود، کومِ لود
27:05اور اصحابِ مدین کے طرز فکر و عمل
27:08اور برے انجام کے تذکرے کے بعد
27:11وہ اصول بتایا جا رہا ہے
27:13جو ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ نے
27:15انبیاء علیہ السلام کی بیست کے موقع پر اختیار فرمایا
27:18اور وہ یہ ہے کہ جب کسی قوم میں کوئی نبی بھیجا گیا
27:22تو پہلے اس قوم کو مسائب اور آفات میں مبتلا کیا گیا
27:26تاکہ اس کا دل نرم پڑے
27:28اس کی شیخی اور تکبر سے اکڑی ہوئی گردن ڈھیلی ہو
27:31اپنی طاقت کا غرور اور دولت کا نشہ اتر جائے
27:35اپنے ذرائع و وسائل
27:37اور اپنی قوتوں اور قابلیتوں پر اس کا اعتماع ٹوٹ جائے
27:41اسے محسوس ہو کہ اوپر کوئی طاقت بھی ہے
27:43جس کے ہاتھ میں اس کی قسمت کے دوڑ ہے
27:46اور اس طرح اس کے کان نصیحت کے لیے کھل جائیں
27:49اور وہ اپنے خدا کے سامنے آجزی کے ساتھ جھک جانے پر آمادہ ہو جائے
27:53لیکن جب سختی اور تنگی میں اس کا دل قبول حق کی طرف مائل نہیں ہوتا
27:57تو اس کو خوشحالی کے فتنے میں مبتلا کر دیا جاتا ہے
28:01اور یہاں سے اس کی بربادی کی ابتدا ہوتی ہے
28:04جب وہ نعمتوں سے مالا مال ہونے لگتی ہے
28:07تو اپنے بورے دن بھول جاتی ہے
28:09اور سمجھتی ہے کہ حالات کے اتار شڑھاؤ
28:12اور قسمت کے بناو اور بگاڑ میں کوئی حکمت نہیں
28:15اور نہ ہی ہمارے لیے کوئی سبق ہے
28:18اور نہ ہی اس اتار شڑھاؤ کا تعلق
28:20ہمارے اخلاقوں کے دار سے ہے
28:22بلکہ یہ سب کچھ قانون فطرت اور طبیعت کے مطابق ہے
28:27ان کی وجہ سے کوئی اخلاقی سبق لینا
28:30ایک دوسرے کو نصیحت کرنا
28:32یا کسی کی نصیحت قبول کرنا
28:34اور خدا کے سامنے آہوزاری کرنا اور گیڑ گیڑانا
28:38صرف ایک نفسیاتی بیماری اور کمزوری ہے
28:41جو مصیبتوں کے پڑھنے پر کچھ لوگوں کو ہو جاتی ہے
28:44یہ معاملہ قوموں کی طرح
28:46افراد کے ساتھ بھی پیش آتا ہے
28:48انہیں بھی تنگی سختی کے امتحان میں ڈالا جاتا ہے
28:52لیکن جو لوگ اسے صرف حالات کا
28:54اولٹ پھیر اور معمول کی بات سمجھتے ہیں
28:57ان کی ذہنی کیفیت کا نقشہ
29:00نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں کھینچا
29:03کہ مصیبت مومن کی تو اصلاح کرتی چلی جاتی ہے
29:07یہاں تک کہ جب وہ اس بھٹی سے نکلتا ہے
29:10تو ساری کھوٹ سے صاف ہو کر نکلتا ہے
29:12لیکن منافقت کی حالت بالکل گدے کسی ہوتی ہے
29:16جو کچھ نہیں سمجھتا کہ اس کے مالک نے اسے کیوں باندھا تھا
29:19اور کیوں اسے چھوڑ دیا
29:21بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو مصیبت اور تنگی میں اللہ کو یاد کرتے ہیں
29:25لیکن جب آسانی اور فراخی آتی ہے
29:28تو خدا کو بھول جاتے ہیں
29:30تنگی میں دس روپے تھے تو وہ پورے راہے خدا میں خرچ کر دئیے
29:34لیکن اب بے حساب تو گن گن کر خرچ کرتے ہیں
29:37کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ انہیں ملا ہے
29:39وہ ان کی محنت اور قابلیت کی وجہ سے ملا ہے
29:42جان لینا چاہیے کہ یہ طرزیں فکر و عمل
29:45مناسب نہیں اور خسارے کی طرف لے جانے والا ہے
29:48دعا کیجئے اللہ تعالی ہم سب کو اپنے دین کی صحیح فہم بخشے
29:52اور اس فہم کے مطابق دین کے سارے تقاضے پورے کرنے کی تحفیق عطا فرمائے
29:57آمین یارب العالمین
Comments