- 2 days ago
Islamic channel Natt Biyaan Hadees Shareef True Mujzey islami Waqiaat
Category
📺
TVTranscript
00:00There was a small child, a child, a father and a 12 children, and a small child with a small
00:10child and a small child, but the child didn't know that it would be a small child, but the child
00:17didn't know that it would be a small child.
00:17The side of the princess, the love of the princess, the family of the queen, the� one of the kings
00:31and the children, the effectivement daughters and the children, and then the children.
01:03Jami Prophet ﷺ
01:15This was not just a king, it was a king.
01:20It was a king.
01:20it was very hard to tell us that God had a great deal with this.
01:33They were very close to their parents.
01:33They were very close to their parents.
01:36They were very close to their parents,
01:41but they were very close to their parents.
01:45lilyghti haasad unkai dis baai mishus karthi te
01:49ke abba ka jukaw yusuf alayhi salam ki tas jaya da hai haasad
01:54chup rata hai magar jalata rehata hai
01:57Eek rat, asmahan siataru sere bharah wua
02:02Yusuf alayhi salam niendh me thay
02:04Phrir achanak unki aank kkhutti hai
02:07Sans teiz, dil zor se dhark raha tha
02:11They are up to the house
02:13and they are going to go to the house.
02:18They are going to go to the house.
02:19They are going to go to the house.
02:22I have a strange dream.
02:26I have seen the 11th star.
02:30The sun and the sun are all over me.
02:33They are going to go to the house.
02:37He has understood the house.
02:39It was not a mistake. It was a mistake.
02:42This is not a mistake.
02:44We will not tell you.
02:45We will not tell you.
02:46We will not tell you.
02:47That was a mistake.
02:52This child is not just a baby.
02:55He is a prophet.
02:58But
02:59which is the choice of God,
03:02which is the choice of God.
03:03We will not tell you.
03:05Yusuf's brother,
03:06his brother were sitting on the face.
03:10He was a brother.
03:12One brother says,
03:14Yusuf and his brother,
03:16they are much love to us.
03:19We are much more powerful.
03:21Yusuf's brother,
03:23or he will throw it in a distance.
03:26So, his brother will not kill us.
03:29Don't kill us.
03:30If you have to do something,
03:32then you will throw it in a river.
03:33You will take us off.
03:34You will take us off.
03:36Then you will take us off.
03:42S.Y.A.K.U.B.S.
04:10The father of God
04:11Ahmad!
04:13The east was in the
04:15Don't be in the distance
04:16It was a cold
04:17The Dead was in the West
04:19Mr. Yusuf
04:20With the brother of God
04:22They sent the brother and have to take on his way
04:24How know this
04:26The second journey is in the last
04:28The second journey is the last
04:30Then it comes out
04:31The children get the
04:33children get the
04:33the children get up
04:34The friends
04:35they getругled
04:39But what are you doing?
04:40But the love of God is not doing it.
04:43He is taking care of it.
04:45He is taking care of it.
04:52But in that moment, God will come to you.
04:56And you will not be aware of it.
05:04This was God.
05:05disukasaka waada da sham hooti hai
05:08aur bhaai roote hoi waapasate hai
05:11jhooti kaani, jhoota khun
05:14abbajaan, ham dora laga raha te
05:17yusuf ko saamahan ke paas chhoda
05:20aur bheira usse kha gaya
05:22en bhaaiyo ne yusuf alaihissalam ki kaamiz par
05:25jhoota khun laga rakha tha
05:27yakoob alaihissalam ne kaamiz dekhi
05:30aur samaj gaya
05:32He said,
06:02صبح کی خاموشی میں
06:05ریگستان سے ایک کافلہ گزرتا ہے
06:07پانی نکالنے کے لیے
06:09رسی کوئے میں ڈالی جاتی ہے
06:11اچانک آواز
06:13یہاں ایک لڑکا ہے
06:16رسی کے ساتھ باہر آتے ہیں
06:18حضرت یوسف علیہ السلام
06:20ماسوم
06:21مگر تقدیر بدل چکی ہے
06:23کافلہ انہیں مال کی طرح
06:25چھپا لیتا ہے
06:27پھر وہ روانہ ہوتا ہے
06:29مصر کی طرف
06:30ایک نبی گلامی کی زنزیروں میں
06:33مگر اللہ کا منصوبہ
06:36کچھ اور ہے
06:37مصر پہنچ کر بازار میں فروغت ہوتی ہے
06:40ایک باسر شخص
06:41عزیز مصر انہیں خرید لیتا ہے
06:44اور اپنی بیوی سے کہتا ہے
06:46اسے عزت سے رکھنا
06:48ممکن ہے یہ ہمیں فائدہ دے
06:50یا ہم اسے بیٹا بنا لے
06:52یہ جملہ
06:54مستقبل کی طرف اشارہ تھا
06:57سال گزر گئے
06:58حضرت یوسف علیہ السلام
07:00جوان ہو چکے تھے
07:02حسن
07:03وقار
07:04اور پاکیزگی کا نور
07:06ان کے چہرے پر واضح تھا
07:08اللہ نے انہیں حکمت
07:09اور علم اطا کیا
07:11مگر محل کے اندر
07:12ایک اور آزمائش
07:14انتظار کر رہی تھی
07:15محل میں رہنے والی زلیخہ
07:17عزیز کی بیوی
07:18انہیں روز دیکھتی
07:21ان کی شخصیت سے
07:22متاثر ہوتی چلی گئی
07:23یوسف علیہ السلام
07:25ہمیشہ حیاء
07:26عدب اور پاکیزگی
07:28کے ساتھ رہتے
07:28مگر زلیخہ کے دل میں
07:30لگاؤ بڑھتا گیا
07:31یہاں تک کہ جذبات
07:34کابو سے باہر ہونے لگے
07:35پھر ایک دن
07:37عزیز کی بیوی نے
07:38تنہائی کا موقع دیکھا
07:40وہ محل کے سارے دروازے
07:42بند کیے
07:44اور کہا
07:45آؤ یوسف
07:47آج یہاں کوئی نہیں ہے
07:49یوسف علیہ السلام
07:50نے فوراں کہا
07:52میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں
07:55تمہارے شوہر نے
07:56مجھے عزت سے رکھا ہے
07:57زلیخہ کے
07:58کافی زد کرنے کے بعد
07:59یوسف علیہ السلام
08:01بچنے کے لیے
08:02دروازے کی طرف دورتے ہیں
08:04زلیخہ پیچھے سے
08:05کمیز پکڑتی ہے
08:06کمیز پیچھے سے
08:08پھٹ جاتی ہے
08:09دروازہ کھلتا ہے
08:12سامنے
08:12عزیز مصر کھڑا ہوتا ہے
08:15زلیخہ ڈر گئی
08:16اور فوراں
08:17الزام یوسف علیہ السلام
08:19پر لگا دیا
08:19اس نے بری نیت کی
08:21اسے قید کر لے
08:24اور دردناک سزا دے
08:26مگر اللہ نے
08:27دلیل پیدا کر دی
08:30وہاں کھڑے
08:31ایک شخص نے کہا
08:32اگر کمیز آگے سے
08:33پھٹی ہے
08:34تو یوسف جھوٹا
08:36اگر پیچھے سے
08:37پھٹی ہے
08:38تو عورت جھوٹی
08:39کمیز پیچھے سے
08:41پھٹی تھی
08:42سچ واضح ہو گیا
08:44عزیز مصر
08:45سمجھ گیا
08:46کہ یوسف علیہ السلام
08:48بے گناہ ہے
08:48اور وہ اس بات کو
08:50دبانے کی کوشش کرتا ہے
08:51مگر محل کی بات
08:53شہر تک پہنچ جاتی ہے
08:55عورتیں کہنے لگیں
08:57عزیز کی بیوی
08:58اپنے غلام پر
08:59پڑا ہو گئی
09:01طاقتور عورت
09:02مگر عشق میں پاگل
09:04زولیخہ نے سب سن لیا
09:06اس نے فیصلہ کیا
09:08کہ سب کو حقیقت
09:09دکھا دی جائے
09:09ایک خاص محفل
09:11سجائی گئی
09:13شہر کی معزز
09:14عورتیں دعوت پر
09:15بلائی گئیں
09:16ہاتھ میں پھل
09:17اور چھوری دی گئی
09:19پھر زولیخہ نے
09:20یوسف علیہ السلام
09:21کو بلائی
09:22دروازہ کھلا
09:25یوسف علیہ السلام
09:26اندر آئے
09:27جب عورتوں کی نظر
09:29ان پر پڑی
09:29وہ ہوش کھو بیٹھی
09:31اور بے اختیار
09:33اپنے ہاتھ کٹ بیٹھی
09:35ان کی زبان سے نکلا
09:37یہ انسان نہیں
09:40یہ تو کوئی فرشتہ ہے
09:41یہاں زولیخہ نے اقرار کیا
09:44یہی ہے جس پر
09:45تم مجھے ملامت کرتی تھی
09:46میں نے اسے رغبت
09:48دلانے کی کوشش کی
09:50مگر یہ بچ گیا
09:51فتنہ اپنی انتہا پر تھا
09:55یوسف علیہ السلام
09:56نے رب سے دعا کی
09:57اے میرے رب
09:59قید مجھے اس چیز سے زیادہ پسند ہے
10:02جس کی طرف یہ بلا رہی ہیں
10:03تو ہی میرا مددگار ہے
10:06اللہ نے دعا قبول کی
10:07حقیقت سب کو پتا ہونے کے باوجود
10:10سیاسی مسلحت سے فیصلہ ہوا
10:13یوسف علیہ السلام کو قید میں ڈال دیا گیا
10:17بے گناہ نبی زنزیروں میں
10:20مگر تقدیر لکھ رہی ہے
10:22قید سے تخت تک کا سفر
10:24قید کھانا
10:25تنگ دیواریں
10:28بوجھل ہوا
10:30مگر حضرت یوسف علیہ السلام کے چہرے پر سکون تھا
10:33قید میں دو نوجوان بھی تھے
10:36دونوں نے ایک رات عجیب خواب دیکھا
10:39اور دونوں نے
10:41یوسف علیہ السلام میں نیکی اور نور دیکھا
10:44اس لیے ان کے پاس آئے
10:46ایک بولا
10:47میں نے خواب دیکھا
10:50میں شراب نچور رہا ہوں
10:52دوسرا بولا
10:53میں نے دیکھا
10:55میرے سر پر روٹی ہے
10:57اور اس پر پرندے کھا رہے ہیں
10:59ہمیں تعبیر بتائیے
11:02ہم آپ کو نیک لوگوں میں سے دیکھتے ہیں
11:04یوسف علیہ السلام نے فوراں تعبیر نہیں بتائی
11:08پہلے حق کی دعوت دی
11:10جو کھانا تمہیں ملنے والا ہوتا ہے
11:12میں اس کے آنے سے پہلے بتا دیتا ہوں
11:16یہ علم اللہ نے دیا ہے
11:18کیا مختلف معبود بہتر ہیں
11:21یا ایک اللہ جو سب پر غالب ہے
11:23تم جن کی عبادت کرتے ہو
11:26وہ صرف نام ہے
11:29حکم صرف اللہ کا ہے
11:31یہ تھا نبی کا طریقہ
11:32ہر موقع کو ہدایت کا ذریعہ بنانا
11:36پھر انہوں نے خواب کی تعبیر بتائی
11:38تم میں سے ایک
11:41اپنے بادشاہ کو شراب پلائے گا
11:43دوسرا
11:45سلیب دیا جائے گا
11:47اور پرندے اس کا سر کھائیں گے
11:51فیصلہ ہو چکا
11:52جس کا تم پوچھ رہے تھے
11:54اور واقعی
11:56کچھ دن بعد
11:57بلکل ویسے ہی ہوا
11:59جو آزاد ہوا
12:00اس سے یوسف علیہ السلام نے کہا
12:02اپنے بادشاہ کے پاس
12:05میرا ذکر ضرور کرنا
12:06مگر
12:09شیطان نے اسے بھولا دیا
12:11اور یوسف علیہ السلام
12:13مزید کئی سال قید میں رہے
12:16پھر ایک رات
12:19بادشاہ مصر نے خواب دیکھا
12:23سات موٹی گائیں
12:24جنہیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں
12:27سات ہری بالیاں
12:29اور سات سوکھی
12:31وہ گھبرا کر اٹھ گیا
12:33اور خواب اسے روزانہ آنا شروع ہو گیا
12:35پھر ایک دن
12:37دربار میں لوگ جمع ہوتے ہیں
12:39سب حیران
12:40کوئی تابیر نہ بتا سکا
12:42سب بولے
12:44یہ الجے ہوئے خواب ہیں
12:47تب ہی
12:48وہی آزاد ہونے والا قیدی
12:50اچانک یاد کرتا ہے
12:53میں تمہیں تابیر بتا سکتا ہوں
12:57مجھے قید خانے بھیجو
12:58وہ دوڑتا ہوا یوسف علیہ السلام کے پاس آتا ہے
13:04قید خانے کا دروازہ کھلتا ہے
13:06بادشاہ کا قاسد سامنے کھڑا ہوتا ہے
13:09حضرت یوسف علیہ السلام سے
13:11خواب کی تابیر پوچھی جاتی ہے
13:14یوسف علیہ السلام فرماتے ہیں
13:16سات سال لگاتار کھیتی ہوگی
13:21خوب پیداوار ہوگی
13:23پھر سات سال سخت کہت آئے گا
13:26اور لوگ بھوک سے گزریں گے
13:28ان سات سالوں کی پیداوار کو محفوظ کر کے رکھو
13:32تاکہ قہد کے سالوں میں کمی نہ ہو
13:35یہ صرف تابیر نہیں تھی
13:38یہ پورا معاشی نظام کا منصوبہ تھا
13:41بادشاہ متاثر ہوتا ہے
13:43اسے میرے پاس لاؤ
13:47مگر یوسف علیہ السلام باہر آنے سے انکار کر دیتے ہیں
13:51اور فرماتے ہیں
13:52انہیں بادشاہ سے پوچھو
13:54وہ ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا
13:56جنہوں نے اپنے ہاتھ کٹ لیے تھے
13:59یہ تھا نبی کا وقار
14:02رہائی سے پہلے کردار کی صفائی
14:06دربار میں تحقیقات ہوتی ہے
14:08عورتوں کو بلائی جاتا ہے
14:10اور وہ اقرار کرتی ہیں
14:12ہم نے کوئی برائی یوسف میں نہیں دیکھی
14:15اور زلیکہ بھی کہہ دیتی ہے
14:17اب حق واضح ہو گیا
14:19میں نے ہی اسے راغب کرنا چاہا تھا
14:22اور یوسف سچوں میں سے ہے
14:25بے گناہی پوری دنیا کے سامنے ثابت ہو گئی
14:28اب یوسف علیہ السلام بادشاہ کے سامنے پیش ہوتے ہیں
14:31گفتگو ہوتی ہے
14:33حکمت، بصیرت، علم
14:36سب ظاہر ہو جاتا ہے
14:38بادشاہ کہتا ہے
14:39آج کے بعد
14:41تم ہمارے پاس مقبول
14:43اور دیانتدار ہو
14:45یوسف علیہ السلام فرماتے ہیں
14:47مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کرتے ہیں
14:50میں آمانت کی حفاظت بھی جانتا ہوں
14:53اور مشکل وقت کے لیے تدبیر بھی
14:55یہ گرور نہیں تھا
14:58یہ ذمہ داری لینے کا اعلان تھا
15:01انہیں مصر کے خزانوں کا نگران بنا دیا گیا
15:05مصر کا قیدی اب سلطنت کا ذمہ دار
15:09سال گزر چکے تھے
15:12کہت صرف مصر تک محدود نہیں رہا
15:14بلکہ گرد کے تمام علاقوں کو
15:17اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا
15:19کھانا کم
15:20زمین سوک چکی
15:22لوگ پریشان
15:23دور اس سرزمین تک بھی کہت پہنچ گیا
15:26جہاں حضرت یعقوب علیہ السلام
15:29اپنے بیٹوں کے ساتھ رہتے تھے
15:31راشن کم ہوتا جا رہا تھا
15:34پھر خبر ملتی ہے
15:35مصر میں غلہ دستیاب ہے
15:37اور حکومت لوگوں کو مقرر قیمت پر انعاز دے رہی ہے
15:42یوسف علیہ السلام کو معلوم تھا
15:45کہ تاجر مال کو زیادہ تعداد میں خرید کر
15:48آگے لوگوں کو مہنگے داموں میں بیچیں گے
15:50اس لیے انہوں نے اعلان کیا تھا
15:53کہ اگر کسی کو بھی گلہ خریدنا ہے
15:56تو پورے گھر والوں کو ساتھ لانا ضروری ہے
15:59تاکہ سب کو ان کی ضرورت کے مطابق ہی مال دیا جائے
16:03یہ سن کر یعقوب علیہ السلام
16:05اپنے دس بیٹوں سے گلہ لانے کا کہتے ہیں
16:07چھوٹا بیٹا بنیامین اپنے پاس ہی رکھتے ہیں
16:11کیونکہ یوسف کا غم ابھی تک تازہ تھا
16:15دس بھائی سفر پر روانہ ہوتے ہیں
16:18انہیں کیا بتا
16:20جس شخص سے وہ گلہ لینے جا رہے ہیں
16:23وہ ان کا کھویا ہوا بھائی ہے
16:26دربار میں پیش ہوتے ہیں
16:28سامنے بیٹھے ہیں حضرت یوسف علیہ السلام
16:31مگر بھائی پہچان نہیں پاتے
16:34یوسف علیہ السلام انہیں پہچان لیتے ہیں
16:36مگر اپنی شناخت چھپاتے ہیں
16:39یوسف علیہ السلام پوچھتے ہیں
16:40کیا تمہارا کوئی اور بھائی بھی ہے
16:43وہ کہتے ہیں
16:44ہاں
16:45ایک چھوٹا بھائی ہے
16:47وہ ہمارے والد کے پاس ہے
16:49اگلی مرتبہ اسے بھی ساتھ لانا
16:52تب ہی غلہ ملے گا
16:53یوسف علیہ السلام
16:55چھپ کر ان کی رقم
16:57ان کے سامان میں واپس رکھوا دیتے ہیں
16:59تاکہ جب یہ گھر پہنچے
17:01اور اپنی رقم واپس دیکھیں
17:03تو دوبارہ لوٹنے پر مضبور ہو جائیں
17:06جب بھائی گھر پہنچتے ہیں
17:08سامان کھولتے ہیں
17:09تو دیکھتے ہیں ان کی رقم واپس موجود تھی
17:13دن گزرتے ہیں اور مال ختم ہو جاتا ہے
17:16ابباجان
17:19ہمیں دوبارہ مصر بھیجیے
17:22اور ہمارے بھائی کو بھی ساتھ بھیج دیجیے
17:29یاکوب علیہ السلام کا دل کام پڑتا ہے
17:33وہ کہتے ہیں
17:40مگر بھائی مسلسل اسرار کرتے ہیں
17:43ذمہ داری کا وعدہ کرتے ہیں
17:45آخر یاکوب علیہ السلام ایک سخت اہد لیتے ہیں
17:49تم اللہ کو غواہ بنا کر وعدہ کرو
17:52کہ تم اسے واپس لاؤگے
17:55پھر ایک اور ہدایت دیتے ہیں
17:57میرے بیٹو
17:59ایک دروازے سے شہر میں داخل مت ہونا
18:02مختلف دروازوں سے جانا
18:04یہ باپ کی احتیاط تھی
18:06مگر تقدیر اپنا راستہ لکھ چکی تھی
18:10وہ شہر پہنچتے ہیں
18:12اور دربار میں داخل ہوتے ہیں
18:14یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں
18:18اور پھر تنہائی میں بنیامین کو اپنے پاس بلاتے ہیں
18:22آہستہ سے فرماتے ہیں
18:24میں تمہارا بھائی یوسف ہوں
18:26جو کچھ یہ کرتے رہے
18:28اس پر غم نہ کرو
18:30سوچو
18:32سالوں بعد کھویا ہوا بھائی
18:34اچانک سامنے
18:36مگر راز ابھی بھی چھپا رہنا تھا
18:40جب گلہ تیار ہو جاتا ہے
18:42یوسف علیہ السلام ایک منصوبہ بناتے ہیں
18:45شاہی پیمانہ چھپ کر بنیامین کے سامان میں رکھوا دیا جاتا ہے
18:51پھر کافلہ روانہ ہوتا ہے
18:54مگر کچھ دور جا کر آواز آتی ہے
18:56مہل میں چوری ہو گئی ہے
19:01سب رک جاؤ
19:03بھائی گھبرا جاتے ہیں
19:06سپاہی پوچھتے ہیں
19:08اگر جس کے غلے سے سامان نکلا
19:10تو اس کی سزا کیا ہوگی
19:12جس کا سامان چورایا گیا ہو
19:16چور اس کا غلام بن جائے گا
19:19تلاشی شروع ہوتی ہے
19:20اور وہیں سے پیمانہ نکل آتا ہے
19:24سناٹا
19:26حیرانی
19:28بھائی مضبور ہو جاتے ہیں
19:30وہ کہتے ہیں
19:31اگر انہوں نے چوری کی ہے
19:32تو کوئی حیرانی کی بات نہیں
19:35اس کے بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی
19:37یوسف علیہ السلام دل میں صبر کرتے ہیں
19:40حقیقت ظاہر نہیں کرتے
19:42بھائی درخواست کرتے ہیں
19:44اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو روک لو
19:48ہمارے والد برداشت نہیں کر پائیں گے
19:50مگر فیصلہ ہوتا ہے
19:53بنیمین روک لیا جاتا ہے
19:55سب سے بڑا بھائی
19:57روایت میں یہودہ یا روبیل کہا جاتا ہے
20:00وہ بھی رک جاتا ہے
20:02باقی بھائی مضبوراً واپس روانہ ہو جاتے ہیں
20:05دل بوجھل
20:06ذہن پریشان
20:08انہیں کیا پتا
20:10تقدیر اب آخری موڑ لینے والی ہے
20:13جب بھائی گھر پہنچ کر پورا ست سناتے ہیں
20:16تو حضرت یاکوب علیہ السلام نہیں مانتے
20:19وہ کہتے ہیں
20:20نفس نے تمہارے لیے بات کو آسان بنا دیا ہے
20:24مجھے امید ہے
20:25اللہ سب کو میرے پاس واپس لے آئے گا
20:27یعنی
20:28پہلے یوسف علیہ السلام گئے
20:31اب بنیمین بھی چلا گیا
20:34اور بڑا بیٹا بھی رک گیا
20:36یاکوب علیہ السلام کا غم اور بڑھ جاتا ہے
20:39قرآن کے لفظ کہتے ہیں
20:41غم سے روتے روتے
20:43ان کی آنکھیں سفید ہو گئیں
20:45پھر یاکوب علیہ السلام
20:47اپنے بیٹوں سے کہتے ہیں
20:48مصر جاؤ
20:49اور عزیز مصر سے بات کرو
20:52اور اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہونا
20:55بھائی تیسری مرتبہ مصر پہنچتے ہیں
20:58قہت اب اور زیادہ سخت ہو چکا ہوتا ہے
21:01بھائی مجبوری کی حالت میں دوبارہ مصر آتے ہیں
21:05وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے آ کر کہتے ہیں
21:09اے عزیز
21:11ہمارے گھر والے سخت پریشانی میں ہیں
21:14ہم تھوڑی سی پونجھی لائے ہیں
21:16آپ ہمیں پورا غلہ دے دیں
21:18اور ہم پر صدقہ کر دیں
21:21اللہ صدقہ کرنے والوں کو بدلہ دیتا ہے
21:24یوسف علیہ السلام کا دل بھار آتا ہے
21:26وہ زیادہ برداشت نہیں کر پاتے
21:29پھر وہ ایک سوال کرتے ہیں
21:32کیا تمہیں یاد ہے تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جب تم نادان تھے
21:38بھائی حیران رہ جاتے ہیں
21:42انہیں شک ہوتا ہے
21:44وہ کہتے ہیں
21:47کیا؟
21:50کیا آپ ہی یوسف ہیں؟
21:52اور پھر وہ الفاظ آتے ہیں
21:55جو تاریخ کے سب سے عظیم
21:57معافی کے لمحے بن جاتے ہیں
21:59ہاں
22:01میں یوسف ہوں
22:03اللہ نے مجھ پر احسان کیا
22:05جو صبر کرے اور تقویٰ رکھے
22:10اللہ اس کا عجر ضائع نہیں کرتا
22:13اللہ کی قسم
22:15اللہ نے آپ کو ہم پر پذیلت دی
22:18اور ہم واقعی غلطی کرنے والے تھے
22:20آج تم پر کوئی الزام نہیں
22:23اللہ تمہیں معاف کرے
22:26وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
22:28اور پھر یوسف علیہ السلام
22:30اپنے بھائیوں کو اپنی کمیز دیتے ہیں
22:32اور کہتے ہیں
22:34کہ اسے ان کے والد کے چہرے پر رکھنے ہی
22:36ان کی آنکھیں ٹھیک ہو جائیں گی
22:38اور پھر ان سب کو والدین کے ساتھ
22:41محل آنے کا کہتے ہیں
22:44مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے
22:46اور پھر ان کی آنکھیں فوراں ٹھیک ہو جاتی ہیں
22:50یاکوب علیہ السلام فرماتے ہیں
22:52کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا؟
22:54کہ میں اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں
22:57جو تم نہیں جانتے
22:58اس کے بعد وہ سب مصر کی طرف روانہ ہوتے ہیں
23:03والدین، بھائی، خاندان
23:05اور پھر یاکوب علیہ السلام
23:07اپنے بیٹے سے چالیس سال بعد دوبارہ ملتے ہیں
23:12آنکھوں میں آنسو لیکن خوشی سے بھرے ہوئے
23:15پھر یوسف علیہ السلام
23:17اپنے والدین کو تخت پر بٹھاتے ہیں
23:20اور سب بھائی یوسف علیہ السلام کے سامنے
23:23عدب میں جھک جاتے ہیں
23:25تب یوسف علیہ السلام کہتے ہیں
23:27ابباجان
23:28یہ میرے بچپن والے خواب کی تعبیر ہے
23:31میرے رب نے اسے سچ کر دکھایا
23:34یعنی
23:35گیارہ ستارے
23:37سورج
23:40چاند
23:40یہ واقعہ صرف ایک نبی کی زندگی نہیں
23:43یہ انسانی جذبات کا سب سے گہرا سفر ہے
23:47ایک بچہ
23:48جسے کوئے میں پھیکا گیا
23:51ایک گلام
23:53جسے بازار میں بیچا گیا
23:56ایک جوان
23:57جسے جھوٹے الزام میں قید کیا گیا
24:00مگر پھر بھی
24:01نہ ان کی زبان سے شکوا نکلا
24:04نہ دل سے یقین نکلا
24:06نہ کردار سے حیاء نکلی
24:08اور پھر اللہ نے اسی بندے کو
24:12سلطنت کا عزیز بنا دیا
24:16اگر آج کے اس دور میں ہم لوگ
24:18سبر اور تقویٰ کا دامن تھام لیں
24:21تو اللہ کی مدد ضرور آئے گی
24:25اندھیرہ چاہے کتنا گہرا ہو
24:28اگر یقین زندہ ہو
24:30تو صبح ضرور ہوتی ہے
24:35اس واقعہ میں آپ کا سب سے
24:38فیوریٹ پارٹ کونسا تھا
24:39کومنٹس میں بتائیے
24:41اور ویڈیو کو لائک کریں
24:42اور چینل کو سبسکرائب کریں
Comments