Skip to playerSkip to main content
Jadui Shahzadi Aur Bahadur Shehzada | Dilchasp Jadui Kahani | Urdu Story

Zalim Jadugar aur Roote hue Dulhan - Kahani

Yeh ek dilchasp kahani hai ek zalim jadugar ki, jisne ek masoom dulhan ko qaid kar rakha hai. Jadugar apney kale jadu se dulhan ko darata hai aur usey apney bas mein karna chahta hai. Dulhan apni khushi aur azadi ke liye taras rahi hai aur koi bhi usey bachane wala nahi dikh raha hai.
Aaj ki is dilchasp Urdu kahani mein dekhiye ek khoobsurat jadui shahzadi, ek bahadur shehzada aur ek pur-asrar safar jo unki zindagi hamesha ke liye badal deta hai. Kya shehzada shahzadi ko mushkilaat se bacha payega? Is jadui aur suspense se bharpoor kahani ko aakhir tak zaroor dekhiye.

Kya dulhan kabhi azad ho payegi? Yeh janney ke liye puri kahani dekhein.

Agar aap ko fantasy stories, Urdu kahaniyan aur dilchasp qisse pasand hain to video ko Like, Share aur Subscribe zaroor karein.

Tags:
Kahani Roman Urdu Mein,Zalim Jadugar Kahani,Dulhan Ki Azadi Kahani,Kaka Jadu Kahani,Dilchasp Urdu Story,Urdu Story for Kids,Urdu Kahani,Jadui Kahani,Shehzada Ki Kahani,Shahzadi Ki Kahani,Fantasy Story Urdu,Dilchasp Kahani,Jadugar Ki Kahani,Magic Story,Urdu Story,New Urdu Kahani,Islamic Story,Bachon Ki Kahani,Moral Story Urdu,Kahani Channel,Story Time,Adventure Story,Emotional Story,Royal Story,Suspense Story,Fairy Tale Urdu

Hashtags:

#UrduKahani #JaduiKahani #UrduStory #StoryTime #DilchaspKahani #AdventureStory #MoralStory
#KahaniRomanUrduMein #ZalimJadugarKahani #DulhanKiAzadiKahani #KakaJaduKahani #UrduStory

Category

📚
Learning
Transcript
00:00एक जिदी शहजादा और कैद में डाली गई शहजादी और तीन शहजादे और शहजादी के मददगार
00:11कुछ अर्सा पहले की बात है किसी एक मुलक की सल्टनत पर बाशा कूमत करता था
00:20बाशा बहुत अर्से से परेशार रहता था उसका एक ही अबड़ा था जो सिर्फ पूरी सल्टनत का कलोता वारिस था
00:32जैसा कि आप जानते हैं कि हर बाशा की तीरी खुआश होती है
00:38इस मुलक के बाशा की भी यही खुआश थी
00:48प्यारे दोस्तों कैसे हैं आप सब हम उमीद करते हैं कि आप सब अपने गरों में ख्रीयसे होंगे
00:55हम आपके लिए आज एक नए कहानी लेकर आपकी खिदमत में हाजर हुए हैं
01:00हमारी कहानी का मुदू है
01:02एक जिदी शहजादा और कैद मेडाली गई शहजादी
01:10चले आएए हम अपने कहानी की तरफ चलते हैं
01:13पूरी कहानी को समझने के लिए आप हमारे साथ रहेगा
01:17फिर ही आपको पूरी कहानी की समझ आएगी
01:21और तीन शहजादे और शहजादी के मददकार
01:25कुछ अर्सा पहले की बात है
01:28किसी एक मुलख की सर्टनत पर बाशा कुमत करता था
01:34बाशा बहुत अर्से से परेशार रहता था
01:39उसका एक ही अबेटा था
01:42जो सिर्फ पूरी सर्टनत का कलोता वारिश था
01:46जैसा कि आप जानते हैं कि हर बाशा की तिरी खुआश होती है
01:52इस मुलख के बाशा की भी यही खुआश थी
01:56कि इसके दुनिया से जाने के बाद
02:00इस मुलख पर इसकी नसले हकुमत करे
02:04हर वक्त यही फिकर बाशा को सताय रखती
02:08اور وہ ہر وقت انہی پریشانیوں میں گم رہتا
02:13بادشاہ سلامت کا صرف ایک بیٹا تھا
02:17اور وہ بہت زدی اور گسے والا تھا
02:21وہ اپنی بات منا کر ہی رہتا
02:24وہ بادشاہ سلامت کی بات نہیں مانتا تھا
02:27اس کی وجہ سے بادشاہ سلامت بہت زیادہ پریشان رہتے
02:32بادشاہ سلامت جب بھی اسے شادی کرنے کے لئے کہتے
02:37تو شہزادے نے ایک ہی رٹ لگا رکھی تھی
02:42کہ میں شادی نہیں کروں گا
02:46یہی فکر بادشاہ سلامت کو ہر وقت تنگ کیے رکھتی
02:50کہ میری سلطنت کا وارث کہاں سے آئے گا
02:55اس ملک کو میرے جانے کے بعد کون سنبھال لے گا
02:59اگر میرے بیٹے نے شادی نہ کی
03:01تو میری سلطنت تو میرے تک رہ جائے گی
03:04میرا بیٹا تو اس کو سنبھالنے کے لئے ذمہ دار ہی نہیں ہے
03:09تو پھر کیا ہوگا
03:11ایک دن بادشاہ سلامت نے اپنے بیٹے کو اپنے پاس بلایا
03:16اور اپنے پاس بٹھایا
03:18اور بادشاہ سلامت اپنے بیٹے کو کہنے لگا
03:22کہ سنو میرے بیٹے میں اب بڑا ہو گیا ہوں
03:26اور تم نوجوان ہو
03:29تم جوان ہو چکے ہو
03:31اور بہت خوبصورت ہو
03:33نہ جانے کب میں دنیا سے چلا جاؤں
03:36کب میرا بھلاوا آ جائے
03:39میرے بیٹے میرے دل میں ایک خواہش ہے
03:42کہ تم میرے مرنے سے پہلے پہلے شادی کر لو
03:47کیا میرے بیٹے کیا شہزادے
03:51تمہاری نظر میں کوئی ایسی لڑکی ہے
03:54جسے تم پیار کرتے ہو
03:56یا جسے تم شادی کرنا چاہتے ہو
03:59اگر ہے تو مجھے بتا دو
04:01میں تمہاری شادی اس کے ساتھ کروا دوں گا
04:05مجھے کوئی بھی اعتراض نہیں ہے
04:07لیکن میری زندگی کے اندر اندر
04:10تم شادی لازمی کر لو
04:12تو شہزادی نے بادشاہ سلامت کو جواب دیا
04:16نہیں اباجان
04:17مجھے بھی شادی نہیں کرنی
04:20اور نہ ہی مجھے اباجان
04:22ابھی تک کوئی لڑکی پسند آئی ہے
04:25شہزادہ بولا کہ میں نے ابھی کوئی اتنی شہزادیاں تو نہیں دیکھی
04:31جن میں سے میں کوئی شہزادی پسند کالوں اباجان
04:34تو بادشاہ سلامت اپنے بیٹے کو کہنے لگے
04:38کہ اس میں میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں
04:41تو شہزادہ بولا اباجان وہ کیا
04:45تو بادشاہ سلامت نے اپنی چیپ میں ہاتھ ڈالا
04:49اور ایک سونے کی چابی نکال کا شہزادے کے ہاتھ پر رکھ دی
04:55اور شہزادہ بولا یہ کیا اباجان
04:59تو شہزادے کو بادشاہ سلامت کہنے لگے
05:02کہ محل کی تیسری چھت پر جاؤ
05:06چھت پر جانے کے بعد
05:08جو سب سے اوپر والی منزل میں سب سے بڑا کمرہ ہے
05:14اس چابی سے اس کمرے کا تلات کھل جائے گا
05:18میرے بیٹے جس چیز کی تجھے تلاش ہے
05:22شاید تمہاری تلاش اس کمرے میں جانے کے بعد پوری ہو جائے
05:27وہ تمہیں وہاں مل جائے
05:30شہزادے نے جب بادشاہ سلامت کی یہ باتیں سنی
05:33تو تھوڑا سا حیران اور پریشان ہو گیا
05:37شہزادے نے جب سوچا کہ یہ کمرہ کہاں پر ہے
05:41تو اس نے سوچا کہ جب سے میں جوان ہوا ہوں
05:47بچپن سے لے کر
05:48تو محل کے تیسرے کمرے کو
05:50محل کی تیسری منزل کو
05:52کوئی بھی جانے کا حکم نہ تھا
05:56تو اس کمرے کا تعلہ تو
05:58شروع سے بند ہی رہا ہے
06:01جب کبھی کبھار شہزادہ
06:04کھیلتے ہوئے
06:05باگتے دوڑتے
06:07محل کی تیسری منزل پر جاتا
06:09تو ہمیشہ ہی اس کمرے کو تعلہ لگا پاتا
06:13تو اس نے چابی پکڑی اور
06:16تیس تیس قدموں سے چلتا ہوا
06:19تیسری منزل کی سیڑیاں باگ باگ کر چڑھنے لگا
06:24چابی کو کانفتے کانفتے ہاتھوں سے
06:27تعلے میں لگایا
06:29تو تعلہ کھل گیا
06:30تعلہ کھولنے کے بعد
06:32شہزادے نے آہستہ آہستہ سے دروازہ کھولا
06:36اور کمرے کے اندر داخل ہو گیا
06:39یہ کمرہ باہر سے تو چھوٹا لگ رہا تھا
06:43لیکن اندر سے یہ کمرہ بہت بڑا تھا
06:46اور اس کی چھت گول تھی
06:49آسمانی کلر کی
06:50جب شہزادہ اس کمرے میں پہنچا
06:53تو اس کمرے میں سبس کلر کا کلین بچھا ہوا تھا
06:58اور اس کمرے کی دیواروں کی طرف
07:01ایک سائٹ پر بارہ کلر کے شیشے لگے ہوئے تھے
07:05اور ان بارہ شیشوں میں
07:08بارہ طرح کی لڑکیوں کی تصویریں لگی ہوئی تھیں
07:11جنہوں نے مختلف طرح کے کپڑے پہن رکھے تھے
07:15مختلف طرح کے تاج سروں پہ سجا رکھے تھے
07:18شہزادہ یہ دیکھ کر حرار رہ گیا
07:21کہ یہ لڑکیوں کی تصویریں
07:23یہاں پر کیوں لگائی گئی ہیں
07:25شہزادہ جب ایک کھڑکی کی طرف دیکھتا
07:29تو اسے ایسا محسوس ہوتا
07:32کہ وہ لڑکی شہزادے کی طرف دیکھ کر
07:36مسکرا رہی ہے
07:37بارہ کے بارہ آئینوں میں
07:39شہزادے نے جب باری باری دیکھا
07:42تو اسے ہر لڑکی ایسے ہی محسوس ہوئی
07:46جیسے وہ شہزادے کو دیکھ کر
07:49مسکرا رہی ہے
07:51اور شہزادہ ان کے حسن سے بھی دنگ رہ گیا
07:55کیونکہ ہر کھڑکی ہر آئینے میں
07:58ایک سے ایک حسن پرست لڑکی موجود تھی
08:02اس کی تصویر موجود تھی
08:05شہزادے کو سمجھ نہ آ رہی تھی
08:08کہ ان میں سے سب سے خوبصورت لڑکی کون ہے
08:11وہ ساری لڑکیاں ایسا لاک رہی تھی
08:15جیسا کہ کہیں سے وہ پریاں اتر کر شیشے میں
08:18قید ہو گئی ہوں
08:20لیکن بارانک تصویروں کے دیکھنے کے بعد
08:24شہزادے کی نظر تیرے آئینے پر پڑی
08:28جس کے اوپر ایک بلیک کلر کا کپڑا ڈال رکھا تھا
08:34تو شہزادہ آگے بڑھا
08:37اور اس نے آگے بڑھ کے وہ آئینے سے
08:40وہ کھڑکی سے وہ بلیک کپڑے کو ہٹا دیا
08:44اور جب شہزادے نے دیکھا
08:48کہ اس کے شیشے کے اوپر
08:50جو لڑکی کی تصویر بنی ہوئی تھی
08:52وہ ان بارانکیوں کی تصویروں سے
08:56بلکل منفرد تھی
08:58اس کا لباس بھی ان سے منفرد تھا
09:01اور اس کی آنکھیں
09:03اس کا دیکھنا
09:04اور اس کے بال
09:05اور اس کے سر پر جو تاج تھا
09:08شہزادہ تو دیکھتا ہی رہ گیا
09:10وہ شہزادہ آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر
09:15یہ سوچنے لگا
09:16کہ یہ لڑکی تو
09:18سب سے زیادہ خوبصورت ہے
09:20اور سب سے زیادہ منفرد ہے
09:22لیکن اس لڑکی کا چہرہ زرد تھا
09:26اور وہ اداس دکھائی دے رہی تھی
09:29اس نے جب دیکھا شہزادے نے
09:32تو وہ لڑکی نے
09:33اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی نہیں
09:36شہزادہ سمجھا
09:38کہ کوئی نہ کوئی بات تو ضرور ہے
09:41کیونکہ جو بارہ آئینوں میں لڑکیاں
09:44مجھے نظر آئیں
09:45وہ سب مجھے دیکھ کر مسکرائی تھی
09:49لیکن اس نے مجھے دیکھ کر مسکرائی نہیں
09:53یہ تو پریشان ہو گئی
09:55شہزادہ کافی دیر تک
09:58اس آئینے کی طرف
09:59اس لڑکی کی تصویر کی طرف
10:02دیکھتا رہا
10:03اور وہاں کھڑا رہا
10:05کافی دیر کے بعد شہزادے نے یہ فیصلہ کر لیا
10:09کہ میں اسی لڑکی کے ساتھ شادی کروں گا
10:13اور
10:14کب شہزادے نے یہ لفاظ کہے
10:17تو اس لڑکی نے شہزادے کی طرف دیکھ کر مسکرائی
10:22اور دیکھتے ہی دیکھتے
10:24سارے آئینوں سے تصویریں غائب ہو گئی
10:28شہزادے نے کمرے میں چاروں طرف نظر دھڑائی
10:32تو اسے آئینے میں کوئی بھی لڑکی نظر نہ آئی
10:36شہزادہ پریشان ہوا
10:39اور دوڑتا ہوا
10:40باگتا ہوا
10:42بادشاہ سلامت کے پاس پہنچ گیا
10:45اور جا کر
10:46سارا قصہ
10:48بادشاہ سلامت کو سنا دیا
10:50تو بادشاہ سلامت نے
10:53شہزادے کو کہا
10:55کہ تمہیں جو آئینے میں لڑکیاں نظر آ رہی تھی
10:58ان میں سے کیوں نہیں پسند کیا
11:01تمہیں کس نے کہا تھا
11:03کہ جس آئینے پر کپڑا ڈالا ہوا ہے
11:06بلیک کلر کا
11:07اس کپڑے کو تم ہٹا کر دیکھو
11:10تو شہزادہ بولا
11:12کیا وجہ ہے باجان
11:14آخر وہ بھی تو لڑکی ہے
11:16تو بادشاہ سلامت نے کہا
11:18کہ وہ لڑکی
11:19ایک جادوگر اٹھا کر لے گیا ہے
11:22وہ جادوگر کے قبضے میں ہے
11:25شہزادہ بولا
11:27تو پھر اباجان
11:28میں نے تو فیصلہ کر لیا ہے
11:30میں شادی کروں گا
11:32تو صرف اسی شہزادی کے ساتھ شادی کروں گا
11:36اسی لڑکی کے ساتھ شادی کروں گا
11:38تو بادشاہ سلامت نے شہزادے کو بتایا
11:41کہ وہ تو جادوگر کے قبضے میں ہے
11:44اسے جادوگر سے
11:45ازاد کروانا تو بہت مشکل کام ہے
11:48اس کام کے لیے
11:50جس جس نے بھی
11:52جازت لی
11:54شہزادی کو چھڑانے کا کام کیا
11:57تو وہ زندہ واپس نہیں آیا
12:00وہ جادوگر بہت بڑا اور طاقتور جادوگر ہے
12:04میرے بیٹے تم اس لڑکی کا خیال نکال دو
12:07اور اس آئینے میں جو بارہ لڑکیاں ہیں
12:11ان میں سے کسی لڑکی کو پسند کر لو
12:14میں اس شہزادی سے تمہاری شادی کروا دوں گا
12:18لیکن شہزادہ اپنی زد پر آڑ گیا
12:22باشا سلامت کو تو پہلے ہی پتا تھا
12:25کہ میرا بیٹا زدی ہے
12:27وہ تو پہلے ہی شادی نہیں کرنا چاہتا
12:30اور ماری قسمت میری
12:33کہ میں نے اسے کمرے کی چابی دے دی
12:37اور اس نے اس لڑکی کو پسند کر لیا
12:40جس لڑکی کو جادوگر اٹھا کر لے گیا ہے
12:44اب میں کیا کروں گا
12:46کیسے جادوگر سے اس لڑکی کو چھڑاؤں گا
12:50باشا سلامت بہت پریشان ہوا
12:53لیکن شہزادہ یہی رٹ لگائے ہوئے تھا
12:56کہ ابباجان اگر شادی کروں گا
12:59تو اسی لڑکی ساتھ کروں گا
13:01مجھے بتائیں کہ کیا کرنا ہوگا
13:04میں ہر قیمت پر اس جادوگر سے
13:07شہزادی کو چھڑا کر لاؤں گا
13:10اور آ کر اس سے شادی کروں گا
13:12باشا سلامت نے شہزادے کو کہا
13:15کہ تمہیں اپنی پسند کی لڑکی حاصل کرنے کے لیے
13:19میرے بیٹے بہت ساری مسیبتوں کا سامنا کرنا پڑے گا
13:23تو شہزادہ بولا
13:25آپ پریشان نہ ہوں
13:28فکر نہ کریں
13:29میں اپنی پسند کی لڑکی کو حاصل کر کے ہی رہوں گا
13:34اس شہزادی کو جادوگر کے
13:37جال سے نکال کر ہی لا کر دکھاؤں گا
13:40اگلے دن شہزادہ
13:43اس لڑکی کی محبت میں
13:45اتنا گرفتار ہو گیا تھا
13:48کہ اپنا گوڑا پکڑا
13:50کسی کو ساتھ بھی نہ لیا
13:52اور کیلہ ہی
13:54اس محل کی طرف
13:56جو قید خانہ تھا
13:58جہاں پر جادوگر نے
14:00اس شہزادی کو قید کر رکھا تھا
14:03اپنے ابا جان سے سننے کے بعد
14:05وہ کیلہ ہی اس قید خانے کی طرف نکل گیا
14:09وہ جنگلوں سے پار پہاڑوں سے پار تھا
14:12شہزادے کو کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں تھی
14:17وہ سوچ رہا تھا
14:19کہ میں کیلہ ہی کافی ہوں
14:21میں کسی نہ کسی طرح سے
14:23جادوگر سے
14:24اپنی شہزادی کو
14:26اپنی ہونے والی بیوی کو چھڑا کر لے آنگا
14:30میں نے شادی کرنی ہے
14:32تو اسی لڑکی کے ساتھ کرنی ہے
14:35ساتھ گوڑے پر جاتے ہوئے
14:37سواری کرتے ہوئے
14:39شہزادہ یہ ساری باتیں
14:41اپنے دل ہی دل میں
14:42خیال کرتے ہوئے
14:44دیز دیز گوڑا بڑھگاتے ہوئے
14:46جا رہا تھا
14:48جاتے جاتے
14:49رات ہو گئی
14:51کیونکہ وہ مسافت کافی لمبی تھی
14:54شہزادے کے محل سے
14:56وہ جادوگر کا محل
14:59کافی دور تھا
15:01کافی مسافت پر تھا
15:03شہزادے کو
15:04جنگل میں رات کا سامنا کرنا پڑ گیا
15:08اور شہزادے نے بے کفی کی
15:10کہ لڑکی کی محبت میں
15:13اپنے ساتھ کچھ کھانے پینے کے لیے
15:16بینہ لے کر آیا
15:17ساری رات بھوکا پیاسا
15:20جنگل میں ایک ترخت کے نیچے
15:23بیٹھ کر شہزادے نے
15:25رات کزاری
15:26اور بھوک پیاسے نہ ڈال ہو گیا
15:29پھر کیا ہوا کہ جیسے ہی ہلکی سی صبح ہوئی
15:34تو بادشاہ سلامت فکر مند ہو گیا
15:38بادشاہ کو اپنے بیٹے کی فکر لاحق ہو گئی
15:41بادشاہ سلامت نے کچھ سپاہی
15:44اس کے پیچھے بیج دیئے
15:46کہ جاہ کا شہزادے کا پتا کرو
15:49اور شہزادے کی مدد کرو
15:51کسی طریقے کے ساتھ بھی شہزادے کو واپس لے کراؤ
15:55یہ نہ ہو کہ اس لڑکی کے چکر میں
15:58میں اپنا بیٹا بھی کھو دوں
16:00تو شہزادے کے پیچھے پیچھے
16:03کچھ سپاہی بھی چال دیئے
16:05شہزادہ صبح ہوتے ہی
16:08پھر اس جنگلوں کی طرف
16:10پہاڑوں کی طرف نکل گیا
16:11جہاں قید ہے شہزادی
16:15جادوگر کے قبضے میں ہے شہزادی
16:18ابھی شہزادہ ادھر پہنچا نہ تھا
16:22کہ راستے میں شہزادے کو ایک بزرگ آدمی ملا
16:26اس نے شہزادے سے کہا
16:29کہ تم نوجوان لڑکے کدھر جا رہے ہو
16:33یہ راستہ تو بہت خطرناک ہے
16:35تمہیں کسی نے بتایا نہیں
16:37کہ ادھر تو بہت بڑا جادوگر رہتا ہے
16:40تو تم ادھر کیوں جا رہے ہو
16:44میرے پیٹے
16:45مجھے بتاؤ تمہیں کیا مسئلہ ہے
16:48کیا پریشانی ہے
16:49میں کوئی تمہاری مدد کر سکتا ہوں
16:52تو میں ضرور کروں گا
16:53شہزادے نے اپنا گوڑا روکا
16:55اور گوڑے سے نیچے اترا
16:57بزرگ کے پاس بیٹھ گیا
16:59اور بزرگ کو
17:01شہزادے نے سارا قصہ
17:03اور سارا ماجرہ سنایا
17:05ساری کہانی سنائی
17:06کہ میں شہزادی کو جادوگر کے
17:09جنگل سے چھڑانا چاہتا ہوں
17:12شہزادی کو اس نے قید کر
17:15رکھا ہے
17:16تو وہ بزرگ بھی
17:18ایک جادوگر تھا
17:19وہ اپنا نوری علم کرتا تھا
17:22قرآن پاک کی آیتیں پڑھتا تھا
17:25اس نے کہا
17:26کہ وہ جادوگر تو کالا جادو کرتا ہے
17:29اس کی قید سے چھٹنا تو بہت مشکل ہے
17:32لیکن میرے بیٹے
17:34میں جو تمہیں عمل بتاتا ہوں
17:37جو پڑھائی بتاتا ہوں
17:38تم اگر ویسا کروگے
17:40تو تم مارے ساتھ مل کر
17:42میں بھی وہ پڑھائی کروں گا
17:44اور ہم انشاءاللہ
17:46کچھ دنوں میں شہزادی کو
17:49اس کی قید سے
17:51ازاد کروالیں گے
17:52تو شہزادی نے کہا
17:54چلیں ٹھیک ہے
17:56میں آپ کی بات مان لیتا ہوں
17:58اتنی دیر میں ابھی وہ دونوں بیٹھے
18:01بزرگ اور شہزادہ باتیں کار رہے تھے
18:04کہ اس کے سپاہی بھی جنگل میں
18:07شہزادے کے پیچھے پہنچ گئے
18:09انہوں نے وہاں پر
18:11خیمہ لگا دیا
18:13بادشاہ سلامت نے خیمے کا سارا سمان
18:15سپائیوں کو دے کر
18:17بیجا تھا کہ سمان اپنے ساتھ
18:19لے کر جائیں شہزادے کو جہاں
18:21ضرورت پڑے گی اسے وہاں
18:23خیمہ لگا کر دیا جائے
18:25اور اس کی حفاظت کی جائے
18:27کافی سارے سپاہی سمان
18:29لے کر شہزادے کے پاس پہنچ گئے
18:32وہاں پر خیمہ لگایا گیا
18:34اور بزرگ
18:35نے بھی خیمے میں احتمام کیا
18:38دونوں شہزادہ
18:40اور بزرگ
18:41اس عمل کو شروع کرنے لگے
18:43اور جو پڑھائی بزرگ
18:46نے بتائی تھی وہ
18:47شہزادہ اور بزرگ دونوں
18:50اس پر عمل کرنے لگے
18:52چار پانچ دن کا
18:53ٹائم گزرا تو
18:55شہزادے کو پھر فکر لاحق
18:58ہو گئی کہ ہمیں اسے کیسے
19:00چھڑانا ہے بزرگ
19:01نے کہا جیسے ہی یہ پڑھائی
19:03مکمل ہوتی ہے میں
19:05تمہارے ساتھ چلوں گا اور
19:07شہزادی کو کیسے چھڑا کرنے
19:09کرائیں گے تم پریشان نہ ہو
19:11تمہاری شہزادی
19:13تمہیں لازمی ملے گی
19:15پڑھائی مکمل ہونے کے بعد
19:17وہ بزرگ اور سپاہی
19:19خیمہ کھٹھا کیا
19:21شہزادہ اپنے گوڑے پر سوار ہوا
19:24اور اس محل کی طرف
19:26نکل گئے جہاں
19:27جادوگر نے شہزادی کو
19:29قید کر رکھا تھا جادوگر
19:31کو بھی پتا چل گیا کہ
19:33میرے اوپر پڑھائیاں شروع ہو
19:35گئی ہیں عمل شروع ہو
19:37گئے ہیں اس نے شہزادی پر
19:39سختی کرنا شروع کر دی شہزادی
19:41کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا
19:43وہ شہزادی کو کہتا
19:45تھا کہ میں تمہارے ساتھ شادی
19:47کرنا چاہتا ہوں اگر تم ہاں
19:49کرو گی تو میں تم سے شادی کروں
19:51گا نہیں تو میں تمہیں چاند سے
19:53مار دوں گا شہزادی
19:55جادوگر سے شادی کرنے
19:57کے لئے تیار نہ تھی شہزادی
20:00نے اس کے آگے ہاتھ جڑے
20:02اس کی پاؤں پڑی کہ
20:03تم مجھے ازاد کر دو لیکن
20:06چاہتا ہوں نے کہا
20:07کہ میرا دل تم پر آ گیا ہے
20:10میں تم سے ہی شادی کروں گا
20:12جب تک تم ہاں نہیں کرتی
20:14تو میں تمہیں ازاد نہیں
20:16کروں گا تم میرے ساتھ شادی
20:18کر لو ایک بار میرے ساتھ
20:20رہ لو پھر تم جیسا کہو گی
20:22میں تمہیں ازاد بھی کر دوں گا
20:24تو شہزادی یہی
20:26رٹ لگائے تھی کہ نہیں
20:28میں تم سے شادی نہیں کروں گی
20:30میں مر جاؤں گی
20:31لیکن تم سے شادی نہیں کروں گی
20:34تو جادوگر شہزادی
20:36کو کہنے لگا کہ
20:37مرنا ہے تو اسی محل میں
20:40قید ہی تم مر جاؤں گی
20:41میں تمہیں رہا کبھی بھی نہیں کروں گا
20:44اتنی دیر میں
20:46وہ بزرگ اور شہزادہ
20:48اور اس کے سپاہی
20:49جادوگر کے محل کے پاس
20:52پہنچ گئے انہوں نے آ کر
20:54پانی جس پر پڑھائی کی تھی
20:57اس کو محل کے چاروں طرف
21:00چھڑک دیا
21:01اور پڑھائیاں شروع کر دی
21:03ساتھ ساتھ وہ پڑھائی کری جا رہے تھے
21:06اور ساتھ ساتھ وہ محل کے اندر جا رہے تھے
21:09جیسے جیسے وہ قرآن پاک کی صورتیں پڑھتے گئے
21:13جیسے جیسے وہ اپنے پڑھائی کو زیادہ کرتے گئے
21:17ویسے ویسے وہ کارے جادو کا توڑ ہوتا رہا
21:21اور شہزادی اس کے گرفت سے ازاد ہوتی رہی
21:25جیسے جیسے ان کی پڑھائی زیادہ ہوئی
21:29اور جادو کا اثر ختم ہونا شروع ہو گیا
21:34جب وہ ساری پڑھائی مکمل کر کے شہزادی کے پاس پہنچے
21:40تو شہزادی بہوش پڑھی ہوئی تھی
21:43اور جادو گر اس پر جادو کر رہا تھا
21:47جادو گر کے اوپر جب بزرگ نے پانی چھڑکا
21:52تو وہ ایک دام سے اٹھ کھڑا ہوا اور بھاگنے لگا
21:56تو اس بزرگ نے کہا کہ تمہاری جان نہیں چھوٹے گی
22:01تم خلط کام کا رہے ہو
22:03تم نے اگر اپنی جان بچانی ہے
22:06اگر تم نے زندہ رہنا ہے
22:08تو یہ شہزادی کی جان چھوڑ دو
22:10اس کا پیچھا چھوڑ دو
22:12اسے ازاد کر دو
22:13نہیں تو میں تمہیں مار ڈالوں گا
22:16اپنی پڑھائی کی طاقت سے
22:18قرآن پاک کی طاقت سے
22:19اللہ پاک کے حکم سے
22:21میں تمہاری جان لے لوں گا
22:23بزرگ نے جب جادو گر کو ایسی باتیں کہی
22:27تو جادو گر ڈر گیا
22:29اس نے کہا کہ مجھے کچھ نہ کہے
22:32میں کچھ نہیں کہوں گا
22:34لیکن مجھے جانے دے
22:37بزرگ نے اور شہزادے نے
22:39جادو گر سے کہا
22:41کہ تم شہزادی کو ازاد کر دو
22:44اور تم جا سکتے ہو
22:46کافی زد اور بحث کے بعد
22:48جادو گر کو ہار ماننا پڑی
22:50اور شہزادے کی محبت
22:52رنگ لے آئی
22:53اور جادو گر نے
22:55شہزادی سے جادو ختم کیا
22:57اور شہزادی اٹھ کر کھڑی ہو گئی
23:00بلکل ٹھیک ہو گئی
23:02اور جادو گر اپنے ساز و سمان تھا کر
23:06وہاں سے باغ نکلا
23:07اور بزرگ نے لڑکی کے اوپر دم کیا
23:11اور شہزادی کو لیا
23:14گوڑے پر بٹھایا
23:15اور وہ بزرگ اور وہ شہزادہ
23:18اور سپاہی سب محل کی طرف جانے لگے
23:21آدھے راستے میں پہنچے
23:23تو وہ بزرگ نے کہا
23:24کہ بیٹے تمہارا کام ہو گیا ہے
23:27مجھے اللہ پاک نے تیری مدد کے لئے بیجا تھا
23:30کیونکہ تُو ایک اچھا لڑکا ہے
23:32اچھا انسان ہے
23:34تو تُو شہزادی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہے
23:37یہ تو تمہاری بہت اچھی بات ہے
23:41کہ تم نیک دل ہو
23:43اور شہزادی کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہو
23:46تم نے اس شہزادی کو کیسے چھڑا کر
23:49ایک نیکی کا کام کیا
23:51نہیں تو ساری زندگی
23:52یہ اس کی قیاد میں ہی رہ جاتی
23:54تو میں اپنے کام کو چلتا ہوں
23:58تم جاؤ محل واپس چلے جاؤ
24:01اپنے باپ کو جا کر خوش کر دو
24:03تو بزرگ اجازت لے کر شہزادے سے چلا گیا
24:08اور شہزادہ اور سپاہی شہزادی کو لے کر
24:12محل میں پہنچ گئے
24:13کافی عرصے تک شہزادی
24:17جادوگر کے جال میں پھسی ہوئی تھی
24:20اس کی قیاد میں پھسی ہوئی تھی
24:22آخر کر شہزادے کی محبت نے
24:25شہزادی کو ازادی دلوا دی
24:27اور شہزادہ شہزادی کو لے کر
24:30بادشاہ سلامت کے پاس پہنچ گیا
24:33جب بادشاہ سلامت نے
24:35دونوں کو زندہ دیکھا
24:37اور لڑکی کو
24:38بلکل صحیح حالت میں دیکھا
24:41تو بہت حیران اور پریشان ہوا
24:43بادشاہ سلامت نے اپنے بیٹے سے پوچھا
24:46کہ شہزادے بتاؤ تم نے یہ سب کچھ کیسے کیا
24:50تو شہزادہ بولا
24:52اباجان میری محبت میں دم تھا
24:55مجھے اسی کے ساتھ شادی کرنے دی
24:58تو میں اسے کیسے نہ حاصل کر سکتا
25:01کیسے نہ اس کو پاتا
25:02اس کے لئے تو مجھے ساس مندرپار بھی جانا پڑتا
25:06تو اباجان میں چلا جاتا
25:08اگر یہ مجھے نہ ملتی
25:10تو میں کسی اور سے بھی کبھی شادی نہ کرتا
25:13بادشاہ سلامت نے کہا
25:15چلو دیر آئے دروست آئے
25:18تم نے ایک نیک کام کیا ہے میرے بیٹے
25:22تم نے ایک قید میں لڑکی کو ازاد کروایا ہے
25:26اس کا عجر تو تمہیں اللہ پاک دیں گے
25:29تم اس سے شادی کے لئے رضا مند ہو
25:32اتنی محنت کی ہے
25:34تو میں تمہاری شادی اس کے ساتھ کرتا ہوں
25:37شادی کا اعلان کر دیا گیا
25:40اور بہت دومدام سے شادی کی سب کو دعوت دی گئی
25:46بادشاہ سلامت کا اکلوتا بیٹا تھا
25:49سب لوگوں کو دعوت نامے کا پیغام دینے کے بعد
25:53بہت دومدام سے شہزادے کی شادی کر دی
25:56شہزادہ اپنی شہزادی کے ساتھ
26:00خاصی خوشی زندگی گزارنے لگا
26:02بادشاہ سلامت نے شہزادے کی شادی پر
26:06بہت ساری اشرفیاں
26:07بہت سارا پیسہ
26:09بہت سارے کپڑے غریب لوگوں میں تقسیم کیے
26:12اور پورے ایک مہینے تک
26:14محل میں رنگ برنگے کھانے پکتے رہے
26:17اور دعوتیں ہوتی رہی
26:19ایک دن بادشاہ سلامت نے
26:21شہزادے کو بٹھا کر پوچھا
26:24کہ مجھے یہ تو بتاؤ میرے بیٹے
26:27کہ تمہاری کس نے مدد کی
26:30شہزادی کو کیسے چھڑانے کے لئے
26:32تو شہزادے نے بیٹھ کر
26:35اپنے باپ کو سارا قصہ سنایا
26:38کہ مجھے راستے میں ایک نیک بزرگ ملا تھا
26:41اس نے ساری میری مدد کی
26:43اس نے مجھے کچھ پڑھائیاں بتائی
26:46انہوں نے میرے ساتھ مل کر وہ پڑھائیاں کی
26:48اباجان میں نے بھی وہ پڑھائیاں کی
26:51اس طرح سے جادنگر کا اثر ختم ہوا
26:55ہماری پڑھائی کامیاب ہو گئی
26:57اللہ پاک نے ہماری مدد کی
26:59اور ہم شہزادی کو
27:01ازاد کروانے میں کامیاب ہو گئے
27:04پھر بادشاہ سلامت نے شہزادی سے پوچھا
27:07کہ وہ جادنگر تم سے کیا چاہتا تھا
27:10وہ تمہیں کیوں تھا کے لے گیا
27:12اس نے تمہیں کیوں قید کر لیا
27:14تو شہزادی نے بتایا
27:16کہ بادشاہ سلامت
27:17وہ مجھے کہتا تھا
27:19کہ تم مجھے پسند آ گئی ہو
27:21تم میرے خوابوں میں آتی ہو
27:22اس لیے میں نے تمہیں قید کیا ہے
27:25میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں
27:27وہ مجھے کہتا تھا
27:28کہ تم اگر ازامند ہوگی
27:30تو میں تم سے شادی کروں گا
27:32cabbage
27:33radio
27:34cabbage
27:42cabbage
27:44cabbage
27:44He said that if you could not do it, only that I would be free of this.
27:54But, His name is my love.
27:59Allah, Pauk, has such a mercy, that Allah, Pauk, has made my love for me, and it was my love
28:08for me.
28:09It was my love for me, and it was my love for me.
28:11I am your husband and your husband
28:13I have been freed from many years
28:19I was very tired of this
28:20I was very tired of this
28:22I thought I could not
28:25I could go to this side of my head
28:28I would not
28:29But I would like to thank you all
28:34I would like to thank you all
28:35I am so grateful
28:38and I will take a look at you.
28:41I will see you in the next couple of years.
28:43What is this?
28:44That a true love is that
28:46that you will be the best of all.
28:48Whether you will be the same
28:49same way or your thoughts.
28:54It will be the same way.
28:55If you will be the same way
28:56you will be the same way.
28:57If God has your love in you
29:00then you will be the same way.
29:02If God is not enough
29:05then you will be the same way.
29:06طاقت لگا لے تو وہ
29:08آپ کو نہیں ملے گا
Comments

Recommended