00:11।
00:30कि इस भरी दुनिया में बिचारा केला रहता था मुसा के माँ बाप बच्पन ही में इन्तकाल का रहतें मुसा
00:41अभी बहुत छोटाथा था
00:43One day, Musa had to be in the jungle for a few days, he had to be in the jungle
00:49and he had to be in the jungle, he had to be in the jungle and he was going to
00:57be in the jungle.
01:01फिर जब शाम हो गई अंदेरा चाने लगा
01:06तो मुसा ने रसीन का ली और सारी लकडियों को एक जगा कठा करके उसका गंठा बांदने लगा
01:15वो दिन बार की महने से लकडियां काट कर बहुत बुरी तरह ठक चुका था
01:22उसके हाथों में हिम्मत ना थी
01:25उससे लकडियों का गठा बांदा नहीं जा रहा था
01:29तो मुसा सोचने लगा कि भी रात होने में टाइम बाकी है
01:34मैं ऐसा करता हूँ कि थोड़ी देर लेट जाता हूँ अराम कर लेता हूँ
01:41फिर मैं लकडियों का गठा बांद कर गर की तरफ रवाना हो जाऊंगा
01:46He thought that Musa was a big tree beneath his head and left his eyes.
01:55He looked at Musa's eyes.
01:59He listened to Musa's eyes.
02:01He listened to Musa's eyes.
02:11He listened to Musa's eyes.
02:18He slept with her eyes.
02:21He was sleeping at night and was sleeping at night.
02:23He slept with her eyes.
02:26He slept with her.
02:30He slept with her.
02:40He slept with her.
02:43yasay moosia kye suya kye suya huay
02:48itni gahari kye niin may
02:50usse khwaab aana shuru huwa
02:53moosia nne epne khwaab me dhekha
02:55ki aasman ke upor se
02:58cjar gudhe chal rehe hai
03:01eek paggi ko lekar
03:03wo gudhe sifit color ke the
03:05behoht khufsurat gudhe thhe
03:08usne kubhi bhi aishe gudhe
03:11pahle na dhekhe thhe
03:13So when Musa came on the walk, the Pagg auto died.
03:20A girl came on the way to walk on the way.
03:23She wasn't looking for a while.
03:24So when Musa came on the way,
03:27there was a dream.
03:30At the time of time, the Pagg auto, the Pagg auto's house will be filled in the way.
03:33Him is working on the people's lives of the world.
03:38And the past few times the present Share the story of Allah and the people of Allah
03:47and the past few times in the past few times,
03:53the past few times in the past few times.
03:53So with many more of these,
03:57there were many people of the past few years in the past,
04:29only oneối
04:30So see I stayed where to look.
04:32I was looking to look at them
04:34and I was looking to look at them
04:36and I was looking to look at them
04:41and I am looking at them
04:43and I didn't do that at times.
04:44I was wondering now that I will walk on the world.
04:47So, Moussa was in the acaba of all time.
04:51He left them to look down
04:55that She was looking through their sleep.
04:57ملکہ اپنے محل کے باہر آکار کھڑی ہو گئی
05:01اس کی بگی رک گئی
05:04تو ملکہ اپنی بگی سے اتری
05:06پریوں نے ملکہ کا ہاتھ پکڑا
05:09اور بہت خوبصورت انداز کے ساتھ
05:12ملکہ کو ملکہ کے تخت پارچا کر بٹھا دیا
05:17ساری طرف طرف روشنیاں ہی روشنیاں تھی
05:20ساری طرف پریوں ہی پریوں تھی
05:23اور بہت زیادہ خوبصورت روشنیاں تھی
05:27ملکہ نے اپنے تخت پر بیٹھتے ہی
05:31پریوں کو اور منازموں کو حکم دیا
05:34کہ کسی جشن کا انتظام کیا جائے
05:38آج میں بہت زیادہ خوش ہوں
05:41مجھے ایسا لگ رہا تھا
05:43کہ میرے درخت کے پاس ہی
05:46یہ جنگل میں منگل ہو گیا ہے
05:49پریوں رکس کرنے لگی
05:51پریوں کی آواز اتنی سوریلی تھی
05:54اتنی پیاری تھی
05:56کہ میں تو ان کی آواز کی دن میں
05:59کھو کر رہ گیا
06:00اور ملکہ خود بھی رکس کرنے لگی
06:04ملکہ نے اتنے پیاری لباس کے ساتھ
06:08رکس کیا
06:09کہ ملکہ کو تو سارا پرستان دیکھتا ہی رہ گیا
06:13اور میں تو ایسا خواب دیکھ رہا تھا
06:17مجھے ایسا لگ رہا تھا
06:19کہ جیسے میں پرستان پہنچ گیا ہوں
06:22کیا بات ہے مجھے خسن و جنمال نے گیر رکھا تھا
06:27میں بھی سوچ رہا تھا
06:29کہ کہیں کوئی پری مجھے بھی مل جائے
06:32جس کے ساتھ میں رکس کر لوں
06:34یہ سارا کچھ موسیٰ کو خواب میں نظر آ رہا تھا
06:38موسیٰ جو لکڑھا رہا وہ پرندوں کی آواز سن کر بھی
06:44اتنا خوش تھا
06:46کہ پریستان کے پرندوں کی آواز بھی کتنی سوریلی ہے
06:50کیا خوبصورتی ہے پریستان میں
06:53کاش میں پریستان میں ہی پیدا ہوا ہوتا
06:56کاش میری شادی بھی پریوں کے ساتھ ہوئی ہوتی
07:00وہ پریستان میں گوم رہا تھا
07:03پریوں کے ساتھ ادھر ادھر جا رہا تھا
07:06اسے ایسا لگ رہا تھا
07:08کہ شاید اب میں پریستان کا ہی ہو کر رہ گیا ہوں
07:12موسیٰ لکڑھا رہا
07:14ابھی ایسے ہی پریستان میں گوم رہا تھا
07:18ملکہ رکس کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا
07:21ملکہ باری باری
07:24اپنی پریوں کو حکم دے رہی تھی
07:27کہ تم لوگ رکس کرو
07:30پریستان کی ملکہ سے کسی نے پوچھا
07:33کہ آج آپ نے رکس کا انتظام کیوں کیا ہے
07:37آخر ایسی کیا خوشی ملی آپ کو
07:39کہ آپ نے پریوں کو رکس کرنے کے لئے کہا
07:43اور جشن کا انتظام کیا
07:45اور پریستان میں ترہ ترہ کے کھانے پکائے گئے
07:49اور سب کو کھانوں کی دعوت دی گئی
07:52دعوت عام تھی
07:54ہر پری ہر ملازم ہر کوئی وہاں کھانا کھا سکتا تھا
07:59تو موسیٰ لکڑھارا بھی کھانے کے لئے نکل پڑا
08:03کہ میں بھی پریستان کا کھانا کھا لوں
08:06خواب نے اس کو سارا نظر آ رہا تھا
08:09اور اس نے بھی وہاں پریوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا
08:14موسیٰ نے جب اپنے آپ کو شیشے میں دیکھا
08:17پریستان کے
08:19تو اسے بھی ایسا لگا
08:20کہ جیسے میرے بھی پار نکل آئے ہیں
08:23اور میں بھی اے خوبصورت حسین لباس میں
08:26مبتلا ہوں پینا ہوا ہے
08:29میرے جسم پر بھی آ گئے ہیں
08:32اور حسین لباس بھی مجھے مل گیا ہے
08:35سفید کلر کا
08:37میں بھی ایسا لگ رہا ہے
08:39کہ پریستان کا کوئی شہزادہ ہوں
08:42وہ خواب میں یہ سارا کچھ دیکھ رہا تھا
08:46اور بہت خوش ہو رہا تھا
08:48ایسے ہی تھوڑا ٹائم کزرا
08:51پریستان کا رکس ختم ہو گیا
08:53ملکہ نے تخلیہ کہا
08:56اور سب کو جانے کے لئے حکم دیا
08:59اور ملکہ پریوں کے ساتھ اٹھ کر
09:02اپنے محل کے کمرے میں چلی گئی
09:06ایسے کرتے ہوئے صبح ہو گئی
09:09اور موسیٰ وہاں پریستان میں ہی
09:13ادھر ادھر گھومتا رہا
09:15پریستان کی سیر کرتا رہا
09:17ساری رات موسیٰ نے سیر کر کے گزار دی
09:21جب صبح ہوئی تو پھر موسیٰ پریستان کے محل کے پاس
09:26ملکہ کے محل کے پاس پہنچا
09:29اور وہاں جا کر وہ پھر ادھر ادھر دیکھنے لگا
09:33ابھی صبح ہی ہوئی تھی
09:35کہ موسیٰ کی نظر ایک خسن و جمال پری کے اوپر پڑی
09:40موسیٰ تو اسے دیکھتا ہی رہ گیا
09:43گولڈن کلر کے اس کے بال
09:45اور سفید کلر کا اس کا لباس
09:47اور سفید ہی اس کے پر
09:49تو موسیٰ کہنے لگا
09:51کہ یہ تو کل میں نے رکھت میں
09:53پری نہیں دیکھی تھی
09:55یہ پری کہاں سے آگئی
09:57چلو میں اس کا پیچھا کرتا ہوں
09:59میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں
10:01کہ یہ پری اتنی خوبصورت
10:04کہاں سے آئی ہے
10:05موسیٰ نے اس کا پیچھا کرنا شروع کیا
10:09موسیٰ کے بھی پر نکلے ہوئے تھے
10:11کیونکہ وہ خواب میں
10:13پرستان کی سیر کر رہا تھا
10:15تو موسیٰ نے جب تھوڑی دیر
10:18اس کا پیچھا کیا
10:19موسیٰ کو یہ بات پتا چل گئی
10:22کہ وہ پرستان کی جو ملکہ ہے
10:25یہ اس کی بیٹی ہے
10:27یہ اس پرستان کی شہزادی ہے
10:30ماں کا حسن تو دیکھنے والا تھا
10:33اور بیٹی کا حسن
10:35اس سے بھی دوبالا ہے
10:37کیا ایسا لگتا ہے
10:39کہ دونوں ماں بیٹیاں
10:41دنیا میں چاند کا روب لے کر آئی ہیں
10:45تو لکڑھارا موسیٰ
10:47خواب میں
10:48اس شہزادی کے پیچھے پیچھے
10:51گوم رہا ہے
10:52اسے شہزادی کے ساتھ
10:54محبت ہو گئی
10:56شہزادی کا حسن دیکھ کر
10:58وہ اپنے دل ہی دل میں سوچنے لگا
11:00کہ کیوں نہ میں
11:02پرستان میں ہی رہ جاؤں
11:04کتنی خوبصورت زندگی ہے
11:06اور میں ملکہ کو کہہ کے
11:09اس شہزادی کے ساتھ شادی کر لوں
11:12کیونکہ مجھے یہ شہزادی
11:14بہت پسند آ گئی ہے
11:16میں اس سے بے انتہا محبت کرنے لگا ہوں
11:20موسیٰ شہزادی کے آگے پیچھے گوم رہا تھا
11:24شہزادی کو اس بات کی خبر نہ تھی
11:27کہ یہ کوئی لکڑھارا ہے
11:30یا دوسری دنیا سے آیا ہے
11:32وہ تو یہ سمجھ رہی تھی
11:34کہ جیسے دوسرے ملازم آگے پیچھے خدمت کر رہے ہیں
11:38یہ لڑکا بھی میرے آگے پیچھے
11:42شہزادی کو یہ علم نہ تھا
11:45کہ یہ مجھ سے محبت کرتا ہے
11:47تو لکڑھارا خواب نے اس حد تک پہنچ گیا
11:51کہ اس نے جا کر ملکہ سے اقرار کر دیا
11:55پرستان کی ملکہ کے سامنے پہنچ گیا
11:58اور اسے کہنے لگا
12:00کہ ملکہ صاحبہ آپ عظیم ہیں
12:04اور مجھے آپ سے بھی اور آپ کی بیٹی سے بھی دلی محبت ہے
12:08مجھے آپ پہلی نظر میں ہی پسند آگئی تھی
12:11آپ بہت عظیم خاتون ہیں
12:14لیکن مجھے آپ کے ساتھ ایک بات کرنی ہے
12:18اگر آپ برا نہیں منائیں گی
12:20تو میں آپ کی بیٹی پری شہزادی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں
12:27تو مجھے آپ اجازت دے دیں
12:30مجھے اس سے بہت زیادہ محبت اور لگاؤ ہو گیا ہے
12:34وہ بہت خوبصورت شہزادی ہے
12:37موسیٰ خواب میں اپنی محبت کا اقرار کر رہا تھا
12:42تھنڈی تھنڈی ہوا نے اس کی آنکھ کھلنے نہ دی
12:46وہ خواب میں پرستان میں شہزادیوں کے ساتھ
12:50ملکہوں کے ساتھ پریوں کے ساتھ گھوم رہا تھا
12:53اور اپنی شادی پکی کر رہا تھا
12:56اسے بچارے کو کیا پتا
12:58کہ میں تو زمین پر نٹا ہوا ہوں
13:02اور تھنڈی تھنڈی ہوا میں میری رات گزر رہی ہے
13:05تو ایسے ہی ملکہ نے اسے شادی کے لیے ہاں کر دی
13:12کہ ٹھیک ہے تم میری بیٹی سے محبت کرتے ہو
13:15تو میں تمہیں اجازت دیتی ہوں
13:18تم پری کے ساتھ شادی کر سکتے ہو
13:21لیکن اگر اسے تم پسند آوگے
13:24تو اب ہی تمہاری شادی میری بیٹی کے ساتھ ہوگی
13:28نہیں تو اگر شہزادی نے انکار کر دیا
13:31تو پھر آپ کی شادی میری بیٹی کے ساتھ نہیں ہو سکتی
13:36تو لکڑھارا بولا
13:38جیسے ملکہ آپ کہتی ہیں
13:41میں آپ کا تابعہ دار ہوں
13:43ایسے ہی کرتے ہوئے
13:45پریستان میں موسیٰ لکڑھارا شادی کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا
13:51اور ملکہ نے بھی ہاں کر دی تھی
13:54تو موسیٰ نے بھی شہزادی سے محبت کا اظہار کر دیا تھا
14:00تو شہزادی نے بھی موسیٰ کو کہا
14:04کہ ٹھیک ہے میں تمہارے ساتھ شادی کرنے کے لیے تیار ہوں
14:08تم بھی مجھے ایک اچھے انسان ایک اچھے پریستان کے لڑکے لگے ہو
14:13ٹھیک ہے کچھ دنوں بعد ہماری شادی ہو جائے گی
14:17موسیٰ خواب میں اپنی شادی دیکھ رہا تھا
14:21ایسے کرتے ہوئے خواب دیکھتے ہوئے
14:24پریستان کا پریوں کے ساتھ
14:27شہزادیوں کے ساتھ
14:28ملکہوں کے ساتھ گونتے ہوئے
14:31اس کی رات گزر گئی
14:34اور جیسے ہی صبح ہوئی
14:37وہ درخت کے نیچے لیٹا ہوا تھا
14:39اس کی لکڑیاں بھی اس کے پاس پڑی تھی
14:42تو جانوروں کی آواز نے موسیٰ کے کانوں میں آواز آئی
14:48اور جیسے ہی صبح ہوئی
14:50تو جانور چیخ نے چھالانے لگے
14:53تو موسیٰ کی آنکھ کھل گئی
14:55جب موسیٰ کی آنکھ کھلی
14:57تو موسیٰ نے ہڑ بڑا کر اٹھ کر بیٹھا
15:01اور ادھر ادھر دیکھنا شروع کیا
15:03تو موسیٰ کو اپنے خواب پر یقین ہی نہ آیا
15:07اس کو پتا ہی نہ چلا کہ یہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے
15:12وہ کہنے لگا کہ اوہو میں تو خواب میں پرستان کی سیر کر رہا تھا
15:19میری تو پری کے ساتھ شادی ہونے والی تھی
15:22میں تو اتنا خوش تھا
15:24کاش یہ خواب حقیقت ہو جاتا
15:28کبھی میری آنکھ ہی نہ کھلتی
15:30کبھی صبح ہی نہ ہوتی
15:32اور میں زندگی ایسے ہی گزار دیتا
15:35کیونکہ موسیٰ تنہا رہتا تھا
15:38کیلہ رہتا تھا
15:40اور پریوں کو دیکھ کر
15:41اور شہزادیوں کو دیکھ کر
15:43موسیٰ کو بہت زیادہ اچھا لگ رہا تھا
15:46موسیٰ افسردہ ہوا
15:49اور اٹھا
15:50وہ سوچنے لگا
15:52کہ پوری رات میں پرستان کی سیر کرتا رہا
15:55مجھے پوری رات
15:57اس درخت کے نیچے لیٹے ہوئے ہی گزر گئی
16:00پوکھا پیاسا
16:01پرستان کی سیر کرتا رہا
16:03پھر اس نے اٹھا
16:05اور اپنی لکڑیاں ٹھائی
16:07گھٹھے میں باندھی
16:08اور اپنے کندے پار رکھی
16:10اور اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا
16:13کافی دنوں تک
16:15موسیٰ کو وہ خواب نہ بھولا
16:18وہ روز جب لیڑتا
16:20یہی سوچتا
16:21کہ دبارہ مجھے وہ خواب آ جائے
16:24میں دبارہ پوریستان میں پہنچ جاؤں
16:26اور میری پری کے ساتھ
16:28شہزادی کے ساتھ شادی ہو جائے
16:30ملکہ مجھے بہت اچھی خاتون لگی تھی
16:33بہت اچھی پری لگی تھی
16:35جس نے مجھے شادی کے لیے ہاں کر دی تھی
16:39لیکن اسے دبارہ
16:41کبھی بھی پرستان کا خواب نہ آیا
16:44موسیٰ کو بہت اس بات کی
16:47جلدی تھی
16:49کہ کہیں مجھے خواب آ جائے
16:52وہ رات کو جلدی سو جاتا
16:54کہ شاید مجھے پھر پرستان کا خواب آ جائے
16:57ایک دن تو موسیٰ نے ایسا کیا
17:00اس کی محبت پری کے ساتھ
17:02اتنی بڑھ چکی تھی
17:03کہ وہ سوچنے لگا
17:05کہ میں آج ایسا کرتا ہوں
17:07شاید مجھے گھر میں خواب نہیں آ رہا
17:10میں آج پھر دوبارہ
17:12اس درخت کے نیچے
17:13جنگل میں جا کر رات گزاروں گا
17:16آج میں پھر اسی جنگل میں رات رہوں گا
17:20اور وہاں ہی چادر بچاک
17:22بچھا کر سو جاؤں گا
17:23شاید پھر میری خواب میں
17:26وہ پرستان آ جائے
17:27اور وہ پری مجھے مل جائے
17:29میری شادی اس کے ساتھ ہو جائے
17:32تو موسیٰ نے ایسا ہی کیا
17:34چادر بچھائی لکڑیاں کاتی
17:36اور رات ہوئی
17:38تو وہاں چادر بچھا کر
17:40درخت کے نیچے سو گیا
17:42لیکن ایسا
17:44کہاں ہوتا ہے
17:45کہ جو خواب ایک بار آ جائے
17:47وہ خواب دوبارہ آئے
17:49تو موسیٰ ساری رات
17:51یہی کوشش کرتا رہا
17:53سوچتا رہا
17:54کہ مجھے کب خواب آئے گا
17:56مجھے کب خواب آئے گا
17:57میں کب پرستان میں جاؤں گا
17:59اور پری سے شادی کروں گا
18:01لیکن ایسا نہ ہوا
18:03پرستان کی خواب نے
18:06موسیٰ کو ساری رات سونے ہی نہ دیا
18:09ایسے ہی پھر صبح ہو گئی
18:12تو موسیٰ پھر اپنے سر پر
18:14ہاتھ مار کے کہتا ہے
18:16تم تو پاگل ہو گئے ہو
18:18وہ تو خواب تھا
18:20تم کیوں پریوں کی زندگی میں
18:22پہنچ گئے
18:23تم اپنی زندگی میں
18:24یہاں پر ہی کوئی لڑکی ڈونڈو
18:26اور شادی کرو
18:28تم اپنی زندگی
18:29اچھی گزارو
18:30محنت کرتے ہو
18:32محنت مزدوری کے ساتھ
18:33تمہارا گھر چال رہا ہے
18:35موسیٰ پھر اپنی
18:36دگر پر چل پڑا
18:38اپنی صبح
18:39کام پاراتا
18:40لکڑیاں کارتا
18:42اور شام کو
18:43گھر واپس چلا جاتا
18:45ایسے ہی
18:46موسیٰ کی زندگی
18:47گزرنے لگی
18:48اور محنت کرتے کرتے
18:50موسیٰ ایک بڑا لکڑھارا بن گیا
18:53اس نے اپنی دکان
18:54بنا لی
18:55اور اس کی شادی بھی ہو گئی
18:57اور وہ بہت ہسی خوشی
18:58زندگی گزارنے لگا
Comments
1