Skip to playerSkip to main content
Paristan ki Malika aur Lakadhara" (پرستان کی ملکہ اور لکڑہارا)

Paristan Ki Malika Aur Lakadhara | Ek Dilchasp Urdu Kahani ✨

Paristan Ki Malika Aur Gareeb Lakadhara Ki Qismat | Urdu Fairy Tales

Paristan Ki Malika Aur Lakadhara Story | Moral Stories in Urdu

Aaslam-o-Alikum dosto! Aaj ki is video mein hum aapko sunane ja rahe hain ek bohot hi dilchasp aur sabaq aamoz kahani "Paristan Ki Malika Aur Lakadhara".

Is kahani mein dekhiye kaise ek gareeb aur imandari se lakriyan katne wale lakadhare ki mulaqat paristan ki malika aur pariyon se hoti hai, aur kaise uski zindagi hamesha ke liye badal jati hai. Agar aapko sabaq aamoz aur jaduai kahaniyan (fairy tales) pasand hain, to is video ko aakhir tak zaroor dekhein!

Video ko Like aur Share zaroor karein.

Hamaray channel ko Subscribe karna mat bhooliye ga!

🏷️ Tags
Paristan ki Malika aur Lakadhara, Urdu kahani, Urdu fairy tales, Moral stories in urdu, Jaduai kahaniyan, Pariyon ki kahani, Lakadhare ki kahani, Sabaq aamoz kahaniyan, Urdu stories for kids, New urdu story 2026, Paristan ki malika

📱 Hashtags
#ParistanKiMalikaAurLakadhara #UrduKahani #UrduFairyTales #MoralStoriesInUrdu #PariyonKiKahani #JaduaiKahani #UrduStories

Category

📚
Learning
Transcript
00:11
00:30कि इस भरी दुनिया में बिचारा केला रहता था मुसा के माँ बाप बच्पन ही में इन्तकाल का रहतें मुसा
00:41अभी बहुत छोटाथा था
00:43One day, Musa had to be in the jungle for a few days, he had to be in the jungle
00:49and he had to be in the jungle, he had to be in the jungle and he was going to
00:57be in the jungle.
01:01फिर जब शाम हो गई अंदेरा चाने लगा
01:06तो मुसा ने रसीन का ली और सारी लकडियों को एक जगा कठा करके उसका गंठा बांदने लगा
01:15वो दिन बार की महने से लकडियां काट कर बहुत बुरी तरह ठक चुका था
01:22उसके हाथों में हिम्मत ना थी
01:25उससे लकडियों का गठा बांदा नहीं जा रहा था
01:29तो मुसा सोचने लगा कि भी रात होने में टाइम बाकी है
01:34मैं ऐसा करता हूँ कि थोड़ी देर लेट जाता हूँ अराम कर लेता हूँ
01:41फिर मैं लकडियों का गठा बांद कर गर की तरफ रवाना हो जाऊंगा
01:46He thought that Musa was a big tree beneath his head and left his eyes.
01:55He looked at Musa's eyes.
01:59He listened to Musa's eyes.
02:01He listened to Musa's eyes.
02:11He listened to Musa's eyes.
02:18He slept with her eyes.
02:21He was sleeping at night and was sleeping at night.
02:23He slept with her eyes.
02:26He slept with her.
02:30He slept with her.
02:40He slept with her.
02:43yasay moosia kye suya kye suya huay
02:48itni gahari kye niin may
02:50usse khwaab aana shuru huwa
02:53moosia nne epne khwaab me dhekha
02:55ki aasman ke upor se
02:58cjar gudhe chal rehe hai
03:01eek paggi ko lekar
03:03wo gudhe sifit color ke the
03:05behoht khufsurat gudhe thhe
03:08usne kubhi bhi aishe gudhe
03:11pahle na dhekhe thhe
03:13So when Musa came on the walk, the Pagg auto died.
03:20A girl came on the way to walk on the way.
03:23She wasn't looking for a while.
03:24So when Musa came on the way,
03:27there was a dream.
03:30At the time of time, the Pagg auto, the Pagg auto's house will be filled in the way.
03:33Him is working on the people's lives of the world.
03:38And the past few times the present Share the story of Allah and the people of Allah
03:47and the past few times in the past few times,
03:53the past few times in the past few times.
03:53So with many more of these,
03:57there were many people of the past few years in the past,
04:29only oneối
04:30So see I stayed where to look.
04:32I was looking to look at them
04:34and I was looking to look at them
04:36and I was looking to look at them
04:41and I am looking at them
04:43and I didn't do that at times.
04:44I was wondering now that I will walk on the world.
04:47So, Moussa was in the acaba of all time.
04:51He left them to look down
04:55that She was looking through their sleep.
04:57ملکہ اپنے محل کے باہر آکار کھڑی ہو گئی
05:01اس کی بگی رک گئی
05:04تو ملکہ اپنی بگی سے اتری
05:06پریوں نے ملکہ کا ہاتھ پکڑا
05:09اور بہت خوبصورت انداز کے ساتھ
05:12ملکہ کو ملکہ کے تخت پارچا کر بٹھا دیا
05:17ساری طرف طرف روشنیاں ہی روشنیاں تھی
05:20ساری طرف پریوں ہی پریوں تھی
05:23اور بہت زیادہ خوبصورت روشنیاں تھی
05:27ملکہ نے اپنے تخت پر بیٹھتے ہی
05:31پریوں کو اور منازموں کو حکم دیا
05:34کہ کسی جشن کا انتظام کیا جائے
05:38آج میں بہت زیادہ خوش ہوں
05:41مجھے ایسا لگ رہا تھا
05:43کہ میرے درخت کے پاس ہی
05:46یہ جنگل میں منگل ہو گیا ہے
05:49پریوں رکس کرنے لگی
05:51پریوں کی آواز اتنی سوریلی تھی
05:54اتنی پیاری تھی
05:56کہ میں تو ان کی آواز کی دن میں
05:59کھو کر رہ گیا
06:00اور ملکہ خود بھی رکس کرنے لگی
06:04ملکہ نے اتنے پیاری لباس کے ساتھ
06:08رکس کیا
06:09کہ ملکہ کو تو سارا پرستان دیکھتا ہی رہ گیا
06:13اور میں تو ایسا خواب دیکھ رہا تھا
06:17مجھے ایسا لگ رہا تھا
06:19کہ جیسے میں پرستان پہنچ گیا ہوں
06:22کیا بات ہے مجھے خسن و جنمال نے گیر رکھا تھا
06:27میں بھی سوچ رہا تھا
06:29کہ کہیں کوئی پری مجھے بھی مل جائے
06:32جس کے ساتھ میں رکس کر لوں
06:34یہ سارا کچھ موسیٰ کو خواب میں نظر آ رہا تھا
06:38موسیٰ جو لکڑھا رہا وہ پرندوں کی آواز سن کر بھی
06:44اتنا خوش تھا
06:46کہ پریستان کے پرندوں کی آواز بھی کتنی سوریلی ہے
06:50کیا خوبصورتی ہے پریستان میں
06:53کاش میں پریستان میں ہی پیدا ہوا ہوتا
06:56کاش میری شادی بھی پریوں کے ساتھ ہوئی ہوتی
07:00وہ پریستان میں گوم رہا تھا
07:03پریوں کے ساتھ ادھر ادھر جا رہا تھا
07:06اسے ایسا لگ رہا تھا
07:08کہ شاید اب میں پریستان کا ہی ہو کر رہ گیا ہوں
07:12موسیٰ لکڑھا رہا
07:14ابھی ایسے ہی پریستان میں گوم رہا تھا
07:18ملکہ رکس کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا
07:21ملکہ باری باری
07:24اپنی پریوں کو حکم دے رہی تھی
07:27کہ تم لوگ رکس کرو
07:30پریستان کی ملکہ سے کسی نے پوچھا
07:33کہ آج آپ نے رکس کا انتظام کیوں کیا ہے
07:37آخر ایسی کیا خوشی ملی آپ کو
07:39کہ آپ نے پریوں کو رکس کرنے کے لئے کہا
07:43اور جشن کا انتظام کیا
07:45اور پریستان میں ترہ ترہ کے کھانے پکائے گئے
07:49اور سب کو کھانوں کی دعوت دی گئی
07:52دعوت عام تھی
07:54ہر پری ہر ملازم ہر کوئی وہاں کھانا کھا سکتا تھا
07:59تو موسیٰ لکڑھارا بھی کھانے کے لئے نکل پڑا
08:03کہ میں بھی پریستان کا کھانا کھا لوں
08:06خواب نے اس کو سارا نظر آ رہا تھا
08:09اور اس نے بھی وہاں پریوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا
08:14موسیٰ نے جب اپنے آپ کو شیشے میں دیکھا
08:17پریستان کے
08:19تو اسے بھی ایسا لگا
08:20کہ جیسے میرے بھی پار نکل آئے ہیں
08:23اور میں بھی اے خوبصورت حسین لباس میں
08:26مبتلا ہوں پینا ہوا ہے
08:29میرے جسم پر بھی آ گئے ہیں
08:32اور حسین لباس بھی مجھے مل گیا ہے
08:35سفید کلر کا
08:37میں بھی ایسا لگ رہا ہے
08:39کہ پریستان کا کوئی شہزادہ ہوں
08:42وہ خواب میں یہ سارا کچھ دیکھ رہا تھا
08:46اور بہت خوش ہو رہا تھا
08:48ایسے ہی تھوڑا ٹائم کزرا
08:51پریستان کا رکس ختم ہو گیا
08:53ملکہ نے تخلیہ کہا
08:56اور سب کو جانے کے لئے حکم دیا
08:59اور ملکہ پریوں کے ساتھ اٹھ کر
09:02اپنے محل کے کمرے میں چلی گئی
09:06ایسے کرتے ہوئے صبح ہو گئی
09:09اور موسیٰ وہاں پریستان میں ہی
09:13ادھر ادھر گھومتا رہا
09:15پریستان کی سیر کرتا رہا
09:17ساری رات موسیٰ نے سیر کر کے گزار دی
09:21جب صبح ہوئی تو پھر موسیٰ پریستان کے محل کے پاس
09:26ملکہ کے محل کے پاس پہنچا
09:29اور وہاں جا کر وہ پھر ادھر ادھر دیکھنے لگا
09:33ابھی صبح ہی ہوئی تھی
09:35کہ موسیٰ کی نظر ایک خسن و جمال پری کے اوپر پڑی
09:40موسیٰ تو اسے دیکھتا ہی رہ گیا
09:43گولڈن کلر کے اس کے بال
09:45اور سفید کلر کا اس کا لباس
09:47اور سفید ہی اس کے پر
09:49تو موسیٰ کہنے لگا
09:51کہ یہ تو کل میں نے رکھت میں
09:53پری نہیں دیکھی تھی
09:55یہ پری کہاں سے آگئی
09:57چلو میں اس کا پیچھا کرتا ہوں
09:59میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں
10:01کہ یہ پری اتنی خوبصورت
10:04کہاں سے آئی ہے
10:05موسیٰ نے اس کا پیچھا کرنا شروع کیا
10:09موسیٰ کے بھی پر نکلے ہوئے تھے
10:11کیونکہ وہ خواب میں
10:13پرستان کی سیر کر رہا تھا
10:15تو موسیٰ نے جب تھوڑی دیر
10:18اس کا پیچھا کیا
10:19موسیٰ کو یہ بات پتا چل گئی
10:22کہ وہ پرستان کی جو ملکہ ہے
10:25یہ اس کی بیٹی ہے
10:27یہ اس پرستان کی شہزادی ہے
10:30ماں کا حسن تو دیکھنے والا تھا
10:33اور بیٹی کا حسن
10:35اس سے بھی دوبالا ہے
10:37کیا ایسا لگتا ہے
10:39کہ دونوں ماں بیٹیاں
10:41دنیا میں چاند کا روب لے کر آئی ہیں
10:45تو لکڑھارا موسیٰ
10:47خواب میں
10:48اس شہزادی کے پیچھے پیچھے
10:51گوم رہا ہے
10:52اسے شہزادی کے ساتھ
10:54محبت ہو گئی
10:56شہزادی کا حسن دیکھ کر
10:58وہ اپنے دل ہی دل میں سوچنے لگا
11:00کہ کیوں نہ میں
11:02پرستان میں ہی رہ جاؤں
11:04کتنی خوبصورت زندگی ہے
11:06اور میں ملکہ کو کہہ کے
11:09اس شہزادی کے ساتھ شادی کر لوں
11:12کیونکہ مجھے یہ شہزادی
11:14بہت پسند آ گئی ہے
11:16میں اس سے بے انتہا محبت کرنے لگا ہوں
11:20موسیٰ شہزادی کے آگے پیچھے گوم رہا تھا
11:24شہزادی کو اس بات کی خبر نہ تھی
11:27کہ یہ کوئی لکڑھارا ہے
11:30یا دوسری دنیا سے آیا ہے
11:32وہ تو یہ سمجھ رہی تھی
11:34کہ جیسے دوسرے ملازم آگے پیچھے خدمت کر رہے ہیں
11:38یہ لڑکا بھی میرے آگے پیچھے
11:42شہزادی کو یہ علم نہ تھا
11:45کہ یہ مجھ سے محبت کرتا ہے
11:47تو لکڑھارا خواب نے اس حد تک پہنچ گیا
11:51کہ اس نے جا کر ملکہ سے اقرار کر دیا
11:55پرستان کی ملکہ کے سامنے پہنچ گیا
11:58اور اسے کہنے لگا
12:00کہ ملکہ صاحبہ آپ عظیم ہیں
12:04اور مجھے آپ سے بھی اور آپ کی بیٹی سے بھی دلی محبت ہے
12:08مجھے آپ پہلی نظر میں ہی پسند آگئی تھی
12:11آپ بہت عظیم خاتون ہیں
12:14لیکن مجھے آپ کے ساتھ ایک بات کرنی ہے
12:18اگر آپ برا نہیں منائیں گی
12:20تو میں آپ کی بیٹی پری شہزادی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں
12:27تو مجھے آپ اجازت دے دیں
12:30مجھے اس سے بہت زیادہ محبت اور لگاؤ ہو گیا ہے
12:34وہ بہت خوبصورت شہزادی ہے
12:37موسیٰ خواب میں اپنی محبت کا اقرار کر رہا تھا
12:42تھنڈی تھنڈی ہوا نے اس کی آنکھ کھلنے نہ دی
12:46وہ خواب میں پرستان میں شہزادیوں کے ساتھ
12:50ملکہوں کے ساتھ پریوں کے ساتھ گھوم رہا تھا
12:53اور اپنی شادی پکی کر رہا تھا
12:56اسے بچارے کو کیا پتا
12:58کہ میں تو زمین پر نٹا ہوا ہوں
13:02اور تھنڈی تھنڈی ہوا میں میری رات گزر رہی ہے
13:05تو ایسے ہی ملکہ نے اسے شادی کے لیے ہاں کر دی
13:12کہ ٹھیک ہے تم میری بیٹی سے محبت کرتے ہو
13:15تو میں تمہیں اجازت دیتی ہوں
13:18تم پری کے ساتھ شادی کر سکتے ہو
13:21لیکن اگر اسے تم پسند آوگے
13:24تو اب ہی تمہاری شادی میری بیٹی کے ساتھ ہوگی
13:28نہیں تو اگر شہزادی نے انکار کر دیا
13:31تو پھر آپ کی شادی میری بیٹی کے ساتھ نہیں ہو سکتی
13:36تو لکڑھارا بولا
13:38جیسے ملکہ آپ کہتی ہیں
13:41میں آپ کا تابعہ دار ہوں
13:43ایسے ہی کرتے ہوئے
13:45پریستان میں موسیٰ لکڑھارا شادی کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا
13:51اور ملکہ نے بھی ہاں کر دی تھی
13:54تو موسیٰ نے بھی شہزادی سے محبت کا اظہار کر دیا تھا
14:00تو شہزادی نے بھی موسیٰ کو کہا
14:04کہ ٹھیک ہے میں تمہارے ساتھ شادی کرنے کے لیے تیار ہوں
14:08تم بھی مجھے ایک اچھے انسان ایک اچھے پریستان کے لڑکے لگے ہو
14:13ٹھیک ہے کچھ دنوں بعد ہماری شادی ہو جائے گی
14:17موسیٰ خواب میں اپنی شادی دیکھ رہا تھا
14:21ایسے کرتے ہوئے خواب دیکھتے ہوئے
14:24پریستان کا پریوں کے ساتھ
14:27شہزادیوں کے ساتھ
14:28ملکہوں کے ساتھ گونتے ہوئے
14:31اس کی رات گزر گئی
14:34اور جیسے ہی صبح ہوئی
14:37وہ درخت کے نیچے لیٹا ہوا تھا
14:39اس کی لکڑیاں بھی اس کے پاس پڑی تھی
14:42تو جانوروں کی آواز نے موسیٰ کے کانوں میں آواز آئی
14:48اور جیسے ہی صبح ہوئی
14:50تو جانور چیخ نے چھالانے لگے
14:53تو موسیٰ کی آنکھ کھل گئی
14:55جب موسیٰ کی آنکھ کھلی
14:57تو موسیٰ نے ہڑ بڑا کر اٹھ کر بیٹھا
15:01اور ادھر ادھر دیکھنا شروع کیا
15:03تو موسیٰ کو اپنے خواب پر یقین ہی نہ آیا
15:07اس کو پتا ہی نہ چلا کہ یہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے
15:12وہ کہنے لگا کہ اوہو میں تو خواب میں پرستان کی سیر کر رہا تھا
15:19میری تو پری کے ساتھ شادی ہونے والی تھی
15:22میں تو اتنا خوش تھا
15:24کاش یہ خواب حقیقت ہو جاتا
15:28کبھی میری آنکھ ہی نہ کھلتی
15:30کبھی صبح ہی نہ ہوتی
15:32اور میں زندگی ایسے ہی گزار دیتا
15:35کیونکہ موسیٰ تنہا رہتا تھا
15:38کیلہ رہتا تھا
15:40اور پریوں کو دیکھ کر
15:41اور شہزادیوں کو دیکھ کر
15:43موسیٰ کو بہت زیادہ اچھا لگ رہا تھا
15:46موسیٰ افسردہ ہوا
15:49اور اٹھا
15:50وہ سوچنے لگا
15:52کہ پوری رات میں پرستان کی سیر کرتا رہا
15:55مجھے پوری رات
15:57اس درخت کے نیچے لیٹے ہوئے ہی گزر گئی
16:00پوکھا پیاسا
16:01پرستان کی سیر کرتا رہا
16:03پھر اس نے اٹھا
16:05اور اپنی لکڑیاں ٹھائی
16:07گھٹھے میں باندھی
16:08اور اپنے کندے پار رکھی
16:10اور اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا
16:13کافی دنوں تک
16:15موسیٰ کو وہ خواب نہ بھولا
16:18وہ روز جب لیڑتا
16:20یہی سوچتا
16:21کہ دبارہ مجھے وہ خواب آ جائے
16:24میں دبارہ پوریستان میں پہنچ جاؤں
16:26اور میری پری کے ساتھ
16:28شہزادی کے ساتھ شادی ہو جائے
16:30ملکہ مجھے بہت اچھی خاتون لگی تھی
16:33بہت اچھی پری لگی تھی
16:35جس نے مجھے شادی کے لیے ہاں کر دی تھی
16:39لیکن اسے دبارہ
16:41کبھی بھی پرستان کا خواب نہ آیا
16:44موسیٰ کو بہت اس بات کی
16:47جلدی تھی
16:49کہ کہیں مجھے خواب آ جائے
16:52وہ رات کو جلدی سو جاتا
16:54کہ شاید مجھے پھر پرستان کا خواب آ جائے
16:57ایک دن تو موسیٰ نے ایسا کیا
17:00اس کی محبت پری کے ساتھ
17:02اتنی بڑھ چکی تھی
17:03کہ وہ سوچنے لگا
17:05کہ میں آج ایسا کرتا ہوں
17:07شاید مجھے گھر میں خواب نہیں آ رہا
17:10میں آج پھر دوبارہ
17:12اس درخت کے نیچے
17:13جنگل میں جا کر رات گزاروں گا
17:16آج میں پھر اسی جنگل میں رات رہوں گا
17:20اور وہاں ہی چادر بچاک
17:22بچھا کر سو جاؤں گا
17:23شاید پھر میری خواب میں
17:26وہ پرستان آ جائے
17:27اور وہ پری مجھے مل جائے
17:29میری شادی اس کے ساتھ ہو جائے
17:32تو موسیٰ نے ایسا ہی کیا
17:34چادر بچھائی لکڑیاں کاتی
17:36اور رات ہوئی
17:38تو وہاں چادر بچھا کر
17:40درخت کے نیچے سو گیا
17:42لیکن ایسا
17:44کہاں ہوتا ہے
17:45کہ جو خواب ایک بار آ جائے
17:47وہ خواب دوبارہ آئے
17:49تو موسیٰ ساری رات
17:51یہی کوشش کرتا رہا
17:53سوچتا رہا
17:54کہ مجھے کب خواب آئے گا
17:56مجھے کب خواب آئے گا
17:57میں کب پرستان میں جاؤں گا
17:59اور پری سے شادی کروں گا
18:01لیکن ایسا نہ ہوا
18:03پرستان کی خواب نے
18:06موسیٰ کو ساری رات سونے ہی نہ دیا
18:09ایسے ہی پھر صبح ہو گئی
18:12تو موسیٰ پھر اپنے سر پر
18:14ہاتھ مار کے کہتا ہے
18:16تم تو پاگل ہو گئے ہو
18:18وہ تو خواب تھا
18:20تم کیوں پریوں کی زندگی میں
18:22پہنچ گئے
18:23تم اپنی زندگی میں
18:24یہاں پر ہی کوئی لڑکی ڈونڈو
18:26اور شادی کرو
18:28تم اپنی زندگی
18:29اچھی گزارو
18:30محنت کرتے ہو
18:32محنت مزدوری کے ساتھ
18:33تمہارا گھر چال رہا ہے
18:35موسیٰ پھر اپنی
18:36دگر پر چل پڑا
18:38اپنی صبح
18:39کام پاراتا
18:40لکڑیاں کارتا
18:42اور شام کو
18:43گھر واپس چلا جاتا
18:45ایسے ہی
18:46موسیٰ کی زندگی
18:47گزرنے لگی
18:48اور محنت کرتے کرتے
18:50موسیٰ ایک بڑا لکڑھارا بن گیا
18:53اس نے اپنی دکان
18:54بنا لی
18:55اور اس کی شادی بھی ہو گئی
18:57اور وہ بہت ہسی خوشی
18:58زندگی گزارنے لگا
Comments
1
Tariq Zia5 days ago
great story 👏👏👏

Recommended