Skip to playerSkip to main content
Ahkam e Shariat - Mufti Muhammad Akmal

Watch all the Episodes of Ahkam e Shariat ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xifzae0UvGw7lqFolbZ_HEWJ

Solutions For Day-to-Day Problems Faced by Muslim Ummah, Commandments of Islamic Jurisprudence; Mufti Muhammad Akmal Provides solutions for day-to-day problems faced by Muslim Ummah, according to the guidance and teachings of Qur’an and Sunnah. This program has facilitated a majority of people for making suitable amendments and corrections in their conduct and affairs of routine life in accordance with their religious believe their worship dealings and ethics.

Watch Ahkam e Shariat every Fri-Sat at 8:00 PM only on ARY Qtv!

#ahkameshariat #muftimuhammadakmal #aryqtv

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00. . .
00:30. . .
01:00. . . .
01:04. . . .
01:04. . . .
01:05. . . .
01:07وَذَلِكَ الْفَوْضُ الْعَظِيمُ
01:11وَالصَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ
01:12سب سے سبقت لے جانے والے پہلے لوگ
01:15یعنی اسلام کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ اشارت فرمارا ہے
01:19مہاجرین میں سے اور انصار میں سے
01:21تو حضرت ابوبقر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار مہاجرین میں سے ہے
01:26گویا کہ مہاجرین لفظ کے زمن میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر خیر بھی موجود ہے
01:33اور پھر فرمایا کہ جو ان کے بعد اخلاص کے ساتھ ان کے پیروکار ہوئے
01:38یعنی بعد میں جو ایمان لاتے رہے
01:40مہاجرین انصار کے بعد خصوصا فتح مکہ کے بعد
01:43اور بعض علماء نے اس میں بڑی وسط بیان فرمائے
01:46کہ قیامت تک جتنے لوگ اخلاص سے ان کے پیروی کرتے رہیں گے
01:50اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رضی اللہ عنہم ورضو عنہ
01:53اللہ ان سے راضی وہ اللہ سے راضی
01:56اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں
02:01کہ جن کے نیچے سے نہر جاری ہیں
02:03اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے
02:06اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے
02:09گویا کہ اللہ تعالیٰ نے
02:10حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم کو بھی زمن میں لیں
02:14تمام صحابہ اکرام علم وردوان کے لئے
02:17جنت کا وعدہ فرما لیا ہے
02:20صحابی کسے کہتے ہیں
02:21کہ جنہوں نے حالت ایمان میں
02:23اپنی ظاہری آنکھوں سے
02:25نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی
02:28یا آپ کی صحبت اختیار کی
02:31اور پھر ان کا حالت ایمان میں ہی انتقال ہو گیا
02:35وہ صحابی ہیں
02:37زیارت کا مطلب دیکھنا
02:39اور صحبت اختیار کرنا
02:40یعنی آپ کے ساتھ رہے لیکن دیکھ نہ سکے
02:43تاکہ اس میں نابینہ حضرات بھی داخل ہو جائیں
02:46جیسے حضرت عبداللہ بن ابن ام مکتوم
02:49اور رضی اللہ تعالیٰ نے نابینہ صحابی تھے
02:51تو ان کو صحابی شمار کیا گیا ہے
02:54اس کا مطلب ہے کہ جن کی صحابیت ثابت ہو گئی
02:57اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے
02:59مغفرت کا وعدہ فرمایا
03:01رضا کا وعدہ فرمایا
03:03اور جنت کا وعدہ فرمایا
03:04اس لئے کہا جاتا ہے
03:05کہ ہر صحابی نبی جنتی جنتی
03:08اور چونکہ نص قطعی ہے
03:10اس لئے کہا جاتا ہے
03:11کہ جو اصحاب رسول تھے
03:13جو وصف صحابیت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے
03:16وہ قطعی طور پر جنتی ہیں
03:18اور زمنا میں ایک بات ارس کر دیتا ہوں
03:23اللہ تعالیٰ کی ذات قدیم ہے
03:26یعنی ہمیشہ سے ہے
03:28جس پر کبھی عدم تاری نہ ہوا ہو
03:30یعنی نہ ہونا نہ ہوا ہو
03:32وہ قدیم ہوتا ہے
03:33اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے
03:34اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفات بھی ہمیشہ سے ہیں
03:37یہ تمام علماء اسلام کا مسلمہ عقیدہ ہے
03:40اگر صفات کو قدیم نہ مانا جائے
03:43تو پھر یہ ماننا پڑے گا
03:44کہ ایک ٹائم ذات تھی اور صفات نہیں تھی
03:46تو لازم بات ہے کہ جب صفات نہیں ہوں گے
03:48تو صفات کون سی اللہ تعالیٰ کی حیات ہے
03:51قدرت ہے دیکھنا ہے
03:52سننا ہے کلام ہے
03:55ارادہ ہے قدرت ہے
03:57تو اس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ ان سے خالی تھا
03:59اور ایسا نہیں ہو سکتا
04:01آپ دیکھیں اس میں تین صفات لے لیں آپ
04:04ایک کلام دوسرا ارادہ
04:06تیسرا علم
04:07اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی صحابہ پیدا بھی نہیں ہوئے
04:10ابھی روحیں بھی وجود میں نہیں آئیں
04:12کائنات کی کوئی چیز اللہ نے پیدا نہیں کی
04:15لیکن اللہ تعالیٰ کا ارادہ بھی موجود تھا
04:17اس کا کلام بھی تھا
04:19اور اللہ تعالیٰ کا علم بھی تھا
04:21اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ علم
04:23اللہ کی صفت تھی
04:24سب جانتا تھا اللہ تعالیٰ کے صحابے کرام پیدا ہوں گے
04:27کیا کیا معاملات ہوں گے
04:29آگے کیا کیا واقعات ہوں گے
04:30پھر اللہ کا ارادہ بھی تھا
04:32کہ ان کے ساتھ الرزا کا وعدہ فرمائے گا
04:35رزا وغیرہ ہوگا
04:36اور کلام بھی اللہ تعالیٰ کا تھا
04:37جس کو بعد میں ظاہر کیا گیا
04:39جیسے یہ کلام آپ سن رہے ہیں
04:41اس کا مطلب ہے
04:43کہ ابھی تو صحابہ پیدا بھی نہیں ہوئے
04:45اور اللہ تعالیٰ نے
04:46ازل سے ان کی رزا کا اعلان فرما دیا
04:49اس کا مطلب ہے
04:50میں اپنی جنگ جنریشن سے خاص طور پر ارز کرتا ہوں
04:53کہ اگر خدا نہ خاصتہ
04:54کسی وجہ سے صحابے کرام
04:56علم و ردوان کے بارے میں
04:58کوئی وسوسہ قلب میں پیدا ہو
04:59تو ہماری اس بات کو بس یاد کر لیجئے گا
05:02کہ یہ وسوسہ ابھی آپ کے پیدا ہوا ہے
05:04اور اللہ تعالیٰ کے صفات قدیم تھیں
05:06اور اس نے تمام صحابہ سے
05:08رزا کا اعلان فرما دیا
05:10حالانکہ وہ جانتا تھا
05:12اور جانتا ہے
05:12کہ ان کے مابین کیا کیا ہوگا
05:15وہ کیا کیا کریں گے
05:16اس کے باوجود جب اللہ تعالیٰ نے
05:18رزا کا اعلان کر دیا
05:19تو ہمیں بھی ان نفوس قدسیہ سے
05:21راضی رہنا چاہئے
05:22ورنہ اللہ تو ان سے راضی ہے
05:24ان کے لئے جنت تیار کی ہوئی ہے
05:26ایسا نہ ہو خدا نہ خاصتہ
05:27ہمارے قلب میں کوئی وسوسہ شیطانی
05:29ہمیں ان نفوس قدسیہ کے بارے میں
05:31بدگمان کر دے
05:32کسی بھی جہت سے
05:33اور ہمارا ٹھکانہ
05:34کہیں اور ہو جائے
05:35حضرت عمر فاروق
05:38رضی اللہ تعالیٰ عنہ
05:39با اتفاق علماء اسلام
05:42با اتفاق امت
05:43سب سے افضل تو میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں
05:46ان کے بعد حضرت ابو بخر صدیق
05:49ان کے بعد عمر فاروق
05:50ان کے بعد حضرت عثمان غنی
05:53اور ان کے بعد مولا علی
05:54کررم اللہ وجہہ الكریم
05:57لیکن اگر جزوی فضیلتوں کے اعتبار سے
05:59کلی فضیلتوں کے اعتبار سے
06:01یہ ایک درجہ بندی ہوتی ہے
06:03اور یہ بھی کوئی خدا نہ خاصتہ
06:05کسی کو اوپر کرنے
06:06کسی کو ماذا اللہ حقیر سمجھنے کی وجہ سے نہیں ہے
06:09یہ اللہ تعالیٰ نے ہی قلوب میں ڈالا
06:11اور انہیں فضائل و کمالات پر غور کر کے
06:13یہ درجہ بندی متعین فرمائی
06:16وانا جزوی فضیلت کے اعتبار سے
06:18آپ دیکھیں
06:18اگر مولا علی
06:19کررم اللہ وجہہ الكریم کو دیکھا جائے
06:22تو آپ وہ واحد انسان کہہ سکتے ہیں
06:25کہ سب سے آخر نبی
06:27میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم
06:28ان کی سب سے چہیتی
06:31صحفزادی آپ کے اقدم تشریف لائیں
06:33یہ سعادت کسی کو حاصل نہیں
06:35اور اس پہ ایک اور بڑی سعادت
06:37کہ ہر شخص کی نسل
06:38بیٹے سے چلتی ہے
06:40لیکن میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل پاک
06:42آپ کی صحفزادی سے چلتی ہیں
06:44اور حقیقتاً وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ
06:47انہوں کی نسل پاک ہے
06:48چنانچہ بخاری شریف کی روایتیں
06:50حضرت عبداللہ بن عمر
06:52رضی اللہ تعالی عنہما اشارت فرماتے ہیں
06:55کہ کنہ نخیر بین الناس
06:58فی زمانی رسول اللہ
07:00صلی اللہ علیہ وسلم
07:02ہم سرکار کے زمانے میں
07:05لوگوں کے درمیان
07:06انسانوں کے درمیان
07:07درجہ بندی کیا کرتے تھے
07:09انہیں فوقع دیا کرتے تھے
07:11فنخیر ابا بکر
07:13پس ہم اختیار کرتے تھے
07:15سب سے بڑی فضلت دیتے تھے
07:17ابا بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہوں کو
07:20ثم عمر بن الخطاب
07:22اور اس کے بعد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہوں
07:27اس کا مطلب ہے
07:28صحابہ اکرام بھی
07:29اس پر متفق تھے
07:30کہ دوسرا درجہ جو ہے
07:32وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہوں کا ہے
07:35اور میں قربان جاؤں حضرت مولا علی
07:38رضی اللہ تعالی عنہوں کے قدموں پر
07:40آپ کے نسل پاک پر
07:42کہ خود آپ نے بھی اس چیز کو اختیار فرمایا
07:44چنانچہ بخاری کی ہی روایت ہے
07:46کہ حضرت محمد بن حنافیہ
07:48آپ کے صاحب زادے ہیں
07:49وہ کہتے ہیں
07:50کہ میں نے پوچھا
07:51اپنے والد صاحب سے
07:53کہ من ہوا خیرن
07:55من ہوا خیرن
07:58فن ناسی
08:00کہ لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے
08:01تو آپ نے شاعت فرمایا
08:03کہ ابو بکر
08:04میں نے کہا
08:05سمم من
08:07پھر ان کے بعد کون
08:08تو آپ نے فرمایا
08:09عمر بن الخطاب
08:11کہ ان کے بعد
08:12حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہوں ہیں
08:14گویا کہ مولا علی رضی اللہ تعالی عنہوں
08:17اپنے بے شمار فضائل
08:19بے شمار کمالات
08:21کہ اس تک کوئی پہنچ بھی نہیں سکتا
08:23اس کے باوجود
08:24بہت ہی
08:25عارضی انکساری کے ساتھ
08:26یہ بات ارشاد فرما رہے ہیں
08:28لہٰذا اس بات کو
08:29سمجھنا چاہئے
08:31بخاری کی ایک روایت ہے
08:32نبی اور یہ بڑی مستند روایت ہے
08:34نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
08:35نے ایک صبح
08:36صحابہ کرام کو بتایا
08:38کہ کل رات کو خواب میں
08:40مجھے دودھ کا ایک پیالہ پیش کیا گیا
08:43تو جب میں نے اس دودھ کو پیا
08:45تو میں نے اس کی سیرابی کو
08:47اپنے ناخنوں سے نکلتے ہوئے محسوس کیا
08:50یعنی پورے میرے بدن میں گویا
08:52کہ وہ چیز سرائیت کر گئی
08:54بلا تمثیل
08:55جیسے بعض وقت ہم بڑی گرمی میں
08:56کوئی تھنڈا مشروع پیتے ہیں
08:57تو ہم کہتے ہیں
08:58وہ پورا بدن تھنڈا کر دیا
08:59اور ہاتھ تک تھنڈے ہو گئے
09:06پیالے سے دودھ پی لیا
09:07تو جتنا بچا تھا
09:08وہ میں نے عمر بن خطاب کو دے دی
09:10یعنی خواب میں سرکار
09:11ان کو بھی دیکھ رہے تھے
09:13تو صحابہ کرام نے
09:14عرص کی کہ
09:15فما اولتہو
09:18یا رسول اللہ
09:19آپ اس کی کیا تعویل کرتے ہیں
09:21تو میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم
09:23نے اشارت فرمایا
09:24کہ علم
09:26اس کی تعویل ہے علم
09:27اس کا مطلب ہے
09:28اگر خواب میں کوئی شخص دودھ پیتا ہے
09:31تو دودھ کی تعبیر علم ہے
09:33اس سے معلوم ہوا
09:34کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو
09:36جو علم مبارک دیا گیا
09:37وہ ایسا کہ
09:38آپ کی رگ رگ میں رچ بز گیا ہے
09:40گوئے کہ
09:40سراپہ علم ہیں آپ
09:42اس سے سرکار کی علمی وسط کا اندازہ ہوا
09:44اور پھر میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے
09:46اپنا بچا ہوا دودھ
09:48چونکہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیا
09:51تو اس کا مطلب ہے
09:52کہ سرکار کی علم کا بہت بڑا حصہ
09:54حضرت عمر بن خطاب
09:56اور رضی اللہ عنہ تک پہنچا
09:58اس سے آپ کی علمی حیثیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں
10:01اور یاد رکھیں کہ
10:02انبیاء علیہ السلام کے
10:04خواب وحی الہی کی ایک صورت ہوتے ہیں
10:07اور شرعی لحاظ سے حجت ہوتے ہیں
10:10لہذا
10:11جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب نظر آیا
10:14کہ آپ اپنے بیٹے کو زباہ کر رہے ہیں
10:16اس اشارے کی وجہ سے آپ نے عملی طور پر قدم اٹھایا
10:18عام آدمی ایسا نہیں کر سکتا
10:20ہمارے خواب شرع حجت نہیں ہے
10:22لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ السلام کا خواب
10:24یا دیگر انبیاء علیہ السلام کے خواب
10:26باقاعدہ سچے ہوتے ہیں
10:28اور اللہ کی طرف سے ایک واہی ہوتی ہے گویا کہ
10:30اگر اس میں کوئی غیبی معاملہ دکھایا جاتا ہے
10:33مستقبل کا تو وہ غیبی خبر پر مشتمل خواب ہوتے ہیں
10:35اس کا مطلب اس خواب میں
10:37کوئی دوسری تعویل نہیں ہو سکتی ہے
10:39نبی کریم صلی اللہ علیہ السلام نے
10:41اپنا وسیع علم حضرت عمر بن خطاب
10:43رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو
10:45عطا فرمایا
10:47حضرت ابو موسیٰ اشعری
10:49رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک طویل حدیث
10:51مروی ہے اور یہ بھی
10:53بخاری کی ہی روایت ہے
10:54جس میں آپ نے بتایا کہ میں ایک دفعہ
10:56نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں گیا
10:59مجھے پتہ چلا آپ ایک باغ میں ہیں
11:00تو اس باغ کے دروازے کے پاس کھڑا ہو گیا
11:03اور میں نے ارادہ کیا کہ آج میں
11:05یہاں پر ایک طرح سے دربان بن جاؤں گا
11:08اور جو آئے گا اس کو سرکار تک پہنچاؤں گا
11:10تو کہتے ہیں کہ
11:11دروازہ بجا
11:12میں نے پوچھا کون
11:14کہا ابو بکر
11:15تو میں سرکار کی بارگرہ میں گیا
11:17اور میں نے عرض کیا
11:18صلی اللہ ابو بکر اندارانے کی
11:19اجازت طلب کر رہے ہیں
11:21رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہد فرمایا
11:23کہ اِذَن لَه
11:24انہیں اجازت دو
11:27وَبَشِّر بِالْجَنَّةِ
11:28اور انہیں جنت کی بشارت دے دو
11:30یعنی آپ جنتی ہیں
11:31تو میں گیا
11:32ان کو میں نے یہ کہا
11:33تھوڑے دیر بعد میں کھڑا تھا
11:35دروازہ بجا
11:36تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہو تھے
11:39میں نے کہا
11:40ٹھہرے میں اجازت لیتا ہوں
11:41میں نے سرکار سے پوچھا
11:42سرکار نے یہی جملہ ارشاد فرمایا
11:44کہ اِذَن لَه
11:46وَبَشِّر بِالْجَنَّةِ
11:47وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ
11:48دونوں روایات میں ہیں
11:50کہ سرکار نے ارشاد فرمایا
11:51کہ ان کو اجازت دو
11:52اور انہیں جنت کی بشارت دے دو
11:55تو ہم نے آیت کے زمنے میں بھی آپ کو بتایا
11:58خود صراحتاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
12:00ان نفوس سے قدسیہ کیلئے جنتی ہونے کی بشارت دی
12:04تو ان کے جنتی ہونے میں کوئی شبہ نہیں
12:06اللہ تعالیٰ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے
12:08مختصصہ بریک لیں گے
12:09حاضر ہوتے ہیں ایک چھوٹے سی بریک کے بعد
12:11بسم اللہ الرحمن الرحیم
12:12پہلے دو قوز لیں گے
12:13انشاءاللہ پھر جوابات کی طرف آتے ہیں
12:15السلام علیکم
12:19مختصہ میرا ایک سوال ہے
12:21کہ جو یہ پائٹ سے
12:22ڈیڈ بوڈیز آتی ہیں
12:24ان کا دو بار جنازہ پر ہانا کیسا ہے
12:26جیسے انگلینڈ میں پر آئے
12:28جیسے پاکستان میں
12:29اور کون کون پر تکتا ہے
12:30ابو شروار الٹی اے سیدھی پہنے
12:35ایک اور کولر ہیں
12:36السلام علیکم
12:37نماغ کو شروع سے پڑھنا ہوگا
12:39دوبارہ کوئسن کریں گے
12:41اب آپ آنیر ہیں
12:42اب آپ کو لوگ بھی سنیں گے
12:43آپ دوبارہ کوئسن کر لیں
12:45جی پہلا سوال یہ ہے
12:47کہ اگر کوئی شاہد سے
12:48چار رکعت والی
12:49پرد نماغ پڑھا ہا ہو
12:51دو رکعت پڑھنے کے بعد
12:53وہ بھول کر دونوں طرف
12:54سلام پھیر دے
12:55اور پھر اس کو یاد آ جائے
12:56تو دو رکعت اس کی رہ گئی ہیں
12:58وہ ان کو مکمل کر لے
13:00یا نماغ کو شروع سے پڑھنا ہوگا
13:02اور دوسرا یہ پوچھنا تھا
13:05کہ اگر کوئی سات آٹھ سال کا بچہ
13:07ہم سے یہ سوال کرے
13:08اللہ کی ذات کے متعلق
13:10قرآن کے متعلق
13:11اور اسی طرح رسول کے متعلق
13:13تو اس کی ایج کے متعلق
13:14اس کو کس طرح سے سمجھانا چاہیے
13:16اور لات میں یہ پوچھنا تھا
13:18کہ مجھے جو مرد حضرات
13:20آہاتوں نے
13:21گڑے پہنسے ہیں
13:22چھلے پہنسے ہیں
13:23اور ایک ہی ٹائی میں
13:24دو دو تین دن انہوں نے
13:26رینج بھی پہنی ہوتی ہے
13:27ان کا کیا حکم ہوتا ہے
13:28ٹھیک ہے
13:29میں ارز کرتا ہوں
13:32یہ کہہ رہے ہیں
13:37یہاں پر بھی جنازہ پڑھ لیتے ہیں
13:38اور یہاں پر بھی جنازہ
13:40لوگ پڑھتے ہیں
13:41کیا حکم شرع ہوگا
13:43دیکھیں مسئلہ یہ ہوتا ہے
13:44کہ سب سے پہلے جنازہ پڑھنے کا حق
13:46حاکم اسلام کا ہوتا ہے
13:48جو اب یہاں موجود نہیں ہیں
13:49دوسرا پھر جو
13:51ولی اقرب کہلاتا ہے
13:53یعنی اس ڈیڈ باڈی کا
13:55سب سے قریب رشتہ دار
13:56یعنی بڑا بیٹا
13:57وہ جب پڑھ لے گا
13:59تو جب ولی اقرب پڑھ لیتا ہے
14:01تو پھر کسی اور کو پڑھنے کا اختیار نہیں رہتا
14:05یعنی پھر اس کے بعد جنازہ نہیں ہوتا ہے
14:07ایسے اگر حاکم اسلام ہوتا
14:09وہ پڑھ لیتے ہیں
14:09پھر دوسرا جنازہ کا کوئی تصور نہیں ہے
14:11ایسے ولی اقرب اگر پڑھ لے گا
14:13تو اس کے بعد پھر کوئی تصور نہیں ہے
14:16تیسرا یہ ہوتا ہے
14:18کہ ولی ابعد نے پڑھ لیا
14:20اقرب موجود نہیں تھا
14:21تو بھی پھر جب وہ بھی جنازہ ہو گیا
14:23اس کے بعد مزید جنازہ پڑھنے کی اجازت نہیں ہوتی
14:27ہاں ایک چوتھی صورت ہے کہ ان میں سے کوئی بھی نہیں تھا
14:31اور پہلے بلکہ چوتھی صورتیں کون لے لیں
14:33کہ مسجد کے جو امام تھے جس کے قریب وہ رہتے تھے
14:36وہ شخص نماز پڑھتا تھا
14:37یہ اور ولی اقرب اصل میں برابر ہوتے ہیں
14:40لیکن امام کو ایک حق زیادہ حاصل ہوتا ہے
14:43یعنی ان کا ذرا
14:44کیونکہ مسجد کے امام ہوتے ہیں
14:46تو بہتر ہے کہ وہ پڑھائیں
14:48افضلیت ان کے لئے ہے
14:50لیکن واضح طور پر لکھا ہے کہ اگر مسجد کے امام صاحب کم درجے کے ہیں
14:54اور ولی اقرب زیادہ درجے کا ہے
14:56مثلا امام صاحب عالم ہیں
14:58اور اس میت کا بیٹا بڑا مفتی ہیں
15:00ان سے بڑے عالم ہیں
15:02تو پھر بیٹے کا حق ہے
15:03تو اسی طریقے سے اگر امام صاحب نے پڑھا دی
15:05تو اس کے بعد پھر کسی کا حق حاصل نہیں ہے
15:07اور وہ ولی اقرب کی اجازت سے اگر پڑھا دیتے ہیں
15:09تو بس ختم ہو گیا
15:12لیکن اگر فرض کر لیں
15:13کہ ان سب میں سے کسی نے نہیں پڑھائی
15:15پھر چاہے لوگ پچاس جنازے پڑھ چکے ہوں
15:18جیسے پبلک آئی پڑھ کے چلے گئے
15:19اور پبلک آئی پڑھ کے چلے گئی
15:21تو ان کا حق باقی رہتا ہے
15:23جیسے کہا جاتا ہے
15:24کہ امام آزم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کا جنازہ
15:27اسی بار پڑھا گیا
15:28کہ آپ کے صاحب زیادہ شامل نہیں ہوئے
15:30لوگ آتے تھے پبلک بہت تھی
15:32اور اس کے بعد پھر حضرت آپ کے بیٹے نے جنازہ پڑھا
15:35تو یہ معاملہ ختم ہوا
15:37ایک تو یہ نفس مسئلہ ہے
15:38لیکن اب صورتحال یہ ہے
15:40کہ بعض وقت باہر ولی
15:41یعنی دوسرے رشتہ دار ہوتے ہیں
15:43وہ پڑھ لیتے ہیں
15:44اب جب یہاں پر میت آتی ہے
15:46تو اگر یہی ترتیب جو ہم نے بتائی ہے
15:48تو پھر تو یہ دوسرا جنازہ بالکل ٹھیک ہے
15:50کیونکہ نہ ولی اقرب تھا
15:52نہ امام نے پڑھا فرض کر لے
15:53نہ کوئی
15:54لیکن بعض وقت وہاں علی ولی اقرب پڑھ لیتا ہے
15:57اور یہاں والے کہتے ہیں
15:58وہ ہم جنازے سے کیوں محروم رہیں
15:59اور وہ ڈبل جنازہ کر لیتے ہیں
16:01تو یاد رکھیں کہ
16:02ڈبل جنازہ سنت متوارثہ کے خلاف ضرور ہے
16:06لیکن یہ نہیں کہیں گے
16:07کہ یہ پڑھنے والے گناہگار ہوئے
16:09اور میرے خیال میں جب یہ
16:10اور میں نے جو مشاہدہ کیا ہے
16:11کیونکہ ہمیں ایک مفتی کی حیثت سے ورک کر رہا ہوں
16:14اور میرے آقے نعمتی معامل سنت فرماتے ہیں
16:16کہ جو مفتی
16:17اپنے زمانے کے عرف سے نواقف ہو
16:20وہ فتوہ دینے میں ضرور جاہل ہے
16:22اور ایک جگہ فرمایا
16:24کہ اگر وہ عرف کے خلاف فتوہ دیتا ہے
16:25لوگوں کی آدات و عدات و عدوار پر واقف ہوئے بغیر فتوہ دیتا ہے
16:30تو یا تو وہ فتوہ دینے میں گناہگار ہوگا
16:32یا ظلم کرے گا
16:34لہذا ہم اب مشاہدہ یہ کرتے ہیں
16:36کہ جو میت یہاں پر آتی ہے
16:37لوگ اس کا جنازہ ضرور پڑھ رہے ہیں
16:40اب جب پڑھی رہے ہیں
16:41تو پھر ان کو پڑھنے دیں
16:42سمجھا دیں نفس مسئلہ مان جائیں ٹھیک
16:44ورنہ جنازہ دوبارہ پڑھنے میں
16:46شرع لحاظ سے کوئی گناہ کا پہلو نہیں ہے
16:49اگرچہ سنت متوارثہ کے خلاف ہے
16:51یعنی تصور پہلے نہیں پیش کیا گیا
16:53لیکن اب محول بدل رہا ہے
16:55جیسے ہمارے گاؤں کے اندر جمعہ قائم کرنا
16:57عیدین قائم کرنا بھی
16:58سنت متوارثہ کے خلاف ہے
17:00لیکن اب محول بدل گیا ہے
17:02تو فقہ نے اجازت دی
17:03اسی طریقے سے اب اس کی اجازت ہوگی
17:05میں نے کافی تفصیل سے اس کا جواب دے دیا
17:07اگر خلاصہ نکالیں تو یہ
17:09کہ اب اگر لوگ پڑھ رہے ہیں
17:10تو ان کو منع نہ کیا جائے
17:13بھائی نے فرمایا
17:14کہ چار رکعت فرض پڑھ رہے تھے
17:16دو کے بعد غلطی سے سلام پھیر دیا
17:18تو کیا مکمل کریں
17:20یا نئے سرے سے نماز پڑھیں
17:23دیکھیں اگر آپ نے دو پر سلام پھیر دیا
17:25تو آپ کے سلام پھیرنے سے
17:27ایک طرح سے آپ بظاہر نماز سے باہر ہو گئے
17:30لیکن ابھی آپ کے پاس گنجائش ہے
17:32اگر یاد آ جائے
17:32تو اس کو مکمل کریں گے
17:34اور آخر میں سجدہِ صحف کریں گے
17:37یہ سمجھ لیجئے
17:38کہ آپ کو کھڑا ہونا تھا
17:39لیکن آپ نے سلام پھیر کر
17:40جو کھڑا ہونا ہے یہ قیام ہے
17:42تو آپ ایک فرض سے
17:44ایک واجب سے ایک فرض کی طرف آ رہے تھے
17:47اور اس میں آپ نے تاخیر کی
17:48اور تاخیر کرنے پہ سجدہِ صحف ہوتا ہے
17:51لہذا نئے سرے سے نہیں پڑنی ہے
17:52اگر چاہے ایک طرف
17:54چاہے دونوں طرف آپ سلام پھیر دیں
17:56کھڑے ہو جائیں
17:57نماز کو کنٹینوی رکھیں
17:58آخر میں جب پہنچیں گے
18:00اتحیات پڑھ کر سیدھی جانب سلام پھیریں
18:02اور صحف کی نیت سے دو سجدے کریں
18:05ان کو سجدہِ صحف کہتے ہیں
18:06پھر بیٹھیں دوبارہ اتحیات پڑھیں
18:08دروشیف دعا
18:09اور سلام پھیر دیں
18:10آپ کی نماز مکمل ہو جائے گی
18:12یہ کہتے ہیں کہ
18:13سات سات سال کا بچہ
18:14جو ذہنی لحاظ سے
18:15ابھی بہت گہرائی والے مسائل
18:18سمجھنے کے قابل نہیں ہوتا
18:19وہ کبھی قرآن کے بارے میں
18:21کوئسٹن کرتا ہے
18:22کبھی اللہ تبارک و تعالی
18:23کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
18:25کی ذات یا آپ کے افعال
18:27کے بارے میں کوئسٹن کرتا ہے
18:28تو اس کو عمر کے مطابق
18:30کیسے سمجھایا جائے
18:32دیکھیں ہم یقینی سی بات ہے
18:33کہ قویسٹن کی نویت کیا ہے
18:36بچے کی عمر تو آپ نے بتا دی
18:37پھر ہم بتا سکتے تھے
18:39کہ بھی اس کو آپ
18:39اس بات کو اس طرح سمجھا سکتے ہیں
18:42تو اس کا مطلب یہ ہوا
18:43کہ اگر آپ سمجھانا چاہتے ہیں
18:44تو سب سے پہلے
18:45تو خود جو سمجھانا چاہتا ہے
18:47اس کی تربیت بہت اچھی ہونی چاہیے
18:49اور تربیت کی سیدوار سے
18:50کہ پہلے تو اس نے
18:51واقعی اپنا دین سیکھا ہو
18:53ہمارا علمیہ یہ ہے
18:54کہ اگر گھر کے سرپرست سے
18:56اللہ تبارک و تعالی کا
18:57انٹرڈیکشن معلوم کیا جائے
18:59تعرف معلوم کیا جائے
19:00تو میری چونتیس پہتیس سالہ
19:02جو تبلیغی عمر ہے
19:03اس کے مطابق
19:04ہمیں اللہ کا
19:05کامل تعرف تک کروانا نہیں آتا ہے
19:08کیونکہ ہم نے کبھی
19:09اس پر غور و تفکر ہی نہیں کیا ہوتا
19:10نہ کبھی کسی سے سیکھا ہوتا ہے
19:12اگر بچہ کہے
19:13کہ قرآن کس کو کہتے ہیں
19:14تو قرآن کی تعریف نہیں آتی
19:15نبی کسی کہتے ہیں
19:17رسول کسی کہتے ہیں
19:18ہمیں معلوم نہیں
19:18ہم نے فرض علوم نہیں سیکھے ہوتے
19:21بچے کوئسن کرتے ہیں
19:22پھر ہم کیسے سمجھا سکیں گے
19:23سب سے پہلی چیز
19:24سرپرست کو خود علم سیکھنا چاہیے
19:26دوسرا سٹیپ یہ ہے
19:27کہ اس علم کو
19:28ڈلیور کیسے کرنا ہے
19:29ایج وائز
19:30اگر تین سال کا بچہ
19:32کوئسن کرتا ہے
19:33تو اس کو کیا جواب دینا ہے
19:34پانچ سال کا
19:35آٹھ ساتھ آٹھ سال
19:36سے آپ نے فرمایا
19:37بعض وقت تو
19:38بالغ بچے کوئسن کرتے ہیں
19:39میرے بچے بعض وقت
19:40بحث کرتے ہیں
19:41بہت سے امور کے اندر
19:42کیونکہ انٹرنیٹ پہ جاتے ہیں
19:43وہاں سے چیزیں لیتے ہیں
19:44پھر کوئسن کرتے ہیں
19:45تشفی کے لیے
19:46تو یقینا ہر والد
19:48ایسا نہیں ہوتا
19:49کہ وہ سمجھا سکے
19:50لیکن ہمیں کوشش تو کرنے چاہیے
19:52کہ ہماری اولاد
19:53ہمارے علاوہ
19:54کسی اور کے پاس نہ جائے
19:55ہم اس کو
19:56احسن انداز سے سمجھائیں
19:57تو اس لیے اس میں پہلے
19:58خود تربیت حاصل کرنی ہوگی پھر
20:00اور فرض کر لیں
20:01کہ اگر آپ نہیں
20:02تربیت حاصل کیے ہوئے
20:03یا علم نہیں ہے
20:04تو بچے کو کبھی تشنہ نہ چھوڑیں
20:06سوالات کرنے پر
20:07اس کو ڈانٹے نہیں
20:08اس کو جھڑکے نہیں
20:09حوصلہ شکلی نہ کریں
20:11کیونکہ وہ اپنے تشفی کے لیے
20:12پھر انٹرنیٹ پر جائے گا
20:13سوشل میڈیا پر
20:15رتب و یابس بھرا پڑھا ہے
20:16افراد تو تفرید بہت زیادہ ہے
20:18گمراہ ہونے کے امکانات ہیں
20:19پھر آپ کو ایسے افراد سے
20:21تعلق رکھنا ضروری ہے
20:23جن کو آپ سمجھتے ہیں
20:24کہ عقائد کے لحاظ سے قابل اعتماد ہیں
20:27علم کے لحاظ سے
20:28تربیت اصلاح سمجھانے کے اعتبار سے
20:31بچے کا ان سے کونٹیٹ کروائیں
20:33تاکہ بچہ سیٹسفائیڈ ہو
20:34اور خدا نخواستہ جس ہارٹ اور گر
20:36دین سے دور نہ ہو جائے
20:38ایک آپ نے فرمایا کہ
20:40مرد حضرات اپنے ہاتھوں میں
20:41کڑے اور چھلے وغیرہ پہنتے ہیں
20:43اور ایک سے زائد انگوٹیاں پہنتے ہیں
20:44کیا حکم شرع ہے
20:45دیکھیں اس طرح کا تمام
20:47زیور پہننا مکروع تحریمی ہے
20:49اور عورتوں کے ساتھ مشابہت ہے
20:52نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
20:54نے اشارت فرمایا کہ
20:54جو مرد عورتوں کی
20:56اور جو عورت مردوں کی
20:58مشابہت اختیار کرے
20:59ان پر اللہ کی لانت ہے
21:01اور یاد رکھیں کہ
21:02صوفی
21:03نبی کریم کی پیروی کے وغیر
21:05صوفی نہیں ہو سکتا
21:06وہ جھوٹا صوفی ہے
21:08جو کڑے چڑھا لے
21:09انگوٹیاں چڑھا لے
21:10گلے میں مالائیں لٹکا لے
21:12بندے لٹکا لے
21:13اور جیسے آپ نے فرمایا
21:14کہ وہ
21:15چھلے پہنے ہوئے ہیں
21:17اس سے مذہب کا ہمارے
21:18نبی کریم کی سنت کو
21:20کوئی تعلق نہیں
21:21بلکہ یہ مذہب کو
21:22بدنام کرنے والے لوگ ہیں
21:23جھوٹے صوفی
21:24جھوٹے ملنگ
21:25جھوٹے قلندر بنے ہوتے ہیں
21:27ایسے لوگوں سے دور رہنا
21:28انتہائی ضروری ہے
21:30یہ ہمارے
21:31مذہب کو
21:32بدنام کرنے والے لوگ ہیں
21:33جو اپنے ذاتی مفادات کیلئے
21:35اس بات کی فرواہ نہیں کرتے
21:37کہ مذہب اسلام پر
21:38انگلیاں اٹھ رہی ہیں
21:39ہم نبی کریم کی سنت کا
21:41خون کر رہے ہیں
21:42قرآن و حدیث کے خلاف
21:44جا رہے ہیں
21:44دین کو تباہ کرنے میں
21:46انتہائی معاون بن رہے ہیں
21:49اور ہم ان کو
21:49بزرگ تسلیم کر کے
21:50دعائیں کروارے ہوتے ہیں
21:52اور یہ اکثر آپ کو
21:53مذہرات پر بہت سارے ملیں گے
21:54یاد رکھیں
21:55اس کا بزرگی سے
21:56کوئی تعلق نہیں
21:56یہ سب گناہ کے کام ہیں
21:58نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
21:59نے ایک صحابی کو دیکھا
22:00لوہے کی انگوٹی پہن رکھی ہے
22:02اتروا کے پھکوا دی
22:03پیتل کی
22:04تامبی کی
22:05فرمایا
22:05صرف چاندی کی پہنیں
22:06اور وہ بھی
22:07ساڑھے چار ماشا پورا
22:09نہ کرنا
22:09ایک چاندی کی انگوٹی
22:11وہ بھی
22:12اس کا جو چھلہ ہے
22:13وہ ساڑھے چار ماشا سے
22:15کم وزن کا ہو
22:16اس میں ایک نگ لگا ہونا
22:18ضروری
22:18علمہ نے فرمایا
22:19نگ چاہے کتنے وزن کا ہو
22:20یہ جو اس کا حلقہ ہے
22:22وہ ساڑھے چار ماشا سے
22:24اوپر وزن کا نہ ہو
22:25اور یہ آپ سنار سے
22:26معلوم کریں گے
22:26تو وہ آپ کا انگوٹی دکھا دے گا
22:28کہ اس وزن کی انگوٹی کتنی ہے
22:29مرد کے لئے
22:30بس صرف ایک چاندی کی انگوٹی
22:32ایک وقت میں
22:32ایک چاندی کی انگوٹی
22:33وہ بھی نگوالی
22:34یہ جائز ہے
22:35باقی چینز
22:38مطلب
22:38ٹاپس وغیرہ پہن لیتے ہیں
22:39بعض نوجوان
22:40کڑے
22:41چھلے
22:42ایک سے زائد
22:43چاندی کی ہی چاہے انگوٹی ہو
22:44سب یہ مکروع تحریمی ہے
22:46اس سے بچنا ہوگا
22:48ایک بھائی نے
22:49کوئیسن کیا تھا
22:50کہ کیا یہ بات صحیح ہے
22:51وہ کہتے ہیں
22:51کوئی پیر صاحب یہ بات بیان کر رہے تھے
22:53کہ جب مرید مرتا ہے
22:55اور دفن ہوتا ہے
22:56تو قبر میں
22:57پیر اس کی لاش کو
22:59قبول کرتا ہے
23:01اور جب منکر نکیر
23:02سوالات کرتے ہیں
23:03تو جواب مرید نہیں دیتا
23:05بلکہ پیر جواب دیتا ہے
23:07کیا یہ بات صحیح ہے
23:08جنہیں
23:09بلکل خرافات پر مشتمل
23:11انتہائی خرافات پر مشتمل
23:12اور سنت
23:14اور قرآن
23:15اور نبی کریم کی
23:16تعلیم کے انتہائی خلاف
23:18اور کار نبوت میں
23:20دخل اندازی کے
23:21مترادف ہے
23:22کار نبوت
23:23یعنی نبی کا کام کیا ہوتا ہے
23:24نبوت میں
23:25جو معاملات ہوتے ہیں
23:27کہ غیبی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیتے ہیں
23:29ہر نبی غیبی خبر دیتا ہے
23:30اس پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہے
23:32بارہا سری حدیثوں کے اندر موجود ہے
23:34کہ منکر نکیر وہاں پہنچتے ہیں
23:36مردہ اقیلہ ہوتا ہے
23:38اور وہ کوئسٹن کرتے ہیں
23:39کہ مر ربو کا
23:40ما دینو کا
23:41ما قنت تقول فی حق حاضر رجل
23:44پہلا سوال
23:45ما ربو کا
23:46تمہارا رب کون ہے
23:47ما دینو کا
23:48تیرا دین کیا ہے
23:49ما قنت تقول فی حق حاضر رجل
23:51تو شخص کے بارے میں کیا کہا کرتا تھا
23:53نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جلوہ زیبہ دکھایا جاتا ہے
23:57اور وہ مردہ جواب دیتا ہے
23:58سری حدیثوں میں موجود ہے
24:00ایک نئی چیز نکال کر لانا
24:01اور اس میں اپنی حائب بنانے کی کوشش کرنا
24:04اس کا رد واجب ہے
24:05اگر اس طریقے سے ہر شخص
24:07غیبی معاملات کے اندر
24:09اپنی ذاتی رائے سے
24:10اس طرح کی چیزیں ڈالتا رہے گا
24:12تو پھر یاد رکھئے
24:13کہ دین تو گیا
24:15اس لئے بالکل غلط ہے
24:17ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا
24:18کوئی پیر وصول نہیں کرتا
24:19پیر یہاں پر خود ایسے ہیں
24:21ہر ایک پیر نے
24:21اچھے پیروں کو بدنام کرنے والوں کی بات کر رہا ہوں
24:24کہ جن کو ستنجہ تک کرنا نہیں آتا
24:26یہ کہاں سے قبر میں جا کے
24:27مرید کو وصول کرے گا
24:28اور منکر نکیر کے سوال کے جواب
24:30اللہ نے امتحان اس کے لئے رکھا ہے
24:32پیر جا کے جواب دے رہا ہے
24:33جو بھی ایسا کہے
24:34اس سے بولیں بتائیں
24:35کس طرح ثابت ہو
24:36آپ ثابت کریں
24:37قرآن یا حدیث سے ثابت کریں
24:38اور اگر وہ کہتا ہے
24:39کہ نہیں ہمیں کشف ہوا ہے
24:40ہمیں پتہ چلا ہے
24:41تو بولیں سورس بتائیے نا آپ
24:43اس طرح تو ہر تیسرا آدمی
24:45کھڑے ہو کر ایک نیا دعویٰ کر دے گا
24:46اس کا مطلب ہے
24:47ہم جتنے قرآن حدیث سے
24:49ثابت شدہ
24:49صحیح چیزیں ان کو ہٹا دیں
24:51اور ان بے سروپا
24:52اور بےہدہ باتوں کے اوپر
24:53اعتماد کرنا شروع کر دیں
24:54اور دین کا بیڑا غرق کر دیں
24:56ہر شخص اپنے اپنی تعلیم لے کر آ جائے گا
24:58ایسی چیزوں کا رد کرنا واجب ہے
25:00اور ایسے اشخاص سے دور ہونا انتہائی ضروری ہے
25:03ورنہ تباہی مقدر بنے گی
25:06ہم ایک تعلیم علم کی حیثت سے گزارش کر رہے ہیں
25:08کوئی نراض ہونے کی ضرورت نہیں
25:10مجھے پتا ہے
25:10جو جس کے بھی پیروکار ہوتے ہیں
25:12وہ نراض ہو کے گالیاں بکنا شروع کر دیتے ہیں
25:14میرے درجے بلند ہوں گے
25:16اور میدانِ معاشر میں آپ حساب و کتاب کے لئے تیار رہیے گا
25:19لائن میں آپ لگے ہوں گے
25:20اور آپ کی نیکیہ نکال کر
25:22ہم جسوں کے نامیمال میں ڈالی جائیں گی
25:24جو صحیح بات کہتے ہیں
25:25قرآن حدیث کے مطابق اور اصلاح کر رہے ہیں
25:27آپ یہاں کتنی بھی گالیاں بک لیں
25:29وہاں پہ پھر آپ سامنے کھڑو کر دکھائیے گا
25:31اور جس نے یہ کہا ہے
25:32وہ ثابت کر کے بتائے پھر وہاں پر
25:34اس لئے نراض مت ہوا کریں
25:36ہم ایک صحیح بات قرآن حدیث کے مطابق کہتے ہیں
25:38بلکل غلط بات ہے
25:39آپ ایسے لوگوں سے دور رہیں
25:41تو آپ کے حق میں بہتر ہے
25:43ایک مختصر سا بریک لیں گے
25:45ہمیں یقین ہے آپ ہمارے ساتھ ہی رہیں گے
25:47بسم اللہ الرحمن الرحیم
25:48ایک بھائی نے پوچھا تھا
25:50کہ کسی سے مالی فائدے حاصل کرنے کے لیے
25:53خود کو بدعقیدہ ظاہر کرنا کیسا ہے
25:57اور اگر کوئی ایسا کر دیتا ہے
25:59تو اس سے میل جول رکھنا شرعن کیسا ہے
26:04دیکھیں اگر بدعقیدگی حد کفر تک کسی کی پہنچی ہو
26:07اور کوئی شخص کسی سے مالی فائدے
26:10یا کوئی بھی فائدہ جیسے ویزا حاصل کرنے کے لیے
26:12فرض کرنے اپنے آپ کو ایسا ہی لکھوا دیتا ہے
26:15تو چونکہ شریعت ظاہر کا اعتبار کرتی ہے
26:20علماء نے واضح طور پر لکھا
26:21کہ رضا بالکفری کفرن
26:23کفر سے راضی ہونا بھی کفر ہے
26:26لہذا ایسا شخص فوراں دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا
26:30چاہے لاقص میں کھائے
26:31کہ مجھے اس بدعقیدگی یا کفر سے شدید نفرت ہے
26:34لیکن جب آپ نے اپنے آپ کو وہ ظاہر کیا
26:37تو شریعت ظاہر پر حکم لگاتی ہے
26:39اپنی نیت کا حساب آخرت میں دیجئے گا
26:41دنیا کے اندر ظاہر کا لوگ پابند ہیں
26:44لہذا ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو گا
26:47اور اگر پہلے کلیمہ گو تھا
26:49تو مرتد کہلائے گا
26:51اور پھر ایسے مرتد سے
26:52شرعن میل جول
26:54بلکل ناجائز ہو جاتا ہے
26:56جب تک کہ وہ اس چیز کو چھوڑ کر
26:58علانیہ طور پر توبہ نہ کریں
27:00سوشل بائیک آرٹ کا حکم ہوتا ہے
27:02عوام کو یہ حق
27:03بلکل حق حاصل نہیں ہے
27:05کہ براہ راست اس کو ماریں پیٹیں
27:06یہ ریاست کا کام ہے
27:08عوام الناس کا کام یہ ہے
27:10کہ اگر وہ دیکھتے ہیں
27:12کہ رشتہ داروں میں سے کسی نے ایسا کیا
27:14تو اس کا سوشل بائیک آرٹ کریں
27:16اور اس کا مطلب یہ ہے
27:17کہ کسی خوشی غمی میں
27:18اس کو نہ بلائیں
27:19اور اس کے ہاں خوشی غمی ہوں
27:21تو بلکل نہ جائیں
27:23بلکل دور رہیں
27:24اچھا دیگر رشتہ دار مل رہا ہوں
27:25ملنے دیں
27:26وہ آخرت میں خود اپنا جواب دیں گے
27:28لیکن آپ کے لئے شرع حکم یہ ہے
27:30اور یہ کیوں ہے
27:31تاکہ اس کو اپنے غلطی کا احساس ہو
27:33اس میں بھی ہمدردی کا پہلو ہے
27:35تاکہ وہ واپس آئے
27:36وہ ارتداد سے واپس آ جائے
27:38وہ کلمہ پڑے
27:38دوبارہ مسلمان ہو
27:40اور تاکہ وہ جنت میں جائے
27:41ورنہ ایسے رہے گا
27:42تو ہو سکتا ہے
27:43اس کے لئے جہنم ہو
27:44تو لہذا سوشل بائیک آرٹ کا حکم ہوگا
27:47ایک بھائی نے پوچھا تھا
27:48کہ ایک بیٹے نے تعلیم مکمل کی
27:50تو ان کی والدہ نے
27:52اس کو کوئی قیمتی توفہ دیا
27:55سوری
27:56تو کیا اپنے ہر بیٹے کو
27:58انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے
28:01اتنی ہی قیمت یا اتنی رقم وہ دیں گی
28:04دیکھیں ویسے تو
28:05نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا
28:06یہی فرمانِ عالی شان ہے
28:08کہ اپنی اولاد میں
28:09انصاف اور عدل سے کام لو
28:11حتیٰ کہ بوسہ دینے میں
28:13یعنی ایک بچے کو اگر بوسہ دو
28:15تو دوسرے کے بھی دو
28:16جس کا ظاہری تقاضہ تو یہی ہے
28:18کہ بچوں میں جب آپ
28:19توفہ تخصیم کرتے ہیں
28:20عیدی تخصیم کرتے ہیں
28:21تو اکثر آپ کو انصاف سے کام لینا چاہیے
28:24لیکن بعض معاملات ایسے ہوں
28:26جیسے سالگیرہ ہو رہی ایک بچے کی
28:27اب آپ اس کو کوئی گفت دیتے ہیں
28:29تو باقی کی تو نہیں ہو رہی
28:30تو کیا ان کو بھی دیں گے
28:31تو فوری طور پر دینا کوئی لازم نہیں ہے
28:33ہاں آپ ذہن میں رکھ لیں
28:34اسی طرح یہاں پر ہے
28:35بچے نے کامیابی حاصل کی
28:37اس لئے اس کو دیں گے
28:37باقی نے تو کوئی کارنامہ فی الحال نہیں کیا
28:40لیکن ذہن میں رکھ لیں
28:41جب وہ کوئی اچھا کام کریں گے
28:43تو اتنی رقم یا ایسا ہی توفہ
28:45ان کو بھی دے دیجئے گا
28:46گویا کہ بروقت اور فوراں ہی
28:48اس طرح کی تقسیم کرنا لازم نہیں ہے
28:50لیکن یہ ذہن میں رکھنا بہت اچھا ہے
28:52ماباب کے لیے
28:53کہ ایک موقع پر
28:54ایک بچے کی مناظبت سے
28:56اس کے کسی کام کی مناظبت سے
28:58اس کو انعام دے دیا
28:59دوسرے موقع پر کسی اور کو دے دیا
29:01ٹھیک ہے
29:02یا کبھی کبار جیسے خرچے کے
29:03اس میں تھوڑا زیادہ کر کے دے دیا
29:05اس کا حساب پورا کرنے کے لیے
29:06چاہے سب پر منکشف نہ ہو
29:08یہ اچھی چیز ہوتی ہے
29:10ورنہ میں نے دیکھا ہے
29:11کہ بعض اوقات
29:12خود پیرنٹس بیچارے
29:13نادانستہ طور پر
29:14بعض بچوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں
29:16اور بعض کے ساتھ
29:18بے انتہا نائنصافی
29:20اور عدل کے خلاف معاملہ ہوتا ہے
29:22ہو سکتا ہے
29:23کہ آخرت میں اس کے بارے میں
29:24کوئیسن ہو جائے
29:26یہ کہتے ہیں
29:27کہ ایک بالغ لڑکے کے والد
29:29نے ایک قاری صاحب سے
29:30یہ معاملہ تیہ کیا
29:31کہ میرے بچے کو حافظ بنائیں
29:33میں مہانہ آپ کو
29:34بیس ہزار روپے دوں گا
29:37پھر قاری صاحب
29:38اور اس لڑکے نے
29:38آپس میں تیہ کر لیا
29:39کہ روزانہ کلاسز ہوں گی
29:41لیکن ٹائم فکس نہیں کیا
29:43کتنی دیر ہوگی
29:44تو اب ایسا ہوتا ہے
29:46کہ کبھی تو آدھے گھنٹہ بیٹھتے ہیں
29:47کبھی دو دو گھنٹے ہو جاتے ہیں
29:49اور ایسے ہی اجارے کی
29:51کوئی مدد بھی تیہ نہیں کی ہے
29:53کہ دو سال کا
29:54ایک سال کا
29:54کیا حکم اشارہ ہوگا
29:56دیکھیں پہلے سمجھ لیں
29:58کہ اگر ہم
29:58کسی کا کوئی کام کرتے ہیں
30:00اپنی سرویس پروائیڈ کرتے ہیں
30:02اس کی سیلری لیتے ہیں
30:03یہ اجارے کے اندر ہی آتا ہے
30:06اجارے کا مطلب یہ ہوتا ہے
30:07کہ آپ اپنے
30:08منافع کا
30:10اپنی منفعات
30:11اپنے فائدوں کا
30:12کسی کو مالک بناتے ہیں
30:13اور وہ اس کی قیمت آپ کو دیتا ہے
30:16یہ اجارہ کہلاتا ہے
30:17جیسے اس میں آپ دیکھیں
30:18اور اجارے کے لئے درست یہی چیز ہوتی ہے
30:20کہ کام بھی متعین ہونا چاہیے
30:22اور مدد بھی متعین ہونی چاہیے
30:24جیسے آپ مکان کرائے پہ لیتے ہیں
30:26تو جیسے ہمارے آج کل
30:27گیارہ مہینے کا
30:28عمومی طور پر ایگرمنٹ ہوتا ہے
30:29بعض اگر بڑھانا چاہتے ہیں
30:31پانچ سال کا ایگرمنٹ ہے
30:33دس سال کا ایگرمنٹ ہے
30:34لیکن مدد ہونی چاہیے
30:35اس میں اب چونکہ حفظ کی
30:37کوئی مدد اس لئے تیع نہیں کر سکتے
30:39کہ بچہ کبھی مصروف ہوتا ہے
30:41کبھی کوئی حافظہ کم ہوتا ہے
30:42کسی کے بہت اچھا ہوتا ہے
30:43لہذا مدد تیع کرنا تو بہت مشکل ہے
30:46یہ ضرور ہے کہ
30:47ٹائمنگ سیٹ ہونی چاہیے تھی
30:48کہ کلاس کی کتنی ٹائمنگ ہے
30:50لیکن اگر میچول انڈیسٹیننگ سے
30:52انہوں نے اس طرح کر لیا ہے
30:53کہ کبھی موڈ نہیں ہوتا
30:55مصروفیات زیادہ ہوتی ہے
30:56کبھی بچہ اچھا سنا دیتا ہے
30:58جلدی فارغ ہوتے ہیں
30:59کبھی بچہ اچھا نہیں سنا پاتا ہے
31:00تو قاری صاحب اس کو طویل ذرا
31:02اپنے پاس بٹھا لیتے ہیں
31:03یہ ہمارے ہاں عرف جاری ہیں
31:05تو لہذا اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے
31:07وہ چیزیں
31:08وہ شرائط
31:11یا اس طرح کی کوتہیاں
31:13جو آگے چل کر
31:14مفضی علی المنازعہ بنے
31:17مفضی مانے پہنچانے والی
31:18علی مانے طرف
31:19مانے جھگڑا
31:21جو جھگڑے کی طرف پہنچائیں
31:23وہ منع ہوتی ہیں
31:23اور یہ چیزیں عمومی طور پہ
31:25جھگڑا نہیں ہوتا
31:26کم زیادہ ٹائمنگ ہوتی رہتی ہے
31:27کوئی بچہ دو سال میں
31:29حافظ بن جاتا ہے
31:30کوئی تین
31:30کوئی چھے مہینوں میں
31:31حافظ بن جاتے ہیں
31:32تو لہذا اس کی موجودہ دور کے
31:34اعتبار سے
31:35اور حالات کو دیکھتے ہوئے
31:37اجازت دی جائے گی
31:38یہ مفضی المنازعہ نہیں ہے
31:40لہذا یہ جارہ اپنی جگہ
31:41بلکل درست ہے
31:44ایک صاحب نے
31:45حضرت عمر فاروق
31:46رضی اللہ عنہ کے بارے میں
31:48کلام کیا تھا
31:49کہ سنا ہے
31:50کہ آپ نے
31:50اپنے زمانے میں
31:52تین طلاقوں کو
31:53تین قرار دیا
31:54اور عورتوں کو
31:56مسجد میں آنے سے
31:57روک دیا تھا
31:59کیا آپ کو
32:00ایسا کرنے کا
32:01اختیار اور اجازت تھی
32:03جب بلکل تھی
32:05عمر فاروق
32:05رضی اللہ عنہ
32:06تو زبردست مشتہد صحابی
32:08نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
32:10کے صحبت یافتہ
32:11اور دور اول کے تھے
32:13یہ اختیار تو
32:14قیامت تک کے
32:15مسلوان علماء کو
32:16حاصل رہے گا
32:17اللہ تبارک و تعالی
32:18نے اشارت فرمایا
32:19یا ایہا اللہین آمنو
32:21اطیع اللہ
32:22و اطیع رسولہ
32:24و اولی الامری منکم
32:25اے ایمان والو
32:26اللہ کا حکم مانو
32:27اس کے رسول کا حکم مانو
32:29اور ان لوگوں کا
32:30جو تم میں حکم والے ہیں
32:32حکم دینے والے ہیں
32:34اللہ کا حکم مانو
32:35یعنی قرآن کا
32:36رسول کا حکم مانو
32:37یعنی حدیث کا
32:38اور علماء کا حکم مانو
32:40اس کا مطلب ہے
32:41کہ جو نئے نئے مسائل آئیں گے
32:42اشتہادی مسائل ہوں گے
32:44جن کا ذکر بھی
32:45بعض وقت
32:45قرآن حدیث میں نہیں ہوتا
32:46یا پہلے ہے
32:47لیکن تغیر زمانہ کے
32:49اعتبار سے
32:50احکام میں
32:50تبدیلی انتہائی ضروری ہو
32:52اس کا اختیار
32:53علماء کو دیا گیا
32:54اب یہ
32:55اولی الامری منکم میں
32:56کئی اقوالیں
32:57احکامیں
32:57جو حاکم اسلام ہیں
32:58جو صحیح ہوتا ہے
32:59وہ بھی اس میں داخل ہے
33:00اور مفتا بھی
33:01قول کے مطابق
33:02زیادہ قوی قول یہ ہے
33:04کہ اس سے مراد
33:05وہ علماء
33:05وہ مشتہدین
33:06وہ مفتیانے کرام ہیں
33:08جو لوگوں کو
33:09علم سکھاتے ہیں
33:10تربیت کرتے ہیں
33:11اصلاح کرتے ہیں
33:11اس کا مطلب
33:12قیامت تک
33:13یہ معاملات ہوتے رہیں گے
33:15کہ بعض وقت
33:16پہلے دور کا
33:16جیسے اب نقاب کا
33:17مسئلہ لے لیں
33:18پہلے دور میں
33:19کچھ اور مسائل تھے
33:20اب الگ مسائل ہوئے
33:21تو علماء نے
33:22فیصلہ کیا
33:23کہ ہماری بہنوں کو
33:24سسٹرز کو
33:25اپنا چیرہ چھپانا چاہیے
33:26اب یہ نہ قرآن میں
33:27نہ حدیث میں
33:28علماء نے بیان فرمایا
33:29اب آپ کہیں
33:30کہ علماء کو
33:31کہاں سے اختیار
33:31حاصل ہوا
33:32ہم کہیں گے
33:32خود اللہ نے اختیار دیا
33:34جب اللہ تعالیٰ
33:35ان کو اختیار دے رہا ہے
33:36تو آپ کیسے اعتراض کر سکتے ہیں
33:37اور دوسری بات ہے
33:39کہ پرٹیکلر
33:39اس سوال پر آ جائیں
33:41حضرت عمر فاروق
33:42نے ایسا نہیں کیا تھا
33:43کہ تین طلاقوں کو
33:44اپنے زمانے میں تین کیا
33:45نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
33:47کے دور میں بھی
33:48تین طلاقیں
33:49جب یہ ثابت ہوا کبھی
33:50کہ رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
33:52نے دیکھا
33:52کہ کسی نے
33:53تین طلاقوں کا ہی
33:54قصد و ارادہ کیا ہے
33:55تو تین ہی نافذ فرمائی ہیں
33:56لیکن اس زمانے میں
33:58اصل میں ایسا ہوتا تھا
33:59کہ لوگ تقرار کیا کرتے تھے
34:00تاقیداً
34:01اپنے الفاظ کو دھوراتے تھے
34:03جیسے ہم کہتے ہیں
34:03پانی لاؤ بھئی
34:04پانی پانی
34:05تو یہ تین پانی نہیں منگائے
34:07ایک
34:07تو یہ پہلے
34:08اسلوب چلتا رہا
34:09تو نبی کریم نے
34:10جب یہ محسوس فرمایا
34:11کہ کسی نے
34:12تین طلاقیں اس طرح دی ہیں
34:13کہ پہلی دینا مقصود تھی
34:14دو تاقید تو
34:15اس کو ایک رکھا
34:16ورنہ کہیں ثابت ہو گیا
34:17جیسے تین سے زیادہ
34:18ایک ہی مجلس میں
34:19طلاق دی
34:19سرکار نے
34:20تینوں نافذ فرمائی
34:21عمر فاروق رضی اللہ
34:23تعالیٰ کے دور میں
34:24اسلوب کلام
34:25تبدیل ہو گیا تھا
34:26اور لوگ
34:26تین الفاظ سے
34:27تین کا ہی قصد ارادہ کرتے تھے
34:29آپ چونکہ
34:29مشتہد صحابی ہیں
34:31اس لئے آپ نے یہ نافذ کیا
34:32اور یہ اکیلے
34:33تو نافذ نہیں کیا
34:34باقی صحابے کرام
34:35اس پر متفق ہو گئے
34:36تو خالی جب
34:37صحابے کرام
34:38متفق ہو جاتے ہیں
34:39تو پھر
34:40اصحاب کا اتفاق
34:42ایک زبردست دلیل
34:43بن جاتا ہے
34:44تو عمر فاروق
34:45رضی اللہ
34:45تعالیٰ کی طرف
34:46ہی منصوب کرنے کے بجائے
34:47یہ بھی تو دیکھیں
34:48کہ باقی صاحب
34:49اس سے راضی ہو گئے
34:50اور اگر خدا نخواست
34:51تو کوئی یہ کہے
34:51وہ ڈھر کے راضی ہو گئے ہوں گے
34:53ایسا نہیں ہوتا
34:54سرکار نے
34:55ان سے بیعت کی تھی
34:56کہ کسی ملامت
34:57کرنے والے کے
34:57ملامت کا خوف نہیں کرو گے
34:59تو صحابہ
35:00بالکل حق کے معاملے میں
35:01کسی کے رعایت نہیں کرتے تھے
35:02یہی عمر فاروق
35:03رضی اللہ تعالیٰ عنہ
35:04کہ جب آپ نے لباس
35:06کوئی مالِ غنیمت میں
35:07کپڑا تقسیم کیا
35:08تو ایک شخص کھڑا ہو گیا
35:09اور اس نے کہا
35:10کہ آپ تو لمبے قد کے ہیں
35:11جتنا کپڑا آپ کے حصے میں آیا
35:13اس آپ کا کرتہ بنی نہیں سکتا
35:15اس کا مطبعہ
35:16آپ نے زیادہ کپڑا لیا
35:17آپ نے فرمایا کہ ہاں
35:18لیکن میرے بیٹے
35:19عبداللہ بن عمر
35:20نے اپنا کپڑا مجھے دیا
35:22کیونکہ میرا کپڑا چھوٹا تھا
35:23میں نے اس کو ملا کے یہ بنایا
35:24تو جو ایسے لوگ ہوں
35:26اس زمانے میں
35:26کہ عمر فاروق کے سامنے
35:28کھڑو کے کوئیسن کر سکتے ہوں
35:29تو باقی صحابہ کے بارے میں
35:31یہ گمان کرنا
35:31کہ ڈر کے خاموش ہو گئے ہوں گے
35:32ایسا نہیں ہے
35:33نماز کے بارے میں
35:35آپ نے جب تغیر زمانہ دیکھا
35:37تو عورتوں کو روکا
35:38اسی وجہ سے عورتیں
35:39جب سیدہ عائشہ صدیقہ
35:40رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گئیں
35:42اور انہوں نے کہا
35:43کہ دیکھیں عمر فاروق
35:44نے ہمیں مسجد میں آنے سے
35:45روک دیا ہے
35:46تو آپ نے شاید فرمایا
35:47کہ اگر میرے سرکار
35:48صلی اللہ علیہ وسلم
35:49آج دنیا میں
35:50ظاہری طور پر
35:51جلوہ افروض ہوتے
35:52اور جس طرح
35:53زینت اختیار کر کے
35:54عورتیں گھر سے باہر نکل رہی ہیں
35:56آپ ملاحظہ کرتے
35:57تو یقیناً
35:58آپ بھی عورتوں کو
35:59مسجد میں آنے سے روک دیتے
36:01یہ ہوتا ہے اشتہاد
36:03اس کا مطلب یہ ہے
36:04کہ بظاہر یہ قول رسول کی
36:06یا زمان رسول میں
36:07ایک جاری عمل کی
36:08مخالفت سے نظر آ رہی ہے
36:09لیکن حقیقتاً
36:11مزاج رسول کی
36:12اور مزاج شریعت کی
36:13معافقت تھی
36:13اس لیے
36:14مطلب بذرگوں پہ
36:15اعتراض کرنے کے بجائے
36:16اپنے نننے سے ذہن کو
36:19استعمال نہ کیا جائے
36:20اعتراض کے لیے بہتر ہے
36:22وہ نفوس خدسیہ
36:23پہلے پچاس بار سوچتے تھے
36:25پھر کوئی عملی قدم
36:26اٹھاتے تھے
36:27اس لیے ان کا
36:27بالکل یہ صحیح ہے
36:29یہ ایک قویسن پہلے ہوا تھا
36:31اس کا تھوڑا سا حصہ رہ گیا تھا
36:33تو میں نے اس کو دوبارہ لیا
36:34ہماری بہن نے بھیجا تھا
36:36کہ ہماری والدہ
36:37اپنی بیٹیوں کے
36:38میں ایک ہی نہیں
36:39بلکہ تین چار جتنی ہماری بہنیں
36:41سب کے
36:41گھر پر آنے کو پسند نہیں کرتی
36:43کیونکہ بچوں سمیت آتی ہیں
36:44اور بچے شور شرابہ کرتے ہیں
36:46تو ہماری والدہ کو
36:47نہ پسند دے
36:48وہ کہتی ہیں
36:48میں سال میں کبھی ایک دفعہ ہو
36:49ہر مہینے نہ ہو
36:50اسی طرح ہم فون پر جب کوئی بات کرتے ہیں
36:52تو عمومی طور پر وہ کہتی ہیں
36:53کہ ہمیں زیادہ فون نہ کیا کرو
36:55کیا حکم شرع ہے
36:57دیکھیں میں ایسی ماں سے گزارش کرتا ہوں
36:59کہ یقینا ہر ایک کی اپنی طبیعت ہوتی ہے
37:01ذہن ہوتا ہے
37:01شور شرابہ باس کو پسند ہوتا ہے
37:03نہیں ہوتا
37:04بعض وقت انسان
37:05اووریج ہونے کے بعد
37:06اپنے لائف سٹائل متعین کر لیتا ہے
37:08اس میں ڈسٹربنس ہوتی ہے
37:09تو وہ
37:10منٹلی ٹورچر ہونا شروع ہو جاتا ہے
37:12لیکن ہمیں یہاں پر
37:14دوسروں کے لئے جینا ہوتا ہے
37:15سیلفش بن کر
37:17اپنی ذات کے لئے جینا مناسب نہیں ہے
37:19اگر مہینے میں ایک دفعہ
37:20بچے آ جاتے ہیں
37:21نانی سے ملنا چاہتے ہیں
37:22دادی سے ملنا چاہتے ہیں
37:23آنے دیں ان کو
37:24پیار محبت سے اچھا ہے
37:26وہ آپ کے لئے دعا کریں گے
37:27آپ جب فوت ہو جائیں گے
37:28تو دعا بھی کریں گے
37:29آپ کی قبر پر بھی آئیں گے
37:31اور آپ کے لئے
37:32ایسال سواب کا احتمام بھی کریں گے
37:34لیکن آپ نے ایک لائف سٹائل
37:35اپنا بنا کر
37:36ان سب کو دور کر دیا
37:37وہ دور ہو جائیں گے
37:38اور چونکہ آپ محتاج نہیں ہیں
37:40اس لئے آپ کو اتنا فیل بھی نہیں ہوگا
37:42آئیں آئیں نہ آئیں
37:43لیکن مرنے کے بعد
37:45بہت بری حالت ہوتی ہے
37:46تو اس لئے اثر نہ کریں
37:48ان کو آنے دیں
37:48پیار محبت دیں
37:49تاکہ وہ آپ کے لئے دعائیں کریں
37:51چونکہ آپ پرگرام کے وقت
37:52تقریباً ختم ہو رہا ہے
37:53انشاءاللہ
37:54کل آٹھ بجے دوبارہ
37:56آپ سے ملاقات کے شرح فاصل ہوگا
37:57اگر اللہ کو منظور ہوا
37:58میں آپ سے گزارش کروں گا
38:00ہمارا پرگرام خود بھی دیکھا کریں
38:01اور دوسروں کو دیکھنے کی سنجیدہ
38:04ترغیب دیا کریں
38:05بہت بڑا ثواب جاریہ ہوگا
38:07اللہ عمل کی توفیق تفرمائیں
38:09آمین
38:09وآخر دعوانا
38:11ان الحمدللہ رب العالمين
Comments

Recommended