Skip to playerSkip to main content
Sarmaya e Aslaf - Topic: Imam Amir Shabi RA

To Watch All Episodes of Sarmaya e Aslaf || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xie8GN5M09gP6xhh0tJzM39Z

Speaker: Mufti Ahsen Naveed Niazi

#sarmayaeaslaf #muftiahsennaveedniazi #aryqtv #ImamAmirShabiRA

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficials
Transcript
00:00In the name of Allah
00:56In the name of Allah
01:26In the name of Allah
01:30In the name of Allah
01:59जिसके अंदर इमाम शावी राहिम उला की हदीस मौजूद ना हो, आप की मर्वियाद ना हो
02:04और कोई ऐसी किताब कुतवِ रिजाल पे जो लिखी गई है, जरो तादील पे जो जो किताबें लिखी गई है
02:10محدثین کے بارے میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں
02:12فقہاء کے بارے میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں
02:14شاید ہی کوئی ایسی کتاب ہوگی
02:16جو آپ کے ذکر سے خالی ہو
02:18جتنی بھی کتابیں حدیث اور
02:20محدثین سے متعلق لکھی گئی ہیں
02:22رجال کی کتابیں ہیں جنہیں ہمارے ہاں
02:24اسمہ اور رجال کہا جاتا ہے
02:25ان میں امام شاہ ویرائیم اللہ کو بڑے نمائع
02:28انداز میں ذکر کیا جاتا ہے اور آپ کو
02:30باقاعدہ ٹریبوٹ پیش کیا جاتا ہے
02:32بڑے بڑے آئیمہ نے آپ کے سامنے
02:34سرِ تسلیم خم کیا ہے
02:36آپ کی عظمت کا لوہہ مانا ہے
02:37خود ایک بڑے تابعی تھے امام مکہول راہیم اللہ
02:41بلند پائے عالم بھی ہیں
02:42تابعی بھی ہیں امام مکہول راہیم اللہ
02:44وہ آپ کے بارے میں فرماتے ہیں
02:45مَا رَائِتُ أَحَدًا عَلَمًا مِنَ الشَّعْبِي
02:49میں نے شعبی سے
02:51بڑا عالم نہیں دیکھا
02:52حالانکہ وہ خود جلو قدر تابعی ہیں
02:54بڑے بڑے تابعین کو انہوں نے دیکھا ہے
02:56خود انہوں نے بڑے بڑے اساتذہ کے سامنے
02:59نانویں تلمس طے کیا ہے
03:00لیکن امام شعبی راہیم اللہ کی عظمت ایسی ہے
03:03کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام شعبی سے
03:05بڑا عالم نہیں دیکھا
03:05عالم تو بہت دیکھے
03:06لیکن امام شعبی سے بڑا عالم میں نے نہیں دیکھا ہے
03:09اسی طرح ایک اور بڑے عالم ہیں
03:11ابو حسین
03:12حاپِ دبر
03:13سوات کی کسرہ کے ساتھ
03:14سوات کی زیر کے ساتھ
03:24اسے بڑھ کر فقی کبھی دیکھا ہی نہیں
03:26حالانکہ انہوں نے بڑے بڑے تابعین کو دیکھا ہے
03:29کہ جب امام شعبی کے لئے انہوں نے یہ بات کی
03:31کہ میں نے امام شعبی سے بڑھ کر فقی نہیں دیکھا کوئی
03:33تو اس پر عبقر بن عیاش کہتے ہیں
03:35میں نے ان سے آگے سے ارس کی
03:36اور شرعہ بھی نہیں
03:37یعنی قادی شرعہ خود بڑے تابع بھی ہیں
03:39قاضی ہیں
03:40محدث ہیں
03:41بڑے عالم ہیں
03:42بلکہ امام شعبی راہیم اللہ کے
03:44اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں قادی شرعہ
03:45تو انہوں نے немہیں آگے سے کہا
03:47ہواگر بن عیاش کہتے ہیں
03:48اور شرعہ بھی نہیں
03:49تو انہوں نے جواب میں کہا
03:50غصے سے میری طرف دیکھا
03:51ابو حسین نے اور کہا
03:53کہ بھئی شرعہ بھی نہیں
03:54تم کیا چاہتے ہو
03:55کہ میں جھوٹ بولوں تم سے
03:56میں مار آئی تو آلامہ منہ شعبی
03:59میں نے شعبی سے بڑا عالم نہیں دیکھا
04:00میں نے کہتو دیا تمہیں
04:01کہ میں نے شعبی سے بڑا عالم نہیں دیکھا
04:03or some people who will cling to this
04:05and they will be given the power of be the power of even though
04:08they will be able to add to this
04:10and we will also find the power of being able to make a house
04:13in the end called
04:14me ii tu ahadan, ifqa minashashabi
04:21me ii sayıy da sire binal musiyyib
04:25wala taus wala taa, wala halhasan wala ibn asierein
04:29فقد rai tu kullo hum
04:31We are watching this scene.
05:01Bڑا فقی پایا
05:02انہیں سب سے بڑھ کر فقی جو ہے وہ امام شعبی ہیں
05:05امام شعبی ان سب حضرات سے آگے ہیں
05:07یہ امام شعبی رائم اللہ کی عظمت ہے
05:10امام صفیان بن عیانہ رائم اللہ خود اونچے پائے
05:12کہ محدث بھی ہیں فقی بھی ہیں
05:14وہ کیا فرماتے ہیں
05:15فرماتے ہیں
05:15علماء الناسی ثلاثہ
05:17ابن عباس فی ذمانی
05:18وشعبی فی ذمانی
05:20وثوری فی ذمانی
05:21کہتے ہیں لوگوں کے علماء تو بس تین ہی ہیں
05:23اپنے زمانے میں سیدن عبداللہ بن عباس عالم تھے
05:26اور اپنے زمانے میں امام شعبی عالم تھے
05:28اور اپنے زمانے میں امام صفیان ثوری عالم تھے
05:31یعنی ہاں عالم سے مراد بڑا عالم
05:32علماء کے سردار کی بات اور یاری بات ہے
05:34علماء اور بھی تھے
05:35لیکن جس کو واقعی صحیح معنوں میں کامل عالم کہا جائے
05:38جس کی تمام چیزوں پر گرفت ہو
05:41اور جو سید العلماء شمار ہو
05:42یعنی علماء کا سردار
05:43تو وہ اس کی بات کر رہے ہیں وہ
05:45کہ جیسے صحیح معنوں میں عالم کہا جا سکے
05:47علماء کا سردار کہا جا سکے
05:49تو کہا وہ تین ہستیاں ہیں
05:50ایک سیدن عبداللہ بن عباس اپنے زمانے میں
05:52دوسرا امام عامر بن شراحیل الشعبی
05:54اپنے دور میں
05:55اور تیسے امام صفیان ثوری رحمہ اللہ اپنے دور میں
05:57یہ تینوں جو ہے وہ
05:59جیوالقدر عالم ہیں
06:00اور صحیح معنوں میں
06:01اللفظ عالم کا مزداق یہی حضرات ہیں
06:03اسی طرح امام زہری خود بڑے محدث ہیں
06:08عالم تو بس چار ہی ہیں
06:17وہ کہتے ہیں عالم تو بس چار ہی ہیں
06:19سید بن مسیب مدینہ منورہ کے اندر
06:21کوفہ میں امام عامر شعبی رائی مولا
06:24بسرہ میں امام حسن بسری رائی مولا
06:26اور شام میں امام مکھول رائی مولا
06:27یہ بڑے عالم ہیں
06:28پھر دعوت بن ابی ہند کہتے ہیں
06:30ما جا لستو احدا عالم من الشعبی
06:34میں کبھی امام شعبی سے
06:36بڑے عالم کے ساتھ نہیں بیٹھا
06:37یعنی میں اتنے بڑے بڑے علماء کے ساتھ بیٹھا ہوں
06:40لیکن امام شعبی کو میں نے
06:41ان میں سب سے بڑا عالم پایا ہے
06:43یہ دعوت بن ابی ہند کہہ رہے ہیں
06:45یہ خود انچی چھوٹی کے عالم شمار ہوتے ہیں
06:47پھر جا ہے وہ آسمن سلمان کہتے ہیں
06:49ابھی بڑے پائے کے عالم ہیں
06:50کہتے ہیں
06:51کہ میں نے بسرہ کی حدیث میں
07:00حجاز کی حدیث میں
07:02کوفہ کی حدیث میں
07:03بلکہ آفاق بلکہ پوری دنیا کی حدیث میں
07:05شعبی سے بڑا عالم نہیں دیکھا
07:07شعبی ساری دنیا میں جہاں کہیں
07:09احادیث کا علم پایا جاتا ہے
07:10ان میں سب سے بڑے عالم
07:11امام شعبی راہی مولا ہے
07:13آپ امام شعبی راہی مولا کی حضمت دیکھئے
07:15کتنے بڑے بڑے عائم
07:16آپ کو کس طرح ٹریبیوٹ پیش کر رہے ہیں
07:18اب بکر الحزلی کہتے ہیں
07:20کہ مجھ سے امام محمد بن سیرین راہی مولا نے فرمائے
07:22امام محمد بن سیرین راہی مولا
07:24خود جلیل قدر تابعی ہیں
07:25خود بڑے عالم ہیں
07:26محدث بھی ہیں
07:27فقی بھی ہیں
07:28اور تعبیر رویہ کا جو علم ہے
07:30وہ تو ان پر ختم ہے
07:31خوابوں کی تعبیر کا علم
07:32تو امام محمد بن سیرین راہی مولا
07:34بلند پایا
07:34عالم محدث فقی
07:36تو امام محمد بن سیرین راہی مولا
07:38کہتے ہیں
07:38شعبی کو لازم پکڑ لو شعبی کا دامن پکڑ لو بس
07:42فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يُسْتَفْتَ وَاصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ مُتَوَافِرُونَ
07:48وہ کہہ رہے ہیں ابو بکر حزلی کہ مجھ سیرین رائم اللہ فرما رہے ہیں
07:51کہ دامن پکڑ لو شعبی کا کیونکہ میں نے دیکھا
07:54کہ امام شعبی سے اس وقت بھی فتوہ پوچھا جاتا تھا
07:58مسائل معلوم کیے جاتے تھے جب سیدنا رسول اللہ علیہ السلام کے
08:01صحابہ کرام بڑی تعداد میں موجود تھے
08:04یعنی صحابہ کرام علی مردوان کی موجودگی میں
08:07امام آمیر شعبی رحم اللہ باقاعدہ فتوہ دیا کرتے تھے
08:11اور ان کے فتوے کو تسلیم کیا جاتا تھا
08:14نہ تو دیگر لوگ اتراز کرتے تھے
08:16نہ صحابہ کرام علی مردوان اتراز کرتے تھے
08:18یعنی صحابہ کرام علی مردوان بھی ان کو فقی مانتے تھے
08:21اور ان کے فتوے کو تسلیم کرتے تھے
08:23باقی لوگ تو مانتی مانتے تھے صحابہ اکرام علی مردوان بھی
08:26کہ صحابہ اکرام کی موجودگی میں ان سے سوال پوچھے جاتے تھے
08:30مسائل معلوم کیا جاتے تھے ان سے فتوہ پوچھا جاتا
08:32اور یہ صحابہ اکرام علی مردوان کی موجودگی میں باقاعدہ فتوہ دیا کرتے تھے
08:37یہی امام محمد بن سیرین رائی مولا
08:39یہ بیان فرماتے ہیں کہ جب میں ایک دفعہ کوفہ آیا
08:41تو میں نے دیکھا والے شعبی حلکت نظیمہ
08:43کہ امام شعبی کا بڑا حلکہ لگا ہوا ہے
08:46ان کے پاس بہت سے لوگ ہیں ان کے حلکہ درس میں بیٹھیں
08:48وہ صحابہ یومیدن کثیب
08:50حالانکہ اس وقت صحابہ اکرام کی بڑی تعداد زندہ تھی
08:53صحابہ موجود تھے لیکن ان صحابہ اکرام علی مردوان کے ہوتے ہوئے بھی
08:56امام شعبی رائی مولا کا باقاعدہ حلکہ درس تھا
09:00اور بڑا حلکہ درس تھا
09:01لوگ بڑی کسرت سے ان سے فید یاب ہوا کرتے تھے
09:05اور صحابہ اکرام علی مردوان بھی اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کرتے تھے
09:09بلکہ صحابہ اکرام علی مردوان بکپ کرتے تھے
09:11امام شعبی رائی مولا کو
09:12وہ ان کی باقاعدہ حوصلہ افدائی کرتے تھے
09:15اور خود صحابہ اکرام علی مردوان بھی تسلیم کرتے تھے
09:17یہاں تک کہ
09:19سیدن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ
09:20ان کے بارے میں باقاعدہ کئی کتبے رجال میں منقول ہے
09:24اور صحیح دروس سنت کے ساتھ موجود ہے
09:26انہوں نے کہا کہ
09:27بیان کرتے ہیں عبدالملک بن عمر
09:29کہ سیدن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ
09:31ایک مرتبہ امام شعبی کے پاس سے گزرے
09:33تو دیکھا امام شعبی رائی مولا مغازی بیان کر رہے تھے
09:36یعنی جو غزوات ہیں
09:37غزوات کے بارے میں باتیں بتا رہے تھے
09:40روایات بیان کر رہے تھے
09:41تو اس پر
09:42سیدن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا
09:47ایسا محسوس ہوتا ہے
09:48کہ یہ بھی ہمارے ساتھ غزوات میں شریک تھا
09:56اچھی طرح انہوں نے اس کا علم بقاعدہ حاصل کیا ہے
09:58سیکھا ہے اور آگے بیان کر رہے ہیں
10:00تو ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے یہ بھی
10:02ہمارے ساتھ موجود تھے
10:03یعنی جیسے کوئی بندہ موجود ہو کہیں پر
10:05اور وہ جس طرح آنکھوں دیکھا حال بیان کرتا ہے
10:08چشمدید واقعات بیان کرتا ہے
10:10تو اسی طرح ان کا انداز
10:13اتنا اچھا انداز ہے
10:14یعنی جو ان کا حسن ادا ہے
10:15اس حسن ادا حسن بیان کی بھی یہ تعریف ہے
10:18سیدن عبداللہ بن عمر کی طرف سے
10:20اور ان کے حافدے کی بھی تعریف ہے
10:22اور ان کے حسن طلب
10:23یعنی علم کو جو انہوں نے جس طرح طلب کیا ہے
10:25اور جس طرح علم حاصل کیا ہے
10:27مضبوط انداز میں اور اسے یاد رکھا ہے
10:29اور جتنے اچھی انداز سے بیان کر رہے ہیں
10:31ان ساری باتوں کو دیکھ کر
10:32سیدن عبداللہ بن عمر رضی اللہ نے خوش ہو کر فرمایا
10:34کہ ایسا لگتا ہے
10:35کہ یہ بھی ہمارے ساتھ موجود تھا
10:37حالانکہ یہ تو پیدا بھی نہیں ہوا تھا
10:38اور پھر فرمایا
10:43کہ بخدا یہ مجھ سے زیادہ
10:46اس کو غضوات کے واقعات
10:48اور مرویات یاد ہیں
10:49اور مجھ سے زیادہ یہ جانتا ہے
10:51اور اچھے انداز میں بیان کر رہا ہے
10:52یعنی یہ سیدن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ
10:54جو خود جلو قدر صحابی ہیں
10:55وہ امام عامر شعبی رائی مولا کو
10:57اس طرح بقاعدہ اٹریبیوٹ پیش کر رہے ہیں
10:59اور ان کی تحسین فرما رہے ہیں
11:01یہ ان کی طرف سے دادو تحسین سے نوادہ گیا
11:04امام عامر شعبی رائی مولا کو
11:05اور لوگوں کو انہوں نے برملا
11:07یہ بات سیدن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمائی
11:09اور یہ سیدن عبداللہ بن عمر نہیں
11:11بلکہ اور بھی بات صحابہ سے
11:12بقاعدہ یہ منقول ہے
11:13کہ امام عامر شعبی رائی مولا کو
11:15بقپ کیا کرتے تھے
11:16ان کی تشجیہ کرتے تھے
11:18حوصلہ افدائی کرتے تھے
11:19اور ان کے علم کے قدردان تھے
11:21ان کے حسن طلب علم کے بھی قدردان تھے
11:24اور ان کے حسنِ عدا حسنِ بیان کے بھی قدردان تھے
11:27صحابہ اکرام اور مردوان بھی
11:28ایسی منصور کہتے ہیں
11:30مَا رَائِتُو اَحَدًا اَحْسَبًا مِنَ الشَّابِی
11:33وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام شابی سے بڑا حساب دان نہیں دیکھا
11:37اَحْسَبًا اَعْلِمًا بِالْحِسَابَ الْفَرَائِضِ
11:40فرائض کا علم حساب کا علم ریاضی کا علم
11:43اور وراثت کا علم جو لوگوں کو ہوتا ہے
11:46تو کہا میں نے امام شابی سے بڑا کوئی ایسا آدمی نہیں دیکھا
11:49جسے اتنا علم ہو حساب کتاب کا ریاضی کا فرائض کا
11:54وراثت کا
11:55تو وراثت کیعنی امام شابی رحم اللہ صرف حدیث تک بند نہیں ہے
11:59یہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید امام شابی رحم اللہ صرف اونچے محدث تھے
12:03ایسا نہیں ہے امام شابی رحم اللہ اونچے محدث بھی تھے
12:06محدث ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین قاری بھی تھے
12:09اسی طرح بہترین مفسر بھی تھے
12:11بہترین فقی بھی تھے امام شابی رحم اللہ
12:14اور علم الفرائض پر بھی جوہی ہے وہ آپ کو دسترہ ساصل تھی
12:18بلکہ جو شعر و شائری کا علم ہے
12:20اس پہ بھی آپ کو دسترہ ساصل تھی
12:21اور اشار تو آپ کو ایسے یاد تے
12:23ویسے بھی آپ کا غیر معمولی قوت حافظہ کے حامل تھے
12:26حدیث کا معاملہ ہو
12:28یا قرآن کا معاملہ ہو
12:30یا تفسیر کا معاملہ ہو
12:31یا فقہ کا معاملہ ہو
12:32یا غزوات کا معاملہ ہو
12:34تاریخ کا معاملہ ہو
12:35या शेरो सुखन का मौमला हो
12:37इन सब में आपकी गेर मामूली कुवत हाफिदा के इन सारे मैदानों में जिंडे गड़े हुएं
12:42आपको एक दफ़ा आपने फरमाया कि मैंने सबसे कम जो हासल किया है इल्म वो शेरो सुखन का है
13:00लगातार शेर सुनाओं एक महीने तक और एक भी शेर रिपीट नहीं होगा एक भी शेर की तकरार नहीं करूँगा
13:07बगएर तकरार के बगएर रिपीट किये मैं पूरा एक महीना तुमें नए नए अशार अलग अलग नादिर नायाब किसम के
13:15सुना सकता हूँ
13:16and this is the show we have survey of satan, which is the point where you have learned how much
13:30more effective would benefit them.
13:34巧. temtem
13:3548
13:42five
13:43of
13:45Il
13:45four
13:45four
13:46five
13:46four
13:59four
14:28repeat
14:30حادت المسلمین اس وقت
14:31عبد الملک بن مروان بھی
14:33آپ سے بہت زیادہ متاثر تھا
14:35اور اسی وجہ سے
14:36اس نے بقاعدہ
14:37اپنے بیٹوں کو
14:38آپ کے سپرد کیا
14:53بھی بہت زیادہ متاثر تھا
14:54اور اس نے اپنے بیٹوں کو
14:56بقاعدہ آپ کے حوالے کیا
14:57آپ کے سپرد کیا
14:58तालिम तर्वियत के लिए, कει अधर था, आ प इनकी तालिम तर्वियत फर्माइए,
15:01आपको मुध्द बनाया और आप ने उनकी बokaidा तालिम तर्वियत फर्माया,
15:04वो बड़ा कदरदान था अब का अ Akbarul Malik बिन मरवान,
15:21and after asked, that's what I am saying,
15:25that what I am telling you about?
15:26I am not knowing.
15:28Then I am telling him that what if I have been written as an Arab,
15:31and that is what I have been doing,
15:32if I am not saying that this guy is going to become a dead man,
15:34I am Sidhu Bala.
15:38So, my name was Amir, I am saying that I am not have seen anything,
15:43I am not going to do that, I should be judged with you,
15:44but this story no matter what to say,
15:48he said that no, actually, he has seen a good thing,
15:50I can see that you have a character that has a possession of me.
15:53that a person in my heritage has my own presence.
15:55I canse my own presence.
15:57So, I want to buy this man in my heritage,
16:01that I can kill you,
16:02that you have a servant in my heritage.
16:05You have a servant in my heritage.
16:07So, this is a trust of him.
16:10Master of Amir Shah Bhirah Al-Azhar said to him,
16:12I will be faced with him.
16:14He has said to do that he has a good sense of my heritage.
16:18That I have that.
16:19Because of that many people that live in the country
16:21should have power to portray the powers of the gods
16:24because of the example of our children
16:27must not be able to walk through these circumstances
16:29such things
16:29so this Isam Amir Shah Biharaiyem Allah
16:30which is the interpretation of the UK
16:33so they will help us
16:36that we have the other people who have
16:37got께서 and given up to them
16:39, their wisdom and also the Tosok
16:47and your husband
16:49and your husband
16:49کوئی عزیز اس کا انتقال ہوا ہو
16:51اور وہ مقروض ہو اور میں نے
16:52اس کا کرز ادا نہ کر دیا ہو
16:55میرا کوئی بھی عزیز
16:56کوئی بھی رشدار اگر مقروض
16:58ہونے کی حالت میں مر جاتا ہے فوت ہو جاتا ہے
17:01تو اس کا کرز میں اس کے کرز
17:02کو ادا کر دیتا ہوں
17:03اسی طرح آپ نے کبھی کہتے ہیں
17:06میں نے کبھی کسی مملوک پر کسی غلام پر
17:08ہاتھ نہیں اٹھایا میں نے کبھی کسی غلام
17:10یا باندھی کو صدا نہیں دی ہاتھ سے
17:12نہیں مارا میں اللہ تبارک و تعالی سے
17:14درتا ہوں میں ان پر ہاتھ نہیں اٹھاتا
17:17یہ امام عامر شعبی رائم اللہ
17:18تشریف فرماتے جریر بن یزید
17:21بن جریر بجلی جریر بجلی
17:22جو ہے وہ ان کے پوتے آئے
17:24اور جریر بجلی جو ہے وہ بڑے
17:26صحابی رسول ہیں ان کے پوتے جب یہ آئے
17:28تو امام شعبی نے اپنا تکیہ
17:30جو ہے ان کو پیش کیا تو اس پر بعض لوگوں نے
17:32کہا حضرت اتنے بڑے بڑے لوگ آپ کے پاس
17:34بیٹھے ہیں لیکن ایک نوجوان کے آنے پر
17:36آپ اپنا تکیہ اسے پیش کر رہے ہیں
17:38تو آپ نے فرمایا میں نے اسی لئے پیش کیا
17:39کہ یہ نوجوان وہ ہے کہ اس کے دادا
17:41کو جب آئے تھے تو اسے دنہ رسول اللہ
17:44علیہ السلام نے تکیہ آتا فرمایا تھا
17:46اور فرمایا تھا
17:49جب کسی قوم کا معزز آدمی
17:51تمہارے پاس آئے تو اسے عزت دو
17:52اسے رگاٹ دو اس لئے میں نے اپنا تکیہ
17:54ان کو پیش کیا ہے
17:56تو یہ امام عامر شعبی رائم اللہ کی شان تھی
17:58امام عامر شعبی کا حسن اخلاق تھا
18:00ایک دفعہ کسی آدمی نے آپ سے کوئی
18:02برا بھلا کہنا شروع ہے
18:03لوگوں کے سامنے تو آپ نے فرمایا
18:04ان کن تا قادبا فغفر اللہ لک
18:06و ان کن تصادقا فغفر اللہ لی
18:09کہ اگر تم جھوٹ بول رہے ہو
18:10تو اللہ تمہاری بخشش فرمائے
18:12اگر تم سچ کہہ رہے ہو
18:13تو اللہ میری بخشش فرمائے
18:14یہ کہہ کہ خاموشی اختیار کر لی
18:15کوئی بدلہ نہیں لیا
18:17یہ جواب میں کوئی اسے برا کلمہ نہیں کا
18:19ناظرین اب انتہائی اختیار کے ساتھ
18:21امام عامر شعبی رائم اللہ کے بارے میں
18:23کچھ منتخب کتب کا ہم تذکرہ کر دیتی ہیں
18:25ایک بڑی ہی امدہ کتاب ہے
18:27اجتہادات الامام عامر بن شراحیل
18:30الشعبی و اثر روحا فی المداہب الفقہیہ
18:33جمع و دراسہ
18:34یہ علی جدائی ہیں انہوں نے کتاب لکھی ہے
18:36ان کا بیسیکلی یہ پی اج ڈی کا تھیسز ہے
18:38پی اج ڈی کا مقالہ ہے جو جامعہ باطنہ
18:40جمہوریہ جزائرہ
18:41جامعہ باطنہ الجمہوریہ الجزائریا
18:43اس وہاں پر انہوں نے یہ پی اج ڈی کا مقالہ
18:45جامعہ باطنہ میں جمع کرائے
18:47اسپورن پی اج ڈی کی ڈگری ایوارڈ ہوئی
18:48اور یہ پھر اس کو شائع کیا گیا
18:51بڑے امدہ انداز میں
18:52اس میں کام انہوں نے یہ کیا ہے
18:53کہ امام عامر بن شراحیل شعبی رائم اللہ کے
18:56جو اجتہادات ہیں
18:57جو ان کی اجتہادی آرہا ہیں
18:59جو ان کی فقی آرہا ہیں
19:00یعنی امام شاہبی کا محدث ہونا تو اپنی جگہ مشہور ہے
19:02فقی ان کا ہونا اتنا مشہور نہیں ہے
19:05زیادہ لوگوں کو معلوم نہیں
19:06تو اس لیے باعث نے یہ بڑا امدہ کام کیا
19:09کہ امام شاہبی رائم اللہ کی جو فقی جہت ہے
19:11ان کا جو فقی ہونا ہے
19:12اسے بھی واضح کیا ہے
19:14اور اس کے اجاگر کیا
19:15اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی جتنی فقی آرہا
19:18کتابوں میں بکھری ہوئی ہیں
19:19کہ جہاں کہیں انہوں نے کسی مسئلے میں
19:21اجتہادی رائے اپنی بیان کی ہے
19:22تو ان تمام کو اس نے ایک جگہ جمع کر دیا ہے
19:25اور جمع کر کے اس کا بڑے امدہ انداز میں دراسہ کیا ہے
19:27اچھی کتاب لاکہ مطالعہ
19:32دوسرے نمبر پر ایک کتاب نظر آتی ہے
19:34امام شاہبی فقیہن
19:35حمدی فہد محمد القبیسی
19:37انہوں نے جامعہ بغداد
19:38بغداد یونیورسٹی میں
19:39وہاں پر ماجستیر کا
19:41یعنی امے کا یہ مقالہ لکھا تھا
19:42یہ بھی چھپ چکا ہے
19:43بڑے امدہ انداز میں
19:44اسم امام شاہبی رائے مولا کے
19:45فقیہ ہونے کو اجاگر کیا ہے
19:48پھر ہمیں ایک رسالہ نظر آتا ہے
19:50مقالہ ہے
19:52سلمان بن محمد جاراللہ
19:54نے یہ مقالہ ترتیب دیا ہے
19:55یہ بھی شپا ہوا ہے
19:56امام عامر شاہبی رائے مولا
19:58کو جو شاہبی کہا جاتا ہے
19:59تو شاہبی کہنے کی وجہ یہ ہے
20:00کہ آپ کے ابو اعداد میں
20:02ایک صاحب تھے
20:03حسان بن عمر حمیری
20:04وہ یمن میں آئے تھے
20:06تو یمن میں ایک پہاڑ تھا
20:07پہاڑ دو گھاٹیوں والا پہاڑ تھا
20:09تو انہوں نے وہاں پر آ کر
20:10سکونت اختیار کر لی
20:11اور وہیں سے ان کا خاندانی سلسلہ
20:13آگے پھیلا ہے چلا ہے
20:14اس نے فروغ پایا
20:15تو ان میں سے جو لوگ
20:16کوفہ میں آ کر مقیم ہوئے
20:18تو ان کو کہا جاتا تھا
20:19شاہبی یون
20:20تمام عامر شاہبی بھی
20:21وہیں کوفہ کے ہیں
20:22تو اس لئے ان کو شاہبی کہا جاتا ہے
20:23جو ان میں سے شام چلے گئے
20:25ان کو کہا جاتا تھا
20:26شاہبانی یون
20:27جو ان میں سے یمن چلے گئے
20:29تو ان کو کہا جاتا تھا
20:30آلوزی شابین
20:31اور جو ان میں سے
20:32مصر اور مغرب کی طرف چلے گئے
20:34تو ان کو کہا جاتا تھا
20:35الاشعوب
20:36تو چونکہ آپ کوفہ میں تھے
20:37اور وہی اس پہاڑ کی نسبت سے
20:39آپ کو
20:39امام عامر شاہبی رحمہ اللہ
20:41کہا جاتا ہے
20:42اللہ تعالیٰ وطالہ
20:42Ảمام عامر شابیر آئی مولا کے درجات بلند فرمائے
20:45104 سنہجریہ میں آپ کا انتقال ہوا
20:47قوال تو اور بھی بہت سارے ہیں
20:48لیکن راجع کال یہ ہے
20:49مشہور کال یہ ہے
20:50کہ 104 سنہجریہ میں آپ کا انتقال ہوا
20:52اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے
20:54اور ہمیں آپ کی فضل برکات
20:55سعز وافر عطا فرمائے
Comments

Recommended