Skip to playerSkip to main content
Watch All the Episode Here ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xif6h5dGYXotwtvLxITnOTsI

Ittehad e Ummat | Host: Dr. Muhammad Tahir Mustafa

#Ittehadeummat #DrMuhammadTahirMustafa #aryqtv #islam

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:03Alhamdulillahi wabada wa salatu wa salamu alamallah nabiyya baada
00:06Amma abad fawzubillahi min ash shaytuanir rajim
00:10Bismillahirrahmanirrahim
00:11Assalamualaikum nاظرین
00:13A.R.I.Q. TV की نشریات ہیں
00:15اور لاہور سے پروگرام اتحادِ امت لے کر
00:18ڈاکٹر محمد طاہر مصطفیٰ آپ کی خدمت میں حاضر
00:22ناظرین کرام
00:23سب سے پہلے پیغمبر
00:24حضرت آدم علیہ السلام کو
00:26وحی کے ذریعے سے جو سب سے پہلا درس دیا گیا
00:30وہ بھی علم سے متعلق تھا
00:34وَأَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَ
00:36سورہ بکرہ کی شہادت ہے
00:38کہ ہم نے سب سے پہلے
00:40آدم علیہ السلام کو
00:42علم الْأَسْمَاء عطا کیا
00:44چیزوں کا علم عطا کیا
00:46اور پھر ناظرین کرام
00:48خاتم الانبیاء ختم المرسلین
00:50حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:53فدا کا امی وعبی
00:55آپ کو بحی کے ذریعے سے
00:58اعلان نبوت کے وقت
01:00جو سب سے پہلا درس دیا گیا
01:02وہ بھی علم سے متعلق تھا
01:05اقرہ بِاسْمِ رَبِّكَ اللَّذِي خَلَق
01:07یہ سورہ الْأَلَقِ کی شہادت ہے
01:10ناظرین کرام
01:12لفظِ علم ہو
01:14یا تعلیم ہو
01:15یا اتحاد ہو
01:17لفظِ علم
01:20تین حروفوں کا
01:22اتحاد ہوا
01:24تو لفظِ علم بنا
01:26لفظِ تعلیم
01:29تَا
01:29عَيْن
01:31لَام
01:32یا مِیم
01:34یہ پانچ حروف ملے
01:36ان کا اتحاد ہوا
01:38تو لفظِ تعلیم بنا
01:40اسی طرح اتحاد بھی
01:42علیہ حاضر قیاس
01:44کائنات کا کوئی بھی لفظ ہو
01:46کوئی بھی اسم ہو
01:48وہ چند حروف کے
01:50ملنے کے بعد
01:51چند حروف کے
01:52اتحاد سے وہ لفظ بنتا ہے
01:54اور پھر وہ لفظ بامانی ہوتا ہے
01:57ناظرین کرام جیسے میں نے
01:58ارز کیا کہ
01:59لفظِ علم جو ہے
02:00وہ تین حروف سے مل کر بنا ہے
02:03عَيْن
02:04لَام
02:05اور مِیم
02:07لیکن افسوس کی بات یہ ہے
02:08کہ ہمارا
02:10تعلیمی نظام جو ہے
02:13وہ
02:14تین مختلف طبقات میں
02:17تقسیم ہو گیا
02:17لفظِ علم
02:19تین حروف کے جنڈے سے بنا
02:21لیکن ہمارا نظامِ تعلیم
02:23تین طبقات میں
02:25تقسیم ہو گیا
02:25ایک
02:27ایلیٹ کلاس کے لیے
02:29پرائیوٹ سکول سسٹم
02:30پھر
02:31سرکاری سکول سسٹم
02:33اور تیسرا
02:35ناظرین کرام
02:36درستِ نظامی
02:38جہاں سے علماء
02:41زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوتے ہیں
02:44لیکن
02:45افسوس
02:46اور علمیہ یہ ہے
02:48کہ ان تینوں نظام
02:50ہائے تعلیم
02:51کے راستے بھی مختلف ہیں
02:53اور ان کی منازل
02:55بھی مختلف ہیں
02:55جس کی وجہ سے
02:58ہمارے معاشروں میں
03:00انتشار کی قیفیت ہے
03:03سوچ اور فکر میں
03:04اور پھر عمل میں بھی
03:06انتشار اور تقسیم کی
03:07قیفیت پیدا ہو گئی ہے
03:08ناظرین کرام یہ ہمارا آج
03:10پروگرام اتحادِ امت کا
03:12موضوع ہے
03:13کہ علمی اعتبار سے
03:16ہم کس طرح سے
03:18مضبوط ہو سکتے ہیں
03:20جبکہ ہمارا علم
03:21تو چند حروف سے
03:23جب مل کر
03:24اتحاد کر کے
03:25بنتا ہے یہ لفظ
03:26تو پھر اس کی
03:28معنویت میں
03:28ہم تقسیم کیوں ہو گئے ہیں
03:30اس پہ آج ہم گفتگو کریں گے
03:32اور گفتگو کرنے کے لئے
03:33ناظرین کرام
03:34آج
03:35فاضل مہمان میرے ساتھ
03:37تشریف رکھتے ہیں
03:38دائیں جانب تشریف رکھتے ہیں
03:40جنابے ڈاکٹر
03:41کاشف سہیل
03:42آپ بین الاقوامی
03:44اسلامی یونیورسٹی کے فاضل ہیں
03:45اور ما شاء اللہ
03:46پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں
03:47اس وقت آپ
03:49راشل عطیف خان یونیورسٹی میں
03:51شعبہ آئی آر کے
03:53صدر نشین ہیں
03:54اسلام علیکم ورحمت اللہ
03:55باریکم السلام ورحمت اللہ
03:57آپ سب کیسے ہیں آپ
03:57خرید سے ہیں
03:58ناظرین کرام
03:59میری بائیں جانب تشریف رکھتے ہیں
04:02جنابے ڈاکٹر
04:03مفتی
04:04محمد
04:05امیر اسلم
04:06ماشاء اللہ
04:08ملائیہ یونیورسٹی
04:09ملائشیا سے
04:09آپی اشدی ہیں
04:10عالم دین ہیں
04:12اور
04:13بہت خوبصورت گفتگو کرتے ہیں
04:15اسلام علیکم ورحمت اللہ
04:17محمد اللہ
04:18محمد اللہ
04:18محمد اللہ
04:20اور ناظرین کرام
04:20ان کے ساتھ تشریف رکھتے ہیں
04:22جنابے
04:23ڈاکٹر
04:23زیشان
04:24اشرف
04:25آپ بھی
04:26ماشاء اللہ
04:26بین الاقوامی
04:27اسلامی اینورسٹی سے
04:28فاضل ہیں
04:29اور
04:29لاؤ میں آپ کی پی ایش ڈی ہے
04:31اس وقت
04:32راشل لطیف خان اینورسٹی میں
04:34شعبہ
04:34لاؤ کے
04:35لاؤ ڈپارٹمنٹ کے
04:36آپ صدر نشین ہیں
04:37آج مہارے پروگرام کی زینت ہیں
04:39السلام علیکم ورحمت اللہ
04:41علیکم ورحمت اللہ
04:42باکس صاحب کیسے ہیں آپ
04:42الحمدلی
04:43ٹھیک ہے
04:44باکس صاحب آپ سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں
04:46جیسے میں نے ارس کیا ہے
04:48اپنی ابتدائیے میں
04:50کہ
04:52ہمارے تعلیم کے نظام کے
04:54تین راستے ہو گئے
04:56ایک
04:56ایلیٹ کلاس کا طبقہ ہے
04:59بہت
04:59کوسکلی
05:00پیڈ سکول ہیں
05:03اس کے بعد
05:04سرکاری سکول ہیں
05:06جس میں
05:07میڈل کلاس کا طبقہ
05:08جاتا ہے
05:09اور پھر تیسرا
05:11پازلین درس نظامی
05:13کی دانشگاہیں ہیں
05:15مدارس
05:16لیکن افسوس یہ ہے
05:18کہ تینوں کے راستے کیوں مختلف ہیں
05:20اور تینوں کی فکر کیوں مختلف ہے
05:22اور تینوں کی منزل کیوں مختلف ہے
05:25جس سے
05:26ہمارے اتحاد کا جو درس ہے
05:28وہ بھی تقسیم ہو گیا
05:30اس پر تب صرف
05:31اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
05:34بسم اللہ الرحمن الرحیم
05:36محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:39محترم ڈاکٹر صاحب
05:41اور ہمارے ناظرین
05:42السلام علیکم
05:44سب سے پہلے تو ڈاکٹر صاحب
05:45میں آپ کو اس انتہائی اہم موضوع کو چننے پر
05:49مبارک بات پیش کرتا ہوں
05:51اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے
05:52تلیمی نظام جو ہے
05:54اتحاد امت کے لیے
05:55ایک بنیادی
05:58کردار رکھتا ہے
05:59کہ ہم
05:59کسی بھی معاشرے کے اندر
06:02اتحاد چاہتے ہیں
06:03اتفاق چاہتے ہیں
06:04تو ظاہر ہے کہ جو ہمارے سکول ہیں
06:07یا جو ہماری
06:07نظام حائل تعلیم کے
06:09مختلف بنیادیں ہیں
06:12وہاں پہ کیا کیا جا رہا ہے
06:13اس کو دیکھا جائے
06:14تو میرا خیال ہے کہ
06:15اس موضوع کو عمومی طور پر
06:17ہم اتحاد امت کے اوپر
06:19جب بھی گفتگو کی جاتی ہے
06:20تو مختلف زاویوں سے اس کو دیکھتے ہیں
06:22لیکن آپ نے
06:23ایک اس بنیادی زاویے سے
06:24اس کو دیکھنے کی کوشش کی ہے
06:26کہ جس کی اس وقت
06:27اشد ضرورت ہے
06:28اور بڑی خوبصورت
06:30آپ نے اپنی بات کا آغاز بھی کیا
06:32تو آپ نے فرمایا
06:33کہ اتحاد کے لیے
06:34جو آئین لام اور میم
06:35جو ہے الفاظ جب جڑتے ہیں
06:36تو اتحاد کی صورت بنتی ہے
06:38اسی طرح
06:39معاشرے کے اندر
06:41تعلیمی نظام جو ہے
06:43اس کے مختلف جہتیں
06:44اگر جڑیں گی
06:45تو ایک ایسا
06:46میاری معاشرہ تکمیل پائے گا
06:49جس کے اندر آپ
06:50جو اتحاد کی طرف
06:51لے کر جا سکتا ہے
06:54آپ کے سوال کی حوالے سے
06:56میں یہ کہنا چاہوں گا
06:57کہ
06:58اتفاق یہ ہے
07:00کہ میں
07:00چونکہ ایک سرکاری
07:02سکول کے اندر پڑا
07:03اور وہاں سے
07:05ساری تعلیم لی
07:05اور اسی طرح
07:06گورمنٹ کالیج دہور
07:07اور پھر اسی طرح
07:08سرکاری جامعات کے اندر
07:09تو اس کا بیک گراؤنڈ
07:11اس حوالے سے
07:11تھوڑا سا پتہ ہے
07:13اور
07:14کیونکہ میں نے اپنی جب
07:15پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا
07:18تو
07:19ایلیٹ پرائیوٹ سکول کے اندر
07:21جوب کے حوالے سے کیا
07:22تو اس کی انسائٹ
07:23اور
07:24مجھے
07:25یہ بھی اتفاق سے
07:28میرے لیے یہ
07:29ایک اعزاز بھی رہا
07:30کہ درس نظامی کے کچھ طالب علموں کو
07:32دنیاوی تعلیم کے حوالے سے پڑھانا
07:34اور ان کے ساتھ گفتگو
07:35اور پھر مدارس کے
07:37طالب علموں کے ساتھ
07:38رابطہ رہا
07:39تو میں
07:40اپنی دانس میں جو سمجھتا ہوں
07:41کیونکہ ایک عرصے سے
07:42میں ایک تقابلی جائزہ
07:44وہ لیتا رہتا ہوں
07:46اور ہم سوچتے رہتے ہیں
07:47کہ واقعی نظام تعلیم
07:48کس طرح سے جو ہے
07:49اس کو بہتر کیا جا سکتا ہے
07:51آپ کی بات
07:52بالکل بجا ہے
07:53اور درست ہے
07:54کہ یہ جو فرق ہے
07:56یہ بزاتے خود
07:58ایک معاشرے کے اندر تفرقہ
08:00اور کشم کش پیدا کرتا ہے
08:02اس کی نشان دہی کرتا ہے
08:04ایک ایسا بچہ
08:06جو سرکاری سکولوں سے نکل کر آتا ہے
08:09اس کو شروع سے معاشرہ جو ہے
08:11وہ ایک
08:13یعنی
08:14جسے آپ سمجھتے ہیں
08:15کہ اس کو بالکل
08:16نیچے والے
08:17طبقے میں شمار کیا جائے گا
08:18مدارس کا لنک چونکہ
08:20سکول کی تعلیم کے ساتھ نہیں ہے
08:23اور
08:23سمجھا یہ جاتا ہے
08:25جو لوگ یونیورسٹریز سے نکلتے ہیں
08:26وہ یہ سمجھتے ہیں
08:28کہ یہ مدارس والے جو ہیں
08:29ان کا کوئی تعلق
08:30اس دور کی
08:32تعلیمی ترقی
08:33اور جو
08:35تعلیم کے اندر
08:36مختلف جہتے ہیں
08:36اس کے ساتھ نہیں ہیں
08:37تو سب ہمارے معاشرے میں
08:38مسٹر اور ملہ کی تقسیم پیدا کی جاتی ہے
08:41بالکل ایسے ہی ہے
08:42تو آپ نے عمومی طور پر دیکھا ہوگا
08:44کہ اس کو
08:45ان الفاظ کو استعمال بھی کس طرح سے کیا جاتا ہے
08:48اور
08:49پھر اسی طرح
08:50ایلیٹ سکولز کے اندر جہاں پر
08:52آپ
08:54یعنی
08:56زیادہ
08:57رقم جو ہے
08:58وہ خرچ کر سکتے ہیں
08:59وہاں پر
09:00تعلیم کو جو ہے
09:01بالکل ایک مختلف طرح سے
09:02کمرشل
09:03اس کا جو زاویہ اس کو دیکھا جاتا ہے
09:05تو اب جب آپ
09:07ایک قوم کے اندر
09:09تین مختلف طرح کے ذہن پیدا کر رہے ہیں
09:11تو اسے آپ یہ امید نہیں رکھ سکتے
09:14کہ وہ آپ اس میں بیٹھیں گے
09:15اور اتحاد کی باہل کریں گے
09:16لیکن میں
09:17ڈاکس اپ اس میں تھوڑا سا آپ کو
09:19تاریخی پسمندر میں لے کے جانا چاہوں گا
09:21کہ اس کا آغاز کیسے ہوا
09:23جس کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے
09:26نہ صرف
09:27جو
09:28تعلیم کے
09:30مختلف ماہرین ہیں
09:31انہیں ہمیں آپ کو
09:32سب کو معاشرے کو مل کر
09:34کہ تاریخی طور پر اگر دیکھا جائے
09:36تو سلطنت برطانیہ ہمیں پتا ہے
09:38کہ ہم سب
09:38یہاں پہ
09:39ایک ایسی
09:40محکوم قوم کے طور پر رہے
09:42کہ جس کے اوپر حکمرانی کرنے والوں کا
09:45سب سے بنیادی نکتہ یہ تھا
09:48کہ کسی طرح ان کو
09:49وہ جو ہم کہتے ہیں
09:50ڈیوائیڈنٹ رول
09:51ان کو تقسیم کرو
09:53اور ان کے اوپر حکمرانی کرو
09:54تو وہ ڈیوائیڈنٹ رول
09:56پہلے تو
09:58یعنی وہ ایک
09:59انہوں نے وینوور کیا
10:01اور برے سغیر کے اوپر
10:02ان کی حکومت قائم ہوئی
10:05پھر وہ یہ تھا کہ
10:07انٹیلیکچولی
10:08علمی طور پر
10:09اس معاشرے کو
10:10کس طرح سے تقسیم کیا جائے
10:13مدارس کے اوپر
10:13پبندیاں لگائی گئیں
10:14اس نظام تعلیم کو
10:16اگر ہم تاریخی پس منظر میں دیکھیں
10:18تو مدارس بزاتے خود
10:20یونیورسٹیوں کی مانن
10:21تلکل
10:21اور ہم اگر تاریخی پس منظر میں دیکھتے ہیں
10:24تو مدارس سے ایسی ایسی شخصیات کا ظہور ہوتا ہے
10:27کہ جو نہ صرف اپنے
10:30علمی
10:31جو ان کا مقام تھا
10:32وہ تخصص تھا
10:34بلکہ وہ
10:35اور بھی بہت سے علوم کے ادر
10:37انٹیگریٹڈ ایڈوکیشن کا جو کانسپ تھا
10:39اس کے حوالے سے
10:40ہم مجدد الافثانی کو دیکھتے ہیں
10:41یا
10:42تاج محل کے آرکیٹیکٹ کو دیکھتے ہیں
10:44تو یہ کہاں سے آئے تھے
10:46یہ انہی مدارس کی پیدا
10:47اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں
10:49مدارس کے لفظ کے ساتھ
10:50جو جامعہ کا لفظ لگتا ہے
10:52وہ یونیورسٹی کے پیرلل لفظ
10:54پیرلل لفظ لگتا ہے
10:55بلکل ایسا یہ
10:56لیکن بدقسمتی سے
10:58جب سلطنت برطانیہ نے
11:00یہاں پر
11:02یہ ایک
11:04تفریق شروع کر دی گئی
11:06اور سکولنگ کے نظام کو
11:08اور میس ایڈوکیشن کو
11:09اس نام کے اوپر کے جیسے
11:10وہ تعلیم کو لے کر آ رہے ہیں
11:12اور عمومی طور پر
11:13ہمارے
11:15زیادہ دکھ کی بات یہ ہے
11:16کہ ہمارے
11:17ہاں اس چیز کو
11:18ہم بالکل سمجھنے سے کاثر ہیں
11:20کہ کیوں
11:22ہمارے ماہرین تعلیم
11:23اس بات کا
11:25احساس نہیں کر رہے
11:26کہ وہ
11:27جو نظام تھا
11:29وہ ایک سامراجی نظام
11:31ایک مخصوص
11:32کانٹیکس کے اندر
11:34اس قوم کو ڈھالنے کے لیے
11:35لائے گیا تھا
11:36اب اس سے جان چھڑوانے کی ضرورت ہے
11:38اور یہ
11:39اگر دیکھا جائے
11:41تو یہ
11:41تقسیم
11:42ہمیں بڑھتی ہوئی
11:44اور اس خلیج
11:45یہ خلیج جو ہے
11:46اور زیادہ وقت کے ساتھ ساتھ
11:48میں سوئیتا ہوں
11:49کہ
11:49آپ کی گفتگو سے
11:51میں اگر اس کا
11:52کرکس اور نتیجہ نکالوں
11:54تو ہمیں اس بات پر
11:55سوچنے کی ضرورت ہے
11:56کہ کیسے ممکن ہے
11:57کہ حالات کی گتھی
11:59سلجے
11:59اہل دانش
12:00نے بہت
12:01سوچ کے
12:01الجائی ہے
12:02بہت خوبصورت
12:03مفتی صاحب کی طرف
12:04جاتا چاہتا ہوں
12:06مفتی صاحب کیسے مزاج ہیں
12:09بڑا اچھا آغاز ہوا
12:10اور آج
12:11ہمارا موضوع بھی
12:12بہت اچھوٹا ہے
12:13علمی اعتبار سے
12:14ہم کیسے
12:15معاشرے کے اندر
12:16اتحاد پیدا کر سکتے ہیں
12:18ایک تو
12:18روک صاحب نے جو بات
12:19ابتدائی طور پر چھیڑی
12:21وہ بڑی فکر انگیز ہے
12:23اس پہ بھی
12:24آپ کا تفسرہ چاہوں گا
12:25پھر آخر
12:26جو میں نے
12:26ارس کیا
12:27کہ اس کا حل کیا ہے
12:28کہ
12:30کس طرح
12:31تلاش کیا جائے
12:31وہ نکتہ
12:33جس سے ہم
12:33سب وحدت کی طرف آ جائیں
12:35اس پہ میں
12:36آپ کا تفسرہ لوں گا
12:36لیکن آپ کی اجازت سے
12:37وقفہ ہے
12:38اور وقفہ کے بعد
12:39آپ سے تفصیل ہیں
12:40انشاءاللہ
12:41ہم کلام ہوتے ہیں
12:42ناظرکرام
12:43وقفہ ہے
12:43پروگرام
12:44اتحاد امت ہے
12:45اے آر وائی کیو ٹی وی
12:46لاہور سٹوڈیوز ہے
12:46اور وقفے میں
12:48ہم جایا کرتے ہیں
12:49دربارے رسالت میں
12:50اور اپنے نبیہ کریم
12:51صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:52کی ذات یک دس پر
12:53والہانہ انداز میں
12:55درود کریم کا
12:56نظرانہ پیش کرتے ہیں
12:57اور واپس آتے ہیں
12:58وقفے کے بعد
12:58ناظرکرام
12:59دوبارہ آپ کے خدمت میں
13:00حاضر ہیں
13:00اے آر وائی کیو ٹی وی
13:01لاہور سٹوڈیوز ہے
13:02اور ہمارا پروگرام
13:04ہے اتحاد امت
13:05اور گفتگو
13:06فرمانے لگے ہیں
13:07جناب ڈاکٹر مفتی
13:08محمد عمیر اسلم
13:09جی ڈاکٹر صاحب
13:11الحمدللہ
13:12رب العالمین
13:13والصلاة والسلام
13:13علیہ سید الانبیاء
13:15والمرسلین
13:15والا علیہ واصحابی
13:17حجمائن
13:18ڈاکٹر صاحب پہلے
13:18تو آپ کا بہت شکریہ
13:20اور مبارک بات
13:21کے ہمیشہ کی طرح
13:22آپ نے ایک انتہائی
13:23اہم فکری موضوع
13:24کا آپ نے انتخاب کیا
13:26اور جو معاشرے
13:27کے جو اہم مسائل ہیں
13:29ان کے اوپر
13:29آپ نے ہاتھ رکھنے
13:30کی کوشش کی
13:31جیسا کہ آپ نے فرمایا
13:32کہ جو ہمارے
13:33معاشرے کے اندر
13:34جو تعلیمی
13:36طبقاتی تقسیم
13:37پائی جا رہی ہے
13:38ہم اس کو کیسے
13:39ایک پلیٹ فارم پہ
13:40لاسکتے ہیں
13:40جی جی
13:41تو جیسا کہ پہلے
13:43ڈاکٹر کاشیف سہیل
13:44صاحب نے گفتگو کی
13:45تو میں اسی حوالے سے
13:46گفتگو کو آگے
13:47بڑھانا چاہوں گا
13:48کہ اب یقیناً
13:49یہ ہمیں حقیقت ہے
13:50اس کو مان لینا چاہیے
13:52کہ یہ تقسیم موجود ہے
13:53اور یہ
13:55صرف پاکستان میں نہیں
13:56بلکہ تمام تر
13:57ممالک میں پوری دنیا میں
13:58یہ تقسیم آپ پائی جا رہی ہے
13:59تو اس حوالے سے
14:01ہمیں کیا کرنا چاہیے
14:02پاکستان میں کیا کرنا چاہیے
14:03ہمیں جو بنیادی اقدار ہیں
14:06ان کو ایک جنگہ پہ لانے کی
14:07کوشش کرنی چاہیے
14:08مثال کے طور پر
14:09میں دینی مدارس کی بات کروں گا
14:11کہ دینی مدارس میں
14:13جیسا کہ بات ہوئی
14:14کہ جب سلطنت برطانیہ نے
14:16اس تعلیمی نظام کو تقسیم کیا
14:18اگر ہم دین اسلام کو دیکھتے ہیں
14:20اسلام وہ دین ہے
14:21کہ جو تعلیم کا دین ہے
14:22جو جدت کا دین ہے
14:24جو مورڈیشن کا دین ہے
14:25حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
14:26کا وہ فرمان زیشان
14:28حضور نے ارشاہ فرمایا
14:29کہ اطلب العلم ولو بسین
14:31اگرچہ اس حدیث کو
14:33محدثین نے ضعیف کہا
14:34لیکن طلبے اور فضیلت حدیث کے اندر
14:37اس کو محدثین نے کوٹ کیا ہے
14:39کہ حضور نے فرمایا
14:40کہ علم حاصل کرو
14:40اگرچہ تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے
14:43اگر ہم
14:44ڈاکسر ایس حدیث کو دیکھیں
14:46تو ہمیں معلوم ہوتا ہے
14:48کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
14:49آپ صحابہ کو
14:50اپنی امت کو یہ تعلیم عطا فرمانے
14:52کہ تم نے جدت کی طرف جانا ہے
14:54مختلف زبانوں کو سیکھنے کا حکم دیا
14:56مختلف جو انیمشنز ہیں
14:57ان کی طرف کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم
14:59نے آپ نے تغییب دلائی
15:00اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے
15:02کہ دین اسلام آپ کو جدید علوم سے منع نہیں کرتا
15:04اب ہمارے ہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے
15:07question یہ ہے کہ یہ تقسیم کب سے پیدا ہوئی
15:09تقسیم یہ سلطنت برطانیہ کے ذریعے سے
15:12جب یہ تقسیم کیا گیا
15:13اور ہمیں امت مسلمہ کو
15:16ایک defensive position کے اندر لاکھ کھڑا کیا گیا
15:19تو اس وقت ہمارے علماء نے
15:20جو نساء مرتب کیا
15:22وہ ایک defensive position کیلئے تھا
15:23کہ اب ہم نے اپنے survival کی طرف جانا ہے
15:26کہ امت مسلمہ نے اپنے بقا کی طرف جانا ہے
15:28تو یہ نظام اس وقت ترتید دیا گیا تھا
15:31اور جس کی وجہ سے
15:32بنیاد رکھی گئی
15:34پھر اس کی وجہ سے
15:35ہمارا جو مدارس کا جو سسٹم ہے
15:37وہ الگ ہو گیا
15:37یونیورسٹریز کا سسٹم جو ہے وہ الگ ہو گیا
15:39اب وہاں کے اوپر بقاعدہ
15:41اس کا syllabus الگ ترتید دیا گیا
15:43مدارس کا الگ
15:44یونیورسٹریز کا الگ
15:45میں نے جو ہے یہ ملیشیا میں یہ بات
15:47witness کی
15:48کہ انہوں نے ان تمام تر چیزوں کو
15:51ایک plate form پر لانے کی کوشش کی ہے
15:53یعنی مدارس کی تعلیم بھی موجود ہے
15:55لیکن انہوں نے ان ساری چیزوں کو
15:57یونیورسٹریز کی ڈگری کے ساتھ
15:58انہوں نے اٹیج کر دیا
15:59یعنی اگر مدارس سے آپ
16:01بنیادی تعلیم حاصل کریں
16:02پھر اس کے بعد آپ
16:03یونیورسٹریز کے در آ جائیں
16:04وہاں سے بی ایس کریں
16:05وہاں سے آپ
16:06ماسٹرز کریں
16:07وہاں سے پی ایچ ڈیز کی ڈگری لیں
16:08جیسا کہ میں نے جو تعلیم حاصل کی
16:10وہ ملائی یونیورسٹریز سے کی
16:11یہ سر جو ملائی یونیورسٹری ہے
16:14یہ دنیا کی
16:14ورلڈ رینکنگ میں
16:15اس کا 58 نمبر ہے
16:16یعنی امت مسلمہ
16:18جو اسلامی کنٹریز میں
16:19اس میں اس کا ٹاپ نمبر ہے
16:20لیکن یہ سائنس میں
16:22ٹیکنالوجی کے میدان میں
16:23یونیورسٹری لیڈ کر رہی ہے
16:24لیکن اس کا مطلب یہ نہیں
16:25کہ صرف سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں
16:27یہ یونیورسٹری لیڈ کر رہی ہے
16:28بلکہ جو اسلامی علوم ہے
16:30ان کے اندر بھی
16:31یونیورسٹری لیڈ کر رہی ہے
16:32اس کا مطلب یہ ہے
16:33کہ ان دونوں
16:33انہوں نے
16:34ان دونوں چیزوں کو
16:35So, one plate foranum, one circus, one judo, one university, one university is a way to do it.
16:41So, the culture of developed countries, in the field, its areas will be adapted.
16:46With our universities, in our universities, so that it is an Islamicudity subject, the subject of our universities is available.
16:51But, in our classes, our here are many mature students, many mature students are, many mature students,
16:55and our university of ours is the use of statistical studies.
16:58ڈی جا رہی ہے لیکن اس کے اندر مزید بہتری کی گنجائش ہے کہ ہم
17:02اپنے مدارس کے اندر اپنے سلیبس کے اندر جو جدیس سائنسی علوم
17:06ہیں ان کو بھی شامل کریں اور جو دوسرے ہمارے یونیسٹریز کے
17:10ادارے ہیں دیگر سبجیکٹ ہیں ان کے اندر ضرورت اس امر کی ہے
17:13کہ وہاں پر اسلامی علوم کو شامل کر جائے مدارس میں سائنسی علوم
17:17شامل ہو تاکہ جو مدارس کے فضالہ ہیں ان کو سائنس کے حوالے سے
17:20technology کے والے سے inventions کے والے سے
17:22آج دنیا کہاں پہ کھڑی ہے
17:24دنیا کے معاملات کیا ہیں
17:25challenges کیا ہیں
17:28ہمیں وہ اگاہی ہوگی
17:29اور جو ہمارے universities کے اور دیگر جو department ہیں
17:32ان کے اندر اسلامی جو بنیادی اقدار ہیں
17:34ان کی بنیادیں مضبوط ہوں
17:36تو یعنی یہ division رہے گی
17:38ہمیں اس کو ایک platform پہ لانے کے لیے
17:40اتحاد پیدا کرنے کے لنک پیدا کرنے کے لیے
17:42ہمیں جو اسلام کی بنیادی تعلیمات ہیں
17:44جو بنیادی ethics ہیں
17:46اس کو bridge کرنا چیزیں
17:48تو اس سے ہمارے اندر ایک اتحاد پیدا ہو سکتا ہے
17:51اور دنیا جو ہے کیونکہ میں نے
17:53دنیا کی ایک best university سے تعلیم آصل کی
17:55انہوں نے اس کے اوپر bridge crime کیا ہوا ہے
17:57اور اسی لیے وہ آج ایک leading position میں ہے
18:00دولپ کنٹیز کے اندر ان کا شمار ہوتا ہے
18:02تو پاکستان اور جو ہمارے
18:04ماہرے تعلیم ہیں ان کو بھی اس جانے جو
18:06توجہ دینی چاہیے
18:07جنابے ڈاکٹر زیشان صاحب
18:08کیسے آپ ٹھیک ہیں
18:10آپ کی آرائے رکھتے ہیں
18:12آپ کی فکر کیا ہے
18:13جو ہم نے آج مقدمہ
18:15آپ کے سامنے رکھا ہے
18:16کہ تین نظام حائے تعلیم ہیں
18:19اور تینوں کے راستے مختلف ہیں
18:21منازل مختلف ہیں
18:22کیسے یکجہ کیا جا سکتا ہے
18:24کیسے ہم ایک منزل تک
18:26سب کو لا سکتے ہیں
18:27آپ کا خیال
18:28سب سے پہلے تو ڈاکٹر صاحب
18:30آپ کا بہت شکریہ
18:31کہ اتنے ہی important موضوع کے اوپر
18:33آپ نے مجھے بھی لبکشائی کا موقع دیا
18:35ڈاکٹر کاشف
18:36ڈاکٹر مہیر صاحب نے بہت ہی
18:38سہرنگیز گفتگو کی
18:39اور سارے تقریباً
18:40موضوع کو
18:42کور کرنے کی کوشش کی
18:43اور
18:43اس کی تاریخی پسے منظر کو بھی بیان کیا
18:46اچھا میں اس گفتگو کو آگے
18:48اس طرح سے بڑھاتا ہوں
18:49کہ ہمارے ہاں یہ جو تفریق ہے
18:51اس کو ختم کیسے کیا جا سکتا ہے
18:52تو اس کی اندر
18:53سب سے پہلے میں مثال دوں گا
18:55انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی
18:57جہاں سے میں نے
18:58LLB شریعنڈ لاو کیا
18:59پھر LLM کیا
19:00تو ادھر کی مثال سے پھر ہم آگے گفتگو کو بڑھائیں گے
19:03کہ ہماری جو
19:04کلاس فیلوز تھے ہم سب
19:06تو اس کے اندر
19:07LLB شریعنڈ لاو میں
19:09مدارس کے بھی سٹوڈنٹ
19:10جو فارغ تحصیل تھے
19:12اور وہ ہمارے ساتھ پڑھتے رہے
19:14اور انہیں بہت اچھا پرفارم کیا
19:16اور ایون کے جس کو ہماری کلاس کا ٹاپر تھا
19:18اس کا بھی بیگراؤنڈ مدرسے سے تھا
19:28لیکن وہ limited scope کے ہیں
19:30جیسے ڈاکٹر صاحب کہہ رہے تھے
19:31ادھر صرف دینی علوم
19:32یا شریعنڈ لاو
19:34جو کچھ جگہوں پر ان کی acceptability ہے
19:36باقی ہمارے جو پروگرام ہیں
19:38یعنی انجینرنگ ہے
19:39یا باقی medical کی فیلڈ ہے
19:41یا different
19:41ان کے اندر ان کی ابھی تک
19:43respectability یا acceptability نہیں ہے
19:45جو اس نے انٹر مدرسے سے کیا ہے
19:47بے شک وہ IBCC سے recognize ہو جاتا ہے
19:50لیکن ان بچوں کو ہم
19:51admit نہیں کرتے
19:52اپنے scienceی علوم کے اندر
19:54میرے خیال اس gap کو fill کرنے کے لئے
19:56سب سے پہلے تو ہمارے جو ادھارے ہیں
19:58ان کو کام کرنا پڑے گا
19:59اور ان کو ان کے لئے بھی
20:02وہ گنجائش پیدا کرنی پڑے گی
20:04quota system لانا پڑے گا
20:05سب سے پہلے
20:06کہ ان لوگوں کو بھی وہاں داخلے دیے جائیں
20:08کہ وہ بھی داخلے لے سرے
20:09لکسا میں نے 16 سال
20:11ایک جامعہ میں
20:13500 سے زائد ایمفل کروائے
20:16اپنی سپرویئن میں
20:17اور 14 پیشنیز کروائیں
20:19اور آپ جو بات کر رہے ہیں
20:20ہم نے اسی طرح سے بنیاد رکھی
20:23کہ پیشتی یا ایمفل
20:25ان اسلامی سٹڈیز کے لئے
20:27ہم نے یہ شرط نہیں رکھی
20:28کہ صرف ایم بی اسلامی سٹڈیز ہی آئیں
20:31ہم نے یہ کرائیٹیریہ رکھا تھا
20:33کہ اگر کوئی پہلے دین کو
20:35گہرائی اور گہرائی سے نہیں پڑ سکا
20:38بشک اس نے ایم بی اسی فیزکس کیا ہے
20:42یا اس نے ایم بی اے کیا ہے
20:44کسی بھی ڈسپلن میں
20:45سکسٹین یئر کی سٹڈی کی ہے
20:46تو ہم نے اسلامی فکر و تہذیب میں
20:49اس کو ایڈمیشن دیا
20:50اور اس میں علماء کی لوٹ کو بھی شامل کیا
20:52جدید لوٹ کو بھی شامل کیا
20:53دونوں کو بٹھا کر ایک گلدستہ کریٹ کیا
20:56اور سب کی خوشمویں مختلف تھی
20:58گلدستہ ایک تھا
20:59بلکل اچھا اسی طرح سے آپ نے بہت اچھا
21:02اور یہ سب کو کرنا چاہے
21:03سب سٹیکولڈر
21:04اچھا اس میں رکاہوٹ کیا ہے
21:06کہ یہ ایڈیپٹیبلیٹی اور ریسپیکٹیبلیٹی
21:08کیوں نہیں ہے ہمارے معاشرے میں
21:10تو تعلیمی نظام کی جیسے
21:11ڈاکٹر کاشیو صاحب بات کر رہے تھے
21:13ہمارے تعلیمی نظام میں
21:14تو یہ تین تفریقیں تو ہیں
21:16پھر جو دنیاوی نظام ہے
21:18اس میں بھی پھر تین تفریقیں
21:22ہاں الیٹ اور اس کی
21:23اور اسی طرح مدارس میں بھی
21:25بہت اچھے اچھے مدارس بھی ہیں
21:26داراللوم کراچی بہت سارے ہیں
21:28آپ لوگ کو پتا ہے
21:28جن میں دینی اور دنیاوی تعلیم
21:31دونوں دی جاری ہے
21:32پی ایش ڈی بھی کرتے ہیں
21:33ان کے میرا ہی ایک دوست ہے
21:34اس نے مدارس سے ہی درس نظامی کیا
21:37اور پھر بیلجیم سے
21:38وہ پی ایش ڈی لوگ کر کے آیا ہے
21:39پاکستان میں
21:40تو اس طرح انہوں نے پرفارم بھی کیا ہے
21:42اور انہیں ایچی سی کو
21:43اور ان کو سکولرشپس بھی دینے چاہیے
21:45ایک جو چیز ہے جہاں سے
21:47میں کہتا ہوں
21:47بنیاد شروع ہونی چاہیے
21:48ہمارے معاشرے کی
21:49وہ تفریق ہے
21:51دو قومی نظریہ
21:52جو ہمارا بنا تھا
21:53انگلیش اور اردو کے حوالے سے
21:56وہ آج بھی رائج ہے
21:58جو سب سے میں سمجھتا ہوں
22:00بنیاد ہے
22:00آپ چائنہ کی ترقی دیکھ لیں
22:02آپ ملائشیا کی ترقی دیکھ لیں
22:04ڈاکٹر صاحب نے پی ایش ڈی ملائشیا سے کی
22:05میں نے بھی کی
22:06وہاں پر پی ایش ڈی تک
22:08ان کو اپنی لینگویج میں
22:09کورسز پڑھانے کی
22:10ایکزیم دینے کی
22:12ان کی اجازت ہے
22:13تو میں سمجھتا ہوں
22:14کہ اردو لینگویج
22:15جو ہے
22:16اس پر بیریئر انگلیش کی وجہ سے
22:18کسی کو نہیں ہونا چاہیے
22:19کہ آپ کو اگر انگلیش لینگویج پر
22:21عبور حاصل نہیں ہے
22:22تو آپ یونیورسٹی کی تعلیم نہیں لے سکتے
22:24یا عالی تعلیم حاصل نہیں کر سکتے
22:26تو یہ تفریق کو ہمیں ختم کرنا ہے
22:28قوموں کی ترقی کا راز جو ہوتا ہے
22:31وہ ان کی کلچرل جو
22:32ورننگز ہیں ان کے ساتھ جڑا ہوا ہوتا ہے
22:34تو جن بھی معاشروں نے ترقی کی ہے
22:36انہوں نے اپنی کلچرل ویریوز
22:38لینگویج اور ان چیزوں کو بیریئر نہیں منایا
22:40میں یہ سمجھتا ہوں
22:42کہ اگر ہم ایسا ایک انٹیگریٹڈ سسٹم منائیں
22:45جس میں قومی زبان کو ترجیح دی جائے
22:48جس کے اندر کوئی زبان کا بیریئر نہ ہو
22:51انگلیش اردو کی بیریئر ختم کی جائے
22:53تو میرے خیال سے ہمارے سارے ادارے
22:56مدارس کے بھی اور ان کو بھی تعلیم کا
22:59جیسے آپ نے دینی تعلیم میں
23:01سب کو شامل کیا
23:01اسی طرح دنیاوی تعلیم میں بھی
23:03سب کو شامل کریں
23:04ایڈیپٹ کریں
23:05رسپیکٹ کریں
23:05تو میرے خیال ہمارا قوم میں
23:07اتحاد پیدا ہو سکتا ہے
23:08بجھ کوئی چھیک ہے
23:09ڈاکٹر کاشف صاحب
23:10آپ کی طرف حاضر ہوں
23:12کہ جیسے میرے دونوں فاضل مہمانوں نے
23:15یہ فرمایا کہ
23:17آج مدارس کے نظام میں
23:19اصری تعلیم کا شامل کیا جانا
23:22بہت ضرورت ہے
23:23اور یہ وقت کا اہم تقاضہ ہے
23:25اسی طرح سے
23:27جو ایلیٹ کلاس کے مدارس ہیں
23:29یا جو جامعات ہیں
23:31یونیورسٹیز ہیں
23:31یا جو تعلیمی ادارے ہیں
23:33ان میں
23:34قرآن و حدیث کی بنیادیں
23:36شامل کرنا ضروری ہے
23:38صرف سمپل اسلامیات
23:39ایک پچاس نمبر کی پڑھانے سے
23:41اسلام نہیں سیکھا جا سکتا
23:43بہت گہرائی کے ساتھ
23:45اور گہرائی کے ساتھ
23:46فہم القرآن کا آغاز تو ہوا ہے
23:48لیکن ابھی اس کی روح
23:50ایک منزل تک پہنچنا باقی ہے
23:53آپ کا ماشاءاللہ
23:55اس پہ بھی کام ہے
23:56اس پہ بھی آپ
23:56جو داغانہ سوچ رکھتے ہیں
23:58کہ کس طرح سے
24:00فہم القرآن کو
24:01آسان بنایا جا سکتا ہے
24:03اس نوجوان نسل کے لیے
24:05اور فہم القرآن
24:07اگر آسان ہو گیا
24:08تو ظاہر ہے
24:09وَا تَسِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِعُوا وَلَا تَفَرَّقُوا
24:12کا فلسفہ سمجھ آ جائے گا
24:14ورنہ
24:14وَا تَسِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِعُوا وَلَا تَفَرَّقُوا
24:17کی تلاوت تو ہوگی
24:18اور ہم سبحان اللہ کیا کے آگے نکل جائیں گے
24:21اس کی روح کو نہیں سمجھیں گے
24:23کیا آپ کے پاس اس کا کلیا ہے
24:25ڈاکسر بڑے اہم
24:27توجہ دلوائی آپ نے
24:28اچھا میں ایک بات
24:30ہم چونکہ گفتگو کرتے ہوئے
24:32وی جمٹ ٹو دی یونیورسٹی
24:33اور ہم اس لیول کے اوپر چلے گے
24:35ہائر ایڈوکیشن پر
24:36لیکن میں توجہ دلوانا چاہوں گا
24:38کہ دیکھیں
24:38جب آپ کی بنیاد رکھی جاتی ہے
24:41ایلیئرز میں
24:42سکولز میں
24:42جب بچہ چھوٹی عمر میں
24:45سکول میں جاتا ہے
24:46اس وقت
24:47ہمارا نظام تعلیم کیا کر رہا ہے
24:49کہ اس کی ذہن کی
24:50ایک خاص نویت کی
24:52آہ
24:53مائنڈ میکنگ کی جا رہی ہے
24:55جی جی
24:55مدارس میں بچوں کی ایک خاص
24:57طرح سے کی جاتی ہے
24:58ڈاکٹر زشان نے توجہ دلوائی
24:59کہ مدارس میں پھر تفریق ہے
25:01وہ ہم سب جانتے ہیں
25:03ہمارے سکولوں کے اندر بھی تفریق ہے
25:04اب وہ بچوں کو
25:06چونکہ ایک خاص طور پر
25:07ان کی ذہن کی
25:08برین واشنگ کر دی جاتی ہے
25:10اب جب آپ ان کو اوپر لے کر آتے ہیں
25:12یونیورسٹری پہنچتے
25:13پہنچتے بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے
25:16یہی وجہ ہے کہ میرا خیال ہے
25:17آپ کو بھی اس طرف توجہ دلوانی پڑھی
25:18کہ فاہم القرآن
25:19یونیورسٹری میں تو
25:20انٹروڈیوز کروایا گیا
25:22لیکن ہم دیکھتے ہیں
25:24پریکٹس میں
25:24یونیورسٹریز کے اندر
25:25ہمیں یہ تجربہ ہوا
25:27کہ وہ طالب علم
25:28اس سے جان چڑھوانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں
25:31وہ اس سبجیکٹ کو
25:32اس طرح سے اہمیت نہیں دے پا رہے ہوتے ہیں
25:34وجہ کیا ہے
25:34کہ چونکہ بنیادی طور پر
25:36اس طرح سے
25:36وہ ایک ٹپیکل اسلامیات
25:39کو جس طرح سے پڑھایا گیا
25:41تو وہ بچہ اپنے آپ کو
25:42اس قابل ہی نہیں سمجھتا
25:43کہ وہ اس ڈومین کے اندر بھی کام کر سکے
25:46تو سب سے پہلے
25:54وہاں سکولز میں کیا ہو رہا ہے
25:55ایلیٹ سکولز میں کیا ہو رہا ہے
25:57اچھا ایک طرف میں چاہوں گا
25:59کہ اس محفل کے سارے شرکا کی توجہ دلوا دوں
26:02میں ایک وقفہ لے لوں
26:04اور اس کے بعد تفصیل سے
26:05آپ کی توجہ سے بات سنتے ہیں
26:07ناظرین کرام
26:08پروگرام اتحاد امت
26:10اور آج ہمارا موضوع یہ ہے
26:12کہ علم اور تعلیم کے ذریعے سے
26:15یہ اتحاد کی منزل
26:18ہم کیسے حاصل کر سکتے ہیں
26:20وقفہ ہے
26:21اور وقفے میں چلتے ہیں
26:22ایک مرتبہ پھر دربار رسالت میں
26:25اور اپنے نبی محتشم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
26:28کی ذات اکدس پر
26:29والیہانہ انداز میں
26:30درود کریم کا نظرانہ پیش کرتے ہیں
26:32اور واپس آتے ہیں
26:33وارہ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں
26:34اے آر وائی کیو ٹی وی
26:36لاہور سٹوڈیوز ہے
26:36اور ہمارا پروگرام ہے
26:38اتحاد امت
26:39اور گفتگو فرما رہے ہیں
26:41جنابِ ڈاکٹر کاشف سحیل
26:45جی ڈاکٹر سب تو میں ارز کر رہا تھا
26:46کہ ہمیں اس میں
26:47سب سے پہلے جو بنیادی
26:49نظامِ تعلیم ہیں
26:50اور اس کے اندر تبدیلیاں لانی ہوں گی
26:53اور اس کے لیے ہمیں ایک ایسا ذہن چاہیے ہوگا
26:56کہ جو
26:58تاریخی پسمندر کو ذہن میں رکھتے ہوئے
26:59جدت کے نئے اصولوں کو
27:01اور اس میں کیا تخلیقی طور پر کیا جا سکتا ہے
27:04تعلیم کے اندر ہم سب جانتے ہیں
27:05نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے
27:08اگزامپل لی جائے
27:08بہت اچھا یہاں پہ حدیث کا حوالہ بھی دیا گیا
27:11ہم سب جانتے ہیں کہ تعلیم کی اہمیت کے حوالے سے
27:14آپ نے قرآن پاک میں سے بھی اگزامپل دی
27:16لیکن میں ایک خاص طرف توجہ دلوانا چاہتا ہوں
27:19کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
27:21کا تعلیم کے حوالے سے تخلیقی انداز کیا تھا
27:24میں اسی طرف آنا چاہ رہا تھا
27:26کہ ہم ابھی تک
27:27امیٹیشن کی طرف چل رہے ہیں
27:29اور امیٹیشن کے راستے پہ چل رہے ہیں
27:31کرییشن میں نہیں آئے
27:33اور تحقیق پہ نہیں آ رہے
27:35تحقیق پہ نہیں آ رہے
27:36تو تخلیقی طور پر دیکھیں آپ ایک
27:39مثال اگر اٹھا لیں
27:40تو ہم دیکھتے یہ ہیں کہ جنگی قیدیوں سے
27:43کہا جا رہا ہے دشمن کے جنگی قیدیوں سے
27:45کہ آپ ہمارے بچوں کو پڑھا دیجئے
27:48اس پہ
27:49میرا خالی ہے کہ پوری
27:51یعنی دنیا کو سوچنے کی ضرورت ہے
27:53کہ اس قدر علم کی اہمیت
27:56آپ ایک عمومی ذہن سوچتا ہے
27:58کہ یار دشمن
27:59جو ہے ہمارے بچوں کو پڑھائے گا
28:01تو وہ کس طرح سے کیا کنڈکٹ ہوگا
28:04لیکن چونکہ آپ جانتے تھے
28:06کہ تعلیم ہی ایسی بنیاد ہے
28:08جو معاشرے کو بدل سکتی ہے
28:10تو آپ نے اس طرف توجہ دی
28:11اور اتنا اس قدر
28:13تخلیقی انداز اپنایا اس کے لیے
28:15کہ تاریخ انسانی حیران ہے
28:17کہ یہ شخص کیا کہہ رہا ہے
28:19کہ جنگی قیدی جو ہیں وہ بچوں کو پڑھا دیں
28:21اور ازادی حاصل کریں اس سے
28:22تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ آج کیوں نہیں
28:25ہم ایسے ماہر تعلیم
28:28جو حکومتی سطح پر بھی
28:30اور ہمارے ہاں
28:31یہاں پہ کچھ مثالیں ہم لوگوں نے دی
28:33وہ انفرادی طور پر یہ ٹھیک ہے
28:35کہ کچھ یونیورسٹیز نے ایسا نظام
28:37قائم کرنے کی کوشش کی کہ جہاں
28:39بریج کیا جا سکے ان تین سسٹمز کو
28:42لیکن میرا خیال ہے
28:43ڈاکٹر زشان نے ہماری توجہ دلوائی
28:45ثقافتی اقدار کی طرف
28:47جب پورے معاشرے میں لوگوں کے
28:49ذہن ایک خاص انداز میں
28:51بن دیے جاتے ہیں تو بڑا مشکل ہوتا ہے
28:53کہ آپ ان کو جو ہے وہ جو نٹ ٹوگیدر
28:55والا آہ سسٹمز کی طرف
28:57لے کر آئیں تو ضرورت
28:59اسی عمر کی ہے میں دوبارہ اس بات
29:01پر اسرار کروں گا کہ ہمارا جو
29:03بنیادی نظام تعلیم ہے
29:05اس کے اندر کم از کم ہم
29:07تیہ کر لیں کہ یہ میارات
29:09جو ہیں یہ ضروری ہیں
29:12آہ جس میں پاکستان کے اندر
29:14خوش قسمتی سے کچھ کوششیں کی بھی گئیں
29:16آہ کہ ایسا نظام بنایا جائے
29:18کہ کم از کم آہ مدارس کے
29:20بچے بھی جو ہیں آہ وہ بھی
29:22ایک خاص آہ آہ طور پر
29:24جو جدید علوم ہیں ان میں
29:26بھی آہ کچھ
29:28آہ حاصل کر سکیں اس کی طرف بھی
29:30وہ ان کی توجہ دلوائی جائے
29:31لیکن پھر ہم اس پہ دیکھتے ہیں کہ وہ مائنڈ سیٹ
29:34جس کو پہلے سے تیار کر دیا گیا
29:36وہ اس کو
29:38کیا جا سکتا ہے اس پہ بھی
29:40ہم گفتگو کریں گے میں ڈاکٹر
29:42زیشان صاحب کے لیے یہ سوال رکھا ہے
29:44ڈاکٹر مفتی
29:45عمیر صاحب آپ کی طرف حاضر
29:48ہوں اور بڑا ایک میں
29:50سنسٹیف سا سوال کرنے لگا ہوں
29:52لیکن چونکہ آپ عالم دین بھی
29:54ہیں ماشاءاللہ مدارس کو بھی
29:56ریپریزنٹیٹیو ہیں آپ اس وقت
29:58اور
30:00جدید تعلیم سے بھی آ راستہ
30:02ہیں آپ ملائیہ سے پڑے ہیں
30:05جب ہم نے
30:06ٹیک کر لیا یا اس پر
30:08ہم ایک نکتے پہ آگئے ہیں
30:10کہ آج دینی مدارس میں
30:12اصری علوم کا شامل
30:14کیا جانا ضروری ہے اور یہ وقت
30:16کا اہم تقاضہ ہے
30:17تاکہ آئندہ آنے والے چیلنجز
30:20جو ہیں وہ بڑے خوفناک ہیں
30:21وہ صرف من تک پڑ کے
30:24حاصل نہیں ہو سکتے
30:26اس کے لیے ہمیں جدید علوم
30:28کی طرف بہرحال دسترس حاصل کرنی
30:30ہے اور دینی مدارس میں
30:32وہ شامل کرنے ہیں مثلا
30:33فیزکس ہے
30:34chemistry ہے
30:36biology ہے
30:37math ہے
30:38اور آج math کے بغیر کوئی
30:40شعبہ ایسا نہیں ہے جس سے کہ
30:41ہم آگے اپنی train of thought
30:43چلا سکیں
30:44لیکن مفتی صاحب ایک
30:46توصر یہ ہے کہ دینی مدارس
30:48زکاة پہ چلتے ہیں
30:50اور خاص طور پہ یہ
30:52علماء کا کہنا ہے
30:53کہ ہمارے دینی مدارس
30:55ہم کوئی fund نہیں لیتے
30:56نہ سرکار سے لیتے ہیں
30:57نہ کسی اور سے
30:58زکاة پہ چلتے ہیں
30:59لیکن زکاة کی
31:01مد سے پھر
31:02physics chemistry اور math
31:04پڑھانا
31:05شرعان جائز ہوگا
31:08سر
31:08یقینا آپ خود
31:10ما شاء اللہ
31:10ساری زندگی آپ نے
31:11پڑھ لے پڑھانے میں
31:12اور
31:13یقینا ہم تو آپ
31:14جیسے
31:15اساتذہ سے شرف
31:16تلموس حاصل کرنے والے
31:18سر
31:18مدارس کے حوالے سے
31:20اس میں
31:21میں ذاتی طور پر
31:22یہ سمیتا ہوں کہ
31:23آج کے دور میں
31:24کوئی قباہت نہیں ہے
31:25یعنی
31:26معاملہ زکاة
31:28آپ physics chemistry
31:29میں آج شجر ممنوع
31:30تو نہیں ہے
31:30میں پہلے زکاة
31:34کیونکہ آج
31:35معاملہ یہ ہے
31:36کہ جیسے پہلے
31:37گورنمنٹ کی طرف سے
31:38سپورٹ کی جاتی تھی
31:39حکومتوں کی طرف سے
31:40ایک پورا ایک نظام ہے
31:42پوری ہماری
31:42ایک history ہے
31:43legacy ہماری
31:44تو سر آج
31:45اس طرح سے وہ چیزیں نہیں ہیں
31:46ہمیں مدارس کو
31:47appreciate کرنا چاہیے
31:48کہ وہ اس طرح کی
31:49سپورٹ کے بغیر
31:50اس طرح
31:51اتیات کے اوپر
31:52زکاة کے اوپر
31:52سر وہ اداروں کو چلا رہے ہیں
31:54اب رہا معاملہ
31:55physics کا
31:56chemistry کا
31:57سر میں کیونکہ
31:58پڑا ہوں
31:59الحمدللہ
32:00جامعہ نیمی
32:00الہور
32:01ایک بہت بڑا ادارہ
32:02اس طرح سے
32:02بہت سارے ادارے ہیں
32:03جو
32:04میں سمعتا ہوں
32:06کہ اگرچہ
32:06اس کی کمی ہے
32:07لیکن اداروں کا
32:08اس طرف ایک ٹرینڈ ہے
32:09اور بلکہ
32:09اب تو اداروں نے
32:10جدیس سائنسی علوم
32:12کے اوپر
32:12کورس کروانے شروع کر دی ہیں
32:13صحیح
32:14جو دینی مدارس کے
32:15علامہ اور فوصلہ ہیں
32:16ان کو اب
32:17بقاعدہ
32:17فزیس
32:18کیمسٹری
32:18بیالوجی
32:19یہ بقاعدہ جو
32:20میتھمیٹس
32:21یہ سارے
32:21لیڈرشپ کے اوپر
32:22بقاعدہ
32:23اب کورسیز
32:23کروائے جا رہے ہیں
32:24سر وہ
32:25جو کورسیز ہیں
32:26وہ
32:26یعنی
32:27اتیاد کی
32:28مت سے ہی
32:29کروائے جا رہے ہیں
32:29تو میرا بنیادی
32:31ایزے
32:31اسلامی سکالر
32:33ایزے
32:33طالب علم
32:34ایزے مفتی یہ ہے
32:35کہ ہر وہ علم نافع
32:36وہ مدارس کا نہیں
32:37بلکہ
32:38کوئی بھی
32:41اور شخصیت کی
32:43تعمیر کے لیے
32:44ایک تذین
32:44اور آرائش کرتا ہے
32:45وہ شخصیت کی
32:46بشک
32:47جدید علوم ہوں
32:48یا قدیم علوم ہوں
32:51جو انسانیت کے لیے
32:52امت مسلمہ کے لیے
32:54جو علم نفع
32:55بخش بن رہا ہے
32:56سر وہ کسی بھی
32:57مد میں
32:57ہمیں اس کو
32:57تعاون کرنا چاہیے
32:58سپورٹ کرنا چاہیے
32:59اور ہمارے علماء
33:00کبھی بھی یہ فتوہ
33:01نہیں دیتے
33:02کہ آپ صرف
33:02مدارس کو
33:02سپورٹ کریں
33:03باقی داروں کو
33:04نہ سپورٹ کریں
33:04میں سر یہاں پہ
33:05کیونکہ اتحاد کیا
33:06بات کر رہے ہیں
33:07میں نے اس کے اوپر
33:08جو غروف خوز کیا
33:09سر اللہ تعالیٰ نے
33:10قرآن پاک میں
33:11جو ارشاد فرمایا
33:11وَأَعِدُّ لَهُمْ مَسْتَتَعْتُمْ مِنْكُوَا
33:14سر سورہ انفعال
33:16آیت نمبر سکسٹی ہے
33:17اس میں
33:18تمام اہل ایمان
33:20کو مخاطب کیا جا رہا ہے
33:21کہ تم تیار کرو
33:22دین اسلام کے
33:23الہ کے لیے
33:24دین اسلام کے
33:25غلبے کے لیے
33:26امت مسلمہ کو
33:27امپاور کرنے کے لیے
33:28منکوہ
33:28طاقت کے ساتھ
33:29یعنی جو طاقت
33:30تم اکٹھا کر سکتے ہو
33:31اس کو اکٹھا کرنے کی
33:33کوشش کرو
33:33سر میں
33:34اگر عالم ہوں
33:35میں اپنے طور پر
33:36یہ ویجن رکھوں
33:37جو ڈاکٹر ہے
33:38وہ اپنے طور پر
33:39یہ ویجن پیدا
33:40سر ہمیں
33:40بریج قائم کرنا ہوگا
33:42اب ایسا نہیں ہے
33:43کہ جو ڈاکٹرز ہیں
33:44ان کو ہم عالم
33:45بنانا شروع کر دیں
33:46جو عالم ہیں
33:47ان کو ڈاکٹر بنانا شروع کر دیں
33:49سر اپنی اپنی جنگہ
33:50ہر شعبے کی
33:50ایکسیپٹیبلی
33:51اور امپورٹنس
33:52ہر جنگہ
33:53وہ ہمارے ہم مقبول ہے
33:55ہمیں ماننا ہوگا
33:56لیکن سر ہمیں
33:57یہ ویجن بنانا ہوگا
33:58کہ اگر ڈاکٹر بھی
33:59جو کام کر رہے ہیں
34:00سر وہ بھی
34:00امت مسلمہ کے خدمت کر رہے ہیں
34:02وہ جو ٹریٹمنٹ کر رہے ہیں
34:03وہ جو علم سیکھ رہے ہیں
34:04سر اس کا ایک ایک لمحہ
34:06عبادت کے اندر صرف ہو رہے ہیں
34:07ہمیں یہ ویجن دینا ہوگا
34:08سر جب ہم نے یہ ویجن دیا
34:10بلکہ میری ابھی چند دن پہلے
34:11ایک ٹریفک کے بڑے آفیسر ہیں
34:13ان سے بات ہوئی
34:14میں نے ان سے کیا
34:14میں نے کہا آپ عبادت کر رہے ہیں
34:16تو عرض کرنے کا مقصد یہ ہے
34:17سر ہمیں بریج
34:18اس طرح سے قائم کرنا ہوگا
34:19ہمیں ایک پلیٹ فارم پہ لانا ہوگا
34:21اسلامی تعلیمات کو
34:22ہمیں ہر جنگہ رائج کرنا ہوگا
34:24آئینے پاکستان کو
34:25ہمیں رائج کرنا ہوگا
34:26اور اس کو ہمیں مدارس میں
34:28اپنے دینی داروں میں
34:29اپنی یونیسٹریز کے اندر رائج کرنا ہوگا
34:31تو اس سے اتحاد قائم ہوگا
34:32اور بریج قائم ہوگا
34:33بلکہ ٹھیک
34:34ڈاکٹر زشان صاحب
34:35میں نے اس کیا تھا
34:36آپ کے لئے ایک سوال رکھا ہے
34:37میں نے آپ سے رہنمائی لینے کے لئے
34:39وہ یہ ہے کہ
34:41ڈاکٹر کاشف صاحب نے بات کی تھی
34:44اسادزہ کے مائنڈ سیٹ کی
34:45ہم یہ تمام گولز
34:48تمام اوبجیکٹیوز
34:49تمام مقاصد
34:50تمام اہداف
34:51اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتے
34:53جب تک کہ تعلیم دینے والے
34:55اسادزہ کا
34:56مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں ہوتا
34:58اگر ان کے مائنڈ سیٹ میں
35:00فکری اور عملی طور پر تقسیم ہے
35:02تو ہم اتحاد کی طرف آئی نہیں سکتے
35:04تو ان کے مائنڈ سیٹ کو
35:06ہم ایک نکتے پر کیسے لائے سکتے ہیں
35:08اور ساتھ ہی میں ایک اور بات بھی شامل کروں گا
35:10کہ جن ہم نے طبقات کی بات کی ہے
35:13ان طبقات کے تعلیمی اداروں کے جو
35:16سٹیک ہولڈرز ہیں
35:17ان کو کیسے ہم ایک نکتے پر لاسکتے ہیں
35:20بہت ہی امپورٹنٹ
35:22اور میرے خیال وقت کی ضرورت ہے
35:24اس سوال پر بھی بات ہونی چاہیے
35:26اور حل کی تلاش کی طرف
35:27ہم سب کو جانا چاہیے
35:30جیسے آپ نے کہا نا
35:31اسادزہ کا کردار
35:32میرے خیال سے دو چیزیں بڑی ضروری ہوتی ہیں
35:38کسی بھی نوجوان کی اس کے اندر ایک تعلیم
35:42اور دوسری تربیت
35:43تو ہمارے اسادزہ اکرام
35:45تعلیم پر تو زور دیتے ہیں
35:47کہ تعلیم جو ہمیں
35:49سبجیکٹ ہے
35:50بائو ہے کیمسٹری ہے لاؤ ہے
35:52وہ سبجیکٹ پڑھانے پر تو زور دیا جاتا ہے
35:55لیکن تربیت پر ہم
35:57سٹوڈنٹس کی زور نہیں دیتے
35:59جس کی وجہ سے فقدان ہے
36:00ہمارے ہاں اتحاد ہے
36:02امت نہیں ہے سٹوڈنٹس میں بھی انٹیگریشن نہیں ہے
36:04تو میرا ذاتی خیال ہے
36:07کہ اس کے لیے سب سے زیادہ کردار
36:09سٹیک ہولڈرز کو ادا کرنا چاہیے
36:11ہمارے ہاں بہت زیادہ ٹریننگز ہوتی ہیں
36:13ٹیچرز کی
36:14کپیسٹی بیلڈنگ کی
36:15آج کر آرٹیفشل انٹیلیجنس کی
36:17سی بی کی
36:17ہمارے
36:18اوبی
36:19ایجوکیشن ہر چیز کی
36:21میرے خیال سے
36:23اسادزہ کے لیے بھی
36:24اس طرح کی ٹریننگز ہونی چاہیے
36:26جیسے
36:27کہ سٹوڈنٹس کی
36:28یا طلبہ کی جو ٹریننگ
36:30یا ان کی جو تربیت ہے
36:31اس کے اندر
36:31اسلامی جو
36:32وہ ہے
36:33وہ
36:34کردار کیسے لائے جائے
36:35ان کے اندر کلچرل
36:36یہ
36:37دنیاوی تعلیم کے جو ادارے ہیں
36:39اسی طرح سے جو دینی تعلیمی ادارے ہیں
36:42ہماری ایچی سی کو
36:43پی ایچی سی کو
36:44لوکل جو ہمارے
36:45ڈسٹرک لیول پر ہوتے ہیں
36:47ان کو
36:47ان مدارس کے اسادزہ کی
36:49تربیت
36:50ٹریننگ
36:51دنیاوی علوم کے لیے
36:52کرنی چاہیے
36:53کہ وہ ادھر ان کو
36:54اس سے آشنا
36:55سرکاری سطح پہ ہونی چاہیے
36:56سرکاری سطح پہ
36:57کیونکہ دیکھیں
36:57جو کردار
36:58انڈویولی لوگ کر رہے ہیں
37:00وہ تو صدقہ جاری ہے
37:01وہ ان کو
37:01اللہ انس کی جزا دے گا
37:02ریاست کی قوت
37:03جس کے پاس ہے
37:04وہ کرے
37:04وہ
37:04یعنی سٹیک ہولڈرز جو ہیں
37:06جب تک وہ آگے نہیں بڑھیں گے
37:08کردار ادا نہیں کریں گے
37:09تو انڈویولز
37:10آٹے میں نمک کے برابر ہیں
37:12جب
37:13سٹیٹ
37:14ریسپونسیبلیٹی لے گی
37:15سٹیٹ
37:15ماں کا درجہ رکھتی ہے
37:16جب وہ
37:17اس چیز کی ذمہ داری لے گی
37:18تو یہ سارا جو
37:20آپس میں گیپ ہے
37:21وہ ختم ہوگا
37:22ایک اور چیز کی طرف
37:22میں لازمیاں
37:24وہ کرنا چاہتا ہوں
37:24میرے ذہن میں خیال آ رہا تھا
37:26کہ تفریق کی
37:26ایک بنیادی وجہ
37:27یہ بھی ہے
37:29کہ ہمارے
37:30تحصر بن گیا
37:31ہمارے معاشرے کا
37:32کہ جو علماء کرام ہیں
37:33جبکہ انہوں نے
37:34قرآن حفظ کیا ہوتا ہے
37:35تیس پارے حفظ کرنا
37:37درست نظامی کرنا
37:38میرے خیال
37:39ایم بی بی ایس کرنے سے
37:40زیادہ مشکل ہے
37:40میرا ذاتی خیال ہے
37:42کیونکہ میں تو
37:42قرآن حفظ نہیں کر سکا
37:44اور ہم نے کوشش بھی نہیں کی
37:46ہم یہ سمجھتے ہیں
37:47ہمارے ذہن میں
37:48یہ تاثر ہوتا ہے
37:49کہ جو قرآن حفظ کرتا ہے
37:50یا جو مدرسے میں
37:51بچا پڑتا ہے
37:52وہ شاید
37:54اکل میں
37:55یا اس کی کپیسٹی
37:56یا انٹلیکٹ میں
37:57وہ اتنا نہیں ہے
37:58جتنا ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے
37:59یا انجینئر ہے
38:00تو اس وجہ سے بھی
38:02ہمارے معاشرے میں
38:03ایک ایمیج ہے
38:03اور تفریق ہے
38:04ان چیزوں کو ختم
38:05اسی طرح سے ہوگا
38:06جیسے ڈاکٹر صاحب
38:07آپ سب
38:08ہم کہہ رہے ہیں
38:09کہ ہمیں
38:10ایسے ادارے
38:11ایسا انسٹیچوٹ
38:13بنانا چاہیے
38:14جو سب کو ریگولیٹ کرے
38:15ایک بیچ میں
38:16آپ نے دیکھا ہوگا
38:17ہمارے ہاں شروع
38:19انشاءاللہ پھر آپ سے
38:20رہنمائی لیں گے
38:21انشاءاللہ آپ کو
38:22دعوت دیتے رہیں گے
38:22ڈاکٹر صاحب
38:23آپ کی آمد کا بہت شکریہ
38:25ڈاکٹر مکی امیر صاحب
38:26آپ کی بہت شکریہ
38:27آمد کا بہت شکریہ
38:28ڈاکٹر صاحب آپ کا بہت شکریہ
38:29نازی کرام بڑی
38:30فکر انگیز گفتگو تھی
38:32لیکن تشنا رہ گئی ہے
38:34انشاءاللہ پھر
38:34اپنے فاضل مہمانوں سے
38:36رہنمائی لیں گے
38:37جہاں اور بہت ساری باتیں
38:39ہوئی ہیں
38:40کہ ہم اہداف کو
38:41کیسے حاصل کر سکتے ہیں
38:43مائنڈ سیٹ کو
38:43کیسے تبدیل کر سکتے ہیں
38:45نساب تعلیم میں
38:46کون کون سی تبدیلیاں
38:48آج وقت کا
38:49اہم تقاضہ ہے
38:50وہی پر
38:51میں سمجھتا ہوں
38:52کہ ہم نے
38:53چونکہ علم سے
38:54بات شروع کی تھی
38:54تو علم کی
38:56معنویت کو بھی
38:57آج ہمیں سمجھنا ہوگا
38:58ہم علم سمجھتے ہیں
39:00معلومات کو
39:01جبکہ معلومات
39:03اور چیز ہے
39:04علم اور چیز ہے
39:05معلومات کو
39:06گنا جا سکتا ہے
39:08معلومات کا
39:09تعلق ڈیٹا بیس سے ہے
39:10علم کا تعلق
39:11ڈیٹا بیس سے نہیں ہے
39:13اب سوال پیدا ہوتا ہے
39:14کہ علم کا تعلق
39:15پھر کس بات سے ہے
39:17علم کی معنویت میں
39:18اس دائرے میں
39:19کیا چیز آتی ہے
39:20تو ناظرین کرام
39:21علم
39:23جو قرآن ہمیں
39:24فلسفہ دیتا ہے
39:25علم کا
39:26وہ یہ دیتا ہے
39:27کہ آج وہی شخص
39:29دانشور کہلا سکتا ہے
39:31آج وہی شخص
39:32ماہر تعلیم کہلا سکتا ہے
39:34آج وہی شخص
39:35ایک
39:36علم کا
39:37پیکر کہلا سکتا ہے
39:39جس میں یہ تین
39:40کوالٹیز ہوں
39:41وہ یہ
39:42کہ سب سے پہلے
39:43اس کو اپنے
39:44ماضی سے آگئی ہو
39:45قرآن نے بھی
39:46جو ماضی کے قصے
39:48اپنے نبی کے سامنے رکھے
39:49اسی وجہ سے رکھے
39:51کہ اے پیغمبر اسلام
39:52اے ہمارے حبیب
39:54اے ختم المرسلین
39:55آپ نے جس مشن پہ کام کرنا ہے
39:58سب سے پہلے
39:59آپ کو ماضی کا علم ہونا چاہیے
40:00کہ ان قوموں نے
40:02کس طرح سے جھٹلایا
40:03اور ان کا انجام کیا ہوا
40:05پھر
40:06آج
40:07ایک دانشور
40:09ایک ماہر تعلیم
40:10جس کو اپنے ماضی سے آگئی ہو
40:13آج
40:14حال کا تجزیہ کر سکتا ہو
40:18اویرنس آف دا پاسٹ
40:20کیپیبلیٹی آف
40:21میکنگ دا انیلیسیز آف ٹوڈے
40:23آج کا تجزیہ کر سکتا ہو
40:25اور تیسری خصوصیت علم کی یہ ہے
40:27کہ وہ مستقبل کی پیش بھی نہیں کر سکتا ہو
40:30اسٹیمیشن کر سکتا ہو
40:32کہ اگر یہی حالات رہے
40:34تو کل کو یہی نتائج نکلیں گے
40:36جب تک یہ تین
40:37کوالٹیز پیدا نہیں ہوتی
40:39ہم علم کے محور کو نہیں سمجھ سکتے
40:43ناظرین اکرام آج
40:44اس فکر پہ بھی کام کرنے کی ضرورت ہے
40:46اسی کے ساتھ ہمارا آج کا پروگرام
40:48اپنے اختتام کو پہنچتا ہے
40:49اپنے مزبان ڈاکٹر محمد طاہر مصطفیٰ کو
40:52اجازت دیجئے
40:53اپنا بہت خیال رکھئے
40:54اللہ حافظ
Comments

Recommended