00:00آپ کو نہ باپ سے عشق ہو جائے گا
00:02ماں باپ کے تعلق سے نہ
00:03وسوسے بعض دلوں میں آ جاتے ہیں
00:05کچھ بچے ایسے ہیں جو باہر بیٹھے ہیں
00:07کمانیاں کر رہے ہیں
00:08اببہ انہیں فون کرتا ہے
00:09کہ بیٹا پیسوں کی ضرورت ہے
00:11اس کے دل میں خیال آتا ہے
00:12کہ دیکھو اببہ
00:13طبیعت نہیں پوچھتا
00:14پیسے مانگتا ہے
00:17حضور صلی اللہ علیہ وسلم
00:19نے رہنمائی کر دی
00:21نوجوان نے کہا
00:22حضور اببہ پیسے مانگتا ہے
00:24شارحین نے لکھا ہے
00:25یہ جو اس حدیث میں
00:26اس نے پوچھا ہے نا
00:27کہ اس کمانا یہ ہے
00:28کہ وہ پیسے اس کے اپنے کمائے ہوئے تھے
00:30وراثت کے نہیں تھے
00:31جیسے بیٹا الگ سے
00:32کوئی کمائی کرتا ہے
00:33تو اس نے کہا
00:35میرے اببہ جی
00:35مجھ سے پیسے مانگتے ہیں
00:36تو حضور حکم کیا ہے
00:37اب سوال کا جواب یہ تھا
00:39کہ حضور کہتے دے دے
00:40یا نہ دے
00:41دوئی باتیں ہیں نا
00:42اس نے کہا
00:43حضور والد پیسے مانگتا ہے
00:45آپ جاتے ہیں
00:46موٹیویشن سپیکر کے پاس
00:47کہانیاں سننے
00:49آپ چلے جاتے ہیں
00:50کسی فلانے آدمی کے پاس
00:51ذہن سازی کرنے
00:52اوہ بھائی
00:53باہر سے سالن لینے
00:54وہ جائے جس کے گھر نہ ہو
00:56آپ باہر کیوں جاتے ہیں
00:58آپ کو تو سارا کچھ
00:59مدینے والے رسول نے
01:00عطا فرمایا ہے
01:01آپ کا تو اپنا گھر
01:03سارا بھرا ہوا ہے
01:04آپ یہاں سے فیض لیں
01:06حضور نے ہر چیز
01:07دینی علم کی بس اہمیت کو سمجھی
01:09آپ کے سامنے چیزیں
01:11کھل جائیں گی
01:11سرور کونمکہ
01:13صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا
01:15حضور میرے والی صاحب
01:16پیسے مانگتے حکم کیا ہے
01:18تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
01:20نے فرمایا
01:21تو حکم پوچھتا ہے
01:22دھون کے نہ دھون
01:23فرمایا
01:23آپ کبھی
01:28اس حدیث کے پیرے پر گھوڑ کر لے
01:29تو آپ کو نہ
01:31باب سے عشق ہو جائے گا
01:33یعنی آپ
01:34غلامیں بیدام ہو جائیں گے
01:36اس نے کہ حضور اببہ
01:38پیسے مانگتا ہے
01:38دھون کے نہ دھون
01:39تو حضور نے فرمایا
01:41تو بھی اپنے اببے کا ہے
01:42تیرا سارا مال بھی
01:43تیرے باپ کا ہی ہے
01:45آپ کی ذہن سازی کرے گا دی
01:47آپ کو
01:48کوئی جوان کرے گا
01:50آپ کی سوچیں تازہ کرے گا
Comments